Baaghi TV

Tag: سکول

  • تحصل بھر کی تینوں پوزیشنیں سکول کے اپنے نام

    تحصل بھر کی تینوں پوزیشنیں سکول کے اپنے نام

    قصور
    الہ آباد ماڈل سائنس کالج کنگن پور کی شاندار کارکردگی تحصیل بھر میں پہلی تین پوزیشن اپنے نام کر لیں علاقہ بھر کی سیاسی سماجی اور صحافتی شخصیات کی طرف سے مبارکباد

    تفصیلات کے مطابق ماڈل سائنس کالج الہ آباد اور کنگن پور کی شاندار کارکردگی تحصیل بھر کی پہلی تینوں پوزیشنز اپنے نام کر لی پرنسپل قاسم لقمان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کالج کے ہونہار طلباء نے بی ایس سی پارٹ ون کے نتائج میں تحصیل بھر میں پہلی تین پوزیشنیں حاصل کر لیں جس سے علاقہ بھر میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے طلباء کے والدین کا ہم پر اعتماد بحال ہوا ہے کامیاب طلباء کے والدین نے بتایا ہے کہ کالج کی انتظامیہ اور تمام اساتذہ مبارکباد کے مستحق ہیں جن کی بدولت ہمارے بچے کامیاب ہوئے ہیں علاقہ بھر کی سیاسی سماجی اور صحافتی شخصیات نے ماڈل سائنس کالج کی انتظامیہ اور تمام سٹاف کو مبارکباد پیش کی ہے

  • اے سی قبضہ مافیا کے ساتھ مل گیا

    اے سی قبضہ مافیا کے ساتھ مل گیا

    قصور
    الہ آباد میں قبضہ مافیا گروپ پھر متحرک ہو گیا
    تفصیلات کے مطابق الہ آباد کنگن پورہ ڈی پی ایس سکول کی جگہ پر لوگ پہلے ھی ناجائز قابض تھے جو کہ لاکھوں روپے مالیت کی کمرشل جگہ ہے اور فی مرلہ چار سے پانچ لاکھ قیمت ھے مگر پٹواری اور ریونیو آفیسر اور اسسٹنٹ کمشنر نے اسی کمرشل جگہ مین روڈ کے اوپر قبضہ کراوا دیا ھے وھاں پر مکانات اور دوکانات بنا دیے گئے ھیں ایک تو حکومت سرکاری جگہ واگزاری کے احکامات جاری کر رھے ھے تو دوسرا اسسٹنٹ کمشنر چونیاں اور ریونیو عملہ کروڑوں کی صوبائی حکومت پر قبضہ کروارھے ھیں اور اختیارات کا ناجائز استمال کرکے صوبائی حکومت کی جگہ پرقبضہ کروایا جارھا ھے اور اس جگہ کو پہلے اینٹی کرپشن قصور نے واگزار کرایا تھا لوگوں کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت کی کمرشل کرڑوں کی جگہ پر قبضہ کروانے پر اسسٹنٹ کمشنر عدنان بدر اور پٹواری مرتضے اور تحصیلدار کے خلاف کاروائی کی جائے اور کمرشل اراضی واگزار کرائی جاے

  • سکول کے سامنے جوہڑ ،پانی گلیوں کے علاوہ سکول میں

    سکول کے سامنے جوہڑ ،پانی گلیوں کے علاوہ سکول میں

    قصور
    نواحی گاؤں مہالم کلاں میں بچیوں کے سکول کے سامنے تالاب معصوم بچیاں گندے پانی سے گزر کر سکول جانے پر مجبور اے سی و ڈی سی قصور اپنے کمروں میں بیٹھ کر دعوے کرنے تک محدود
    تفصیلات کے مطابق قصور کے نواحی گاؤں مہالم کلاں میں گورنمنٹ گرلز ہائی سکول مہالم کلاں کی معصوم بچیاں سکول کے سامنے بنے گندے جوہڑ کے پانی سے گزر کر سکول جانے پر مجبور ہیں جب بھی بارش ہوتی ہے جوہڑ کا گندہ پانی سکول میں بھی داخل ہو جاتا ہے جس سے طالبات کے علاوہ ٹیچروں کو بھی سخت پریشانی ہوتی ہے مگر افسوس کہ ڈی سی و اے سی قصور سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر اس سکول کی حالت ان تک شاید پہنچی نہیں یا پھر انہیں اپنے دفتروں میں بیٹھ کر بلند و بالا دعوے کرنے کی عادت ہے
    اہلیان علاقہ نے ڈی سی قصور سے استدعا کی ہے کہ ہمارے بچوں کو اپنے بچے سمجھ کر ہمارے بچوں کو بیماریوں سے بچائیں اور سکول کے سامنے سے جوہڑ کو ختم کروائیں

  • پرائیویٹ سکول بچوں کی فیسوں اور صحت کے دشمن

    پرائیویٹ سکول بچوں کی فیسوں اور صحت کے دشمن

    قصور
    پرائیویٹ سکول و کالجز مالکان نے پنجاب گورنمنٹ کے احکامات ہوا میں اڑا دیئے بچوں کو چھٹیاں نہیں دیں بلکہ بچوں کو بغیر یونیفارم کے سکول آنے کا پابند کر دیا
    تفصیلات کے مطابق گورنمنٹ کی طرف سے 20 دسمبر سے 5 جنوری 2020 تک بچوں کو سکول سے چھٹیاں ہیں جس کا باقاعدہ نوٹیفیکیشن جاری کرکے تمام سرکاری و نجی سکولوں کو پابند کیا گیا مگر قصور اور گردونواح میں قائم چند ایک نجی سکول و کالجز نے گورنمنٹ کے حکم کو یکسر نظر انداز کر دیا ہے اور مذید ظلم کی انتہا کہ کچھ پرائیویٹ سکول تو بچوں کے باقاعدہ سالانہ امتحانات بھی لے رہے ہیں قانونی اور کاروائی سے بچنے کیلئے سکول و کالجز مالکان نے بچوں کو سخت احکامات دیئے ہیں کہ سکول و کالجز لازمی آئیں مگر بغیر یونیفارم کے آئیں تاکہ کسی بھی قسم کے چھاپے کی صورت میں ٹیوشن کا بہانہ بنا کر قانونی کاروائی سے بچا جا سکے
    گورنمنٹ نے سخت سردی و دھند کی بدولت چھٹیاں دی ہیں تاکہ بچے موسمی اثرات سے بچ سکیں اور ان کی صحت پر برے اثرات نا پڑیں مگر ہوس اور رینکنگ کے مارے پرائیوٹ سکول و کالجز نے بچوں کی جسمانی و دماغی صحت کو داءو پر لگا رکھا ہے
    بچوں کے والدین نے ایسے سکول و کالجز مالکان کے خلاف سخت سے سخت قانونی کاروائی کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ اگر ہم بچے پڑھنے نہیں بیجھتے تو ہمیں دھمکی دی جاتی ہے کہ آپ کے بچوں کو سکول و کالجز سے نکال دیا جائے گا
    لہذہ وزیر تعلیم و وزیر اعلی پنجاب نوٹس لے کر ڈی سی و تحصیلوں کے اے سی صاحبان کو حکم دیں کے ایسے لوگوں کے خلاف سخت سے سخت کاروائی کی جائے

  • لڑکیوں کے سکول کے سامنے گندگی کے دھیڑ

    لڑکیوں کے سکول کے سامنے گندگی کے دھیڑ

    قصور
    پتوکی میں جگہ جگہ گندی کے دھیڑ محکمہ ہیلتھ و ماحولیات بے خبر لوگ مختلف بیماریوں کا شکار ہونے لگے
    تفصیلات کے مطابق پتوکی اور گردونواح میں جگہ جگہ گندگی کے دھیڑ لگے ہوئے ہیں نا تو میونسپل کا عملہ توجہ دیتا ہے نا ہی محکمہ ماحولیات و محمکہ ہیلتھ پتوکی کے نواحی گاؤں جمشیر چک 24 میں گورنمنٹ گرلز پرائمری سکول کے سامنے کوڑے کرکٹ کا دھیڑ کافی عرصے سے لگا ہوا ہے جس سے تعفن اور بدبو اٹھتی ہے جس سے سکول کی بچیاں سانس کی مختلف بیماریوں کا شکار ہو رہی ہیں
    اہلیان دیہہ نے ڈی سی قصور اور متعلقہ محکموں سے نوٹس لینے کی اپیل کی ہے

  • دریا دل "سردار کوڑے خان” کے نام سے چلنے والے سکول کی این جی او کو حوالگی ۔۔۔ نعمان بھٹہ

    دریا دل "سردار کوڑے خان” کے نام سے چلنے والے سکول کی این جی او کو حوالگی ۔۔۔ نعمان بھٹہ

    سردار کوڑے خان جتوئی ضلع مظفر گڑھ کا ایک رئیس گزرا ہے۔ جو ان پڑھ ہونے کے باوجود اپنی معاملہ فہمی ، تدبر ، سخاوت اور رفاہی کاموں میں پیش پیش رہتا تھا ۔ انگریز حکومت نے ان کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے انہیں ” خان بہادر ” کے خطاب سے نوازااور انہیں آنریری مجسٹریٹ کاعہدہ دیا گیا۔انہوں نےسر سید احمد خان کی علی گڑھ تحریک میں برصغیر میں سب سے زیادہ فنڈ دئیے، جو کہ تاریخ کا حصہ ہے۔
    سردار کوڑے خان نے پانچ شادیاں کیں لیکن خدا کی مرضی کہ ان کی کوئی اولاد نہ ہوئی۔انہوں نے 1892ء میں اپنی جائیداد کا ایک تہائی حصہ تقریبا ایک لاکھ (100000) کنال زمین رفائے عامہ کے کاموں کے لئے وقف کر کےاس وقت کی حکومت کے حوالے کر دی جو بعدازاں ضلعی انتظامیہ کے سپرد ہو گئی۔اس زمین کی آمدنی کیا تھی اور یہ کہاں خرچ ہوتی تھی اس کا کوئی حساب نہ رکھا گیا اور یہ مال غنیمت کی طرح کئی دہائیاں خرد برد ہوتی رہی۔ضلع کونسل نے 1983 ء میں سردار کوڑے خان پبلک سکول کی بنیاد رکھی اس سکول کو پہلے پانچ سات سال تو ضلع کونسل نے چلایا پھر خود مختیار ادارہ بنا کر اس سے ہاتھ کھینچ لیاگیا۔ دو چار سال ایک مختصر سی سالانہ گرانٹ بھی دی جاتی رہی جو بعد میں 1992ء میں بند کر دی گئی۔اس کے بعد یہ ادارہ خود کماؤ خود کھاؤ کے اصول کے مطابق چلنے لگا۔انہی دنوں حکومت کی طرف سے ہر ضلعی ہیڈ کوارٹر پر ڈویژنل پبلک سکول بنانے کے لئے فنڈ آئےجس کے لئے زمین بھی دی گئی تھی لیکن معلوم نہیں کیوں مظفر گڑھ میں "ڈویژنل پبلک سکول ” نہ بن سکا بلکہ سردار کوڑے خان پبلک سکول کو ہی” ڈویژنل پبلک سکول” کے طرز پر چلایا جانے لگا۔سکول کا انتظام چلانے کے لئے اس حوالے سے بورڈ آف گورنرز بنائے گئے۔ڈویژن کے کمشنر کو اس بورڈ کاچئیر مین اور ضلع کے ڈپٹی کمشنر کو اس کاوائس چئیرمین بنایاگیا جبکہ سکول کا پرنسپل اس کا جنرل سیکرٹری ہوتا تھا۔ کمشنر کی مصروفیات کے باعث اکثر اوقات ڈپٹی کمشنر ہی کمشنر کی نمائندگی کرتا اور تمام معاملات بورڈ آف گورنرز کی مشاورت سے طے پاتےرہے۔سردار کوڑے خان پبلک سکول جس کا آغاز ایک پرائمری یا مڈل سکول کے طور پر ہوا تھا بہت سے گرم سرد حالات سہتا ہوا آگے بڑھتا رہا – 1994 ء میں کرنل صابر جب اس کے پرنسپل بنے تو اس سکول میں طلباءکی تعدار بمشکل دو اڑھائی سو تھی۔انہوں نے سکول میں معیار تعلیم کو بہتر بنانے اور اس کو خود مختیار ادارہ بنا پر محنت کی اور اس کی بنیاد کو اتنا مضبوط کیا کہ لوگوں کا اس کی طرف رحجان ہوا ۔ دیکھتے ہی دیکھتے یہ سکول تیزی سے ترقی کرنے لگا ۔ مختلف سربراہان کے دور میں بھر پور محنت کے بعد یہ ادارہ ضلع کے تعلیمی میدان میں اپنا منفردمقام بنانے میں کامیاب ہو گیا۔سردار کوڑے خان پبلک سکول پہلے سکینڈری بعدازاں 2001ء میں ہائیر سکینڈری سکول کے درجے پر پہنچ گیااور اس وقت اس سکول میں طلباء کی تعدا پندرہ سو کے لگ بھگ ہو گئی۔ 2005ء میں پروفیسر خورشید نے بطور پرنسپل اس ادارے کا چارج سنبھالا تو اس کے اندر انقلابی تبدیلیاں آئیں کئی نئی عماراتیں بنائی گئیں اور مختلف شعبہ جات کا آغاز کیاگیاساتھ ہی سکول میں نئے سٹاف کی بھرتی کے لئے ایک نیا اور جدید سسٹم متعارف کرایا گیا۔اساتذہ بھی اس سسٹم میں امتحان دے کر اگلے گریڈ میں ترقی کرتے تھے۔ اس دوران ڈیرہ غازی خان تعلیمی بورڈ میں اس سکول نے مسلسل میٹرک اور انٹر میڈیٹ میں نمائیاں نتائج حاصل کیے۔ سکول میں زیر تعلیم بچوں کی تعداد بھی چار ہزار کے قریب پہنچ گئی۔پروفیسر خورشید تقریبا نو سال پرنسپل رہے اورسکول کو مالی لحاظ سے بھی ایک مستحکم بنیاد فراہم کر گئے۔ان اصلاحات کی وجہ سے ہی آج اس سکول میں زیر تعلیم بچوں کی تعداد پینتالیس سو سے تجاوز کر چکی ہے۔اس دوران مظفر گڑھ کے ایک سرائیکی قوم پرست رہنما”مظفر خان مگسی ” نے لاہور ہائی کورٹ ملتان بینچ میں ایک مقدمہ دائر کیا جس میں انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ سردار کوڑے خان جو جائیداد وقف کر گئے تھےاس کا ضلعی حکومت سے حساب لیا جائے ۔ کوئی تیس سال یہ مقدمہ مختلف عدالتوں میں زیر سماعت رہااور بلآخرسپریم کورٹ نے تمام حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک تاریخی فیصلہ سنایا کہ سردار کوڑے خان کی ساری جائیداد کوقبضہ گروپوں سے واگزار کراکے اس کا ٹرسٹ بنایا جائے۔سردار کوڑے خان ٹرسٹ کا چئیر مین ڈسٹرکٹ سیشن جج مقرر کیا گیاساتھ ہی سردا کوڑے خان کے نام سے چلنے والے تمام سکولوں کو ٹرسٹ کے تحت چلائےجانےکا فیصلہ دیا۔ سپریم کورٹ کے اس تاریخی فیصلہ کے نتیجہ میں سردار کوڑے خان ٹرسٹ قائم ہوا اورسردار کوڑے خان کی جائیداد کی آمدنی جو چند لاکھ روپے تھی تھوڑے ہی عرصے میں چالیس کروڑ سے تجاوز کر گئی۔ اس پہلے 2005ء میں ضلع کونسل نے تمام تحصیل ہیڈ کوارٹر پر بھی سردار کوڑے خان کے نام سے مڈل سکول بنا دئیے گئے تھےجو زیادہ تر سردار کوڑے خان پبلک ہائیر سکینڈری سکول کی طرف سے دئیے گئے قرض اور امداد پر چلتے رہے۔ ٹرسٹ نے سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق سردار کوڑے خان پبلک سکول جتوئی،
    سردار کوڑے خان پبلک سکول علی پوراورسردار کوڑے خان پبلک سکول کوٹ ادو کو ٹرسٹ میں لے لیا۔فروری 2019ء میں سردار کوڑے خان ٹرسٹ کےچئیرمین ڈسٹرکٹ سیشن جج صاحب نے ڈپٹی کمشنر صاحب کو خط لکھا اور سردار کوڑے خان پبلک ہائیر سکینڈری سکول مظفر گڑھ کو ٹرسٹ کے حوالے کرنے کو کہا لیکن ڈپٹی کمشنرمظفرگڑھ نےاس سکول کو ٹرسٹ کے حوالے کرنے کی بجائے سکول میں سے عارضی طور پر رکھے گئے اساتذہ کو نکال دیاتاکہ سکول کی کارکردگی متاثر ہو اور لوگوں کو اس سکول سے شکایت ہوں لیکن اساتذہ نے اپنی فطری محنت اور لگن سے کام کرتے ہوئے اس مسئلے کا سامنا کیا۔سال 2019 کے آغاز میں ڈپٹی کمشنر نےسردار کوڑے خان سکول مظفرگڑھ کو ایک غیر سرکاری تنظیم care foundation کے حوالے کرنے کا اعلان کیا تو سکول کے اندر اور باہر سے آنے والے شدید ردعمل پر بلآخر انہیں اپنے فیصلہ کو عارضی طور پر ترک کرنا پڑا ۔ گرمیوں کی چھٹیوں میں جب ڈپٹی کمشنر کا خیال تھا کہ والدین اور اساتذہ گرمیوں کی چھٹیوں کی وجہ سے سکول کی طرف متوجہ نہیں ہوں گے ایک منصوبے کے تحت سردار کوڑے خان پبلک سکول مظفرگڑھ کوcare foundation کے حوالے کرنے کا اعلان کر دیاگیا اور اس پر موقف یہ اپنایا گیاکہ سکول کی گرتی ہوئی تعلیمی حالت کے پیش نظر سکول کو ترقی دینے کے لئے یہ فیصلہ کیا جا رہا ہے ۔ اتفاقا میٹرک سالانہ امتحان 2019 ء کا رزلٹ آیا تو سکول کی ایک طالبہ نےنا صرف ڈیرہ غازی خان تعلیمی بورڈ میں بلکہ پورے صوبہ پنجاب میں پہلی پوزیشن لی۔اس طرح پورے سکول کا رزلٹ بھی پنجاب بھرمیں نمائیاں رہا۔تقریبا 450 بچوں نے میٹرک کا امتحان دیا جس میں سے 45بچوں نے 1050 سے زیادہ نمبر حاصل کیئے ،150 سے زائد بچوں نے 90 فیصد سے سے زیادہ نمبر لے کر A پلس گریڈ حاصل کیا ۔ صرف نو بچے ایسے ہیں جنہیں ایک یا دو مضامین میں سپلی لگی۔ پاس ہونے والے بچوں میں سے ایک بھی ایسا نہیں جس نے فرسٹ ڈویژن نہ حاصل کی ہو ۔
    ڈپٹی کمشنر کو سوچنا چاہیے یہ کس طرح سے گرتا ہوا تعلیمی معیار ہے جس میں سکول کےامتحانی نتائج کا مقابلہ ضلع بھر کا کوئی ادارہ نہیں کرسکتا ۔
    سکول کسی کی امداد پر نہیں چلتاہے بلکہ اس کے بہترین کیمپس ،کوالیفائیڈ اساتذہ کی محنت کی وجہ سے آج سکول کے نام پر بنک میں کروڑوں روپے کے فنڈز موجود ہیں۔پچھلے کئی سالوں سے مسلسل بہترین نتائج کی وجہ سے آج ضلع کےہر بچہ کا خواب ہےکہ وہ سردار کوڑے خان پبلک سکول مظفرگڑھ کا طالب علم بنے۔ڈپٹی کمشنر کواگر اساتذہ سے اور اس سکول کے طلباء سے تھوڑی بہت بھی ہمدردی ہے تو اسے سپریم کورٹ کی ہدایت کے مطابق ٹرسٹ کے حوالے کردیں جو کمی کوتاہی ہو گی وہ ٹرسٹ خود دیکھ لے گا۔اہلیان مظفرگڑھ آج حکومت سے مطالبہ کررہے ہیں کہ وہ اس درویش صفت شخص سردار کوڑے خان کی طرف سے اللہ کے نام پر دی گئی اس وسیع جائیدادکی آمدن سے ہی اس بہترین ادارہ کو چلانے کے لئے اس سکول کو سردار کوڑے خان ٹرسٹ کے حوالے کرے۔اس سکول کو care foundation جیسی این جی او کے حوالے کر کے مظفرگڑھ کے اس اعلی درجہ کے تعلیمی ادارے کوبرباد نہ کیا جائے ۔

  • تعلیم کے نام پہ ناچ گانا ۔۔۔ صالح عبداللہ جتوئی

    تعلیم کے نام پہ ناچ گانا ۔۔۔ صالح عبداللہ جتوئی

    ماں کی گود بچے کی پہلی درسگاہ اور تربیت گاہ ہوتی ہے اور میرا ماننا ہے کہ والدین کی تربیت کے ساتھ ساتھ سکول میں بھی بچوں کی تربیت کی بہت زیادہ اہمیت ہے اور تعلیمی ادارے بھی بچے کی ثانوی تربیت گاہ کا درجہ اختیار کر چکے ہیں اب والدین اور سکول دونوں بچے کی تربیت کے ذمہ دار ہیں.

    کافی دنوں سے کچھ ویڈیوز نظروں سے گزری جس میں ایک عورت جو کہ ماسٹر ٹرینر ہیں جو مرد و زن اساتذہ کرام کو ایک ساتھ ٹریننگ دے رہی ہیں لیکن اس ٹریننگ میں وہ بچوں کو پڑھانے کے اطوار کی بجاۓ ان کو بے ہودگی کی طرف مائل کرنے کے طریقے سکھا رہی ہے تنگ لباس گلے میں دوپٹہ لئے ڈانس کے ذریعے اساتذہ کرام کو کونسے گر سکھاۓ جا رہے ہیں کبھی ٹریننگ کے نام پہ گھٹیا حرکتیں کی جا رہی ہیں کبھی بے ہودہ قسم کی سرگرمیاں سرانجام دی جا رہی ہے اب یہ ٹھونس اور زبردستی کی ٹریننگ کروانے کا کیا مقصد ہے کیا ایسی ٹریننگ پہ عمل کرنے والے اساتذہ کرام بچوں کو صحیح معنوں میں تعلیم دے پائیں گے یا پھر بچوں کی تعلیم و تربیت کے نام پہ ناچ گانے کے عمل کو ترویج دیں گے؟

    اس کی کیا وجوہات ہیں ایسی ٹریننگز ہمیں کیوں کروائی جاتی ہے اس کا کس کو فائدہ اور کس کو نقصان ہے اور اس کے مقاصد کیا ہیں؟

    دراصل پاکستان بننے سے پہلے ہم پہ انگریز مسلط تھے اور ان کا ہی نظام تعلیم تھا اور ہماری بدقسمتی ہے کہ ہم نے 1947ء میں ان سے چھٹکارا تو حاصل کر لیا تھا لیکن ان کا نظام تعلیم آج بھی ہم پہ مسلط ہے جس سے ابھی تک ہم خلاصی نہیں پا سکے.

    آج ہمارے ملک میں QAED وہ ادارہ ہے جو اساتذہ کی سروس سے پہلے اور سروس کے بعد ہونے والی ٹریننگز کو ڈیل کر رہا ہے اور یہ ادارہ بھی British Council کے تعاون سے چل رہا ہے اور کبھی US AID کے نام سے پروجیکٹ شروع کیے جاتے ہیں سو اب جو بھی آپ کے ساتھ تعاون کر رہا ہے اور آپ کے ادارے میں سرمایہ کاری کر رہا ہے تو اس کا کوئی نہ کوئی مقصد ضرور ہو گا اور آپ جانتے ہیں کہ کفار کبھی بھی مسلمانوں کے ساتھ مخلص نہیں ہو سکتے سو ان کا ایک ہی مقصد ہے کہ وہ آپ کے نظام تعلیم پہ راج کرے اور اپنی مرضی کے مطابق اس کو سلو پوائزن دے دے کے تباہ و برباد کر دیں.

    ایسی بے ہودہ ٹریننگز بھی اسی بات کا شاخسانہ ہیں جس میں قابل احترام اساتذہ کو بھی تعلیم کے ڈھنگ سکھانے کی بجاۓ ان کو ناچ گانا سکھایا جاتا ہے ایسی ٹریننگز کا مجھے بھی اتفاق ہوا ہے اور ان میں برٹش کونسل کی طرف سے فنڈنگ ہوتی ہے اور اس میں اردو بولنے کی بالکل بھی اجازت نہیں ہوتی اور صرف اور صرف انگلش بولنے کی پابندی ہوتی ہے یعنی کہ جو فنڈ دے رہے ہیں ان کی زبان کی ترویج ہو گی اور ان کے بناۓ ہوۓ نوٹس لگواۓ جاتے اور ان کی ہدایات پہ مشتمل بے ہودہ سرگرمیاں (جن کا میں پہلے ذکر کر چکا ہوں) کروائی جاتی ہیں اور نہ کرنے والوں کو پیڈا ایکٹ کے نفاذ کی دھمکیاں دی جاتیں ہیں.

    ایسی ٹریننگ کئی حد تک سود مند ہو سکتی ہیں اگر ان کو صحیح مقاصد کو مدنظر رکھتے ہوۓ سرانجام دیا جاۓ تو لیکن یہاں پہ ایسا کچھ نہیں ہے بلکہ اس میں ہونے والی سرگرمیاں انگریزوں کے رسم و رواج کی عکاسی کرتی ہیں اور اپنے وجود کا احساس دلاتی رہتی ہیں اور یہی ان کی سرمایہ کاری کا اصل مقصد ہے.

    ہمیں تو چاہئے تھا کہ ہماری قومی زبان اردو کی ترویج کریں لیکن ہم تو اپنے ہی ملک میں دوسروں کی غلامی کرتے ہوۓ ان کی زبان اور ثقافت کو فروغ دے رہے ہیں جو کہ ہمارے تعلیمی نظام کی ناکامی کا ایک بہت بڑا سبب ہے.

    ہمیں اساتذہ کو اس طرح کی ٹریننگز کروانا ہوں گی جس سے وہ ایک باعمل اور بہترین معلم بن کر قوم کے بچوں کی خدمت کر سکیں نہ کہ مخلوط اور بے ہودہ قسم کی ٹریننگ کروا کے ان کو بھی معلم کی بجاۓ ڈانسر بنا دیا جاۓ.

    سننے میں آیا ہے کہ قائد اعظم اکیڈمی آف ایجوکیشنل ڈیویلپمنٹ (QAED) نے اس عورت کے خلاف سخت ایکشن لیا ہے اور اس ٹرینر کو ہمیشہ کے لیے بلیک لسٹ کر دیا ہے اور اس سرگرمی میں شامل ہونے والے افراد کے خلاف بھی ایکشن لینے کا فیصلہ کیا ہے.

    لیکن سوال یہ ہے کہ اس ایک عورت کو لائف ٹائم بین کرنے سے کیا ہو گا کیونکہ انٹرنیٹ پہ تو بے بہا ایسی ویڈیوز موجود ہیں ان کے خلاف کون ایکشن لے گا کیا ایسے لوگ بچوں کو تعلیم کے ساتھ تربیت بھی دیتے ہوں گے کیا ان جیسے اساتذہ سے بچے اچھی تربیت لے پائیں گے یا وقت کے بہترین ڈانسر بنیں گے کیا ہمارے ادارے اچھے معلم پیدا کریں گے یا صرف فلموں ڈراموں کے ہیرو پیدا کریں گے؟

    ہماری گورنمنٹ آف پاکستان سے اپیل ہے کہ ایسے ٹرینرز کے خلاف ایکشن لینے کی بجاۓ ٹریننگ کا معیار بدلا جاۓ اور اس میں اصلاحات لائی جائیں اور اساتذہ کرام کو ایسی ٹریننگ دی جاۓ جس سے بچوں کو مزید اچھے طریقے سے پڑھانے کے طریقے سکھائیں جائیں اور ان میں جدید ٹیکنالوجی سے مزین اصولوں کو مدنظر رکھا جاۓ تاکہ وہ ہمارے بچوں کی تعمیر و ترقی میں اہم کردار ادا کر سکیں اور ہمارے بچوں کا مستقبل تابناک ہو.
    اللہ ہمارا حامی و ناصر ہو آمین ثم آمین