Baaghi TV

Tag: سکھ

  • سکھ شہریوں کی ہلاکتوں میں ملوث ملزمان کو فوری طور گرفتار کیا جائے: بلاول بھٹو زرداری

    سکھ شہریوں کی ہلاکتوں میں ملوث ملزمان کو فوری طور گرفتار کیا جائے: بلاول بھٹو زرداری

    پشاور:پی پی پی چیئرمین و وزیرِ خارجہ بلاول بھٹو زرداری کا پشاور میں سکھ شہریوں کی ہلاکتوں پر اظہارِ تشویش، مذمت ،اطلاعات کے مطابق وزیرخارجہ بلاول بھٹو نے سکھ شہریوں کی ہلاکتوں پرافسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس واقعہ میں ملوث ملزمان کو فوری طور گرفتار کیا جائے:

     

    بھارتی ایجنٹوں نے فائرنگ کرکے دو سکھ شہری جان سے ماردیئے ،اطلاعات کے مطابق پشاور کے علاقے سربند میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے دو سکھ شہری ہلاک ہو گئے۔پولیس کے مطابق موٹر سائیکل سوار حملہ آور فائرنگ کر کے فرار ہو گئے جن کی تلاش کے لیے کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

    وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے سکھ شہریوں کی ہلاکت کا نوٹس لیتے ہوئے ملزمان کی فوری گرفتاری کا حکم دیا ہے۔

    وزیر اعلیٰ محمود خان نے سکھ شہریوں کی ہلاکت کے واقعے کو شہر کے ماحول اور بین المذاہب ہم آہنگی کو خراب کرنے کی سازش قرار دیتے ہوئے متاثرہ خاندانوں کو انصاف فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

    محمود خان کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت بین المذاہب ہم آہنگی جیسی ایسی کوششوں کو کسی صورت کامیاب نہیں ہونے دے گی۔

    یاد رہے کہ بھارتی خفیہ ایجنسیوں کی طرف سے پاکستانی سکھ شہریوں پرقاتلانہ حملے کئی سالوں سے جاری ہیں اور ان حملوں میں اب تک کئی سکھ جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں ،

    اسی طرح کا ایک واقعہ پچھلے سال ستمبر میں بھی پیش آیا تھا ، جب پشاور میں نامعلوم افراد نے معروف حکیم سردار ستنام سنگھ کو اس وقت فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا تھا جب وہ اپنے دواخانے میں موجود تھے۔

    تفتیشی ٹیم کی جانب سے جائے وقوعہ کے آس پاس لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی ریکارڈنگ بھی حاصل کی گئی تھی لیکن اس کے باوجود کچھ حاصل نہ ہوسکا ، اس وقت بھی اس واردات کے فوراً بعد تمام ناکہ بندیوں پر تعینات پولیس اہلکاروں کے ذریعے مشکوک افراد کی کڑی نگرانی کی جا رہی تھی لیکن اس کے باوجود یہ تازہ واقعہ رونما ہوگیا

    سردار ستنام سنگھ معروف حکیم تھے اور انھوں نے نیشنل کونسل فار طب سے حکمت کی تعلیم حاصل کی تھی۔

  • بھارتی انتہا پسند ہندو مسلمانوں کے بعد اب سکھوں کےجانی دشمن، پُرتشدد جھڑپیں

    بھارتی انتہا پسند ہندو مسلمانوں کے بعد اب سکھوں کےجانی دشمن، پُرتشدد جھڑپیں

    بھارتی ریاست پنجاب کے شہر پٹیالہ میں دوگروہوں میں جھڑپوں کے بعد انتہا پسند ہندوؤں نے ہڑتال کی کال دیتے ہوئے خالصتان کے حامیوں کی گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔ شہر میں زبردست کشیدگی کی وجہ سے انٹرنیٹ اور موبائل فون سروس بند کر دی گئی ہے۔

    پولیس نے حالات پر قابو پانے کے لیے ہوائی فائرنگ کی جبکہ تناؤ کے سبب جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی شب شہر میں کرفیو نافذ کر دیا گیا تھا۔

    واضح رہے کہ بھارتی ریاست پنجاب میں علیحدگی پسند تحریک خالصتان کے حامی 29 اپریل کو علامتی طور پر یومِ خالصتان مناتے ہیں۔ ہندو گروہوں نے اس کی مخالفت میں گزشتہ روز پٹیالہ میں ’’خالصتان مردہ باد‘‘ کے نام سے ایک ریلی کا اہتمام کیا تھا۔

    ہندو ریلی کی قیادت انتہا پسند جماعت شیو سینا کے ایک مقامی رہنما کر رہے تھے۔ جب یہ ریلی کالی ماتا مندر کے پاس پہنچی تو وہاں بڑی تعداد میں سکھ آ گئے اور دونوں گروہوں میں جھڑپ شروع ہو گئی جس میں متعدد افراد زخمی بھی ہوئے۔

    ریاست پنجاب کی حکومت نے پولیس کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہوئے تین اعلیٰ افسران کا تبادلہ کر دیا ہے جبکہ پولیس نے اب تک متعدد افراد کے خلاف مقدمات درج کیے ہیں۔

    بھارتی صوبے پنجاب کو سکھوں کے لیے ایک علیحدہ ریاست خالصتان بنانے کی مہم کافی پرانی ہے جس سے وابستہ بیشتر رہنما امریکا، کینیڈا اور برطانیہ جیسے ممالک میں رہ کر اپنی مہم چلاتے ہیں۔ خالصتان تحریک کی حامی ایک معروف تنظیم سکھ فار جسٹس (ایس جے) ہے۔

    گزشتہ برس اکتوبر میں سکھ فار جسٹس تنظیم نے مجوزہ خالصتان ریاست کے لیے ایک آن لائن ریفرنڈم کا اعلان بھی کیا تھا جس میں 18 برس سے زائد عمر کے تمام سکھوں سے حصہ لینے کی اپیل کی گئی تھی۔

    بھارت میں 2014ء سے اقتدار پر براجمان انتہا پسند جماعت بی جے پی کے وزیراعظم نریندر مودی کے دور میں مسلم، سکھ اور عیسائی اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے افراد کی زندگیاں مشکل کر دی گئی ہیں۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کو ہندوستان میں ہندوؤں کے علاوہ کسی اور کا وجود گوارہ نہیں۔

  • ہندوانتہا پسندوں‌ کی سکھ لڑکیوں سے زیادتیاں:تلنگانہ میں سکھ لڑکی سے زیادتی:احتجاج جاری

    ہندوانتہا پسندوں‌ کی سکھ لڑکیوں سے زیادتیاں:تلنگانہ میں سکھ لڑکی سے زیادتی:احتجاج جاری

    تلنگانہ :ہندوانتہا پسندوں‌ کی سکھ لڑکیوں سے زیادتیاں:تلنگانہ میں سکھ لڑکی سے زیادتی:احتجاج جاری،اطلاعات کے مطابق سکھ تنظیموں کا حیدر آباد میں سکھ لڑکی کی آبروریزی کے واقعے نے سکھوںمیں شدید غصہ پیدا کر دیا ہے۔ سکھ تنظیموں نے بہیمانہ واقعے کے مجرموں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق پنجاب کے شہر جالندھر میںمنعقدہ سکھ رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں حیدرآباد میں ہونے والے واقعات کی شدید مذمت کی گئی۔ کمیٹی کے سربراہ تیجندر سنگھ پردیسی، ہرپال سنگھ چڈھا، ہرپریت سنگھ نیتو، گرویدر سنگھ سدھو اور وکی خالصہ نے اس موقع پر کہا کہ اس طرح کے واقعات سے سکھ برادری میں کافی غصہ پایا جاتا ہے۔

    خبر رساں ادارے ساوتھ ایشین وائر کی ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ سکھ رہنماﺅں کہا کہ بھارت میں امن و امان مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے، خواتین محفوظ نہیں ہیں۔ انہوںنے آبروریزی کے ملزموں کو سرعام پھانسی دینے کا مطالبہ کیا۔

    اجلاس میں ہرویندر سنگھ چٹکارا، ہرپریت سنگھ سونو، گرجیت سنگھ ستنامیاں، ہرپال سنگھ پالی چڈا، لکھبیر سنگھ لکھا، گرودیپ سنگھ لکی، منمیدر سنگھ بھاٹیہ، گرویدر سنگھ ناگی، ہرپریت سنگھ رابن، امندیپ سنگھ بگا، پربھجوت سنگھ خالصہ، جتندر سنگھ کوہلی، ہرجیت سنگھ۔ سنگھ بابا، سربجیت سنگھ کالدا، منجیت سنگھ وکی، کلدیپ سنگھ ویردی، پلویدر سنگھ بابا، ابھیشیک سنگھ، نوجوت سنگھ، ہرویدر سنگھ ببلو، سنی اوبرائے، تیجندر سنگھ سنت نگر، کملجیت سنگھ دھونی اور اوتار سنگھ اور دیگر موجود تھے۔

    خیال رہے کہ بھارتی حکومت کے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت ملک میں ہر 15 ویں منٹ میں ایک خاتون کہیں نہ کہیں ’ریپ‘ کا شکار بن رہی ہے، جب کہ ملک کی کوئی ایسی ریاست نہیں جہاں خواتین محفوظ ہوں۔جبکہ غیرجانبدارذرائع کا دعویٰ ہے کہ ہر 10 منٹ بعد خاتون ریپ کا نشانہ بن رہی ہے بھارت میں خواتین پر تشدد اور ریپ کے واقعات میں تقریبا 10 فیصد اضافہ ہوا۔

  • بھارت میں سکھوں کو کرپان کے ساتھ ووٹ ڈالنے سے روک دیا گیا

    بھارت میں سکھوں کو کرپان کے ساتھ ووٹ ڈالنے سے روک دیا گیا

    بھارت میں سکھوں کو کرپان کے ساتھ ووٹ ڈالنے سے روک دیا جس پر سکھ تنظیموں کی جانب سے بھارتی پولیس کی مذمت کی جارہی ہے۔

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق بھارت کی مختلف ریاستوں میں گزشتہ روز انتخابات کے لیے ووٹ ڈالے گئے اس دوران بھارتی پنجاب کے علاقہ جلال آباد میں اس وقت تنازع پیدا ہوگیا جب پولیس نے چند سکھ نوجوانوں کو کرپان کے ساتھ پولنگ اسٹیشن کے اندر داخل ہونے سے روک دیا۔

    اراتیوں کی بس دریا میں گر گئی،دولہا سمیت 9 افراد جاں بحق

    پولیس کا کہنا تھا کہ کرپان لگا کر کوئی سردار ووٹ ڈالنے پولنگ اسٹیشن کے اندر نہیں جاسکتا جبکہ دوسری جانب سکھ نوجوانوں کا مؤقف تھا کہ کرپان ان کے جسم کا ایک حصہ ہے وہ کرپان کو الگ نہیں کرسکتے۔

    انہوں نے کہا کہ پورے بھارت میں سکھ کرپان لگا کر جہاں چاہیں جاسکتے ہیں تو ووٹ ڈالنے کے لیے کرپان پر پابندی کیوں لگائی گئی ہے اگر پنجاب میں بھی سکھ اپنے ساتھ کرپان نہیں رکھ سکتے تو پھر باقی ملک میں ان کے ساتھ کیا سلوک ہوگا۔

    ہم جنس پرستی پر بھارتی فلم، فوج نے اسکرپٹ کو رد کرتے ہوئےغیر قانونی قرار دیا

    دوسری جانب پاکستان میں سکھ سنگتوں نے بھارتی پولیس کے اس اقدام کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے بھارت میں شدت پسند ہندو تمام اقلیتوں کودبانا چاہتے ہیں۔

    سردارگوپال سنگھ چاولہ نے کہا سکھوں کو ایسی پابندی قبول نہیں کرنی چاہیے اور بھارت میں بسنے والے مسلمانوں، سکھوں اور مسیحی برادری کو متحد ہوکر شدت پسند اور آرایس ایس کے غنڈوں کا مقابلہ کرنا ہوگا۔

    دوسری جانب کانپور میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی رہنما اور میئر پرمیلا پانڈے نے الیکشن کمیشن کیے قوانین کی خلاف ورزی کرتے ووٹ ڈالتے ہوئے اپنی تصویر کھینچی اور اپنے آفیشل فیس بک پیج پر بھی پوسٹ کی جس پر الیکشن کمیشن نے ایکشن لیتے ہوئے پرمیلا پانڈے پر مقدمہ درج کر دیا-

    علاوہ ازیں کانپور نگر کے ضلع الیکشن افسر نے بھی بھارتیہ جنتا پارٹی یوتھ فرنٹ (بی جے وائی ایم) کے سابق صدر نواب سنگھ کے خلاف پولنگ بوتھ میں ووٹنگ کی رازداری کی خلاف ورزی کے نتیجے میں متعلقہ دفعات کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی-

    حجاب پہنے اللہ اکبر کے نعرے لگانیوالی 10 طالبات پر مقدمہ درج

  • پاکستان کا سکھ برادری کی سہولت کے لیے بڑا اقدام:مودی پریشان،کیا کررہا ہے پاکستان

    پاکستان کا سکھ برادری کی سہولت کے لیے بڑا اقدام:مودی پریشان،کیا کررہا ہے پاکستان

    نارروال : پاکستان کا سکھ برادری کی سہولت کے لیے بڑا اقدام:مودی پریشان،کیا کررہا ہے پاکستان ،اطلاعات کے مطابق حکومت پاکستان نے 15سال سے بند نارووال کرتارپور شکرگڑھ ریلوے ٹریک بحالی کا کام شروع کردیا ، 100 پونڈوزنی ٹریک ڈالا جائے گا جس پر ٹرین کو تیز رفتاری سے چلایا جاسکے گا۔

    تفصیلات کے مطابق حکومت پاکستان نے سکھ کمیونٹی کی سہولت کے لیے بڑا اقدام اٹھاتے ہوئے 15سال سے بند نارووال کرتارپور شکرگڑھ ریلوے ٹریک بحالی کا کام شروع کردیا۔

    ذرائع نے بتایا کہ پہلےمرحلےمیں17کلومیٹرکا نارووال سےدربارصاحب ٹریک بحال کیا جائے گا، ریلوے ٹریک بحالی کے لیے سامان نارووال ریلوے جنکشن پہنچنا شروع ہوگیا ہے۔

    100پونڈوزنی ٹریک ڈالا جائے گا جس پر ٹرین کو تیز رفتاری سے چلایا جاسکے گا جبکہ جسٹر اور دربار صاحب کرتارپور اسٹیشن کو بھی مرمت کیا جائے گا۔

    یاد رہے گذشتہ سال بابا گورونانک کے 552ویں جنم دن کی تقریبات کے موقع پر پاکستان نے سکھ یاتریوں کی سہولت کیلئے 30 نومبر تک 10دن کی پیشگی اطلاع کی شرط میں نرمی کا اعلان کیا تھا ، طریقہ کار کے مطابق یاتریوں کی فہرست پر آمد سے 10دن پہلے ضروری ضابطوں کی کارروائی ہونا ہوتی ہے۔

  • پاکستان کو بدنام کرنے کیلئے کل یوم جمہوریہ کے موقع پربھارت کوئی جعلی آپریشن کرسکتا ہے:خفیہ ذرائع

    پاکستان کو بدنام کرنے کیلئے کل یوم جمہوریہ کے موقع پربھارت کوئی جعلی آپریشن کرسکتا ہے:خفیہ ذرائع

    نئی دہلی :پاکستان اور سکھوں کو بدنام کرنے کیلئے کل یوم جمہوریہ کے موقع پربھارت کوئی جعلی آپریشن کرسکتا ہے،اطلاعات کے مطابق بھارت کے یوم جمہوریہ کے حوالے سے بعض اہم ذرائع کے حوالےسے آنے والی خبروں نے پریشان کررکھا ہے کہ بھارت بہت غلط اور منفی منصبوں پر عمل پیرا ہے ، خبروں میں یہ بھی انکشاف کیاگیا ہے کہ بھارت کی خفیہ ایجنسیاں ہندوتوا حکومت کی ایماء پر پاکستان، مسلمانوں اور سکھوں کو بدنام کرنے کے لیے ملک کے 75ویں یوم جمہوریہ کی تقریبات کے موقع پر جعلی آپریشن کی منصوبہ بندی کر رہی ہیں۔

    بھارت کے اندر ہونے والی اس پاکستان مخالف موومنٹ کے متعلق کشمیر میڈیا سروس کی طرف سے جاری کی گئی ایک رپورٹ میں بھارت کی سیکورٹی ایجنسیوں کی طرف سے نام نہاد سیکورٹی الرٹ جاری کیاگیا ہے جس میں انہوں نے کل 26 جنوری کو یوم جمہوریہ کی تقریب میں شرکت کرنے والی بڑی شخصیات پر ممکنہ حملے کے بارے میں انتباہ جاری کیا ہے۔

    اس حوالے سے ذرائع کا کہنا ہے کہ نو صفحات پر مشتمل نام نہاد انٹیلی جنس رپورٹ میں وزیر اعظم نریندر مودی اور یوم جمہوریہ کی تقریب میں شرکت کرنے والی دیگر اہم شخصیات کے لیے خطرہ ظاہر کیاگیا ہے،بھارت درحقیقت پاکستان، مسلمانوں اور سکھوں کے خلاف پروپیگنڈہ کرنے کے لیے پلوامہ جیسا ڈرامہ رچا نے کی منصوبہ بندی کررہا ہے۔

    بھارت کی خفیہ ایجنسیاںمسلمان تنظیموں کے علاوہ خالصتان نواز گروپوں پر دہشت گردی پھیلانے اور پنجاب اور دیگربھارتی ریاستوں میں ٹارگٹڈ حملوں کے لیے اپنے کارکنوں کو متحرک کرنے کا الزام لگا رہی ہیں۔رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ بھارتی ایجنسیاں عوامی اجتماعات، اہم اداروں اور پرہجوم علاقوں کو ڈرون حملوں سے خود نشانہ بنا سکتی ہیں تاکہ بھارت اور پاکستان میں مسلمانوں اور سکھوں کے خلاف بدنیتی پر مبنی ایجنڈے کو آگے بڑھایا جا سکے۔ نام نہاد سیکورٹی الرٹ کو حقیقت کا روپ دینے کیلئے مودی حکومت نے پولیس اہلکاروں کی چھٹیاں منسوخ کر دی ہیں۔

    دلی پولیس کی طرف سے جاری حکمنامے میں کہاگیا ہے کہ یوم جمہوری کی پریڈ کے انتظامات کے پیش نظر تمام پولیس اہلکاروں کی چھٹیاں منسوخ کر دی گئی ہیں۔ ماہرین نے یقین ظاہر کیا ہے کہ بی جے پی حکومت متعدد مذموم مقاصد کیلئے یوم جمہوریہ کی تقریبات کے دوران کوئی ڈرامہ رچا سکتی ہے۔

  • بھارتی ایجنسیوں کی پاکستان اورسکھوں کو بدنام کرنے کے لیےجعلی آپریشن کی منصوبہ بندی کاانکشاف

    بھارتی ایجنسیوں کی پاکستان اورسکھوں کو بدنام کرنے کے لیےجعلی آپریشن کی منصوبہ بندی کاانکشاف

    نئی دہلی :بھارتی ایجنسیوں کی پاکستان اورسکھوں کو بدنام کرنے کے لیےجعلی آپریشن کی منصوبہ بندی کاانکشاف،اطلاعات کے مطابق بھارت کی خفیہ ایجنسیاں ہندوتوا حکومت کی ایما پرپاکستان، مسلمانوں اور سکھوں کو بدنام کرنے کے لیے ملک کے 75ویں یوم جمہوریہ کی تقریب کے موقع پر جعلی آپریشن کی منصوبہ بندی کر رہی ہیں۔

    کشمیر میڈیا سروس کی طرف سے مرتب کی گئی ایک رپورٹ میں بھارت کی سیکورٹی ایجنسیوں کی طرف سے جاری کئے گئے نام نہاد سیکورٹی الرٹ کا حوالہ دیا گیا ہے جس میں انہوں نے 26 جنوری کو یوم جمہوریہ کی تقریب میں شرکت کرنے والی بڑی شخصیات پر ممکنہ حملے کے بارے میں انتباہ جاری کیا ہے۔

    رپورٹ میں نو صفحات پر مشتمل نام نہاد انٹیلی جنس رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے جس میں وزیر اعظم نریندر مودی اور یوم جمہوریہ کی تقریب میں شرکت کرنے والی دیگر اہم شخصیات کے لیے خطرہ بتایا گیا ہے، کہاگیا کہ بھارت درحقیقت پاکستان، مسلمانوں اور سکھوں کے خلاف پروپیگنڈہ کرنے کے لیے پلوامہ جیسا ڈرامہ رچا نے کی منصوبہ بندی کررہا ہے۔

    بھارت کی خفیہ ایجنسیاںمسلمان تنظیموں کے علاوہ خالصتان نواز گروپوں پر دہشت گردی پھیلانے اور پنجاب اور دیگربھارتی ریاستوں میں ٹارگٹڈ حملوں کے لیے اپنے کارکنوں کو متحرک کرنے کا الزام لگا رہی ہیں۔

    رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ بھارتی ایجنسیاں عوامی اجتماعات، اہم اداروں اور پرہجوم علاقوں کو ڈرون حملوں سے خود نشانہ بنا سکتی ہیں تاکہ بھارت اور پاکستان میںمسلمانوں اور سکھوں کے خلاف بدنیتی پر مبنی ایجنڈے کو آگے بڑھایا جا سکے۔

    یاد رہے کہ چنددن پہلے پاکستانی دفترخارجہ نے خبردار کیا تھا کہ پاکستان کی ازلی دشمن بھارت ‘ایک اور جھوٹا فلیگ آپریشن’ کرسکتا ہے ، جس کا ‘حقیقی امکان’ ہے،لٰہذا عالمی برادری کو بھارتی چالاکیوں سے واقف رہنا چاہیے

  • لندن میں خالصتان ریفرنڈم توامریکی سینٹ میں سکھوں کی نسل کشی ُ کی مذمتی قراردادمتفقہ طورپر منظور

    لندن میں خالصتان ریفرنڈم توامریکی سینٹ میں سکھوں کی نسل کشی ُ کی مذمتی قراردادمتفقہ طورپر منظور

    نیوجرسی:لندن میں خالصتان ریفرنڈم توامریکی سینٹ میں سکھوں کی نسل کشی ُ کی مذمتی قراردادمتفقہ طورپر منظور اطلاعات کے مطابق امریکہ کی شمال مشرقی ریاست نیو جرسی کی سینیٹ نے متفقہ طور پر ایک مذمتی قرارداد میں بھارت کی طرف سے 1984میں سکھوں کے قتل عام کو نسل کشیُ قرار دیتے ہوئے امریکی صدر اور دیگر حکام سے اس سلسلے میں آواز بلند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

    کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق سینیٹر سٹیفن ایم سوینی کی طرف سے پیش کی گئی قرارداد امریکی صدر اور نائب صدر، امریکی سینیٹ کے اکثریتی اور اقلیتی لیڈروں ،امریکی ایوان نمائندگان کے اسپیکر اور اقلیتی لیڈر اور کانگریس کے ہر رکن کو بھجوائی جائیگی ۔

    قرارداد میں کہاگیا ہے کہ بھارتی پنجاب کی سکھ برادری نے جس کے ارکان سو برس قبل ہجرت کر کے امریکہ آگئے امریکہ اور نیو جرسی کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔سکھوں کی نسل کشی یکم نومبر 1984کو نئی دلی میں بھارتی وزیر اعظم اندرا گاندھی کے قتل کے بعد جھارکھنڈ، مدھیہ پردیش، ہریانہ، اتراکھنڈ، بہار، اتر پردیش، مغربی بنگال، ہماچل پردیش، راجستھان، اڑیسہ، جموں و کشمیر، چھتیس گڑھ، تریپورہ، تامل ناڈو، گجرات، آندھرا پردیش، کیرالہ، اور مہاراشٹرریاستوں میں شروع ہو ئی۔

    قرارداد میں سکھ مذہب کو دنیا کا پانچواں بڑا مذہب قرار دیا گیا ہے جس کے دنیا بھر میں تقریبا تیس کروڑ نوے لاکھ ماننے والے ہیں جن میں سے دس لاکھ امریکہ میں مقیم ہیں۔قرارداد کے مطابق تین دن تک جاری رہنے والی سکھوں کی نسل کشی میں تیس ہزار سے زائد سکھوں کو بے دردی سے قتل کیا گیا۔قرارداد میں16اپریل 2015کو کیلیفورنیا کی ریاستی اسمبلی کی طرف سے متفقہ طور پر منظور کی گئی ایک قراردادکا حوالہ دیاگیا ہے جس میں بھارتی حکومت کی طرف سے سکھوں کے منظم قتل عام کا اعتراف کیا گیاہے۔

    قرارداد میں 1984کے سکھ نسل کشی کے دوران اپنی جانیں گنوائیں۔17اکتوبر 2018کو پنسلوانیا کی دولت مشترکہ کی جنرل اسمبلی نے متفقہ طور پر قرارداد HR-1160منظور کی جس میں نومبر 1984میںسکھوںپر ظلم و تشدد کو نسل کشی ُ قرار دیا گیا۔

    قرارداد میں کہاگیا ہے کہ عینی شاہدین، صحافیوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کی طرف سے اکٹھے کئے گئے شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ بھارتی حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار براہ راست اور بالواسطہ طریقوں سے سکھوں کے قتل عام میں ملوث تھے اور وہ یہ سلسلہ بند کرانے میں ناکام رہے۔2011میں بھارتی ریاست ہریانہ کے علاقوں ہوند چلر اور پٹودی کے دیہات میں اجتماعی قبریںدریافت ہوئی ہیں۔

    نئی دہلی کے تلک وہار محلے کی "بیوہ کالونی” میں آ بھی ہزاروں سکھ خواتین انصاف کی منتظر ہیںجن کی اجتماعی عصمت دری کی گئی اور ان کے شوہر، والد اور بیٹوں کو قتل کردیا۔سکھوں کے قتل عام میں زندہ بچ جانیوالی آخر کار ہجرت کر کے امریکہ چلے گئے اور انہوں نے فریسنو، یوبا سٹی، سٹاکٹن، فریمونٹ، گلینروک، پائن ہل، کارٹریٹ، نیو یارک سٹی اور فلاڈیلفیا میں سکونت اختیار کی اور بڑی سکھ برادریاں قائم کیں۔

    1984میں پورے بھارت میں ریاستی سرپرستی میں سکھوں پر وحشیانہ ظلم و تشدد اور انکے قتل عام کا اعتراف ، انصاف اور احتساب کی جانب ایک اہم اور تاریخی قدم ہے، جودیگر ممالک کی حکومتوں کیلئے ایک مثال بھی ہے ۔ریاست نیو جرسی کی سینیٹ کی طرف سے منظور کی گئی قرارداد امریکی صدر اور نائب صدر، امریکی سینیٹ کے اکثریتی اور اقلیتی لیڈروں ،امریکی ایوان نمائندگان کے اسپیکر اور اقلیتی لیڈر اور کانگریس کے ہر رکن کو بھجوائی جائیگی ۔

  • بھارتی خفیہ ایجنسیوں کاخفیہ کھیل:سکھوں اورمسلمانوں کےدرمیان دوریاں بڑھانے کیلئے نیاڈرامہ

    بھارتی خفیہ ایجنسیوں کاخفیہ کھیل:سکھوں اورمسلمانوں کےدرمیان دوریاں بڑھانے کیلئے نیاڈرامہ

    ممبئی :بھارتی خفیہ ایجنسیوں کاخفیہ کھیل:سکھوں اورمسلمانوں کےدرمیان دوریاں بڑھانے کیلئے نیاڈرامہ،اطلاعات کے مطابق بھارت میں ممبئی پولیس کی طرف سے بلی بائی ایپ کے ذریعے مسلم خواتین کی آن لائن فروخت کے واقعے کی تحقیقات میں انکشاف کیاگیا ہے کہ نہ صرف بلی بائی بلکہ سوشل میڈیاپر متعدد پلیٹ فارمز کو سکھوں اور مسلمانوں کے درمیان دوریاں بڑھانے کیلئے استعمال کیاجارہا ہے ۔اور اس کے پیچھے بھارتی خفیہ ایجنسی "را” اوردیگر معاون ایجنسیوں کی سازش ہے

    کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق ممبئی پولیس کمشنر ہیمنت ناگرالے نے ممبئی میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب تک بلی بائی ایپ پر مسلم خواتین کو فروخت کیلئے پیش کرنے میں ملوث تین افراد کو گرفتار کیاگیا ہے اور تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ سوشل میڈیا پر نفرت آمیز پیغاما ت کو پھیلانے کیلئے دیگر پلیٹ فارمز کو بھی استعمال کیاجارہا ہے ۔

    انہوں نے کہاکہ گرفتار کئے گئے ملزمان میں 21سالہ وشال کمار جھا کو بنگلور، 19سالہ شویتا سنگھ اور اس کے ایک دیگر ساتھی مینک راول کو اتراکھنڈ سے گرفتار کیاگیا ہے ۔ٹویٹر پر @Bullibai_، @Sage0x11، @hmmaachaniceoki،@jatkhalsa،@jatkhalsa7،@Sikh_Khalsa11 اور @wannabesigmafاکائونٹس کے ذریعے سوشل میڈیا پر نفرت آمیز پیغاما ت کو پھیلائے جارہے ہیں ۔

    انہوں نے کہاکہ ان تمام ٹویٹر اکائونٹس کاتعلق بظاہر سکھ برادری کے ساتھ ظاہر کیاگیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ @Bullibai پردستیاب معلوما ت کے مطابق KSFخالصہ سکھ فورس نے یہ ایپ بنائی تھی ۔ہیمنت ناگرالے نے کہاکہ اتراکھنڈ کی 18سالہ شویتا سنگھ نے یہ ایپ بنائی ۔ ممبئی پولیس کے سائبر سیل نے اس معاملہ میں ہر پہلو پر جانچ شروع کردی ہے ابتدا میں سائبر سیل کو بلی بائی ایپ پر پانچ فالووور ہی ملے جو ایک دوسرے سے رابطے میں تھے ۔

    بلی بائی ایپ میں ملزمین نے پیج تیار کئے اور سوشل میڈیا اورمختلف شعبہ جات سے وابستہ مسلم خواتین کی تصاویر اپ لوڈ کر کے انہیں فروخت کیلئے پیش کیا ۔ پولیس کے مطابق ملزمان نے یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ یہ ایپ سکھ برادری نے مسلمان خواتین کو نشانہ بنانے کیلئے بنائی ہے اور ان کا واضح مقصد دونوں برادریوں کے درمیان دوریاں بڑھانا ہے ۔

  • مسلم خواتین کی آن لائن نیلامی کی ایپ،خاتون سمیت دو ملزمان گرفتار

    مسلم خواتین کی آن لائن نیلامی کی ایپ،خاتون سمیت دو ملزمان گرفتار

    مسلم خواتین کی آن لائن نیلامی کی ایپ،خاتون سمیت دو ملزمان گرفتار
    بھارت میں مسلمان خواتین کو آن لائن فروخت کے لئے پیش کرنے کے حوالہ سے پولیس اب حرکت میں آئی ہے

    ممبئی پولیس کا کہنا ہے کہ آن لائن نیلامی میں مسلم خواتین کو نشانہ بنانے والی ایپ بلی بائی کے اکاؤنٹ چلانے والے ملزم کو گرفتار کیا ہے ،پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم ایک خاتون ہے ور بنگلورو سے گرفتار کیا گیا ہے پولیس کے مطابق ایک ملزم کو اترا کھنڈ سے گرفتار کیا گیا تھا جس کی عمر 21 برس ہے اور وہ سول انجینئر ہے، اس سے جب تحقیقات کی گئیں تو اس نے انکشاف کیا تھا کہ ایک خاتون ملزم بھی اس سارے معاملے میں اس کے ساتھ ہے،

    بنگلورو سے گرفتار کئے گئے ملزم کی شناخت وشال کمار کے طور پر ہوئی، ممبئی پولیس سائبر سیل کے ڈی سی رشمی کرندیکر نے تحقیقات کے بعد ملزم کو گرفتار کیا تھا، پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ ملزم ایپ کے تین اکاونٹس کو ہینڈل کر رہا تھا

    خبر رساں ادارے سے بات کرتے ہوئے ممبئی پولیس کے حکام کا کہنا تھا کہ وشال کمار نے ایک سوشل میڈیا پر اکاؤنٹ بنایا بعد میں ملتے جلتے ناموں سے تین اور اکاؤنٹ بنایا، سکھ ناموں کے اکاؤنٹ بنائے گئے تھے اور خالصہ تحریک کی بھی ان اکاونٹ سے حمایت کی جا رہی تھی ، ان اکاؤنٹ کو بنانے کا مقصد یہ تھا کہ ایسا لگے کہ اس ایپ کے پیچھے سکھ ہیں ،تا ہم ایسا نہیں ہے، پولیس تحقیقات کر رہی ہے اور جلد مزید گرفتاریاں متوقع ہیں،

    مہاراشٹر کے وزیر اور کانگریس کے رہنما ستیج پٹی نے دعویٰ کیا ہے کہ ممبئی پولیس نے اس ضمن میں اہم پیشرفت کی ہے تا ہم اس کی تفصیلات نہیں بتا سکتے ، تحقیقات ہوں گی اور یقین دہانی کرواتا ہوں کہ مجرموں کا پیچھا کریں گے اور انہیں سزا ملے گی

    دوسری جئانب دہلی پولیس نے بھی یکم جنوری کو اس حوالہ سے مقدمہ درج کیا ہے، ممبئی سائبر پولیس تھانہ نے بھی ایپ کو ڈیولپ کرنے والوں اور اس کی حوصلہ افزائی کرنے والے ٹویٹر ہینڈل کے خلاف بھی مقدمے درج کر رکھے ہیں ، گزشتہ سال جولائی میں بھی دہلی پولیس کے سائبر سیل نے ایسا ایک مقدمہ درج کیا تھا

    بھارت میں Bulli Bai نامی ایپ پر سینکڑوں مسلم خواتین کی نیلامی کیلئے ان کی تصاویر شیئر کی گئیں جس کی وجہ سے بھارتی خواتین میں غصے کی لہر دوڑ گئی۔ سوشل میڈیا پر ایک عورت کو ٹرول کرنا یعنی اس کا مذاق اڑانا بہت سے لوگوں کے لیے سب سے زیادہ آسان کام ہوتا ہے اور یہ ٹرولِنگ زیادہ تر ذاتی حملوں پر مبنی ہوتی ہے۔لیکن انڈیا میں مسلمان خواتین کی ہراسانی کے لیے کم ظرفی کی تمام حدیں پار ہوتی نظر آتی ہیں۔

    بھارت میں Bulli Bai نامی ایپ پر سینکڑوں مسلم خواتین کی نیلامی کیلئے ان کی تصاویر شیئر کی گئیں تصاویر ان خواتین کی ہیں جو ٹویٹر صارف ہیں اور ان کے کافی تعداد میں فالوؤرز ہیں۔ ایپ کو آن لائن سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ کی سہولت کار کمپنی Github پر ڈیزائن کیا گیا ہے ’گٹ ہب‘ پر بنائی گئی اس ایپ کا نام ’بُلی بائی‘ ہے،

    ایپ کھولنے والے صارفین کو’آج کے دن آپ کی بلی بائی‘ کی ٹیگ لائن کے ساتھ خواتین کی تصاویر دکھائی جاتی ہیں، جن میں زیادہ تر ایڈٹ شدہ ہیں بھارت میں صحافیوں، سماجی کارکنوں اور دیگر ممتاز شخصیات سمیت سینکڑوں خواتین کو نئے سال کے موقع پر ایپ پر اپنی تصاویر ملی ہیں اس کے بعد بہت سی خواتین نے ٹوئٹر پر اس ہراسانی کے بارے میں احتجاج کیا، جس کا خصوصاً مسلمان خواتین کو بھارت میں سامنا کرنا پڑ رہا ہے کافی گھنٹوں کے بعد بھارتی حکومت نے کارروائی کا وعدہ کیا۔

    واضح رہے کہ یہ واقعہ سال میں دوسری بار ہوا ہے کہ خواتین کی آن لائن نیلامی کیلئے ایپ بنائی گئی اس سے قبل گزشتہ سال جولائی کے مہینے میں Sulli Deal نامی ایپ متعارف ہوئی تھی جس نےBulli Bai کی طرح ہی سینکڑوں مسلم خواتین کی تصاویر آئن لائن نیلامی کیلئے پوسٹ کی تھیں 80 سے زائد مسلمان خواتین کی تصاویر ان کی اجازت کے بغیر ’گٹ ہب‘ نامی ویب سائٹ پر اپلوڈ کی گئی ہیں جس کے ساتھ لکھا گیا تھا ’آج کی سلی ڈیل‘۔ سلی ایک توہین آمیز اصطلاح ہے جو مسلمان خواتین کے لیے استعمال ہوتی ہے۔

    ہندو انتہا پسندوں کی بھارت میں ہولی پر مسلم خواتین مخالف مہم

    فلسطینی بھی وجود رکھتے ہیں وہ بھی انسان ہیں،مسلم امریکن خواتین اراکین برس پڑیں

    تب بھی مسلمان خواتین کو آن لائن فروخت کے لئے پیش کرنے کے حوالہ سے دہلی اقلیتی کمیشن اورخاتون کمیشن نے نوٹس لیا تھا اس ضمن میں دہلی اقلیتی کمیشن اور خاتون کمیشن نے دہلی پولیس کمشنر کو ایک نوٹس بھجوایا تھا جس میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ مسلم خواتین کے خلاف ایسی بیہودہ مہم چلانے والوں کے خلاف کاروائی کی جائے،دہلی اقلیتی کمیشن کے چیئرمین ذاکر خان کا کہنا تھا کہ ملزم کنال شرما اور کچھ دیگر ملزمان نے مسلم خواتین کے لئے قابل اعتراض زبان کا استعمال کیا ہے۔ ایسے لوگ ہندو مت کو بدنام کر ہے ہیں بھارت میں جو لوگ دیویوں کی پوجا کرتے ہیں ان کے احساسات کو بھی انہوں نے مجروح کیا ہے۔ دہلی پولیس کو ان تمام ملزمان کے خلاف سخت کارروائی کرنی چاہئے-

    دہلی، اجیت دوول کا دورہ مسلمانوں کو مہنگا پڑا، ایک اور نوجوان کو مار دیا گیا

    دہلی فسادات، 42 سالہ معذور پر بھی مسجد میں کیا گیا بہیمانہ تشدد

    دہلی فسادات کا ذمہ دار کون؟ جمعیت علماء ہند نے کی نشاندہی

    وزیراعظم نریندر مودی کے اقتدار میں آنے کے بعد سے انڈیا میں بسنے والے سترہ کروڑ مسلمانوں کا خیال ہے کہ وہ دوسرے درجے کے شہری بن چکے ہیں۔
    گائے کے تحفظ کو بنیاد بناتے ہوئے سخت گیر ہندوؤں کے مسلمانوں پر تشدد کے واقعات نے مسلمان کمیونٹی کو خوف و مایوسی میں مبتلا کر دیا ہے۔

    دہلی فسادات اور 2002 کے گجرات فسادات میں گہری مماثلت،ہندوؤں کی دکانیں ،گھر کیوں محفوظ رہے؟ سوال اٹھ گئے

    دہلی فسادات، کوریج کرنیوالے صحافیوں کی شناخت کیلیے اتروائی گئی انکی پینٹ

    دہلی فسادات میں امت شاہ کی پرائیویٹ آرمی ملوث،یہ ہندوآبادی پر دھبہ ہیں، سوشل ایکٹوسٹ جاسمین

    بھارت میں ایک بار پھرمسلم خواتین کی آن لائن نیلامی کا انکشاف