Baaghi TV

Tag: سکیورٹی انتظامات

  • سیکیورٹی خدشات,کراچی ایئرپورٹ اور اسکے ملحقہ علاقے ریڈ زون قرار

    سیکیورٹی خدشات,کراچی ایئرپورٹ اور اسکے ملحقہ علاقے ریڈ زون قرار

    سیکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر ایئرپورٹ اور اس کے ملحقہ علاقوں کو ریڈ زون قرار دے دیا گی۔

    باغی ٹی وی کے مطابق ایئرپورٹ کے اطراف میں آنے والے راستے محدود کر دیے گئے ہیں اور ریڈ زون میں صرف ان افراد کو داخلے کی اجازت ہوگی جو ایئرپورٹ آنے، جانے یا وہاں اپنے فرائض سر انجام دینے کے مقصد سے موجود ہوں گے کراچی ایئر پورٹ پر چینی انجینئرز کے قافلے پر خود کش حملے اور شارع فیصل پر دو لگژری گاڑیوں میں سوار افراد کے درمیان فائرنگ کے واقعے کے بعد شہر قائد میں سیکیورٹی کے انتظات مزید سخت کر دیے گئے، سیکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر ایئرپورٹ اور اس کے ملحقہ علاقوں کو ریڈ زون قرار دیا گیا ہے۔ایس ایس پی ملیر کاشف آفتاب عباسی کے مطابق ایئرپورٹ کے قریب پانچ اہم مقامات پر اسٹار گیٹ، سی اے اے کلب، مدام بریج، ماڈل کالونی موڑ اور رینجرز چوکی فیونرل ایریا میں پولیس چیک پوائنٹس قائم کر دیے ہیں جہاں 24 گھنٹے پولیس کی نفری تعینات ہوگی۔ ان مقامات پر پولیس اہلکار ہر مشکوک شخص اور گاڑی کی چیکنگ کریں گے تاکہ کسی بھی غیر معمولی سرگرمی کو روکا جا سکے۔ایس ایس پی ملیر نے کراچی ایئر پورٹ آنے والے تمام مسافروں سے درخواست کی ہے کہ اپنی پرواز کے وقت سے قبل ایئرپورٹ پہنچیں تاکہ سیکیورٹی مراحل سے بآسانی گزر سکیں اور کسی تاخیر کا سامنا نہ کرنا پڑے۔انھوں نے کہا کہ ایم 9 موٹر وے، ملیر کینٹ، میمن گوٹھ، ماڈل کالونی اور دیگر ملحقہ علاقوں کے رہائشیوں سے گزارش ہے کہ شہر کی طرف سفر کے لیے ریڈ زون سے گزرنے کے بجائے مین شارع فیصل اور ملیر ہالٹ کا راستہ اختیار کریں۔ڈرگ روڈ سے آنے والے مسافر، جو ملیر کینٹ یا ماڈل کالونی کی طرف جا رہے ہوں، ان سے بھی گزارش ہے کہ اسٹار گیٹ یا سی اے اے کلب روڈ استعمال کرنے کے بجائے ملیر ہالٹ سے گزرتے ہوئے اپنی منزل کی طرف سفر کریں۔ایس ایس پی ملیر نے کہا کہ ایئرپورٹ جانے والے تمام افراد سے اپیل ہے کہ ریڈ زون میں داخلے سے قبل اپنی پرواز کی ٹکٹ اور قومی شناختی کارڈ ہمراہ رکھیں تاکہ سیکیورٹی چیکنگ کے عمل میں آسانی ہو۔ انھوں نے کہا کہ مسافروں کی سہولت، تحفظ اور محفوظ سفر ہماری اولین ترجیح ہے۔ ضلع ملیر پولیس عوام کی حفاظت اور امن کے قیام کے لیے ہر دم تیار ہے، کسی بھی مشکل یا پریشانی کی صورت میں پولیس آپ کی مدد کے لیے ہمہ وقت موجود ہے۔

    غیر قانونی بس اڈوں کیخلاف آپریشن سے کراچی کے ٹریفک دباؤ میں کمی آئی، شرجیل میمن

    منشیات فروشی میں ملوث 2ملزمان گرفتار،5کلو چرس،گاڑی برآمد

  • کمیٹی بناؤں گا، جو بھی مسائل ہونگے حل کریں گے،وزیراعظم کی یقین دہانی

    کمیٹی بناؤں گا، جو بھی مسائل ہونگے حل کریں گے،وزیراعظم کی یقین دہانی

    کمیٹی بناؤں گا، جو بھی مسائل ہونگے حل کریں گے،وزیراعظم کی یقین دہانی
    وزیر اعظم شہبازشریف کراچی پہنچ گئے

    وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے وزیراعظم کا استقبال کیا شاہد خاقان عباسی،احسن اقبال ،خالد مقبول صدیقی اور اکرم درانی وزیراعظم کے ہمراہ ہیں ن لیگی ترجمان مریم اورنگزیب بھی وزیراعظم کے ہمراہ ہیں ،

    خصوصی پرواز نے شارع فیصل پر پاکستان ائیر فورس کے فیصل ائیر بیس پر لینڈ کیا جہاں وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ اور دیگر نے وزیراعظم شہباز شریف کا استقبال کیا فیصل ائیر بیس سے وزیراعلیٰ سندھ وزیراعظم کو ہیلی کاپٹر میں لے کر وزیراعلیٰ ہاؤس کے لیے روانہ ہوئے وزیراعلیٰ ہاؤس کے قریب ہیلی پیڈ پر چیف سیکرٹری سندھ اور انسپکٹر جنرل پولیس سندھ نے وزیراعظم کا استقبال کیا۔

    ن لیگی ترجمان مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے دوران پروازاجلا س کی صدارت کی اجلاس میں کراچی اور معاشی امور سے متعلق امور پر گفتگو کی گئی، اجلاس میں مفتاح اسماعیل و دیگر حکام موجود تھے،

    وزیر اعظم شہبازشریف کی مزارقائد آمد ہوئی خالد مقبول صدیقی اور اکرم درانی بھی وزیراعظم کے ہمراہ تھے وزیراعظم کی گاڑی وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ چلارہے تھے وزیر اعظم نے مزار قائد پر فاتحہ خوانی کی، وزیراعظم نے مزار قائد پر پھولوں کی چادر چڑھائی وزیر اعظم نے مہمانوں کی کتاب میں تاثرات قلمبند کیے

    وزیراعظم پاکستان نے مزارقائدپرمہمانوں کی کتاب میں کیا کچھ لکھا ؟ وزیراعظم شہباز شریف نے لکھا کہ قائد!میں آپ کی آخری آرام گاہ پربصد احترام حاضرہوں،میں مشکورہوں کہ آپ نےہمیں آزادملک دیا،ہم اس راستے پرنہیں چل سکتے،جس کی آپ کوہم سے امید تھی میں عوام کی بہتری کےلیےاپنی بھرپور صلاحیتیں بروکارلاونگا،قائد! آپ کی امیدوں کے مطابق زندگی گزارنے کی کوشش کرینگے،تاثرات کے اختتام پروزیراعظم نے نام کی جگہ خادم پاکستان تحریرکیا

    بعد ازاں وزیر اعظم شہباز شریف کی وزیر اعلیٰ ہاؤس آمد ہوئی وزیراعلیٰ سندھ مرادعلی شاہ، مریم اور نگزیب، احسن اقبال ودیگر ہمراہ ہیں وزیر اعظم سے سندھ کابینہ اراکین کی ملاقات ہوئی ا ظہار الحسن اور کنور نوید جمیل وزیر اعلی ٰہاؤس میں موجود ہیں وزیر اعلیٰ سندھ نے وزیر اعظم کو سندھی ٹوپی اور اجرک پہنائی، وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ خوش ہوں منصب سنبھالنے کے بعد مزار قائد پر حاضری دی،سندھ کا دورہ کرنے پر بھی خوشی ہوئی ہے ہمیں اس ملک کو ملکر خوشحال، پُرامن کرناہے،

    وزیر اعظم شہباز شریف سے وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی ملاقات ہوئی ملاقات میں سندھ کی انتظامی اور امن و امان کی مجموعی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیا، وزیراعظم نے وزیر اعلیٰ کو سندھ کے لوگوں کی جان و مال کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کی ہدایت کی وزیر اعلیٰ کو سندھ کے عوام کی فلاح و بہبود کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کرنے کی ہدایت کی وزیر اعلی سندھ مرادعلی شاہ نے وزیر اعظم کو کابینہ کی جانب سے مبارکباد دی ،وزیر اعلیٰ سندھ نے وزیراعظم کو یقین دہانی کروائی کہ وفاقی حکومت کے ساتھ مل کر کام کریں گے ،سندھ کی عوام کی فلاح و بہبود کے لیے تمام ممکنہ اقدامات بروئے کار لائیں گے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے وزیراعظم شہباز شریف کو کراچی سرکلر ریلوے پر بریفنگ دی اور کہا کہ کراچی کی ٹریفک کا مسئلہ اور بی آر ٹی سروس کی کامیابی کے سی آر پر منحصر ہے،وفاقی حکومت نے کے سی آر پروجیکٹ 201 ارب روپے کی لاگت سے پی پی پی موڈ پر منظور کیا کے سی آر کو سی پیک کے تحت تعمیر کیا جائے، آپ نے سی پیک کو تیز کرنے کا عہد کیا ہے کے سی آر سمیت سندھ کے منصوبے سی پیک میں شامل کیے جائیں،

    وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف کے زیر صدارت وزیراعلیٰ ہاؤس میں اجلاس ہوا. وزیراعظم شہباز شریف نے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کو اجلاس میں اپنے ساتھ بٹھایا وزیراعلیٰ سندھ نے وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا کہ وہ وزیراعلیٰ ہاؤس آئے اجلاس میں شاہد خاقان عباسی، احسن اقبال، مفتاح اسماعیل، اکرم درانی، مریم اورنگزیب، خالد مقبول صدیقی، خواجہ اظہار، کنور نوید، مولانا اسد محمود اور چیئرمین واپڈا، چیئرمین ریلویز، چیئرمین این ڈی ایم اے، وفاقی سیکریٹریز صالح فاروقی، عزیز عقیلی اور دیگر متعلقہ افسران شریک تھے وزیراعلیٰ سندھ نے تمام اتحادیوں کو اجلاس میں خوش آمدید کہا وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف نے وزیراعلیٰ ہاؤس میں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں آج بہت خوش ہوں کہ منصب سنبھالنے کے بعد مزار قائد پر حاضری دی اور سندھ کا دؤرہ کیا، ہمیں اس ملک کو ملکر خوشحال، پُرامن کرنا ہے،10 اپریل پاکستان کی تاریخ میں بڑا دن تھا، 10 اپریل کو آئین کی فتح ہوئی، ایک دھاندلی کی حکومت کا اختتام ہوا، * ہمیں حکومت کو نکالنے کے شادمانے بجانے کے بجائے عوام کی خدمت کرنی ہوگی،پاکستان کی ترقی تب ہگی جب تمام صوبے ترقی کرینگے،ملک میں بیروزگاری،مہنگائی اور دیگر مسائل ہیں، ہمیں ان کو حل کرنا ہیں، سائیٹ کی جتنی بھی سڑکیں ہیں وہ وفاق حکومت اخراجات دیگی،وزیراعظم نے یقین دہانی کروائی کہ کے سی آر کو ہم واپس سی پیک میں بنائینگے،

    وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے وزیراعظم شہباز شریف کو کراچی سرکلر ریلوے پر بریفنگ دی اور کہا کہ کراچی کی ٹریفک کا مسئلہ اور بی آر ٹی سروس کی کامیابی کے سی آر پر منحصر ہے، وفاقی حکومت نے کے سی آر پروجیکٹ 201 ارب روپیہ کی لاگت سے پی پی پی موڈ پر منظور کیا ہے وزیراعلیٰ سندھ نے وزیراعظم کو درخواست کی کہ کے سی آر کو سی پیک کے تحت تعمیر کیا جائے آپ نے سی پیک کو تیز کرنے کا عہد کیا ہے اس لئے کے سی آر سمیت سندھ کے منصوبے سی پیک میں شامل کیے جائیں،

    کے فور پراجیکٹ پر چیئرمین واپڈا نے وزیراعظم کو بریفنگ دی اور کہا کہ یہ 260 ایم جی ڈی کا پراجیکٹ ہے اور اس کی مالیت 126 بلین روپے ہے؛ یہ پراجیکٹ واپڈا تعمیر کر رہی ہے؛ وزیراعظم نے واپڈا چیئرمین کو اس پراجیکٹ کو جلد مکمل کرنے کی ہدایت کی وزیراعلیٰ سندھ کی درخواست پر وزیراعظم نے کے فور کے فنڈز مہیا کرنے کی ہدایت کی ، وزیراعظم نے پراجیکٹ 2024 تک ہر صورت مکمل کرنے کی ہدایت دے دی

    وزیراعلیٰ سندھ نے وزیراعظم شہباز شریف کو بی آر ٹی پروجیکٹس پر بریفنگ دی اور کہا کہ حکومت سندھ ریڈ لائن بی آر ٹی سسٹم شروع کر رہی ہے، بی آر ٹی ریڈ لائن کے لئے 250 بایو ہائبرٹ بسز خریدی جائینگی، بی آر ٹی ریڈ لائن کو 3 لاکھ 50 ہزار سے زائد مسافر روزانہ سفر کرینگے، یہ پروجیکٹ 22.5 کلومیٹر کا ہوگا جس کی 23 اسٹیشنز ہونگی، 208 شیلٹرز اور 2 بس ڈیپو ہونگے، بی آر ٹی ریڈ لائن کا ٹینڈر جاری کیا جا چکا ہے اور جلد اس پر کام ہوگا،بی آر ٹی ییلو لائن 17.6 کلومیٹر ہوگا، یہ منصوبہ ورلڈ بینک کے تعاون سے شروع کیا جا رہا ہےجس پر کنسلٹنٹ کام کر رہے ہیں، وزیراعلیٰ سندھ نے ان بی آر ٹی پروجیکٹ کے لئے 2000 الیکٹرک بسز خریدنے کے منصوبے سے وزیراعظم کو آگاہ کیا ان بسز کی خریداری پر 108 ارب روپیہ خرچ ہونگے، وزیراعلیٰ سندھ نے وزیراعظم کو بسز کی خریداری کے پروجیکٹس میں 50 فیصد اخراجات دینے کی درخواست کی ،وزیراعظم نے یقین دہانی کروائی کہ بسوں کی خریداری پر وفاقی حکومت سندھ حکومت کی بھرپور مدد کرے گی؛

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ سکھر موٹروے 165.7 بلین روپے کی لاگت سے منظور ہوایہ روڈ وفاقی حکومت پی پی پی موڈ پر بنانا چاہتی ہے،یہ 306 کلومیٹر، 6 رویہ کشادہ سڑک ہوگی،جامشورو-سیہون روڈ کے لیے 7 بلین روپے سندھ حکومت نے 2017 میں ادا کردیئے تھے؛یہ روڈ ابھی تک مکمل نہیں ہو سکی؛وزیراعظم نے این ایچ اے کو جامشورو-حیدرآباد روڈ پر کام تیز کرنے کی ہدایت دے دی

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ وفاقی ترقیاتی پروگرام (PSDP) میں سندھ کو سال 22-2021 میں 419.7 بلین روپیہ کی 103 اسکیمز دی گئیں،سال 22-2021 میں پنجاب کو 1.2 ٹرلین روپیہ کی 177 اسکیمز دی گئیں، خیبرپختونخواہ کو 1.9 ٹرلین روپیہ کی 127 اسکیمز دی گئیں، دیکھا جائے تو سندھ کے ساتھ سوتیلی ماں والا سلوک کیا گیا، نئے مالی سال کے لئے حکومت سندھ نے نئی 25 اسکیمز وفاقی حکومت کو بھیجی ہیں، ان 25 اسکیمز کی مالیت 264358.7 ارب روپیہ کی ہیں، وزیراعلیٰ سندھ نے وزیراعظم کو درخواست کی کہ یہ اسکیمز منظور کر کے سندھ کے زخموں پر مرہم رکھی جائے ، وزیراعظم نے نئے سال کی پی ایس ڈی پی میں سندھ کے ترقیاتی پراجیکٹس شامل کرنے کی وزیراعلیٰ سندھ کو یقین دہانی کروا دی،

    وزیراعلیٰ سندھ نےوزیراعظم شہباز شریف کو کراچی کے تین بڑے اسپتالوں پر بریفنگ دی،اور کہا کہ 2011 میں جناح اسپتال، کارڈیو اور بچوں کا اسپتال حکومت سندھ کو دیا گیا تھا، حکومت سندھ 2011 سے لے کر اب تک JPMC, NICVD, NICH کو اپ گریڈ کیا ہے جے پی ایم سی میں کینسر کا علاج بھی مفت کیا جاتا ہے، حکومت سندھ نے این آئی سی وی ڈی کے 8 سیٹیلائٹ سینٹرز بھی قائم کئے ہیں، 2011 میں این آئی سی وی ڈی کا کل خرچہ 30 کروڑ روپیہ تھا، اس وقت این آئی سی وی ڈی کا سالیانہ خرچہ 6 ارب روپیہ ہے ،وفاقی حکومت نے مارچ 2019 میں جے پی ایم سی کیلئے ایک بورڈ بنایا، * یہ بورڈ ابھی تک کام نہیں کر رہا اور اس بورڈ سے اسپتال کی پرفارمنس خراب ہوگی سال 2019 میں وفاقی کابینہ نے 3 بڑے اسپتال سندھ حکومت کو دینے کا فیصلہ کیا، وفاقی کابینہ کے اس فیصلے کے حساب سے دیگر صوبوں میں وفاقی اسپتال بھی ان صوبوں کو دی جائینگی حکومت سندھ نے سال 2011 سے لیکر 2022 تک ان تینوں اسپتالوں پر 30559.9 ملین روپیہ خرچ کیا ہے، وزیراعلیٰ سندھ نے وزیراعظم کو درخواست کی کہ کراچی کے تینوں بڑے اسپتال حکومت سندھ کو دیئے جائیں
    یہ اسپتال سندھ کو دینے کیلئے وفاق اور سندھ حکومت کوئی طریقہ کار نکالیں،جس پر وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ان اسپتالوں کے لئے وفاق اور سندھ حکومتیں معاہدہ کرے گی؛ ان اسپتالوں کا کنٹرول سندھ حکومت کو دیا جائے گا؛ * وفاقی حکومت اسپتالوں کے حوالے سے فیصلے کا جائزہ لے کر معاہدے کرے گی؛

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ آئین کے مطابق جس صوبے سے گیس نکلے گی اس پر اسی صوبے کا پہلا حق ہے، وفاقی حکومت ڈبلیو اے سی او جی پالیسی تھوپنا چاہتی ہے، ڈبلیو سی او جی پالیسی کے تحت امپورٹڈ اورلوکل گیس کو پول کر کے گیس کی قیمت کا تعین کیا جائے گاسندھ سے نکلنے والی گیس دیگر صوبوں کو مہیا کیاجا رہا ہے، جس کے باعث سندھ میں گیس کی لوڈ شیڈنگ کی جاتی ہے وزیراعلیٰ سندھ نے او جی ڈی سی ایل، پی پی ایل، پی ایس او، ایس ایس جی سی ایل اور او گرا میں سندھ کی نمائندگی مانگ لی وزیراعلیٰ سندھ نے وزیراعظم کو درخواست کی کہ سندھ کے دیہاتوں کو گیس مہیا کرنے پر عائد پابندی اٹھائی جائے اسلام کوٹ سے چھوڑ تک 105 کلومیٹر ریلوے لائن بچھانے کا منصوبہ تیار ہے، یہ ریلوے لائن تھر کول کی ٹرانسپوٹیشن کے لئے ضروری ہے وزارت ریلوے نے اس منصوبے کی فزیبلٹی تیار کی ہے، وزیراعلیٰ سندھ نے وزیراعظم کو درخواست کی کہ یہ منصوبہ فوری شروع کیا جائے نیپرا ایکٹ میں وفاقی حکومت نے یکطرفہ ترمیم کی، اس ترمیم کی وجہ سے سندھ اپنا نیپرا پر ممبر نامزد نہیں کر سکتا یہ سندھ کے ساتھ زیادتی ہے اس کو ٹھیک کیا جائے،سندھ میں بجلی کی 12-12 گھنٹوں کی لوڈ شیڈنگ ہو رہی ہے،سیپکو کی بجلی مانگ 777 میگاواٹ ہے لیکن 412 میگاواٹ ملتی ہے، سیپکو کی بجلی کی شارٹ فال 365 میگاواٹ ہے حیسکو کی 1050 میگاواٹ مانگ کے برعکس 652 میگاواٹ بجلی ملتی ہے، حیسکو کو 398 میگاواٹ کم بجلی مہیاہوتی ہے، کے الیکٹرک کی مانگ 3213 میگاواٹ ہے لیکن 2813 میگاواٹ بجلی سپلائی ہوتی ہے، کے ای کو 400 میگاواٹ کی شارٹ فال کا سامنا ہے،وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ہم گیس کی منتقلی کے حوالے سے پلان بنا رہے ہیں، صوبوں کو گیس میں حق ملے گا،

    وزیراعظم شہباز شریف کا وزیراعلیٰ ہاؤس میں اجلاس میں اختتامی خطاب ، کہا کہ پانی، کے سی آر کے معاملات میں خود دیکھوں گا؛ میں کمیٹی بنائوں گا باقی جو بھی مسائل ہیں اُن کو حل کریں گے؛

     

    متحدہ عرب امارات حکام کی شہباز شریف کو وزیراعظم منتخب ہونے پر مبارکباد

    پاکستان تحریک انصاف کےمینارِ پاکستان پر ہونے والے جلسے کی تاریخ تبدیل

  • جمعتہ المبارک اور یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر فول پروف سکیورٹی انتظامات

    جمعتہ المبارک اور یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر فول پروف سکیورٹی انتظامات

    جمعتہ المبارک اوریومِ یکجہتی کشمیرکے موقع پر لاہور پولیس کے فول پروف سکیورٹی انتظامات
    ریلیوں کو سکیورٹی کے لئے 1500کے قریب پولیس افسران و اہلکار تعینات کئے گئے
    دوران ڈیوٹی غفلت برتنے پر ایس ایچ او باٹا پور کو شوکازجبکہ ٹی اے ایس آئی کو معطل کرنے کے احکامات جاری.
    لاہور،05فروری2021:
    ڈی آئی جی آپریشنز لاہور ساجد کیانی کی ہدایت پر جمعتہ المبارک اور یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر فول پروف سکیورٹی انتظامات عمل میں لائے گئے۔لاہور پولیس نے ہمیشہ کی طرح ریلیوں کے شرکاء کو بھرپورتحفظ فراہم کرنے کے لئے مربوط سکیورٹی پلان مرتب کیا . جس کے مطابق06 ایس پیز، 08ڈی ایس پیز،29 ایس ایچ اوز، 185 اَپر سب آرڈینیٹس سمیت 1500کے قریب پولیس افسران و جوانوں نے ریلیوں کے شرکا کو سکیورٹی فراہم کی۔ریلیوں کے راستے میں آنے والی بلند عمارات کی چھتوں پر سنائپرز تعینات کئے گئے تھے۔ڈولفن سکواڈ،پی آر یو کی ٹیموں اور پولیس کے دیگریونٹس کے جوان ریلیوں کے روٹ اور ملحقہ مقامات پر مسلسل اور موثر پٹرولنگ یقینی بناتے رہے. ڈی آئی جی آپریشنز ساجد کیانی شہر کی اہم مساجد، امام بارگاہوں، عبادتگاہوں اور یوم یکجہتی کشمیر کی مناسبت سے نکلنے والی ریلیوں کے روٹ کی سکیورٹی کی نگرانی خود کرتے رہے. ڈی آئی جی آپریشنز پولیس کی طرف سے کئے جانے والے سکیورٹی ودیگر انتظامات کا جائزہ لیتے رہے۔ڈی آئی جی آپریشنز نے وزٹ کے دوران پوائنٹ ڈیوٹیوں پر تعینات افسران و جوانوں سمیت ڈولفن اور پولیس رسپانس ٹیموں کو الرٹ رہ کر ڈیوٹی کرنے اور گشت یقینی بنانے بارے ہدایات بھی دیں.ساجد کیانی نےڈیوٹی کے دوران غفلت کے مرتکب پائے جانے والے ایس ایچ او باٹا پور کو شوکاز نوٹس جاری کیا.فرائض میں غفلت برتنے پر تھانہ شاہدہ کے ٹی اے ایس آئی کو معطل اور لائن حاضر کرنے کے بھی احکامات جاری کئے. ڈی آئی جی آپریشنز نے کہا کہ فرائض میں غفلت اور لا پروائی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی.انہوں نے کہا کہ شہریوں کی حفاظت اور امن و امن کا قیام اولین ترجیح ہے جس کے لئے ہرممکن اقدامات کئے جا رہے ہیں.