Baaghi TV

Tag: سگریٹ نوشی

  • تمباکو پرزیادہ ٹیکس لگانا چاہیے۔ تحریر:نصیب شاہ شینواری،لنڈیکوتل

    تمباکو پرزیادہ ٹیکس لگانا چاہیے۔ تحریر:نصیب شاہ شینواری،لنڈیکوتل

    تمباکو پر زیادہ ٹیکس لگانا چاہیے۔ تحریر: نصیب شاہ شینواری، لنڈیکوتل
    چھوٹے بچوں کو بازاروں اور گاوں میں سیگریٹ یا نسوارلانے کے لئے کسی دوکان کو نہیں بھیجنا چاہئے اس لئے کہ سیگریٹ لانے سے یہ بچے خود بھی سیگریٹ اور دوسرے خطرناک قسم کی منشیات استعمال کرنے کے عادی بن سکتے ہیں ، یہ بات عام مشاہدے کی بھی ہے کہ یہی بچے پھر بڑے ہوکر بھی بڑی شوق سے سیگریٹ اور نسوار کا استعمال کرتے ہیں ۔ یہ مفید اورکارآمد باتیں ضلع خیبر کے تحصیل لنڈیکوتل کے ایک سماجی کارکن اختر علی شینواری کی ہیں،ان کا کہنا ہے کہ آج کل سیگریٹ اور دوسرے منشیات کا استعمال عام ہورہا ہے اور معاشرے میں ہرکسی کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو اور جتنا ہوسکے اپنے قریبی دوستوں،رشتہ داروں کو سیگریٹ پینے و دیگر منشیات سے بچانے کے لئے اپنا کردار ادا کریں اور لوگوں کو سگریٹ نوشی کی لعنت سے بچایں۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اکثر غریب مزدورکار اورتنخوادار طبقہ کے ہزاروں افراد بھی سیگریٹ نوشی کی لعنت میں مبتلا ہے اور کمزور مالی حالت کی وجہ سے ان کے اپنے بچوں کی کفالت پر بھی برا اثر پڑتا ہے۔ پاکستان کے 1973 آئین کے تحت ہرشہری کو بنیاد صحت کی سہولیات دینا ان کا قانونی حق ہے اور یہ ذمہ داری حکومت اور ریاست کی ہے کہ پاکستان کے ہرشہری کو سرکاری ہسپتال میں مفت علاج کی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔

    پاکستان کی حکومت نے سال 2019 میں ہیلتھ لیوی بل پاس کیا لیکن اس بل کو عملی طور پر نافذ نہیں کیا جاسکا۔ اس بل کے مطابق تمباکو پری لیوی ٹیکس لاگو ہوگی جس سے ملکی معیشت کو فائدہ ہوگا ور سیگریٹ نوشی کو کم کیا جائے گا،اگر حکومت پاکستان یہ ٹیکس واقعی تمباکو نوشی،سگریٹ پر لاگو کریں تو اسے سے ہمارے معیشت کو بہت زیادہ فائدہ ہوگاِ، سیگریٹ پر ٹیکس زیادہ کرنے سے لوگ سگریٹ کو کم خریدیں گے اور اس طرح یہ غریب لوگوں کی پہنچ سے دور ہوجائے گی اوراس سے ان لوگوں کو ایک قسم کا مالی فایدہ بھی ہوگا۔ اخترعلی شینواری کا کہنا ہے کہ تمباکو اور سگریٹ پرحکومت کو زیادہ ٹیکس لگانا چاہئے ِ، ان کا کہنا تھا کہ اس سے ملکی معیشت اور عام لوگوں کی مالی حالت بہتر ہوگی، کم از کم غریب لوگ سگریٹ نوشی سے چھٹکارہ پائیں اور یہی پیسے جو یہ لوگ سگریٹ خریدنے کے لئے خرچ کرتے ہیں،انہی پیسوں سے بچوں کے لئے کوئی کارآمد چیز خرید سکیں گے۔ ڈاکٹر شمس الاسلام کا کہنا ہے کہ سگریٹ نوشی سے خطرناک عادت ہے اور یہ انسان کی صحت پر بہت ہی برا اثر کرتے ہیں، موصوف کا کہنا تھا کہ سگریٹ میں نکوٹین ہوتا ہے اور یہ انسانی دماغ کو بری طرح متاثر کرتا ہے، ان کا کہنا تھا کہ سگریٹ کی مسلسل استعمال سے ان کا دماغ متاثر ہوتا ہے، پھر دماغ میں طرح طرح کے دیگر برے خیالات جنم لیتے ہیں اور انسان کسی دوسرے نشہ کا بھی استعمال شروع کرتا ہے۔انسان پر سگریٹ نوشی کا برا اثر یہ ہے کہ یہ برا عمل انسان کو خودکشی پر مجبور کرتا ہے اور یہی سگریٹ نوشی بہت سے افراد کی خودکشیوں کی سبب بھی بنی ۔ڈاکٹر شمس الاسلام کا کہنا تھا کہ حکومت کی تمباکو نوشی کنٹرول ادارے کے ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں روزانہ 1200 بارہ سو افراد سیگریٹ نوشی کا استعمال شرو ع کرتے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ یہ بہت خطرناک ہے اعداد و شمار ہے کہ اتنی زیادہ تعداد میں لوگ سیگریٹ کے عادی بن رہے ہیں۔

    سیگریٹ کن خطرناک بیماروں کا سبب ہے؟
    جب ڈاکٹر سے پوچھا گیا کہ سیگریٹ نوشی سے کن کن بیماریاں انسان کو لاحق ہوسکتی ہے تو ان کا کہنا تھا کہ کئی خطرناک قسم کی بیماریاں سیگریٹ نوشی کی وجہ سے انسان کو لاحق ہوسکتی ہے۔ منہ کینسر، حلق کینسر ِ، خوراک کی نالی کینسر، معدے کا کینسر ، پھیپھڑوں کا کینسر، بڑی انت کینسر، معدے کی کینسر، مثانہ کینسر، جنسی کمزوری ِ، عارضہ قلب جان لیوا بیماریاں ہیں جو سیگریٹ نوشی کی وجہ سے انسان کو لگ سکتی ہیں۔ ڈاکٹر کا یہ بھی کہنا تھا کہ یورپی ممالک جیسے انگلستان میں عام جگہوں میں کوئی سیگریٹ نہیں پی سکتا اور سیگریٹ نوشی کے لئے مخصوص جگہیں ہیں جہاں انسان سیگریٹ نوشی کرسکتے ہیں۔ ان کا کہنا اور مطالبہ تھا کہ حکومت پاکستان کو بھی سیگریٹ اور تمباکو پر زیادہ ٹیکس لگا نا چاہے تاکہ عام لوگ سیگریٹ کو خرید نہ سکیں اور اس طرح یہ دوسرے لوگوں کو بھی بیماریوں سے بچا سکیں۔ ان کا کہنا تھا سیگریٹ نوشی سے کیی خطرناک بیماریاں لوگوں کو لاحق ہوتی ہیں جس کی وجہ سے حکومت لوگوں کی صحت پر کروڑوں اربوں روپے خرچ کرتی ہے، اگر سیگریٹ پر ٹیکس لگائی جایں تو اس سے معیشت مضبوط ہوگی، لو گ اسے کم خریدیں گے اور لوگ کم بیمار ہوجائیں گے۔

    ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر کا کہنا تھا کہ انسان اپنی پختہ عز م ہی کی وجہ سے سیگریٹ نوشی کو ترک کرسکتا ہے، ان کا کہنا تھا کہ روزانہ ورزش اور ایک انسان کی مضبوط قوت ارادی ہیں ایسے کام ہیں جن کی وجہ سے انسان سیگریٹ نوشی سے چھٹکارا پاسکتا ہے۔ لنڈیکوتل کے ایک صحافی فرہاد شینواری کا کہنا تھا کہ امریکہ میں عام جگہوں میں سیگریٹ نوشی پر پابندی ہے ، ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی فرد ایسی جگہ پر سیگریٹ نوشی کریں جہاں پر پابندی ہو تو حکومت انہیں 250 ڈالرز جرمانہ کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سیگریٹ نوشی نے لئے امریکا میں مخصوصی جگہیں ہیں جہاں اپ سیگریٹ پی سکتے ہیں۔

    بحثیت مسلمان بھی ہماری ذمہ داری بنتی ہے کہ ہم سیگریٹ نوشی کے خاتمہ کے لئے اپنا کردار ادا کریں اور معاشرے میں اس لعنت کے خلاف اٹھ کھڑے ہو اس لئے کہ قرآن اور سنت رسول ﷺ نے ہر نشہ اور چیز کو حرام کردیا ہے، کچھ بدقسمت اور کم علم لوگ کہتے ہیں کہ سیگریٹ نشہ اور نہیں ہے تو ان کی معلومات کے لئے عرض ہے کہ مصر کے ایک مشہور عالم دین نے سال 2000 میں ایک فتوی جاری کیا تھا اور کہا تھا کہ انسانی صحت پر برے اثرات کی وجہ سے دین اسلام میں سیگریٹ نوشی حرام ہے۔

    مختلف مکاتب فکر کے لوگوں اور سیگریٹ نوشی کے خلاف کام کرنے والی تنظیموں کے سربراہان کا بھی بہت عرصہ سے یہ مطالبہ رہا ہے کہ سیگریٹ نوشی کی حوصہ شکنی کے لئے ہیلتھ ٹیکس لانا اور لاگوں کرنا چاہئے تاکہ سیگریٹ مزید مہنگی ہوسکیں اور یہ عام لوگوں کی دسترس سے دور ہو۔حال ہی میں سیگریٹ نوشی کے خلاف کام کرنے والی غیرسرکاری تنظیم کرومیٹک ٹرسٹ نے مری میں ایک کانفرنس کا انعقاد کیا جس میں میڈیا انفلوینسرز اور ماہرین صحت نے شرکت کی۔
    کانفرنس سے خطاب کرتے ہوے مذکورہ تنظیم کے چیف ایگزیکٹیو شارق محمود نے کہ پاکستان میں سیگریٹ نوشی میں خطرناک حد تک اضافہ ہورہا ہے، ان کا کہنا تھا کہ آے روز بچے اور نوجوان سیگریٹ کے عادی بن جاتے ہیں جس کی وجہ سے لوگ خطرناک بیماریوں میں مبتلا ہوچکے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو چاہئے کہ ہیلتھ لیوی کو لاگو کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ سیگریٹ پر ہیلتھ لیوی کی شکل میں ٹیکس کے نفاذ سے ملکی خزانے کو 60 ساٹھ ارب روپے کا فایدہ ہوگا۔

    ریونیو ڈویژن حکومت پاکستان کے سرکاری ویب سایٹ پر شائع ایک رپورٹ کے مطابق ایف بی آر(فیڈرل بورڈ آف ریوینیو) نے تمباکو کے استعمال پر ہیلتھ لیوی کے نفاذ کے بارے میں 21 جنوری کو پریس کے کچھ حصے میں شائع ہونے والی ایک خبر پر وضاحت جاری کی ہے۔ قانونی اور آئینی ماہرین کا موقف ہے کہ صحت ایک صوبائی موضوع ہے اور وفاق تمباکو کے استعمال پر ہیلتھ ٹیکس نہیں لگا سکتا۔ اس کے نتیجے میں تمباکو نوشی کی حوصلہ شکنی کے لیے سگریٹ پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا۔ پارلیمنٹ نے فنانس ایکٹ 2019 کے ذریعے سگریٹ پر تین درجے والے ٹیکس کے ڈھانچے کو ختم کر دیا اور FED کو بھی نمایاں طور پر بڑھا دیا۔

    بجٹ تقریر 2019-20 میں، اس وقت کے وزیر ریونیو نے واضح کیا کہ تمباکو کے شعبے سے حاصل ہونے والی فیڈرل ایکسائز اینڈ ڈیوٹی کا وفاقی حصہ ترجیحی طور پر وزارت نیشنل ہیلتھ سروسز ریگولیشنز اینڈ کوآرڈینیشن کو دیا جائے گا جس کے نتیجے میں ہیلتھ لیوی کا مسئلہ حل ہو جایں گا۔ سابق صوبائی وزیر صحت عنایت اللہ نے روزنامہ ڈان میں شائع ایک تحریر میں لکھا ہے کہ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے اعلامیہ (1948) نے صحت کو بنیادی حق قرار دیا ہے۔ ڈبلیو ایچ او کا آئین بھی ”ہر انسان کے بنیادی حق کے طور پر صحت کے اعلیٰ ترین قابل حصول معیار” کا تصور کرتا ہے۔ وہ اپنی تحریر میں مزید لکھتا ہے کہ پاکستان پائیدار ترقی کے ہدف 3 کے تحت یونیورسل ہیلتھ کوریج (UHC) کے لیے بھی پرعزم ہے۔

  • ہیلتھ لیوی ،حکومت توجہ کرے، تحریر:نایاب فاطمہ

    ہیلتھ لیوی ،حکومت توجہ کرے، تحریر:نایاب فاطمہ

    سوسائٹی فار پروٹیکشن آف رائٹس آف دی چائلڈ (اسپارک) کی جانب سے 16 نومبر 2022 بروز بدھ کو منعقدہ مباحثے کا بنیادی مقصد یہی تھا کہ مقررین نے حکومت سے درخواست کی کہ وہ پاکستانی بچوں اور نوجوانوں کو تمباکو کے استعمال کے نقصانات سے بچانے کے لئے لیوی عائد کرے۔پارلیمانی سیکرٹری نیشنل ہیلتھ سروسز نے تشویشناک اعداد و شمار شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ روزانہ 1200 بچے تمباکو نوشی شروع کرتے ہیں اور ہر سال ایک لاکھ 70 ہزار افراد تمباکو نوشی کی وجہ سے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ وزارت صحت تمباکو نوشی کرنے والے تمام بچوں کے حق میں اقدامات کی حمایت کرنے کے لئے پرعزم ہے کیونکہ یہ اس بات کو یقینی بنانے کے لئے ضروری ہیں کہ پاکستان میں تمباکو نوشی کرنے والوں کی تعداد ، جو پہلے ہی 31 ملین ہے ، میں مزید اضافہ نہ ہو۔ اور ہماری نوجوان نسل اس بڑہتے ہوئے معاشرتی فتنے سے دور رہے۔

    پاکستان میں تمباکو نوشی کے نتائج خطرناک حد تک بڑہتے چلے جا رہے ہیں۔ اور زیادہ سے زیادہ نقصانات رونما ہو رہے ہیں۔ طلباٰء، بچے اور نوجوان نسل تمباکو نوشی کا شکار ہیں۔ بژے بڑے مافیاز اس کی اسمگلنگ کر کے، اور نوجوان نسل میں پھیلا کر پاکستان کی جڑوں کو کھوکھلا کر رہے ہیں۔سال 2019 میں وفاقی کابینہ نے تمباکو کی کھپت میں کمی اور سالانہ 60 ارب روپے کمانے کے لیے ہیلتھ لیوی (اضافی ٹیکس) عائد کرنے کے بل کی منظوری دی تھی۔ تاہم بہت سے پالیسی سازوں نے بل کو مسلسل روک دیا ہے اور اس وجہ سے فی کس آمدنی میں اضافے کی وجہ سے تمباکو کی مصنوعات زیادہ سستی ہوگئی ہیں۔ کم عمر بچے اور کم آمدنی والے افراد تمباکو کی صنعت کا بنیادی ہدف ہیں۔ تاہم پارلیمنٹ کو فوری طور پر ہیلتھ لیوی بل پیش کرنے کی ضرورت ہے تاکہ یہ ایک ایکٹ بن سکے اور اسے پورے ملک میں نافذ کیا جاسکے۔ اور مزید نقصان سے بچا جا سکے۔

    سگریٹ اورنکوٹین پائوچز جیسی مصنوعات نوجوان نسل کے لئے تباہ کن ہیں، دنیا بھر میں تمباکو کی صنعت سے وابستہ بزنس مین ہمارے نوجوانوں کو نشے کی لت میں مبتلا کرنے کے نئے طریقے تلاش کر رہے ہیں۔اس لیے تمباکو کی مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کیا جانا چاہیے تاکہ افراط زر اور فی کس آمدنی میں اضافہ ہو۔ لیکن سب سے اہم بات یہ ہے کہ قوانین کی تعمیل کو یقینی بنانے کے لئے تمباکو کی صنعت کی سخت نگرانی کی ضرورت ہے۔تمباکو ٹیکس کے لحاظ سے پاکستان دنیا کے سب سے نچلے درجے کے ممالک میں سے ایک ہے اور چونکہ تمباکو کی مصنوعات مالی نقصان کا باعث بن رہی ہیں اس لیے صنعت کو اس عدم توازن کی قیمت ادا کرنی چاہیے جو اس نے پیدا کیں ہیں۔

    ماہرین صحت کے مطابق تمباکو نوشی کے خلاف موثر آواز اٹھانی چاہیے۔ اور اس ناسور کے خاتمہ کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ اور اس کے علاوہ ڈیجیٹل میڈیا انفلوئنسرز کو بھی حکومت سے مطالبہ کرنا چاہیے کہ ہیلتھ لیوی بل کو فوری طور پر پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے تاکہ یہ ایکٹ بن کر پورے ملک میں نافذ ہو سکے اور ہماری نوجوان نسل اس فتنہ سے پاک ہو کر پاکستان کی ترقی کے لیے کوششیں کرے۔

  • ڈیجیٹل میڈیا انفلوئنسرز اورماہرین صحت کاحکومت سے سگریٹ پر ہیلتھ لیوی ٹیکس فوری عائد کرنے کا مطالبہ

    ڈیجیٹل میڈیا انفلوئنسرز اورماہرین صحت کاحکومت سے سگریٹ پر ہیلتھ لیوی ٹیکس فوری عائد کرنے کا مطالبہ

    اسلام آباد: تمباکو نوشی کے خلاف کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم کرومیٹک ٹرسٹ کے زیر اہتمام مری میں کانفرنس کا انعقاد، پاکستان بھر سے ڈیجیٹل میڈیا انفلوئنسرز کی شرکت کی مقررین نے کہا کہ میڈیا انفلوئنسرز تمباکو نوشی کے خاتمے کے لئے معاشرےڈیجیٹل میں شعور اجاگر کرنے میں کردار ادا کریں-

    باغی ٹی وی : سگریٹ کے متبادل کے طور پر مارکیٹ میں دستیاب دیگر پراڈکٹس کے نقصانات اور سگریٹ پر ہیلتھ لیوی کی ضرورت اور اہمیت کو اجاگر کرنے کے لئے تمباکو نوشی کے خلاف کام کرنے والی غیرسرکاری تنظیم کرومیٹک ٹرسٹ کے زیراہتمام مری کے مقامی ہوٹل میں کانفرنس کا اہتمام کیا گیا۔

    جولائی تا نومبر:پاکستان میں‌ غیرملکی سرمایہ کاری نصف رہ گئی

    کانفرنس میں پاکستان بھر سے ڈیجیٹل میڈیا انفلوئنسرز اور ماہرین صحت شریک ہوئے۔اس موقع پر کرومیٹک ٹرسٹ کے سی ای او شارق محمود خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دیگر ممالک کے مقابلے میں پاکستان میں تمباکو مصنوعات سستی اور آسانی سے دستیاب ہونے کی وجہ سے بچوں اور نوجوانوں میں تمباکو نوشی کا استعمال خطرناک حد تک بڑھ چکا ہے، حکومت فوری طور پر سگریٹ پر ہیلتھ لیوی ٹیکس عائد کرے جس کے نفاذ سے قومی خزانے کو 60 ارب روپے کا فائدہ حاصل ہوسکتا ہے تمباکو پر ہیلتھ لیوی ٹیکس سے حاصل ہونے والی رقم کو ملک بھر میں طبی سہولیات پر خرچ کرکے تمباکو کی صنعت کی جانب سے صحت کو پہنچنے والے نقصان کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

    شارق محمود خان نے مزید کہا کہ پاکستان میں روزانہ 1200 سے زائد بچے تمباکو نوشی شروع کرتے ہیں اور ہر سال 1لاکھ 70ہزار سے زائد افراد تمباکو سے پیدا ہونے والی بیماریوں کی وجہ سے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں اوران اعداو شمار میں ہر سال اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے جو انتہائی تشویش ناک ہے۔

    مسلم لیگ ن کا وزیراعلی پنجاب اوراسپیکر کیخلاف تحریک عدم اعتماد کا فیصلہ

    شارق محمود خان کا کہنا تھا کہ پاکستان تمباکو پر ٹیکس لگانے کے لحاظ سے دنیا کے سب سے نیچے درجے کے ممالک میں سے ایک ہے ۔ تمباکو کی مصنوعات ہماری صحت اور مالی نقصان کا باعث بن رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہیلتھ لیوی کا نفاذ تمباکو کے استعمال کو کم کرنے اور صحت عامہ کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے کے لئے ایک ضروری و دیرپا حل ہے۔

    شارق محمود خان نے کہا کہ دور حاضر میں ڈیجیٹیل میڈیا انفلوئنسرز تمباکو نوشی کے خلاف شعور اجاگر کرنے کے ساتھ تمباکو کی جدید اقسام کے استعمال سے صحت کو پہنچنے والے نقصانات کے حوالے سے عام لوگوں کی بہتر رہنمائی کرسکتے ہیں

    کانفرنس کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے (سی ٹی ایف کے) کے پاکستان میں نمائندے ملک عمران احمد نے کہا کہ پاکستان میں تمباکو نوشی کے باعث صحت پر اخراجات کی لاگت تقریبا 615 ارب روپے ہے جو کہ پاکستان کی جی ڈی پی کے 1.6 فیصد کے برابر ہے جبکہ تمباکو کی صنعت سے حاصل ہونے والی آمدنی کل لاگت کا صرف 20 فیصد ہے۔

    عمران خان نے نجی ٹی وی پر یو اے ای میں ہتکِ عزت کا دعویٰ کردیا

    انھوں نے کہا کہ 2019 میں، وفاقی کابینہ نے تمباکو کی مصنوعات پر ہیلتھ لیوی لگانے کے بل کی منظوری دی تاکہ تمباکو نوشی کو کم کیا جا سکے اور سالانہ 60 ارب روپے حاصل کیے جا سکیں ۔ تاہم تمباکو کی صنعت کے دباؤ کی وجہ سے یہ بل پارلیمینٹ میں منظوری کیلئے پیش نہیں کیا جا سکا۔

    ڈاکٹر ضیاء الدین اسلام، کنٹری لیڈ وائٹل سٹریٹیجیز، نے ذکر کیا کہ تمباکو کی صنعت کے دعووں کے برعکس، جدید مصنوعات نقصان دہ ہیں کیونکہ ان میں نکوٹین ہوتی ہےجو کہ نشہ آوراشیا کےاستعمال کی بہت سی دوسری اقسام کےلیے پہلی سیڑھی کا کام کرتی ہےاور نو جو انوں میں جسمانی اورذہنی صحت کےسنگین مسائل کاباعث بن سکتی ہےان پراڈکٹس کوسگریٹ نوشی ختم کرنےمیں مدد دینےوالی مصنوعات ہونے کا دعویٰ کیا جاتا ہے لیکن درحقیقت یہ محظ نشے کی نئی اقسام ہیں۔

    جن تحقیقات میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ مصنوعات سگریٹ کے مقابلے میں کم نقصان دہ ہیں وہ سب تمباکو کی صنعت نے فنڈز کی ہیں۔ آزاد تحقیقات نے ان مصنوعات کے نقصانات کے بارے میں تفصیلی خبردار کیا ہے۔ انہوں نے کابینہ سے اپیل کی کہ وہ کسی بھی ایسے اقدام کی منظوری نہ دے جس میں نئی مصنوعات کو قانونی حیثیت دی جائے-

    ڈیزل پر لیوی کی شرح بڑھا دی گئی

    مسلم لیگ ن کانفرنس کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے سنٹرل ورکنگ کمیٹی کی ممبر اور ماہر قانون آمنہ شیخ نے کہا کہ بچے اور کم آمدنی والے لوگ تمباکو کی صنعت کا بنیادی ہدف ہیں تمباکو کی نئی مصنوعات پرپابندی کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئےآمنہ شیخ نے کہا کہ شیشہ، ای سگریٹ اور نکوٹین پائوچز جیسی مصنوعات نوجوان نسل کے لئے تباہ کن ہیں، دنیا بھر میں تمباکو کی صنعت سے وابستہ بزنس مین ہمارے نوجوانوں کو نشے کی لت میں مبتلا کرنے کے نئے طریقے تلاش کر رہی ہے۔

    کینسر کا باعث بننے والے کیمیکل سے جڑی یہ مصنوعات نکوٹین پائوچز، اور چیونگم کے طور پر پاکستان کی مارکیٹ میں دستیاب ہیں جن کے سدباب کے لئے موثر اقدامات کی ضرورت ہے۔

    کانفرنس میں شریک ڈیجیٹل میڈیا انفلوئنسرز اور ماہرین صحت نےتمباکو نوشی کےخلاف موثر آواز اٹھانے پر کرومیٹک ٹرسٹ کی کوششوں کو سراہنے کے ساتھ اس ناسور کے خاتمہ میں اپنا کردارکرنے کےعزم کا اظہار کیا،ساتھ ہی ڈیجیٹل میڈیا انفلوئنسرز نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ہیلتھ لیوی بل کو فوری طور پر پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے تاکہ یہ ایکٹ بن کر پورے ملک میں نافذ ہو سکے ۔

    پاکستان میں پہلی مرتبہ جانوروں کی ویکسین مقامی طور پر تیار کرنے کا فیصلہ

  • 80 لاکھ سے زیادہ انسان تمباکو کے استعمال کے باعث ہلاک ہو جاتے ہیں:ماہرین

    80 لاکھ سے زیادہ انسان تمباکو کے استعمال کے باعث ہلاک ہو جاتے ہیں:ماہرین

    اسلام آباد-پاکستان سمیت دنیابھر میں زیادہ تر موزی امراض و اموات کا سبب تمباکو کا استعمال ہے۔ اندازے کے مطابق پاکستان میں 2کروڑ 40 لاکھ سے زائد افراد تمباکو استعمال کرتے ہیں، تمباکو کے استعمال کے حوالے سے پہلے دس ممالک میںپاکستان شامل ہے۔دنیا بھر میں 80لاکھ افراد تمباکو کے استعمال سے ہلاک ہو تے ہیں ۔ پاکستان میں اس کے استعمال سے کنسر سمیت 18 موزی امراض کا بڑھتا ہوا تناسب سامنے آ رہا ہے۔ اس امر کا اظہار پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی (ایس ڈی پی آئی) اور یونین برائے ٹی بی و پھیپھڑوں کے امراض کے انسداد ِ تمباکو و کارکنان کی کی تربیتی یادداشت کااہتمام مقامی ہوٹل میں کیا گیا۔

     

     

     

    اس نشست سے اظہار خیال کرتے ہوئے ایس ڈی پی آئی کے ماہر ، محقق ڈاکٹر نسیم جنجوعہ نے کہا کہ تاریخ میںاس امر کا انکشاف ہوا کہ تمباکو کا پودہ امریکہ سے یورپ آیا جہاں مذہبی و رسمی مقاصدمیں استعمال کیا جانے لگا۔ جوکہ بعد ازاں تفریخ کا سبب بن گیا۔ تمباکوکے پودے کے بارے میں کسی بھی جگہ اس سے صحت کے لئے فوائد کی بجائے نقصانات سامنے آئے ہیں۔ وسیم جنجوعہ نے کہا کہ تمباکو کی صنعت دنیا بھر میں صدیوں سے تو نہیں بلکہ کئی برسوںسے ایک ہی ڈگر پر چل رہی ہے۔ اب پوری دنیا میں اس صنعت نے اپنے صارفین کے لئے پر کشش مصنوعات متعارف کرا رکھی ہیں۔جس کی طرف مزید انسان راغب ہو کر موت کی جانب سفرمیں کمی کر رہے ہیں۔

     

     

     

    عالمی ادارہ صحت کی طرف سے جاری کردہ اعلامیہ جو کہ تمباکو کے کنٹرول کے حوالے سے ہے ، پاکستان بھی دستخط کرنے والے ممالک میں شامل ہے۔ جس میں تمباکو کی تشہیر اور صنعت پر بھاری ٹیکسوں کے نفاذ سمیت متعدد اقدامات شامل ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ عالمی ادارہ صحت کے اعلامیہ اور معاہداتی شرائط پر پاکستان میں سختی سے کام کرنے کی مزید ضرورت ہے تاہم صوبائی اور وفاقی سطح پر اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔ڈاکٹر جنجوعہ نے مزیدکہا کہ انسداد تمباکو کے حوالے سے پاکستان میں متعددقوانین اور اقدامات موجود ہیں مگر کمزور سیاسی ڈھانچہ کے سبب موثر نتائج بر آمد نہیںہو رہے ہیں۔

     

     

     

     

    پاکستان میں تمباکو کی صنعت بھی مراعات حاصل کرتی رہتی ہے۔ جس سے اس کو تقویت میسر ہوتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تمباکو کی مصنوعات کے حوالے سے انتہائی حدت سامنے آئی ہے جس پر قانون کی گرفت نظر نہیں آئی اور دن بدن مقبول ہو رہی ہے۔ اس موقع پر پاکستان میںیونین کے نمائندے خرم ہاشمی نے بھی اپنے خیالات کا اظہا رکرتے ہوئے مقاصدبیان کئے اور اس پر کام کرنے والے افراد کی سماجی ذمہ داری قرار دیتے ہوئے ہر اول دستہ کے طور پر کام کرنے پر زور دیا ۔

     

    پاک فوج کی ٹیمیں ریلیف آپریشن میں انتظامیہ کی بھرپورمدد کر رہی ہیں،وزیراعلیٰ

    وزیراعظم فلڈ ریلیف اکاؤنٹ 2022 میں عطیات جمع کرانے کی تفصیلات

    باغی ٹی وی بلوچستان کے سیلاب متاثرین کی آواز بن گیا ہے.

  • تمباکو نوشی کے خلاف پوسٹ کارڈ آگاہی مہم کا آغاز

    تمباکو نوشی کے خلاف پوسٹ کارڈ آگاہی مہم کا آغاز

    کرومیٹک ٹرسٹ نے تمباکو نوشی کی جدید اقسام کے خلاف پوسٹ کارڈ آگاہی مہم کا آغاز کر دیا

    آگاہی مہم کا آغاز آج اسلام آباد کی فیصل مسجد میں اسلامی یونیورسٹی کے آڈیٹوریم میں طلبا و طالبات، میڈیا اور زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کی موجودگی میں کیا گیا۔اس ڈیجیٹل آگاہ مہم کا مقصد بچوں میں تمباکو نوشی کی جدید اقسام کے خلاف آگہی بیدار کرنا ہے ۔ اس مہم میں بچے انسداد تمباکو سے متعلق پوسٹ کارڈ ڈیزائن کرکے کرومیٹک ٹرسٹ کے دئئے گئے ای میل ایڈریسل یا وٹس ایپ نمبر پہ بھیجیں گے۔ یہ آگاہی مہم ایک ماہ تک جاری رہے گی اور اس مقابلے میں ونر کے لیے پچاس ہزار روپے اور رنر اپ کے لیے بیس ہزار روپے کی انعامی رقم رکھی ہے۔

    کرمیٹک ٹرسٹ کے سی ای او نے کہا کہ پوسٹر مقابلے میں اول اور دوئم آنے والوں کے ڈیزائن نہ صرف وزیراعظم پاکستان کو بھی پیش کیے جائیں گے بلکہ جیتنے والوں کی حوصلہ افزائی کے لیے ان کی میڈیا کے ذریعے بھی تشہیر کی جائے گی تاکہ ہمارے نوجوانوں کو اس کے متعلق آگاہی ملے ۔

    کرومیٹک ٹرسٹ کے سی ای او شارق خان نے میڈیا کو بتایا کہ ہم ڈیجیٹل دور میں جی رہے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ہم نے بچوں کے لیے ایک ماہ طویل مہم کو خاص طور پر ڈیزائن کیا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ مہم نہ صرف ان کی تفریح کا باعث بنے گی بلکہ انہیں سگریٹ نوشی کی جدید اقسام کے خطرات کو جاننے میں بھی مدد ملے گی۔انہوں نے کہا کہ یہ پوسٹ کارڈ مہم پچھلے سال کے مقابلے کا تسلسل ہے جس کے ذریعے ہم نے پاکستان بھر کے لاکھوں بچوں کو سگریٹ نوشی کے خطرات اور اس سے صحت کو پہنچنے والے نقصانات کے بارے میں آگاہی فراہم کی ۔

    شارق خان نے کہا کہ گزشتہ سال یہ مہم ایک بڑی کامیابی تھی اور اس نے ہمیں سوشل اور ڈیجیٹل میڈیا کے ذریعے نوجوانوں کو تمباکو کے استعمال کے مضر اثرات سے آگاہ کرنے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھنے پر مجبور کیا۔ شارق خان نے کہا کہ ہماری مسلسل کوششوں نے حکومت کو تمباکو پر ٹیکس بڑھانے پر آمادہ کیا جو کہ گزشتہ چار سالوں میں ایک بڑی کامیابی ہے۔

    شارق خان نے مزید کہا کہ وقت کی اہم ضرورت ہے کہ معاشرے کے تمام افراد اس کے مشن میں ہمارا ہاتھ بٹائیں تاکہ اس انسداد تمباکو آگاہی مہم کے ذریعے پاکستان کو سگریٹ نوشی کی جدید اقسام سے پاک ملک بنا کر بچوں کے مستقبل کو بچایا جا سکے ۔

    چلغوزے سستے،پڑھا لکھا ایس ایچ او،تمباکو کی قیمت ،مردم شماری کیلئے فنڈ ،کابینہ کے فیصلے

    تمباکو نوشی کے استعمال کے خلاف مہم،ویب سائٹ کا افتتاح

     تمباکو نوشی کے خلاف کرومیٹک کے زیر اہتمام کانفرنس :کس کس نے اور کیا گفتگو کی تفصیلات آگئیں

    تمباکو سیکٹر میں سالانہ 70 ارب روپے کی ٹیکس چوری کا انکشاف

    جب حکمران ٹکٹ ہی ان لوگوں کو دیں جن کا کاروبار تمباکو اور سگریٹ سے وابستہ ہو تو کیا پابندی لگے گی سینیٹر سحر کامران

    تمباکو نوشی کا زیادہ استعمال صحت کے لئے نقصان دہ ہے،ڈاکٹر فیصل سلطان مان گئے

  • سگریٹ نوشی پر پابندی کی خلاف ورزی کرنے پرعدالتی اہلکاروں کو شوکاز نوٹسز

    سگریٹ نوشی پر پابندی کی خلاف ورزی کرنے پرعدالتی اہلکاروں کو شوکاز نوٹسز
    لاہور ہائیکورٹ دفاتر میں سگریٹ نوشی پر پابندی کی خلاف ورزی کرنے پر3 عدالتی اہلکاروں کو شوکاز نوٹسز جاری کر دیئے گئے

    لاہور ہائیکورٹ کے ڈپٹی رجسٹرارایچ آر نے عدالتی اہلکاروں کو شوکاز نوٹسز جاری کیے تینوں اہلکاروں سے عدالتی احاطے میں سگریٹ نوشی کرنے پر تحریری وضاحت طلب کی گئی ہے ، انہیں بھجوائے گئے نوٹسز میں کہا گیا ہے کہ وہ تحریری جواب دیں کہ لاہور ہائیکورٹ کے احاطے میں سگریٹ نوشی پر پابندی ہے، انہوں نے خلاف ورزی کیوں کی،جواب نہ دینے کی صورت میں کاروائی کی جائے گی

    واضح رہے کہ عوامی مقامات پر سگریٹ نوشی کی پابندی حکومت کی جانب سے لگائی گئی ہے تا ہم اس قانون کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے، دکانوں، مارکیٹوں میں بھی سگریٹ کی سر عام فروخت اور سگریٹ نوشی کا سلسلہ جاری ہے، تعلیمی اداروں کے باہر بھی سگریٹ نوشی کی جاتی ہے، اس ضمن میں حکومت کو متحرک ہونا ہو گا اور قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کاروائی کرنی ہو گی

    پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور میں انسداد تمباکو نوشی قانون پر عمل درآمد کے لئے ضلعی سطح پر ٹو بیکو کنٹرول ٹاسک فورس تشکیل دی گئی تھی،جنوری 2020 میں ڈی سی لاہور نے ٹاسک فورس تشکیل دی تھی لیکن ایسے لگ رہا ہے کہ ٹاسک فورس کام نہیں کر رہی،اسوقت کے ڈی سی کا کہنا تھا کہ سٹی پولیس آفس لاہور،سٹی ٹریفک پولیس آفس، لاہور ٹرانسپورٹ کمپنی ، لاہور چیمبر آ ف کامرس اینڈ انڈسٹری، پنجاب فوڈ اتھارٹی لاہور، ایکسائز ٹیکسیشن اینڈ نار کوٹیکس کنٹرول لاہور، پاکستان ریلوے عمل درآمد کروانے میں اپنا کردار کریں گے۔ چھ ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں جو کام کریں گی اور قانون پر عملدرآمد کروائیں گی

    ڈی سی لاہور کیطرف سے جاری احکامات کےمطابق یہ فورس عوامی مقامات پر تمباکو نوشی کرنے والوں کے خلاف سخت کاروا ئی کرے گی جبکہ 18 سال سے کم عمر والے افراد کو سگریٹ فروخت کرنے، تعلیمی اداروں سے 50 میٹر تک کے فاصلے پر سگریٹ فروخت کرنے والوں، امپورٹڈ اور کھلے سگریٹ فروخت کرنے والوں پر بھاری جرمانہ عائد کیا جائیگا۔

    #سگریٹ_ٹیکس_بڑھاؤ ، ٹویٹر پر صارفین کا مطالبہ

    چلغوزے سستے،پڑھا لکھا ایس ایچ او،تمباکو کی قیمت ،مردم شماری کیلئے فنڈ ،کابینہ کے فیصلے

    تمباکو نوشی کے استعمال کے خلاف مہم،ویب سائٹ کا افتتاح

     تمباکو نوشی کے خلاف کرومیٹک کے زیر اہتمام کانفرنس :کس کس نے اور کیا گفتگو کی تفصیلات آگئیں

    تمباکو سیکٹر میں سالانہ 70 ارب روپے کی ٹیکس چوری کا انکشاف

    جب حکمران ٹکٹ ہی ان لوگوں کو دیں جن کا کاروبار تمباکو اور سگریٹ سے وابستہ ہو تو کیا پابندی لگے گی سینیٹر سحر کامران

    تمباکو نوشی کا زیادہ استعمال صحت کے لئے نقصان دہ ہے،ڈاکٹر فیصل سلطان مان گئے

    تمباکو پر ٹیکس عائد کر کے نئی حکومت بجٹ خسارے پر قابو پا سکتی ہے،ماہرین

    تمباکو اور میٹھے مشروبات پر ٹیکس میں اضافہ آنیوالے بجٹ میں کیا جائے، ثناء اللہ گھمن

    تمباکو پر ٹیکس، صحت عامہ ، آمدنی کے لئے جیت

    سگریٹ مافیا کتنا تگڑا ہے؟ اسد عمر ،شبر زیدی نے کھرا سچ میں بتا دیا

    تمباکو نوشی کی روک تھام کا عالمی دن،ٹویٹر پر #TobaccoExposed ٹاپ ٹرینڈ

  • "اسموگ فری نسل” کی تیاری پر کام شروع،دنیا حیران یہ کیسے ممکن؟

    "اسموگ فری نسل” کی تیاری پر کام شروع،دنیا حیران یہ کیسے ممکن؟

    آکلینڈ: "اسموگ فری نسل” کی تیاری پر کام شروع،دنیا حیران یہ کیسے ممکن؟اطلاعات کے مطابق دنیا میں اسموگ کی بڑھتے ہوئے خطرات اور اس کے نتیجے میں  پیدا ہونے والی بیماریوں سے سائنسدان تو بہت ہی زیادہ پریشان ہیں،

     

    ادھر اسی حوالے سے نیوزی لینڈ میں نوجوانوں کو تمباکو سے دور رکھنے کے لیے پہلی ’اسموک فری نسل‘ کی تیاری پر کام شروع کردیا ہے۔

     

    عالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق نیوزی لینڈ حکومت نے ایسی قانون سازی کا اعلان کیا ہے جس پر عمل کے ذریعے 2025 تک ایسی نئی نسل تیار ہوگی، جو تمباکو کے استعمال سے ناواقف ہوگی اور قانونی طور پر سگریٹ تک پہنچ بھی ان کے لیے ناممکن ہوگا۔

    نیوزی لینڈ کی ایسوسی ایٹ وزیر صحت ڈاکٹر عائشہ ویرال نے پارلیمنٹ میں بتایا کہ اس مقصد کےحصول کے لیے قوانین میں بہت سے ترامیم کی جائیں گی، جن میں سگریٹ کے 8000 قانونی ریٹیلرز کی تعداد 500 تک لانا اور 14 سال کی عمر کے نوجوان کو سگریٹ کی فروخت پر مکمل پابندی جیسے اقدامات بھی شامل ہیں

    ادھر پاکستان میں بھی سگریٹ نوشی کے خلاف مہم جاری ہے اور اس سلسلے میں مختلف تنظیمیں کسی نہ کسی طرح اس مہم کو جاری رکھا ہوا ہے

     

    پچھلے دنوں مری میں بھی ایک ایسا ہی سیمینار ہوا تھا جس میں مختلف میڈیا تنظیموں کو دعوت دی گئی تھی تاکہ وہ عوام الناس کو سگریٹ نوشی کے نقصانات سے آگاہ کریں اور اس سے بچنے کی نصیحت کریں ،

     

    اس سیمینار میں باغی ٹی وی کی ٹیم مدعو تھی جنہوں نے دنیا کو اس زہرسے بچانے کے لیے اپنے میڈیا پلیٹ فارم کو سگریٹ نوشی کے نقصانات سے خبردار رکھنے کے لیے اپنی مہم جاری کی ہوئی ہے

  • تمباکو نوشی کے استعمال کے خلاف مہم،ویب سائٹ کا افتتاح

    تمباکو نوشی کے استعمال کے خلاف مہم،ویب سائٹ کا افتتاح

    کرمیٹک ویلفیئر ٹرسٹ نے "پاکستان پیکٹ ڈاٹ کام” کے نام سے تمباکو نوشی سے متعلق ویب سائٹ کا اجراء کر دیا دیا ہے

    پاکستن کو تمباکو نوشی سے پاک کرنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کرومیٹک ٹرسٹ نے ایک ایسی ویب سائٹ کا اجراء کیا ہے جس میں تمباکو نوشی کے استعمال کے خلاف چلائی جانیوالی آگاہی مہم سے متعلق تمام معلومات دستیاب ہوں گی ۔ اس ویب سائٹ پہ آگاہی مہم کی کارکردگی ، تحقیقی مقالے، اعداد و شمار اور مستقبل کے لیے اپنائی جانیوالی حکمت عملی سے عوام کو آگاہ کیا جائے گا۔

    ان خیالات کا اظہار کرومیٹک ٹرسٹ کے سی ای او شارق خان نے مری میں ایک کانفرس میں اس ویب سائٹ کے افتتاح کے موقع پہ کیا ۔ شارق خان کا کہنا تھا کہ پاکستان پیکٹ ڈاکٹ کام ویب سائٹ پہ دستیاب معلومات تک رسائی اور اس سے استفادہ ہونے کے طریقے کار کو انتہائی آسان بنایا گیا ہے اور یہ ویب سائٹ تمباکو نوشی کے خلاف مہم کا ایسا حصہ ہے جو بالخصوص صحافیوں کے لیے انتہائی مددگار ثابت ہوگا۔ اس ویب سائٹ پہ موجود مصدقہ اطلاعات اور تمباکو نوشی پہ پابندی کے راستے میں حائل رکاوٹوں کے بارے میں حقائق سے آگاہ کیا جائے گا۔شارق خان نے مزید کہا کہ اس ویب سائٹ سے بین الاقوامی سطح پہ عالمی برادری پاکستان کے بارے میں یہ تاثر قائم کرے گی کہ پاکستان اپنی آنیوالی نسلوں کو تمباکو نوشی کی لعنت سے بچانے کے لیے کس قدر سنجیدہ ہے

    کانفرنس میں ملک بھر سے صحافیوں اور سوشل اور انفلوانسرز نے شرکت کی ۔ شارق خان نے کہا کرومیٹک ٹرسٹ کی جانب سے تمباکو نوشی کے خلاف اٹھائے جانیوالے اقدامات میں سے ایسی ویب سائٹ کا اجراء ایک سنجیدہ قدم ہے جس سے کرومیٹک ٹرسٹ کی مستقبل کی سوچ کا احاطہ ہوتا ہے

    ویب سائٹ کی تفصیلات بتاتے ہوئے شارق خان کا کہنا تھا کہ تمباکو نوشی کے بڑھتے ہوئے رجحانات اور اس کے انسانی صحت پہ پڑنے والے منفی اثرات اور معاشرتی نقصان کے تناظر میں ایسی ویب سائٹ کا اجراء وقت کی اہم ضرورت تھی جس پہ تمباکو نوشی سے متعلق حقائق، معلومات اور مستند اعداد و شمار موجود ہوں جس سے قانون سازی کرنے والے اداروں کو پاکستان کی بہتری کے لیے اقدامات اٹھانے میں مدد مل سکے ۔

    پاکستان میں سی ٹی ایف کے کی نمائندہ صوفیہ منصوری نے صحافیوں کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ تمباکو نوشی کا بڑھتا ہوا رجحان پاکستان میں انہتائی مہلک صورتحال اختیار کرچکا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ تحقیقاتی رپورٹس کے مطابق پاکستان میں ہر روز 1200 بچے سگریٹ پینا شروع کرتے ہیں جو ہماری نئی نسل کی تباہی کی نشانی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سگریٹ کی قیمت میں اضافے اور دکانوں پہ کھلے سگریٹ کی فروخت پہ پابندی جیسے اقدامات سے بچوں کا مستقبل محفوظ بنیا جا سکتا ہے ۔

    وزارت صحت میں پاکستان ٹوبیکو کنٹرول سیل کے سابق انچارج ڈاکٹر ضیا اسلام نے کہا کہ تمباکو کی کمپنیوں کے مالکان انتہائی بااثر افراد ہیں اور وہ اپنے مقاصد کے لیے نہ صرف براہ راست سرمایہ لگاتے ہیں بلکہ حکومت میں بیٹھے افراد کے ساتھ ایسے تعلقات ہیں جنہیں وہ اپنے ناجائز کاروباری مقاصد کے حصول کے لیے استعمال کرتے ہیں ۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں عوام میں آگاہی مہم کو تیز کرکے حکومت کو مجبور کرنا ہوگا کہ وہ تمباکو نوشی کے خلاف سخت قانون سازی کرے۔

    کانفرنس میں شرکاء نے ملک بھر سے شریک صحافیوں کے سوالوں کے جواب دیئے اور انہیں بتایا کہ تمباکو نوشی کی صنعت کا مافیا کس طرح حکومت پہ اپنا اثرو رسوخ استعمال کرکے حکومت کو گمراہ کرتے ہیں تاکہ ان کے خلاف قانون سازی نہ ہو سکے

  • تمباکو نوشی کے خلاف کرومیٹک کے زیر اہتمام کانفرنس :کس کس نے اور کیا گفتگو کی؟ تفصیلات آگئیں

    تمباکو نوشی کے خلاف کرومیٹک کے زیر اہتمام کانفرنس :کس کس نے اور کیا گفتگو کی؟ تفصیلات آگئیں

    مری : تمباکو نوشی کے خلاف کرومیٹک کے زیر اہتمام کانفرنس :کس کس نے اور کیا گفتگو کی تفصیلات آگئیں،اطلاعات کے مطابق تمباکو نوشی کے خلاف مری میں کرومیٹک کے زیر اہتمام کانفرنس ہوئی ۔کانفرنس می اسلام آباد لاہور سے میڈیا پرسنز نے شرکت کی۔ لاہور سے باغی ٹی وی. اردو پوائنٹ ۔ ڈیلی پاکستان کے نمائندگان کانفرنس میں شریک ہوئے . مقامی ہوٹل میں ہونے والی کانفرنس میں تمباکو نوشی کے خلاف بریفنگ دی گئی جس میں بتایا گیا کہ بچوں کو سگریٹ نوشی سے بچانا ہے

    شارق خان نے کہا کہ تمباکو انڈسٹری کو پاکستان میں ختم کرنا ہے تو یہ ایک ایونٹ سے نہیں ہو گا ۔یہ ایک انڈسٹری ہے اسکی کوشش ہے کہ روز 12 سو بچوں کو ٹارگٹ کیا جائے اور جو ایک بار سموکر بنتا ہے وہ ساری زندگی انکا کسٹمر ہے۔ نئے بچوں کو بڑی عادت سے روکنا چاہتے ہیں ایک طریقہ ہے جو پوری دنیا میں بار بار آزمایا جاتا یے۔ سات سال سے 15 سال کی عمر تک سگریٹ پینے والے کو سگریٹ بہت سستے میسر ہیں ۔ اگر لاز پر عمل ہو اور قیمت بڑھا دی جائے تو بچہ خریدے سے دور ہو جائے گا۔ وزیراعظم عمران خان کو تمباکو نوشی انڈسٹری کی طرف سے ڈونیشن ملی جو انہوں نے واپس کئ۔ کسی کی آواز چھوٹی نہیں ہوتی

    طیب نے کہا کہ ٹوبیکو انڈسٹری کئ طرف سے جو ڈس انفار میشن آتی ہے ۔ اسکو دیکھتے ہیں ۔ ملکر کام کر رہے ہیں ۔میڈیا بھی تمباکو نوشی کیخلاف چیزوں کو اجاگر کیا جا رہا یے۔یوتھ کو آگاہی دیتے ہیں پالیسی میکرز کے ساتھ ہماری ملاقات ہوتی رہتی ہے ۔حکومتی اپوزیشن اراکین کو اس ایشو سے آگاہ کرتے رہتے ہیں ۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی میں بھی اس ایشو کو اٹھایا ہے۔ تعلیمی اداروں میں بھی آگاہی دی جاتی ہے۔ میڈیا کے تعاون کا شکریہ ادا کرتے ہیں جو اس ایشوز پر ہم سپورٹ کرتے ہیں ۔ ٹیکس چوری کی بات بجٹ سے پہلے کی جاتی ہے ۔ یہ 77 ارب ٹیکس چوری کی جو بات کرتے ہیں اس پر انکے پاس کوئی ثبوت نہیں ۔ ٹیکس بڑھانے کی جو حکومت بات کرتی ہے تو ٹیکس چوری کا واویلا کیا جاتا ہے ۔ حکومت کو بلیک میل کیا جاتا ہے یہ واحد انڈسٹری ہے جس میں قیمتیں نہیں بڑھیں ۔پالیسی میکرز کو یہ لوگ مس گائیڈ کرتے ہیں۔

    ڈاکٹر ضیاالدین نے کہا کہ تمام ممالک کے ایکسپرٹس میٹنگ کرتے اور اصول طے کرتے کہ کیسے تمباکو نوشی کے خلاف کام ہونا چاہئے پالیسی اچھی بنا لی لیکن اس پر کام نہیں کر سکے۔ لاگو نہیں ہو سکی۔ الارمنگ صورتحال ہے اپنی کوشش بڑھانی چاہئے تا کہ بچے استعمال نہ کر سکیں . 450 افراد کی روز بیماریوں سے موت ہوتی ہے۔ حکومت کا علاج پر فوکس نہیں . سوسائٹی اپنی بیماریوں پر پیسہ خود خرچ کرتی ہے

    شارق خان کا مزید کہنا تھا کہ ٹوبیکو انڈسٹری کو کوئی پروموٹ نہیں کرنا چاہتا ۔ ٹوبیکو انڈسٹری دھوکہ دے رہی ہے اور عوام کو بتاتی ہے کہ آپ ملک کی بہتری کے لیے کام کر رہے ہیں ۔ ہمارا فوکس ہے کہ بچوں کو سگریٹ سے روکیں

  • خواتین طلاق لے لیتی ہیں‌ مگرسگریٹ نوشی سے باز نہیں آتیں:ڈاکٹرنوشین حامد کے انکشافات

    خواتین طلاق لے لیتی ہیں‌ مگرسگریٹ نوشی سے باز نہیں آتیں:ڈاکٹرنوشین حامد کے انکشافات

    لاہور:خواتین طلاق لے لیتی ہیں‌ مگرسگریٹ نوشی سے باز نہیں آتیں:ڈاکٹرنوشین حامد کے انکشافات،اطلاعات کے مطابق پارلیمانی سیکرٹری برائے صحت ڈاکٹر نوشین حامد نے ملک میں طلاق کی بڑھتی ہوئی شرح کی وجہ سگریٹ نوشی کرنے والے خواتین کو قرار دیا ہے ۔

    گزشتہ دنوں اسلام آباد میں تمباکو نوشی کے استعمال پر سیمینار خطاب کرتے ہوئے پی ٹی آئی کی رکن قومی اسمبلی کا دعویٰ‌ ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے ، انہوں نے یہ دعوٰی کیا کہ ملک میں طلاق کی شرح بڑھنے کی اہم وجہ سگریٹ نوشی کرنے والی خواتین ہیں۔

    ڈاکٹر نوشین حامد کا مزید کہنا تھا کہ سگریٹ نوشی کرنے والی خواتین کی طلاق ہوجاتی ہے کیونکہ ایسی خواتین کو سسرال والوں کی طرف سے قبول نہیں کیا جاتا۔
    ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ایسی خواتین کے رویے میں لچک نہیں ہوتی اس لیے وہ اپنے سسرال سے ہم آہنگی پیدا نہیں کرسکتیں‌ جس کے وجہ سے دوری ہوتے ہوتے بات طلاق تک پہنچ جاتی ہے مگرافسوس ایسی خواتین طلاق لے لیتی ہیں‌ مگرسگریٹ نہیں چھوڑتی اورپھراس کے نتیجے میں بنابنایا گھر بارچھوڑنا قبول کرلیتی ہیں‌

    یونیورسٹی آف الینوائے کے شکاگو انسٹی ٹیوٹ فار ہیلتھ ریسرچ کے 2013 کے مطالعے کے مطابق 18 سال یا اس سے زیادہ عمر کے 19فیصد بالغ پاکستانی کسی نہ کسی شکل میں تمباکو کا استعمال کرتے ہیں۔