Baaghi TV

Tag: سگریٹ

  • ای سگریٹ کے مارکیٹ میں سرعام فروخت کی  اجازت

    ای سگریٹ کے مارکیٹ میں سرعام فروخت کی اجازت

    سگریٹ نوشی مضر صحت، بیماریوں کا باعث تا ہم حکومت کی جانب سے اب ای سگریٹ کے مارکیٹ میں سرعام فروخت کی مشروط طور پر اجازت دے دی گئی ہے

    میڈیا رپورٹس کے مطابق وفاقی وزارت صحت نے ای سگریٹ کے بازار میں عام فروخت کی اجازت دے دی ہے، الیکٹرانک سگریٹ، سگار، پاکٹ سائز شیشہ اب بازار میں جنرل سٹورز، پان کی دکانوں پر فروخت ہو سکیں گے،اس ضمن میں وزارت صحت نے مشروط اجازت دے دی ہے، وزارت صحت کے مطابق تمباکو ہیٹڈ پروڈکٹس کیلئے ان کے 65 فیصد حصے پر مضر صحت کی وارننگ شائع کرنا لازم ہو گی، فیصلہ تمباکو نوشی کی تمام اقسام کو ضابطے کے تحت لانے کیلئے کیا گیا ،وزارت صحت کا کہنا ہے کہ عالمی ادارہ صحت کا تمباکو کنٹرول سے متعلق کنونشن بھی تمباکو پر پابندی یا اسے ریگولرائز کرنے کی اجازت دیتا ہے

    دوسری جانب طبی ماہرین نے فیصلے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹوبیکو ہیٹڈ پروڈکٹس بھی عام سگریٹس کی طرح ہی مضر صحت ہیں ، تمباکو نوشی کے خلاف کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم کرومیٹک کے سی ای او شارق خان کا کہنا ہے کہ سگریٹ کے علاوہ تمباکو کی نئی مصنوعات (ای سگریٹ، نکوٹین پاؤچز، ویپنگ اور چیونگم) بھی پاکستانی مارکیٹ میں آسانی سے دستیاب ہیں جو نوجوانوں کے لیے تباہ کن ہیں۔تمباکو کی جدید پراڈکٹس میں نیکوٹین شامل ہوتی ہے جو کہ نشہ کی بہت سی دوسری اقسام میں سے ایک ہے۔ نکوٹین نوجوان نسل میں جسمانی اور ذہنی صحت کے سنگین مسائل پیدا کر سکتی ہے۔ تمباکو مصنوعات بنانے والوں کا دعویٰ ہے کہ تمباکو کی جدید مصنوعات کے ذریعے وہ سگریٹ نوشی کے خاتمے کے لئے کام کررہے ہیں لیکن درحقیقت یہ نشے کی ہی نت نئی اقسام بنارہے ہیں،

    ہیلتھ لیوی اور اس کا مختلف ممالک میں نفاذ :

    ہیلتھ لیوی ،حکومت توجہ کرے، تحریر:نایاب فاطمہ

    پاکستان میں تمباکو کی مصنوعات پر ہیلتھ لیوی!!! — بلال شوکت آزاد

    ہیلتھ لیوی کیا ہے اور اس کے کیا فواٸد ہیں:

    ہیلتھ لیوی – کیا؟ کیوں؟ اور کیسے؟ — طوبہ نعیم

    ” ہیلتھ لیوی کے نفاذ میں تاخیر کیوں” تحریر: افشین

    تمباکو جیسی مصنوعات صحت کی خرابی اور پیداواری نقصان کا سبب بنتی ہیں

    ویسے تو ہیلتھ لیوی کی منظوری 2019جون میں ہوچکی ہے

    ہیلتھ لیوی ،تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

    تمباکو پر ہیلتھ لیوی ٹیکس – ایک جائزہ ،تحریر: راجہ ارشد

  • سگریٹ نوشی کے باعث گھر میں آگ بھڑک اٹھی،ایک شخص کی موت

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ایک سگریٹ نے گھر کو جلا دیا، سگرٹ پینے والے کی بھی موت ہو گئی ہے

    افسوسناک واقعہ ڈیرہ غازی خان میں پیش آیا ڈیرہ غازی خان کے علاقے بلاک 46 چنڑ چوک کے قریب سگریٹ نوشی کے باعث گھر میں آگ بھڑک اٹھی.، ریسکیو 1122 کی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں، ترجمان ریسکیو کے مطابق آگ لگنے سے ایک شخص آگ میں جھلس کر جانبحق ہو گیا ،جانبحق ہونے والا شخص فالج کا مریض تھا اور گھر میں اکیلا رہتا تھا.چارپائی کو آگ لگنے کی وجہ سے جھلس کر فوت ہو گیا جانبحق شخص کی شناخت ریاض حسین کے نام سے ہوئی. ترجمان ریسکیو کے مطابق آگ پر قابو پا لیا گیا ہے.

     تمباکو نوشی کے خلاف کرومیٹک کے زیر اہتمام کانفرنس :کس کس نے اور کیا گفتگو کی تفصیلات آگئیں

    تمباکو سیکٹر میں سالانہ 70 ارب روپے کی ٹیکس چوری کا انکشاف

    جب حکمران ٹکٹ ہی ان لوگوں کو دیں جن کا کاروبار تمباکو اور سگریٹ سے وابستہ ہو تو کیا پابندی لگے گی سینیٹر سحر کامران

    تمباکو نوشی کا زیادہ استعمال صحت کے لئے نقصان دہ ہے،ڈاکٹر فیصل سلطان مان گئے

    تمباکو پر ٹیکس عائد کر کے نئی حکومت بجٹ خسارے پر قابو پا سکتی ہے،ماہرین

    تمباکو اور میٹھے مشروبات پر ٹیکس میں اضافہ آنیوالے بجٹ میں کیا جائے، ثناء اللہ گھمن

    تمباکو پر ٹیکس، صحت عامہ ، آمدنی کے لئے جیت

    سگریٹ مافیا کتنا تگڑا ہے؟ اسد عمر ،شبر زیدی نے کھرا سچ میں بتا دیا

    ایسا ہی ایک واقعہ حافظ آباد میں بھی پیش آیا تھا، پنجاب کے ضلع حافظ آباد میں ایک سگریٹ نے 60 ایکڑ پر تیار کھڑی فصل جلا ڈالی تھی حافظ آباد کے گاؤں میں 60 ایکڑ پر گندم کی تیار فصل کو آگ لگ گئی جس سے تمام فصل تباہ ہو گئی آگ نامعلوم شخص کے جلتی سگریٹ پھینکنے سے لگی۔ اس سے قبل بجوات سیکٹر سیالکوٹ میں کُل 77 ایکڑ پر گندم کی کھڑی فصل کو آگ لگ گئی تھی سرکاری رپورٹ کےمطابق سیالکوٹ میں 15 کاشتکاروں کی گندم کی تیار فصل جلی ہے۔

    تمباکو نوشی سے دنیا میں ہرسال 70 لاکھ افراد لقمہ اجل بنتے ہیں اور ان میں سے 20 لاکھ افراد سگریٹ نوشی کے باعث دل کی بیماریوں، فالج اور ہارٹ اٹیک سے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ طویل مدت تک تمباکو نوشی زندگی 12 سے 15 سال تک زندگی کو کم کردیتی ہے۔ یہ عام غلط فہمی ہے کہ طویل عرصہ تک سگریٹ نوشی کے بعد اس کو ترک کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا حالانکہ جیسے ہی آپ سگریٹ نوشی ترک کرتے ہیں اس سے پھیپھڑوں کی شدید بیماریاں اور کینسر ہونے کے امکانات کم ہوتےجاتے ہیں، تمباکو نوشی کے باعث ہارٹ اٹیک اور فالج کے ساتھ پھیپھڑوں کی بیماریاں اور کینسر بھی اموات کی بڑی وجوہات ہیں۔ پاکستان میں تقریبا 3 کروڑ افراد تمباکو نوش ہیں جن میں اکثر سگریٹ نوش ہیں۔ ملک میں لاکھوں دکانیں ایسی ہیں جہاں سگریٹ آسانی سے دستیاب ہیں۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ تمباکو نوشی کی لت لگنا وہ بیماری ہے جس سے صحت اور دولت دونوں سے ہاتھ دھونے پہ مجبور کردیتی ہے۔ بیشتر تمباکو نوش کوشش کے باوجود بھی اس کو ترک نہیں کرپاتے اور خود کو بیماریوں کے حوالے کردیتے ہیں۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ سرکاری و غیر سرکاری سطح پر اس عادت سے جان چھڑانے کی کوششیں کی جاتی ہیں مگر آج تک پاکستان سمیت کوئی ایک بھی ترقی پذیر ملک ایسا نظر نہیں آتا جس نے اس لت کا مکمل طور نہیں تو ساٹھ ستر فیصد خاتمہ کیا ہو۔ پاکستان میں اس وقت مختلف اندازوں کے مطابق ڈھائی کروڑ سے تین کروڑ کے درمیان افراد سگریٹ نوشی کرتے ہیں، بائیس کروڑ آبادی والے ملک میں جب تین کروڑ افراد تمباکو نوشی کی لت میں مبتلا ہوں تو صورت حال کی سنگینی کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ تمباکو نوشی سے اجتناب کریں سلگانے سے پہلے سوچ لیں بجائے اس کے کہ سوچنے کے قابل نہ رہیں

  • سگریٹ سازی کے شعبے میں ٹیکس چوری کی فوری روک تھام کی جائے،وزیراعظم

    سگریٹ سازی کے شعبے میں ٹیکس چوری کی فوری روک تھام کی جائے،وزیراعظم

    وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرصدارت ملک میں تمباکو کی غیر قانونی نقل و حرکت اور ٹیکس چوری کے رجحان کو ختم کرنے کے لیے اعلی سطحی اجلاس ہوا

    اجلاس میں وزیر خزانہ اسحاق ڈار،سمیت دیگر حکام نے شرکت کی،اجلاس کو بتایا گیا کہ وزیر اعظم کی ہدایت پر سگریٹ کے بیشتر کارخانوں میں ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم (Track & Trace System) لگایا گیا ہے، جس کے نتیجے میں تمباکو کے شعبے میں ٹیکس وصولی میں بہتری آئی ہے۔ جولائی سے دسمبر تک اس سیکٹر میں 83.5 ارب روپے ٹیکس وصول ہو جلے ہیں، جو کہ گزشتہ سال اسی دوران اکٹھے کیے گئے ٹیکس سے 26 فیصد زیادہ ہے ،وزیر اعظم نے ٹیکس نظام کی بہتری کے لیے ایف بی آر حکام کی کاوشوں کو سراہا، اور انہیں اپنی کوششیں مزید تیز کر کے ٹیکس وصولی کے نظام میں خاطر خواہ بہتری لانے کی ہدایت کی۔

    اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ سگریٹ سازی کے شعبے میں سمگلنگ اور ٹیکس چوری کی فوری روک تھام کی جائے رواں مالی سال میں ایف بی آر ٹیکس اہداف کی وصولی کو یقینی بنائے۔ وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ٹیکس چوروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے، جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے ٹیکس وصولی کے نظام کو بہتر بنایا جائے،

    باغی ٹی وی تحریری مقابلہ،پوزیشن ہولڈرز میں انعام تقسیم

    آل پاکستان قائداعظم میموریل برج ٹورنامنٹ کا آغاز،باغی ٹی وی کی ٹیم بھی شامل

    بچوں کو اغوا کرنے والی گینگ کی خاتون باغی ٹی وی کے دفتر کے سامنے سے اہل محلہ نے پکڑ لی

    حکومت پاکستان ٹویٹرکی بھارتی نوازی کا معاملہ عالمی سطح پراٹھائے”باغی ٹی وی”کےاکاونٹ کوبلاک کرنےکا نوٹس لے

    ”باغی ٹی وی”کاٹویٹراکاونٹ بلاک کرنےکی ٹویٹرکی دھمکیاں ناقابل قبول:بھارت نوازی بند کی جائے:طاہراشرفی 

    بھارت کی ایما پر”باغی ٹی وی”کا ٹویٹراکاونٹ بند کرنےکی ٹویٹرکی دھمکیوں ‌کی مذمت کرتےہیں‌:وزرائےگلگت بلتستان اسمبلی

    باغی ٹی وی کا ٹوئیٹر اکاؤنٹ بند کئے جانے کی درخواست دینے پر پاسبان کے چیئرمین الطاف شکور و دیگر عہدیداران کا رد عمل

     بجلی نہ ہونے کی خبر دینے پر شرپسند افراد نے باغی ٹی وی کے رپورٹر فائز چغتائی کو تشدد کا نشانہ بنا ڈالا

    :وزیرخارجہ ٹویٹرکی طرف سے بھارتی ایما پردھمکیوں کا نوٹس لیں:باغی ٹی وی کا شاہ محمود قریشی کوخط 

    ٹویٹر کے غیر منصفانہ اقدام پر باغی کے ساتھ ہمدردیاں جاری رہیں گی ، عمار علی جان

  • "آپ سگریٹ نہیں پیتے! دراصل سگریٹ آپکو پیتا ہے”تحریر: اعجازالحق عثمانی

    "آپ سگریٹ نہیں پیتے! دراصل سگریٹ آپکو پیتا ہے”تحریر: اعجازالحق عثمانی

    "آپ سگریٹ نہیں پیتے! دراصل سگریٹ آپکو پیتا ہے”تحریر: اعجازالحق عثمانی

    جس ملک میں سگریٹ سستا اور روٹی مہنگی ہو۔ اس ملک میں آپ تمباکو نوشی کے خلاف جتنی مہمیں چلا لیں۔ کچھ فائدہ نہیں۔ کیونکہ جہاں ایک روٹی 12 روپے کی جبکہ ایک سگریٹ 02 روپے میں بھی مل جاتا ہو، وہاں اس لت سے کون رکے گا۔۔ تمباکو نوشی کے خلاف جنگ میں اگر کامیاب ہونا ہے تو ایک ہی ہتھیار ہے، "ہیلتھ لیوی”۔ ہیلتھ لیوی بڑھا کر نا صرف تمباکو نوشی میں کمی کی جاسکتی ہے۔ بلکہ سالانہ 40 ارب سے زائد کا ریونیو بھی بچایا جا سکے گا۔ 2018 میں تمباکو نوشی کے متعلق ایک تحقیق سامنے آئی جس کے مطابق تمباکو میں 7 ہزار سے زائد کیمیکلز ہوتے ہیں۔جن میں سے 70 کے قریب کینسر کا سبب بنتے ہیں۔تمباکو نوشی سے جہاں دیگر بیماریاں جنم لیتی ہیں، وہیں سر کے بال بھی متاثر ہوتے ہیں۔ یہ بالوں کی جڑوں کو شدید متاثر کرتا ہے۔ جس سے گنج پن کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ کم مقدار میں سگریٹ نوشی، صحت کے لیے نقصان دے نہیں ہے۔مگر روازنہ صرف ایک سگریٹ پینا بھی جان لیوا امراض کے جنم لینے کے لیے کافی ہے۔ لندن کالج یونیورسٹی نے ایک تحقیق کی۔ جس کے مطابق دن بھر میں صرف ایک سیگریٹ بھی جان لیوا امراض مرتب کرنے کے لیے کافی ہوتا ہے۔ ایک سگریٹ کچھ عرصہ تک امراض قلب اور فالج جیسے امراض کا خدشہ بڑھا دیتا ہے۔

    نوجوان نشہ شروع کیوں کرتے ہیں؟:

    ؎ پھر ایک سگریٹ جلا رہا ہوں
    پھر ایک تیلی بجھا رہا ہوں
    تیری نظر میں یہ مشغلہ ہے
    میں تو اس کا وعدہ بھلا رہا ہوں
    سمجھنا مت اس کو میری عادت
    یہ دھواں جو میں اُڑا رہا ہوں
    یہ تیری یادوں کے سلسلے ہیں
    میں تیری یادیں جلا رہا ہو

    آج کل کی نوجوان نسل محبت میں ناکامی پر سگریٹ نوشی کو اولین فریضہ تصور کیے بیٹھی ہے۔ ادھر محبوب نے بے رخی دیکھائی اور ادھر مجنوں نے ریلوے کے انجن کی طرح فضا میں دھواں بکھیرنا شروع کردیا۔ جبکہ بعض نوجوان گھریلو ناچاکی اور سماجی دباؤ کے سبب بھی سگریٹ نوشی شروع کرتے ہیں۔
    ؎ سو یوں ہوا کہ پریشانیوں میں پینے لگے
    غمِ حیات سے منہ موڑتے ہوئے سگریٹ

    ہم سگریٹ کو نہیں پی رہے ہوتے دراصل سگریٹ ہمیں پی رہا ہوتا ہے۔ وقتی غم اگرچہ کم کر بھی دیتا ہو۔مگر اس سے جو امراض لاحق ہوتے ہیں۔۔ان کا کیا؟

    تمباکو نوشی اور اسلام:
    اسلام بلاشبہ دین کامل ہے۔ اور دنیا کے تمام شعبوں میں بہترین رہنما بھی۔ عبادات و معاملات سے لے کر کھانے پینے تک، ہر پہلو زندگی پر کامل اصول و ضوابط بتانے والا یہ دین ہمیں تمباکو نوشی سے پرہیز کا حکم دیتا ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے؛
    "(نبی مکرم صلی اللہ عليہ وآلہ وسلم) ان (اہلِ ایمان) کے لیے پاکیزہ صاف ستھری چیزیں حلال بتاتے ہيں اورخبائث کو حرام کرتے ہيں”۔
    الأعراف: 157

    تمباکو نوشی مال کے ساتھ ساتھ جان کی بھی دشمن ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے فرمایا ہے؛
    "وَلاَ تَقْتُلُواْ أَنفُسَكُمْ”
    (اپنے آپ کوقتل نہ کرو)۔
    النساء: 29
    جبک نبی آخر الزماں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا؛

    "ہر نشہ آور چیز ‘خمر’ (شراب) ہے اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔ جس نے دنیا میں شراب پی اور توبہ کیے بنا اس کی لت لے کر مر گیا، وہ آخرت میں اسے پینے سے محروم رہے گا”۔

    تمباکو نوشی کو ترک کرنے کے طریقے:
    1. تمباکو نوشی کو ترک کرنے میں مراقبہ اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ تحقیق کے مطابق مراقبے کی مشق تمباکو نوشی کے عادی افراد کو اس سے چھٹکارا پانے میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔
    2. ورزش بھی تمباکو نوشی کو ترک کرنا میں مؤثر کردار ادا کرتی ہے۔ کیونکہ ورزش سے جسم میں نیکوٹین کی طلب میں کمی ہوجاتی ہے۔
    3. بفیلو یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق پھلوں اور سبزیوں کے زیادہ استعمال سے بھی تمباکو نوشی کو ترک کرنے میں مدد ملتی ہے۔
    4. فارغ اوقات میں نئے نئے مشاغل بھی اس بری لت سے نکلنے میں آپ کی مدد کرسکتے ہیں۔
    5. آکو پینکچر تھراپی
    6. یونیورسٹی آف میامی کے سکول آف میڈیسن کی تحقیق کے مطابق کان میں چند سیکنڈز کجھلی کرنے سے بھی سگریٹ نوشی کی خواہش دم توڑ سکتی ہے۔

    تمباکو نوشی کے خلاف واحد ہتھیار "ہیلتھ لیوی”:
    دنیا میں کئی ممالک تمباکو نوشی جیسی بری لت پر قابو پانے میں کافی حد تک کامیاب رہے ہیں۔ مگر آج بھی پاکستان بدقسمتی سے اس لت میں مبتلا ہے۔ یہاں 20 فی صد آبادی تمباکو نوشی کی لت کا شکار ہے۔ کیونکہ یہاں سگریٹ روٹی سے زیادہ سستا ہے۔ یہاں لوکل کمپنی کا ایک سگریٹ 2سے 3 روپے میں جبکہ کسی برائنڈ کا ایک سگریٹ 8 سے 10 روپے میں بآسانی مل جاتا ہے۔ جبکہ ایک روٹی کی قیمت آج کل 12 سے 15 روپے ہے۔

    تمباکو نوشی کے باعث امراض کے سبب صحت کی لاگت تقریباً 615 ارب روپے ہے۔ اور یہ لاگت پاکستان کی جی ڈی پی کا 1.6 فی صد بنتا ہے۔عالمی ادارہ صحت کے مطابق ہر سال ایک بلین تمباکو کا استعمال کرنے والے افراد میں سے تقریبا 6 ملین افراد لقمہ اجل بنتے ہیں۔ جبکہ پاکستان میں ہر سال ایک لاکھ شہری اس بری لت کی وجہ سے موت کا شکار ہوتے ہیں۔ مگر حکومت ہیلتھ لیوی میں اضافے کر کے اس لت پر قابو پا سکتی ہے۔ تمباکو نوشی کی وجہ سے معاشی اور جانی نقصان کو کم کرنے کا واحد حل "ہیلتھ لیوی” میں اضافہ ہے۔ ہیلتھ لیوی میں اضافے کے ساتھ ساتھ پبلک مقامات پر تمباکو نوشی پر پابندی ہونی چاہیے۔ 18 سال سے کم عمر بچوں کو سگریٹ فروخت کرنے پر پابندی اور سزائیں ہونی چاہئیں۔ پبلک مقامات ، ٹرانسپورٹ، پارکس اور سکول و کالجز میں تمباکو نوشی پہ عائد پابندی پر عملدرآمد تو آج تک نہ ہوسکا۔ اگر ہو بھی جائے اس سے نجات کے لیے قانون سازی اور یہ معمولی سزائیں ناکافی ہیں۔اس کے لیے ہمیں اپنے رویوں میں بھی تبدیلی لانے کی ضرورت ہے۔

    باغی ٹی وی اور کرومیٹک کے زیر اہتمام تحریری مقابلے میں اعجاز الحق عثمانی نے تیسری پوزیشن حاصل کی ہے

    باغی ٹی وی تحریری مقابلہ،پوزیشن ہولڈرز میں انعام تقسیم

    آل پاکستان قائداعظم میموریل برج ٹورنامنٹ کا آغاز،باغی ٹی وی کی ٹیم بھی شامل

    بچوں کو اغوا کرنے والی گینگ کی خاتون باغی ٹی وی کے دفتر کے سامنے سے اہل محلہ نے پکڑ لی

    حکومت پاکستان ٹویٹرکی بھارتی نوازی کا معاملہ عالمی سطح پراٹھائے”باغی ٹی وی”کےاکاونٹ کوبلاک کرنےکا نوٹس لے

    ”باغی ٹی وی”کاٹویٹراکاونٹ بلاک کرنےکی ٹویٹرکی دھمکیاں ناقابل قبول:بھارت نوازی بند کی جائے:طاہراشرفی 

    بھارت کی ایما پر”باغی ٹی وی”کا ٹویٹراکاونٹ بند کرنےکی ٹویٹرکی دھمکیوں ‌کی مذمت کرتےہیں‌:وزرائےگلگت بلتستان اسمبلی

    باغی ٹی وی کا ٹوئیٹر اکاؤنٹ بند کئے جانے کی درخواست دینے پر پاسبان کے چیئرمین الطاف شکور و دیگر عہدیداران کا رد عمل

     بجلی نہ ہونے کی خبر دینے پر شرپسند افراد نے باغی ٹی وی کے رپورٹر فائز چغتائی کو تشدد کا نشانہ بنا ڈالا

    :وزیرخارجہ ٹویٹرکی طرف سے بھارتی ایما پردھمکیوں کا نوٹس لیں:باغی ٹی وی کا شاہ محمود قریشی کوخط 

    ٹویٹر کے غیر منصفانہ اقدام پر باغی کے ساتھ ہمدردیاں جاری رہیں گی ، عمار علی جان

  • سگریٹ اورشوگری ڈرنکس پرہیلتھ لیوی کےنفاذسے     60ارب روپےکی اضافی آمدن ہوسکتی ہے:شارق خان

    سگریٹ اورشوگری ڈرنکس پرہیلتھ لیوی کےنفاذسے 60ارب روپےکی اضافی آمدن ہوسکتی ہے:شارق خان

    اسلام آباد:سگریٹ اور شوگری ڈرنکس پہ ہیلتھ لیوی کے نفاذ سے وزارت صحت کو 60 ارب روپے کی اضافی آمدن ہو سکتی ہے،یہ بات کرومیٹک ٹرسٹ کے سی ای او شارق نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوۓ کہی ۔ ہیلتھ لیوی کی تفصیلات بتاتے ہوں انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں حکومت سگریٹ کے ہر پیک پہ دس روپے اور ہر شوگری ڈرنک پہ ایک روپے کا اضافی ٹیکس عاٸد کرے ۔

    باغی ٹی وی ذرائع کے مطابق شارق خان کا کہنا تھا کہ یہ ہیلتھ لیوی 2019 سے ایوان اقتدار میں گردش کر رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وزارت صحت ، وزارت قانون ، ایف بی آر اور متعلقہ محکموں کے اعتراضات دور کرنے کے بعد وفاقی کابینہ میں بھی پیش کیا گیا لیکن عمل درآمد کے لیے ابھی تک قومی اسمبلی میں پیش نہیں کیا گیا ۔

    کرومیٹک ٹرسٹ کے سی ای او کا کہنا تھا کہ شوگر ڈرنکس اور تمباکو پرہیلتھ لیوی عائد کرکی55ارب روپئے تک کا اضافی ریونیو حاصل کیا جا سکتا ہے اور یہ اضافی آمدن جوکہ صحت کی دیکھ بھال کے بنیادی ڈھانچے کے لئے استعمال کی جاسکتی ہے۔ہیلتھ لیوی بل جو کہ کابینہ نے 2019 میں منظور کیا تھا ابھی تک اس پر عمل درآمد نہیں ہوا ہے

    شارق خان کا کہنا تھا کہ ملک میں سیلاب کے باعث صحت کا شعبہ شدید متاثر ہوا ہے اور حکومت کے پاس یہ بہترین موقع ہے کہ ہیلتھ لیوی نافذ کرکے 60 ارب روپے کی رقم صحت کے شعبے کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے پہ خرچ کرے

    کرومیٹک ٹرسٹ کے سی ای او کا کہنا تھا ہم گزشتہ کٸی سالوں سے انسداد تمباکو نوشی کی کوشش کر رہے ہیں اور ہم اس مہم میں کافی حد تک کامیاب رہے اس بات کا واضح ثبوت وزارت صحت اور پارلیمانی ٹاسک فورس براۓ پاٸیدار ترقی نے ہماری کاوشوں کو سراہا ہے

    پاک فوج ملکی سلامتی کی ضامن۔ شہدا کی قربانیوں پر فخر
    پاکستانی طلبا و طالبات نے 14 ممکنہ نئے سیارچے دریافت کرلیے
    ہمت ہے تو کھرا سچ کا جواب دو، پروپیگنڈہ مبشر لقمان کو سچ بولنے سے نہیں روک سکتا

  • سی او پی ڈی نظام تنفس کی بیماری،سالانہ 30 لاکھ افراد لقمہ اجل بن جاتے ہیں

    سی او پی ڈی نظام تنفس کی بیماری،سالانہ 30 لاکھ افراد لقمہ اجل بن جاتے ہیں

    سگریٹ نوشی کے عادی پھیپھڑوں کو نقصان پہنچائے والی خطرناک بیماری کے خطرات سے آگاہ نہیں
    سگریٹ پینے والا ایک شخص اپنے ادر گرد موجود 10لوگوں کو بلاواسطہ طور پر متاثر کرتا ہے:پرنسپل پی جی ایم آئی
    سانس کی نالی کی سوزش، ورم، پھیپھڑوں کی خرابی، سانس لینے میں دشواری و انفیکشن اور توانائی کی کمی علامات میں شامل

    شہری پبلک مقامات، کارخانوں میں فیس ماسک کے استعمال کے علاوہ دیگر ضروری احتیاطی تدابیر اختیار کریں: سربراہ جنرل ہسپتال

    پرنسپل پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ پروفیسر ڈاکٹر محمد الفرید ظفر نے کہا کہ کرانک ابسٹریکٹیو پلما نری ڈیزیز (سی او پی ڈی) نظام تنفس کی بیماری ہے جس میں سانس کی نالی کی سوزش، ورم، پھیپھڑوں کی خرابی، سانس لینے میں دشواری و انفیکشن اور توانائی کی کمی شامل ہے جبکہ سگریٹ نوشی کے عادی پھیپھڑوں کو نقصان پہنچائے والی اس خطرناک بیماری کے خطرات سے آگاہ نہیں ہیں لہذاسگریٹ نوشی کی ہر سطح پر حوصلہ شکنی ضروری ہے کیونکہ سگریٹ پینے والا ایک شخص اپنے ادر گرد موجود 10لوگوں کو بلاواسطہ طور پر متاثر کرتا ہے اور مذکورہ بیماری کے باعث ہر سال دنیا بھر میں 30لاکھ افراد لقمہ اجل بن جاتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے لاہور جنرل ہسپتال شعبہ پلمو نالوجی کے زیر اہتمام منعقدہ آگاہی واک کے شرکاء سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ ایچ او ڈی پلمونالوجی ڈاکٹر جاوید مگسی، ڈاکٹر عرفان ملک اور ڈاکٹر خالد بن اسلم نے اس مرض سے بچاؤکے متعلق تفصیلی روشنی ڈالی۔

    پروفیسر الفرید ظفر کا کہنا تھا کہ اس مرض کے پھیلاؤ کی وجہ ماحولیاتی و فضائی آلودگی ہے جو فیکٹریوں، کارخانوں، ٹریفک کے دھویں،سگریٹ نوشی اور فیکٹری کے اندر تیار ہونے والی مصنوعات کے ذرات مزدوروں کے نظام تنفس کو متاثر کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس مرض کی روک تھام کیلئے سرکاری اداروں کے علاوہ عوام کو بھی اپنی ذمہ داریاں پوری کرتے ہوئے احتیاطی تدابیر اختیار کرنا ہونگی جس سے بیماری کی وجوہات کو روکا جا سکے۔ سی او پی ڈی سے متاثرہ شخص امراض قلب، پھیپھڑوں کے کینسر اور دمہ جیسی بیماریوں میں مبتلا ہو سکتا ہے لہذا اس بیماری کے خاتمے پر توجہ دینے کی سخت ضرورت ہے۔

    چلغوزے سستے،پڑھا لکھا ایس ایچ او،تمباکو کی قیمت ،مردم شماری کیلئے فنڈ ،کابینہ کے فیصلے

    تمباکو نوشی کے استعمال کے خلاف مہم،ویب سائٹ کا افتتاح

     تمباکو نوشی کے خلاف کرومیٹک کے زیر اہتمام کانفرنس :کس کس نے اور کیا گفتگو کی تفصیلات آگئیں

    تمباکو سیکٹر میں سالانہ 70 ارب روپے کی ٹیکس چوری کا انکشاف

    جب حکمران ٹکٹ ہی ان لوگوں کو دیں جن کا کاروبار تمباکو اور سگریٹ سے وابستہ ہو تو کیا پابندی لگے گی سینیٹر سحر کامران

    تمباکو نوشی کا زیادہ استعمال صحت کے لئے نقصان دہ ہے،ڈاکٹر فیصل سلطان مان گئے

    جدید تمباکو کی مصنوعات پر پابندی کے حوالہ سے آگاہی ،پوسٹر مقابلہ،نتائج کا اعلان

    مولانا عبدالغفور حیدری کی زیر صدارت اجلاس میں سگریٹ مینوفیکچررز کی مشکلات پر غور

    پروفیسر الفرید ظفر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جدید دور کی صنعتی ترقی، بغیر منصوبہ بندی کی بستیوں کا قیام، آبادی میں اضافہ سے سڑکوں پر گاڑیوں کا رش اور متعلقہ محکموں کی جانب سے ان گاڑیوں کی فٹنس کے حوالے سے مناسب مانیٹرینگ نہ ہونے سے شہر کی سڑکوں پر دھواں چھوڑتی گاڑیاں نظر آتی ہیں جو عوام کی صحت کو بری طرح سے متاثر کر رہی ہیں۔ پرنسپل پی جی ایم آئی نے کہا کہ اس مرض کے متعلق شہریوں میں شعور اجاگر کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ لوگ پبلک مقامات، کارخانوں میں فیس ماسک کے استعمال کے علاوہ دیگر ضروری احتیاطی تدابیر اختیار کریں تاکہ فضائی آلودگی، دھویں اور فیکٹریوں کے اندر کا ماحول لوگوں کی صحت کے لئے خطرات کا باعث نہ بنے۔ پروفیسر الفرید ظفر نے مزید کہا کہ حفاظت خود اختیاری کے تحت شہریوں کو اپنی صحت کے بارے میں فکر مند ہوتے ہوئے احتیاطی تدابیر کو اپنی زندگی کا لازمی جز وبنا لینا چاہئے۔ واک کے اختتام پر شہریوں میں احتیاطی تدابیر پر مبنی پمفلٹس بھی تقسیم کئے گئے۔ اس موقع پر ڈاکٹرز، نرسز اور پیرا میڈیکس موجود تھے۔

  • ” رُک جانا بہتر ہے ” — عبدالحفیظ چنیوٹی

    ” رُک جانا بہتر ہے ” — عبدالحفیظ چنیوٹی

    سگریٹ کیا ہے؟

    سگریٹ ایک بیلن کی شکل میں خصوصی کاغذ کو گویا لحاف کی طرح بناکر اور اس کے اندر تمباکو بھر دیا جاتا ہے۔

    سگریٹ صحت کیلئے انتہائی نقصان دہ ہے اور ماحولیاتی آلودگی اور عوامی صحت کی تباہی کا اہم سبب ہے. اس کے علاوہ سگریٹ نوشی کرنے والے یاد رکھیں کہ سگریٹ نوشی سے منہ کا کینسر بھی بنتا ہے۔

    امریکا کے سائنسدانوں کی ایک 2010ء کی تحقیق کے مطابق کسی بھی انسان کے جسم میں پہلی مرتبہ پیے جانے والے سگریٹ کے پہلے اولین کش ہی لمحوں میں ایسے جینیاتی نقصانات کی وجہ بن سکتے ہیں، جن کا تعلق سرطان سے ہوتا ہے۔اس کا مستقل استعمال صحت پر کئی مضر اثرات کا باعث ہوتا ہے۔

    تمباکو نوشی نہ صرف اُس شخص کے لیے جو اِس عادت کا شکار ہے بلکہ اُن افراد کے لیے بھی نقصان دہ ہے جو اُس کے آس پاس رہتے ہیں، جسے سیکنڈ ہینڈ سموکنگ کہتے ہیں۔ یعنی، آپ خود تو سگریٹ نہیں پی رہے ہوتے لیکن دوسروں کی سگریٹ کا دھواں آپ کے پھیپھڑوں کو اور آپ کے نظامِ صحت کو بھی انتہائی نقصان پہنچاتا ہے جتنا خود سگریٹ پینے والوں کو۔

    طبی ماہرین ایک طویل عرصہ سے لوگوں کو تمباکو نوشی ترک کرنے کے بارے میں بتا رہے ہیں، لیکن اگر امریکا کی طرح دنیا بھر میں سماجی طور پر بھی سگریٹ نوشی کو روکا جائے تو یقینی طور پر سگریٹ پینے والوں کی تعداد میں نمایاں کمی ہوگی۔ عالمی ادارہٴ صحت کا کہنا ہے کہ تمباکو نوشی دنیا بھر میں موت کا سبب بننے والی آٹھ اہم وجوہات میں سے چھ میں سب سے زیادہ خطرے کی وجہ سمجھی جاتی ہے۔

    عالمی ادارہٴ صحت کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہر سال تمباکو نوشی کرنے والے کم از کم 50لاکھ افراد پھیپھڑوں کے سرطان، دل کے امراض اور دوسری وجوہات کی بنا پر انتقال کرجاتے ہیں۔ ادارے کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر یہی رجحان جاری رہا، تو سنہ 2030 میں تمباکو نوشی سے منسلک وجوہات کی بنا پر مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر کم از کم 80لاکھ تک پہنچ جائے گی۔

    ہم میں سے کوئی بھی اِن اعداد و شمار کا حصہ ہو سکتا ہے،اس لئے احتیاط بہت ضروری ہے اپنے گھر سے آغاز کیا جائے۔ اپنے بچوں کو شروع سے ہی تمباکو نوشی کے خطرات کے بارے میں بتایا جائے اور اس بات کی خبر رکھیئے کہ کہیں وہ چوری چھپے سگریٹ تو نہیں پیتے۔ بچوں کو روکنے کا سب سے بڑا طریقہ یہ ہے کہ بڑے اُن کے سامنے سگریٹ نہ پئیں۔

  • ٹیکس کی عدم ادائیگی،جعلی سیگریٹس سے بھرے دو ٹرک ضبط

    ٹیکس کی عدم ادائیگی،جعلی سیگریٹس سے بھرے دو ٹرک ضبط

    میرپور میں قائم والٹن تمباکو کمپنی کے پچاس لاکھ کی ایکسائز ڈیوٹی کی عدم ادایئگی جعلی سیگریٹس سے بھرے دو ٹرک محکمہ ایکسائز نے علی بیگ چوکی پر ضبط کرلئے ۔

    والٹن تمباکو کمپنی کے ضبط کئے گئے ایک ٹرک میں 4500 کلو گرام تمباکو جبکہ دوسرے میں 150 کاٹن سیگریٹس تھے والٹن تمباکو کمپنی نے نے ماضی میں محکمہ کی جانب سے اپریل میں سیل کی گئی نیشنل تمباکو کمپنی کے برانڈز کلاسک اور ہیرو برانڈز کے جعلی سیگریٹس تیار کرکے تقریبا پچاس لاکھ روپے کی ایکسائز ڈیوٹی بھی ادا نہیں کی اور رات کے اندھیرے میں سیگریٹس سے بھرے دونوں ٹرک پنجاب کے مختلف شہروں میں فروخت کے لئے بھجوانے تھے جنہیں محکمہ ایکسائز میں تحویل میں لیکر ضبط کرلیا ہے ۔

    چلغوزے سستے،پڑھا لکھا ایس ایچ او،تمباکو کی قیمت ،مردم شماری کیلئے فنڈ ،کابینہ کے فیصلے

    تمباکو نوشی کے استعمال کے خلاف مہم،ویب سائٹ کا افتتاح

     تمباکو نوشی کے خلاف کرومیٹک کے زیر اہتمام کانفرنس :کس کس نے اور کیا گفتگو کی تفصیلات آگئیں

    تمباکو سیکٹر میں سالانہ 70 ارب روپے کی ٹیکس چوری کا انکشاف

    جب حکمران ٹکٹ ہی ان لوگوں کو دیں جن کا کاروبار تمباکو اور سگریٹ سے وابستہ ہو تو کیا پابندی لگے گی سینیٹر سحر کامران

    تمباکو نوشی کا زیادہ استعمال صحت کے لئے نقصان دہ ہے،ڈاکٹر فیصل سلطان مان گئے

    کرومیٹک ٹرسٹ نے تمباکو نوشی کی جدید اقسام کے خلاف پوسٹ کارڈ آگاہی مہم کا آغاز کر دیا

    دوسری جانب ماہرین کا کہنا ہے کہ تمباکو پر ٹیکس عائد کرنے سے پاکستان کی معیشت بہتر ہو سکتی ہے، تحریک انصاف کی حکومت کو تجاویز دینے کے باوجود انہوں نے کچھ نہ کیا، اب نئی حکومت تمباکو پر ٹیکس عائد کر کے نہ صرف غریبوں کی صحت کا خیال کر سکتی ہے بلکہ بجٹ خسارہ بھی اس ٹیکس سے پورا کر سکتی ہے، اپنی آمدن میں حکومت اضافہ کر سکتی ہے،

    کرومیٹک ٹرسٹ کے سی ای او شارق محمود خان کا کہنا ہے کہ کہ تمباکو پر ٹیکس میں اضافہ کر کے سگریٹ نوشی کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے نئی حکومت سے اپیل کی کہ وہ شعور بیدار کریں اور تمباکو کنٹرول قوانین پر عمل درآمد کرنے اور تمباکو کے ٹیکس میں اضافہ کرنے میں مدد کریں تاکہ کھپت کو کم کیا جا سکے اور اضافی آمدنی حاصل کی جا سکے۔

    خلیل احمد کا کہنا تھا کہ تمباکو کے استعمال سے سالانہ 615 ارب کا معاشی بوجھ پڑتا ہے جو پاکستان کی جی ڈی پی کا 1.6 فیصد ہے۔ اس کی وجہ سے اہم منفی خارجی عوامل شامل ہیں، انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تمباکو کے استعمال کے صحت اور معاشی اخراجات ٹیکس کی وصولیوں سے پانچ گنا زیادہ ہیں، چونکہ تمباکو پر ٹیکس پچھلی حکومت کو دلچسپی نہیں تھی، یہ موجودہ حکومت کے لیے ایک موقع ہے۔ تمباکو پر ٹیکس بڑھا کر ریونیو حاصل کرکے خسارے کو کم کیا جا سکتا ہے،

    ڈاکٹر ضیاء الدین اسلام، کا کہنا تھا کہ تمباکو کی صنعت غیر قانونی تجارے کے حوالہ سے حکومت کو گمراہ کرتی ہے۔ جنوری 2021 میں تمباکو انڈسٹری کے اعداد و شمار کے مطابق غیر قانونی سگریٹ کی معیشت کو 40 ارب کی لاگت آئی، اور فروری 2021 میں انہوں نے بغیر کسی جواز کے 77 ارب کا حوالہ دیا،تمباکو کا استعمال بچوں کی صحت پر براہ راست اور بالواسطہ اثرات مرتب کرتا ہے۔ روزانہ 1200 بچے سگریٹ نوشی شروع کرتے ہیں۔ تمباکو پر ٹیکس بڑھانے سے یہ تعداد کم ہو جائے گی۔

  • تمباکو نوشی کی روک تھام کا عالمی دن،ٹویٹر پر #TobaccoExposed ٹاپ ٹرینڈ

    تمباکو نوشی کی روک تھام کا عالمی دن،ٹویٹر پر #TobaccoExposed ٹاپ ٹرینڈ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق تمباکو نوشی کی روک تھام کے لئے عالمی دن آج منایا جا رہا ہے

    تمباکو نوشی کے خلاف عالمی دن کے موقع پر کرومیٹک کے زیر اہتمام وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ایک تقریب منعقد کی گئی جس میں شرکاء کو تمباکو نوشی کے نقصانات کے حوالہ سے آگاہ کیا گیا،تمباکو نوشی کی روک تھام اور کمسن بچوں کو تمباکو نوشی سے بچانے کے لئے شرکا کو بریفنگ دی گئی، دیگر شہروں میں بھی تمباکو نوشی کے خلاف آگاہی مہم کے سلسلہ میں واک،سیمینار کا انعقاد کیا گیا

    دوسری جانب تمباکو نوشی کے خلاف عالمی دن کے موقع پر #TobaccoExposed ٹویٹر پر ٹاپ ٹرینڈ بھی رہا ،صارفین نے ٹویٹرپر ٹویٹس کیں اور اپنے جذبات کا اظہار کیا، صارفین نے مطالبہ کیا کہ تمباکو سے بچوں کو بچانے کے لئے ٹیکس میں اضافہ کیا جائے تا کہ سگریٹ بچوں کی پہنچ سے دور ہو، سگریٹ نوشی کے حوالہ سے بنائے گئے قوانین پر سختی سے عمل کروایا جائے اور تعلیمی اداروں اور اسکے اطراف مین سگریٹ کی خریدو فروخت پر پابندی ہونی چاہئے،

    #سگریٹ_ٹیکس_بڑھاؤ ، ٹویٹر پر صارفین کا مطالبہ

    چلغوزے سستے،پڑھا لکھا ایس ایچ او،تمباکو کی قیمت ،مردم شماری کیلئے فنڈ ،کابینہ کے فیصلے

    تمباکو نوشی کے استعمال کے خلاف مہم،ویب سائٹ کا افتتاح

     تمباکو نوشی کے خلاف کرومیٹک کے زیر اہتمام کانفرنس :کس کس نے اور کیا گفتگو کی تفصیلات آگئیں

    تمباکو سیکٹر میں سالانہ 70 ارب روپے کی ٹیکس چوری کا انکشاف

    جب حکمران ٹکٹ ہی ان لوگوں کو دیں جن کا کاروبار تمباکو اور سگریٹ سے وابستہ ہو تو کیا پابندی لگے گی سینیٹر سحر کامران

    تمباکو نوشی کا زیادہ استعمال صحت کے لئے نقصان دہ ہے،ڈاکٹر فیصل سلطان مان گئے

    تمباکو پر ٹیکس عائد کر کے نئی حکومت بجٹ خسارے پر قابو پا سکتی ہے،ماہرین

    تمباکو اور میٹھے مشروبات پر ٹیکس میں اضافہ آنیوالے بجٹ میں کیا جائے، ثناء اللہ گھمن

    تمباکو پر ٹیکس، صحت عامہ ، آمدنی کے لئے جیت

    سگریٹ مافیا کتنا تگڑا ہے؟ اسد عمر ،شبر زیدی نے کھرا سچ میں بتا دیا

    https://twitter.com/ASP0028/status/1531501376441880578?t=0v2mNzLPtd3Ew9052fCBYw&s=09

    https://twitter.com/talha_abubakar4/status/1531508851849166850?s=20&t=9G-6wWGZAaYvwLiuC3jEpA

    https://twitter.com/Ahtweeted/status/1531504733978079233?t=kMbvjWjUhzVGlkkU8dyxIg&s=08

  • تمباکو، ماحولیات، معیشت اور صحت عامہ کو لاحق خطرات،ڈاکٹر ضیا الدین اسلام

    تمباکو کی وبا صحت عامہ کے سب سے اہم خطرات میں سے ایک ہے جس کا سامنا انسانی نسل کو کرنا پڑا ہے، ایک سال میں عالمی سطح پر 80 لاکھ سے زائد افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ ان میں سے ٧ ملین سے زیادہ اموات براہ راست تمباکو کے استعمال کے نتیجے میں ہوتی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ تقریبا 12 لاکھ تمباکو نوشی نہ کرنے والوں کو سیکنڈ ہینڈ دھوئیں کا سامنا کرنے کا نتیجہ ہیں۔
    عالمی ادارہ صحت کی شرکاء ریاستوں نے تمباکو کی وبا اور اس سے ہونے والی قابل روک تھام موت اور بیماری کے بارے میں عالمی سطح پر آگاہی پیدا کرنے کے لئے 1987 میں تمباکو کا عالمی دن منایا۔ 1987 میں عالمی صحت اسمبلی نے قرارداد ڈبلیو ایچ اے 40.38 منظور کی جس میں 7 اپریل 1988 کو "تمباکو نوشی نہ کرنے کا عالمی دن” بننے کا مطالبہ کیا گیا۔ 1988 میں قرارداد ڈبلیو ایچ اے 42.19 منظور کی گئی جس میں ہر سال 31 مئی کو تمباکو کا عالمی دن منانے کا مطالبہ کیا گیا۔
    اس سال عالمی یوم تمباکو 2022 کا موضوع "ماحولیات کا تحفظ” ہے جس میں اس بات پر روشنی ڈالی گئی ہے کہ تمباکو اپنے پورے زندگی کے چکر میں کرہ ارض کو آلودہ کرتا ہے اور تمام لوگوں کی صحت کو نقصان پہنچاتا ہے۔
    محققین نے انکشاف کیا کہ سیگریٹ فلٹرز سیلولوز ایسیٹیٹ سے تیار ہوتے ہیں۔ یہ پلاسٹک صرف شدید حیاتیاتی حالات میں تنزلی کا شکار ہوتا ہے، جیسے کہ جب فلٹر سیوریج میں جمع ہوتے ہیں۔ عملی طور پر سگریٹ کے بٹ سڑکوں، دفاتر میں پھینکے جاتے ہیں ،اور پارکوں میں ان کی حیاتیاتی تنزلی نہیں ہوتی۔ زیادہ تر سازگار حالات میں، سگریٹ کے بٹ کو ختم ہونے میں کم از کم نو ماہ لگ سکتے ہیں۔ سورج سگریٹ کے بٹوں کو توڑ سکتا ہے ، لیکن صرف فضلے کے چھوٹے ٹکڑوں میں جو پانی/ مٹی میں پتلا ہو جاتا ہے۔

    یہ بھی ثابت ہوا ہے کہ سگریٹ کا فضلہ مٹی، ساحلوں اور آبی گزرگاہوں کو آلودہ کر سکتا ہے۔ تحقیقی مطالعات سے یہ بھی پتہ چلا ہے کہ سگریٹ کا فضلہ جنگلی حیات کے لئے نقصان دہ ہے۔ یہ سگریٹ کے بٹ آلودگی کا سبب بنتے ہیں، جیسا کہ زیادہ پھیلاؤ، نالیوں اور وہاں سے دریاؤں، ساحلوں اور سمندروں تک لے جایا جاتا ہے۔ پائلٹ مطالعات سے پتہ چلتا ہے کہ نامیاتی مرکبات (جیسے نکوٹین، کیڑے مار ادویات کی باقیات، اور دھات) سگریٹ کے بٹوں سے سمندری ماحولیاتی نظام میں داخل ہوتے ہیں، جو مچھلی اور خرد حیاتیات کے لئے شدید زہریلے ہو جاتے ہیں۔
    تمباکو کا ابھرتا ہوا، کاروبار، گندا پانی، مٹی، ساحل، پارک، اور کیمیکل، زہریلا فضلہ، سگریٹ کے بٹ، اور مائیکرو پلاسٹک فضلہ کے ساتھ گلیاں. یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں ہے کہ تمباکو انسانوں کی صحت کو منفی طور پر متاثر کرتا ہے۔ یہ ماحولیات کی صحت کو بھی خطرہ ہے۔ یہ بات اچھی طرح ثابت ہو چکی ہے کہ سگریٹ کے بٹوں کو صحیح طریقے سے ٹھکانے نہیں لگایا جا سکتا۔ یہ پانی، ہوا اور زہریلے کیمیکلز، بھاری دھاتوں اور باقی ماندہ نکوٹین کے ساتھ زمین کو آلودہ کرکے ماحول کی قیمت خرچ کرتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق ہر سال 766,571 میٹرک ٹن سگریٹ کے بٹ ماحول پر برا اثر انداز ہوتے ہیں۔

    تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ تمباکو کی ترقی جنگلات کی کٹائی کو فروغ دیتی ہے، خاص طور پر پاکستان جیسی ترقی پذیر دنیا میں۔ تمباکو کے باغات کے لئے جنگلات کی کٹائی مٹی کی تنزلی اور "ناکام پیداوار” کو فروغ دیتی ہے ، یا زمین کے لئے کسی بھی دوسری فصلوں یا نباتات کی نشوونما میں مدد کرنے کی صلاحیت کو فروغ دیتی ہے۔ تمباکو کی صنعت ہر سال تقریبا ٦٠٠ ملین درختوں کو کاٹ تی ہے۔ اوسطا، ہر درخت سگریٹ کے 15 پیکٹوں کے لئے کافی کاغذ تیار کرتا ہے۔ پاکستان میں جنگلات کی کٹائی کے سب سے منفی اثرات سیلاب، موسمیاتی تبدیلیاں، زمین کی سلائیڈنگ، زمین کی تنزلی، مٹی کا کٹاؤ اور صحرا سازی ہیں۔ تمباکو کی صنعت کے منفی اثرات او رجنگلات کی کٹائی بھی موسمیاتی تبدیلیوں، صحرا سازی، کم فصلوں، سیلاب، ماحول میں گرین ہاؤس گیسوں میں اضافے اور مقامی لوگوں کے لئے بہت سے مسائل کا باعث بنتی ہے۔
    ہر سال پاکستان اپنے جنگلات کا 42 ہزار ہیکٹر یا 2.1 فیصد کھو دیتا ہے۔ حکام کا خیال ہے کہ گلوبل وارمنگ کے اثرات کو کم کرنے کا واحد طریقہ جنگلات ہے۔ ان کی رائے میں اس میں کوئی شک نہیں تھا کہ پانی زندگی کے لئے ضروری عنصر ہے اور جنگلات کی کٹائی ہمیں ہر گزرتے دن کے ساتھ اس ضرورت سے محروم کرتی ہے۔ تمباکو کی کاشت میں مسلسل اضافہ زمین پر اس کی مشقت لیتا ہے۔ چونکہ تمباکو نے اپنے غذائی اجزاء کی مٹی کو ختم کر دیا تھا، اس لئے زمین کے ایک پلاٹ پر صرف تین کامیاب بڑھتے ہوئے موسم ہو سکتے تھے۔ پھر زمین کو دوبارہ استعمال کرنے سے پہلے تین سال تک پرتی پڑی رہنا پڑی۔ اس سے نئے کھیت کے لئے کافی حد تک ڈرائیو پیدا ہوئی۔ تمباکو کی یہ کاشت مٹی کی زرخیزی اور زیر زمین پانی کے وسائل کو تباہ کرنے کے لئے پائی گئی ہے۔ یہ ملکی معیشت اور ماحولیات پر بری طرح اثر انداز ہوتا ہے۔
    تمباکو کی صنعت، موت کے تاجر، ماحول کو نقصان پہنچا کر آمدنی پیدا کر رہے ہیں اور ماحولیاتی تباہی کے لئے ذمہ دار ٹھہرایا جانا چاہئے اور ان فضلوں کو جمع کرنے کی لاگت کی وصولی سمیت فضلے اور نقصانات کی ادائیگی کرنے کی ضرورت ہے۔

    2018 میں دنیا کے چھ بڑے سگریٹ سازوں نے 55 ارب امریکی ڈالر سے زائد کا منافع (انکم ٹیکس سے پہلے) کمایا۔ اس طرح کے بڑے پیمانے پر منافع ممکن ہے کیونکہ تمباکو کمپنیوں کی فروخت پر بہت زیادہ منافع مارجن ہے. ۔ پاکستان ٹوبیکو کمپنی کی جانب سے 2019ء میں اعلان کردہ خالص آمدنی 80.09 ملین امریکی ڈالر تھی جو بڑھ کر 223.06 ملین امریکی ڈالر کے مجموعی منافع کے ساتھ 117.2 امریکی ڈالر ہوگئی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ گزشتہ پانچ سالوں میں ملک میں ٹیکس وں میں کوئی اضافہ نہیں ہوا ہے لیکن ٹی آئی کو اپنے منافع میں بہت زیادہ اضافہ ہو رہا ہے۔ 1 (جبکہ فلپ مورس (پاکستان) لمیٹڈ (پی ایم پی کے ایل) نے 31 دسمبر 2021 کو ختم ہونے والے سال کے لئے پی کے آر 2,307 ملین ٹیکس کے بعد منافع حاصل کیا جبکہ گزشتہ سالوں کی اسی مدت کے لئے پی کے آر 1,765 ملین کے بعد منافع ہوا تھا۔

    تمباکو کی صنعتوں کو ان کی مصنوعات سے پیدا ہونے والے فضلے کے زبردست حجم اور ان کی مصنوعات کو ماحولیاتی طور پر محفوظ طریقے سے ٹھکانے لگانے میں سہولت فراہم کرنے کے لئے جوابدہ ہونا چاہئے۔ ملک کی صورتحال کو سنجیدگی سے سنبھالنے میں ابھی زیادہ دیر نہیں ہوگی اور ان کی مصنوعات کے منفی ماحولیاتی نتائج کو کم کرنے کے لئے فضلے کی مقدار کو کم کرنے کے لئے مالی جرمانے کے ساتھ مناسب مضبوط ضوابط کی ضرورت ہے۔ مزید برآں، ماحولیاتی زہریلے پن اور سگریٹ کے فضلے کو لینڈ فل میں پھینکنے کے خطرات کے بارے میں وکالت اور آگاہی کی شدید ضرورت ہے۔ تمباکو نوشی کرنے والوں کو ان مصنوعات کا استعمال مکمل طور پر چھوڑنے کی ترغیب دینا تمباکو مصنوعات کے فضلے سے ماحول کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے۔

    ڈاکٹر ضیا الدین اسلام
    کنٹری لیڈ ٹوبیکو کنٹرول، وایٹل اسٹریٹجی
    گلوبل ٹوبیکو اینڈ پبلک ہیلتھ کنسلٹنٹ، اسلام آباد.
    zislam@vitalstrategies.org
    ٹوئٹر: ضیا الدین اسلام

    مصنف این ایچ ایس آر سی کی وزارت کے سابق ٹیکنیکل ہیڈ ٹی سی سی، ڈبلیو ایچ اوز ایف سی ٹی سی کے لئے حکومت پاکستان کے سابق فوکل پرسن، ہیلتھ اکانومسٹ، گلوبل پبلک ہیلتھ فزیشن، ریسرچ اسکالر انسٹی ٹیوٹ آف ٹوبیکو کنٹرول، جانز ہاپکنز یونیورسٹی، بالٹیمور امریکہ ہیں۔