Baaghi TV

Tag: سگنل

  • 2014 میں موصول  ایلینز کے سگنل کی حقیقت سامنے آ گئی

    2014 میں موصول ایلینز کے سگنل کی حقیقت سامنے آ گئی

    امریکی یونیورسٹی کی جانب سے انکشاف کیا گیا ہے کہ 2014 میں جو آواز خلائی مخلوق (Aliens) کی بتائی جا رہی تھی، وہ دراصل قریبی موجود ایک ٹرک کی آواز تھی۔

    باغی ٹی وی : محکمہ دفاع کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکہ خفیہ طور پر عوام سے اجنبی ٹیکنالوجی یا ماورائے زمین مخلوق کو نہیں چھپا رہا ہےجمعہ کے روز، پینٹاگون نے آل ڈومین اینوملی ریزولوشن آفس (اے اے آر او) کیجانب سےکی گئی تحقیقات کے نتائج شائع کیے، جو کہ 2022 میں قائم کیا گیا ایک سرکاری دفتر ہےجس میں غیر متزلزل،نامعلوم جگہ، ہوائی جہاز، زیر آب اور” جیسے خطرات کا پتہ لگانے اور ضرورت کے مطابق خطرات کو کم کرنے کے لیے قائم کیا گیا تھا۔

    سائنس کی دنیا میں 2014 میں ایک اہم پیشرفت سامنے آئی تھی، جب یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ انٹرسٹیلر اسپیس سے ایک ساؤنڈ ویو ریکارڈ کی گئی ہے جو کہ ممکنہ طور پر ایلیئنز کی جانب سے سگنلز تھے اور کیچ کر لیے گئے،اس تھیوری کو مزید تقویت اس طرح ملے کہ جب خلا سے گرنے والے منرلز کو سمندر سے گزشتہ سال نکالا گیا تو کہا گیا کہ شہاب ثاقب (Meteor) ہی ایلینز ہیں، یہ شہاب ثاقب شمال میں پاپوا نیو گنی میں کریش ہوا تھا۔

    تاہم ایلینز سے متعلق ایک نئی تحقیق میں سوال اٹھایا گیا اور سمندر سے برآمد ہونے والے مواد کے متنازع ہونے پر زور دیا گیا، ٹیم کا دعویٰ تھا کہ ایلینز سے متعلق تحقیقات کے نتائج غلط ڈیٹا کی بنیاد پر دئیے گئے تھے، اور شہاب ثاقب فضا میں کہیں اور سے داخل ہوا تھا۔

    جان ہاپکنز یونیورسٹی کے سیسمالوجسٹ بینجامن فرنینڈو کا کہنا تھا کہ یہ انتہائی مشکل ہے کہ سگنلز سے متعلق کہا جائے کہ کس کے سگنلز ہیں، مگر ہم ضرور بتا سکتے ہیں کہ اس قسم کے کئی سنگلز موجود ہیں، اس ساؤنڈ ویو سے جو علامات موصول رہی تھیں وہ ایک ٹرک کی آواز سے مشابہت رکھتی ہیں، جبکہ ایسی قسم کی ساؤنڈ ویوز کی علامات ہم ایک شہاب ثاقب کی آواز میں سننے کی امید نہیں رکھتے۔

    آسٹریلیا اور پالاؤ کے مانیٹرنگ اسٹیشنز کے ڈیٹا کا استعمال کرتے ہوئے، جس کا مقصد جوہری آزمائشی آواز کی لہروں کا پتہ لگانا تھا، فرنینڈو کی تحقیقی ٹیم نے ابتدائی طور پر دریافت کیے گئے علاقے سے 100 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع شہاب ثاقب کے گرنے کے ایک ممکنہ مقام کی نشاندہی کی تحقیقات میں امید کے برخلاف ٹیم کو نتائج کچھ یوں ملے کہ سمندر سے برآمد مٹیریل دراصل زمین سے ٹکرانے والے دیگر آسمانی اجسام کے نتیجے میں ذرات تھے، جسے خلائی مخلوق سے منسلک کیا گیا۔

    جان ہاپکنز یونی ورسٹی کی ریسرچ ٹیم کے رکن فرنینڈو نے اس بات پر زور دیا کہ شہاب ثاقب اور سمندری سطح کے نتائج میں کوئی تعلق نہیں ہے، جبکہ انہوں نے اس تعلق کو مسترد کر دیا، اگرچہ شبہات ہیں، تاہم یہ ایک قدرتی خلائی پتھر یا پھر بیرونی کرافٹ کا ایک ٹکڑا ہو سکتا ہے۔

  • پی ٹی اے کی نااہلی،اسلام آباد کی کچہری میں تمام موبائل کمپنیوں کی خراب سروس

    پی ٹی اے کی نااہلی،اسلام آباد کی کچہری میں تمام موبائل کمپنیوں کی خراب سروس

    اسلام آباد(محمداویس)پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے)کی نااہلی، موبائل سروس فراہم کرنے والی کمپنیوں کو وفاقی دارالحکومت میں بھی سروس بہترکرنے کا کام نہ کرسکی،وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی کچہری میں تمام موبائل کمپنیوں کی خراب سروس پر پی ٹی اے لکھا گیا خط بھی کام نہ آیا،جج نے دوبارہ چیئرمین پی ٹی اے کو مسئلہ حل کرنے کے لیے خط لکھ دیا،موبائل سروس نہ ہونے کی وجہ سے سائلین وکیلوں اور ججوں کو بھی مسائل ہوتے ہیں۔

    اسلام آباد جوڈیشل کمپلیکس میں کسی بھی کمپنی کے صیحیح سروس نہیں ہے اس مفاد عامہ کے کام کے لیے سیشن کورٹس بار بار کہہ رہی ہیں لیکن کچھ نہیں ہو رہا اسلام آباد جوڈیشل کمپلیکس ایف ایٹ سے جی الیون منتقل ہوئے 5 ماہ ہو چکے ہزاروں افراد روزانہ ان ڈسٹرکٹ کورٹس میں آتے ہیں حیران کن بات یہ ہے وفاقی دارالحکومت کے مرکز میں ڈپٹی کمشنر آفس کے قریب واقع اس کمپلیکس میں پہلے دن سے موبائل سنگلز بہت ہی کمزور ہیں پی ٹی اے نے بھی کوئی اقدامات نہیں اٹھائے نہ کسی اور نے توجہ دینے کی زحمت کی .

    اب سیشن جج ویسٹ نے چیئرمین پی ٹی اے کو ایک خط لکھا کہ ” کچھ ہفتے پہلے ہی ٹی اے کی ٹیم یہاں آئی وزٹ کیا لیکن آج تک کچھ نہیں کیا اس کمپلیکس میں 15 سے 20 ہزار افراد روزانہ مختلف کیسز اور دیگر امور لئے آتے ہیں پورے جوڈیشل کمپلیکس میں تمام موبائیل کمپنیوں کے سگنلز بہت کمزور ہی بعض اوقات سگنلز چلے جانے سے عدالتی امور بھی متاثر ہوتے ہیں کمزور موبائیل سگنلز سے جج ، وکلاء ، سائلین سب متاثر ہورہے ہیں کچھ ہفتے قبل پی ٹی اے ٹیم نے کمپلیکس کا دورہ کیا اقدامات کی یقین دہانی کرائی لیکن کچھ نہ ہوا اس لیے موبائل سگنلز سسٹم جلد از جلد جوڈیشل کمپلیکس میں انسٹال کرکے سگنلز کو ٹھیک کریں "ترجمان پی ٹی اے سے رابطہ کیا گیا مگر انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا ۔

    نیب ٹیم توشہ خانہ کی گھڑی کی تحقیقات کے لئے یو اے ای پہنچ گئی، 

    وفاقی دارالحکومت میں ملزم عثمان مرزا کا نوجوان جوڑے پر بہیمانہ تشدد،لڑکی کے کپڑے بھی اتروا دیئے

    بزدار کے حلقے میں فی میل نرسنگ سٹاف کو افسران کی جانب سے بستر گرم کی فرمائشیں،تہلکہ خیز انکشافات

    10جولائی تک فیصلہ کرنا ہے،آپ کو 7 اور 8 جولائی کے دو دن دیئے جا رہے ہیں 

     دنیا کا سب سے بڑا پروجیکٹ حکومت سندھ کی سیلاب متاثرین کے لئے ہاؤسنگ اسکیم ہے

     ہے گھرکی خواتین کے نام اس کی ملکیت کے کاغذات بھی دے رہی ہے

    pta

  • نواز شریف آخری گرین سگنل کا منتظر،کپتان کو سردی میں گرمی لگنے لگی

    نواز شریف آخری گرین سگنل کا منتظر،کپتان کو سردی میں گرمی لگنے لگی

    نواز شریف آخری گرین سگنل کا منتظر،کپتان کو سردی میں گرمی لگنے لگی
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ ویسے تو پاکستان بہت سے مسائل میں گھیرا ہوا ہے ۔ مگر ٹی وی سکرینوں کو جن خبروں نے جکڑا ہوا ہے ۔ ۔ ان میں نوازشریف واپس آئیں گے کہ نہیں ۔ ۔ حکومت پانچ سال پورے کرے گی یا نہیں ۔ ۔ خیبر پختونخواہ کے بعد پنجاب میں بھی پی ٹی آئی کو مار پڑے گی ؟۔ منی بجٹ کب اور کیسے منظور ہوگا ؟

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ اس وقت جو چیز دیکھنے کی ہے وہ یہ ہے کہ ملک پھر الیکشن موڈ میں آگیا ہے۔ الیکشن کمیشن نے تو جنرل الیکشن کی تیاری بھی شروع کردی ہے ۔ اس حوالے سے ایک ریہرسل خیبر پختونخواہ کے بلدیاتی الیکشن میں ہوچکی ہے ۔ ایک اب پنجاب کے بلدیاتی الیکشن میں ہونی ہے ۔ پھر فائنل شو جنرل الیکشن میں دیکھنے کو ملے گا ۔ ابھی پنجاب کا بلدیاتی الیکشن عثمان بزدار کے حواس پر ایسا سوار ہو چکا ہے کہ انھوں نے لاہور سمیت پورے پنجاب کے لیے تجوریوں کے منہ کھول دیے ہیں ۔ اب وہ بھی دھڑا دھڑ نئے نئے منصوبے بنوانے کے چکروں میں ہیں کہیں کسی کا افتتاح ہورہا ہے تو کسی کا اعلان ۔۔۔ یوں جو عمران خان جنگلہ بس اور کنکریٹ کا شہر کہہ کر شہباز شریف پر تنقید کیا کرتے تھے اب انکا اپنا وزیر اعلی الیکشن کی خاطر سب کچھ کرنے کو تیار ہے ۔ پر یہ جو مرضی کر لیں پنجاب میں پی ٹی آئی کے لیے رزلٹ ۔۔ کے پی کے ۔۔ سے بھی زیادہ خوفناک آنا ہے ۔ جس کے بعد ہر کسی کو معلوم ہوجائے گا کہ ہواؤں کا رخ کیا ہے ۔ اب اس حوالے سے ن لیگی تو بہت ہی پراعتماد دیکھائی دیتے ہیں جو کے ان کے بیانات سے ظاہر بھی ہورہا ہے جیسے کہ ۔ جاوید لطیف کا کہنا ہے کہ نواز شریف ہفتوں میں پاکستان نظر آئیں گے، 23 مارچ سے پہلے حکومت سے اسٹیبلشمنٹ کا ہاتھ اٹھ جائے گا۔ اس لیے نوازشریف کی واپسی کا سن کرحکومت کےہاتھ پاؤں پھولے ہوئے ہیں۔ پھر ایاز صادق کہتے ہیں کہ میں نواز شریف سے مل کر آیا ہوں میری مسکراہٹ بتا رہی کہ حالات کیا ہیں۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ پھر شہباز شریف کا کہنا ہے کہ موجودہ حکمرانوں کا دھڑن تختہ ہونے والاہے، ان کے گھبرانے کا وقت آنے والا ہے۔ ۔ تو رانا ثنااللہ کہتے ہیں کہ اگر حکومت ملاقاتیں کررہی ہے تو ہم بھی کسی نہ کسی سے مل رہے ہیں، اپنے نمبر پورے اور حکومت کے نمبر کم کرنے کی کوشش کریں گے۔ منی بجٹ کی بھر پور مخالفت کریں گے۔ ۔ میں یہاں بتاتا چلوں کہ موجودہ صورتحال میں منی بجٹ بھی انتہائی اہمیت اختیار کرگیا ہے ۔ آپ دیکھیں جیسے خیبرپختونخواہ کے بلدیاتی الیکشن میں کوئی مدد نہ ملی ۔ اگر منی بجٹ کے معاملے میں مدد نہ ملی تو یہ پاس کروانا حکومت کے لیے جان جوکھوں کا کام ہوگا ۔ اس حوالے سے خبریں یہ بھی ہیں کہ نوازشریف بس اس کا ہی انتظار کر رہے ہیں کہ اس معاملے میں اسٹیبلشمنٹ کیا کردار ادا کرتی ہے ۔اگر تو وہ نیوٹرل رہتی ہے تو پھر یہ نواز شریف کے لیے گرین سگنل ہے۔ کہ بساط لپیٹنے کی تیاری ہوچکی ہے ۔ ۔ آپ دیکھیں آصف زرداری نے اپنی خراب صحت کے باوجود کراچی سے اسلام آباد جا کر چند روز گزارے ۔ لگتا ہے کہ مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی مل کر منی بجٹ کی مخالفت میں ووٹ دینے کی تیاریاں کررہے ہیں ۔ اگر یہ بل اسمبلی سے منظور نہ ہوا تو پارلیمانی روایات کے مطابق اسے وزیراعظم عمران خان کی حکومت کے خلاف عدم اعتماد کا ووٹ سمجھا جائے گا۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ تاہم پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن دونوں کے پاس مل کر بھی اِتنے ارکانِ قومی اسمبلی نہیں ہیں کہ وہ حکومت کو شکست دے سکیں۔ البتہ حکومتی اتحادمیں شامل اتحادی جماعتیں ایم کیو ایم اورمسلم لیگ ق اپوزیشن سے مل جائیں تو حکومت کے لیے خطرہ ہوسکتا ہے ۔ کیونکہ اس منی بجٹ کا بوجھ اٹھانا ان اتحادی جماعتوں کے لیے بھی مشکل دیکھائی دے رہا ہے ۔ ۔ پر اگر یہ منی بجٹ پاس ہوگیا تو حکومت کی جو اگر کہیں کوئی مقبولیت ہے بھی ۔۔۔ وہ بالکل ختم ہو کر رہ جائے گی ۔ کیونکہ یہ آئی ایم ایف کی شرائط پورا کرنے کی خاطرنئے ٹیکسوں کا نفاذہے۔ جسے مِنی بجٹ کا نام دیا گیا ہے۔ فی الحال شیخ رشید نے اصل بات کہہ دی ہے کہ ہر جماعت کی خواہش ہے کہ اسٹیبلشمنٹ اس کے سر پر ہاتھ رکھے مگر اسٹیبلشمنٹ نے فیصلہ کیا ہے کہ جو جماعت اقتدار میں آئے گی وہ اس کے ساتھ ہے ۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اگر اس بات کو yard stick بنا لیا جائے تو جو عمران خان کی کارکردگی ہے اس سے تو صاف نظر آرہا ہے کہ باقی ماندہ ڈیڑھ سال بھی ان کو مل گیا تو انھوں نے کون سا کوئی تیر چلا لینا ہے ۔ الٹا مزید بیڑہ غرق کرنے کی چانسز زیادہ ہے ۔ تو عمران خان کی دوبارہ حکومت بنتے تو نہیں دیکھائی دے رہی ہے ۔ جس کا مطلب ہے کہ اسٹیبلشمنٹ اب پی ٹی آئی کے ساتھ نہیں ہوگی ۔ ۔ لاکھ اختلاف کے باوجود ایک بات ماننے چاہیے کہ نواز شریف ایک مظبوط اعصاب کے مالک سیاستدان ثابت ہوئے ہیں ۔ آپ دیکھیں شہباز شریف نے لاہور میں خواجہ محمد رفیق کی برسی کے موقع پر ہونے والی تقریب جس میں نواز شریف بھی بذریعہ ٹیلی فون شامل تھے ۔۔۔ کہا ہے کہ میں امید کرتا ہوں آپ سے پاکستان میں جلد ملاقات ہو گی۔ ۔ اس لیے ایک بات تو طے ہے کہ نواز شریف پاکستان واپس آگئے اور کیسز سے بچ نکلے اور اگر الیکشن دوبارہ لڑنے کی اجازت مل گئی ۔ تو پھر نواز شریف کیا ۔۔ کوئی ن لیگی بھی نہیں پکڑا جائے گا ۔ بلکہ اس کے بعد تو شاید آدھی سے زیادہ پی ٹی آئی جاتی عمرہ کے باہر اپنی سی وی لیے کھڑی ہو ۔ بڑی تبدیلی اس وقت یہ ہی ہے کہ موجودہ حکومت کی رخصتی کی بات چل نکلی ہے۔ لیکن اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ بات کہاں تک پہنچتی ہے۔ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ پاکستان میں اداروں،عدالتوں اور عوام کے مزاج سارا سال بدلتے رہتے ہیں۔ ان کا جب جی چاہتا ہے کسی کو ہیرو بنا نے کے لئے نکل پڑتے ہیں اور جب جی نہ چاہے ہیرو کو زیرو بنانے کے لئے ساری توانائیاں استعمال کرنے لگتے ہیں۔ پھر کے پی کے میں تحریک انصاف کی ہار نے بتادیا ہے کہ حکومتی جماعت میں غلط فیصلے کرنے کی صلاحیت کس قدر ہے۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ دراصل تحریک انصاف کی حکومت تین سال میں عوام کے لئے ایک بھی خوشی کی خبر نہیں لا سکی ہے اور اگلے الیکشن میں وقت تیزی سے کم ہورہا ہے۔ ۔ جنوبی پنجاب میں جہانگیر ترین خان صاحب سے ناراض ہو کے علیحدہ گروپ بنا چکا ہیں ۔ شاہ محمود قریشی ہمیشہ سے کسی کے اشارے کے انتظار میں رہتے ہیں ۔ گورنر چودھری سرور کے بیانات خوب رونق لگا چکے ہیں ۔ شمالی پنجاب میں چودھری برادران اپنے قدم مضبوطی سے جمائے ہوئے ہیں۔ ایسے میں اگر انتخابات ہوتے ہیں تو تحریک انصاف کے لیے پنجاب سے بیس سیٹیں نکالنا بھی مشکل ہو جائے گا۔ ۔ اس لئے نواز شریف کے لیے یہ بہت مناسب وقت ہے کہ سیاسی میدان میں واپسی کی جائے۔ اگر اگلے چند ہفتوں میں میاں نواز شریف وطن واپس آتے ہیں اور جیل میں بند کر دیئے جاتے ہیں تو امید ہے کہ اگلے تین چار ماہ بعد وہ عدالتوں سے رہائی حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ پھر ایک پورا سال ان کے پاس ہو گا کہ نہ صرف اپنی جماعت کی صفیں دوبارہ سیدھی کرنے کی کوشش کریں بلکہ ملک کے طول و عرض میں جا کے عوام تک اپنا پیغام لے کر جائیں ۔ نواز شریف کی واپسی سے مریم اور شہباز کو لے کے چلنے والی باتیں بھی دم توڑ جائیں گی کہ نواز شریف کے سامنے ان کے لوگ سر تسلیم خم کرنے کے عادی رہے ہیں۔ کیونکہ ورکر نواز شریف کا ہے ووٹر نواز شریف کا ہے۔ جلسے میں لوگ انہی کے نام پہ آتے ہیں۔اس لئے ان کی واپسی سے مسلم لیگ ن میں دوسری جماعتوں سے ناراض لوگوں کی آمد کا سلسلہ چل نکلے گا۔ اسی لیے کپتان کی باتوں سے اب لگنا شروع ہوگیا ہے کہ کہیں کچھ گڑبڑ ضرور ہے کہ دسمبر کی سخت سردی میں گرمی لگنے لگی ہے۔ اور اپوزیشن کے مردہ جسم میں جیسے جان سی پڑ گئی ہے۔ میں آپکو بتاوں یہ سب تب ہوتا ہے ۔ جب آپ کے اردگرد صرف خوشامدی ہوں ۔ جو یہ نہ بتائیں لوگ آپکو کیا کیا بدعائیں دے رہے ہیں ۔ کیا کیا کہہ رہے ہیں ۔ جو یہ نہ بتائیں کہ ملک اوپر جانے کی بجائے غریب اوپر جانے شروع ہوگئے ہیں ۔ پھر آپ کو صرف اپنا آپ سچ دیکھائی دے باقی سب جھوٹ ۔ حالانکہ آپ نے وعدے یا دعوے تو کیا پورے کرنے تھے ۔ الٹا میرے کپتان آپ تو اس عوام کو دلاسہ دینے میں بھی ناکام رہے ۔ جب اس انتہا کا عوام پر ظلم ہو اور ان کی زندگی اجیرن کر دی جائے تو پھر قدرت اپنا انصاف کرتی ہے ۔ پھر آپ جتنے مرضی طاقتور ہوں ۔ جو مرضی آپ کے ساتھ ہو ۔ حکومت چلانا تو دور کی بات بچانا مشکل ہوجاتا ہے ۔ کیونکہ کوئی بھی شخص ہر وقت ہر کسی کو بے وقوف نہیں بنا سکتا ۔