Baaghi TV

Tag: سہیل آفریدی

  • خیبرپختونخوا کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا رویہ برقرار رہا تو  این ایف سی اجلاس میں شرکت مشکل ہو جائے گی،سہیل آفریدی

    خیبرپختونخوا کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا رویہ برقرار رہا تو این ایف سی اجلاس میں شرکت مشکل ہو جائے گی،سہیل آفریدی

    وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سے وفاقی وزیر احسن اقبال اور وفاقی حکومتی مذاکراتی ٹیم کی ملاقات ہوئی ، ملاقات میں این ایف سی اجلاس اور صوبے کے مالی حقوق سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    ملاقات کے دوران وزیراعلیٰ سہیل خان آفریدی نے کہاکہ اگر خیبرپختونخوا کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا رویہ برقرار رہا تو صوبائی حکومت کے لیے قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس میں شرکت مشکل ہو جائے گی بجٹ اور قومی اہمیت کے دیگر معاملات پر فیصلوں سے قبل عمران خان سے مشاورت اور ان کی منظوری ناگزیر ہےتمام سیاسی جماعتیں اہم قومی اور سیاسی فیصلوں سے پہلے اپنی قیادت سے مشاورت کرتی ہیں اور خیبرپختونخوا حکومت بھی اسی جمہوری اور سیاسی روایت پر عمل پیرا ہے۔

    وزیراعلیٰ نے وفاق کی جانب سے صوبے کے مالی حقوق میں مسلسل کٹو تیوں پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ ضم شدہ اضلاع کی ترقی کے لیے مختص اے آئی پی فنڈز 37 ارب روپے سے کم کر کے 27 ارب روپے کر دیے گئے ہیں، جبکہ ضم شدہ اضلاع کے ترقیاتی اے آئی پی بجٹ کو 66 ارب روپے سے کم کر کے 56 ارب روپے تک محدود کر دیا گیا ہے ضم شدہ اضلاع کا این ایف سی حصہ گزشتہ 8 برسوں سے غیر آئینی طور پر روکا جا رہا ہے، جو وہاں کے عوام کے ساتھ ناانصافی ہے۔

    وزیراعلیٰ کے مطابق وفاقی نمائندوں کے ساتھ ہر ملاقات کے بعد مسائل کے حل کے بجائے صوبے کے ساتھ مزید ناانصافیوں میں اضافہ دیکھنے میں آتا ہے خیبرپختونخوا روزانہ 500 ایم ایم سی ایف ڈی سے زائد گیس پیدا کرتا ہے، لیکن اس کے باوجود صوبے کے عوام کو گیس کی شدید قلت کا سامنا ہے صوبے کی مجموعی کھپت صرف 150 ایم ایم سی ایف ڈی ہے، اس کے باوجود گیس کی فراہمی میں رکاوٹیں پیدا کرنا ناقابلِ قبول ہے سوات میں مکمل شدہ ڈیم منصوبے کے آغاز کے لیے چینی انجینیئرز کو تاحال این او سی جاری نہیں کیا جا رہا، جس کے باعث منصوبہ تاخیر کا شکار ہے۔

    انہوں نے وفاقی حکومت پر زور دیا کہ خیبرپختونخوا کے آئینی، مالی اور ترقیاتی حقوق کی فراہمی یقینی بنائی جائے اگر پنجاب خیبرپختونخوا کو گندم فراہم نہیں کرنا چاہتا تو آئین کے آرٹیکل 151 اور آرٹیکل 158 کی عملی حیثیت پر سوال اٹھتا ہے، آئین بین الصوبائی تجارت، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور مقامی وسائل پر ترجیحی حق کی واضح ضمانت دیتا ہے، لہٰذا اس پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جانا چاہیےبس ٹرمینل کا منصوبہ مکمل ہونے کے باوجود نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) کی جانب سے این او سی جاری نہ کیے جانے کے باعث تاحال فعال نہیں ہو سکا۔

    اس موقع پر وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے بس ٹرمینل کے لیے 24 گھنٹوں کے اندر این او سی جاری کرنے کی یقین دہانی کرائی وفاقی حکومتی مذاکراتی ٹیم نے خیبرپختونخوا حکومت کے تحفظات، مطالبات اور تجاویز وزیراعظم اور دیگر متعلقہ فورمز کے سامنے اٹھانے اور ان کے حل کے لیے سنجیدہ اقدامات کرنے کی یقین دہانی بھی کرائی۔

  • سہیل آفریدی کی مولانا فضل الرحمان سے ملاقات

    سہیل آفریدی کی مولانا فضل الرحمان سے ملاقات

    وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے مفتی محمود مرکز میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کی۔

    ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور، صوبائی حقوق کے حصول کے لیے مشترکہ جد و جہد پر تبادلہ خیال کیا گیا اگلے مالی سال کے لیے وفاقی بجٹ ، صوبے کے شیئر سے متعلق امور پر بھی گفتگو ہوئی، پاکستان تحریک انصاف اور جمعیت علمائے اسلام ف کے سینیئر رہنما بھی ملاقات میں شریک تھے۔

    سہیل آفریدی نے کہا کہ خیبرپختونخوا کو این ایف سی میں ضم اضلاع کا حصہ نہیں مل رہا، پنجاب حکومت نے خیبرپختونخوا کے عوام کے لیے گندم کی فراہمی بند کر رکھی ہے، وفاق کی جانب سے خیبرپختونخوا کو گیس کی فراہمی میں رکاوٹیں انتہائی تشویش ناک ہیں،وزیراعلیٰ نے کہا کہ خیبرپختونخوا 500 ایم ایم سی ایف ڈی سے زائد گیس پیدا کرتا ہے لیکن اس کے باوجود صوبے کو اس کے جائز حصے سے محروم رکھا جا رہا ہے، صوبہ صرف 150 ایم ایم سی ایف ڈی گیس استعمال کرتا ہے، اس کے باوجود گیس کی فراہمی میں رکاوٹیں ناقابل قبول ہیں، وفاقی حکومت اور پنجاب حکومت کا طرز عمل آئین کے آرٹیکل 151 اور آرٹیکل 158 کی صریح خلاف ورزی ہے وفاق خیبرپختونخوا کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک کر رہا ہے-

  • پارلیمانی پارٹی میں اختلافات: وزیراعلیٰ  سہیل آفریدی نے کل اجلاس طلب کر لیا

    پارلیمانی پارٹی میں اختلافات: وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کل اجلاس طلب کر لیا

    تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی میں اختلافات کی اطلاعات کے بعد وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کل پارلیمانی پارٹی کا اجلاس طلب کر لیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ نے کل شام 7 بجے پی ٹی آئی کے ارکان اسمبلی کو اجلاس میں شرکت کی ہدایت کی ہے پارلیمانی پارٹی کا اجلاس اندرونی اختلافات کی اطلاعات کے تناظر میں طلب کیا گیا ہے، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور صوبائی وزراء ناراض ارکان اسمبلی سے رابطے کر کے انہیں منانے کی کوششیں کر رہے ہیں ،دوسری جانب ناراض ارکان نے بھی باہمی مشاورت کے لیے کل سہ پہر 4 بجے اجلاس طلب کر لیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق بجٹ سے قبل ناراض ارکان کے گروپ کا سامنے آنا وزیراعلیٰ کے لیے پریشانی کا باعث بن گیا ہے جبکہ اسمبلی میں تحریک انصاف کے ارکان کی آزاد حیثیت بھی ناراض ارکان کو اہم کردار دے سکتی ہے۔

  • وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کی گورنرخیبرپختونخوا  سے ملاقات

    وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کی گورنرخیبرپختونخوا سے ملاقات

    گورنرخیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی سے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے گورنر ہاؤس پشاور میں ملاقات کی، جس میں صوبے کی مجموعی صورتحال، امن و امان اور دیگر اہم انتظامی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

    ملاقات کے دوران خیبرپختونخوا میں سی این جی اسٹیشنز کی بندش، پنجاب سے گندم کی ترسیل کے معاملے پر بھی گفتگو ہوئی اس موقع پر گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ صوبے میں سی این جی کی بندش آئین کی خلاف ورزی ہے اور اس فیصلے سے غریب طبقہ شدید متاثر ہو رہا ہے اگر پنجاب راہداری فراہم کرے تو خیبرپختونخوا سندھ سے گندم حاصل کرسکتا ہے تاہم راہداری نہ ہونے کے باعث صوبے کو گندم مہنگے داموں مل رہی ہے سندھ حکومت خیبرپختو نخوا کو گندم فراہم کرنے پر آمادہ ہے۔

    ملاقات میں اسپیکر صوبائی اسمبلی بابرسلیم سواتی، نو منتخب صوبائی وزیر شفیع جان اور چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا شہاب علی شاہ بھی موجود تھے اس موقع پر صو بے میں پہلی مرتبہ ساؤتھ ایشیا کامن ویلتھ ویمن پارلیمنٹیرینز کانفرنس کے انعقاد سے متعلق امور پر بھی گفتگو کی گئی۔

    گورنر خیبرپختونخوا نے کہا کہ خیبرپختونخوا کی پارلیمانی تاریخ میں پہلی بار اس اہم کانفرنس کا انعقاد صوبے کے لیے اعزاز ہے، ملاقات کے دوران خیبرپختونخوا پولیس کی تنخواہوں میں اضافے سے متعلق معاملات بھی زیر غور آئے،گورنر فیصل کریم کنڈی نے چیف سیکرٹری کو دیگر صوبوں کی پولیس کو دی جانے والی تنخواہو ں اور مراعات کا جائزہ لے کر سفارشات صوبائی حکومت کو ارسال کرنے کی ہدایت کی۔

  • خیبرپختونخوا کابینہ میں توسیع، 17 نئے اراکین شامل

    خیبرپختونخوا کابینہ میں توسیع، 17 نئے اراکین شامل

    وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کابینہ میں توسیع کرتے ہوئے 17 نئے اراکین کو شامل کرلیا، جن میں 5 وزرا، 4 مشیر اور 8 معاونین خصوصی شامل ہیں۔

    گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کابینہ کی توسیع سے متعلق سمری کی منظوری دے دی ہے، جس کے بعد وزیراعلیٰ سمیت صوبائی کابینہ کے اراکین کی مجموعی تعداد 30 ہو گئی ہےنئے وزرا میں نذیر احمد عباسی، شکیل احمد، محمد عدنان قادری، محمد عارف احمد زئی اور طارق محمود آریانی شامل ہیں، جبکہ شفیع جان کو معاون خصوصی سے ترقی دے کر وزیر بنا دیا گیا ہے۔

    مشیروں میں پیر مصور خان، لیاقت علی خان، ہمایوں خان اور میاں محمد عمر کے نام شامل کیے گئے ہیں اسی طرح 8 معاونین خصوصی میں طارق سعید، محمد عثمان، طفیل انجم، افتخار اللہ جان، سمیع اللہ خان، ملک عدیل اقبال، محمد خورشید اور محمد اسرار شامل ہیں، گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کل نئے وزرا اور معاونین خصوصی سے عہدوں کا حلف لیں گے-

  • خیبرپختونخوا میں پاکستان کا پہلا ورچوئل سکول قائم

    خیبرپختونخوا میں پاکستان کا پہلا ورچوئل سکول قائم

    پشاور: پائلٹ منصوبے کے تحت خیبرپختونخوا کے 46 سرکاری اسکولوں کو آن لائن نظام تعلیم پر منتقل کیا جا چکا ہے-

    وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی زیر صدارت محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم کا اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں صوبے میں جدید تعلیمی اصلاحات سے متعلق اہم فیصلے کیے گئےاجلاس میں خیبرپختونخوا حکومت نے پبلک سیکٹر میں پاکستان کا پہلا ورچوئل اسکول قائم کرنے اور اے آئی ٹیچر متعارف کرانے کا انقلابی اقدام کیا وزیر اعلیٰ نے اے آئی ایجوکیشن اتھارٹی کے قیام کی اصولی منظوری دیتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہوم ورک مکمل کرنے کی ہدایت بھی جاری کی۔

    وزیر اعلیٰ نے ہدایت کی کہ ورچوئل اسکولز کے ذریعے تعلیم حاصل کرنے والے بیرون ملک اور اسکول سے باہر طلبا کو بھی باقاعدہ طلبا کا درجہ دیا جائے ورچوئل اسکولز اور اے آئی ٹیچر کا قیام وقت کی اہم ضرورت ہے اور یہ منصوبہ خاص طور پر دور دراز علاقوں کے طلبا کے لیے گیم چینجر ثابت ہوگا۔

    بریفنگ میں بتایا گیا کہ پائلٹ منصوبے کے تحت صوبے کے 46 سرکاری اسکولوں کو آن لائن نظام تعلیم پر منتقل کیا جا چکا ہے، جن میں 33 بندوبستی اضلاع اور 13 ضم اضلاع کے اسکول شامل ہیں جون میں ترقیاتی پروگرام کے تحت منصوبے کا دائرہ کار بڑھاتے ہوئے مزید 175 اسکولوں کو بھی ورچوئل اسکولوں میں تبدیل کیا جائے گا۔

    منصوبے کے تحت ایک مرکزی ڈیجیٹل تدریسی اسٹوڈیو قائم کیا گیا ہے جہاں سے لائیو انٹرایکٹو کلاسز اور لیکچرز کی ریکارڈنگ کی سہولت دستیاب ہوگی،اے آئی ٹیچر کے ذریعے انگریزی، ریاضی، فزکس، کیمسٹری اور حیاتیات جیسے مضامین پڑھائے جا رہے ہیں، جبکہ یہ سہولت اردو، انگریزی اور پشتو زبانوں میں 24 گھنٹے دستیاب ہوگی اس منصوب کی مجموعی لاگت 153.80 ملین روپے ہے جبکہ ٹیلی تعلیم مرکز کے قیام پر 44.85 ملین روپے خرچ کیے جائیں گےیہ منصوبہ خیبرپختونخوا میں جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے تعلیم کے فروغ کی جانب ایک اہم پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے۔

  • ریڈیو پاکستان حملہ کیس : وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی ملزم نامزد

    ریڈیو پاکستان حملہ کیس : وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی ملزم نامزد

    پشاور انسداد دہشتگردی عدالت نمبر 3 میں ریڈیو پاکستان حملہ کیس کی سماعت ہوئی جس دوران وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کو نامزد ملزم قرار دیا گیا۔

    ریڈیو پاکستان کے وکیل شبیر حسین گیگانی اور تفتیشی افسر عدالت میں پیش ہوئے، جہاں تفتیشی افسر نے چالان عدالت میں جمع کرایا، چالان میں وزیر اعلیٰ، سابق صوبائی وزراء تیمور سلیم جھگڑا، کامران بنگش، ضلعی صدر عرفان سلیم اور کارکن عامر چمکنی سمیت دیگر کو نامزد کیا گیا۔

    تفتیشی افسر کے مطابق پولیس نے پنجاب فارنزک لیب اور نادرا کی رپورٹس کی بنیاد پر وزیر اعلیٰ سمیت دیگر ملزمان کو چالان میں شامل کیا تاہم تفتیشی افسر نے عدالت میں بتایا کہ وہ چالان ریکارڈ جمع کروا رہے ہیں، مگر پراسیکیوٹر ریکارڈ وصول نہیں کر رہے،ریڈیو پاکستان کے وکیل شبیر حسین گیگانی نے چالان جمع نہ کروائے جانے پر عدالت میں درخواست دائر کی ہے، جس میں انہوں نے ڈپٹی پبلک پراسیکیوٹر اور پبلک پراسیکیوٹر کے خلاف کارروائی کی استدعا کی۔

    عدالت نے اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر کو طلب کر لیا ہے اور سماعت آئندہ تاریخ تک ملتوی کر دی گئی۔

    پنجاب میں ناجائز اسلحہ کے خاتمے کے لیے جامع ایکٹ کی منظوری

    رمضان میں شیطان کی گدی سنبھال لی، ڈاکٹر نبیہہ کے شوہر کی فضا علی پر سخت تنقید

    پی ایس ایل 11: ڈیوڈ وارنر دوبارہ کراچی کنگز کے کپتان مقرر

  • ہائیکورٹ کوریڈور میں سہیل آفریدی کی  ویڈیو بنانے پر ایک شخص سے موبائل فون چھین لیا گیا

    ہائیکورٹ کوریڈور میں سہیل آفریدی کی ویڈیو بنانے پر ایک شخص سے موبائل فون چھین لیا گیا

    وزیراعلیٰ کے پی سہیل آفریدی چیف جسٹس سرفراز ڈوگر سے بات کرنے اسلام آباد ہائیکورٹ پہنچے تھے تاہم انہیں چیف جسٹس کے سیکرٹری سے ملاقات کے لیے سیکرٹری کے آفس میں آنے کا پیغام دیا گیا۔

    وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اس سلسلے میں اسلام آباد ہائی کورٹ پہنچے تاکہ بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کے مقدمات کی سماعت جلد از جلد ہونے اور بعض متفرق درخواستوں و ضمانت کی درخواستوں کو جلد از جلد مقرر کرنے کے حوالے سے بات کر سکیں۔

    وزیراعلیٰ کو چیف جسٹس کے سیکریٹری نے ملاقات کے لیے سیکریٹری آفس میں آنے کی ہدایت دی، لیکن انہوں نے جواب دیا کہ بانی پی ٹی آئی کے کیسز نہیں لگ رہے، میں اوپن کورٹ میں ہی بات کروں گا۔ اس موقع پر عمران خان کی بہنیں عظمیٰ خان، نورین خان اور علیمہ خان بھی عدالت میں موجود تھیں۔

    میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ چیف جسٹس سے ملاقات ممکن نہیں تھی، اسی لیے میں رمضان کے روزے کی حالت میں روسٹرم پر گیا اور انہیں سلام کیا، مگر انہوں نے سلام کا جواب بھی نہیں دیا۔

    سہیل آفریدی نے کہا کہ ہم یہ دکھانا چاہتے ہیں کہ پی ٹی آئی احتجاجی یا انتشاری سیاست نہیں کرتی، بلکہ تمام آپشنز استعمال کرنے کے بعد پرامن احتجاج کرتی ہے، جو ہمارا حق ہےسوا گھنٹہ انتظار کے باوجود چیف جسٹس نے سلام کا جواب تک نہیں دیا، جبکہ شوکت خانم اسپتال کے ڈاکٹرز سے طبی معائنہ کی درخواست بھی سماعت کے لیے نہیں لگی۔

    اسی دوران سہیل آفریدی کی ہائی کورٹ کوریڈور میں ویڈیو بنانے پر ایک شخص سے موبائل فون چھین لیا گیاپولیس نے وزیراعلیٰ کی روانگی کی ویڈیو بنانے پر ان کے ساتھ آنے والے شخص سے موبائل چھین کر ویڈیو ڈیلیٹ کروائی ویڈیو ڈیلیٹ کروانے کے بعد متعلقہ شخص کو موبائل فون واپس کر دیا گیا۔

  • تصادم کی سیاست نہیں چاہتے،سہیل آفریدی

    تصادم کی سیاست نہیں چاہتے،سہیل آفریدی

    وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے بانی پی ٹی آئی کی صحت کے معاملے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ 4 سے 5 دن تک دھرنا دیا گیا، لیکن اس معاملے پر سیاست نہیں کی گئی۔

    وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے پشاور میں خطاب کرتے ہوئے رہنما پی ٹی آئی سہیل آفریدی نے پشاور پریس کلب کو جمہوریت کی اعلیٰ مثال قرار دیا اور کہا کہ خیبرپختونخوا کے صحافی پیشہ ورانہ اور اخلاقی دائرے میں رہ کر تنقید کرتے ہیں انہوں نے وفاقی حکومت اور سیاسی مخالفین کو بھی سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔

    سہیل آفریدی نے کہا کہ پشاور پریس کلب نے ہمیشہ جمہوری اقدار کو فروغ دیا ہے اور یہاں کے صحافی مشکل حالات میں بھی ذمہ داری سے فرائض انجام دیتے رہے ہیں وہ صحافیوں کی مثبت تنقید کو خوش دلی سے قبول کرتے ہیں اور خیبرپختونخوا کا ماحول دیگر صوبوں سے مختلف ہے،بانی پی ٹی آئی کی صحت کے حوالے دے 4 سے 5 دن تک دھرنا دیا گیا، لیکن اس معاملے پر سیاست نہیں کی گئی، ذاتی معالج تک رسائی نہ دینا افسوسناک تھا اور ان کے جمہوری رویے کا غلط فائدہ اٹھایا گیا۔

    رجب بٹ ایک بار پھر تنازعے کی زد میں آ گئے

    سہیل آفریدی نے سابق وزیراعظم نواز شریف پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ علاج کے لیے گئے اور طویل عرصے بعد واپس آئے، جبکہ ان کے لیڈر نے زخمی ہونے کے باوجود عدالتوں میں پیشیاں بھگتیں انہوں نے کہا کہ اگر وہ کال دیں تو انہیں کوئی نہیں روک سکتا، تاہم وہ تصادم کی سیاست نہیں چاہتے-

    انہوں نے کہا کہ تیراہ کے لیے 4 ارب روپے کی منظوری پر اعتراضات اٹھائے گئے، جبکہ ایک وزیراعلیٰ نے 11 ارب روپے کا طیارہ خریدا جس پر کوئی آواز نہیں اٹھائی گئی، یہ قومی خزانے کا پیسہ ہے اور وفاق خیبرپختونخوا کو اس کا حق ادا نہیں کر رہا، جسے ہر صورت حاصل کیا جائے گا۔

    33 بچوں سے زیادتی کیس: میاں بیوی کو سزائے موت

  • سہیل آفریدی کی ٹک ٹاک بنوانے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل،صارفین کی شدید تنقید

    سہیل آفریدی کی ٹک ٹاک بنوانے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل،صارفین کی شدید تنقید

    وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی ٹک ٹاک بنوانے پر شدید تنقید کی زد میں آ گئے-

    سوشل میڈیا پر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی ایک ویڈیو وائرل ہو رہی ہے جس میں انہیں سڑک پر کھڑا دیکھا جا سکتا ہے اور اردگرد کیمرا مین مختلف اینگلز سے تصاویر اور ویڈیوز بنا رہے ہیں،ویڈیو کی وائرل ہونے کےصارفین کی جانب سے وزیر اعلیٰ پر شدید تنقید کی گئی۔

    معید پیرزادہ نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس ڈرامے کی ضرورت پڑ گئی؟ ایک صارف نے کہا کہ اُدھر عمران خان کی آنکھ جا رہی ہے اور اِدھر ٹک ٹاک کی شوٹنگ ہو رہی ہےہر اینگل سے کیمرہ والا بیٹھا ہوا ہے، کمال نہیں ہو گیا-

    ایک اور صارف نے کہا کہ میں نے کبھی سہیل آفریدی پر تنقید نہیں کی لیکن آج یہ شوٹنگ دیکھ کر مجھے بھی تکلیف ہوئی ہے ہم مریم نواز کو ٹک ٹاکر کہتے ہیں لیکن یہاں ہمارے اپنے وزیراعلیٰ جو بہت بڑی ذمہ داری رکھتے ہیں وہ ٹک ٹاک بنا رہے ہیں انہیں اپنی ذمہ داری کا احساس ہونا چاہیے۔

    ایک صارف نے لکھا کہ سہیل آفریدی صاحب اگر یہی گند گھولنا ہے تو مہربانی فرمائیں گھر بیٹھ جائیں،جبکہ ایک صارف نے تو ویڈیو کو عنوان بھی دے دیا لکھا کہ فلم کا نام عشق عمران ہے-

    ایک سوشل مٰڈیا صارف نے سہیل آفریدی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ سہیل آفریدی نے ہی نہیں بلکہ سبھی وزیر اعلیٰ نے شوٹنگ اور فوٹو شوٹ کے لیے باقاعدہ سوشل میڈیا ٹیمیں رکھی ہوئی ہیں جو مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز جن میں ٹک ٹاک بھی شامل ہیں ان پر ویڈیوز اور تصاویر پوسٹ کرتی رہتی ہیں۔