Baaghi TV

Tag: سیاحت

  • سیاحت کے فروغ کےلیے پنجاب حکومت کے قابل تحسین اقدامات

    سیاحت کے فروغ کےلیے پنجاب حکومت کے قابل تحسین اقدامات

    لاہور:سیاحت کے فروغ کےلیے پنجاب حکومت کے قابل تحسین اقدامات سامنے آئے ہیں، اس حوالے سے یہ معلوم ہوا ہےکہ پنجاب حکومت نے صوبے میں سیاحت کو فروغ دینے کےلیے کچھ بنیادی اقدامات کیے ہیں جو کہ قابل تحسین بھی ہیں، اس حوالے سے یہ معلوم ہوا ہےکہ پنجاب حکومت نے کلرکہار، مری اور دیگرمقامات پر امن وامان اورسیاحوں کی رہنمائی کےلیے پولیس اہلکاروں کی ذمہ داری لگادی گئی ہے

    یہ اہلکار سیاحوں کی آمد ورفت کو محفوظ بنانے کےلیے اپنی خدمات بہتر انداز سے پیش کریں‌گے ، اس کےساتھ ساتھ ان مقامات تک رسائی کےلیے جہاں سیاحت سے متعلقہ سرکاری محکمے اور اہکار خدمات پیش کررہے ہیں وہاں پنجاب پولیس یہ بھی فریضہ ادا کررہی ہے اور منزل تک پہنچنے کےلیے مکمل رہنمائی فراہم کررہی ہے،

    دوسری طرف یہ بھی معلوم ہوا ہےکہ لاہور ، مری اور ٹیکسلا کے درمیان تک مختلف جگہوں‌ استقبالیہ کیمپ لگائے گئے ہیں تاکہ ان راستوں پر سفر کرنے والے سیاحوں کوریفریش منٹ دی جائے اور ان کی رہمائی کےلیے تمام مکنہ حد تک خدمات پش کی جائیں ، اس حوالے سے سیکرٹری سیاحت پنجاب اور ڈی ٹی سی کے افسران اور اہلکاروں نے سیاحوں کو ہاٹ لائن رابطے کی سہولت بھی دی ہے اور ہرقسم کی خدمت بھی پیش کی ہے تاکہ سیاحوں کو کسی قسم کی مشکل پیش نہ آئے

    سیاحتی مقامات پر انٹرنیٹ سروس کی فراہمی پر خصوصی توجہ کی ہدایت

     

     

  • کشمیر ڈائری: آؤ کشمیر کا سفر کرتے ہیں!!! — بلال شوکت آزاد

    کشمیر ڈائری: آؤ کشمیر کا سفر کرتے ہیں!!! — بلال شوکت آزاد

    تیار ہو جائیں! آپ جو کچھ پڑھنے والے ہیں وہ آپ کو اس مقام تک پہنچا دے گا کہ آپ خود کو آزاد کشمیر، پاکستان کا سفر کرنے کے لیے جوش خروش اور ولولے سے اپنی ہی نشست پر ایک بے چین پرندے کی طرح پر پھڑ پھڑاتا ہوا پائیں گے۔

    پاکستان ایسی جگہوں کا گھر ہے جو آپ کو دلکش قدرتی حسن کی شان میں حیران ہونے پر مجبور کر دیتا ہے۔ ایسی ہی ایک جگہ آزاد کشمیر ہے، سحر انگیز علاقوں کی دلدل کہ اس کے وجود پر یقین کرنا مشکل ہو جاتا ہے اور لوگ وفور شوق اور تاب حسن نہ لاکر اس خطے کو جنت نظیر پکار اٹھتےہیں۔

    پاکستان میں تمام دلکش سیاحتی مقامات میں سے، آزاد کشمیر ایک ایسا علاقہ ہے جو سیاحتی بالادستی کے دیگر تمام دعووں کی نفی کرتا ہے۔ کیونکہ کسی بھی اور سیاحتی مقام کی نظیر اس خطے سے میل نہیں کھاتی کیونکہ کشمیر تو کشمیر ہے اور اس جیسا خطہ دنیا میں اور کوئی نہیں۔ اسی وجہ سے یہ کوئی تعجب کی بات نہیں کہ ہم آج تک شور مچانے والے اپنے پڑوسی بھارت سے اس جنت پر غاصبانہ قبضہ کرنے پر جھگڑ رہے ہیں اور بیشک ہمارا دعوی حق ہے۔

    آزاد کشمیر عالمی سطح پر تسلیم شدہ خطہ جنت نظیر ہے۔ یہ سب پذیرائی کشمیر کی سر سبز وادیوں کی وجہ سے ہے جو آپ کو اس بات پر مجبور کرتی ہیں کہ ایک بار جب آپ انہیں دیکھ لیں تو کبھی بھی اپنی آنکھیں نہ ہلائیں۔ یہ آبی گزرگاہوں، وافر جھیلوں اور وائلڈ لائف ایڈونچر کا تجربہ کرنے کی اعلی جگہ ہے۔

    پاکستانی قوم کا یہ زمین کا ٹکڑا دنیا بھر میں اتنا ہی مشہور ہے جتنا کہ کوئی بلند و بالا پہاڑ ہو سکتا ہے۔ شاہانہ سر سبز وادیاں، طاقتور آبی گزرگاہیں، لذت بخش جھیلیں، اور حیران کن و بے مثال کشمیری زندگی۔

    میں تو کہتا ہوں کہ اپنی اگلی چھٹیوں کا منصوبہ کہاں بنانا ہے اس کے بارے میں سوچ رہے ہو؟ تو بھئی یورپ انتظار کر سکتا ہے لیکن آپ کو پاکستان کا کشمیر دیکھنا چاہیے سو پہلی فرصت میں بیگ پیک کریں اور منچلے بن کر کشمیر کی جنت کا رخت سفر باندھ لیں۔

    کیوں بھئی؟

    کشمیر ہی کیوں؟

    یہاں ہے آپ کی اس کیوں کا جواب۔۔۔

    ذیل میں آزاد کشمیر کے سرفہرست پرکشش مقامات ہیں جو آپ کو دیکھنے کی ضرورت ہے ورنہ آپ خود کو زندہ تصور مت کریں۔۔۔

    1. وادی نیلم

    سیاحوں کی توجہ کی خاطر سیاحتی مقام کو دلکش الغرض مکمل پیکج ہونے کی ضرورت ہے۔ یہ ایک یقینی اور ضروری بات ہے۔ آپ کو نیلم ویلی میں نیلے میٹھے پانی کی ندیاں اور عر سو ہریالی ملے گی، جیسا کہ کسی بھی غیر ارضی جگہ مطلب جنت کی طرح شاندار۔ یہ بنی نوع انسان کے لیے اللہ کا عظیم تحفہ ہے، خوش قسمتی سے، آزاد کشمیر، پاکستان میں واقع ہے۔ کوئی بھی آپ کو پاکستان میں سرفہرست پرکشش مقامات کا مشورہ دے گا تو وہ وادی نیلم کو نہیں بھولے گا۔ اس کے بہت سے مضافاتی اور چھوٹے قصبے اور دیہات، جھیلیں، ٹریکنگ ٹریلز، پہاڑی گزرگاہیں اور دیگر طرح کی عظیم پہاڑوں کے نظارے اورجھلکیاں ہیں جو اسے سیاحوں کے لیے قابل ذکر مقامات میں نمبرون بناتے ہیں۔

    2. راولاکوٹ

    آزاد کشمیر کا ایک مشہور قصبہ جو پونچھ کا ضلعی ہیڈ کوارٹر بھی ہے۔ اونچی پہاڑیوں کے درمیان ایک دلکش وادی، جو اسلام آباد اور راولپنڈی سے تقریباً 80 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ چونکہ یہ صرف 80 کلومیٹر ہے، اس کا یقیناً مطلب ہے کہ آپ آسانی سے اس علاقے تک پہنچ سکتے ہیں اور اگر آپ قومی دارالحکومت یا راولپنڈی میں ہیں تو اس سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ شمالی علاقہ ہونے کی وجہ سے یہ سردیوں میں برفباری کی بدولت بند ہو سکتا ہے، اس لیے ہمیشہ گرمیوں میں جانے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔ گرمیوں کا موسم راولاکوٹ کی دلفریب خوبصورتی کو اجاگر کرتا ہے۔ اس علاقے میں گھومتے پھرتے ہوئے، آپ کو یہاں واقع تتہ پانی، سدھنگلی اور تولی پیر کے مشہور سیاحتی مقامات پر ضرور جانا چاہیے۔

    3. بنجوسا جھیل

    اگر آپ راولاکوٹ کے ارد گرد گھومتے ہیں تو آپ کو یہاں بنجوسا جھیل کا راستہ ضرور مل جائے گا۔ یہ مثالی طور پر وہ علاقہ ہے جس میں کافی مقدار میں ہریالی ہے۔ سبز وہ رنگ ہے جو آپ کو یہاں زیادہ تر ملے گا، اس کے بعد سرخ رنگ کا تھوڑا سا کنٹورنگ ہوگا۔ قدرتی صاف جھیل کے اوپر لمبے لمبے درخت ہیں جو ایک بڑے علاقے کو ڈھانپے رہتے ہیں۔

    آپ کو عام طور پر بنحوسا جھیل دیکھنے کی غوض سے گرمیوں میں ادھر کا رخ کرنا چاہیے کیونکہ گرمی کےموسم میں وادی تو وادی موسم بھی مہمان نواز ثابت ہوتا ہے کیونکہ دن میں باہر کا درجہ حرارت حد سے حد 25 ڈگری سینٹی گریڈ ہوتا ہے البتہ سردیوں میں آپ کو ادھر جانے کا مشورہ ودینا ظلم ہوگا کیونکہ سردیوں میں ادھر برفباری کی بدولت چہار سو سفید چادر تنی نظر آتی ہے اور زندگی ٹھہر جاتی ہے۔ آپ یہاں آکر ان تصاویر کو اپنے کیمرے میں رکھنے کا تصور کریں جن میں قدرت ایک الہڑ مٹیار کی طرح یہاں وہاں رنگ بکھیرتی ہوئی نظر آئے – خوبصورتی کا تصور اور تعریف آپ ادھر آکر ہی سمجھیں گے! کیونکہ جب خزاں کا موسم دہانے پر ہوتا ہے، بنجوسا سنہری اور سرخی مائل بھورے رنگوں میں سیر ہوتا ہے۔

    4. وادی جہلم

    آزاد کشمیر کی یہ خاص وادی مقامی اور بین الاقوامی سیاحوں کی ایک میزبان ہے، جو گرمیوں میں چاروں طرف سے پر ہجوم ہوتی ہے۔ یہاں جو چیز سیاحوں کو عجوبہ لگتی ہے وہ بل کھاتا ہوا دریا ہے جو مشرق سے مغرب پہاڑوں کے درمیان بہتا ہے۔ جہلم میں "وادی لیپا” کہلانے والا ایک اور خوبصورت علاقہ سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہے جسے لوگ دیکھنے کے خواہشمند رہتے ہیں۔

    گرمیوں میں، پکے ہوئے چاول کے کھیت زوروں پر ابھرتے ہیں اور رہائشیوں کے لکڑی کے عصری گھر ایک دلکش منظر پیش کرتے ہیں۔ آپ نے اس وادی کی چیری جیسی چیری کا ذائقہ پہلے کبھی نہیں چکھا ہو گا، یہاں کے لوگوں کی متناسب جسامت آپ نے پہلے کبھی نہیں دیکھی ہو گی اور اخروٹ، اوہ اخروٹ توڑنے کا جو مزہ آپ کو ادھر مل سکتا ہے، آزاد کشمیر میں وادی جہلم کے علاوہ اور کہیں نہیں مل سکتا۔

    5. رام کوٹ قلعہ

    یہ حیران کن سرزمین کشمیر کی چڑھائی چڑھتے ہوئے آتی ہے، دریائے جہلم سے ملحقہ، آزاد کشمیر کا یہ سیاحتی مقام آپ کے کیمرے کا منتظر ہے۔ رام کوٹ قلعہ اب کوئی عسکری قلعہ نہیں رہا جہاں راجے بادشے خود کو محفوظ سمجھتے تھے لیکن اب یہ ایک خوبصورت سیاحتی مقام ضرور ہے۔ اس قلعے کا پس منظر 5ویں اور 9ویں صدی کا ہے جس نے تاریخ میں اپنے آثار چھوڑے ہیں، 17ویں صدی کے دوران مسلم جنگجوؤں نے اس قلعہ کے آثار دریافت کیے اور انہیں ہٹا دیا تھا۔ یہ علاقہ سیاحت کے دلدادہ لوگوں کے لیے جوش و خروش سے بھرپور مقام سیاحت ہے۔

    6. تولی پیر

    ذرا اسے سوچیں کہ ایک سر سبز و شاداب چراگاہ نما وادی میں آپ کھڑے ہوں تو آپ وہاں سے اور کہاں جانے کا سوچیں گے, یقیناً جنت۔ یہ ایک مشہور چوٹی ہے جس کے بارے میں آپ کو ٹینشن لینے کی ضرورت نہیں بس آزاد کشمیر میں داخل تو آپ تولی پیر کی جانب جانے کے لیے اپنا راستہ پا لیں گے, اگر آپ راولکوٹ جاتے ہیں، یا اگر آپ کو اس کا علم نہیں ہے، تو آپ راولکوٹ میں قیام کے دوران اس کے بارے میں جان لیں گے۔ سطح سمندر سے 8800′ بلندی پر واقع یہ چوٹی آپ کو ایسا محسوس کراتی ہے کہ آپ ہر چیز کے اوپر ہیں۔

    موسم بہار کے آخری مہینوں میں تولی پیر کی طرف جائیں کیونکہ یہی موسم سازگار ہے. باقی مہینوں میں اس کی اونچائی کی وجہ سے یہ صرف ٹھنڈا اور برف سے ڈھکا رہتا ہے۔ اس کی خوبصورتی کو کیمرے کی آنکھ سے کشید کرنا ہو تو اپریل سے اکتوبر میں ہی اس طرفکا قصد کریں۔

    7. پیر چناسی

    آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد میں واقع یہ علاقہ پاکستان میں سیاحوں کے لیے سب سے زیادہ پرکشش مقامات میں سے ایک ہے۔ پیر چناسی قدرت کے نظارے دریافت کرنے کے لیے ایک حیران کن سیاحتی جگہ ہے۔ اس مقام پر آپ کو صبر اور احتیاط کا دامن تھام کے رکھنا ہوگا کیونکہ یہ مقام خوبصورت تو ہے ہی لیکن خطرناک بھی ہے۔

    اس مقام کی تاریخ آپ کو عظیم تر کشمیر کے بزرگ حضرت شاہ حسین سے متعارف کرائے گی، جن کا مزار بنیادی طور پر اسی علاقے میں واقع ہے۔ اس علاقے کے ہر کونے میں سٹیٹ آف دی آرٹ اور خوبصورت فطرت ہے۔ پیرچناسی کی شاندار ہریالی پاکستان بھر سے سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہے۔ اس علاقے کے چاروں طرف دیودار اور بلوط کے درخت ہیں جو گرمیوں میں بہار بکھیرتے ہیں، جبکہ سردیوں میں برف میں لپٹے رہتے ہیں۔

    8. وادی لیپا

    اسے لفاظی مت سمجھیے گا، لیکن ہاں، یہ جنت کی سیڑھی ہے!

    وہاں قدم رکھتےہی کیا آپ یقین کر سکتے ہیں کہ یہ پاکستان ہے؟ یقیناً، یہ وہ مقام ہے جو آپ کو حقیقت کو تسلیم کرنے کے لیے دو بار آنکھیں رگڑنے پر مجبور کرے گا۔ وادی لیپا یقینی طور پر پاکستان میں سیاحوں کے لیے پرکشش مقامات میں سے ایک کے طور پر آزاد کشمیر کی قدر کو بلند کرتی ہے۔ آزاد کشمیر میں آپ کو انتہائی خوش آئند ماحول میں سیاحوں کے لیے مئی سے نومبر کا دورانیہ بہتر ہے۔ اس علاقے میں اونچے پہاڑ اور دیودار کے اونچے درخت ہیں، یہ علاقہ مظفرآباد سے باآسانی قابل رسائی ہے۔ مقامی جیپوں میں سفر کرنے کی بہت سی سہولیات بھی ہیں۔

    9. لال قلعہ

    یہ پاکستان کے ان قلعوں میں سے ایک کے طور پر جانا جاتا ہے جہاں آپ کو ضرور جانا چاہیے۔ یہ قلعہ ماہرین آثار قدیمہ اور سفر کے جنونی افراد کے لیے ایک سرفہرست علاقہ ہے جو اس خطے کی تاریخ میں جھانکنا پسند کرتے ہیں۔

    آپ اسے اب کھنڈر سمجھ سکتے ہیں، لیکن یہ بہت ساری آفات کا مقابلہ کر چکا ہے اور اسے بہتری کی ضرورت ہے۔ پھر بھی، یہ علاقہ آرٹ کا ایک شاندار مقام ہے۔ اسے مظفرآباد قلعہ بھی کہا جاتا ہے، لہٰذا ابہام میں نہ رہیں۔ یہ مقام آزاد کشمیر کا ایک مشہور ورثہ ہے جس نے بہت سے غیر ملکی سیاحوں کو بھی اپنے حصار دیکھا ہے۔

    10. شونٹر جھیل

    ہر وہ جگہ جو فطرت کی بہترین عکاسی کرے اور جہاں مئی سے اگست تک رسائی ممکن ہو اس میں شونٹر جھیل کا نام نہ لینا زیادتی ہوگی۔ یہاں کا موسم اور مقامی لوگ سیاحوں سے پورا تعاون کرتے ہیں۔ آپ اگر کیل, نیلم ویلی میں آئیں تو وہاں سے آگےاس جھیل تک حیپ کا سفر کرسکتے ہیں۔

    اور اگر آپ کیمپنگ کا شوق رکھتے ہیں، تو ہچکچاہٹ کا اظہار نہ کریں کیونکہ بہت سے سیاح بھی اسے ایک بہترین کیمپنگ اسپاٹ سمجھتے ہیں۔ ہوٹلنگ سے زیادہ کیمپنگ کے لیے سازگار ہونے کی وجہ سے، آپ کو یہاں رہائش کی دیگر سہولیات بھی باآسانی ملتی ہیں۔ شونٹر جھیل چھوٹی ہو سکتی ہے لیکن اگر آپ کیل سے جیپ پر سوار ہوں تو یہ ضرور دیکھنے کے قابل ہے۔ مجموعی طور پر، اس علاقے کا شاندار جغرافیہ اسے آزاد کشمیر کے سیاحتی مقامات کی فہرست میں شامل کرتا ہے۔

    یہاں تک پڑھ کر یقیناً اب جب کہ آپ آزاد کشمیر کی دیوانی خوبصورتی سے مغلوب ہو چکے ہونگے، تو اپنی اگلی چھٹی کا منصوبہ بناتے وقت ان دس جگہوں کی ترتیب بنالیں اور اب سے الٹی گنتی شمار کرنا شروع کردیں۔ ان تمام مقامات کا تصور کریں اور پھر اگر آپ ان سب کا حقیقی تجربہ کر لیں تو ساری عمر آپ اس خمار سے باہر نہیں نکل سکیں گے کہ آپ نے جیتے جی جنت نظیر خطہ دیکھ لیا۔

  • مذہبی سیاحت کا فروغ حکومت کی اولین ترجیح ہے،چیئرمین قومی اسمبلی سٹینڈنگ کمیٹی

    مذہبی سیاحت کا فروغ حکومت کی اولین ترجیح ہے،چیئرمین قومی اسمبلی سٹینڈنگ کمیٹی

    چیئرمین قومی اسمبلی سٹینڈنگ کمیٹی برائے مذہبی امور کی قیادت میں وفد کا گوردوارہ کرتار پور صاحب کا دورہ ،انتظامات کا جائزہ لیا.

    چیئرمین قومی اسمبلی سٹینڈنگ کمیٹی برائے مذہبی امور عمران شاہ کی قیادت میں 9 رکنی وفدنے تاریخی گوردوارہ کرتار پور صاحب کا دورہ کیا اورانتظامات کا جائزہ لیا،کرتار پور کی گوردوارہ پربندھک کمیٹی نے مہمانانوں کا استقبال کیا.

    اس موقع پرچیئرمین متروکہ وقف املاک بورڈ حبیب الرحمن گیلانی ،ممبر قومی اسمبلی کھیل داس ،ممبر قومی اسمبلی نویدعامرجیوا، پاکستان سکھ گورودوارہ پربندھک کمیٹی کے پردھان سردار امیر سنگھ ،سردار ستونت سنگھ, سردار اندر جیت سنگھ سردار سبت سنگھ، سی ای او کرتارپور ثنا اللہ خان, میجر نعیم افضل,رانا طارق جاوید, ڈپٹی سیکر ٹری فراز عباس, بورڈ ترجمان عامر حسین ہاشمی, علی شہزاد ،عمران علی, اعجاز علی ،سائرہ بانوشاہدہ اخترشہناز ملک ،شگفتہ جمانی ،سیدپیر فضل علی شاہ اوراختر احمدسمیت دیگر بھی موجود تھے.

    وفد نے زیر و پوائنٹ پر بھارت سے آنے والے مہمانوں کے لئے کیے گئے انتظامات کا جائزہ لیا اور حکومتی و ٹرسٹ بورڈ کے اقدامات کو سراہا، پاکستان سکھ گورودوارہ پربندھک کمیٹی کے پردھان سردار امیر سنگھ نے وفد کو گورودوارہ کی تاریخی اہمیت بارے تفصیلی بریفنگ دی.

    چیئرمین کمیٹی سید عمران شاہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ مذہبی سیاحت کا فروغ حکومت کی اولین ترجیح اور اس کے لیے بھرپور اقدامات کیے جا رہے ہیں،انہوں نے کہاکہ اقلیتوں کو جتنی سہولیات اور تحفظ پاکستان میں حاصل ہے، دنیا میں کہیں بھی نہیں ، متروکہ وقف املا ک بورڈ زائرین کو سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے کلیدی کردارادا کر رہا ہے اور دنیا بھر سے آنے والے ہندو و سکھ زائرین کو ہر طرح کی سہولیات مہیا کی جارہی ہیں.

    عمران شاہ نے کہا کہ گورو دواروں و مندروں کی تزئین ارائش اور کمروں کی تعمیر وجنریٹر کی فراہمی کی جا ئے گی،ٹرسٹ پراپرٹی کی حفاظت اور قبضہ گروپوں کے خلاف سخت ایکشن لیا جا ئے گا جس کے لیے پولیس اور دیگر متعلقہ ادارو ں کی خدمات حاصل کی جائیں گی .

    چیئرمین کمیٹی عمران شاہ نے کہاکہ کرتار پور کوریڈور سٹیٹ آف دی آ رٹ منصوبہ ہے، ٹرسٹ بورڈ کے معاملات کو بہتر بنانے کے لیے کمیٹی کا بھر پور تعاون حاصل رہے گا،چیئر مین متروکہ وقف املاک بورڈحبیب الرحمن گیلانی نے کہاکہ اقلیتوں کی خدمت کے ساتھ مذہبی سیاحت کے فروغ کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں اوریہی وجہ ہے کہ پاکستان دنیا میں اقلیت نواز ملک کے طور پر جانا جاتا ہے، کھیل داس کوہستانی نے کہاکہ پاکستان میں اقلیتوں کی عبادت گاہیں پہلے سے زیادہ محفوظ اوردنیا بھر کے سکھ و ہندو اقدامات سے مطمئن ہیں،انہوں نے کہاکہ وزیراعظم محمد شہباز شریف اقلیتوں سے خصوصی محبت کرتے ہیں اوران کی ہدایات پر اقلیتوں کو ہر ممکن سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔

  • سیلابی صورتحال سے سیاحت بری طرح متاثر،سیاحتی مقامات پر ویرانیوں نے ڈیرے ڈال لیئے

    سیلابی صورتحال سے سیاحت بری طرح متاثر،سیاحتی مقامات پر ویرانیوں نے ڈیرے ڈال لیئے

    ملک بھر میں سیلابی صورتحال سے سیاحت بری طرح متاثر،سیاحتی مقامات پر ویرانیوں نے ڈیرے ڈال لیئے ہیں.

    ملک میں جاری سیلابی صورتحال کے باعث ملکہ کوہسار، گلیات سمیت دیگر سیاحتی مقامات پر سیاحوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر رہ گئی، بڑی تعداد میں سیاحوں نے سیاحتی ٹرپس منسوخ کردیے۔

    نجی ٹی وی کے مطابق: سیاحوں کی آمد سے جڑے ہوٹل مالکان، ٹرانسپورٹرز سمیت دیگر کاروباری افراد شدید پریشانی سے دوچار ہیں، گلیات میں ہوٹلنگ کے کاروبار سے منسلک حاجی سعید شبری کا کہنا تھا کہ سیلاب کے باعث ملک کے دیگر حصوں سے آنے والے سیاحوں نے اپنے ٹرپس منسوخ کردئیے، اسی وجہ سے مری، گلیات سمیت دیگر سیاحتی مقامات پر ویرانیوں کے ڈیرے ہیں۔

    اکا دکا سیاح راولپنڈی اسلام آباد سے سیاحتی مقامات کا رخ کررہے ہیں جو شام ڈھلتے ہی واپسی اختیار کرلیتے ہیں، معمولی حالات میں اس سیزن میں مری اور گلیات کے تمام ہوٹلز سیاحوں سے بھر جاتے ہیں، ملک کے دیگر علاقوں میں گرمی سے ستائے سیاح ان علاقوں میں آکر یہاں کے موسم کو خوب انجوائے کرتے ہیں جس سے یہاں موجود کاروباری افراد خوب منافع کماتے ہیں مگر سیلاب کی وجہ سے سیاحت نہ ہونے کے برابر ہے۔

    راولپنڈی اسلام آباد سے سیاحوں کو ٹرانسپورٹ فراہم کرکے روزگار حاصل کرنے والے ٹرانسپورٹر خالد یامین کا کہنا تھا کہ وہ پرائیوٹ ٹور کمپنیوں کے ساتھ منسلک ہیں ہر سال اگست کے مہینے میں سیاحوں کی بڑی تعداد سیاحتی مقامات کا رخ کرتی ہے، سیاحوں کو سیاحتی مقامات تک لے جانے کے لیے ہیوی گاڑیاں استعمال ہوتی ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ سیاحوں کی آمد و رفت سے بہترین کمائی ہوجاتی ہیں، لیکن جب سے ناران کاغان، سوات، گلیات، بالاکوٹ اور دیگر علاقوں میں سیلاب آیا ہے پہلے سے بکنگ حاصل کرنے والے سیاحوں نے بکنگز منسوخ کردی ہیں، جس سے ٹرانسپورٹرز بھی پریشان ہیں، صرف مقامی افراد لوکل ٹرانسپورٹ پر اپنے آبائی علاقوں کی جانب جارہے ہیں۔

    خالد یامین کا کہنا تھا کہ اگر حالات لمبے عرصے تک ایسے رہے تو سیاحت کے لیے ٹرانسپورٹ فراہم کرنے والے افراد کو ناقابل تلافی نقصان ہوگا، مری، ٹھنڈیانی، ایوبیہ، ایبٹ آباد، نیلم، کہوٹہ کے سیاحتی مقامات پر قائم ٹک شاپس، ڈھابے بھی ویران ہیں، سیلاب سے سیاحت بری طرح متاثر ہورہی ہے، سیاحت سے آمدن حاصل کرنے والے افراد نے حکومت سے فوری اقدامات کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

  • گلگت:کوہ پیما شہروزکاشف نے8 ہزارمیٹرسےبلند دنیا کی ایک اورچوٹی سرکرلی

    گلگت:کوہ پیما شہروزکاشف نے8 ہزارمیٹرسےبلند دنیا کی ایک اورچوٹی سرکرلی

    گلگت: پاکستان کے نوجوان کوہ پیما شہروز کاشف نے 8 ہزار میٹر سے بلند دنیا کی ایک اور چوٹی سر کر لی۔اطلاعات کے مطابق پاکستان کے شہروز کاشف نے 8035 میٹ رنویں بلند چوٹی گیشر برم ٹو سر کی، اس سے پہلے ماؤنٹ ایورسٹ اور کے ٹو سمیت 8 چوٹیاں سر کر چکے ہیں، وہ چند روز میں جی ون سر کرنے کی مہم کا آغاز کریں گے۔

    خیال رہے کہ یہ شہروز کی دسویں 8 ہزار میٹر سے بلند چوٹی ہو گی، اس مہم میں کامیاب ہوئے تو شہروز کاشف 8 ہزار میٹر سے بلند دنیا کی 10 چوٹیاں سر کرنے والے کم عمر ترین کوہ پیما ہوں گے۔

     

    گیشر برم ٹو چوٹی سر کرنے والوں میں شہروز کاشف، ساجد سد پارہ اور امتیاز سدپارہ شامل ہیں۔

     

    کوہ پیما شہروز کاشف لاہور پہنچ گئے

    دوسری طرف سیاحتی شعبے میں پاکستان کو بڑی کامیابی مل گئی۔ عالمی سیاحتی انڈیکس میں 6 درجہ ترقی سے پاکستان 83ویں پوزیشن پر براجمان ہوگیا۔ ۔ عالمی سیاحتی انڈیکس میں 6 درجہ ترقی سے پاکستان 83ویں پوزیشن پر براجمان ہوگیا۔

    یہ انڈیکس ورلڈ اکنامک فورم کی جانب سے جاری کیا گیا ہے۔ جس میں دنیا بھر کے 117 ممالک کی سیاحتی اعتبار سے درجہ بندی کی گئی ہے۔ پاکستان کی 6 درجہ ترقی سیاحتی شعبہ کی تعمیروترقی کے لیے اہم پیش رفت ہے۔

    نانگا پربت پر پھنسے ہوئے کوہ پیماوں کو ریسکیو کرلیا گیا

    عالمی ادارے کی جانب سے سیاحوں کو دی جانے والی سہولیات اور سفری اور سیاحتی شعبے کے لیے طے کردہ پالیسیز سے درجہ بندی کی جاتی ہے۔ واضح رہے کہ عالمی سیاحتی انڈیکس میں جاپان، امریکا، اسپین، فرانس، جرمنی، سوئٹزرلینڈ، آسٹریا، سنگاپور اور اٹلی سمیت دیگر ممالک سرِ فہرست ہیں۔

  • حکومت کی جانب سےٹورازم کوریڈورپروجیکٹ کا جائزہ لیا جارہا ہے:وزیراعظم آزادکشمیر

    حکومت کی جانب سےٹورازم کوریڈورپروجیکٹ کا جائزہ لیا جارہا ہے:وزیراعظم آزادکشمیر

    مظفرآباد:ریاست کو اللہ تعالیٰ نے بہت سے سیاحتی مقامات سے نوازا ہے اب ان مقامات کودنیا کے لیے عام کرنے کے لیے بڑی سطح پر منصوبہ سازی کی جارہی ہے، اس حوالے سےوزیراعظم آزاد جموں کشمیر سردار تنویرالیاس خان نے ریاست میں اس کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئےکہا ہے کہ سیاحت کو بطور صنعت پروان چڑھانے کی ضرورت ہے تاہم ماحولیات کے تحفظ اور جنگلات کی حفاظت کےلیے کوئی کمی نہیں چھوڑی جائے گی۔

     

     

    پاکستان اورعراق کے درمیان سیاحت ، مفاہمت کی یادداشت پر دستخط 

    آزاد کشمیر میں سیاحت کے فروغ کے لیے کیا اقدامات کیے جارہےہیں ، اس سے متعلق اسلام آباد میں صحافیوں سے بات کرتےہوئے وزیراعظم آزاد جموں کشمیر سردار تنویرالیاس خان نے کہا کہ ٹورازم اتھارٹی کا قیام سرمایہ کاروں کو ون ونڈو آپریشن کے ذریعے بہتر سہولیات فراہم کرنا ہے۔

    وزیراعظم آزادکشمیر نے اپنی ترجیحات بتاتے ہوئے کہا کہ حکومت سیاحت کا فروغ نہ صرف خطے کی معاشی صورتحال کو بہتر کرے گی ، وزیراعظم ازادکشمیر سردار تنویرالیاس نے کہا ہے کہ یہ منصوبہ بےروزگاراور پڑھے لکھے نوجوانوں کو روزگار کے ان گنت مواقع بھی فراہم کرےگا۔وزیراعظم آزادجموں کشمیر نے کہا کہ حکومت کی جانب سے ٹورازم کوریڈور پروجیکٹ کا جائزہ لیا جارہا ہے تاہم اس میں مزید بہتری لائی جاسکے۔

    شہریوں کو آئندہ ہفتے سیاحتی مقامات کی طرف جانے سے گریز کرنے کی ہدایت

    سردار تنویرالیاس کا کہنا تھا کہ سیاحتی مقامات پر حکومت کی جانب سے مقامی آبادی اور سرمایہ کاروں کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے گا۔ سیاحوں کی تفریحی مقامات تک باآسانی رسائی کےلیے حکومت نے اقدامات تیز کردئیے ہیں۔اس کےعلاوہ دریاؤں اورجھیلوں کے کنارے نئے سیاحتی اور تفریحی مقامات قائم کئے جائے گے تاکہ سیاحت کو مزید آگے لے جایا جاسکے۔

    ملک میں سیاحت کا فروغ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، وزیرِ اعظم

    انھوں نے واضح کیا کہ کوئی بھی ایسا منصوبہ جو جنگلی حیات اور قدرتی ماحول کو نقصان پہنچائے،اس کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

    یاد رہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان نے پاکستان کے سیاحتی مقامات کوبین الاقوامی معیار کی طرز پربنانے کے لیے بڑے اقدامات کا اعلان کیا تھا ، سردار تنویر الیاس نے انہیں ترجیحات پر ریاست میں سیاحت کو فروغ دینے کے لیےنئے انقلابی منصوبے کی بنیاد رکھی ہے

  • راجن پور: تحقیقات میں غیر ملکی خاتون کے ساتھ زیادتی ثابت نہ ہوسکی

    راجن پور: تحقیقات میں غیر ملکی خاتون کے ساتھ زیادتی ثابت نہ ہوسکی

    راجن پور:فورٹ منرو میں امریکی شہری خاتون کے ساتھ زیادتی کا ڈراپ سین ہوگیا ، اس حوالے سے معلوم ہوا ہے کہ پنجاب کے سیاحتی مقام فورٹ منرو میں امریکی شہری خاتون کے ساتھ زیادتی نہیں ہوئی

    ابتدائی تحقیقات میں غیر ملکی خاتون کے ساتھ زیادتی ثابت نہ ہوسکی، خاتون نے مقامی شہری مزمل سپرا زیادتی کا الزام عائد کیا تھا۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خون کے نمونے اور شواہد کے پنجاب فرانزک سائنس لیبارٹری سے ٹیسٹ کرائے گئے۔

    حکام کے مطابق غیر ملکی خاتون مرضی سے کئی روز سے مزمل سپرا کے ساتھ رہ رہی تھیں جبکہ اس سے قبل مذکورہ غیر ملکی خاتون غیر قانونی طور پر پاکستان کے مختلف شہروں میں بھی سفر کرتی رہی۔

    وزیر اعلیٰ پنجاب کو ارسال کی گئی رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ غیر ملکی خاتون پنجاب ، سندھ اور بلوچستان کے علاقوں میں سفر کر چکی ہے، پنجاب کے حساس علاقوں میں خاتون کے سفر پر تفتیش کے ضرورت ہے، معاملے کی مکمل تحقیقات کی جائیں۔

    واضح رہے کہ آج بدھ کو راجن پور میں امریکی خاتون سیاح کے ساتھ مبینہ زیادتی کے ملزمان مزمل شہزاد اور اذہان کھوسہ کو جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا گیا ہے۔ارابیلا ارپی نامی امریکی خاتون ٹک ٹاکر مبینہ طور پر راجن پور سے تعلق رکھنے والی نوجوان مزمل شہزاد کی محبت میں پاکستان آئی تھی۔

    امریکی خاتون سیاح نے چند روزراجن پور کی منصور آباد کالونی میں رہائش اختیار کی، اسی دوران اس نے اپنے مقامی دوست کے ہمراہ فورٹ منرو اور کوٹ مٹھن کی بھی سیر کی۔

    امریکی خاتون نے راجن پور کے رہائشی مزمل شہزاد سمیت دو ملزمان پر فورٹ منرو میں قیام کے دوران مبینہ زیادتی کا الزام عائد کیا ہے۔

  • فیری سروس سے پاکستان میں سیاحت کو فروغ حاصل ہوگا،صدر عارف علوی

    فیری سروس سے پاکستان میں سیاحت کو فروغ حاصل ہوگا،صدر عارف علوی

    صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے ساحلی سیاحت اور بلیو اکانومی کو فروغ دینے کیلئے پاکستان کے ساحل، جزائر اور ساحلی مقامات کو بین الاقوامی معیار کے مطابق ترقی دینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ فیری سروس کے ذریعے سمندری نقل و حمل سے ساحلی علاقوں میں رہنے والے لوگوں کو مناسب اور سستی سفری سہولت میسر آئے گی۔

    نیشنل بینک آف پاکستان کے ذریعے تمام تر حکومتی ادائیگیاں آن لائن ہو سکیں،سلمان صوفی

    صدر مملکت نے ان خیالات کا اظہار پاکستان بوٹ ریلی اینڈ فشنگ ٹورنامنٹ کے سی ای او احمد معمور امیمی سے گفتگو کرتے ہوئے کیا جنہوں نے ایوان صدر میں ان سے ملاقات کی۔ اس موقع پر سیکرٹری وزارت بین الصوبائی رابطہ احمد حنیف اورکزئی، وزارت میری ٹائم افیئرز، پاکستان سپورٹس بورڈ اور پاکستان ٹورازم ڈویلپمنٹ کارپوریشن کے نمائندے بھی موجود تھے۔

     

    پاکستان میں ہالینڈ کے سفیرکا نیشنل ہاکی اسٹیڈیم کا دورہ،قومی ٹیم کے ساتھ ہاکی بھی کھیلی

     

    صدر مملکت نے کہا کہ فیری سروس سے پاکستانی سامان کی دیگر حصوں تک نقل و حمل کا ایک قابل عمل وسیلہ میسر ہوگا، فیری سروس سے بندرگاہوں اور سیاحتی مقامات کی ترقی کے علاوہ سیاحت کو بھی فروغ حاصل ہوگا۔ صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان کی ساحلی پٹی کو اس کی بھرپور صلاحیتوں کے مطابق ترقی دی جانی چاہیے ، ساحلی علاقے کی ترقی سے ساحلی علاقوں میں معاشی سرگرمیوں کو فروغ اور مقامی آبادی کو روزگار ملے گا۔

    صدر ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ ساحلی علاقے کی ترقی سے پاکستان کے منفرد جیو اکنامک محل وقوع کو اجاگر کرنے میں مدد ملے گی۔ صدر نے سمندری سفر کے فروغ کیلئے ضروری بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ سمندری سفر کے فروغ کیلئے تمام سٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے سازگار ماحول پیدا کرنے کی ضرورت ہے، متعلقہ محکمے ایک دوسرے کے ساتھ قریبی ہم آہنگی کے ساتھ کام کریں۔

    انہوں نے کہا کہ باقاعدہ، رسمی اور قانونی سمندری سفر کو کامیاب بنانے میں تمام متعلقہ محکموں کو اپنا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان بین الاقوامی سمندری کھیلوں کے مقابلوں کے انعقاد سے کافی آمدن کماسکتا ہے، بوٹ ریلی کو کامیاب بنانے کے لیے تمام سٹیک ہولڈرز مل کر کام کریں۔ صدر مملکت کو اس موقع پر پاکستان میں سمندری سیاحت کے امکانات کے بارے میں بریفنگ بھی دی گئی۔

    صدر مملکت کو پاکستان میں بلیو ٹورازم کے امکانات اور پاکستان کے سافٹ امیج کو بلند کرنے میں پاکستان بوٹ ریلی اور فشنگ ٹورنامنٹ کے کردار کے بارے میں بتایا گیا۔ گزشتہ سال پاکستان بوٹ ریلی نے کراچی سے گوادر تک 9 کشتیوں پر 5 دن اور 4 راتوں تک 650 کلومیٹر کا سفر کیا جسے ”دنیا کی سب سے طویل بوٹ ریلی“ کا نام دیا گیا۔ پاکستان بوٹ ریلی ایک عالمی ایونٹ ہونے جا رہی ہے جس میں ارد گرد کے ممالک کے کشتی ران بھی شرکت کریں گے۔

    علاوہ ازیں صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے بلوچستان ہائی کورٹ میں ایڈیشنل ججز کی تعیناتی کی منظوری دے دی ،ایڈووکیٹ اقبال احمد کاسی ، ایڈووکیٹ شوکت علی رخشانی بلوچستان ہائی کورٹ کےایڈیشنل ججز تعینات
    ،ایڈووکیٹ گل حسن ترین ، محمد عامر نواز رانا اور سردار احمد علیمی کی بھی بطور ایڈیشنل جج تعیناتی کی منظوری دی گئی.صدر مملکت نےتعیناتی کی منظوری جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کی سفارشات کی روشنی میں وزیراعظم کی ایڈوائس پر دی ،صدر مملکت نے تعیناتیوں کی منظوری آئین کے آرٹیکل 175 اے کے تحت دی .

    مذید برآں صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے انٹرنیشنل انسٹیٹیوٹ آف سائنس ، آرٹس اینڈ ٹیکنالوجی بل 2022ء کی توثیق کر دی ،بل کا مقصد پرائیویٹ سیکٹر میں انٹرنیشنل انسٹیٹیوٹ آف سائنس ، آرٹس اینڈ ٹیکنالوجی کا قیام ہے
    ،صدر مملکت نے بل کی منظوری آئین کے آرٹیل 75 کے تحت دی.

    صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کوئٹہ میں طوفانی بارشوں کے باعث قیمتی جانی نقصان پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا،صدر مملکت کی جانبحق ہونے والوں کیلئے بلندی درجات کی دعا کی اور جانبحق ہونے والوں کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا مصدر مملکت نے ہدایت کی کہ آفت زدہ علاقے میں لوگوں کی ہر ممکن مدد کی جائے .

  • پاکستان انٹرنیشنل ٹریول اینڈ ٹورازم ڈویلپمنٹ انڈیکس میں چھ پوائنٹس اوپر آگیا

    پاکستان انٹرنیشنل ٹریول اینڈ ٹورازم ڈویلپمنٹ انڈیکس میں چھ پوائنٹس اوپر آگیا

    پشاور:ورلڈ اکنامک فورم (WEF) کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق پاکستان انٹرنیشنل ٹریول اینڈ ٹورازم ڈویلپمنٹ انڈیکس میں چھ پوائنٹس اوپر آگیا ہے۔ ملک سیاحت کی صنعت میں درست سمت میں گامزن ہے کیونکہ اس کے خوبصورت مناظر نے مقامی اور بین الاقوامی برادریوں کو اپنی طرف متوجہ کیا ہے۔

    خیبرپختونخوا کے میدانی اضلاع اور ملک کے دیگر حصوں میں شدید گرمی کی لہر کے بعد، سیاحوں نے نتھیاگلی اور ایوبیہ کا رخ کیا ہے تاکہ کبھی کبھی اس کے پر سکون ماحول میں گزاریں۔ایبٹ آباد میں نتھیاگلی کے قریب مغربی ہمالیہ کی پہاڑیوں پر برف پوش مکیش پوری (9,200 فٹ) اور میرانجانی (9,816 فٹ) پر اعتدال سے لے کر بے ترتیب بارشوں کے ساتھ سورج اور بادلوں کے درمیان چھپ چھپ سیاحوں کو پرجوش حالت میں لے جاتا ہے۔

    ملک میں سیاحت کا فروغ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، وزیرِ اعظم

    ویک اینڈ پر، نتھیاگلی اور ایوبیہ سیاحوں، ٹریکرز اور ایڈونچر سپورٹس کے شوقینوں سے بھر گئے ہیں جو اس کے دلکش قدرتی حسن، شاندار مناظر، آبشاروں، چیئر لفٹ کی سواری اور نوآبادیاتی دور کے پیدل چلنے والے راستوں سے لطف اندوز ہو رہے ہیں اور بڑے مزے اور قہقہے لگا رہے ہیں۔

    ڈونگالی-ایوبیہ، نتھیاگلی-ایوبیہ اور مکیش پوری ٹاپ گھوڑوں، اونٹوں پر سواری اور فوٹو گرافی کے ساتھ سیاحوں کی سب سے زیادہ کثرت والی جگہ ہے۔واپڈا ٹاؤن پشاور کے رہائشی 55 سالہ حیدر زمان نے نتھیاگلی میں اے پی پی سے بات کرتے ہوئے کہا، ’’نتھیاگلی اور ایوبیہ اپنی متنوع قدرتی اور پہاڑی خوبصورتی، چیئر لفٹ اور نوآبادیاتی دور کے چلنے کے راستے کی وجہ سے میرے پسندیدہ پہاڑی مقامات ہیں۔‘‘انہوں نے کہا کہ میں نے پاکستان میں بہت سے سیاحوں کے تفریحی مقامات کا دورہ کیا ہے لیکن نتھیاگلی اور ایوبیہ چیئر لفٹ کے دلکش قدرتی حسن نے مجھے بے حد متاثر کیا ہے۔

    سیاحت کا کھویا مقام بحال کرنے کیلئے ہنگامی اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ حسان خاور

    تاہم، ان دلکش مقامات پر کھلے مقامات پر کچرے اور پولی تھین کے تھیلوں کو پھینکتے ہوئے دیکھنے والے کو مایوسی ہو سکتی ہے،” انہوں نے کہا، کاغان ڈویلپمنٹ اتھارٹی (KDA)، محکمہ وائلڈ لائف اور ضلعی انتظامیہ اس کی صفائی کو یقینی بنانے اور اسے برقرار رکھنے کے لیے ذمہ دار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی طرز عمل کے مطابق گاڑیاں چیئر لفٹ کے احاطے کے باہر کھڑی کی جاتی ہیں تاکہ اس کی ماحولیات کو پلاسٹک کی آلودگی سے بچایا جا سکے۔ انہوں نے پلاسٹک کی آلودگی سے بچانے کے لیے پارکنگ ایریاز کی تعمیر اور ڈسٹ بنز کی تنصیب کا مشورہ دیا۔

    کلچر اینڈ ٹورازم اتھارٹی (سی اینڈ ٹی اے) کے ترجمان سعد خان کا کہنا ہے کہ ٹھنڈایانی ایبٹ آباد، شرن ناران مانسہرہ، بشیگرام اور گبن جبہ سوات، یختنگی شانگلہ، شیخ بدین لکی مروت، محبان اور شہید سر بونیر، بونیر میں 10 کیمپنگ پوڈز قائم کیے گئے۔ کالاش چترال اور الائی بٹگرام رہائش کا مسئلہ حل کریں گے۔انہوں نے کہا کہ 10 نئے کیمپنگ پوڈ جاروگو اشبشار، سلتر سوات، لشکرگاس بروغل اور سرلاس پور شندور اپر چترال، کمراٹ اپر دیر، کالام، لیلوانی اور الپوری شانگلہ، سامانی ٹاپ ہنگو/اورکزئی، لارہم ٹاپ لوئر دیر اور بن شاہی لوئر میں قائم کیے جائیں گے۔ دیر انہوں نے کہا کہ انضمام شدہ اضلاع میں سات مقامات کی شناخت کیمپنگ پوڈز، پکنک اسپاٹس، اضافی سڑکوں اور آرام کے علاقوں کے لیے کی گئی تھی۔

    پاکستان اورعراق کے درمیان سیاحت ، مفاہمت کی یادداشت پر دستخط مضبوط رشتوں کی…

    مالاکنڈ اور ہزارہ ڈویژنوں نے گزشتہ عید الفطر کی تعطیلات کے دوران 1.6 ملین سے زائد سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کیا۔ تقریباً 1.2 ملین سیاحوں بشمول 45,000 بونیر، 58,000 چترال لوئر، 1,25,000 دیر اپر کمراٹ، 1,45,000 دیر لوئر، آٹھ لاکھ سوات اور تین لاکھ گلیات آئے۔ اس کے نتیجے میں صرف ناران، کاغان اور کرمت کی وادیوں سے 300 ملین روپے کی آمدنی ہوئی۔

    خیبرپختونخوا کلچر اینڈ ٹورازم اتھارٹی کے جنرل منیجر محمد علی سید کا کہنا ہے کہ ماحولیاتی سیاحت کو فروغ دینے کے لیے لامچر، سجاکوٹ، نوری، چجیاں ہری پور، جاروگو سوات، لانچھر دیر اور امبریلا ایبٹ آباد کے آبشاروں کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے گا۔

    سعد خان نے کہا کہ ٹورسٹ ہوم اسٹے لون پروجیکٹ بینک آف خیبر کی مدد سے شروع کیا جا رہا ہے تاکہ سیاحوں کے قیام کے لیے ایک گیسٹ روم بنانے کے لیے مقامی لوگوں کی مالی مدد کی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے سے سیاحتی علاقوں کی مقامی آبادی کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں مدد ملے گی۔

    سعد خان نے کہا کہ نئے اٹھائے گئے ٹورازم پولیس کے 182 کانسٹیبل سوات، چترال، مانسہرہ اور ایبٹ آباد میں تعینات کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نوآبادیاتی دور کے چار تاریخی ٹیکوں کی ترقی پائپ لائنوں میں ہے جن میں ٹھنڈیانی-نتھیاگلی کی 8200 فٹ اونچائی، 40 کلومیٹر لمبائی اور 1500 پرانے درختوں کی پٹی، ٹھنڈیانی-بیرنگالی ٹریک، ڈگری بنگلہ-میرا جانی-نتھیاگلی ٹریک اور کاغان-مہنور ٹریکنگ شروع ہو رہی ہے۔ شنکیاری سے کنڈ بنگلہ اور آگے شہید پانی ندی بنگلہ سے موسیٰ کا مصلح۔ سیاحوں کے لیے واش رومز اور دیگر سہولیات کی تعمیر کے علاوہ ان ٹریکس پر باقی علاقوں کو بھی تیار کیا جائے گا۔

    کے پی انٹیگریٹڈ ٹورازم ڈویلپمنٹ پروجیکٹ کے پراجیکٹ ڈائریکٹر توصیف خالد کا کہنا ہے کہ پائیدار سیاحت کو فروغ دینے کے لیے مانکیال سوات، ٹھنڈیانی ایبٹ آباد، گنول مانسہرہ اور مداسخست لوئر چترال میں چار مربوط ٹورازم زونز (ITZs) تیار کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ITZs عالمی بینک کی 70 ملین امریکی ڈالر کی قرضہ گرانٹ اور اس کی فزیبلٹی اسٹڈیز اور آخری مراحل میں ماسٹر پلاننگ کی مالی مدد سے تعمیر کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ITZs کو ہزارہ اور سوات موٹر ویز سے اپروچ ro کے ذریعے منسلک کیا جائے گا۔

  • ملک میں سیاحت کا فروغ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، وزیرِ اعظم

    ملک میں سیاحت کا فروغ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، وزیرِ اعظم

    اسلام آباد: وزیرِ اعظم عمران خان سےایم این اے صداقت علی عباسی نے ملاقات کی-

    باغی ٹی وی : صداقت علی عباسی نے وزیرِ اعظم کو کوہسار یونیورسٹی اور کوہسار ٹورازم ہائی وے کے سیاحوں اور مقامی آبادی پر مثبت اثرات اور عوامی پزیرائی سے بھی آگاہ کیا اور حلقہ کے دیگر میگا پروجیکٹس کے حوالے سے بھی تفصیلی طور پر آگاہ کیا۔

    ملاقات میں مری، کوٹلی ستیاں، کہوٹہ اور کلرسیدں میں سیاحت کے فروغ، سیاحوں کو بروقت مدد و سہولیات کی یقینی فراہمی اور کوہسار ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے حوالے سے بھی تفصیلی گفتگو کی گئی-

    اس دوران وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ملک میں سیاحت کا فروغ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے.حکومت تمام سیاحتی علاقوں کی ایک جامع لائحہ عمل کے ذریعے ترقی پر توجہ مرکوز کئے ہوئے ہےسیاحت کے فروغ سے ان علاقوں کی ترقی اور روزگار کے مواقع پیدا ہو رہے ہیں.

    وزیراعظم عمران خان نے ایم این اے صداقت علی عباسی کو کوہسار یونیورسٹی کے قیام اور سیاحت کے فروغ کے حوالے سے بہترین کاوشوں کو سراہتے ہوئے انہیں شاباش دی۔

    منشیات کی اسمگلنگ کی روک تھام کیلئے مشترکہ جامع حکمت عملی کی تشکیل پر اتفاق