Baaghi TV

Tag: سیارچے

  • سیارچوں کی سطح پر پہلی بار پانی کے مالیکیولز کی موجودگی کا انکشاف

    سیارچوں کی سطح پر پہلی بار پانی کے مالیکیولز کی موجودگی کا انکشاف

    سان اینٹونیو: ماہرین نے سیارچوں کی سطح پر پہلی بار پانی کے مالیکیولز کی موجودگی کا انکشاف کیا ہے-

    باغی ٹی وی : پلینیٹری سائنس جرنل میں شائع تحقیق کے نتائج مطابق ماہرینِ فلکیات کا ماننا ہے کہ زمین کے ابتدائی دور میں اس سے ٹکرانے والے سیارچے اس سیارے پر پانی اور دیگر عناصر کی موجودگی کا سبب بنے، اس لیے سیارچوں پر پانی کی موجودگی کے شواہد کی تلاش اس نظریے کو تقویت دے سکتی ہے۔

    ماہرین کی جانب سے یہ ڈیٹا اسٹریٹو اسفیرک آبزرویٹری فار انفرا ریڈ آسٹرونومی (SOFIA) نامی آلے سے اکٹھا کیا گیا،اس ٹیلی اسکوپ کو جدید بوئنگ 747 ایس پی طیارے پر نصب کر کے استعمال کیا گیا جس نے زمین کے ایٹماسفیئر سے اوپر جا کر پرواز کی۔

    عالمی شہرت یافتہ گلوکارہ عابدہ پروین کا یوم پیدائش

    سوفیا ٹیلی اسکوپ میں نصب فینٹ آبجیکٹ انفرا ریڈ کیمرا (FORCAST) نے ماہرین کو مریخ اور مشتری کے درمیان موجود دو سیارچوں آئرس اور میسالیا میں پانی کے مالیکیولز کی نشان دہی کرنے میں مدد دی، دونوں سیارچے سورج سے 35 کروڑ 90 لاکھ کلو میٹر کے فاصلے پر موجود ہیں۔

    سیاست دانوں کی نااہلی کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری

    سان اینٹونیو میں قائم ساؤتھ ویسٹ ریسرچ انسٹیٹیوٹ سے تعلق رکھنے والی تحقیق کے سربراہ مصنفہ ڈاکٹر انیسیا ایریڈونڈو کا کہنا تھا کہ اس ٹیلی اسکوپ کی جانب سے چاند پر پانی کی نشان دہی کرنے کے بعد ماہرینِ فلکیات نے اس کو سیارچوں کا مطالعے کے لیے استعمال کا فیصلہ کیا۔

    24گھنٹوں میں اسرائیلی حملوں میں 107فلسطینی شہید اور 145زخمی

  • آئندہ کچھ دنوں میں ایک دم دار ستارہ اور چار سیارچے زمین کے قریب سے گزریں گے

    آئندہ کچھ دنوں میں ایک دم دار ستارہ اور چار سیارچے زمین کے قریب سے گزریں گے

    واشنگٹن: امریکی خلائی ادارے ناسا نے آگاہ کیا ہے کہ 8 ستمبر سے 12 ستمبر کے دوران زمین کے قریب سے چار سیارچے گزریں گے-

    باغی ٹی وی :ناسا کے سیارچوں کی نگرانی کرنے والے ڈیش بورڈ کے مطابق دو سیارچے 8 ستمبر کو زمین کے قریب سے گزریں گے ان میں کیو سی 5 نامی سیارچے کا سائز 79 فٹ (جہاز کے برابر) جبکہ جی ای نامی سیارچے کا سائز 26 فٹ (بس کے برابر) کے قریب ہےجہاز کے برابر دوسرے سیارچے کیو ایف 6 (جو رواں سال ہی دریافت ہوا) کا سائز تقریباً 68 فِٹ ہے،چوتھا اور آخری سیارچہ آر ٹی 2 جو کہ بس کے برابر ہے-

    کیو سی 5 سیارچہ (جس کا پہلی بار مشاہدہ رواں برس ہی کیا گیا تھا) تقریباً 41 لاکھ کلومیٹر کے فاصلے سےجبکہ جی ای سیارچہ (جس کو 2020 میں پہلی بار دیکھا گیا تھا) زمین سے 56 لاکھ کلومیٹر کے فاصلے سے گزرے گا سیارچہ کیو ایف 610 ستمبر کو زمین کے قریب سے گزرے گا یہ سیارچہ زمین سب سے قریب یعنی صرف 25 لاکھ کلو میٹر کے فاصلے سے گزرے گا سیارچہ آر ٹی 2 کا گزر زمین کے قریب سے 12 ستمبر کو ہوگا۔ یہ سیارچہ زمین سے 41 لاکھ کلومیٹر کے فاصلے سے گزرے گا ان سے زمین کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔

    ذخیرہ اندوزوں کے خلاف آپریشن،چینی کے ساڑھے 5 ہزار سے زائد بیگ برآمد

    ان سے قبل 6 ستمبر کو جے اے 5 نامی سیارچہ (جو 2021 میں دریافت کیا گیا تھا) زمین سے 49 لاکھ کلومیٹر کے فاصلے سے گزر چکا ہے۔

    علاوہ ازیں ایک دم دار ستارہ زمین کے قریب سے گزرنے والا ہے جسے دوربین کے بغیر بھی دیکھنا ممکن ہوگا Nishimura نامی دم دار ستارے کو اگست میں ہی دریافت کیا گیا تھا اور اسے 9 اور 10 ستمبر کو آسمان پر دیکھنا ممکن ہوگااس دم دار ستارے کو ایک جاپانی ماہر Hideo Nishimura نے 11 اگست کو سب سے پہلے دیکھا تھا۔

    اس دم دار ستارے کا حجم تو ابھی معلوم نہیں مگر ایسا بہت کم ہوتا ہے کہ کسی دم دار ستارے کو اس وقت دریافت کیا جائے جب وہ زمین کے قریب ہوعموماً اس طرح کے دم دار ستاروں کو کئی ماہ یا سال پہلے ہی دریافت کر لیا جاتا ہےماہرین کے مطابق یہ دم دار ستارہ 437 سال میں محض ایک بار سورج کے گرد چکر لگاتا ہے، یعنی اسے آئندہ دیکھنے کے لیے 5 صدیوں کا انتظار کرنا ہوگا۔

    انسانی اسمگلنگ میں ملوث ملزم گرفتار

    Nishimura سورج کے قریب سے 17 ستمبر کو گزرے گا اور اس وقت وہ سورج سے 3 کروڑ 30 لاکھ کلومیٹر کے فاصلے پر موجود ہوگا اسی طرح یہ دم دار ستارہ زمین سے ساڑھے 12 کروڑ کلومیٹر کے فاصلے سے گزرے گا لوگوں کے لیے اسے دوربین کے بغیر بھی دیکھنا ممکن ہوگا، البتہ اس کے لیے ضروری ہوگا کہ آسمان صاف ہو، ورنہ چھوٹی دوربین سے بھی مدد لی جاسکتی ہے۔

    ماہرین کے مطابق 9 اور 10 ستمبر کو سورج طلوع ہونے سے قبل آسمان پر اس دم دار ستارے کو شمال مغربی سمت میں دیکھنا ممکن ہوگا Nishimura کی دم سبز رنگ کی ہوگی کیونکہ اس میں گرد کے مقابلے میں گیس زیادہ ہے۔

    دم دار ستارے بنیادی طور پر گرد اور برف کی ایسی گیندیں ہوتی ہیں جو سورج کے بڑے بیضوی مداروں کے گرد گھومتی رہتی ہیں جب دم دار ستارے سورج کے قریب آتے ہیں تو ان کے جسم گرم ہوجاتے ہیں جبکہ برفانی سطح گیس میں تبدیل ہوجاتی ہے اور گرد پھیل جاتی ہے، جس سے انہیں زمین پر دیکھنا ممکن ہوتا ہے۔

    سپریم کورٹ میں سانحہ جڑانوالا کیس سماعت کیلئے مقرر

  • پاکستانی طلبا و طالبات نے 14 ممکنہ نئے سیارچے دریافت کرلیے

    پاکستانی طلبا و طالبات نے 14 ممکنہ نئے سیارچے دریافت کرلیے

    سیارہ مشتری اور مریخ کے درمیان سیارچی پٹی کا ڈیٹا دیکھتے ہوئے پاکستانی طلبا و طالبات نے 14  ممکنہ نئے سیارچے دریافت کئے ہیں۔ فوٹو: فائل

     کراچی: پاکستان بھر سے فلکیات کے شوقین طلبا و طالبات نے بین الاقوامی پروگرام کے تحت 14 نئے ممکنہ سیارچے (ایسٹرائڈز) دریافت کئے ہیں جو سیارہ مریخ اور مشتری کے درمیان موجود مسلسل زیرِ گردش ہیں۔

    واضح رہے کہ سائنس و فلکیات میں عوامی شمولیت کے تحت ایک پروگرام ہے جس میں ہرسال کئی ممالک شامل ہوتے ہیں تاہم پہلی مرتبہ پاکستان اس مہم  میں ’آل پاکستان ایسٹروئڈ سرچ کیمپین‘ (اے پی اے ایس سی) کے نام سے شامل ہوا ہے۔ اس کے تحت یہ دریافتیں ہوئی ہیں جس میں پاکستان کے طول وعرض کے 40 طلبا و طالبات شامل تھے۔

    امریکی خلائی ادارے ناسا اور انٹرنیشنل ایسٹرونومیکل سرچ کولیبریشن (آئی اے ایس سی) ہر سال شہریوں کی سائنس میں شمولیت کے تحت یہ پروگرام منعقد کراتی ہے تاکہ فلکیات سے لگاؤ رکھنے والے نوجوانوں کو بامعنی تحقیقی عمل میں شامل کیا جاسکے۔

     

    اس مرتبہ اسلام آباد میں واقع انسٹی ٹیوٹ آف اسپیس ٹیکنالوجی (آئی ایس ٹی) میں ایئرواسپیس انجینیئرنگ کے طالبعلم محمد رحموز صلاح الدین ایوب نے کوشش کی کہ باقاعدہ طور پر پاکستان میں اس میں شامل ہوسکے اور یوں اے پی اے ایس سی کی بنیاد رکھی گئی جس میں کل 40 افراد شریک ہوئے۔ تمام افراد نے فراہم کردہ ڈیٹا سیٹ اور سافٹ ویئر کی مدد سے 21 اکتوبر تا 15 نومبر تک ممکنہ سیارچوں کی نشاندہی کی۔

    سیارچوں کی دریافت کا عمل

    لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ گھر بیٹھے کیسے معلوم کیا جاسکتا ہے کہ کوئی سیارچہ ہے بھی یا نہیں؟ ماہرین باقاعدہ اس کی تربیت فراہم کرتے ہیں، جس کےلیے ایسٹرومیٹریکا نامی سافٹ ویئر فراہم کیا جاتا ہے۔ ایسٹرومیٹریکا  میں کئی سائنسی پیرامیٹرز ہوتے ہیں جن کی بنا پر طالبعلموں نے اندازہ لگایا کہ آیا کہ یہ سیارچہ ہوسکتا ہے یا نہیں۔ اس طرح نظامِ شمسی کے بہت ہی چھوٹے اجسام یعنی دمدارستارے (کومٹ)، سیارچے، یا بونا سیارے (ڈوارف پلانیٹ) ان کے طبعی (فزیکل) خواص کی بنا پر شناخت کی جاتی ہے اور ان کی درجہ بندی کی جاتی ہے۔ پاکستان کی پہلی مرتبہ شمولیت سے 14 سیارچوں کی دریافت خوش آئند ہے اور امید ہے کہ وہ اپنے تجربے کو مزید وسیع کریں گے۔

    دوسری جانب پاکستانی اسکولوں، جامعات اور کالجوں کے طلبا و طالبات کو نئی معلومات، عملی فلکیات اور نئے فنون سیکھنے کو ملے جو ان کی خود اعتمادی کو بڑھا سکتے ہیں۔ اس کا ڈیٹا امریکی جزیرے ہوائی میں واقع مشہور فلکی دوربین سے حاصل کیا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل محمد رحموز نے 2021 میں بھارتی ٹیم کے ساتھ اپنے تین پاکستانی ساتھیوں کے ساتھ شرکت کی تھی اور کل پانچ سیارچے دریافت کئے تھے جو ایک اہم پیشرفت بھی ہے۔ اس مہم میں محمد رحموز ایوب کے ساتھ، دلآویز صغیر، فریال بتول اور نعمان رؤف پاکستان سے شامل تھے جنہیں ناسا اور آئی اے ایس سی کی جانب سے سند بھی دی گئی تھی جو اوپر کی تصویر میں نمایاں ہیں۔ یہ تمام اسکالر آئی ایس ٹی کی اسپیس سوسائٹی کے فعال رکن ہیں اور پاکستان میں فلکیات پر پہلا جریدہ ’کوسمِک ہیرالڈ‘ بھی جاری کیا ہے۔

    ایسٹرومیٹریکا استعمال کرنے کے لیے اردو زبان میں تدریسی ویڈیو بھی بنائی ہے جس میں نعمان رؤف، فریال بتول اور دلآویز صغیر نےنمایاں کردار ادا کیا ہے۔

     

     

    اس سے قبل آئی اے ایس سی میں بھارت، پولینڈ اور بنگلہ دیش سمیت دنیا بھر کی ٹیمیں شامل رہی ہیں اور پہلی مرتبہ پاکستان سے شوقیہ فلکیاتی ماہرین کی ایک ٹیم شامل ہوئی ہے جن میں ناصر رضوان کی سربراہی میں اٹک فلکیاتی سوسائٹی اور دیگر انجمنیں شامل ہیں۔ امید ہیں کہ پاکستانی کاوشیں ثمر آور ہوں گی تاہم اس کے لیے مزید ایک سال انتظار کرنا ہوگا۔

    سیارچی پٹی کا تعارف

    ہمارے نظامِ شمسی میں مریخ اور مشتری سیارے کے درمیان لاکھوں کروڑوں چھوٹے بڑے اجسام ایک ساتھ اس طرح گردش کررہے ہیں جس طرح کسی پارک میں بچے گول جھولے میں چکر کاٹتے ہیں۔ ان میں چھوٹے بڑے سیارے اور سیارچے موجود ہیں۔ ان میں سیریس نامی سیارچہ بونا سیارہ ہے جس کا قطر 950 کلو میٹر ہے۔ تاہم ماہرین ہر ایک ممکنہ سیارچے کی چھان پھٹک چاہتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ مختلف سافٹ ویئر سے ان پر تحقیق اور درجہ بندی کی جارہی ہے۔ واضح رہے کہ یہاں پتھریلے چورے کے شکل میں بھی اجسام موجود ہیں جو ذرے کی جسامت رکھتے ہیں۔

  • ڈارٹ اسپیس کرافٹ 26 ستمبر کو سیارچے سے ٹکرائے گا،ناسا

    ڈارٹ اسپیس کرافٹ 26 ستمبر کو سیارچے سے ٹکرائے گا،ناسا

    ناسا کا پہلا سیاروی دفاعی اسپیس کرافٹ، جس کو زمین سے 1 کروڑ 9 لاکھ کلو میٹر دور سیارچے کا رخ بدلنے بھیجا گیا ہے،رواں ماہ ستمبر میں 24 ہزار 140 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے خلائی چٹان سے ٹکرائے گا۔

    باغی ٹی وی : ڈبل ایسٹیرائڈ ری ڈائریکشن ٹیسٹ (DART) کو گزشتہ برس نومبر میں خلاء میں بھیجا گیا تھا جو تقریباً ایک سال کے سفر کے بعد اب ڈائمورفس نامی ایک چھوٹے سیارچے سے جا کر ٹکرائے گا۔ یہ سیارچہ ڈائڈِموس نامی بڑے سیارچے کے گرد گھومتا ہے۔

    زمین سے 100 سال کے نوری فاصلے پرسمندر سے ڈھکا سیارہ دریافت

    جوڈائڈِموس ( Didymos) نامی ایک بڑے سیارچےکےگرد چکر لگاتا ہےناسا کا کہنا ہے کہ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ نہ تو کوئی سیارچہ زمین کی طرف بڑھ رہا ہے، لیکن ڈیمورفوس، ایک اندازے کے مطابق 520 فٹ لمبا سیارچہ ہے جو زمین سے ٹکرانے کی صورت میں کافی نقصان پہنچا سکتا ہے۔

    نتائج سے قطع نظر، یہ مشن ماہرین فلکیات اور سائنس دانوں کو اہم ڈیٹا فراہم کرے گا کہ اگر کوئی سیارچہ زمین سے ٹکرانے کے راستے پر ہو تو اس کا ردعمل کیا ہوگا۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اب کوئی خطرہ نہیں ہے۔

    قبل ازیں ناسا کے سیاروں کے دفاعی افسر لنڈلی جانسن نے کہا تھا کہ ہم ایسی صورتحال میں نہیں رہنا چاہتے جہاں ایک سیارچہ زمین کی طرف بڑھ رہا ہو اور پھر اسے اس قسم کی صلاحیت کی جانچ کرنی پڑے۔ ہم دونوں کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں کہ خلائی جہاز کیسے کام کرتا ہے اور اس کا ردعمل کیا ہوگا کبھی بھی اس طرح کی صورتحال کا سامنا کرنا پڑتا ہے-

    دو طا قتورترین ٹیلی اسکوپ سے چھ راتوں کے مشاہدے کے بعد اس بات کی تصدیق ہوئی ہے کہ ڈائڈِموس کا مدار امریکی خلائی ایجنسی کے ڈارٹ کرافٹ کی سیدھ میں آ چکا ہے۔ان مشاہدات نے 2021 میں کی جانے والی مدار کی پیمائشوں کی تصدیق کی ہے یہ مشاہدے جولائی کے مہینے میں ایریزونا کی لویل ڈِسکوری ٹیلی اسکوپ اور چلی کی میگیلن ٹیلی اسکوپ سے کیے گئے۔

    سرخ سیارے پر پانی کے ممکنہ ذخائر کا تفصیلی نقشہ تیار

    جان ہوپکنزیونیورسٹی سےتعلق رکھنےوالے ڈارٹ اِنویسٹی گیشن ٹیم کے شریک سربراہ اینڈی رِوکِن کا کہنا تھا کہ ٹیم نے جو پیمائشیں 2021 کے ابتداء میں حاصل کیں تھیں وہ ڈارٹ کو صحیح مقام تک پہنچانےکےلیے اور ڈائمورفس کے ساتھ صحیح وقت پر تصادم کے لیے اہم تھیں۔

    انہوں نے کہا کہ اُن پیمائشوں کی نئے مشاہدات سے تصدیق یہ بتاتی ہے کہ ہمیں کسی تبدیلی کی ضرورت نہیں اور ہم ہدف کے تعاقب کے لیے درست سمت میں گامزن ہیں ڈائڈِموس اور ڈائمورفس اس سال ستمبر کے آخر میں زمین کے قریب سے یعنی 1 کروڑ 8 لاکھ کلومیٹر کے فاصلے سے گزریں گے۔

    32 کروڑ 50 لاکھ ڈالرز کی لاگت سے بنائے گئے اس 548.8 کلوگرام وزنی اسپیس کرافٹ کا مقصد اس کو ڈائمورفس سے ٹکرا کر سیارچے کی رفتار کا عشرِعشیر حصہ بدلنا ہے اسپیس کرافٹ سیارچے سے ستمبر کی 26 تاریخ کو ٹکرائے گا۔

    DART 26 ستمبر کو شام 7:14 بجے خلا میں اپنا 10 ماہ کا سفر مکمل کرے گا۔ ای ٹی ناسا کی لائیو کوریج شام 6 بجے شروع ہوگی۔

    ناسا انسانوں کو ایک بار پھر چاند پر بھیجنے کے لیے تیار