Baaghi TV

Tag: سیارہ

  • ہماری زمین سے تقریباً 154 نوری سال کے فاصلے پر پانی سے بھرا ہوا نیا سیارہ دریافت

    ہماری زمین سے تقریباً 154 نوری سال کے فاصلے پر پانی سے بھرا ہوا نیا سیارہ دریافت

    ماہرین کو ہماری زمین سے تقریباً 154 نوری سال کے فاصلے پر ایک نیا سیارہ ملا ہے جو ممکنہ طور پر پانی سے بھرا ہوا ہے۔

    اس سیارے کا نام TOI-1846 b رکھا گیا ہے، اور اسے ناسا کے خلائی مشن ’ٹرانزٹنگ ایگزو پلینیٹ سروے سیٹلائٹ‘ (TESS) کی مدد سے دریافت کیا گیا یہ نیا سیارہ زمین سے تقریباً دو گنا بڑا اور چار گنا زیادہ وزنی ہے یہ سیارہ سپر ارتھ کی کیٹیگری میں آتا ہے، یعنی یہ زمین سے بڑا ہے لیکن اتنا بڑا نہیں جتنا نیپچون یا یورینس جیسے گیس کے دیو۔،تحقیق کے مطابق، TOI-1846 b کی عمر تقریباً 7.2 ارب سال ہے، یعنی ہماری زمین سے بھی زیادہ پرانا ہے۔

    تحقیقی ٹیم کےمطابق TOI-1846 b کا قطر زمین کے مقابلے میں 1.792 گنا ہے اور اس کا وزن زمین سے 4.4 گنا زیادہ ہے۔ یہ اپنے ستارے کے گرد صرف 3.93 دنوں میں ایک چکر مکمل کرتا ہے، یعنی وہاں ایک سال صرف چار دنوں کا ہوتا ہے! اس کی سطح کا درجہ حرارت تقریباً 568.1 کیلون (تقریباً 295 ڈگری سیلسیس) ہے۔

    غلطی سے فائر الارم بجنے سے مسافر جہاز سے کود گئے ، 18 زخمی

    ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ سیارہ پانی سے بھرپور ہو سکتا ہے، لیکن اس کی ساخت اور ماحول کو مزید بہتر طریقے سے جانچنے کے لیے ریڈیل ولاسٹی نامی ایک طریقہ استعمال کرنے کی ضرورت ہے، تاکہ اس کا وزن اور دیگر تفصیلات واضح کی جا سکیں۔

    یہ سیارہ ایک چھوٹے سے ستارے TOI-1846 کے گرد گردش کرتا ہے، جو ہمارے سورج کے مقابلے میں 40 فیصد چھوٹا اور 42 فیصد کم وزنی ہے۔ اس ستارے کا درجہ حرارت تقریباً 3568 کیلون ہے، اور اس کی عمر بھی 7.2 ارب سال کے لگ بھگ بتائی گئی ہے۔

    اسی سال کے آغاز میں، سائنس دانوں نے ایک اور سپر ارتھ دریافت کیا جس کا نام HD 20794 d رکھا گیا ہے یہ سیارہ زمین سے 20 نوری سال کے فاصلے پر ہے اور زمین سے چھ گنا زیادہ وزنی ہے سب سے خاص بات یہ ہے کہ یہ اپنے ستارے کے ایسے علاقے میں موجود ہے جسے قابلِ رہائش علاقہ یا ہیبیٹیبل زون کہا جاتا ہے، یعنی وہاں مائع پانی موجود ہونے کے امکانات ہیں لیکن اس سیارے کا مدار زمین کی طرح گول نہیں بلکہ بیضوی (elliptical) ہے، جس کی وجہ سے وہاں زندگی کے امکانات کے بارے میں حتمی رائے دینا مشکل ہے۔

    شیخ حسینہ سے منسلک دو افراد کی برطانیہ میں جائیدادیں ضبط

  • ”ٹی کرونا بوریالس“  نامی ستارہ آئندہ ہفتے تباہ ہونیوالا ہے

    ”ٹی کرونا بوریالس“ نامی ستارہ آئندہ ہفتے تباہ ہونیوالا ہے

    ماہرین فلکیات کے مطابق ”ٹی کرونا بوریالس“ نامی ستارہ، جو شمالی تاج کہکشانی جھرمٹ میں موجود ہے، ایک زبردست ”نووا“ دھماکے کے قریب ہے، جو ہر 80 سال میں ایک بار ہوتا ہے۔

    باغی ٹی وی : ماہرین کےمطابق یہ شاندار دھماکہ انسانی آنکھ سے بغیر کسی دوربین کے دیکھا جا سکے گا، جو 1946 کے بعد پہلی بار فلکیاتی شائقین کے لیے ایک نایاب موقع ہوگا یہ ستارہ ایک دوہرے ستاروں کے نظام پر مشتمل ہے، جس میں ایک سرخ دیو (Red Giant) اور ایک سفید بونا (White Dwarf) شامل ہیں سرخ دیو عمر بڑھنے کےساتھ ساتھ ٹھنڈا ہو رہا ہےاور اپنا مادہ خلا میں پھینک رہا ہے، جبکہ سفید بونا ستارہ، جس کا ایندھن ختم ہو چکا ہے، اس مادے کو جذب کر رہا ہے۔

    وقت کے ساتھ، جب سفید بونا ستارہ سرخ دیو کے مادے کو جذب کرتا رہتا ہے، تو ایک حد کے بعد تھرمو نیوکلیئر دھماکہ ہوتا ہے۔ یہ دھماکہ ستارے کی چمک میں زبردست اضافہ کر دیتا ہے، جس کے نتیجے میں یہ زمین سے بغیر کسی دوربین کے دکھائی دینے لگتا ہے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ 27 مارچ کو یہ نایاب فلکیاتی مظہر وقوع پذیر ہوسکتا ہے اور چند راتوں تک کھلی آنکھ سے نظر آسکتا ہے اس کی چمک رات کے آسمان میں شمالی ستارے جتنی روشن ہو سکتی ہے، جو آسمان کا 48 واں سب سے زیادہ چمکدار ستارہ ہے۔

    تاریخی شواہد کے مطابق، ٹی کرونا بوریالس (T Coronae Borealis) کے دھماکے 1787، 1866 اور 1946 میں ریکارڈ کیے گئے تھے، جو اس کے متوقع اور باقاعدہ ہونے کی نشاندہی کرتے ہیں اسی طرح کا سلسلہ ہیلی کا دمدار ستارے کے ساتھ بھی جڑا ہوا ہے، جو ہر 76 سال بعد زمین کے قریب سے گزرتا ہے۔

    سیٹی انسٹی ٹیوٹ کے ماہر فرینک مارشس کے مطابق، گزشتہ ستمبر سے ٹی کرونا بوریالس کی تفصیلی نگرانی کی جا رہی ہے، جس میں ایسے اشارے ملے ہیں جو اس دھماکے کی پیشگوئی کر رہے ہیں، تاہم، ابھی تک یہ نظریاتی مطالعہ ہے، اور اس کے نتائج مکمل طور پر یقینی نہیں ہیں۔

    ناسا کے گورڈارڈ اسپیس فلائٹ سینٹر کے ایک محقق ڈاکٹر ہونسل نے کہا ہے کہ یہ ”زندگی میں ایک بار“ پیش آنے والا واقعہ ہے، جو نوجوان فلکیاتی ماہرین کو براہ راست ایک کائناتی مظہر کا مشاہدہ کرنے، سوالات پوچھنے اور اپنا ڈیٹا جمع کرنے کی ترغیب دے سکتا ہے، یہ نووا (nova) واقعہ فلکیات میں دلچسپی رکھنے والے افراد کے لیے ایک نادر موقع ہوگا، جو آسمان پر ایک شاندار فلکیاتی مظہر دیکھ سکیں گے۔

  • سینکڑوں نوری سال دور بےترتیب مدار والے سیارے کی نشاندہی

    سینکڑوں نوری سال دور بےترتیب مدار والے سیارے کی نشاندہی

    اسٹاک ہوم: ماہرین فلکیات نےسینکڑوں نوری سال دور بےترتیب مدار والا سیارہ دریافت کر لیا-

    باغی ٹی وی : عالمی میڈیا کے مطابق سویڈن کی لنڈ یونیورسٹی کے ماہرین فلکیات نے ایک پراسرار سیارے کی نشاندہی کی ہے جس عمومی سیاروں سے ہٹ کر ایک بے ترتیب مدار ہے،اس سیارے کا دمار روایتی فلکیاتی طبیعیات کے اصولوں کو چیلنج کرتا ہے، TOI-1408c نامی یہ سیارہ زمین سے تقریباً 455 نوری سال دور ایک دوسرے شمسی نظام میں واقع ہے اور اس کی غیر متوقع حرکات کی وجہ سے محققین حیران ہیں۔

    TOI-1408c نامی یہ سیارہ رواں سال ہی ناسا کے ڈیٹا کا استعمال کرتے ہوئے دریافت کیا گیا جس کا حجم زمین سے دوگنا اور کمیت آٹھ گنا ہےزیادہ تر سیاروں کے برعکس بیضوی مداروں کی پیروی کرتے ہیں، TOI-1408c کا مدار بے ترتیبی میں بدلتا ہے جو ماہرین فلکیات کو سیاروں کی حرکیات کے موجودہ نظریات پر دوبارہ غور کرنے پر مجبور کرتا ہے۔

    ماہرین کا مفروضہ ہے کہ TOI-1408c کی غیر متوقع حرکت کسی نادیدہ آسمانی مادے کے ٹکرانے سے متاثر ہو سکتی ہے جیسے کہ کوئی دوسرا سیارہ یا نیوٹران ستارہ جو کسی دوسرے سیارے کے مدار کو غیر مستحکم کرتی ہیں۔

  • ماہرین فلکیات کا ایک بہت بڑے سیارے میں دھماکا ہونے کا انکشاف

    ماہرین فلکیات کا ایک بہت بڑے سیارے میں دھماکا ہونے کا انکشاف

    ماہرین فلکیات کا کہنا ہے کہ رات کے اندھیرے میں ستارے میں دھماکا ہو گا جسے انسانی آنکھ سے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔

    باغی ٹی وی : ماہرین فلکیات کے مطابق متوقع دھماکے کے باعث آسمان پر روشنی ہوگی، جسے زمین سے بھی دیکھا جا سکے گا نووا نامی ستارہ رات کےاندھیرے میں شمالی کراؤن میں پھٹے گا، جس کے باعث رنگین روشنی پیدا ہوگی،جو کہ زمین پر موجود انسان بھی دیکھ سکیں گے، تاہم یہ روشنی کہاں کہاں دیکھی جا سکے گی، اس حوالے سے نہیں بتایا گیا ہے۔

    ناسا کے گاڈ ڈارڈ اسپیس فلائٹ سینٹر سے تعلق رکھنے والی ریبیکا ہاؤنسیل کا کہنا تھا کہ یہ زندگی میں ایک بار ہونے والا واقعہ ہے، مجھے یقین ہے کہ اس سے کئی دیگر اسٹرونامرز بھی سامنے آئیں گےستاروں میں ہونے والے دھماکوں کو ’ٹی کرونے بوریلس‘ کہا جاتا ہے جو کہ زمین سے 3 ہزار لائٹ ائیرز کی دوری پر واقع ہے جو کہ سفید مداروں میں سرخ روشنی کی طرح ہوتا ہے اس سرخ روشنی میں ہائیڈرو جن موجود ہوتا ہے، جو کہ باہر کی طرف نکلتا ہے، جس کے باعث تھرمو نیوکلئیر دھماکا ہوتا ہےآخری مرتبہ ستاروں میں دھماکا 1946 میں ہوا تھا، جبکہ دھماکے سے ایک سال قبل خلا میں غیر معمولی حرکت بھی دیکھی گئی تھی۔

    عمران خان نے کہا ملک کےساتھ زیادتی برداشت نہیں کریں گے،بیرسٹرگوہر

    اسٹروپارٹیکل فزیکس لیبارٹری کی سربراہ الزتبھ ہیس کہتی ہیں کہ عام طور پر نووا میں ہونے والے دھماکے خاص اور رنگین ہوتے ہیں تاہم یہ کافی دور فاصلے پر ہوتے ہیں،لیکن یہ کافی قریبی معلوم ہو رہا ہے، جس کی وجہ سے کئی آنکھیں اسے دیکھ پائیں گی، تاہم اب تک اس حوالے سے کوئی تاریخ نہیں بتائی گئی ہے۔

    حکومت فی ایکڑ پیداوار میں اضافے کے لیے زراعت میں جدت کے لیے کوشاں ہے،شہباز …

  • اب تک کا سب سے کم وزن سیارہ دریافت

    اب تک کا سب سے کم وزن سیارہ دریافت

    واشنگٹن: سائنسدانوں نے اب تک کا سب سے کم وزن سیارہ دریافت کیا ہے-

    باغی ٹی وی : کچھ سیارے اتنے گرم ہوتے ہیں کہ ان کی فضا میں پگھلے پتھروں کی بارشیں ہوتی رہتی ہیں جبکہ کچھ اتنے ٹھنڈے ہوتے ہیں کہ انہیں برف کا دیو کہا جاتا ہے اب سائنسدانوں نے WASP-193b نامی نیا سیارہ دریافت کیا ہے یہ دنیا سے بھی کئی گنا بڑا سیارہ ہے لیکن اس کی کثافت اتنی کم ہے کہ سائنسدانوں نے اسے گُڑیا کے بال (cotton candy) سے تشبیہ دی ہے۔

    نیچر فلکیات کے جریدے میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق سیارہ ہماری زمین سے 1,200 نوری سال کے فاصلے پر ہےیہ مشتری سے تقریباً 1.5 گنا بڑا ہے لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ حساب کتاب کے بعد اس کی کثافت کی پیمائش 0.059 گرام فی کیوبک سینٹی میٹر کی گئی ہے جو کہ فومز، کم کثافت والے پلاسٹک اور ایروجیلز کی طرح ہے۔

    جسٹس بابر ستارکیخلاف مہم ، وزارت دفاع کی رپورٹ مسترد، دوبارہ جمع کرانے کا حکم

    رپورٹ کے مصنف جولین ڈی ویٹ نے کہا کہ اس سیارے کو کاٹن کینڈی کہنے کی وجہ یہ ہے کہ یہ بنیادی طور پر بہت ہی ہلکا ہے سیارے کا ماحول بنیادی طور پر ہائیڈروجن اور ہیلیم جیسے ہلکے عناصر سے بنا ہوا ہے جو اسے تیرتے ہوئے پھولے ہوئے ابر آلود کرہ کی شکل دیتا ہے۔

    ناسا کے مطابق اس سیارے کا سائز ان ماڈلز پر لاگو نہیں کیا جا سکتا جو تابکاری گیسوں سے بھرے ہوتے ہیں اور دیو ہیکل سیاروں کی شکل اختیار کرلیتے ہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ اس سیارے میں کوئی ٹھوس سطح موجود نہیں ہے۔

    اپنی پسند کی شادی کے لیے 8 سال تک مشکلات سے گزرنا پڑا ،محمد رضوان

  • مشتری سے 50 فیصد بڑا   لیکن  وزن میں  روئی سے بھی ہلکا اور ملائم  سیارہ دریافت

    مشتری سے 50 فیصد بڑا لیکن وزن میں روئی سے بھی ہلکا اور ملائم سیارہ دریافت

    سائنسدانوں نے حال ہی میں انہوں ایک ایسے بڑے حجم والا سیارہ دریافت کیا ہے جو زمین سے 2600 گنا بڑا لیکن وزن میں انتہائی ہلکا پھلکا ہے۔

    غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق نئے سیارے کو ابتدائی طور پر وائڈ اینگل سرچ فار پلینٹس (WASP) کی مدد سے دیکھا گیازمین سے 12 سو نوری سال کے فاصلے پر واقع ”WASP-193b“ نامی نیا سیارہ مشتری سے 50 فیصد او ر زمین سے 2600 گنا بڑا ہے لیکن اس کا وزن روئی سے بھی ہلکا اور یہ بہت ملائم ہے۔

    ناسا کے مطابق کاٹن کینڈی کی کثافت والے اس حیرت انگیز سیارے کو ”Super-Puffs“ کا نام دیا گیا ہے سیارہ انتہائی کم کثافت رکھتا ہے، جس کا حجم اور سائز مشتری سے بالترتیب 0.14 اور 1.5 گنا زیادہ ہے جس کے نتیجے میں کثافت تقریباً 0.059 گرام فی کیوبک سینٹی میٹر بنتی ہے، جو کاٹن کینڈی جتنی ہے۔

    روسی وزارت دفاع کا ایک اور سینئیر افسر رشوت لینے کے الزام میں گرفتار

    ایم آئی ٹی کے پروفیسر اور تحقیق کے شریک مصنف جولین ڈی وٹ کا کہنا ہے کہ سیارہ اتنا ہلکا ہے کہ ایک مشابہ، ٹھوس سیارے کے مواد کے بارے میں سوچنا مشکل ہے، سیارہ بنیادی طور پر روئی جیسا نرم و ملائم ہے،محققین کو شبہ ہے کہ WASP-193b زیادہ تر ہائیڈروجن اور ہیلیم سے بنا ہے، جس کا ماحول مشتری کے اپنے ماحول سے دسیوں ہزار کلومیٹر تک پھیلا ہوا ہے، تاہم، سیاروں کی تشکیل کے موجودہ نظریات ابھی تک اس بات کی وضاحت نہیں کر سکتے کہ کسی سیارے کا ماحول اس حد تک کیسے پھیل سکتا ہے۔

    ایف آئی اےکی کارروائی، اشتہاری ملزم گرفتار

  • ہماری زمین سے 13 گنا بڑا  سیارہ، جس نے سائنسدانوں کو چکرا کر رکھ دیا

    ہماری زمین سے 13 گنا بڑا سیارہ، جس نے سائنسدانوں کو چکرا کر رکھ دیا

    سائنسدانوں نے ایک ایسا سیارہ دریافت کیا ہے ہماری زمین سے 13 گنا بڑا ہے اور ہمارے سورج سے 9 گنا چھوٹے ستارے کے گرد گھوم رہا ہے، جس نے سائنسدانوں کو چکرا کر رکھ دیا ہے –

    باغی ٹی وی : جرنل سائنس میں شائع تحقیق کے مطابق یہ سیارہ ہماری زمین سے 13 گنا بڑا ہے اور ہمارے سورج سے 9 گنا چھوٹے ستارے کے گرد گھوم رہا ہے، جس نے سائنسدانوں کو چکرا کر رکھ دیا ہے،ویسے تو سیارے کا حجم حیران کن نہیں مگر بہت ٹھنڈے بونے ستارے کے گرد اس کا گھومنا سائنسدانوں کے لیے حیران کن ہے-

    پین اسٹیٹ کے ماہر فلکیات سوراتھ مہادیون نے کہا،کہ "ہم نے ایک ایسا سیارہ دریافت کیا جو اپنے ستارے کے مقابلے بہت بڑا ہے، ایل ایچ ایس 3154 نامی یہ ستارہ زمین سے تقریباً 50 نوری سال کے فاصلے پر ہمارے نسبتاً قریب ہے۔ نوری سال وہ فاصلہ ہے جو روشنی ایک سال میں طے کرتی ہے، 5.9 ٹریلین میل (9.5 ٹریلین کلومیٹر)،یہ ستارہ کائنات کے چند سب سے چھوٹے اور ٹھنڈے ستاروں میں سے ایک ہے،سورج اس ستارے سے ہزار گنا زیادہ روشن ہے۔

    اس تحقیق کے مرکزی مصنف اور پرنسٹن یونیورسٹی کے ماہر فلکیات گومنڈور اسٹیفانسن نے کہا کہ یہ بمشکل ایک ستارہ ہے،اس میں ستارہ مانے جانے والے ہائیڈروجن فیوژن کو سپورٹ کرنے کے کٹ آف کے بالکل اوپر ایک ماس ہے۔

    تحقیق میں کہا گیا کہ اس دریافت سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہم کائنات کے بارے میں کتنا کم جانتے ہیں، کیونکہ ہم نے کبھی اتنے بڑے سیارے کے اتنے چھوٹے ستارے کے گرد گھومنے کی توقع نہیں کی تھی ستارے گیس اور گرد کے بڑے بادلوں سے تشکیل پاتے ہیں اور یہ بادل اپنی کشش ثقل کے باعث ٹھنڈے اور ٹوٹتے رہتے ہیں نئے بننے والے ستاروں کے گرد گھومتے ہوئے گیس اور گرد کے ٹکڑے بتدریج سیاروں کی شکل اختیار کرلیتے ہیں مگر اب تک خیال کیا جاتا تھا کہ سیارے بننے کے لیے اس مادے کی مقدار میزبان ستارے کے حجم کے مقابلے میں بہت کم ہوتی ہے۔

    محققین کے مطابق ہم نے کبھی توقع نہیں کی تھی کہ کسی چھوٹے ستارے کے گرد اتنا بڑا سیارہ موجود ہو سکتا ہے، مگر ایسا سیارہ اب دریافت ہو چکا ہے تو اب ہمیں سیاروں اور ستاروں کے بننے کے عمل کا پھر سے جائزہ لینا ہوگا اس سیارے کو ایل ایچ ایس 3154 بی کا نام دیا گیا ہے اور اسے Habitable Zone Planet Finder کے ذریعے دریافت کیا گیا ، یہ سسٹم ایسے سیاروں کو دریافت کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے جو ہمارے نظام شمسی سے باہر ٹھنڈے ستاروں کے گرد گھوم رہے ہیں۔

    ایسے سیاروں میں سیال پانی کی موجودگی کا امکان کافی زیادہ ہوتا ہے جسے زندگی کے لیے اہم تصور کیا جاتا ہے ایل ایچ ایس 3154 بی کا مشاہدہ کرنے سے دریافت ہوا کہ وہ اپنے میزبان ستارے کے بہت قریب ہے اور وہ محض 3.7 دنوں میں اپنا چکر مکمل کرلیتا ہے یا یوں کہہ لیں کہ اس سیارے کے ایک سال کا دورانیہ 4 دن سے بھی کم ہے، یہ ہمارے نظام شمسی کے سب سے اندرونی سیارے عطارد کے سورج سے بھی زیادہ قریب ہے۔
    science
    فوٹو:روئٹرز
    یہ سیارہ سائز اور ساخت میں نیپچون جیسا ہو سکتا ہے، جو ہمارے نظام شمسی کے چار گیسی سیاروں میں سب سے چھوٹا ہے۔ نیپچون کا قطر زمین سے تقریباً چار گنا ہے۔ سیارے کا مطالعہ کرنے کے لیے استعمال کیے جانے والے طریقہ کار نے محققین کو اس کے قطر کی پیمائش کرنے کے قابل نہیں بنایا، لیکن انہیں شبہ ہے کہ یہ زمین سے تین سے چار گنا زیادہ ہے۔

    محققین کے مطابق اگر کوئی ستارہ ٹھنڈا ہوتا ہے تو پھر سیارے کو خود کو گرم رکھنے کے لیے اس کے قریب آنا پڑتا ہے تاکہ سیال پانی برقرار رہ سکے ابھی ہمیں یہ بھی سمجھنا ہے کہ آخر اتنے چھوٹے ستارے کے گرد اتنا بڑا سیارہ کیسے بن گیا جس کے بعد ہم کائنات تشکیل پانے کے عمل کے بارے میں زیادہ سمجھ سکیں گے۔

  • ہماری زمین کے اندر اربوں سال سے ایک سیارے کا کچھ حصہ موجود ہے،تحقیق

    ہماری زمین کے اندر اربوں سال سے ایک سیارے کا کچھ حصہ موجود ہے،تحقیق

    سائنسدانوں نے انکشاف کیا ہے کہ ہماری زمین کے اندر اربوں سال سے ایک سیارے کا کچھ حصہ موجود ہے۔

    باغی ٹی وی : یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک تحقیق میں سامنے آئی، جس کے نتائج جرنل نیچر میں شائع ہوئے کیلیفورنیا انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کی اس تحقیق میں بتایا گیا کہ یہ انکشاف افریقا اور بحر الکاہل میں 1980 کی دہائی میں ملنے والے مادے کی جانچ پڑتال سے ہوا،یہ مادہ زمین کی پرت کے قریب ملا تھا اور محققین کے مطابق اس میں آئرن کی مقدار بہت زیادہ ہے اور زلزلے کی لہروں پر یہ مادہ مختلف انداز سے ردعمل ظاہر کرتا ہے۔

    محققین کے مطابق یہ ایک سیارے Theia کی باقیات ہیں جو اربوں سال قبل ہماری زمین سے ٹکرایا تھا انہوں نے مزید کہا کہ زمین کی ابتدا میں یہ سیارہ ٹکرایا اور اس ملبے سے ٹیکٹونک پلیٹس پر اثرات مرتب ہوئے اس کے ساتھ ساتھ دونوں سیاروں کے ٹکراؤ سے چاند بھی بنا۔

    گوادر میں سیکیورٹی فورسز کی گاڑیوں پر دہشت گردوں کا حملہ،14 جوان شہید

    محققین کے خیال میں اربوں سال قبل Theia سورج کے گرد چکر لگاتا تھا مگر دیگر سیاروں کی کشش نے اسے اپنی جانب کھینچا تو وہ سیارہ بننے کے عمل سے گزرنے والی زمین سے ٹکرا گیا Theia کا حجم مریخ جتنا تھا اور جب دونوں سیاروں کا ٹکراؤ ہوا تو وہ اتنا طاقتور تھا کہ بہت زیادہ مقدار میں مادہ زمین کے اردگرد پھیل گیا، جو بعد میں ٹھنڈا ہوکر جمع ہوا اور چاند کی شکل اختیار کرگیا۔

    محققین نے تسلیم کیا کہ انہیں معلوم نہیں کہ آخر اس سیارے کی باقیات اب بھی زمین کی تہہ میں کیوں موجود ہیں اس حوالے سے وہ مزید تحقیق کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔

    لاہور چڑیا گھر کو تین ماہ کے لیے بند کرنے کا فیصلہ

  • ماہرین فلکیات کا پہلی بار ستارے کو نگلتے ہوئے سیارے کا مشاہدہ کرنے کا دعویٰ

    ماہرین فلکیات کا پہلی بار ستارے کو نگلتے ہوئے سیارے کا مشاہدہ کرنے کا دعویٰ

    ماہرین فلکیات نے پہلی مرتبہ کسی ستارے کے سیارہ نگلنے کے واقعے کے مشاہدہ کرنے کا انکشاف کیا ہے-

    باغی ٹی وی: امریکی خبررساں ادارے ” سی این این” کے مطابق ہارورڈ یونیورسٹی، میساچیوسٹس اور کیلی فورنیا انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے ماہرین کی ایک ٹیم نے دعویٰ کیا ہے کہ پہلی مرتبہ کسی مرتے ہوئے ستارے کے جوپیٹرسےبڑی جسامت رکھنےوالےسیارے کو نگلنے کا مشاہدہ کیا گیا ہے اس سے قبل صرف سیاروں کے ستاروں میں ضم (Engulfed) ہونے سے قبل یا بعد کے واقعات کا مشاہدہ کیا گیا تھا۔

    5 مئی کو "سائے کی طرح کا”جزوی چاند گرہن دیکھا جاسکے گا، سعودی ماہر فلکیات

    بدھ کوجریدے نیچر میں شائع تحقیق میں ماہرین کی ٹیم کے سربراہ اور میساچوسٹس انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی میں پوسٹ ڈاکٹورل محقق ڈاکٹر کشالے ڈی کا کہنا تھا کہ یہ حقائق تو ہمیں ہائی اسکول سے ہی پڑھائے جاتے ہیں کہ سولر سسٹم میں موجود تمام سیارے آخر کار سورج میں شامل ہو کر ختم ہو جائیں گے اور ہمارے لیے اس بات پر یقین کرنا تھوڑا مشکل ہوتا تھا لیکن اب ہمیں اس سے ملتی جلتی ایک مثال مل گئی ہے۔

    یہ عمل ایک ستارہ کو اس کے اصل سائز سے دس لاکھ گنا زیادہ دیکھتا ہے کیونکہ اس کا ایندھن ختم ہوجاتا ہے اور اس کے نتیجے میں کسی بھی چیز کو لپیٹ میں لے لیا جاتا ہے۔ ماہرین فلکیات نے اس کا مشاہدہ ایک سفید گرم فلیش کے طور پر کیا، اس کے بعد ایک طویل عرصے تک چلنے والا کمزور سگنل، جس کا بعد میں انہوں نے اندازہ لگایا کہ یہ ستارہ کسی سیارے کو گھیرنے کی وجہ سے تھا۔

    چاند کی مٹی سے آکسیجن حاصل کرنا ممکن ہے،ناسا


    کشالے ڈی نے بتایا کہ "ایک رات، میں نے ایک ستارے کو دیکھا جو ایک ہفتے کے دوران 100 کے فیکٹر سے چمک رہا تھا یہ کسی بھی شاندار دھماکے کے برعکس تھا جو میں نے اپنی زندگی میں دیکھا تھا اور ایک ہفتے تک میں اس چمکتی چیز کو دیکھتا رہا، مجھے لگا کہ میں نے اپنی زندگی ستاروں کے پھٹنے کا کوئی عمل دیکھ لیا ہے لیکن وہ جب ہم نے سنگلز کو دیکھا تو یہ دراصل ایک ستارے کے سیارہ نگلنے کا منظر تھا۔

    مصنوعی ذہانت ٹیکنالوجی اندازوں سے کہیں زیادہ خطرناک ہے،اے آئی کے گاڈ فادر نے خبردار …

    ڈاکٹر کشالے کا کہنا تھا کہ پالومر آبزرویٹری کے انفراریڈ کیمرا کے استعمال سے قبل انہیں کیلی فورنیا کی آبزرویٹری سے ڈیٹا موصول ہوا ، بعد ازاں انہوں اسی ستارے سے متعلق ہوائی کی آبزرویٹری سے ڈیٹا تلاش کیا اور پھر انفراریڈ کیمرا کے استعمال سے اس بارے میں مزید معلومات جمع کرنا شروع کی۔

    انہوں نے بتایا کہ انفراریڈ کیمروں سے ملنے والے معلومات نے مجھے چونکا دیا تھا، کیونکہ اس سے معلوم ہوا کہ دراصل یہ ریڈنگز ایک سیارے کے ستارے میں ضم ہو جانے کی تھیں ڈیٹا کے تجزیے کیلئے ہم نے ناسا کے انفراریڈ ٹیلی اسکوپ نیووائس (NEOWISE) کا ڈیٹا دیکھا جس اور واضح ہو گیا کہ دراصل ستارہ ایک سیارے کو نگل رہا تھا۔

    انہوں نے بتایا کہ جسامت میں جوپیٹر سے بڑے سیارے کی موت کا واقعہ تقریباً 12000 نوری سالوں کی دوری پر اکوئیلا کونسٹیلیشن میں پیش آیا تھا،اور اس میں مشتری کے سائز کا ایک سیارہ شامل تھا اس واقعے کا مشاہدہ مئی 2020 میں کیا گیا تھا تاہم جو کچھ ہم نے دیکھا اسے سمجھنے اور اس کی حقیقت کھوجنے میں ہمیں دو سال لگ گئے۔

    واٹس ایپ کا نیا فیچر، صارفین اپنا ایک ہی اکاؤنٹ مختلف فونز میں استعمال کرسکیں …

    ڈی نے کہا کہ ثبوت کے اہم ٹکڑوں میں سے ایک جسے ہم سمجھنے کی کوشش کر رہے تھے کہ یہ دھماکے سے پہلے اور اس کے بعد میں دھول پیدا ہو رہی تھی تاہم، گیس کو ٹھنڈا ہونے اور دھول کے مالیکیول کو گاڑھا ہونے میں وقت لگتا ہے اس کا مطلب یہ تھا کہ ٹیم کو دھول کی خصوصیات کو سمجھنے کے لیے انتظار کرنا پڑا-

    ان کا کہنا تھا کہ تاریخی اعتبار سے اس طرح کا انفراریڈ ڈیٹا ملنا بہت ہی مشکل ہوتا تھا کیونکہ انفراریڈ ڈٹیکٹرز کافی مہنگے ہوتے ہیں اور ان سے بار بار آسمان کی تصویریں بنانے والے بڑے کیمرے بنانا بہت ہی مشکل کام ہوتا ہے لیکن اب ہمارے پاس یہ ڈیٹا موجود ہے اور ہم مستقبل میں بھی اس طرح کے واقعات کا مشاہدہ کر سکیں گےہمارے سیارے زمین کا بھی یہی مقدر ہےاور اگلے 5 ارب سال بعد ہمارا سورج زمین کو نگل جائے گا۔

    وہ غذائی عوامل جو عالمی سطح پرٹائپ 2 ذیا بیطس کا سبب بنتے ہیں

  • سورج کے حجم سے 30 بلین گنا بڑا بلیک ہول دریافت

    سورج کے حجم سے 30 بلین گنا بڑا بلیک ہول دریافت

    ڈرہم: برطانوی ماہرینِ فلکیات کا ماننا ہے کہ انہوں نے اب تک کے دریافت ہونے والے بلیک ہولز سے بڑا بلیک ہول دریافت کر لیا ہے۔

    باغی ٹی وی :برطانیہ میں ماہرین فلکیات نے سورج کی کمیت سے تقریباً 30 بلین گنا بڑا بلیک ہول دریافت کیا ہےڈرہم یونیورسٹی کے سائنس دانوں نے کہا کہ بہت بڑا بلیک ہول اب تک کا سب سے بڑا دریافت ہے۔ ٹیم نے اپنے نتائج کو، جو کہ رائل فلکیاتی سوسائٹی کے ماہانہ نوٹسز میں شائع ہوا، کو "انتہائی دلچسپ” قر ار دیا۔

    28 مارچ کوآسمان پر پانچ سیارے ایک ساتھ نظر آئیں گے

    ماہرین کے مطابق اس بلیک ہول کا حجم ہمارے سورج کے حجم سے 30 ارب گُنا زیادہ ہے جبکہ اس کا وجود ہماری ملکی وے کہکشاں کے مرکز میں موجود سیگِیٹیریس سے 8000 گُنا بڑا ہےانتہائی دلچسپ دریافت گریویٹیشنل لینسنگ کے مظہر کے سبب ممکن ہوئی ہے-

    ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ اس تکنیک سے کوئی بلیک ہول دریافت کیا گیا ہو۔ گریویٹیشنل لینسنگ کا معاملہ تب وقوع پذیر ہوتا ہے جب آگے موجود کہکشاں اپنی پشت پر موجود دور دراز اجرامِ فلکی سے آنے والی روشنیوں کو موڑ دیتی ہے اور بڑا کر دیتی ہےاس تکنیک کا استعمال کرتے ہوئے ڈرہم یونیورسٹی کے محققین نے کہکشاں کے مرکز میں زمین سے کروڑوں نوری سال کے فاصلے پر موجود دیو ہیکل بلیک ہول کا قریب سے مشاہدہ کیا۔

    تحقیق کے سربراہ مصنف ڈاکٹر جیمز نائٹِنگیل کا کہناتھا کہ یہ بلیک ہول، جس کا حجم ہمارے سورج سےاندازاً 30 ارب گُنا زیادہ ہے، دریافت ہونے والے اب تک کے سب سے بڑے بلیک ہولز میں سے ایک ہے یقین ہے کہ بلیک ہولز نظریاتی طور پر بن سکتے ہیں، اس لیے یہ ایک انتہائی دلچسپ دریافت ہے۔

    40 نوری سال کے فاصلے پر15کروڑ سال قبل وجود میں آنیوالا نیا سیارہ دریافت

    یہ بلیک ہول کتنا بڑا ہے اس کااندازہ لگانے کے لیے ڈاکٹر جیمز نائٹِنگیل کے مطابق اگررات میں آسمان کیجانب دیکھا جائے اور تمام ستاروں اور سیاروں کو ملا کر ایک جگہ جمع کر دیا جائے تب بھی یہ سب مل کر اس بلیک ہول کے سائز کا عشرِ عشیر بھی نہیں بھر پائیں گے۔

    الٹرا میسیو بلیک ہولز نایاب اور مضحکہ خیز ہیں، اور ان کی اصلیت واضح نہیں ہے۔ کچھ کا خیال ہے کہ وہ اربوں سال پہلے بڑے پیمانے پر کہکشاؤں کے انتہائی انضمام سےتشکیل پائےتھےجب کائنات ابھی بنی ہی تھیسائنسدانوں نےاس کے سائز کی تصدیق کے لیے یونیورسٹی میں سپر کمپیوٹر سمیلیشنز اور ہبل خلائی دوربین کے ذریعے لی گئی تصاویر کا استعمال کیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ یہ پہلا بلیک ہول تھا جو کشش ثقل لینسنگ کا استعمال کرتے ہوئے پایا گیا تھا۔ ڈاکٹر نائٹنگیل نے کہا کہ "زیادہ تر سب سے بڑے بلیک ہول جن کے بارے میں ہم جانتے ہیں وہ ایک فعال حالت میں ہیں، جہاں بلیک ہول کے قریب کھینچا جانے والا مادہ گرم ہوتا ہے اور روشنی، ایکس رے اور دیگر تابکاری کی شکل میں توانائی خارج کرتا ہے-

    دنیا بھر میں ماحولیاتی خطرے سے بچاؤ کی آخری وارننگ جاری

    تاہم، کشش ثقل لینسنگ غیر فعال بلیک ہولز کا مطالعہ ممکن بناتی ہے، جو کہ دور دراز کہکشاؤں میں فی الحال ممکن نہیں ہے۔ اس نقطہ نظر سے ہم اپنی مقامی کائنات سےآگے بہت سے بلیک ہولزکا پتہ لگا سکتےہیں اور یہ ظاہر کر سکتے ہیں کہ کائناتی وقت میں یہ غیر ملکی اشیاء مزید کیسے تیار ہوئیں۔

    محققین نے کہا کہ ان کے کام نے اس "ٹینٹالیزنگ امکان” کو کھول دیا ہے کہ ماہرین فلکیات پہلے کی سوچ سے کہیں زیادہ الٹرماسیو بلیک ہولز دریافت کر سکتے ہیں اس تحقیق کو یو کے اسپیس ایجنسی، رائل سوسائٹی، سائنس اور ٹیکنالوجی کی سہولیات کونسل، یو کے ریسرچ اینڈ انوویشن کا حصہ، اور یورپی ریسرچ کونسل نے تعاون کیا۔

    شکر گزاری کا جذ بہ شدید ذہنی تناؤ کو کم کر سکتا ہے،تحقیق