Baaghi TV

Tag: سیارے

  • 21  اور 25 جنوری  کو  آسمان پر 6 سیاروں کا دلکش نظارہ  کر سکیں گے

    21 اور 25 جنوری کو آسمان پر 6 سیاروں کا دلکش نظارہ کر سکیں گے

    اسلام آباد: 21 جنوری اور 25 جنوری کو آپ آسمان پر 6 سیاروں کا دلکش نظارہ کر سکیں گے-

    باغی ٹی وی: ماہرین فلکیات کے مطابق 6 میں سے 4 سیاروں یعنی زہرہ، مشتری، زحل اور مریخ کو دیکھنے کے لیے آپ کو دوربین کی بھی ضرورت نہیں ہوگی بلکہ کھلی آنکھوں سے انہیں سورج غروب ہونے کے بعد دیکھا جاسکتا ہے البتہ نیپچون اور یورینس کو دیکھنے کے لیے دوربین کی ضرورت ہوگی زہرہ اور زحل تو ایک دوسرے کے بہت زیادہ قریب موجود ہوں گے۔

    سیاروں کی اس طرح کی قطار بہت زیادہ غیرمعمولی نہیں مگر متعدد سیاروں کو ایک ساتھ دیکھنے کا موقع ہر سال نہیں ملتا، جس وجہ سے یہ پلینٹ پریڈ بہت خاص ہے اگر آپ سیاروں کو آسمان پر دیکھنا چاہتے ہیں تو اس کا بہترین وقت سورج غروب ہونے کے 45 منٹ بعد ہوگا زہرہ اور زحل جنوب مغرب میں جگمگا رہے ہوں گے جبکہ مشتری جنوب مشرقی آسمان پر چھایا ہوا ہوگا اور مریخ مشرق میں نظر آئے گا۔

    ڈونلڈ ٹرمپ حلف برداری،پاکستان سے کون کون شریک ہوا

    سیاروں کے نظر آنے کا یہ سلسلہ 3 گھنٹوں تک برقرار رہے گا جس کے بعد زہرہ اور زحل مغرب میں غروب ہو جائیں گےان سیاروں کے بہترین نظارے کے لیے شہروں کی روشنی سے دور کسی تاریک جگہ کا رخ کریں اور جنوب مشرقی افق پر نظر رکھیں۔

    زہرہ آسمان پر چاند کے بعد دوسرا روشن ترین نظارہ پیش کرتا ہے اور اس کی جگمگاہٹ زحل سے 110 گنا زیادہ ہوگی یہ دونوں سیارے حیران کن حد تک ایک دوسرے کے قریب ہوں گے اور دوربین یا آنکھوں سے بھی دنگ کر دینے والا نظارہ پیش کریں گے۔

    پی ٹی آئی کے اکاؤنٹس منجمد کئے جائیں،اکبر ایس بابر کی الیکشن کمیشن سے استدعا

    نیپچون زحل اور زہرہ کے بالکل اوپر ہوگا جبکہ یورینس کو آپ مشتری کے اوپر دریافت کرسکتے ہیں مریخ 2022 کے بعد اب سب سے زیادہ روشن ہے، یعنی زمین براہ راست مریخ اور سورج کے درمیان آچکی ہے اور اس وجہ سے سرخ سیارہ مشرق میں زیادہ جگمگاتا نظر آرہا ہے سیاروں کی یہ پریڈ یہاں ختم نہیں ہو جائے گی بلکہ 31 جنوری کو چاند بھی ان کے ساتھ شامل ہو جائے گا جو زحل سے محض ایک ڈگری دور نظر آئے گا یکم فروری کو چاند زہرہ کے قریب ہو جائے گا جس سے رات کو آسمان پر ایک اور خوبصورت نظارہ دیکھنے کو ملے گا۔

    سعودی جیلوں سے 2019 سے 2024 تک 7 ہزار 208 پاکستانی رہا

  • پیر کو  علی الصبح ایک نایاب اور منفرد خلائی نظارہ کیا جا سکے گا

    پیر کو علی الصبح ایک نایاب اور منفرد خلائی نظارہ کیا جا سکے گا

    پیر کو علی الصبح ایک نایاب اور منفرد خلائی نظارہ کیا جا سکے گا-

    باغی ٹی وی: 3 جون کو علی الصبح آپ 6 سیاروں کو آسمان پر دیکھ سکیں گے،عطارد، مریخ، مشتری، زحل، یورینس اور نیپچون ایک سیدھی لکیر میں نظر آئیں گے اور اس نظارے کے لیے پلانیٹ پریڈ کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔

    ماہرین کے مطابق متعدد سیاروں کو ایک قطار میں دیکھنا ہمیشہ ایک خصوصی نظارہ ہوتا ہے اور اس سے ہمیں نظام شمسی کی خوبصورتی اور وسعت کا اندازہ ہوتا ہے،مریخ اور مشتری کو دوربین کے بغیر دیکھنا ممکن ہوگا، عطارد، یورینس، نیپچون اور زحل کو دیکھنے کے لیے دور بین یا ٹیلی اسکوپ کی ضرورت ہوگی،ماہرین کے مطابق وینس بھی اس لکیر میں موجود ہوگا مگر اسے دیکھنا ممکن نہیں ہوگا کیونکہ وہ سورج کے برابر میں ہوگا-

    یورپ میں پی آئی اے کی پروازوں پر عائد پابندی بر قرار

    ہر چند سال میں سیاروں کا اس طرح اکٹھے دیکھنے کا موقع ملتا ہے مگر ایک سیدھی لائن میں انہیں دیکھنے کا امکان بہت کم ہوتا ہےایسا مارچ 2023 میں ہوا تھا اور اس موقع پر عطارد، زہرہ، مریخ، مشتری اور یورینس کو دیکھا گیا تھا،علاوہ ازیں آپ 7 سیاروں کی قطار فروری 2025 کے آخر میں سورج غروب ہونے کے بعد دیکھ سکیں گے۔

    پنجاب : انسداد پولیو مہم کا آغاز کل سے ہو گا

  • ہمارے نظام شمسی کے چھ سیارے ایک قطار میں آئیں گے

    ہمارے نظام شمسی کے چھ سیارے ایک قطار میں آئیں گے

    ماہرین کا کہنا ہے کہ ہمارے نظام شمسی کے چھ سیارے ایک قطار میں آنے کو تیار ہیں۔

    ”پلینیٹری الائنمنٹ“ ایک اصطلاح ہے جو نظام شمسی میں سیاروں کی پوزیشننگ کو بیان کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہے، جیسے کہ سیدھی قطار میں آنا یا کسی مخصوص مقام سے دیکھنے پر قریب نظر آنا وغیرہ، لیکن سیاروں کا واقعی خلا میں ایک سیدھی لائن میں آنا دراصل ایک بصری دھوکہ ہے اور اس میں نقطہ نظر کا زیادہ کردار ہے۔

    عطارد، مریخ، مشتری، زحل، یورینس اور نیپچون ایک قریب سیدھی لکیر بنائیں گے، یہ اس کائناتی مظہر کو دیکھنے کا ایک غیر معمولی موقع گا تاہم، زمین سے وسیع فاصلے پر ہونے کی وجہ سے، ان میں سے سب صرف آنکھ سے نظر نہیں آئیں گے چاند بھی اس مظہر کی مرئیت کو خراب کرے گا۔

    قاتلانہ حملے میں زخمی صحافی علاج کیلئے سندھ حکومت کی ایمبولینس پر کراچی منتقل

    عطارد اور مشتری کو اپنے مدار میں سورج کے قریب ہونے کی وجہ سے آسمان میں دیکھنا مشکل ہوگا تاہم، مریخ اور زحل دیکھے جاسکیں گے، لیکن بہت مدھم ہوں گے دور دراز سیاروں یورینس اور نیپچون کو دیکھنے کے اعلیٰ طاقت والی دوربین کی ضرورت ہوگی۔

    نان فائلرز کی اب تک کتنی موبائل سمز بلاک ہوئی؟ایف بی آر نے …

  • ایران نے 3 مصنوعی سیارے اکٹھے خلا میں روانہ کر دیئے

    ایران نے 3 مصنوعی سیارے اکٹھے خلا میں روانہ کر دیئے

    تہران: ایران نے 3 مصنوعی سیارے اکٹھے خلا میں روانہ کر دیئے۔

    باغی ٹی وی: ایران نے 3 مصنوعی سیارے سیمرغ نامی سیٹلائٹ کیریئر راکٹ کے ذریعے خلا میں روانہ کئے،سیاروں میں سے ایک کا وزن 32 کلو جبکہ دیگر 2 دس کلو گرام سے تھوڑے کم وزن کے ہیں یہ مصنوعی سیارے جیو پوزیشننگ اور مواصلاتی رابطے کی سروسز فراہم کریں گے۔

    ایران نے اس سے قبل بھی رواں ماہ ‘ثریا’ نامی مصنوعی سیارہ خلا میں روانہ کیا تھا یورپی ممالک نے ایران کے اس اقدام پر تشویش کا اظہار کیا تھا مگر ایران کا کہنا تھا کہ ایران سائنسی مقاصد کیلئے ان سیاروں کو استعمال کرے گا یہ بطور آزاد ریاست اس کا حق ہے۔

    اینکر پرسن ارم چوہدری انتقال کر گئیں

    دوسری جانب جنوبی کوریا کی فوج کی جانب سے کہا گیا ہے کہ شمالی کوریا نے جدید کروز میزائل کا تجربہ کیا ہے، امریکہ کے اتحادی جنوبی کوریا کی فوج نے ایک بار پھر شمالی کوریا کی جانب سے کروز میزائل کے تجربے پر تشویش کا اظہار کیا، جنوبی کورین فوج کے تازہ بیان میں کہا گیا کہ شمالی کوریا نے اپنے مشرقی ساحل کی جانب کئی کروز میزائل فائر کئے تاہم ان کی تعداد سے متعلق کچھ نہیں کہا جا سکتا۔

    کورین فوج کے جوائنٹ چیف آف سٹاف کا کہنا تھا کہ ہماری فوج شمالی کوریا کی اشتعال انگیز کارروائیوں کی نگرانی کیلئے امریکہ سے رابطے میں مصروف ہے۔

    دن میں امریکی فوجی اڈے پر ڈرون حملے، 3 امریکی فوجی ہلاک اور …

    سری لنکن کرکٹ بورڈ کی رکنیت بحال ہو گئی

  • خلا میں آزاد گھومتے   سیارہ مشتری کے حجم جتنے دو "سیارے” دریافت

    خلا میں آزاد گھومتے سیارہ مشتری کے حجم جتنے دو "سیارے” دریافت

    دنیا کی طاقتور ترین دوربین جیمز ویب اسپیس ٹیلی سکوپ نے سیارہ مشتری کے حجم جتنے دو "سیارے” خلا میں آزاد گھومتے دریافت کئے ہیں-

    باغی ٹی وی:دریافت کےبارے میں دلچسپ بات یہ ہےکہ یہ سیارے جوڑی میں حرکت کرتےنظر آتےہیں جیمز ویب ٹیلی اسکوپ نےان سیاروں کا مشہور Orion نیبولا کےنئےتفصیلی سروےمیں مشاہدہ کیاجہاں ان جیسے تقریباً 40 جوڑےسیارےموجود ہیں، سائنس دانوں نے ان سیاروں کو مختصراً “JuMBOs” کا عرفی نام دیا ہے تاہم یہ بغیر کسی شمسی نظام کے خلا میں کیسے گھوم رہے ہیں، اس کے بارے میں ناسا کے ماہرین فلکیات نے دو امکانات کا ذکر کیا ہے۔

    بھارت حیدرآباد : نیوزی لینڈ کی پری میچ پریس کانفرنس کے دوران بجلی …


    ماہرین کے مطابق ایک امکان یہ ہے کہ یہ سیارے نیبولا کے ان خطوں سے نکلے ہیں جہاں مواد (materials) کی کثافت پوری طرح سے ستارے بنانے کے لیے ناکافی تھی جس کی بنا پر یہ اس مقام سے خارج ہوگئے دوسرا امکان یہ ہے کہ وہ ستاروں کے گرد وجود میں آئے اور پھر مختلف تعاملات کے ذریعے خلا میں خارج ہوگئے ناسا کے پروفیسر مارک میک کیوگرین نے کہا کہ مذکورہ بالا دونوں امکانات میں سے فی الحال اول الذکر مفروضے کو اپنایا گیا ہے۔

    ‎‎نوارا نجم معروف مصری صحافی

  • 28 مارچ کوآسمان پر پانچ سیارے ایک ساتھ نظر آئیں گے

    28 مارچ کوآسمان پر پانچ سیارے ایک ساتھ نظر آئیں گے

    ماہرین فلکیات کا کہنا ہے کہ منگل کی شام غروب آفتاب کےبعد پانچ سیارے ایک ساتھ نظر آئیں گے،یہ سب سیارے چاند کے قریب موجود ہوں گے اور دنیا بھر میں ان کا نظارہ کرنا ممکن ہوگا۔

    باغی ٹی وی:ماہرین فلکیات کے مطابق 28 مارچ کو سورج غروب ہونے کے بعدعطارد، زہرہ، مریخ، مشتری اور یورینس چاند کے نیچے گولائی میں نظر آئیں گے،بیشتر سیاروں کو دیکھنے کے لیے ٹیلی اسکوپ یا دوربین کی بھی ضرورت نہیں ہوگی، تاہم کچھ سیارے دوربین کے بغیر دکھائی نہیں دیں گے۔

    تنزانیہ کی پراسرار جھیل جو جانوروں کو پتھر کا بنا دیتی ہے

    ماہرین کے مطابق 28 مارچ کو سورج غروب ہونے کے بعد افق پراس جگہ نظرڈالیں جہاں سورج غروپ ہوا تھا تو چمکدار مشتری کو دیکھنا ممکن ہو گا جس کے ساتھ مدھم عطارد بھی ہوگا زہرہ کو آسمان پر دیکھنا سب سے زیادہ آسان ہو گا مگر اس کے قریب موجود یورینس کو دیکھنے کے لیے دوربین کی ضرورت ہوگی،مریخ اوپر چاند کے قریب نظر آئے گا جہاں وہ کافی روشن ہوگا۔

    ماہرین کے مطابق یہ سب سیارے سیدھی لکیر میں نہیں ہوں گے مگر پھر بھی ایک وقت میں ان سیاروں کا آسمان پر نظارہ بہت خاص ہوگا کیونکہ تمام سیارے آسمان پر’موتیوں کےہار‘ کی طرح دکھائی دیں گے اور جمعےکو غروب آفتاب کے بعد ان پانچ سیاروں کا نظارہ زیادہ واضح ہوگا جسے آئندہ دو ہفتےتک دیکھا جاسکےگا 29 اور 30 مارچ کو مشتری کے علاوہ باقی سیاروں کو آپ دیکھ سکیں گے۔

    40 نوری سال کے فاصلے پر15کروڑ سال قبل وجود میں آنیوالا نیا سیارہ دریافت

    سیاروں کے ایک ساتھ نظر آنےکا منظر ہر چند سال بعد ہوتا ہے مگر ایک سیدھی لائن میں انہیں دیکھنے کا امکان بہت کم ہوتا ہے ایسا جون 2022 میں ہوا تھا جو اس موقع پر عطارد، زہرہ، مریخ، مشتری اور زحل کو دیکھا گیا تھا۔

  • نظامِ شمسی کے قریب  زمین جیسے دو چٹانی سیارے دریافت

    نظامِ شمسی کے قریب زمین جیسے دو چٹانی سیارے دریافت

    شیکاگو: ناسا کے ٹرانزٹنگ ایکسوپلینٹ سروے سیٹلائیٹ (TESS) نے حال ہی میں ہمارے نظامِ شمسی سے قریب ترین دو چٹانی، زمین کے جیسے سیاروں کی دریافت کی ہے۔

    باغی ٹی وی :سیاروں کی دریافت یونیورسٹی آف شیکاگو میں پوسٹ ڈاکٹرل کے فیلو رافیل لوک کی سربراہی میں کام کرنے والی بین الاقوامی محققین کی ٹیم نے ٹیس سے موصول ہونے والے ڈیٹا میں کی محققین کی جانب سے پہلے اس دریافت کے متعلق معلومات امریکی ریاست کیلیفورنیا کے شہر پیسیڈینا میں منعقد ہونے والی امیریکن آسٹرونومیکل سوسائیٹی کی 240 ویں میٹنگ میں پیش کی گئیں تھیں۔

    گوگل کا اپنی ہینگ آؤٹس سروس بند کرنے کا اعلان

    محققین کے مطابق یہ ایکسو پلینٹ یعنی نظام شمسی سے باہر یہ دو سیارے زمین سے 33 نوری سال کے فاصلے پر موجود HD 260655 نامی سرخ ڈوارف سیارے کے گرد گھوم رہے ہیں یہ سیارے ہماری زمین کی طرح چٹانی تو ہیں لیکن ہیئت میں زمین سے بڑے ہیں ایک سیارہ زمین سے 1.2 گُنا اپنے ستارے کے گرد چکر لگانے میں صرف 2.8 دن لیتا ہے جبکہ دوسرا سیارہ زمین سے 1.5 گُنا بڑا ہے جس کو ایک مدار مکمل کرنے کے لیے 5.7 دن درکار ہیں۔

    سیاروں کا پیرنٹ ستارہ ایک نام نہاد M بونا ہے، جو سورج کی جسامت اور چمک کے دسویں حصے کا ایک چھوٹا ستارہ ہے۔ پھر بھی، سیاروں کی سطحوں پر درجہ حرارت بالترتیب 818 ڈگری فارن ہائیٹ (437 ڈگری سیلسیس) اور 548 ڈگری فارن ہائیٹ (287 ڈگری سینٹی گریڈ) تک پہنچ جاتا ہے۔

    میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹکنالوجی (MIT) میں فلکیات میں پوسٹ ڈاکٹریٹ محقق اور اس دریافت کے پیچھے سرکردہ سائنسدانوں میں سے ایک مشیل کونیموٹو نے بیان میں کہا کہ ہم اس حد کو رہائش پذیر زون سے باہر سمجھتے ہیں پھر بھی، یہ دو سیارے ہمارے نظام شمسی سے باہر زمین جیسی دنیاؤں کے بارے میں مزید جاننے کا ایک دلچسپ نیا موقع فراہم کریں گے-

    دنیا کا سب سے بڑا بیکٹریا دریافت

    Kunimoto نے کہا کہ اس نظام کے دونوں سیاروں کو اپنے ستارے کی چمک کی وجہ سے ماحول کے مطالعہ کے لیے بہترین اہداف میں شمار کیا جاتا ہے۔” "کیا ان سیاروں کے ارد گرد اتار چڑھاؤ سے بھرپور ماحول موجود ہے؟ اور کیا پانی یا کاربن پر مبنی انواع کے آثار ہیں؟ یہ سیارے ان دریافتوں کے لیے بہترین ٹیسٹ بیڈ ہیں۔

    محققین ستارے کے نظام کا مطالعہ جاری رکھتے ہوئے امید کرتے ہیں کہ اس میں اور بھی سیارے ہوسکتے ہیں، جن میں سے کچھ، شاید، ہمارے سیارے سے تھوڑا دور ہوسکتے ہیں۔

    TESS مشن کے MIT کے تحقیقی سائنسدان اوردریافت کےشریک مصنف، Avi Shporer نے بیان میں کہا نظام میں مزید سیارے ہو سکتے ہیں بہت سے ملٹی پلینٹ سسٹمز ہیں جو پانچ یا چھ سیاروں کی میزبانی کر رہے ہیں، خاص طور پر چھوٹے ستاروں کے ارد گرد۔ اس کی طرح امید ہے کہ ہم مزید تلاش کریں گے، اور شاید کوئی قابل رہائش زون میں ہو۔

    خواتین کے دماغ کا درجہ حرارت مردوں سے زیادہ ہوتا ہے ،تحقیق

    واضح رہے کہ 2018 میں خلاء میں نظامِ شمسی سے باہر موجود سیاروں کی تلاش کے لیے بھیجا جانے والا اسپیس کرافٹ ٹرانزٹ طریقہ کار استعمال کرتا ہے۔ اس طریقہ کار کے تحت یہ فاصلے پر موجود ستارے کا مشاہدہ کرتا رہتا ہے اور انتظار کرتا ہے کب اس کی روشنی میں خلل آئے جو اس بات ثبوت کا ہوتی ہے کہ اس ستارے گرد گھومنے والے سیارے ٹیس اور اس ستارے کے درمیان سے گزر رہے ہیں۔

    یہ اسپیس کرافٹ 200 سے زائد مصدقہ ایکسو پلینٹ دریافت کر چکا ہے، جس کے بعد ماہرینِ فلکیات کی دریافتوں کی تعداد 5000 سے تجاوز کر گئی ہے-

    بوڑھی جلد کو جوان کرنے کا سائنسی طریقہ دریافت