Baaghi TV

Tag: سیاستدان

  • علی ظفر کی سیاستدانوں کو مشورے پر مبنی پوسٹ سے سبہی خوش اور متفق

    علی ظفر کی سیاستدانوں کو مشورے پر مبنی پوسٹ سے سبہی خوش اور متفق

    ملکی سیاسی حالات پر اس وقت ہر کوئی گفتگو کرتا دکھائی دیتا ہے اور فنکار ہوں یا گلوکار ہو ہر کوئی کسی نہ کسی سیاسی جماعت کو سپورٹ کرتا ہوا دکھا دیتا ہے۔بہت سارے ایسے فنکار اور گلوکار ہیں جو بڑی تعداد میں نہ صرف اپنی پسندیدہ سیاسی جماعت کو سپورٹ کررے ہیں بلکہ ان کے جلسے جلوسوں میں بھی شامل ہوتے ہیں۔ ان میں شان شاہد کا نام قابل زکر ہے جو پاکستان تحریک انصاف کے جلسوں میں دکھائی دیتے ہیں۔ہر کوئی اس وقت اپنی پسند نہ پسند اور حالات کے مطابق ملکی سیاسی بحث میں نہ صرف حصہ لیتا ہے بلکہ سیاستدانوں اور عوام کو مشورے بھی دیتا ہے۔ایسا ہی مشورہ علی

    ظفر نے دیا دو روز قبل سیاستدانوں کو انہوں نے ایک ٹویٹ کیا اور اس میں لکھا کہ ”سیاسی قائدین کو میرا عاجزانہ مشورہ ہے کہ اپنی دولت کا پانچ فیصد پاکستان کے لیے عطیہ کریں تاکہ قوم بھی متاثر ہو کر ایسا ہی کرے۔ مثال بنیں“ علی ظفر کی اس پوسٹ کے نیچے بہت سارے کمنٹس کئے گئے جہاں ان کے حق میں بات کی گئی وہیں ان سے کہا گیا کہ فنکار کیوں نہ ایسا کریں۔ علی ظفر کی مشورے بھری یہ پوسٹ کافی وائرل ہو رہی ہے اور بہت سارے لوگ علی ظفر کی اس پوسٹ کو سراہ رہے ہیں اور گلوکار و اداکار کا ملک کے لئے درد اور جذبے کو عزت کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔

  • آج دنیا بھر میں باپ سے اظہار محبت  کا عالمی دن منایا جارہا ہے

    آج دنیا بھر میں باپ سے اظہار محبت کا عالمی دن منایا جارہا ہے

    آج باپ سے اظہار محبت کا عالمی دن دنیا بھر سمیت پاکستان میں بھی منایا جارہا ہے۔ فادر ڈے یعنی باپ سے اظہار محبت کاعالمی دن ہر سال انیس جون کو منایا جاتا ہے۔

    ماہر تعلیم اور سماجی کارکن ضیاءالدین یوسف زئی نے اپنے ایک پیغام میں لکھا کہ: "میری ہمیشہ کوشش ہوتی ہے کہ اپنے بیٹوں کے ساتھ مختلف انداز میں کس طرح تعلق قائم رکھا جانا چاہئے۔ کیونکہ ہربچہ مختلف ہوتا ہے اور ہر دن آپ کچھ نیا سیکھتے ہیں کےاپنے بچوں کیلئے کیسے ایک بہترین والدین بن سکتے ہیں۔”

    پاکستانی کرکٹر شاداب خان نے باپ سے اظہار محبت کرتے ہوئےلکھاکہ: آج میں جو کچھ ہوں وہ اپنے والد کی وجہ سے ہوں۔ انہوں نے ہمارے خواب کو پروان چڑھانے کیلئے اپنی خواہشات کی قربانی دی۔ اللہ میرے والد کو اچھی صحت دے ۔ ہم اپنے باپ کے بغیر کچھ بھی نہیں ہیں۔


    مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز شریف لکھتی ہیں کہ: "آپ کی چھوٹی بچی آپ کے کندھوں پر بیٹھنے سے لے کر آپ کے کارکن کے طور پر آپ کے ساتھ کھڑے ہونے تک، یہ ایک ایسا سفر ہے جس کے علاوہ میرے پاس کوئی راستہ نہیں تھا۔ میری دعا ہے اللہ آپ کو صحت اور لمبی عمر عطا فرمائے۔ آپ کے ملک کو آپ کی ضرورت ہے، مجھے آپ کی ضرورت ہے۔”


    وزیرخارجہ بلاول بھٹوزرداری کا ایک پیغام میں کہنا تھا کہ: میرے عقل مند، صابر اور بہادر والدآصف علی زرداری کو فادر ڈے مبارک ہو، جنہوں نے سی پیک کی بنیاد رکھی، بینظیرانکم سپورٹ پروگرام کاآغازکیااور شہید ذولفقارعلی بھٹوکےبعد اپنی مدت پوری کرنےوالےپہلے سویلین صدر اور 1973 کاآئین بحال کیا۔ ابھی بہت کچھ کرناہے۔ اور کوئی آمر، جیل اور ظلم و اذیت انکی مسکراہٹ نہیں چھیں سکے۔

  • پاک فوج ملک وقوم کی سلامتی کی ضامن:سیاست کریں مگرپاک فوج پرنہیں:زیبا بختیار

    پاک فوج ملک وقوم کی سلامتی کی ضامن:سیاست کریں مگرپاک فوج پرنہیں:زیبا بختیار

    لاہور:پاک فوج ملک وقوم کی سلامتی کی ضامن:سیاست کریں مگرپاک فوج پرنہیں:ان خیالات کا اظہارمعروف فنکارہ زیبا بختیار نے اپنے ویڈیو پیغام میں کیا ہے ، زیبا بختیار کا کہنا تھا کہ یہ وہی پاک فوج ہے جس پرقوم کوفخر ہے

    ذرائع کےمطابق اس وقت زیبا بختیار کی ایک ویڈیو وائرل ہوئی ہے جس میں انہوں نے اپنا پیغام شیئرکیاہے،زیبا بختیار کہتی ہیں کہ یہی وہی پاک فوج ہے جواس ملک وقوم کی سلامتی کی ضامن ہے

    زیبا بختیار کہتی ہیں کہ پاک فوج کے بارے میں کچھ سیاستدان اپنی سیاست کی آڑ میں نشانہ بنا رہےہیں ان کو ایسا نہیں کرنا چاہیے ، یہ پاک فوج ہرحال میں قوم کےساتھ کھڑی ہوتی ہے اور ائندہ بھی قوم کی امنگوں کی ترجمان بن کررہے گی ،

    زیبا بختیار کہتی ہیں کہ ہمیں کسی بھی قومی ادارے کے خلاف نہیں جانا چاہیے ،خصوصا پاک فوج کے حوالے سے جوایک منظم ادارہ ہے

    یاد رہے کہ اس سے پہلے پاک فوج کے ریٹائرڈ افسران کی طرف سے کچھ ایسے ہی ردعمل کا اظہارکیا تھا جس میں‌ عمران خان کا فوج میں تقیسم کا منصوبہ ناکام بنا دیا گیا ،

     

     

    اطلاعات کے مطابق ملک میں اس وقت پائی جانے والی بےچینی اور پاک فوج کی قیادت کے خلاف اٹھنے والی آواز کے خلاف پاک فوج کے افسران اور جوان میدان میں آگئے ہیں ،ان کا کہنا تھا کہ یہ وہی فوج ہے جس نے ہرمشکل وقت پرآپ کا ساتھ دیا،پاک فوج کے افسران اور جوان سب ایک ہیں

  • قوم راشن پرست یا آپ شہرت پرست ؟؟    ازقلم:غنی محمود قصوری

    قوم راشن پرست یا آپ شہرت پرست ؟؟ ازقلم:غنی محمود قصوری

    قوم راشن پرست یا آپ شہرت پرست ؟؟

    ازقلم غنی محمود قصوری

    بڑے دنوں سے حکومت اور اپوزیشن کے مابین چپقلش جاری تھی اور بالآخر کل یکم رمضان کو عدم اعتماد کی تحریک ریجیکٹ کرتے ہوئے اسمبلیاں توڑ دی گئیں اور نئے سرے سے الیکشن کروانے کا اعلان کیا گیا اس ساری رام کہانی کا مہرہ بنے کئی ایم پی اے ،ایم این اے جو پہلے کسی پارٹی کے ساتھ تھے وہ اب دوسری پارٹی کا سہارا بذریعہ روکڑا بن گئے یہ کوئی نئی بات نہیں ایسا شروع سے ہی ہے اور یہ رسم جمہوریت ہے-

    اپوزیشن نے بھی اس قوم کو خوب برا بھلا کہا اور حکمران جماعت کے کارکنان و عہدیداروں نے بھی ،جماعت تبدیل کرنا حکومتیں گرانا نئی بات نہیں ہمارا آئین اس بات کی اجازت دیتا ہے اور یہ آئین بنانے والے بھی یہی لوگ ہیں عام شہریوں کا آئین و قانون سازی سے دور دور کا کوئی تعلق بھی نہیں –

    تاریخ پاکستان میں موجودہ حکمران نے جہاں قوم کو انتہائی غربت و مہنگائی کی آگ میں جھونکا وہیں وقت کے فرعون امریکہ کو بھی للکارا جو کہ ایک بہت بڑی جرآت مندی کی بات ہے مگر پہلے دیکھئے کہ اس جرآت مندی کے محرکات کیا ہیں؟

    جب عمران خان صاحب نے اقتدار سنبھالا تو ہمارے پڑوس میں امریکہ و چالیس ممالک کی ناٹو فورسز موجود تھیں اور ملک میں دہشت گردی کا راج تھا ہماری فورسز نے بے پناہ قربانیاں دے کر جنرل مشرف کے فارمولے پر عمل پیرا ہو کر امریکہ سے ڈبل گیم کی اور امریکہ افغانستان میں گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہوا اور اسے بدترین ذلت کیساتھ افغانستان سے اپنے اتحادیوں سمیت نکلنا پڑا اور اس سب کیلئے لاکھوں پاکستانیوں اور ہزاروں فوجیوں کی شہادتیں دینی پڑیں جبکہ سیاستدانوں کی کتنی جانیں اس جنگ میں گئی وہ یقیناً آپ بخوبی جانتے ہیں-

    خیر انخلا امریکہ کے بعد ہمارا ملک دہشت گردی سے کافی حد تک بچ گیا اور ہم نے امریکہ کو ایبسولوٹلی ناٹ اور ہم تمہارے غلام نہیں ہیں جیسے سخت الفاظ کہے جس سے امریکہ فرعون وقت بوکھلا گیا اور پاکستان میں اندرونی سازشوں کے ذریعہ سے انتقام پر اتر آیا جس کا واضع ثبوت تمام تر پاکستان مخالف جماعتوں کا یک جان ہو کر بلوچستان و کے پی کے میں فورسز پر بار بار حملے کرنا ہے نیز ملک کے مختلف شہروں میں بھی بم دھماکے کروائے گئے جس میں سیکیورٹی فورسز کے ساتھ ساتھ عام شہریوں کی شہادتیں ہوئیں جن میں ہر سیاسی مذہبی جماعت کے کارکنان شامل تھے تاہم ابھی تک حالیہ حملوں میں کوئی بھی اعلی سیاستدان ان دہشت گردوں کا نشانہ نہیں بنا-

    یہاں ایک اہم بات یہ ہے کہ خان صاحب نے اپنے اقتدار کے پہلے دو سال کوئی سخت الفاظ بخلاف امریکہ کیوں نا بولا؟ وجہ صاف ہے کہ ہم اس پوزیشن میں تھے ہی نہیں اور اگر ایسا کرتے تو یقیناً خمیازہ بہت زیادہ بھگتنا پڑا خیر بات اپوزیشن و حکومت پر لاتے ہیں22 کروڑ میں سے چند سیاستدانوں نے عمران خان کا ساتھ ذاتی مفاد اور حصول اقتدار کیلئے چھوڑا تو فوری سوشل میڈیا پر خان صاحب کے تربیت یافتہ کارکنان و اپوزیشن کے کارکنان نے پاکستانی قوم پر فتویٰ صادر فرمایا کہ یہ قوم راشن پرست یہ قوم بے غیرت ہے ان سب باتوں سکرین شاٹس بطور ثبوت میرے پاس موجود ہیں-

    مزید کہا گیا کہ اس قوم کو صحت کارڈ کی جگہ غیرت کارڈ جاری کرنا چائیے یہ بھکاری قوم ہے اور پیسوں کی خاطر اپنی ماں بھی بیچ سکتی ہے وغیرہ وغیرہ نیز افواج پاکستان کو بھی کھلے عام گالیوں سے نواز گیا کہ جنرل باجوہ امریکی غلامی سے نکلنا نہیں چاہتا-

    مزید افسوس کہ مذہبی جماعتوں کے لوگ بھی سوشل میڈیا پر سرعام ایسی باتیں کرتے رہے کہ جن کے اپنے گھروں کے چولہے اسی قوم کے چندے سے چلتے ہیں اور یہ لوگ عوام سے بلا تفریق سیاسی جماعتوں کی وابستگی پیسہ لیتے ہیں عوام پر بھی لگاتے ہیں اور اپنے بیوی بچے بھی پالتے ہیں مگر جب وقت آتا ہے تو ان کی ساری وابستگیاں کسی ایک مخصوص سیاسی جماعت سے ہو جاتی ہیںافسوس صد افسوس ایسے مذہبی لوگوں پر سیاسی لوگوں پر تو کیا افسوس کرنا بنتا ہے-

    حضور والا قوم کو ان القابات سے نوازنے والوں میرے آپ سے چند سوال ہیں ذرا ان کا جواب تو دیجئے پھر میں دیکھتا ہوں کہ یہ قوم راشن پرست ہے کہ آپ چندہ،بندہ،پیسہ،شہرت پرست؟

    کیا فوجی دفاعی مضبوطی کے بغیر تمہارا خان ایبسولوٹلی ناٹ کہہ سکتا تھا؟ کیا قوم نے تمہیں ووٹ دے کر اقتدار نا دلوایا؟ کیا تمہارے ہی چنے گئے سیاستدان پیسوں کے عوض نا بکے؟کیا ملک کے اندر غربت کی بہت بڑی لہر نہیں آئی؟کیا موجودہ حکمران جماعت کے چینی و آٹا و ادویات چور کھلے عام نہیں گھوم پھر رہے؟-

    کیا جب جنرل مشرف کے دور حکومت میں جب امریکہ کے ساتھ ڈبل گیم کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا اور قوم پر اطمینان تھی اور ملکی ترقی کا آغاز ہوا تھا تب تمہارے ہی خان صاحب نے نواز،زرداری،فضل الرحمن کیساتھ مل کر جنرل مشرف کے خلاف ان کی حکومت گرانے میں مدد نا کی تھی ؟؟

    کیا تحریک عدم اعتماد میں مجھ اور آپ جیسے عام پاکستانیوں کی رائے لی گئی اسمبلی میں؟کیا عام پاکستانی اسمبلی میں جا کر تجویز پیش کر سکتا ہے؟کیا ملک بھر میں بنے مدارس و مساجد اسی عوام کے چندے پر نہیں چل رہے ؟کیا ملک بھر میں رفاعی تنظیمیں بے لوث بغیر سیاسی وابستگی لوگوں کی مدد نہیں کر رہیں اور کیا وہ تنظیمیں گورنمنٹیں چلاتی ہیں؟آج بھی جن دیہات میں دیہاتیوں کے اپنے گھروں کی چھتیں بارش میں ٹپکتی ہیں کیا وہاں کی مساجد میں لینٹر اور دیگر سہولیات موجود نہیں اور یہ سہولیات فراہم یہی راشن پرست عوام مہیا کرتی ہے کہ گورنمنٹیں؟؟-

    سوال تو اور بھی بہت ہیں جناب تحریر لمبی ہونے کے باعث مختصر کر رہا ہوں جناب والا آپ تو پوری قوم کو چند بے ضمیروں کی بدولت راشن پرست وغیرہ کہہ رہے ہیں میں قوم کی غیرت کی ایک مثال اپنی ہڈ بیتی روزہ رکھ کر تمہارے سامنے رکھتا ہوں پھر تم اس قوم کو راشن پرست کہنا یا تمام سیاست دانوں کو اقتدار کی ہوس کے پجاری-

    میری ذاتی ہڈ بیتی ہے

    2005 کا زلزلہ آیا میں نے اپنے بچپن کے ساتھیوں سے مل کر اپنے علاقے سے ایک ٹرک سامان کا بھرا اور بالاکوٹ لے کر گیا تھا اور اس وقت جماعت الدعوہ کے زیر سایہ لے کر گیا تھا کیونکہ وہ سب سے زیادہ متحرک جماعت تھی ہوا کچھ یوں کہ ہم کم عمر لڑکے ہر گھر جاتے اور ان کو بتاتے کہ ہمارے کشمیری و صوبہ سرحد کے بھائیوں پر زلزلہ کی آزمائش آن پڑی ہے ان کی چھتیں چھن گئی ہیں اور بہت سے لوگ جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں لہذہ مدد کرومجھے یاد ہے یہی ماہ مقدس رمضان تھا تب بھی ہم نے خود غریب ترین لوگوں سے ان کل کل ڈیہاری سے زیادہ کے کپڑے،سویٹر،جرسیاں،دالیں، گھی،چاول،گندم حتی کہ ادویات تک اکھٹی کیں اور بفضل تعالی لوگوں نے بخوشی دیا اپنے مصیبت زدہ بہن بھائیوں کیلئے ہاں اس وقت سیاستدانوں نے بھی بہت مدد کی تھی ہماری ایک اہم بات بتاتا ہوں-

    ہم ایک گھر میں گئے کہ جس گھر سے محض ڈیڑھ ماہ بعد لڑکی کی شادی تھی ہم نے اس بوڑھی غریب ترین عورت کے سامنے مدعا بیان کیا تو وہ کہنے لگی پتر ذرا رکو اور بیٹھ جاؤہم بیٹھے تو اماں جی نے ہمیں آواز دی کہ پتر پیٹی کھولنے میں میری مدد کرو خیر ہم نے پیٹی کھولی تو ماں جی بولی بیٹا میری بیٹی کا جہیز ہے مگر یہ تو اور بن جائے گا یہ جو وزنی والا کمبل ہے نا یہ نکالو اور لے جاؤ اور ساتھ گرم چادر بھی لے لومیں نے کہا ماں جی ہماری آپی کی شادی قریب ہے آپ بس سو پچاس روپیہ دے دیں یہی کافی ہے-

    اس اللہ کی شیرنی نے کہا کہ اوئے پتر جھلا ہویا ایں ؟وہ بھی تو میری ہی بیٹیاں ہیں تو یہ چیزیں پکڑ اور ان تک پہنچاؤاللہ کی قسم ایسے ایسے لوگوں نے ہمیں پیسے و چیزیں دیں جن کے اپنے گھروں کے خرچے بمشکل چلتے تھے ہم وہاں گئے تباہ شدہ پورا بالاکوٹ اپنی آنکھوں سے کئی دن دیکھتے رہے اور بہت سی مذہبی جماعتوں کے کام بھی دیکھے اگر قوم کا وہ جذبہ لکھنے لگوں تو محض 2005 کے زلزلہ پر میں ایک کتاب لکھ سکتا ہوں اس کے علاوہ پھر بلوچستان کا زلزلہ آیا سندھ و بلوچستان کے لوگوں کیلئے ہماری انہی راشن پرست لوگوں نے پینے کے صاف پانی کا انتظام کیا بہت مثالیں میرے پاس ذاتی ہڈ بیتی موجود ہیں ان شاءاللہ پھر کبھی رقم کرونگا بس اتنا پوچھنا ہے مجھے ان لوگوں سے کہ یہ قوم راشن پرست ہے کہ آپ شہرت پرست؟-

  • ہائے یہ آئین شکنی۔:حق سچ (علی عمران شاھین)

    ہائے یہ آئین شکنی۔:حق سچ (علی عمران شاھین)

    پاکستان کے قانون کے تحت آئین شکنی یا آئین کی خلاف ورزی کی سزا موت ہے اور آج کل ہماری اپوزیشن یہی آئین شکنی کا الزام لے کر عدالت عظمیٰ (سپریم کورٹ )چلی گئی ہے کہ تحریک عدم اعتماد پر آئین کے مطابق اجلاس نہیں بلایا گیا ۔۔۔۔۔۔

    لیکن دوسری طرف

    اسی اپوزیشن اور تمام حکومتی و حزب اختلاف کے اراکین اسمبلی کو اسی آئین میں لکھی یہ شق کبھی نظر نہیں آئی کہ پاکستان میں کوئی قانون خلاف شریعت نہیں بن سکتا ،اس کے باوجود انہی اسمبلیوں میں کتنے غیر شرعی قوانین بن جاتے ہیں اور کوئی نہیں بولتا بلکہ لگ بھگ سبھی اس میں حصہ دار ہوتے ہیں۔۔

    اسی 1973آئین میں لکھا گیا تھا کہ اردو کو بطور واحد سرکاری و قومی زبان 15 سال میں مکمل لاگو اور رائج کیاجائے گا، اس پر آئین سے ہٹ کر قائد اعظم اور سپریم کورٹ کے صریح فیصلے اور حکم بھی موجود ہیں لیکن کوئی رکن پارلیمان یا سیاست دان اس آئین و قانون شکنی پر کبھی نہیں بولتا۔

    ملک سے سود کا فوری خاتمہ شریعت ،آئین اور ہمارے آئینی ادارے وفاقی شرعی عدالت کا فیصلہ ہے لیکن یہی سیاست دان اس پر بھی نہیں بولتے جو کہ قرآن کے الہی الفاظ میں اللہ اور رسول ص سے جنگ کے مترادف ہے۔

    حق سچ یہ ہے کہ ہمارے سب لوگوں اور سب اداروں کو صرف اپنی مرضی کے مطابق آئین شکنی یا قانون شکنی نظر آتی اور اس حمام میں سب ننگے ہیں

  • پاکستانی سیاست میں گالم گلوچ کا کلچر – بقلم: آصف گوہر

    پاکستانی سیاست میں گالم گلوچ کا کلچر – بقلم: آصف گوہر

    پاکستانی سیاست میں گالم گلوچ کا کلچر
    بقلم: آصف گوہر

    "نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مسلمان کو گالی دینے سے آدمی فاسق ہو جاتا ہے اور مسلمان سے لڑنا کفر ہے۔ ”
    (صحیح بخاری 48)
    گالی گلوچ کو کسی بھی مہذب معاشرے میں پذیرائی حاصل نہیں ہوتی ۔بلکہ بدزبانی کرنے والوں سے لوگ کنارہ کشی اختیار کرتے ہیں لیکن گذشتہ چند سالوں سے ہمارے سیاست دانوں نے پارلیمنٹ کے اندر اور باہر گالیوں کا بے دریغ استعمال کیا ہے۔ جلسوں میں سیاسی مخالفین کو یہودی ایجنٹ اور یہودی کے بچے تک کہنے سے بھی دریغ نہیں کیا جاتا یہودی خود ورطہ حیرت میں ہونگے کہ پاکستانی اپنی سیاست میں ہماری مشہوری کیوں کر رہے ہیں۔ افسوس کا مقام کا ہمارا میڈیا گالیاں دینے والے سیاستدانوں کی پذیرائی کرتا ہے جتنی زیادہ کوئی سیاستدان گالیاں دیتا ہے اتنا ہی اس کو رات 8بجے سے 11 بجے تک پرائم ٹائم میں میڈیا ٹاک شوز میں مدعو کرکے اس بدزبان شخص کو قوم کے سامنے لا کر بٹھایا جاتا ہے۔ ہماری پارلیمنٹ میں خواتین کو گالیاں دی جاتیں ہیں ٹریکٹر ٹرالی کہا جاتا ہے فحش جملہ بازی کا تبادلہ ہوتا ہے۔ سیاستدان باقاعدہ مرغوں کی طرح ایک دوسرے پر حملہ آور ہوجاتے ہیں۔
    کل سے سوشل میڈیا پر مسلم لیگ ن کے خودساختہ جلاوطن رہنما عابد شیرعلی کا لندن کے ایک ریسٹورانٹ میں گالم گلوچ پر مبنی ویڈیو کلپ گردش کر رہا ہے۔ کوئی شریف آدمی اس کو سن نہیں سکتا۔ موصوف بھرے ہوئے ہوٹل میں کسی کو ننگی گالیاں دے رہے تھے۔ اس ہوٹل میں خواتین اور بچے بھی کھانا کھانے آئے ہوئے تھے اور عید الضحٰی ہونے کی وجہ سے دیگر مسلم ممالک کے شہری بھی اسی ہوٹل میں موجود تھے اور ایک خاتون باقاعدہ کہتی سنی گئیں کہ آپ لوگ عید کے روز جھگڑا کررہے ہیں ۔ اس طرح کے لوگ پاکستان میں بھی ناپسندیدہ تھے اور بیرون ملک بھی پاکستان کی بدنامی کا باعث بن رہے ہیں ۔
    شیخ روحیل اصغر اپنی گالیوں کو پنجابی زبان اور کلچر قرار دیتے رہے پیپلزپارٹی کے ایک رکن اسمبلی فردوس عاشق اعوان کو ٹی وی ٹاک شو میں لائیو گالیاں دیتے رہے اور شو کا میزبان دور کھڑےہو کر دانت نکالتا رہا ۔
    جب تک ہمارا میڈیا مادر پدر آزاد گالم گلوچ کرنے والوں کو پرموٹ کرتا رہے گا معاشرے میں بدزبانی کے کلچر کو فروغ حاصل ہوتا رہے گا۔
    ہمارے میڈیا ہاوسز ریٹینگ کے چکر میں نورا کشتی ٹاک شوز کے ذریعے بدزبانی کی سرپرستی کر رہے ہیں ۔
    پیمرا کو آگے آنا چاہیے اور اس کو رکوانا چاہیئے اور بدزبان گالیاں دینے والوں پر قومی میڈیا پر آنے کی پابندی ہونی چاہئے ۔

    مضمون نگار ایک فری لانس صحافی، بلاگر اور معروف ماہر تعلیم ہیں۔ سیاسی امور پر بھی عمیق نظر رکھتے ہیں۔ حکومتی اقدامات اور ترقیاتی منصوبوں بارے بہت اچھی اور متناسب رپورٹنگ کرتے ہیں۔ ایک اچھے ایکٹوسٹ کے طور پر سوشل میڈیا پر جانے جاتے ہیں۔ ان کا پرسنل اکاؤنٹ ضرور ملاحظہ فرمائیں۔ @Educarepak