Baaghi TV

Tag: سیالکوٹ

  • سیالکوٹ واقعہ کی ابتدائی رپورٹ وزیراعظم اور وزیراعلیٰ پنجاب کو پیش :مذہبی انتہا پسندی نے ملک کوبدنام کروا دیا

    سیالکوٹ واقعہ کی ابتدائی رپورٹ وزیراعظم اور وزیراعلیٰ پنجاب کو پیش :مذہبی انتہا پسندی نے ملک کوبدنام کروا دیا

    لاہور:سیالکوٹ واقعہ کی ابتدائی رپورٹ وزیراعظم اور وزیراعلیٰ پنجاب کو ارسال:مذہبی انتہا پسندی نے ملک کوبدنام کروا دیا ،اطلاعات کے مطابق سیالکوٹ واقعہ کی ابتدائی رپورٹ وزیراعظم عمران خان اور وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو ارسال کر دی۔اس رپورٹ نے واقعہ میں مذہبی انتہا پسندی کووجہ قراردیا

    ابتدائی رپورٹ میں بتایا گیا کہ فیکٹری کی مشین پر مذہبی حوالے سے ایک سٹکر لگا تھا، غیر ملکیوں کے وزٹ کی وجہ سے منیجر نے اسٹاف کو اسٹکر ہٹانے کا کہا، ملازمین کے انکار پر منیجر نے خود ہٹا دیا۔

    دوسری طرف اس حوالے سے پنجاب حکومت نے ابتدائی رپورٹ وزیراعظم عمران خان کو پیش کر دی، جس میں بتایا گیا کہ مرکزی ملزمان سمیت اب تک 112 ملزمان گرفتار کئے جا چکے ہیں، سیالکوٹ میں ایسے افراد جنہوں نے اشتعال دلایا، ان کو بھی گرفتار کر لیا، پولیس نے مرکزی ملزمان کی گرفتاری کر کے مزید تحقیقات شروع کر دیں۔

    رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ ملزمان کو گرفتار کر کے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا تاکہ مزید تحقیقات کی جا سکیں، فیکٹری مینیجرز کی معاونت سے واقعہ میں ملوث افراد کی شناخت کی گئی۔

    وزیراعظم کے ساتھ ساتھ سانخہ سیالکوٹ کی رپورٹ وزیر اعلی پنجاب کو ارسال کر دی گئی، جس میں بتایا گیا کہ مار پیٹ کا واقعہ صبح گیارہ بجے شروع ہوا، گیارہ بج کر 25 منٹ پر 3 اہلکار موقع پر پہنچے، واقعے سے کچھ دیر قبل ورکرز کو ڈسپلن توڑنے پر فارغ کیا گیا، مینجر کے سخت ڈسپلن اور کام لینے پر ورکرز پہلے سے غصے میں تھے۔

    رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ چند غیر ملکیوں کمپنیوں کے وفد نے فیکٹری کا دورہ کرنا تھا، مینجر نے ورکرز کو کہا سب مشینیں صاف ہونی چاہیے، مینجر نے مشین پر لگے اسٹکیرز ہٹنانے کا کہا، مبینہ طور پر جب فیکٹری ملازمین نے اسٹکر نہیں ہٹایا تو منیجر نے خود ہٹا دیا، بادی النظر میں ورکرز نے اسٹیکرز کا بہانہ بنا کر تشدد کیا، اسٹیکرز پر مذہبی تحریر درج تھی، واقعہ کے وقت فیکٹری مالکان غائب ہوگئے۔

    رپورٹ کے مطابق بادی النظر میں ورکرز نے اسکٹیرز کا بہانہ بنا کر تشدد کیا سیالکوٹ:اسٹکیرز پر مزہبی تحریر درج تھی۔گرفتار ورکرز سیالکوٹ واقعہ کے وقت فیکٹری مالکان غائب ہو گے۔

    وزیر قانون پنجاب راجہ بشارت کا کہنا ہے کہ اب تک کی تحقیقات سے متعلق ابتدائی رپورٹ وزیراعظم عمران خان کو بھجوا دی ہے، واقعہ کے ذمہ داران کے خلاف سخت ترین کارروائی عمل میں لائی گی، واقعہ کے محرکات میں توہین مذہب کے ساتھ انتظامی پہلاؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے، سیالکوٹ اور گردونواح میں گرجا گھروں اور غیر ملکی فیکٹری ورکرز کی سیکیورٹی سخت کر دی ہے۔

    سیالکوٹ میں قتل ہونے والے سری لنکن شہری پرانتھا کمار کا پورسٹمارٹم مکمل کرلیا گیا۔ سری لنکن شہری کے جسم کا زیادہ حصہ جھلس گیا تھا۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق پری یانتھا کی لاش کا زیادہ تر حصہ جلا ہوا پایا گیا۔ صرف پاؤٕں اور ٹانگوں کا نچلا حصہ آگ سے محفوظ رہا۔ آگ لگنے سے بچ جانے والے حصے کی ہڈیاں ٹوٹی پائی گئیں۔

  • سیالکوٹ واقعہ: سیاسی و معروف شخصیات کا اظہار افسوس

    سیالکوٹ واقعہ: سیاسی و معروف شخصیات کا اظہار افسوس

    سیالکوٹ میں نجی فیکٹری کا سری لنکن منیجر فیکٹری ملازمین کے تشدد سے ہلاک ہوگیا تھا مشتعل افراد نے لاش کو سڑک پر گھسیٹا اور آگ لگا دی تھی-

    باغی ٹی وی : اسپورٹس گارمنٹ فیکٹری کے غیر مسلم سری لنکن مینیجر پریانتھا کمارا پر فیکٹری ورکرز نے مذہبی پوسٹر اتارنے کا الزام لگا کر حملہ کیا تھا مشتعل افراد کا دعویٰ تھا کہ مقتول نے مبینہ طور پر مذہبی جذبات مجروح کیے تھے، مشتعل افراد نے فیکٹری میں توڑ پھوڑ بھی کی فیکٹری کا منیجر پریانتھا کمارا جان بچانے بالائی منزل پر بھاگا ، فیکٹری ورکرز نے چھت پر گھیر لیا، مار مار کر بے دم کردیا ، انسانیت سوز خونی کھیل کو فیکٹری گارڈ روکنے میں ناکام رہے جس پر معورف سماجی و سیاسی شخصیات نے افسوس کا اظہار کیا ہے-

    وزیاراعظم کے معاون خصوصی برائے مذہبی امور طاہر اشرفی کا کہنا ہے کہ سیالکوٹ واقعے کی مذمت کرتے ہیں، بطور مسلمان اس واقعے پر شرمندہ ہوں، ان افراد نے اسلام کو مسخ کیا ایسا کرنےوالوں نے اسلام کو بدنام کیا ہے، توہین مذہب کے قوانین موجود ہیں، جو بھی مجرم ہیں ان کو چھوڑا نہیں جائےگا، مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائےگاجن عناصر نے یہ کام کیا انہوں نے کوئی خدمت نہیں کی بلکہ توہین مذہب سے متعلق قانون کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی ہے کوئی ایک ایف آئی آر بھی توہین مذہب کے قانون کے غلط استعمال کی درج نہیں کی گئی، اسی ہفتے سری لنکا کے سفارتخانے میں تمام مکاتب فکر کے افراد تعزیت کیلیے جائیں گے اب تک 50 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے، سی سی ٹی وی ویڈیو کی مدد سے دیگر افراد کو بھی گرفتار کیا جائے گا۔

    سیالکوٹ، توہین مذہب کے الزام پر شہری کا قتل،وزیراعظم کا نوٹس،گرفتاریاں شروع

    لاہور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ترجمان پنجاب حکومت حسان خاور کا کہنا ہے کہ سیالکوٹ واقعے پر ہم فیکٹس کو دیکھ رہے ہیں، اگر پولیس کی غفلت یا کوتاہی سامنے آئی تو فوری کارروائی ہوگی 48 گھنٹے میں انکوائری رپورٹ طلب کی گئی ہے، ملزموں کو کسی قسم کی رعایت نہیں دیں گے فون کال اور پولیس رسپانس میں 20 منٹ کا وقت لگا ہے، 48 گھنٹوں میں اس بات کا تعین کریں گے کہ کیا کسی سرکاری افسر کی کوئی کوتاہی تھی یا نہیں۔

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے سیالکوٹ میں فیکٹری منیجر کے ہجوم کے ہاتھوں قتل کی مذمت کی اور اسے شرمناک اقدام قرار دیا انہوں نے اس معاملے میں سول انتظامیہ کو مدد کی پیشکش بھی کی اور کہا کہ گھناؤنےجرم کے مرتکب افراد کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لیے سول انتظامیہ کو مدد فراہم کی جائے گی۔

    وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ سیالکوٹ میں مشتعل گروہ کا ایک کارخانے پر گھناؤنا حملہ اور سری لنکن منیجر کا زندہ جلایا جانا پاکستان کے لئے ایک شرمناک دن ہے میں خود تحقیقات کی نگرانی کررہا ہوں اور دوٹوک انداز میں واضح کردوں کہ ذمہ داروں کو کڑی سزائیں دی جائیں گی واقعے میں ملوث افراد کو قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے گی۔

    پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے ٹوئٹر پر سیالکوٹ واقعے پر رد عمل دیتے ہوئے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے مریم نواز نے کہا کہ سیالکوٹ میں ہونے والے دل خراش واقعہ نے دل چیر کے رکھ دیا کیا یہ درندگی ہماری پہچان، ہمارا اور آنے والی نسلوں کا مستقبل ہے؟ کیا یہ ملک ایک محفوظ ملک تصور ہو گا؟ یہاں حکومت نام کی کوئی چیز موجود نہیں، انسان سوال کرے بھی تو کس سے کرے؟۔

    معروف عالم دین اور مبلع مولانا طارق جمیل نے سیالکوٹ واقعے پر افسوس کا اظہار کیا ہے سیالکوٹ میں ناموسِ رسالت کی آڑ میں غیر ملکی کو زندہ جلا دینے کا واقعہ انتہائی افسوسناک ہے محض الزام کی بنیاد پر قانون کو ہاتھ میں لینا اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے۔

    وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ سیالکوٹ واقعہ بہت دلخراش ہے، وفاقی حکومتی ادارے واقعے کی تحقیقات میں پنجاب حکومت کی معاونت کررہے ہیں، نیشنل کرائسس سیل واقعے کے محرکات کا جائزہ لے رہا ہے، واقعے میں ملوث افراد کو قانون کی عدالت میں لائیں گے ،مذہب کے نام پر انتہا پسندی کے واقعات کو روکنے کے لئے پورے معاشرے کو ملکر کام کرنا ہوگا۔

    قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف میاں شہباز شریف نے کہا کہ واقعے کے ذمہ داران کو قانون کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے، ہمیں امن، محبت اور رحم کے پیغام پر کاربند ہونے کی ضرورت ہے۔

    نورمقدم کیس، وہی ہوا جس کا ڈر تھا، ماں نے چال چل دی

    ن لیگ کے رہنما پرویز رشید نے سیالکوٹ میں سری لنکن شہری کی ہلاکت پر سری لنکا سے معافی مانگتے ہوئے کہا ہے کہ ʼوہ اپنے ہم وطنوں کو سمجھانے میں ناکام ہوئے ہیں۔ پرویز رشید نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر لکھاسری لنکا ہم آپ کے مجرم ہیں،اس کے علاوہ پیپلز پارٹی کے مصطفیٰ نواز کھوکھر نے کہا کہ سیالکوٹ واقعہ اور اس کے تمام کردار تماشائیوں سمیت انسانیت کے نام پر دھبا ہیں

    ایم کیو ایم پاکستان کی رابطہ کمیٹی نےکہا کہ ملک کو آئین و قانون کے بغیر نہیں چلایا جا سکتا اور توہین مذہب جیسے سنگین جرم سے نمٹنے کے لئے قانون کی موجودگی کے باوجود محض الزام کی بنیاد پر کسی شخص کی جان لینا کسی طور رحمت اللعالمینﷺ کے پیغام کی تفسیر نہیں اور قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے۔امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے سیالکوٹ واقعے کو اسلام اور انسانیت کی توہین قرار دیتے ہوئے واقعے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات اور مجرموں کی گرفتاری اور قرار واقعی سزا دینے کا مطالبہ کر دیا ہے۔

    جہانگیر ترین نے بھی واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ سیالکوٹ میں تشدد کی بہیمانہ کارروائی پر گہرا صدمہ! میرا دل پریانتھا کمارا کے خاندان کے لیے جاتا ہے،ہمارے نبی ﷺ صبر کی انتہا تھے، تشدد کی کارروائی کرنا، وہ بھی ناموس رسالتؐ کے نام پر، اسلام کی بہت بڑی توہین ہے۔

    شاہد آفریدی نے سیالکوٹ میں مشتعل افراد کے ہاتھوں سری لنکن شہری کی ہلاکت پر ردّعمل دیتے ہوئے مائیکرو بلاگنگ سائٹ ٹوئٹر پر قرآن پاک کی آیت کا ترجمہ لکھا۔اپنے ٹوئٹ میں لکھا کہ ’جس نے کسی ایک انسان کا قتل کیا گویا اس نے پوری انسانیت کا قتل کیا۔

    امریکا،سکول میں فائرنگ 3 طالبعلم ہلاک،ٹیچر سمیت 6 افراد زخمی

    امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق نے سیالکوٹ واقعے کو انتہائی قابل افسوس اور اسلام و شرفِ انسانیت کی توہین قرار دیا ہے سراج الحق نے ایک بیان میں سیالکوٹ میں فیکٹری منیجر کے ہجوم کے ہاتھوں قتل پر کہا کہ اس واقعے کا اسلام اور دینی تعلیمات سے کوئی تعلق نہیں ہےسری لنکن فیکٹری منیجر کا بے دردی سے قتل پاکستان کی بدنامی کا باعث ہے۔واقعہ انتہائی قابل افسوس اور اسلام و شرفِ انسانیت کی توہین ہے، سیالکوٹ واقعے کا اسلام اور دینی تعلیمات سے کوئی تعلق نہیں واقعےکی تحقیقات کی جائیں اور مجرموں کو گرفتار کرکے قرار واقعی سزا دی جائے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز سیالکوٹ میں نجی فیکٹری کا سری لنکن منیجر فیکٹری ملازمین کےتشدد سے ہلاک ہوگیا،اسپورٹس گارمنٹ کی فیکٹری کے غیر مسلم سری لنکن منیجر پریانتھا کمارا پر فیکٹری ورکرز نے مذہبی پوسٹر اتارنے کا الزام لگا کر حملہ کردیا، پریانتھا کمارا جان بچانے کیلئے بالائی منزل پر بھاگے لیکن فیکٹری ورکرز نے پیچھا کیا اور چھت پر گھیر لیا، مار مار کر ادھ موا کردیا فیکٹری گارڈز روکنے میں ناکام رہے، فیکٹری ورکرز منیجر کو مارتے ہوئے نیچے لائے ، مار مار کر جان سے ہی مار دیا، اسی پر بس نہ کیا، لاش کو گھسیٹ کر فیکٹری سے باہر چوک پر لے گئے، ڈنڈے مارے، لاتیں ماریں اور پھر آگ لگا دی۔ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر(ڈی پی او) عمرسعید ملک کے مطابق ملازمین نے الزام عائد کیا کہ منیجر نے ایک پوسٹر پھاڑ کر مبینہ طور پر مذہبی جذبات مجروح کیے جس کے بعد ملازمین نے فیکٹری میں ہجوم کی شکل اختیار کرلی

    کراچی: تین ہٹی کے قریب جھگیوں میں آگ کیسے لگی؟ پولیس معاملے کی تہہ تک پہنچ گئی

    واقعہ سیالکوٹ کے علاقے وزیر آباد روڈ پر پیش آیا، ہجوم نے منیجر کو تشدد کا نشانہ بنایا اور مارنے کے بعد لاش گھسیٹ کر جی ٹی روڈ پر لے گئے اورآگ لگادی، جی ٹی روڈ پرڈھائی گھنٹے تک ٹریفک بلاک رہی جسے بعد میں کھلوا دیا گیا

    مشتعل افراد نے فیکٹری میں توڑ پھوڑ بھی کی،فیکٹری منیجر کے قتل اور اس کی لاش نذر آتش کرتے ہوئے ہجوم میں شامل افراد کی جانب سے بے حسی کا افسوس ناک مظاہرہ سامنے آیا،ہجوم میں سے کسی نے مشتعل افراد کو روکنے کی کوشش نہیں کی، کچھ لوگ تشدد کی وڈیو بناتے اور سیلفیاں لیتے رہے، کچھ افراد لاش پر بھی ڈنڈے برساتے رہے ، باقی ہجوم خاموش تماشائی بنا رہا۔وزیر اعلیٰ پنجاب نے بھی واقعے کی تحقیقات کا حکم دے دیا اور انسپکٹر جنرل (آئی جی) پولیس سے رپورٹ طلب کرلی۔وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

    لاہور: پولیس کا غیر اخلاقی کارنامہ، 10 ماہ میں 16 ہزار شکایات درج کرنے سے گریز

    فیکٹری کے سری لنکن منیجر کے قتل کو روکنے میں پولیس ناکام رہی، پولیس اہلکار پہلے تو پہنچے ہی دیر سے، پھر مشتعل ہجوم دیکھ کر مزید پولیس اہلکار بلوائے لیکن تب تک بہت دیر ہوچکی تھی، پریانتھا کمارا قتل ہوچکا تھا اور اس کی لاش جلائی جاچکی تھی،خاموش تماشائی بنے رہنے کا جواز پولیس نے یہ گھڑا کہ ہجوم بے قابو تھا، لوگ بہت تھے اور مشتعل تھے۔ریسکیو 1122 والے بھی کچھ نہ کرسکے اور کہا کہ ہم وردی میں تھے ممکن ہی نہ تھا کہ مشتعل لوگوں میں گھس کر پٹنے والے شخص کو بچانے کے لیے کوئی مداخلت کرتے، جب پولیس نے ہجوم کو نہیں روکا تو ہم کہاں سے ریسکیو کرتے؟۔

    فیکٹری کے مالک کا کہنا ہے کہ پرانتھا کمارا کےحوالے سے کوئی شکایت موصول نہیں ہوئی تھی، جب اس معاملےکی اطلاع ملی تب تک پرانتھا کمارا ہجوم کےہتھےچڑھ گیا تھا

    پولیس کو تقریباً صبح پونے گیارہ بجے اطلاع دی تھی، جب پولیس پہنچی تو نفری کم تھی، پولیس کی مزید نفری پہنچنے سے پہلے پرانتھا ہلاک ہوچکا تھا۔فیکٹری مالک نے بتایا کہ پرانتھا کمارا نے 2013 میں بطور جی ایم پروڈکشن جوائن کیا تھا، پرانتھا کمارا محنتی اور ایماندار پروڈکشن منیجر تھے۔

    آن لائن گیم پر دوستی،لڑکے سے ملنے لاہور پہنچنے والی لڑکی کے ساتھ خوفناک حادثہ

  • سیالکوٹ واقعہ: 900 فیکٹری ملازمین کے خلاف مقدمہ درج

    سیالکوٹ واقعہ: 900 فیکٹری ملازمین کے خلاف مقدمہ درج

    سیالکوٹ میں قتل کیے گئے سری لنکن فیکٹری مینجر پریانتھا کمارا کی فیملی میں اہلیہ اور دو بچے شامل ہیں۔

    باغی ٹی وی :سیالکوٹ میں نجی فیکٹری کا سری لنکن منیجر فیکٹری ملازمین کے تشدد سے ہلاک ہوگیا تھا، مشتعل افراد نے لاش کو سڑک پر گھسیٹا اور آگ لگادی تھی مشتعل افراد کا دعویٰ تھا کہ مقتول نے مبینہ طور پر مذہبی جذبات مجروح کیے تھے، مشتعل افراد نے فیکٹری میں توڑ پھوڑ بھی کی۔

    منیجر کے حوالے سے فیکٹری مالک کا کا کہنا ہے ان کے اہلِ خانہ ایک سال پہلے تک ان کے ساتھ سیالکوٹ ہی میں رہائش پذیر تھے، ایک سال قبل بیوی اور بچے پاکستان سے سری لنکا چلے گئے تھے پرانتھا کمارا کےحوالے سے کوئی شکایت موصول نہیں ہوئی تھی۔

    فیکٹری مالک نے کہا کہ جب اس معاملے کی اطلاع ملی تب تک پرانتھا کمارا ہجوم کے ہتھےچڑھ گیا تھا پولیس کو تقریباً صبح پونے 11 بجے اطلاع دی تھی، جب پولیس پہنچی تو نفری کم تھی۔

    سیالکوٹ، توہین مذہب کے الزام پر شہری کا قتل،وزیراعظم کا نوٹس،گرفتاریاں شروع

    فیکٹری مالک نے مزید کہا کہ پولیس کی مزید نفری پہنچنے سے پہلے پرانتھا ہلاک ہوچکا تھا پرانتھا کمارا نے 2013 میں بطور جی ایم پروڈکشن جوائن کیا تھا، پرانتھا کمارا محنتی اور ایماندار پروڈکشن منیجر تھے۔

    واقعے کا مقدمہ 900 فیکٹری ملازمین کے خلاف درج کر لیا گیا ہے مقدمہ پولیس کی مدعیت میں درج کیا گیا مقدمہ میں دہشت گردی، قتل سمیت دیگر سنگین دفعات شامل کی گئیں-

    پولیس ذرائع کے مطابق آئی جی پنجاب کی زیر نگرانی رات بھر ملزمان کی گرفتاری چھاپے مارے گئےاب تک 120 افراد گرفتار ہو چکے ہیں، پولیس اور حساس ادارے آپریشن میں شامل ہیں-

    شہر قائد، سیشن جج کو بھی دن دہاڑے لوٹ لیا گیا

    ڈی پی او کا کہنا ہے کہ غیرملکی منیجر کی ہلاکت کے واقعے کی تحقیقات کی جارہی ہے وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے واقعہ کی تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے انسپکٹر جنرل پولیس سے رپورٹ طلب کرلی وزیراعلیٰ نے کہا کہ کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔

    پانچ سالہ معصوم بچے کیساتھ بدفعلی کی کوشش کرنے والا درندہ صفت ملزم گرفتار

  • مذہب کی آڑ میں‌ سری لنکن منیجر قتل، صدر، وزیراعظم، آرمی چیف اورقومی رہنماوں‌ کا اظہار افسوس

    مذہب کی آڑ میں‌ سری لنکن منیجر قتل، صدر، وزیراعظم، آرمی چیف اورقومی رہنماوں‌ کا اظہار افسوس

    لاہور: مذہب کی آڑ میں‌ سری لنکن منیجر قتل، صدر، وزیراعظم، آرمی چیف اورقومی رہنماوں‌ کا اظہار افسوس ،اطلاعات کے مطابق سیالکوٹ میں پیش آنے والے مبینہ واقعہ میں جس میں‌ مذہب کی آڑ میں مبینہ توہین مذہب کا الزام لگا کر فیکٹری ملازمین نے تشدد کر کے سری لنکن منیجر کو قتل کر دیا اور لاش کو جلا دیا۔

    اس انتہائی گھنونے اور مجرمانہ فعل کے مرتکب افراد میں‌ سے پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے 100 سے زائد افراد کو گرفتار کرلیا،

    ادھر جہاں اس واقعہ پرپوری قوم افسردہ ہے وہاں‌ قومی قیادت بھی اس وقت غم میں نڈھال ہے ، ادھر اسی حوالے سے صدر، وزیراعظم، آرمی چیف، وزیراعلیٰ پنجاب سمیت دیگر نے واقعے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔

    اس واقعہ میں سیالکوٹ وزیر آباد روڈ پر مبینہ توہین مذہب پر نجی فیکٹری کےمینیجر کو مشتعل ہجوم نے تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے ہلاک کر دیا، مشتعل افراد نے فیکٹری کا گھیراؤ کیا اور وزیر آباد روڈ ٹریفک کے لئے بند کر دیا۔

    آئی جی پنجاب راؤ سردار علی خان نے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے آر پی او گوجرانوالا کو فوری موقع پر پہنچنے کا حکم دے دیا۔

    آر پی او گوجرانوالہ عمران ارحم نے جائے وقوعہ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بہت جلد حقائق منظر عام پر آ جائیں گے۔ ڈی پی او سیالکوٹ کی جانب سے 10 ٹیمیں تشکیل دی گئیں ہیں جو فوٹیج کی مدد سے ملزمان کی شناخت کر کے گرفتار کیا جائے گا۔

    اس دلخراش واقعے کے بعد صدر، وزیراعظم، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ ، وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار سمیت دیگر سیاسی رہنماؤں نے افسوس کا اظہار کیا ہے۔

    صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے ٹویٹر پر لکھا کہ سیالکوٹ واقعے کے بعد میں وزیر اعظم اور حکومت پاکستان کی جانب سے کیے گئے فوری اقدام کو سراہتا ہوں۔ یہ واقعہ یقیناً بہت افسوسناک اور شرمناک ہے۔ یہ واقعہ کسی بھی طرح سے مذہبی نہیں۔ اسلام ایسا مذہب ہے جس میں پر تشدد رویے کی بجائے امن اور انصاف کا پرچار کیا جاتا ہے۔

    وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ سیالکوٹ واقعے میں ملوث تمام ذمہ داروں کو قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے گی۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر وزیراعظم عمران خان نے لکھا کہ سیالکوٹ میں فیکٹری میں ہجوم کی طرف سے سری لنکن منیجر کو حملے کے دوران زندہ جلانا پاکستان کے لیے باعث شرم ہے۔ میں اس واقعے کی تحقیقات کی نگرانی کر رہا ہوں۔

    انہوں نے ہدایت کرتے ہوئے لکھا کہ کوئی غلطی نہ ہونے دیں، تمام ذمہ داروں کو قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے گی۔ واقعے میں ملوث افراد کی گرفتاریاں جاری ہیں۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق سپہ سالار نے کہا کہ سیالکوٹ میں ہجوم کے ہاتھوں سری لنکن شہری کے قتل کی شدید مذمت کرتے ہوئے واقعے کو شرمناک قرار دیا ہے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف نے کہاکہ اس طرح کے ماورائے عدالت واقعات کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا ۔

    جنرل قمر جاوید باجوہ نے سول انتظامیہ کو ہر ممکن مدد فراہم کرنے کی ہدایت کی تاہم اس گھناؤنے جرم میں ملوث افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جا سکے ۔

    وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے ٹوئٹر پر قتل کے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے اسے انتہائی افسوس ناک واقعہ قرار دیا۔
    انہوں نے کہا کہ آئی جی پنجاب کو واقعے کی تفتیش کی ہدایت کی ہے، کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی، یقین دلاتا ہوں کہ واقعے میں جو بھی اس غیرانسانی واقعے میں ملوث ہیں وہ نہیں بچیں گے۔

    وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے ٹویٹر پر لکھا کہ سیالکوٹ واقعہ بہت دلخراش ہے؛ قابل مذمت ہے۔ وفاقی حکومتی ادارے واقعے کی تحقیقات میں پنجاب حکومت کی معاونت کررہے ہیں۔ نیشنل کرائیسس سیل واقعے کے محرکات کا جائزہ لے رہا ہے۔ واقعے میں ملوث افراد کو قانون کی عدالت میں لائینگے۔ مذہب کے نام پر انتہا پسندی کے واقعات کو روکنے کے لئے پورے معاشرے کو ملکر کام کرنا ہوگا۔

    شہباز شریف:

    سیالکوٹ میں انتہائی ہولناک اور دل دہلا دینے والا واقعے کی مذمت اور حوصلہ شکنی کی جانی چاہیے، ذمہ داروں کو قانون کے مطابق حساب دینا چاہیے۔ وقت آگیا ہے ہم اپنے پیارے نبی ﷺ کے امن، ہمدردی، محبت اور رحمت کے پیغام پر عمل کریں۔

    شیریں مزاری:

    انسانی حقوق کی وفاقی وزیر شیریں مزاری نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے ٹوئٹ کی کہ سیالکوٹ واقعہ انتہائی خوفناک اور قابل مذمت ہے جب کہ ہجومی تشدد کو کسی بھی صورت میں قبول نہیں کیا جائے گا۔

     

     

    ترجمان پنجاب حکومت:

    وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی علامہ طاہر اشرفی اور آئی جی پنجاب کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ترجمان پنجاب حکومت حسان خاور سری لنکن شہری کا حادثہ بہت افسوسناک ہے، متعدد افراد کو حراست میں لے لیاگیاہے، سی سی ٹی وی فوٹیج سے لوگوں کی شناخت کی جا رہی ہے۔ وزیراعظم عمران خان اور وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے واقعہ کی تحقیقات کا حکم دیا ہے، واقعہ میں ملوث افرادکےخلاف کارروائی ہو گی۔

     

    علامہ طاہر اشرفی نے کہا کہ سیالکوٹ میں پیش آنے والے واقعے میں سری لنکن منیجر کے قتل کی مذمت کرتے ہیں، پاکستان علما کونسل سری لنکن منیجرکے قتل کی بھرپورمذمت کرتی ہے۔ مجرمان کو گرفتار کرکے کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔ سری لنکن منیجرپر حملہ کرنے والوں نے اس قانون کی بھی توہین کی ہے۔ سیالکوٹ میں سری لنکن منیجرکو قتل کرنے والوں کا عمل غیراسلامی اور غیرانسانی ہے۔

  • سیالکوٹ واقعے جیسے ماورائے عدالت اقدام قطعاً ناقابل قبول ہیں:آرمی چیف نے واضح پیغام دے دیا

    سیالکوٹ واقعے جیسے ماورائے عدالت اقدام قطعاً ناقابل قبول ہیں:آرمی چیف نے واضح پیغام دے دیا

    راولپنڈی :سیالکوٹ واقعے جیسے ماورائے عدالت اقدام قطعاً ناقابل قبول ہیں، آرمی چیف نے واضح پیغام دے دیا،اطلاعات کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے سیالکوٹ میں مشتعل افراد کے ہاتھوں سری لنکا سے تعلق رکھنے والے فیکٹری منیجر پرانتھا کمارا کے قتل کی شدید مذمت کی ہے۔

     

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر باجوہ کا کہنا تھاکہ سیالکوٹ میں مشتعل ہجوم کے ہاتھوں پرانتھا کمارا کا قتل قابل مزمت اور شرمناک ہے۔ان کا کہنا تھاکہ ایسے ماورائے عدالت اقدام قطعاً ناقابل قبول ہیں۔

     

    آرمی چیف کا کہنا تھاکہ گھناؤنے جرم کے مرتکب افراد کو کیفر کردار تک پہنچانے کیلئے سول انتظامیہ کو مدد فراہم کی جائے گی۔

     

    دوسری جانب وزیراعظم عمران خان نے بھی سیالکوٹ واقعے کی شدید مذمت کی ہے۔اپنی ٹوئٹ میں وزیر اعظم کا کہنا تھاکہ سری لنکن منیجرکو زندہ جلانے کا واقعہ پاکستان کیلئے شرم کا دن ہے۔ان کا کہنا تھاکہ واقعے کی تحقیقات کی خود نگرانی کررہا ہوں اور واقعے میں ملوث افراد کو قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے گی۔وزیراعظم کا کہنا تھاکہ واقعے میں ملوث افراد کی گرفتاری کا عمل جاری ہے۔

     

    خیال رہے کہ سیالکوٹ میں نجی فیکٹری کا سری لنکن منیجر فیکٹری ملازمین کے تشدد سے ہلاک ہوگیا۔

     

    مشتعل افراد نے لاش کو سڑک پر گھسیٹا اور آگ لگا دی، مشتعل افراد کا دعویٰ ہے کہ مقتول نے مبینہ طور پر مذہبی جذبات مجروح کیے تھے۔ادھر پولیس کے مطابق اس واقعہ میں ملوث ملزمان کی گرفتاریوں‌ کا سلسلہ جاری ہے اور بہت جلد اس واقعہ کے مرتکب افراد کو قرارواقعی سزا دی جائے گی

  • سیالکوٹ واقعہ:ملوث ذمہ داروں کو سخت سزا دی جائے گی: وزیراعظم عمران خان سخت غُصّے میں آگئے

    سیالکوٹ واقعہ:ملوث ذمہ داروں کو سخت سزا دی جائے گی: وزیراعظم عمران خان سخت غُصّے میں آگئے

    لاہور:سیالکوٹ واقعہ:ملوث ذمہ داروں کو سخت سزا دی جائے گی: وزیراعظم عمران خان سخت غُصّے میں آگئے،اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ سیالکوٹ واقعے میں ملوث تمام ذمہ داروں کو قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے گی۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر وزیراعظم عمران خان نے لکھا کہ سیالکوٹ میں فیکٹری پر ہجوم کی طرف سے کیے جانے والے حملے اور سری لنکن منیجر کو زندہ جلانا پاکستان کے لیے افسوسناک دن ہے۔ میں سیالکوٹ واقعے کی تحقیقات کی نگرانی کر رہا ہوں۔

     

     

    وزیراعظم عمران خان نے مزید کہا کہ کوئی غلطی نہ ہونے دیں تمام ذمہ داروں کو قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے گی۔ گرفتاریاں جاری ہیں۔

    اس سے قبل ترجمان پنجاب حکومت حسان خاور نے کہا ہے کہ سیالکوٹ میں پیش آنے والے واقعے میں ملوث 50 افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔

    اس کے ساتھ ساتھ وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی علامہ طاہر اشرفی اور آئی جی پنجاب کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سری لنکن شہری کا حادثہ بہت افسوسناک ہے، 50 افراد کو حراست میں لے لیاگیاہے،

     

     

    طاہر اشرفی کا کہنا تھا کہ سی سی ٹی وی فوٹیج سے لوگوں کی شناخت کی جا رہی ہے۔ وزیراعظم عمران خان اور وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے واقعہ کی تحقیقات کا حکم دیا ہے، واقعہ میں ملوث افرادکےخلاف کارروائی ہو گی۔

    علامہ طاہر اشرفی نے کہا کہ سیالکوٹ میں پیش آنے والے واقعے میں سری لنکن منیجر کے قتل کی مذمت کرتے ہیں، پاکستان علما کونسل سری لنکن منیجرکے قتل کی بھرپورمذمت کرتی ہے۔ مجرمان کو گرفتار کرکے کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔ سری لنکن منیجرپر حملہ کرنے والوں نے اس قانون کی بھی توہین کی ہے۔ سیالکوٹ میں سری لنکن منیجرکو قتل کرنے والوں کا عمل غیراسلامی اور غیرانسانی ہے۔

    قبل ازیں سیالکوٹ میں فیکٹری ملازمین نے غیر ملکی منیجر کو تشدد کرکے ہلاک کردیا تھا ،واقعہ کے بعد وزیراعلٰی پنجاب نے ملزمان کی فوری گرفتاری کا حکم دے دیاتھا ۔

    پولیس کے مطابق واقعہ سیالکوٹ کے علاقے وزیر آباد روڈ پر پیش آیا ۔ ملازمین نے فیکٹری میں توڑ پھوڑ بھی کی اور سڑک پر بلاک کردی، پولیس کےمطابق مشتعل افراد سے مذاکرات کے بعد وزیر آباد روڈ پر ٹریفک بحال کردی گئی تھی۔

  • سیالکوٹ، توہین مذہب کے الزام پر شہری کا قتل،وزیراعظم کا نوٹس،گرفتاریاں شروع

    سیالکوٹ، توہین مذہب کے الزام پر شہری کا قتل،وزیراعظم کا نوٹس،گرفتاریاں شروع

    سیالکوٹ، توہین مذہب کے الزام پر شہری کا قتل،وزیراعظم کا نوٹس،گرفتاریاں شروع

    سیالکوٹ، توہین مذہب کا الزام، فیکٹری کے غیر ملکی منیجر کو تشدد کے بعد جلا دیا گیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سری لنکن شہری کا حادثہ ،سی سی ٹی وی کی مدد سے گرفتاریوں کا عمل شروع کر دیا گیا،50 سے زائد لوگ گرفتار کر لئے گئے،ترجمان پنجاب حکومت حسان خاور کا کہنا ہے کہ سری لنکن شہری کا حادثہ بہت افسوسناک ہے،اب تک 50 لوگ گرفتار ہوچکے ہیں،سی سی ٹی وی کے ذریعے لوگوں کی شناخت کی جارہی ہے، وزیراعظم عمران خان اور وزیراعلیٰ پنجاب نے واقعے کی تحقیقات کا حکم دیا، اس واقعے کی مکمل تحقیقات کے بعد انصاف ہوگا،واقعے میں ملوث افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہوگی،

    قبل ازیں توہین مذہب ،قرآن کا مبینہ الزام لگا کر غیر ملکی شہری کو جلا گیا گیا ،واقعہ پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور سے 132 کلو میٹر دور سیالکوٹ کی تحصیل اگوکی میں پیش آیا جہان‌ایک فیکٹری میں جنرل منیجر کے طور پر کام کرنے والے ملازم کو قرآن مجید کی مبینہ بے حرمتی کے الزام میں عوامی ہجوم نے تشدد کر کے قتل کیا بعد ازاں اسکی لاش کو آگ لگا دی گئی

    فیکٹری کے باہر سینکڑوں لوگ جمع ہوئے ،جنہوں نے زبردستی فیکٹری کا دروازہ کھولا، بعد ازاں توہین مذہب کے الزام میں ملزم پر بہیمانہ تشدد کیا ، جس کے ہاتھ میں جو آیا مارا، اس دروان ایک طرف لبیک کے نعرے لگائے جا رہے تھے دوسری جانب باغی ٹی وی کو موصول ہونے والی ویڈیو میں گالیوں کی آوازیں بھی آ رہی ہیں

    تشدد سے سری لنکا سے تعلق رکھنے والا جنرل مینیجر پریانٹا کمارا کی موت ہو گئی ہے، شرکاء نے ڈنڈے اٹھا رکھے تھے جبکہ اینٹیں بھی ماری گئیں،پولیس کی نفری حالات کو قابو کرنے نہ پہنچی، مشتعل افراد نے فیکٹری کا گھیراؤ کیا اور تشدد کا نشانہ بنایا بعد ازاں لاش کو آگ لگا دی، واقعہ تھانہ صدر کی حدود میں پیش آیا،پولیس حکام نے باغی ٹی وی سے گفتگو میں وقوعہ کی تصدیق کی اور بتایا کہ وزیر آباد روڈ پر فیکٹری میں واقعہ پیش آیا، ڈی پی او اجلاس میں مصروف ہیں ، واقعہ کے حوالہ سے ابھی تک کسی نے اندارج مقدمہ کی کوئی درخواست نہیں دی.

    سیالکوٹ فیکٹری مینجر پر تشدد اور ہلاکت کا معاملہ ‏وزیر اعلی پنجاب ‎عثمان بزدار نے سیالکوٹ کی فیکٹری میں پیش آنے والے افسوسناک واقعہ پر انسپکٹر جنرل پولیس سے رپورٹ طلب کر لی ہے، وزیراعلیٰ نے واقعہ کی اعلی سطح کی انکوائری کا حکم دے دیا ہے ،واقعہ کی ہر پہلو سے تحقیقات کرکے رپورٹ پیش کی جائے گی۔ دوسری جانب ‏ آئی جی پنجاب راؤ سردار علی خان نے واقعہ کا نوٹس لے لیا آر پی آر پی او گوجرانوالا کو فوری موقع پر پہنچنے کا حکم دے دیا آئی جی پنجاب کا کہنا تھا کہ ڈی پی او سیالکوٹ موقع پر موجود ہیں،واقعہ کی تمام پہلوؤں سے انکوائری کی جائے

    صحافی کامران یوسف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ سیالکوٹ میں پیش آنے والا واقعہ حیران کن نہیں کیونکہ جب ریاست جتھوں کے آگے گھٹنے ٹیک دے گی تو اس کا نتیجہ صرف انارکی ہے!!!

    سیالکوٹ واقعہ کے بعد تحریک لبیک کے سندھ میں رکن اسمبلی مفتی قاسم فخری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ کارکنان متوجہ ہو ں،راجکو فیکٹری سیالکوٹ میں ہونے والا واقعہ کو فی الحال تحریک لبیک کا کوئی بھی کارکن اپنے کسی بھی ایپ سے اپلوڈ نا کرے اور نا ہی اسکو تحریک لبیک کیساتھ تشبیہ دی جائےمرکز تحقیقات جاری ہے انتظار فرمائیں

    https://twitter.com/QasimFakhri_MPA/status/1466711677634813954

    تحریک لبیک پاکستان نے سیالکوٹ واقعہ کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ واقعہ کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں، ناموس رسالت کا ذاتی مقاصد کے لئے استعمال گناہ کبیرہ ہے ،ناموس رسالت کی آڑ میں مذموم کاروائی کی اجازت نہیں دی جا سکتی

    خاتون صحافی و کالم نگار جویریہ صدیق کہتی ہیں کہ سیالکوٹ کے ہجوم کو مسلمان کہنا یا انسان کہنا مذہب اور انسانیت کی توہین ہے۔ ان کو اختیار کس نے دیا ہے کہ یہ کسی انسان کی جان لیں اگر کسی نے جرم کیا ہے اسکو سزا عدالت دے گی۔ آج میرا سر شرم سے جھک گیا ہے ہمارا معاشرہ انتہا پسندی جہالت اور ظلم سے تباہ ہورہا ہے۔

    پاکستان علماءکونسل کی جانب سے سیالکوٹ میں توہین مذہب کےالزام میں سری لنکن منیجرکے قتل کی بھرپور مذمت کی گئی ہے، وزیراعظم کے مشیر اور پاکستان علما کونسل کے سربراہ علامہ طاہر اشرفی کا کہنا ہے کہ ملزموں کوگرفتارکر کے کیفرکردارتک پہنچایا جائے گا،توہین ناموس رسالت وتوہین مذہب قانون موجود ہے حملہ کرنےوالوں نے اس قانون کی بھی توہین کی ہے، فعل غیراسلامی ہے ، یہ قرآن و سنت اور سیرت کے خلاف ہے، آقا کی ناموس و عزت پر سب کچھ قربان، پاکستان میں توہین کا قانون موجود، اگر کوئی توہین کرتا ہے تو اسے عدالت لایا جائے، مارنا اور پھر جلانا یہ بربربت ہے، تمام مکاتب فکر کے علماء نے اس واقعہ کی مذمت کی ہے،سری لنکن شہری کا قتل بربریت ہےواقعے پر شرمندہ ہیں ، میرے پاس کہنے کو الفاظ نہیں ہیں،سیالکوٹ میں سری لنکن شہری کا قتل بہت افسوسناک ہے، اس واقعے سے دنیا بھر میں پاکستان کی بدنامی ہوئی،

    سدرہ ڈار نے لکھا کہ آج جو کچھ سیالکوٹ میں ہوا اس کی ویڈیوز نہ صرف وائرل ہیں بلکہ اسے پھیلایا جارہا ہے ایک شخص کو توہین مذہب پر ہجوم نے سزا دیدی ان معصوم بھائیوں کو بھی اسی شہر میں بے دردی سے مارا گیا تھا، ویڈیو بنائی گئی تھی اور قاتل آج بھی نامعلوم ہی ہیں۔کون ہیں ہم ؟ مسلمان ؟ ہرگز نہیں

    عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے بھی واقعہ کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ سیالکوٹ میں جو اندوہناک واقعہ رونماہوا ہے ، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اس کی پرزور مذمت کرتی ہے۔ایسے گھناؤنےحرکات کا حرمت رسول ص یا عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم سےدور دور تک کوئی واسطہ نہیں! غیر جانبدار تحقیقات ہونی چاہیئےاور مجرموں کو عبرت ناک سزا دی جائے