Baaghi TV

Tag: سیرت النبی

  • اخلاق نبوی کے سنہرے واقعات

    اخلاق نبوی کے سنہرے واقعات

    نام کتاب : اخلاق نبوی کے سنہرے واقعات
    مﺅلف : عبدالمالک مجاہد
    ناشر دارالسلام انٹرنیشنل ، نزد سیکرٹریٹ سٹاپ ، لوئر مال ، لاہور
    صفحات : 304
    برائے رابطہ : 042-37324034
    پیش نظر کتاب ” اخلاق نبوی ﷺ کے سنہرے واقعات اپنے موضوع پر شاندار ، لاجواب اور خوبصورت کتاب ہے جسے دارالسلام انٹر نیشنل کے مینجنگ ڈائریکٹر عبدالمالک مجاہد نے بڑی محبت ، محنت اور جانفشانی سے ترتیب دیا ہے ۔کتاب میں اخلاق نبوی کے چیدہ چیدہ 100واقعات جمع کردیے گئے ہیں ۔ نبی ﷺ کے اخلاق وکردار کو عام کرنے ، پڑھنے اور سمجھنے کا شوق رکھنے والوں کے لیے یہ بیمثال ہدیہ ہے ۔بات یہ ہے کہ سیرت النبی ﷺ کا اصل پیغام انسانوں کے اخلاق وکردار کی اصلاح ہے ۔سیرت النبی ﷺ کا پیغام دوسروں تک پہنچانے کی ہر دور میں ضرورت رہی ہے ۔ فی زمانہ اس کی ضرورت اس اعتبار سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے کہ معاشرے میں رواداری، تحمل اور برداشت کا فقدان ہے ۔بدتہذیبی اور بداخلاقی حد سے بڑھتی جارہی ہے اس کاحل صرف ایک ہی ہے کہ نبی ﷺ کے اخلاق وکردار کو عام کیا جائے ۔ پیش نظر کتاب اس موضوع پر رہنما کتاب کی حیثیت رکھتی ہے ۔ اخلاق کے معنی بے حد وسیع ہیں ۔ تمام اچھی صفات کے مجموعے کا نام اخلاق ہے ۔ دنیا کے انسانوں میں پائی جانے والی تمام اعلیٰ و ارفع صفات کو جمع کیا جائے اور پھر ان کا اللہ کے رسول ﷺ کی مبارک زندگی کے ساتھ موازنہ کیا جائے تو ہمیں معلوم ہوگا کہ یہ تمام خوبیاں اللہ کے رسول ﷺ کی ذات با بر کات میں بدرجہ اتم پائی جاتی ہیں کیونکہ آپ کی تربیت خود اللہ تعالیٰ نے فرمائی تھی ۔ آپ ﷺ کا تزکیہ اس خوبصورت انداز میں فرمایا کہ آپ اس کائنات میں سب سے اعلیٰ اخلاق والے بن گئے ۔ سیرت کے حوالے سے قرآن و حدیث اور کتب سیرت و تاریخ میں بے شمار معلومات اور واقعات ملتے ہیں ۔ ان واقعات میں اللہ کے رسول ﷺ کے اخلاق کی جھلکیاں نظر آتی ہیں جن سے ہمیں آپ ﷺ کے اعلیٰ اخلاق کے بارے میں راہنمائی ملتی ہے ۔ سیرت سرور عالم ایک سدا بہار موضوع ہے ۔ ایسا موضوع جس کی خوشبو سے کبھی مسلمان سیر نہیں ہوتے ۔ اللہ کے رسول ﷺ کی سیرت مطہرہ پر صدیوں سے لکھا جارہا ہے اور قیامت تک لکھا جاتا رہے گا ۔ ہر مﺅلف اپنے انداز میں اللہ کے رسول ﷺ کے ساتھ محبت اور پیار کا اظہارکرتا ہے اور ان کی سیرت پاک کے مختلف پہلو نمایاں کرنے کی کوشش کرتا ہے ۔ بلاشبہ سیرت پاک پر مختلف زبانوں پر آج تک ہزاروں کتابیں لکھی جا چکی ہیں ۔ اللہ کے رسول ﷺ کے ہر پہلو کو نمایاں کیا گیا ہے ۔ آپ کی مبارک زندگی کا کوئی گوشہ ایسا نہیں جسے سیرت نگاروں نے بیان نہ کیا ہو ۔

    یاد رکھیے ! کسی بھی شخصیت کے بارے میں جاننا ہوکہ اس کے اخلاق کیسے ہیں تو یہ دیکھا جاتا ہے کہ اس کا برتاﺅ اپنے ساتھیوں کے ساتھ ، رشتہ داروں ، دوستوں ، گھر والوں ، ہمسایوں اور مخالفین کے ساتھ کیسا ہے ۔ سب سے پہلے اس کے اخلاق کے بارے میں معلوم کیا جاتا ہے ۔ جہاں تک اللہ کے رسول ﷺ کا تعلق ہے تو ان کی تربیت خود اللہ تعالیٰ نے فرمائی تھی ۔ آپ کا تزکیہ اس خوبصورت انداز میں فرمایا کہ آپ ﷺ اس کائنات میں سب سے اعلیٰ اخلاق والے بن گئے ۔اپنے اخلاق وکردار کو سنوارنے کے لیے زیر تبصرہ کتاب ” اخلاق نبوی ﷺ “ کے سنہرے واقعات “ ہمارے لئے مشعل راہ ہے ۔کتاب کے مﺅلف عبدالمالک مجاہد کہتے ہیں میں نے پوری کوشش کی ہے کہ اس کتاب میں کوئی من گھڑت ، موضوع ، ضعیف یا خود ساختہ واقعہ درج نہ ہونے پائے ۔ دارالسلام کی اعلیٰ روایات کے مطابق یہ کتاب دیدہ زیب سرورق اور عمدہ جلد بندی کے ساتھ شائع کی گئی ہے ۔ یہ کتاب ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے مرد وخواتین ، بچوں اور جوانوں کےلئے لاجواب تحفہ ہے ۔کتاب کی اہمیت کااندازہ کتاب میں دیے گئے موضوعات سے کیا جاسکتا ہے ۔ کتاب میں شامل کئے گئے چند ایک واقعات کے عنوانات درج ذیل ہیں : ” پیارے بچے ! جاﺅ میرا یہ کام تو کر آﺅ ، جاﺅ بہن ! تمہاری خاطر ان مجرموں کو معاف کیا ، دشمن جاں پر مہربانی ونوازش ، پیارے ساتھی تم شادی کیوں نہیں کرلیتے ، جب بیٹا باپ کے سامنے تلوار سونت کر کھڑا ہوگیا ، انھیں جب بھی دیکھا آنکھیں بے اختیار بہنے لگیں ، بھٹکا ہوا خوش قسمت راہی ، غزوہ احد سے بھی زیادہ مشکل دن ، امام الانبیاءکی پاکیزہ جوانی ، میں تو نبوت کی نشانیاں تلاش کررہا تھا ، بچوں پر شفقت اعلیٰ اخلاق کی علامت ، معمولی چرواہے کے لیے منصب جلیل ، گھر میں آکر گالی دینے والوں کے لیے بھی معافی ، بہن کااکرام واحترام ، وہ جو اللہ کے رسول ﷺ کو قتل کردینا چاہتی تھی ، باوفااہلیہ کی یادیں ، غلاموں ، یتیموں اور مسکینوں کے والی “ ۔ کتاب میں دیے گیے باقی موضوعات بھی اسی طرح دلچسپی کے حامل ہیں ۔ موضوع اور واقعاتی اعتبار سے اس کتاب کا ہر گھر میں ہونا اور ہرفرد کے لیے اس کا مطالعہ بے حد ضروری ہے ۔
    نام کتاب : اخلاق نبوی کے سنہرے واقعات

  • چوری کرنے والا لیڈر شپ نہیں کرسکتا،وزیراعظم

    چوری کرنے والا لیڈر شپ نہیں کرسکتا،وزیراعظم

    چوری کرنے والا لیڈر شپ نہیں کرسکتا،وزیراعظم

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ رسول اللہ ﷺدنیا کے عظیم لیڈ رتھے رسول اللہ ﷺکی سیرت پرچلنے میں بہتری ہے جو لوگ رسول اللہ ﷺ کی راہ پرچلتے ہیں وہ آگے جاتے ہیں ترقی کے لیے ریاست مدینہ کےاصولوں پر عمل کرنا ہوگا

    تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو ہردور میں چیلنجز سے نمٹتے دیکھا ،پاکستان کو اوپر جاتے اور نیچے آتے بھی دیکھا،ایمان بہترین اور قیمتی تحفہ ہےاللہ نے مجھے شہرت ،پیسہ اورسب کچھ دیا،میں سیاست میں تبدیلی لانے کے لیے آیا،بطور تاریخ کا طالب علم اس نتیجے پر پہنچا کہ رسول اللہ ﷺکی سیرت پرچلنے میں کامیابی ہے،ہمارا تعلیمی نظام ہی ہماری کامیابی میں آڑے آ گیا تعلیمی نظام تقسیم ہوا اور مسائل نے جنم لیا،تعلیمی نظام میں یکسانیت ضروری ہے ،یکساں نظام تعلیم سے غریب کو فائدہ ہوگا،مدینہ کی ریاست میں خوف خدا لوگوں کے دلوں میں زندہ تھا،عظیم قوم بننے کے لیے بہترین کردار کاہونا ضروری ہے دنیا میں اسلام کے خلاف جو بھی عمل ہوتا ہے ،سب سے زیادہ ردعمل پاکستان سے آتا ہے ،انسان میں سوچنے کی صلاحیت ہے وہ اچھے اوربرے کی تمیز کرتاہے خواہش تھی ملک میں سیرت ﷺ اتھارٹی قائم کریں،ریسرچ سے ہی جامعات بنتی ہیں ،ریسرچ ہوئی ہی نہیں کہ دنیا کی امامت کس نے اور کس طرح کی ،سائنس اوراسلام میں لڑائی نہیں تھی لیکن نظریات میں فرق تھا،

    وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ ملک میں سب سے بڑا مسئلہ مغربی ثقافت کا عام ہوناہے مغربی ثقافت روحانی طور پر زوال پذیر ہورہا ہے ،مغرب میں چرچز بند ہورہے ہیں ،نوجوانوں کی رہنمائی نہیں کی جارہی ،مغرب میں 40سال پہلے خاندانی نظام کدھر تھا اورہمار ے ممالک پرکیااثرات مرتب ہوئے ،موبائل فون انقلاب ضرورلایا لیکن اخلاقی طورپر نوجوانواں کو کمزورکرنے میں کردار ادا کررہاہے،بچوں اورنوجوانوں کی سرگرمیوں کی نگرانی لازمی ہے بچوں اور نوجوانوں کو بہترین سرگرمیوں کے لیے چوائس دیا جائے ،مغرب آج سیرت پرریسرچ کررہا ہے کیونکہ وہاں فتویٰ لگ جانے کا ڈر نہیں،

    وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ ملک میں چوری کرنے والا لیڈر شپ نہیں کرسکتا وہ معاشرے کونقصان پہنچاتا ہے ،خود غرض آدمی کبھی قائد نہیں بن سکتاوہ اپنی ذات سے اوپر سوچتاہے بزدل انسان لیڈر شپ کرہی نہیں سکتا ،میرے نزدیک امیر وہ ہے جس کے ضمیر کی کوئی قیمت نہیں لگا سکتا مدینہ کی ریاست میں لیڈروں کی بارش تھی کیونکہ وہ بلا خو ف سرگرم تھے مغرب سے کسی بھی وقت توہین مذہب کے واقعات سامنے آنے کا خدشہ ہے خواہش ہے قانونی اورمذہبی نکتہ نظرسے ہم بہترین جواب دیں بدقسمتی سے پاکستان میں چوروں کو برا نہیں سمجھا جاتا، ہمارے لیے سب سے اہم یہ ہے کہ ہم تمام مافیا کےخلاف کھڑے ہیں جو اس ملک میں تبدیلی نہیں چاہتے اب اس سے زیادہ کیا چیزہو سکتی ہے کہ الیکٹرانک ووٹنگ مشین کی مخالفت کر رہے ہیں ای وی ایم مشین سے ہمیں کیا فائدہ ہے؟ آج تک ہر الیکشن متنازع ہوتا ہے کرپشن کوبرانہیں سمجھیں گے تو معاشر ہ بہتر نہیں ہو گا گزشتہ دنوں ایک کانفرنس ہوئی جس کا مہمان خصوصی وہ آدمی تھا جن کو عدالتوں نے سزا دی

    بیوی طلاق لینے عدالت پہنچ گئی، کہا شادی کو تین سال ہو گئے، شوہر نہیں کرتا یہ "کام”

    50 ہزار میں بچہ فروخت کرنے والی ماں گرفتار

    ایم بی اے کی طالبہ کو ہراساں کرنا ساتھی طالب علم کو مہنگا پڑ گیا

    یہ ہے لاہور، ایک ہفتے میں 51 فحاشی کے اڈوں پر چھاپہ،273 ملزمان گرفتار

    طالبعلم کے ساتھ گھناؤنا کام کرنیوالا قاری گرفتار،قبرستان میں گورکن کی بچے سے زیادتی

    نوکری کا جھانسہ دیکر لڑکی کے ساتھ مبینہ زیادتی کرنیوالا جج گرفتار