Baaghi TV

Tag: سیلاب

  • ہیٹ ویو اور گلشیئر پگھلنے سے مارچ تا ستمبر سیلاب کا خطرہ، این ڈی ایم اے

    ہیٹ ویو اور گلشیئر پگھلنے سے مارچ تا ستمبر سیلاب کا خطرہ، این ڈی ایم اے

    نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے شمالی علاقوں میں غیر معمولی درجہ حرارت کے باعث مارچ تا ستمبر کے دوران ہیٹ ویو اور گلشیئر کے تیز پگھلنے کے خدشات پر الرٹ جاری کر دیا ہے۔

    این ڈی ایم اے کے مطابق درجہ حرارت میں غیر معمولی اضافے کے باعث ممکنہ طور پر ہیٹ ویو اور گلیشیئر پگھلنے کے عمل میں تیزی کا خدشہ ہےشمالی علاقہ جات کے درجہ حرارت میں غیر معمولی اضافے کے پیش نظر مارچ تا ستمبر کے دوران گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے کے باعث سیلابی صورتحال کا خدشہ ہے۔ گلگت بلتستان اور بالائی خیبر پختونخوا کے متعدد علاقوں میں گلیشیائی جھیلوں کی نگرانی جاری ہے۔

    این ڈی ایم اے کے مطابق مارچ سے جون کے دوران تیزی سے پگھلتے گلیشیئر کے باعث سیلابی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے، گلیشائی جھیلوں کے ممکنہ سیلاب کے باعث آبادیوں اور زرعی اراضی کو شدید نقصان کا اندیشہ ہےگلگت بلتستان کے احمد آباد، فیض آباد، مجاور، وادی اشکومن، گلکن، گلمت بوبر اور وہند سمیت متعدد علاقے ممکنہ طور پر متاثر ہو سکتے ہیں خیبر پختونخوا کے ریشون، کمراٹ، یارخن ویلی، لشٹ،استاچ، ڈزق اور بریپ کے علاقو ں میں گلیشائی جھیلوں کے سیلاب کا خدشہ ہے۔

    پنجاب بھر میں ڈرون اڑانے پر مکمل پابندی

    پی ڈی ایم اے، جی بی ڈی ایم اے، ضلعی انتظامیہ اور ریسکیو 1122 سمیت تمام متعلقہ اداروں کو پیشگی آگاہ کر دیا گیا ہے،ضلعی انتظامیہ کو ہنگامی انخلا کے لائحہ عمل اور پیشگی انتباہی نظام فعال رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے عوام موسم کے حوالے سے بر وقت آگاہی یقینی بنائیں اور ممکنہ خطرات کے پیش نظر احتیاطی تدابیر اختیار کریں دریا کے کناروں اور گلیشیائی ندی نالوں کے قریب غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز کریں۔

    این ڈی ایم اے نے کہا ہے کہ عوام ممکنہ خطرے کی صورت میں مقامی انتظامیہ کی ہدایات پر فوری عمل کریں، مستند معلومات اور بروقت الرٹس کے لیے ’’پاک این ڈی ایم اے ڈیزاسٹر الرٹ‘‘ ایپ سے راہنمائی لیں۔

    قصور میں ڈیجیٹل بلیک میلنگ سے تنگ 22 سالہ نوجوان طالبہ کی خودکشی

  • دریائے سندھ اور کابل کے بالائی علاقوں میں بارش کا امکان

    دریائے سندھ اور کابل کے بالائی علاقوں میں بارش کا امکان

    دریائے سندھ اور کابل کے بالائی علاقوں سمیت راولپنڈی اور اسلام آباد میں اگلے 24گھنٹوں کے دوران بارش کا امکان ہے۔

    این ڈی ایم اے کے نیشنل ایمر جنسیز آپریشن سینٹر نے دریاؤں میں پانی کے بہاؤ اور مختلف علاقوں میں سیلابی صورتحال کے حوالے تفصیلات جاری کر دیں،کوٹری بیراج پر حالیہ تقریباً 4 لاکھ کیوسک بہاؤ کے ساتھ درمیانے درجے کا سیلاب ہے اور کوٹری پر ستمبر کے آخر تک صورتحال برقرار رہنے کی توقع ہے۔

    گڈو اور سکھر بیراج پر بہاؤ میں بتدریج کمی ہو رہی جبکہ معمول کے مطابق بہاؤ موجود رہے گا،دریائے راوی میں گنڈا سنگھ والا کے مقام پر بہاؤ میں کمی کا رجحان ہے جبکہ سلیمانکی اور اسلام بیراج پر نچلے درجے کا سیلاب ہے،دریاؤں میں موجودہ بہاؤ کے باعث بھی متعدد مقامات پر نشیبی علاقوں کے زیر آب آنے کا خطرہ ہے۔

    غیر قانونی ٹریول ایجنسی چلانے والا ملزم گرفتار

    دریائے ستلج گنڈا سنگھ والا پر 56 ہزار اور سلیمانکی پر 81 ہزار کیوسک ہے۔‎دریائے چناب میں مرالہ کے مقام پر 37ہزار،خانکی ہیڈ ورکس پر پنتیس ہزار جبکہ قادر آباد کےمقام پر 17 ہزارکیوسک ہے ‎دریائےراوی جسڑ پر 6 ہزار، شاہدرہ پر 5 ہزار ،‎بلوکی ہیڈ ورکس پر 25 ہزار اور ہیڈسدھنائی کے مقام پر پانی کا بہاؤ 24 ہزار کیوسک ہے ‎ہیڈ تریموں کے مقام پر پانی کا بہاؤ 28ہزار اور ‎پنجند کےمقام پر 95ہزارکیوسک ہے،جبکہ ڈیرہ غازی خان کی رود کوہیوں میں پانی کا بہاؤ ختم ہو گیا ہے،متاثرہ علاقوں میں بحالی کے اقدامات جاری ہیں۔

    امریکا کے ساتھ کسی بھی قسم کی بات چیت ’بند گلی‘ ہے، خامنہ ای

    این ڈی ایم اے کا این ای او سی تمام صورتحال کی ہمہ وقت نگرانی کر رہا ہے، تمام متعلقہ اداروں کی ممکنہ صورتحال کے حوالے سے ضروری ہدایات باہم پہنچائی جا رہی ہے،عوام خطرے سے دوچار علاقوں میں سفر سے گریز کریں، سیلابی ریلوں کو کراس کرنے سے گریز کریں، امدادی کیمپوں میں موجود لوگ اپنے علاقوں میں واپسی کے لیے متعلقہ اداروں کی ہدایات کا انتظار کریں۔

  • پی ڈی ایم اے پنجاب کی سیلاب سے نقصانات کی تازہ ترین رپورٹ جاری

    پی ڈی ایم اے پنجاب کی سیلاب سے نقصانات کی تازہ ترین رپورٹ جاری

    پی ڈی ایم اے پنجاب نے سیلاب سے نقصانات کی تازہ ترین رپورٹ جاری کر دی۔

    ریلیف کمشنر پنجاب کے مطابق،دریائے راوی، ستلج اور چناب میں سیلاب سے نقصانات کے باعث اب تک جاں بحق افراد کی تعداد 134 ہوگئی جبکہ 47 لاکھ سے زائد لوگ اور 27 اضلاع متاثر ہوئے سیلاب کے باعث 4700 سے زائد موضع جات متاثر ہوئے جبکہ دریاؤں میں سیلابی صورتحال کے باعث مجموعی طور پر 47 لاکھ سے زائد لوگ متاثر ہوئے۔

    سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں 271 ریلیف کیمپس قائم کیے گئے جہاں شہریوں کو کھانا اور تمام تر بنیادی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں متاثر ہونے والے اضلاع میں 300 میڈیکل کیمپس بھی قائم کیے گئے ہیں،سیلاب میں پھنس جانے والے 26 لاکھ 38 ہزار لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا مویشیوں کو علاج معالجے کی سہولت فراہم کرنے کے لیے 283 ویٹرنری کیمپس قائم کیے گئے ہیں متاثرہ اضلاع میں ریسکیو و ریلیف سرگرمیوں میں 21 لاکھ 17 ہزار جانوروں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔

    بھارت کے ایک گاؤں میں 78 سال بعدپہلی بار بجلی کی فراہمی

    ریلیف کمشنر پنجاب کا کہنا ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کی ہدایات کے پیش نظر شہریوں کے نقصانات کا ازالہ کیا جائے گا، نقصانات کا تخمینہ لگانے کے لیے سروے کا آغاز 24 ستمبر کو ہوگا، شفافیت اور آسان طریقہ کار سے شہریوں کے نقصانات کا ازالہ کیا جائے گا۔

    ڈی جی عرفان علی کاٹھیا نے بتایا کہ پنجاب کے دریاؤں میں پانی کا بہاؤ معمول پر آگیا ہے، سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں بھی پانی کی سطح میں واضح کمی ہو رہی ہےدریائے ستلج میں درمیانے سے نچلے درجے کی سیلابی صورتحال برقرار ہےستلج گنڈا سنگھ والا کے مقام پر پانی کا بہاؤ 83 ہزار کیوسک اور سلیمانکی کے مقام پر پانی کا بہاؤ 81 ہزار کیوسک ہے۔

    پی سی بی کا ملک بھر میں سکولز کے لئے بڑے ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام کا آغاز

    دریائے چناب میں مرالہ کے مقام پر پانی کا بہاؤ 36 ہزار کیوسک، خانکی ہیڈ ورکس کے مقام پر پانی کا بہاؤ 29 ہزار کیوسک اور قادر آباد کے مقام پر پانی کا بہاؤ 25 ہزار کیوسک ہےہیڈ تریموں کے مقام پر پانی کا بہاؤ 31 ہزار کیوسک اور ہیڈ پنجند کے مقام پر پانی کا بہاؤ 1 لاکھ 11 ہزار کیوسک ہےدریائے راوی میں جسر کے مقام پر پانی کا بہاؤ 6 ہزار کیوسک، شاہدرہ کے مقام پر پانی کا بہاؤ 5 ہزار کیوسک، بلوکی ہیڈ ورکس کے مقام پر پانی کا بہاؤ 24 ہزار کیوسک اور ہیڈ سدھنائی کے مقام پر پانی کا بہاؤ 26 ہزار کیوسک ہےڈیرہ غازی خان ڈویژن کی رود کوہیوں میں بہاؤ نہیں ہے، سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں بحالی کے اقدامات جاری ہیں۔

    جی ایچ کیو حملہ کیس؛ ویڈیو لنک ٹرائل ہائیکورٹ راولپنڈی بینچ میں چیلنج

  • ناتجربہ کاری کی وجہ سے پنجاب میں سیلاب سے تباہی کا دائرہ وسیع ہوا،  شرجیل میمن

    ناتجربہ کاری کی وجہ سے پنجاب میں سیلاب سے تباہی کا دائرہ وسیع ہوا، شرجیل میمن

    سندھ کےسینیئر وزیر شرجیل میمن نے کہا ہے کہ پنجاب میں سیلاب سے ہونے والی تباہی کا دائرہ محدود کیا جاسکتا تھا مگر ناتجربہ کاری کی وجہ سے زیادہ تباہی ہوئی۔

    سینیئر صوبائی وزیر سندھ شرجیل میمن نے حکومت پنجاب کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ اگر پنجاب میں سیلاب پر کوئی فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ بنے تو پتا چل جائے گا کہ پنجاب میں تباہی اس سے کم ہوسکتی تھی، ناتجربہ کاری کی وجہ سے پنجاب میں سیلاب سے تباہی کا دائرہ وسیع ہوا، اگر اچھی منصوبہ بندی کی جاتی تو اتنی تباہی سے بچا جاسکتا تھا۔

    https://x.com/sindhinfodepart/status/1970038275361665026

    شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ سندھ میں محکمہ آبپاشی نے اچھی منصوبہ بندی کی، وزیراعلیٰ صاحب خود ہر چیز کو مانیٹر کررہے تھے، مانیٹرنگ سیلز بنائے گئے، ( ہر محکمے سے ) ایک ایک نمائندہ وہاں موجود ہے، اور آج بھی مانیٹرنگ سیلز قائم ہیں،میں یہ نہیں کہوں گاکہ سو فیصد ( تباہی سے ) بچ گئے، میں بھی کوئی غلط بات نہیں کروں گا، پنجاب میں پانی زیادہ آیا تھا، تاہم اگر بہتر منصوبہ کی جاتی اور محکمہ آبپاشی کی رہنمائی کی جاتی تو تباہی کو محدود کیا جاسکتا تھا۔

    کراچی میں قتل ہونیوالے3 خواجہ سرا مرد نکلے،پوسٹ مارٹم رپورٹ

    اسٹاک ایکسچینج میں تیزی، 100 انڈیکس بلند ترین سطح پر

    کراچی: 3 خواجہ سراؤں کے قتل کا مقدمہ گرو کی مدعیت میں درج

  • سیلاب متاثرہ علاقوں میں پانی کی سطح میں نمایاں کمی واقع ہوگئی، پی ڈی ایم اے

    سیلاب متاثرہ علاقوں میں پانی کی سطح میں نمایاں کمی واقع ہوگئی، پی ڈی ایم اے

    پنجاب کے بیشتر دریاؤں میں پانی کا بہاؤ نارمل ہو چکا ہے، سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں پانی کی سطح میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔

    پرووانشل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) عرفان علی کاٹھیا نے کہا ہے کہ پنجاب کے بیشتر دریاؤں میں پانی کا بہاؤ نارمل ہو چکا ہے، سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں پانی کی سطح میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے دریائے ستلج گنڈا سنگھ والا کے مقام پر پانی کا بہاؤ ایک لاکھ 4 ہزار کیوسک ہے، دریائے ستلج سلیمانکی کے مقام پر پانی کا بہاؤ 81 ہزار کیوسک ہے، دریائے چناب مرالہ کے مقام پر پانی کا بہاؤ 42 ہزار کیوسک ہے۔

    پی ڈی ایم اے پنجاب نے کہا کہ دریائے چناب میں خانکی ہیڈ ورکس کے مقام پر پانی کا بہاؤ 44 ہزار کیوسک ہے، دریائے چناب میں قادر آباد کے مقام پر پانی کا بہاؤ 37 ہزار کیوسک ہے، ہیڈ تریموں کے مقام پر پانی کا بہاؤ 41 ہزار کیوسک ہے،پنجند کے مقام پر پانی کا بہاؤ 1 لاکھ 33 ہزار کیوسک ہے، دریائے راوی جسڑ کے مقام پر پانی کا بہاؤ 8 ہزار کیوسک ہے، دریائے راوی شاہدرہ کے مقام پر پانی کا بہاؤ 9 ہزار کیوسک ہے، بلوکی ہیڈ ورکس کے مقام پر پانی کا بہاؤ 31 ہزار کی کیوسک ہے،دریائے راوی ہیڈ سدھنائی کے مقام پر پانی کا بہاؤ 29 ہزار کیوسک ہے، وزیر اعلٰی پنجاب کی ہدایات کے پیش نظر محکمے الرٹ ہیں۔

    ایشیا کپ:پاک بھارت میچ سے قبل پی سی بی کا بڑا فیصلہ

    ریلیف کمشنر پنجاب نبیل جاوید نے کہا کہ دریائے راوی ستلج اور چناب میں شدید سیلابی صورتحال کے باعث 47سو سے زائد موضع جات متاثر ہو چکے ہیں، دریاؤں میں سیلابی صورتحال کے باعث مجموعی طور پر 47 لاکھ 55 ہزار لوگ متاثر ہوئے،شدید سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں 319 ریلیف کیمپس قائم کیے گئے ہیں، سیلاب سے متاثر ہونے والے اضلاع میں 407 میڈیکل کیمپس بھی قائم کیے گئے ہیں، سیلاب میں پھنس جانے والے 26 لاکھ 22 ہزار لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا،مویشیوں کو علاج معالجے کی سہولت فراہم کرنے کے لیے 356 ویٹرنری کیمپس قائم کیے گئے ہیں، متاثرہ اضلاع میں ریسکیو و ریلیف سرگرمیوں میں 20 لاکھ 90 ہزار جانوروں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔

    100کمسن بچیوں سے زیادتی کے ملزم کو عدالت میں سائلین کے تشدد کا سامنا

    نبیل جاوید نے کہا کہ منگلا ڈیم 96 فیصد جبکہ تربیلا ڈیم 100 فیصد تک بھر چکا ہے، دریائے ستلج پر موجود انڈین بھاکڑا ڈیم 88 فیصد تک بھر چکا ہے، پونگ ڈیم 99 فیصد جبکہ تھین ڈیم 90 فیصد تک بھر چکا ہے، حالیہ سیلاب سے مختلف حادثات میں 127 شہری جانبحق ہوئے، وزیر اعلٰی پنجاب کی ہدایات کے پیش نظر شہریوں کے نقصانات کا ازالہ کیا جائے گا، سیلاب کے باعث ہونے والے نقصانات کا تخمینہ لگانے کے لیے سروے کا جلد آغاز کر دیا جائے گا سروے مکمل ہونے پر شفافیت اور آسان طریقہ کار سے شہریوں کے نقصانات کا ازالہ کیا جائے گا۔

  • موٹروے ایم 5 کا ایک حصہ سیلاب کی وجہ سے بند

    موٹروے ایم 5 کا ایک حصہ سیلاب کی وجہ سے بند

    لاہور: ترجمان موٹروے کے مطابق موٹروے ایم 5 کا ایک حصہ سیلاب کی وجہ سے بند کر دیا گیا۔

    ترجمان موٹروے کے مطابق موٹروے پولیس ٹریفک کو متبادل راستوں سے گزار رہی ہے اور ملتان سے سکھر سفر کرنے والی گاڑیاں متبادل راستے سے سفر کرسکتے ہیں،شاہ شمس انٹرچینج سے قومی شاہراہ کی طرف ٹریفک جاسکتی ہےاور اوچ شریف سے انٹرچینج سے دوبارہ موٹروے ایم 5 پر سفر کر سکتے ہیں، سکھر سے ملتان ایم 5 اوچ شریف انٹرچینج قومی شاہراہ پر سفر کیا جاسکتا ہے اور شیر شاہ انٹرچینج سے دوبارہ موٹروے ایم 5 کو جوائن کر سکتے ہیں۔

    چیف پولیس آفیسر ملتان کے مطابق موٹروے ایم فائیو کا مشرقی حصہ شگاف پڑنے سے سیلاب میں بہہ گیا، اس سے پہلے ایم فائیو کا مغربی حصہ سیلاب میں بہہ گیا تھا، موٹروے پولیس اور این ایچ اے کا عملہ مشینری کے ساتھ موقع پر موجود ہے موٹر وے پر دریائے ستلج کا پانی شدید بہاؤ کے ساتھ دریائے چناب کی جانب بہہ رہا ہے، پانی کا بہاؤ کم کرنے کے لیے شگاف میں پتھر ڈالے جا رہے ہیں، ملتان سے جھانگڑہ تک 8 ویں روز بھی موٹروے بند ہے۔

  • دریائے سندھ میں درمیانے درجے کا سیلاب

    دریائے سندھ میں درمیانے درجے کا سیلاب

    سندھ رین اینڈ فلڈ ایمرجنسی مانیٹرنگ سیل نے دریاؤں اور بیراجوں میں پانی کی آمد و اخراج کے تازہ ترین اعداد و شمار جاری کر دیے۔

    تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق گڈو بیراج پر پانی میں کمی کا رجحان برقرار رہنے سے آمد 385055 کیوسک اور اخراج 356834 کیوسک ہےسکھر بیراج پر پانی کی آمد 499850 کیوسک اور اخراج 446470 کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے جبکہ کوٹری بیراج پر پانی کی آمد 326942 کیوسک اور اخراج 306887 کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے،صوبائی حکومت دریائے سندھ کے بیراجوں پر پانی کی آمد و اخراج پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔

    پاک-سعودیہ معاہدہ ایک چھتری ہے،خواجہ آصف

    ڈائریکٹر جنرل پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) عرفان علی کاٹھیا کا کہنا ہے آج سے مون سون کا سیزن ختم ہو گیا ہے اور آئندہ ہفتے بارش کا کوئی امکان نہیں ہے مون سون سیزن ختم ہونے کے بعد سیلاب زدہ علاقوں سے پانی نکلنا شروع ہو گیا ہے، پانی کا لیول کم ہونے کی وجہ سے اب کافی اضلاع میں کشتیاں بھی آپریشنل نہیں ہے پنجاب میں مرالہ سے لے کر پنجند تک پانی کا بہاؤ معمول کے مطابق ہے، ابھی پانی کا لیول کم ہو رہا ہے ، بند توڑنا نہیں پڑا ہے۔

    پاک سعودی عرب تعلقات کا ایک نیاموڑ .تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    ان کا کہنا تھا سیلاب کی صورتحال میں تمام اداروں نے مل کر کام کیا، پنجاب میں آج تک 28 اضلاع میں 4 ہزار 755 دیہات متاثر ہوئے، سب سے زیادہ علی پور، ملتان اور جلال پور میں لوگ سیلاب سے متاثر ہوئے،24 لاکھ 82 ہزار ایکڑ زرعی رقبہ زیر آب آیا، چاول کی فصل 15 فیصد اور گنے کی فصل 22 فیصد متاثر ہو ئی ہے، محکمہ زراعت نے مویشیوں کو چارہ دینے میں بہت مدد کی اور لائیو اسٹاک کو بچایا، 425 میڈیکل کیمپس میں متاثرین کو طبی امداد فراہم کی گئی، کل سانپ کے کاٹنے کی وجہ سے ایک ہلاکت ہوئی، اب تک پوری سیلابی صورتحال میں 123 افراد جاں بحق ہوئے۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے پانچ ججز کا چیف جسٹس کے اختیارات اور اقدامات کیخلاف سپریم کورٹ سے رجوع

  • سکھر بیراج پر اونچے درجے کا سیلاب،گھروں میں پانی داخل،فصلیں تباہ

    سکھر بیراج پر اونچے درجے کا سیلاب،گھروں میں پانی داخل،فصلیں تباہ

    سندھ میں سکھر بیراج پر اونچے درجے کا سیلاب ہے جس کے باعث کچے کا وسیع علاقہ ڈوب گیا ہے، گھروں میں پانی داخل ہونے کے ساتھ فصلیں تباہ ہوگئی ہیں۔

    سیلابی ریلا آنے کے بعد دیہاتیوں کی کشتیوں کے ذریعے نقل مکانی کا سلسلہ شروع ہوگیا ہےکندھ کوٹ میں سیلابی پانی سے 80 سے زائد دیہات پانی کی لپیٹ میں آگئے ہیں قادر پور گیس فیلڈ سے گیس کی فراہمی معطل ہوگئی ہےپنجاب کے سیلاب زدہ علاقوں سے پانی اُترنا شروع ہو گیا ہے لوگ واپس اپنے گھروں کو جانے لگے جبکہ متاثرین نقصانات کے ازالے کے لیے حکومتی امداد کے منتظر ہیں۔

    نوشہرو فیروز میں دریائے سندھ میں درمیانے درجے کی سیلابی صورتحال ہے۔ منجٹھ کے قریب مزید زمیندارہ بند ٹوٹ گیا ہے جس کے باعث پانی کا تیز بہاؤ سڑک بہا کرلے گیا ہے،پانی کے تیز بہاؤ سے فصلیں تباہ ہوگئیں جبکہ مکین اپنی مدد آپ کے تحت محفوظ مقامات پر منتقل ہونے لگے ہیں۔

  • قائم مقام صدر یوسف رضا گیلانی کی سیلاب متاثرین کے لیے عالمی اداروں سے امداد کی اپیل

    قائم مقام صدر یوسف رضا گیلانی کی سیلاب متاثرین کے لیے عالمی اداروں سے امداد کی اپیل

    قائم مقام صدرِ مملکت سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ فلاحی اور بین الاقوامی ادارے پاکستان کے سیلاب متاثریں کو فوری امداد فراہم کریں۔

    قائم مقام صدرِ مملکت سید یوسف رضا گیلانی نے فلاحی اور بین الاقوامی اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ سیلاب متاثرین، بالخصوص جنوبی پنجاب کے متاثرہ خاندانوں کے لیے فوری امداد فراہم کریں، متاثرین کو بروقت امداد پہنچانا نہایت ضروری ہے تاکہ ان کی مشکلات کم کی جا سکیں۔

    سینیٹر رانا ثناء اللہ خان نے ایوانِ صدر میں قائم مقام صدر یوسف رضا گیلانی سے ملاقات کی، ملاقات میں ملکی سیاسی حالات اور امن و امان کی صورتحال پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا، یہ رانا ثناء اللہ کی بطور سینیٹر صدرِ مملکت سے پہلی باضابطہ ملاقات تھی،صدرِ مملکت سے پیپلز پارٹی کے سینٹرل سیکریٹری جنرل ہمایوں خان نے بھی ملاقات کی اور پارٹی کی تنظیمی صورتحال پر انہیں بریفنگ دی۔

    نئی ٹی ٹوئنٹی پلیئرزکی رینکنگ جاری

    ادھردریائے ستلج کے سیلاب میں کمی کے بعد بہاولپور کی دریائی تحصیلوں میں پانی کی سطح کم ہونے لگی مگر اب بھی کئی کئی فٹ پانی موجود ہے اوچ شریف، تحصیل خیرپور ٹامیوالی، تحصیل صدر بہاولپور میں درجنوں بستیاں بستور زیر آب ہیں،قادر آباد کے علاقے میں سرکاری اسکول کی عمارت میں پانچ فٹ پانی بھرا ہوا ہے۔ متاثرہ علاقوں سے سینکڑوں افراد ریلیف کیمپ منتقل کردیے گئے،سیلاب میں پھنسے لوگوں کو کشتیوں کے ذریعےکھانے کی فراہمی کی جارہی ہے۔

    وزیراعظم کی ڈپٹی گورنر ریاض سے ملاقات

    سندھ میں سُپر فلڈ کا خطرہ تو ٹل گیا لیکن دریائے سندھ میں طغیانی کے باعث بالائی سندھ میں کچے کے کئی دیہات زیر آب آگئے، جس کے باعث کھڑی فصلیں پانی میں بہہ گئیں اور کھانے پینے کی اشیا کے ساتھ مویشیوں کا چارہ بھی ناپید ہوگیا ہے،گھوٹکی میں پانی کے کٹاؤ سے قادر پور گیس فیلڈ کے کنویں شدید متاثر ہوئے، 10 گیس کنوؤں سے 3 روز بعد بھی پیداوار بحال نہ ہوسکی۔

    انتظامیہ کا کہنا ہے پانی نکل جانے کے بعد گیس کی فراہمی بحال ہوگئی جب کہ اوباڑو میں دریائےسندھ کے بھپرے ریلوں نے کئی دیہات ڈبو دیے جب کہ ضلع انتظامیہ منظر عام سےغائب ہوگئی تاہم متاثرین بے یارو مدد گار ہیں،نوشہرو فیروز میں دریائے سندھ بھپرنے سے تین تحصیلوں میں پانی داخل ہوگیا، جس کے باعث لوگ اپنی مدد آپ کے تحت نقل مکانی کرگئے۔

    بارش کا پانی اسکولوں میں داخل ہوگیا، کندھ کوٹ میں 80 سے زائد دیہات کا شہر سے رابطہ بحال نہ ہوسکا، گاؤں پرانوں چاچڑ سمیت کئی گاؤں میں مکین محصور ہوکر رہ گئے،اس کے علاوہ گمبٹ میں بھی کچے کے علاقوں کو سیلاب نے اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے جب کہ پانی کے تیز بہاؤ سے بچاؤ بندوں پر بھی دباؤ مزید بڑھ گیا ہے۔

    اداکارہ عائشہ عمر کے شو لازوال عشق پر عوامی اعتراضات، پیمرا کی وضاحت جاری

  • دریاؤں میں پانی کے بہاؤ کی صورت حال پر رپورٹ جاری

    دریاؤں میں پانی کے بہاؤ کی صورت حال پر رپورٹ جاری

    ملک کے دریاؤں میں پانی کے بہاؤ کی تازہ ترین صورت حال سے متعلق رپورٹ جاری کردی گئی ہے۔

    رپورٹ کے مطابق دریائے ستلج میں ہیڈ گنڈا سنگھ کے مقام پر درمیانے درجے کا سیلاب ہے، جہاں پانی کا بہاؤ 89 ہزار 60 کیوسک ہےدریائے چناب میں ہیڈ پنجند کے مقام پر پانی کی سطح میں کمی کے باعث درمیانے درجے کا سیلاب ہے، جہاں پانی کا بہاؤ 2 لاکھ 19 ہزار 434 کیوسک ریکارڈ کیا گیا،اسی طرح دریائے سندھ میں گڈو کے مقام پر اونچے درجے کا ریلا پہنچ گیا، جہاں پانی کا بہاؤ 6 لاکھ 5 ہزار 456 کیوسک ہوگیا، سکھر پر اونچے درجے کا سیلاب ہے اور پانی کا بہاؤ 5 لاکھ 71 ہزار 800 کیوسک ریکارڈ کیا گیا جب کہ کوٹری کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب ہے اور پانی کا بہاؤ 3 لاکھ 853 کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔

    ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق پنجاب کے دریاؤں میں پانی کا بہاؤ نارمل ہو رہا ہے، دریائے سندھ، جہلم اور راوی میں پانی کا بہاؤ نارمل لیول پر ہے جب کہ دریائے چناب میں مرالہ، خانکی، قادر آباد اور تریموں کے مقام پرپانی نارمل سطح پر ہےاسی طرح پنجند کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب ہے اور پانی کا بہاؤ کم ہو کر ایک لاکھ 94 ہزار کیوسک ہو چکا ہے، دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ والا کے مقام پر درمیانے درجے جب کہ سلیمانکی اور اسلام ہیڈ ورکس پر نچلے
    درجے کی سیلابی صورت حال ہے۔

    ٹیکنو نے پاکستان میں اسپارک 40 اسمارٹ فون متعارف کرا دیا

    ادھر راول ڈیم پانی سے بھر گیا، جس کے باعث پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش ختم ہوگئی، راول ڈیم میں پانی کی سطح ایک ہزار 752 فٹ ہونے پر اسپل ویز کھول دیے گئےانتظامیہ کی جانب سے قریبی رہائشیوں کو احتیاطی تدابیر اپنانے کی ہدایت کردی گئی ہے جب کہ اسلام آباد انتظامیہ پانی کی اخراج کی مانیٹرنگ کرے گی،راول ڈیم میں پانی جمع کرنے کی آخری حد ایک ہزار 752 ہے۔

    سی ویو کے قریب گاڑی سے ملنے والی مرد اور خاتون کی لاشوں کا پوسٹ مارٹم مکمل