Baaghi TV

Tag: سیلاب متاثرین

  • آسٹریلوی کھلاڑی کا سیلاب زدگان کیلیے فنڈز جمع کرنیکا اعلان

    آسٹریلوی کھلاڑی کا سیلاب زدگان کیلیے فنڈز جمع کرنیکا اعلان

    کینبرا: پاکستانی نژاد آسٹریلوی کھلاڑی فواد احمد نے پاکستان کے سیلاب زدگان کے لیے فنڈز جمع کرنے کا اعلان کر دیا۔لاہور قلندرز کے فاتح کھلاڑی نے سوشل میڈیا پر مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ فنڈز جمع کرنے کے لیے وہ اپنی جرسیاں نیلامی کے لیے پیش کریں گے اور جمع ہونے والی رقم متاثرین کی طرف بھیج دی جائے گی۔

    ویڈیو بیان میں انہوں نے کہا ’’تصور کریں کہ اگر ہم میں سے ہر شخص ایک ڈالر عطیہ کرتا ہے، تو کچھ ہی وقت میں ہم ایک ملین ڈالر اکٹھا کر سکیں گے جس سے بہت سے لوگوں کی مدد ہو سکے گی‘‘۔

     

     

     

     

    فواد احمد نے کہا کہ فنڈز جمع کرنے کے لیے اپنی تین جرسیاں نیلامی کے لیے پیش کروں گا جس کے لیے لوگ مجھے پرائیویٹ میسج پر بولی کی رقم بتا سکتے ہیں جبکہ زیادہ بولی والی رقم سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر شیئر کروں گا۔

    واضح رہے کہ فنڈز جمع کرنے کے لیے فواد احمد نے اپنا اکاؤنٹ نمبر بھی ٹویٹر پر شیئر کیا ہے۔

     

     

    دوسری طرف برطانوی رکن پارلیمنٹ کلاڈیا ویب نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ پاکستان میں سیلاب کی تباہ کاریاں دیکھتے ہوئے نہ صرف پاکستان کے بیرونی قرضے معاف کیے جائیں بلکہ سیلاب کی وجہ بننے والے موسمیاتی تغیرات پر معاوضہ بھی دیا جائے۔

     

    برطانیہ کی رکن اسمبلی کلاڈیا ویب نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پاکستان میں سیلاب سے پیدا ہونے والی صورت حال پر عالمی ضمیر کو جھنجھوڑتے ہوئے مطالبہ کیا کہ پاکستان میں مہنگائی 27 فیصد کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے اس لیے بارشوں اور سیلاب سے ہونے والی تباہی کو دیکھتے ہوئے پاکستان کے بیرونی قرضے فوری طور پر معاف کیے جائیں۔

  • خاندان کے بیشتر افراد کھو دینے والی بچی سے وزیراعظم کی ملاقات

    خاندان کے بیشتر افراد کھو دینے والی بچی سے وزیراعظم کی ملاقات

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ مصیبت کی گھڑی میں آپ سب سے اظہار تعزیت کرتے ہیں،

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ سیلابی ریلے نے غذر میں تباہی مچائی ہے جس کا پورے پاکستان کو افسوس ہے، سیلاب نے سندھ ،خیبر پختونخوا اور دیگر اضلاع میں بھی تباہی مچائی ہے، سیلابی ریلوں نے پور ے پاکستان میں جو تباہی پھیلائی اس کی مثال نہیں ملتی،سیلاب سے پاکستان میں ایک ہزار سے زائد افراد جاں بحق ہوئے ہیں، پنجاب کے جنوبی اضلاع بھی سیلاب سے بہت متاثر ہوئے ہیں،سیلاب کی صورتحا ل میں ایک اور امتحان ہمارے سامنے ہے،سیلاب سے لوگوں کی زندگی کی جمع پو نجی ختم ہوگئی،پاکستان پہلے ہی معاشی مشکلات کا شکار تھا،سیلاب متاثرین کو کسی صورت تنہا نہیں چھوڑیں گے،یہ ایک خاندان جو ہمارے سامنے بیٹھا ہے اس کی کہانی بہت دردناک ہے،اس خاندا ن کے متعدد افراد سیلاب کے باعث جاں بحق ہوگئے ہیں جن کےپیارے دنیا سے چلے گئے ہیں اس پر ہمیں دلی افسوس ہے،جاں بحق ہونے والے افراد کو اگلے24گھنٹے میں معاوضہ دیا جائے گا،

    وزیراعظم شہباز شریف نے حالیہ سیلاب میں اپنے خاندان کے بیشتر افراد کھو دینے والی خصوصی صلاحیتوں کی حامل بچی سے ملاقات کی، بچی کی تعلیم اورعلاج کےلیے 50 لاکھ روپےکی رقم کا اعلان کیا اور کہا کہ بچی کےنام پراینڈومنٹ فنڈ قائم کیا جائے

    واضح رہے کہ گلگت بلتستان میں سیلاب سے تقریبا درجنوں افراد جاں بحق ہوئے ہیں، اور اب تک 7406 ملین سے زائد کے نقصانات ہوئے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (جی بی ڈی ایم اے) کا کہنا ہے کہ اب تک سیلاب سے درجنوں افراد جاں بحق ہوچکے ہیں جبکہ کئی افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

    جی بی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ گلگت بلتستان میں سیلاب سے 22 پاور ہاؤسز کو نقصان پہنچا جس میں سے 19 عارضی طور پر بحال کردیے گئے۔ 49 سڑکوں کو نقصان پہنچا جن میں سے 41 عارضی طور پر بحال کردی گئیں، پینے کے پانی کی 78 سپلائیز کو نقصان پہنچا، 65 عارضی طور پر بحال کردی گئیں۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے چارسدہ میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا

    متحدہ عرب امارات کے حکام کا آرمی چیف سے رابطہ،سیلاب زدگان کیلیے امداد بھجوانے کا اعلان

    علاوہ ازیں ملک بھر میں سیلاب اور بارشوں مزید 19 افراد جاں بحق ہوئے،سیلاب اور بارشوں سے سندھ میں مزید 12افراد جاں بحق ہوئے،خیبرپختونخوامیں سیلاب اور بارشوں سے 4 افراد لقمہ اجل بنے این ڈی ایم اے کے مطابق سیلاب اور بارشوں سے بلوچستان میں جاں بحق افراد کی تعداد 3 ہوگئی،ملک بھر میں سیلاب اور بارشوں سے جاں بحق افراد کی تعداد ایک ہزار 208 ہوگئی ،سیلاب اور بارشوں سے سندھ میں432 افراد زندگی کی بازى ہارگئے

  • کوششوں کے باوجود بھی صرف 10 فیصد متاثرین تک پہنچے ہیں، فیصل ایدھی

    کوششوں کے باوجود بھی صرف 10 فیصد متاثرین تک پہنچے ہیں، فیصل ایدھی

    کوششوں کے باوجود بھی صرف 10 فیصد متاثرین تک پہنچے ہیں، فیصل ایدھی
    پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ ایمرجنسی بنیادوں پر ریسکیو کرنے اور امدادی سرگرمیاں جاری ہیں، سکھر میں پی ڈی ایم اے کا بیس کیمپ قائم کر دیا گیا پی ڈی ایم اے،انتظامیہ سمیت تمام ادارے اپنی کوشش کر رہے ہیں، ملک میں تاریخی سیلاب ہے،اس آفت کا مقابلہ سب کو ملکر کرناہوگا،

    ایدھی فاؤنڈیشن کے سربراہ فیصل ایدھی کا کہنا ہے کہ پاکستان میں سیلاب سے ہرشخص متاثر ہوا،پاکستان میں 3 سے 5کروڑ افراد بارشوں سے متاثر ہیں، ہم زیادہ کوششوں کے باوجود بھی صرف 10 فیصد متاثرین تک پہنچے ہیں، صورتحال ایسی ہے کہ الیکٹرانک میڈیا کے ہاتھ سے بھی چیزیں نکل گئی ہیں،نوے فیصد افراد ابھی بھی ہماری امداد کے منتظر ہیں، دادو میں لوگ پھنسے ہوئے ہیں کہتے ہمیں یہیں تک کھانا پہنچا دیں،ہم ایمرجنسی ریلیف فنڈ میں بہت کچھ جمع کرارہے ہیں،سیلابی صورتحال سے تمام ہی لوگ واقف ہیں،مدادی کارروائیوں میں 2010 کے سیلاب جیسی مدد ملتی نظر نہیں آرہی کھانے پینے کی اشیا نایاب ہوگئی ہیں، خیبرپختونخوا میں دریا سے ایک علاقہ متاثر ہوا،لوگ میسج کرکے کھانے کا تقاضہ کر رہے ہیں، میرا بیٹا دادو میں ہے اسے میہڑ جانا ہے وہ قاضی آصف گاؤں تک نہیں جا پا رہا، حکومت 25 ہزار روپے زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچائے،انٹرنیشنل این جی او پر لگی پابندی کو ایک سال کے لیے ہٹا لیا جائے،

    قبل ازیں مشیر داخلہ بلوچستان ضیا لانگو کا کہنا ہے کہ نصیر آباد ڈویژن کے علاوہ باقی اضلاع میں صورتحال بہتر ہورہی ہے،نصیر آباد ڈویژن کو آفت زدہ قرار دیا جاچکا ہے

    پاک فوج نے فلڈ ریلیف ہیلپ لائن قائم کر دی،

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کانجو اور سوات کا دورہ کیا

    وزیراعظم شہباز شریف نے چارسدہ میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا

    متحدہ عرب امارات کے حکام کا آرمی چیف سے رابطہ،سیلاب زدگان کیلیے امداد بھجوانے کا اعلان

    علاوہ ازیں ملک بھر میں سیلاب اور بارشوں مزید 19 افراد جاں بحق ہوئے،سیلاب اور بارشوں سے سندھ میں مزید 12افراد جاں بحق ہوئے،خیبرپختونخوامیں سیلاب اور بارشوں سے 4 افراد لقمہ اجل بنے این ڈی ایم اے کے مطابق سیلاب اور بارشوں سے بلوچستان میں جاں بحق افراد کی تعداد 3 ہوگئی،ملک بھر میں سیلاب اور بارشوں سے جاں بحق افراد کی تعداد ایک ہزار 208 ہوگئی ،سیلاب اور بارشوں سے سندھ میں432 افراد زندگی کی بازى ہارگئے

  • عمران خان کی سابق اہلیہ بھی پاکستان کے سیلاب متاثرین کی مددکےلیے میدان میں آگئیں‌

    عمران خان کی سابق اہلیہ بھی پاکستان کے سیلاب متاثرین کی مددکےلیے میدان میں آگئیں‌

    لندن :پاکستان کے سابق وزیر اعظم اور پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان کی سابق اہلیہ جمائما گولڈ اسمتھ نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ پاکستان میں سیلاب سے متاثر ہونے والوں کی مدد کے لیے دل کھول کر دیں۔

    ان کا اس سلسلے میں کہنا تھا کہ پاکستان میں اور اس کے باہر رہنے والے لوگ سیلاب سے بھری سڑکوں اور کھیتوں کی تصویروں سے حیران رہ گئے ہیں اور لوگ سیلاب سے اپنے گھر تباہ ہونے کی وجہ سے اپنے دن اور راتیں باہر گزارنے پر مجبور ہیں۔

    اپنی ایک ٹویٹ میں انہوں نے ان فلاحی تنظیموں کے نام بتائے ہیں جو بحران کی اس گھڑی میں سیلاب سے متاثرہ لوگوں کی مدد کر رہی ہیں، جب کہ دوسری میں انہوں نے بینک آف پنجاب اور بینک آف خیبر کے اکاؤنٹ نمبر دیے ہیں۔ جہاں لوگ اپنے پیسے جمع کراسکتے ہیں۔

    اس کے علاوہ عمران خان کی سابق اہلیہ جمائمہ گولڈ اسمتھ نے پاکستان میں سیلاب متاثرین کی امداد کیلئے اپنی تحریر کردہ فلم کی لندن میں پرائیوٹ اسکریننگ کا اعلان کردیا۔

    ٹوئٹر پیغام میں جمائما گولڈ اسمتھ نے بتایا کہ پرائیوٹ اسکریننگ میں فلم دیکھنے کیلئے سب سے زیادہ رقم کی بولی لگانے والے شخص کو اس کے 20 ساتھیوں کے ہمراہ فلم دکھائی جائے گی۔

    لندن میں خصوصی اسکریننگ جمائمہ خان اور فاطمہ بھٹو کی طرف سے منعقد کی جارہی ہے۔ ویب سائٹ 32 آکشن ڈاٹ کوم پر بولی کا سلسلہ جاری ہے۔رپورٹ کے مطابق زیادہ بولی لگانے والے افراد ریلیز ہونے سے قبل ہی پرائیوٹ اسکریننگ پر 20 دوستوں کے ساتھ فلم دیکھیں گے۔

     

     

     

    بولی جیتنے والاشخص اپنے20 ساتھیوں کا انتخاب خود کرےگا اورفلم دیکھنے کیلئے وقت اور تاریخ کا تعین بھی خود کرسکے گا۔جمائمہ کی فلم What’s Love Got To Do With It جنوری 2023ء میں بین الاقوامی سطح پرریلیز ہوگی۔ فلم میں مرکزی کردارمعروف اداکارہ سجل علی ادا نبھا رہی ہیں۔

    یاد رہے کہ پاکستان میں سیلاب کی تباہ کاریاں لگاتار جاری ہیں اور اس دوران جان گنوانے والے افراد کی تعداد 1191 ہو گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ملک کے شمال سے آنے والا سیلابی ریلا دریائے سندھ کے بندوں کو توڑتا ہوا ضلع دادو میں داخل ہو گیا ہے، جس سے وہاں 10 لاکھ سے زیادہ افراد متاثر ہوئے ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران پنجاب میں ایک، خیبر پختون خوا میں 4 اور سندھ میں 15 افراد کی جان چلی گئی۔ اب تک سندھ میں سب سے زیادہ 422 اموات درج جکی گئی ہیں۔ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کی یومیہ رپورٹ کے مطابق 14 جون سے اب تک 3500 سے زیادہ افراد زخمی ہو چکے ہیں۔ گذشتہ 24 گھنٹے کے دوران میں 87 افراد زخمی ہوئے ہیں اور 27 افراد جاں بحق ہو گئے۔

    سیلاب کے باعث بلوچستان میں 253، خیبر پختونخوا میں 264 اور پنجاب میں 188 افراد زندگی کی بازی ہار گئے۔ سیلابی ریلوں اور بارشوں کے باعث حادثات میں جاں بحق ہونے والوں میں 522 مرد، 246 خواتین اور 399 بچے شامل ہیں۔ ملک بھر کے 80 اضلاع بارشوں اور سيلاب سے متاثر ہيں۔بارشوں اور سیلاب کے باعث ملک بھر میں 3لاکھ 72 ہزار 8 سو 23 گھر تباہ ہوئے۔بارشوں اور سيلاب سے جزوى طور پر 7 لاکھ 33ہزار 536 گھروں کو نقصان پہنچا۔

    ملک بھر میں 243 پلوں اور 173 دکانوں کو حاليہ بارشوں سے نقصان پہنچا۔ کل 5063 کلو ميٹر سڑک بارشوں اور سیلاب سے متاثر ہوئیں۔7 لاکھ 31 ہزار سے زائد مويشيوں کا نقصان ہوا۔

    اطلاعات کے مطابق خیرپورناتھن شاہ اور جوہی تعلقہ میں مین نارا ویلی (ایم این وی) نالے میں پانی کی سطح بڑھ رہی ہے۔یہ دادوشہر سے 8 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔اگر اس نالے میں پانی کی سطح بڑھتی رہتی ہے تو دادو شہرشدید متاثر ہوگا۔

    پاکستان میں رواں سال اگست میں 30 سالہ اوسط کے مقابلے میں قریباً 190 فی صد زیادہ بارش ہوئی ہے جو مجموعی طور پر 390.7 ملی میٹر (15.38 انچ) ہے۔بارشوں کے نتیجے میں سیلاب سے صوبہ سندھ کو سب سے زیادہ نقصان پہنچا اور 30 سالہ اوسط سے 466 فی صد زیادہ بارش ہوئی ہے۔

    ملک کے شمال میں پہاڑوں سے شروع ہونے والا سیلاب ہزاروں مکانوں، کاروباری اداروں، بنیادی ڈھانچے اور فصلوں کو بہا لے گیاہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ 22 کروڑافراد پر مشتمل کل آبادی میں سے تین کروڑ 30 لاکھ افراد(15 فی صد) متاثر ہوئے ہیں۔

  • بیرون ملک پاکستانیوں کوپنجاب اورکے پی حکومتوں کوسیلاب فنڈزدینےسےنہیں روکا جارہا:اسٹیٹ بینک

    بیرون ملک پاکستانیوں کوپنجاب اورکے پی حکومتوں کوسیلاب فنڈزدینےسےنہیں روکا جارہا:اسٹیٹ بینک

    اسلام آباد:اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے بدھ کے روز پی ٹی آئی کےان دعووں کوحقیقت کے برعکس قرار دیا ہے کہ خیبر پختونخوا اور پنجاب کے وزیراعلیٰ ریلیف فنڈ کے لیے عطیات قبول کرنے میں رکاوٹیں ڈالی جارہی ہیں۔

    مرکزی بینک کی جانب سے یہ وضاحت پارٹی کے ترجمان کے اس دعوے کے بعد سامنے آئی ہے کہ انہیں بتایا گیا ہے کہ صوبائی حکومت کے کھاتوں میں لین دین نہیں ہو رہا۔

    پارٹی کے ترجمان مزمل اسلم اسی سلسلے میں اس معاملے پر کہتے ہیں کہ "جیسا کہ موصول ہوا: گزشتہ شام بیرون ملک کچھ دوستوں نے اطلاع دی ہے کہ ان کے کریڈٹ کارڈ کے عطیات کی لین دین نہیں ہو رہی تھی۔ متعلقہ کریڈٹ کارڈ کمپنیوں کے ساتھ معاملہ اٹھانے پر معلوم ہوا کہ حکومت پاکستان نے ان کا آپریشن بلاک کر دیا ہے،”

     

     

    اس کے جواب میں، اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) نے واضح کیا کہ ان اکاؤنٹس کے لیے چندہ قبول کرنے میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی جا رہی ہے۔

    مرکزی بینک نے ایک بیان میں کہا، "یہ دیکھا گیا ہے کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر کے پی اور پنجاب کے ‘سی ایم فلڈ ریلیف فنڈ’ میں عام لوگوں کی جانب سے عطیات کی عدم قبولیت کے حوالے سے کچھ شکایات گردش کر رہی ہیں،” اسٹیٹ بینک نے کہا کہ اس نے ایک انکوائری کی اور متعلقہ بینکوں نے اسے بتایا کہ ایسی شکایات "بے بنیاد” ہیں کیونکہ وہ قائم شدہ فنڈز میں عطیات قبول کر رہے ہیں۔

    بیان میں کہا گیا کہ متعلقہ بینکوں نے بھی تصدیق کی ہے کہ ان کھاتوں میں روزانہ کی بنیاد پر لین دین ہو رہا ہے۔ "بینکوں نے یہ بھی یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ سیلاب سے متاثرہ لوگوں کی مدد کے نیک مقصد میں اپنا کردار ادا کرنے کی ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔”

  • ڈسکشن کرتے رہنا ہے یا سیلاب متاثرین کی مدد بھی کرنی ہے؟‌  جگن کاظم

    ڈسکشن کرتے رہنا ہے یا سیلاب متاثرین کی مدد بھی کرنی ہے؟‌ جگن کاظم

    اداکارہ ، ماڈل و میزبان جگن کاظم نے کہا کہ جیسا کہ ہم سب کو پتہ ہے کہ پاکستان ڈوب رہا ہے اور یہ ہم سب کے لئے یہ لمحہ فکریہ ہے ، لیکن میرا سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے ٹی وی اور سوشل میڈیا پر خبریں ہی دیکھنی ہیں ، ہونے والی تباہی اور بربادی کو ڈسکس کرنا ہے یا باہر نکل کر مدد بھی کرنی ہے؟‌ جگن کاظم نے کہا کہ ہر کسی کے پاس اربوں کروڑوں روپے نہیں ہیں لیکن ہر کسی کے پاس ایکسٹرا کپڑے ضرور ہوتے ہیں جن کو سیلاب متاثرین کے لئے بھیجا جا سکتا ہے. کسی کے پاس کچھ دینے کو نہیں بھی ہے تو یہ دیکھیں کہ گھر میں کونسی ایسی چیزیں ہیں جن کا استعمال نہیں ہوتا وہ چیزیں سیلاب متاثرین کو دے دیں. صاحب استعداد لوگ جتنا ہو سکے مدد کریں ، کسی کے پاس اگر کوئی پن بھی ہے تو

    عطیہ کردیں، اس وقت ہر طرف پانی ہے لیکن پینے کے لئے ایک قطرہ بھی نہیں ہے. فارما سوٹیکل والے ادویات کے لئے اور ڈیزائنرز کپڑوں کے لئے آگے بڑھیں ، دودھ ، جوسسز ، بسکٹس اور جو بھی بھیجا جا سکتا ہے خدا کے لئے بھیجیں اور اپنی ساری مدد کسی مستند جگہ پر دیں تاکہ آپ کی عطیہ کی ہوئی چیزیں حقداروں تک پہنچ سکیں. جگن کاظم نے کہا کہ یہ وقت صرف سیلاب متاثرین کے لئے نہیں ہم سب کے لئے مشکل ہے ہم سب کو اس سے مل جل کر نکلنا ہو گا.

  • ہمیں‌پتہ چلے کل قیامت ہے تو ہم جائے نماز اور تسبیح بھی مہنگی کر دیں گے ارسلان نصیر پھٹ پڑے

    ہمیں‌پتہ چلے کل قیامت ہے تو ہم جائے نماز اور تسبیح بھی مہنگی کر دیں گے ارسلان نصیر پھٹ پڑے

    اداکار ارسلان نصیر جو اپنی بہترین اداکاری کی وجہ سے جانے جاتے ہیں، ان کو ان کے مداح کامیڈی کردارں میں بہت سراہتے ہیں . انہوں نے حال ہی میں ایک سنجیدہ وڈیو پیغام جاری کیا ہے اس میں وہ برس پڑے ہیں عوام پر. انہوں نے سیدھے سیدھے الفاظ میں سنا دی ہیں عوام کو. ارسلان نصیر نے کہا ہے کہ ہم ہر بار کہتے ہیں کہ ہم پر برا وقت کیوں آیا ہے بھئی میں ہزار بار کہہ چکا ہوں ہوں کہ ہم چور ہیں زخیرہ اندوز ہیں. ہم یہ نہیں‌کہہ سکتے ہیں کہ حکمران چوری کررہے ہیں ، ہمارے ملک میں بہت پوٹینشل تھی حکمران اچھے نہیں ملے ، بھئی حکمرانوں کو چھوڑیں اس ملک کو ہم لوگ اچھے نہیں ملے. ہم ہر بار ہر لیول پر جا کر زخیرہ اندوزی کرتے ہیں. ہمارا تو یہ حال ہے کہ ہمیں اگر پتہ چل جائے کہ کل قیامت ہے تو

    ہم جائے نماز اور تسبیح بھی مہنگی کر دیں گے اور سوچیں گے کہ کل کی کل دیکھی جائے گی آج تو پیسہ بنائو، ہم لوگ پیسہ بنا کر قیامت کا انتظار کررہے ہیں.ارسلان نصیبر کے اس وڈیو پیغام کو بہت زیادہ سراہا جا رہا ہے انہوں نے اس وڈیو پیغام میں جو بھی کہا ہے اس سے کافی لوگ متفق بھی ہیں.اور غالبا ارسلان نصیر نے اس قسم کی باتیں دکانداروں کی جانب سے اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ کرنے کی وجہ سے کی ہیں.

  • سیلاب متاثرین کی مددکریں  انجمن کا جذباتی وڈیو  پیغام سوشل میڈیا پر وائرل

    سیلاب متاثرین کی مددکریں انجمن کا جذباتی وڈیو پیغام سوشل میڈیا پر وائرل

    سینئر اداکارہ انجمن نے اپنے انسٹاگرام اکائونٹ پر ایک وڈیو پیغام جاری کیا ہے اس میں انہوں نے کہا ہے کہ میں کئی برس سے آپ سب سے محبتیں سمیٹ رہی ہوں ،مجھے یقین ہے کہ آپ لوگ میری بات ضرور سنیں گے. انجمن نے کہا کہ مصیبت کی اس گھڑی میں ہمیں سیلاب متاثرین کی مدد کرنی چاہیے.سیلاب کی وجہ سے لوگوں‌کے گھر بربار ہو گئے ہیں اور بے سرو سامانی کے عالم میں لوگ آپ کی مدد کے منتظر ہیں. ہم سب کو سیلاب متاثرین کا درد محسوس کرنا چاہیے ،تین کروڑ لوگ سیلاب اور بارشوں سے متاثر ہیں بستیاں اجڑ گئی ہیں. مال مویشی ، کچے پکے مکان سیلاب بہا کر لے گیا ہے.بوڑھے جوان مرد خواتین اور بچے کھلے آسمان کی چھت کے نیچے ہماری مدد کے منتظر ہیں . میں آپ سب سے التماس کرتی ہوں کہ خدا کے لئے

    ان کی مدد کریں. اپنے سکھ اور خوشیوں‌کو ان کے دکھوں میں شامل کر کے ان کو بھی خوشیاں دیں. اگر تھوڑا ہے تو تھوڑے سے تھوڑا سیلاب متاثرین کو دے دیں اگر زیادہ ہے تو اس میں‌ سے کچھ تقسیم کریں.ان کو ان کی مسکراہٹیں واپس دینے کی کوشش کریں. .اللہ کی خوشنودی انسانیت کی خدمت کرنے میں ہے،سب کچھ دنیا میں رہ جانا ہے صرف ہمارے اعمال ہمارے ساتھ جانے ہیں. اللہ نے ہمیں دکھی انسانیت کی خدمت کرنےکا موقع دیا ہے. ہم سب کو چاہیے کہ ہم روتے ہوئوں کو گلے لگا لیں. میں اپنے ملک کے لئے دعا گو ہوں اللہ کرے یہاں خوشحالی ایکبار پھر سے آجائے. ہمارے لوگ ہنستے بستے رہیں.

  • سیلاب میں امیر کا گھر کیوں نہیں ٹوٹتا غریب کا گھر ہی کیوں ٹوٹتا ہے؟ فضا علی کا سوال

    سیلاب میں امیر کا گھر کیوں نہیں ٹوٹتا غریب کا گھر ہی کیوں ٹوٹتا ہے؟ فضا علی کا سوال

    اداکارہ، ماڈل اور میزبان فضا علی ہیں کافی پریشان وہ سیلاب متاثرین کی مدد کے لئے اپنے تائیں جتنا ہو سکے آواز اٹھا رہی ہیں. فضا علی نے حال ہی میں ایک وڈیو جا ری کی ہے جس میں وہ سوال اٹھاتی نظر آرہی ہیں، انہوں نے اس وڈیو میں کہا ہے کہ جب بھی سیلاب آتا ہے تو غریب کا ہی گھر تباہ کیوں ہوتا ہے اسی کا گھر کیوں ٹوٹتا ہے اسی کا نقصان کیوں ہوتا ہے. امیر کا گھر کبھی کیوں نہیں ٹوٹا ، کبھی اس کے گھر پانی سے تباہی کیوں نہیں‌ہوئی. لاہور کراچی اور اسلام آباد و دیگر شہروں کی بڑی بڑی سوسائٹیز سیلاب آنے سے متاثر کیوں نہیں‌ہوتیں؟. کیوں ہماری حکومتیں مس مینجمنٹ کرتی ہیں وہ جانتی ہیں ہ سیلاب ہر سال آتا ہے تو کیوں وہ کوئی سلسلہ ایسا نہیں بناتی کہ لوگوں کے گھروں کی تباہی نہ

    ہو جانی نقصان نہ ہو. فضا علی نے مزید یہ بھی کہا کہ انڈیا نے ڈیمز بنائے لیکن ہم نے ڈیم نہیں بنائے، جب ہمارے ہاں سیلاب آتا ہے انڈیا جان بوجھ کر شرارت کرتا ہے اور پانی چھوڑ دیتا ہے ہم مزید متاثر ہوتے ہیں. کالا باغ ڈیم کی تعمیر کیوں رکی ہوئی ہے؟ کیوں اسکی تعمیر کو انا کا مسئلہ بنایا ہوا ہے کیوں اس کو بنانے پر کسی کا اتفاق نہیں ہے.فضا علی نے کہا غریب کا حوصلہ ہے کہ اتنے مشکل حالات میں وہ جیتا ہے.

  • ذوالفقاربھٹو جونیئر سیلاب متاثرین کی مدد کیلئے سرگرم

    ذوالفقاربھٹو جونیئر سیلاب متاثرین کی مدد کیلئے سرگرم

    پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو کے پوتے اور مرتضیٰ بھٹو کے بیٹے ذوالفقار علی بھٹو جونیئر سیلاب متاثرین کی امداد کیلئے بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں-

    باغی ٹی وی : ذوالفقارعلی بھٹو جونئیر ان دنوں کراچی میں مقیم ہیں، وہ آرٹ اور سماجی سرگرمیوں کے ذریعے ماحولیاتی تحفظ سے متعلق شعور اجاگر کرنے میں سرگرم ہیں۔

    مشرقی بلوچستان میں پھرسےبارش کاسلسلہ شروع،کراچی سمیت سندھ کےساحلی علا قوں میں ہلکی بارش کا امکان


    ذوالفقار علی بھٹو جونیئر اور ان کی بہن فاطمہ بھٹو نے اپنی دوست منال منشی کیساتھ مل کر عالمی سطح پر سیلاب متاثرین کے لیے عطیات جمع کرنے کا منصوبہ شروع کردیا ہے –


    فاطمہ اور ذوالفقار علی بھٹو جونیئر نے اپنی دوست کے ہمراہ مل کر ’انڈس ریلیف 2022‘ کے تحت فنڈریزنگ مہم شروع کی ہے۔

    دوسری جانب سوشل میڈیا پر جاری تصاویر میں ذوالفقار بھٹو جونیئر دادو، لاڑکانہ، سکھر اور سیہون سمیت سندھ کے مختلف شہروں میں سیلاب متاثرین کی امدادی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے نظر آرہے ہیں ذوالفقار جونیئر، ایدھی فاونڈیشن کے ساتھ مل کر سندھ میں سیلاب متاثرین کیلئے چندہ اکھٹا کررہے ہیں۔

    لوگوں کو متحرک کرنے کیلئے ذوالفقار علی بھٹو جونیئر اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر بھی کئی پیغامات اور وڈیوز شیئر کرچکے ہیں۔

    واضح رہے کہ ملک بھرمیں بارشوں اور سیلاب کے باعث مزید 36 افراد جاں بحق ہوئے، جس کے بعد مرنے والوں کی تعداد ایک ہزار 162 تک پہنچ چکی ہے، جبکہ 3 ہزار 554 افراد زخمی ہوئے۔

    نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ کی رپورٹ کے مطابق بارشوں اور سیلاب کے باعث بلوچستان میں 249افراد جاں بحق ہوئے، سندھ میں بارشوں اور سیلاب کے باعث 405، پنجاب میں 187افراد خیبر پختونخوا میں 257 ، آزاد کشمیر میں 41افراد ،گلگت بلتستان میں 22 افراد جان کی بازی ہار گئے۔

    ملک بھر میں بارشوں اور سیلاب کے باعث 7 لاکھ 30 ہزار483 مویشی ہلاک ہوئے، بلوچستان میں ایک ہزارکلومیٹر شاہراہیں متاثر ہوئیں ، 18 پلوں کو بھی نقصان پہنچا سندھ میں 2 ہزار 328 کلو میٹر شاہراہیں متاثر ہوئیں،60 پلوں کو نقصان پہنچا، پنجاب 130، خیبر پختونخوا 1 ہزار 589 کلومیٹر سڑکیں متاثر،84 پلوں کو نقصان پہنچا جبکہ گلگت بلتستان میں 16 کلومیٹر شاہراہ اور 65 پل متاثر ہوئے۔