Baaghi TV

Tag: سیلات

  • حب ڈیم سےکراچی کو پانی سپلائی کرنے والی نہر میں شگاف:ہنگامی حالت کا اعلان

    حب ڈیم سےکراچی کو پانی سپلائی کرنے والی نہر میں شگاف:ہنگامی حالت کا اعلان

    کراچی :حب ڈیم سےکراچی کو پانی سپلائی کرنے والی نہر میں شگاف پڑگیا اور متاثرہ حصے سے بہنے والا پانی قریبی گوٹھوں کی جانب بہنے لگا ہے۔جس کی وجہ سے حکام نے اس علاقے میں ہنگامی حالت کا اعلان کردیا ہے ،

    واٹر بورڈ ذرائع کے مطابق ناردرن بائی پاس دعا ہوٹل کے قریب حب نہرکا حصہ ٹوٹا ہے، اس نہر سےکراچی کو پانی فراہم کیا جاتا ہے۔متاثرہ حصے سے بہنے والا پانی قریبی گوٹھوں کی جانب جا رہا ہے، شدید بارش کی وجہ سے یہ حصہ ٹوٹا ہے، پانی عیسٰی اور خمیسو گوٹھ میں داخل ہوسکتا ہے، ایک گھنٹہ گزرنے کے باوجود انتظامیہ نہیں پہنچ سکی، ذرائع کے مطابق کراچی میں پانی کی سپلائی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔

    دوسری جانب پولیس کا کہنا ہےکہ پانی منگھوپیرکے غیر آباد علاقے میں جا رہا ہے، شگاف کو پرکرنے کے لیے مشینری لائی جارہی ہے، حب کینال کی مرمت تک پانی کی فراہمی بند کردی گئی ہے۔پولیس کے مطابق تاحال منگھوپیر کی کسی رہائشی آبادی کے متاثر ہونےکی اطلاع نہیں ہے۔

    اتوار کی علی الصبح سے کراچی اور گرد و نواح میں وقفے وقفے سے کہیں ہلکی تو کہیں تیز بارش کا سلسلہ جاری ہے۔کراچی میں اس قدر بارش ہورہی ہے کہ کراچی بارش سے پانی پانی ہوگیا ہے

    کراچی میں مون سون بارشوں کا تیسرا اسپیل اپنے اثرات دکھا رہا ہے، اتوار کی علی الصبح سے شہر کے مختلف علاقوں اور گرد و نواح میں وقفے وقفے بارشوں کا سلسلہ جاری ہے۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق کراچی میں مون سون کے تیسرے اسپیل کے دوران اب تک سب سے زیادہ بارش آج سب سے زيادہ بارش قائد آباد ميں 86.5 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی ہے۔رات سے مختلف علاقوں میں کہیں ہلکی تو کہیں درمیانی بارش کا سلسلہ جاری ہے ،یوں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران سب سے ذیادہ بارش قائدآباد میں 21 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی

    گڈاپ ٹاؤن20، گلشنِ حدید10، صدر9، کیماڑی8، نارتھ کراچی6.2، سعدی ٹاؤن6 ملی میٹر، جناح ٹرمینل، گلشنِ معمار، کورنگی میں 5.2، پی اے ایف فیصل بیس 4.5 ملی میٹر ایئرپورٹ اولڈ ایریا، یونیورسٹی روڈ3.6، ڈی ایچ اے فیزٹو3.4 ملی میٹر،گلشن حديد62، پی اے ايف مسرور بيس پر 54.5 ، کيماڑی ميں 54 ملی ميٹر بارش کی گئی ۔

    بارش کے پانی نکاسی نہ ہونے کی وجہ سے سرجانی ٹان ، نارتھ کراچی اور نیو کراچی میں حالات سب سے زیادہ خراب ہیں۔ کئی سڑکوں پر پانی جمع ہے جب کہ گڑھے جوہڑ بنے ہوئے ہیں۔

    کوہ سلیمان کے علاقے بغل چر میں بارشوں سے لینڈ سلائیڈنگ اور آمد و رفت کا راستہ بند

    دوسری جانب شہر کے متعدد علاقوں میں بجلی کی فراہمی بھی معطل ہے جس کی وجہ سے لوگوں کو دُہری اذیت کا سامنا ہے۔محکمہ موسمیات نے کراچی سميت اندرون سندھ ميں بارشوں کا موجودہ سلسلہ 26 جولائی تک جاری رہنے کی پيشگوئی کی ہے۔

    مون سون بارشوں سے متعلق محکمہ موسمیات کا تازہ الرٹ جاری

    شہر کے دورے کے دوران وزیر اعلیٰٓ سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ محکمہ موسمیات نے تیز بارش کی پیش گوئی کی ہے، اللہ تعالی سے دعا ہے کہ بارش رحمت والی ہو زحمت نہ ہو، لوگوں سے گزارش ہے کہ غیر ضروری باہر نہ نکلیں۔

    مراد علی شاہ نے کہا کہ جب بارش تیز ہوتی ہے تو سڑکوں پر پانی جمع ہوجاتا ہے۔ حکومت سندھ کے وزرا اور انتظامیہ کے لوگ سڑکوں پر ہیں، کوئی بھی صورتحال ہو انتظامیہ کو ہر جگہ موجود پائیں گے۔

    بارش برسانے والا ہوا کے کم دباؤ کا سسٹم سندھ میں داخل ،محکمہ موسمیات

    شادمان نالے میں خاتون کے ڈوبنے کے واقعے کے حوالے سے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اس واقعےکا مجھے بہت افسوس ہے، نالوں کی صفائی کا کام پورا سال چلتا رہتا ہے، شادمان نالے پر کام پہلے بھی چل رہا تھا۔

    میڈیا سے بات کرتے ہوئے ایڈمنسٹریٹر کراچی مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ شہر کی صورتحال قابو میں ہے، کراچی شہرکی سڑکیں اور انڈر پاسز کلیئر ہیں، بلدیاتی عملہ میدان میں موجود ہے، سڑکوں کے اطراف جمع پانی کی نکاسی کی جاری

  • ملک میں غیر معمولی بارشوں کا امکان،حکام الرٹ

    ملک میں غیر معمولی بارشوں کا امکان،حکام الرٹ

    اسلام آباد:مون سون کے موسم کی آمد کےساتھ ساتھ ملک میں کہیں خطرے کی گھنٹیاں بجائی جارہی ہیں تو کہیں لوگ پانی کو ترس رہے ہیں،ایسے میں‌ ملک کے بیشتر حصوں میں مون سون کی بارشوں کے دورانیے میں اضافے کا خدشہ ہے جس کے پیش نظر متعلقہ حکام کو ہدایات جاری کردی گئی ہیں، ملک میں رواں برس غیر معمولی بارشوں کا امکان ہے۔حکام نے ابھی سے عوام الناس کو خبردار کرنا شروع کردیا ہے

    بڑی تیزی سے بدلتی ہوئی موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے وفاقی وزیر برائے کلائمٹ چینج شیری رحمان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے ٹویٹ میں کہا کہ جنوبی ایشیائی موسمیاتی آؤٹ لک فورم نے رپورٹ جاری کی ہے جس کے مطابق ملک کے بیشتر حصوں میں معمول سے زیادہ بارشوں کا امکان ہے۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ حالات پر نظر ہے

    وفاقی وزیربرائے کلائمنٹ چینج شیری رحمان کا کہنا تھا کہ رپورٹ کے مطابق صوبہ خیبر پختونخواہ، شمالی اور شمال مشرقی بلوچستان میں زیادہ عرصے تک بارشیں ہوں گی۔انہوں نے کہا کہ اس دوران سندھ میں کم بارشیں ہوں گی اور تھر پارکر اور عمر کوٹ میں قحط کی صورتحال ہوسکتی ہے۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ حکام کو ہدایات جاری کردی گئی ہیں کہ وہ کسی بھی ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کےلیے تیار رہیں

    وفاقی وزیرشیریں رحمان کا کہنا تھا کہ حکام معمول سے زائد بارش کے پیش نظر احتیاطی تدابیراختیار کریں، تیز بارشوں سے جانوں اور انفراسٹرکچر کو خطرہ ہو سکتا ہے۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اطلاعات ہیں کہ دوسری طرف دریائے سندھ میں پانی کی سطح تشویشناک حد تک کم ہوگئی۔ کپاس کی فصل شدید متاثر ہونے لگی۔ کسان پریشان ہوگئے۔

    ادھر پاکستان میں پانی کی کمی کے حوالے سے محکمہ آبپاشی ذرائع کے مطابق رواں سال دریا میں پانی 50 فیصد سے زائد کم ہے، گڈو بیراج پر 60، سکھر پر 41 اور کوٹری بیراج پر 45 فیصد تک پانی کی کمی آئی ہے۔ بیراج سے نکلنے والی نہروں سے صرف پینے کا پانی فراہم کیا جا رہا ہے۔ ملک کے بالائی علاقوں میں بارشوں سے صورتحال میں بہتری کی امید ہے۔ کاشتکاروں نے دہائی دیتے ہوئے کہا کہ فصلوں کیلئے پانی دستیاب نہیں۔

    دوسری جانب ارسا کا کہنا ہے کہ پنجاب اور سندھ کے پانی کے حصے میں اضافہ کر دیا گیا، سندھ کے بیراجز پر پانی کی صورتحال آئندہ 4 روز میں بہتر ہونا شروع ہوجائے گی، سکھر بیراج پر پانی کی صورتحال 5 روز میں بہتر ہوگی۔ کوٹری بیراج پرپانی کی صورتحال بہتر ہونے میں 8 روز لگیں گے، پنجاب کو 77 ہزار 700 کیوسک یومیہ پانی فراہم کیا جا رہا ہے، سندھ کو 80 ہزار کے بجائے 63 ہزار کیوسک یومیہ پانی فراہم کیا جا رہا ہے، دریاؤں میں پانی کا مجموعی بہاؤ ایک لاکھ 58 ہزار کیوسک ہے۔

  • بارشیں،سیلاب:بلوچستان میں آج بھی پاک فوج کی طرف سے ریلیف اور ریسکیوخدمات جاری

    بارشیں،سیلاب:بلوچستان میں آج بھی پاک فوج کی طرف سے ریلیف اور ریسکیوخدمات جاری

    گوادر:بارشیں،سیلاب:بلوچستان میں آج بھی پاک فوج کی طرف سے ریلیف اور ریسکیوخدمات جاری ،اطلاعات کے مطابق گوادر میں سیلابی صورتحال کے بعد پاک فوج اور نیوی کے دستوں کا ریلیف اور ریسکیو جاری ہے۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق گوادر میں بارشوں سے کامیاب سیلابی صورتحال کے بعد ریلیف اور ریسکیو جاری ہے۔ پاک فوج اور نیوی کے دستے کے علاوہ میں ریسکیو اور ریلیف میاں بیوی میں۔ مقامی افراد کو محفوظ مقام میں منتقلی کا عمل بھی جاری ہے۔

    آئی ایس پی کے مطابق درست افراد میں پھنسے افراد کو خوراک اور غذائی اشیا کی فراہمی کا عمل بھی جاری ہے۔

    یاد رہے کہ کل بھی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں موسلا دھار بارش کے بعد سیلابی صورت حال پیدا ہونے کے بعد پاک فوج کی طرف سے ریلیف اور ریسکیو سروس فراہم کی گئی تھیں اور مسلسل فراہم بھی کی جارہی ہیں‌

    کل بھی پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا تھا کہ بلوچستان کے ساحلی علاقوں میں شدید بارشوں کے بعد سیلابی صورتحال ہے، سیلاب سے متاثرہ علاقوں سے پانی نکالنے کا عمل بھی جاری ہے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق مقامی آبادی اور سیاحوں کو محفوظ مقامات پر منتقلی کرنے کے ساتھ ساتھ گوادر اور تربت کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں فوج کا امدادی کام جاری ہے، پسنی، جیوانی، سربندر، نگور میں خوراک اور شیلٹرز کی فراہمی بھی جاری ہے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق اس دوران سول انتظامیہ کے ساتھ امدادی کارروائیوں میں حصہ لیا جا رہا ہے۔