Baaghi TV

Tag: سیلزٹیکس

  • ایف بی آر کو سیلز ٹیکس ادا نہ کرنیوالے دکانداروں کی بجلی وگیس کے کنکشن کٹوانےکا اختیارمل گیا

    ایف بی آر کو سیلز ٹیکس ادا نہ کرنیوالے دکانداروں کی بجلی وگیس کے کنکشن کٹوانےکا اختیارمل گیا

    اسلام آباد:وفاقی بجٹ میں چھوٹے تاجروں پربڑا ٹیکس لگا دیا گیا جبکہ وفاقی حکومت نےآئندہ مالی سال کےبجٹ میں فنانس بل کے ذریعے فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کو سیلز ٹیکس نہ دینے والے چھوٹے تاجروں اور دکانداروں کے بجلی و گیس کے کنکشن منقطع کرنے کے اختیارات دینے کی تجویز دی تھی-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق 30 ہزار روپے ماہانہ بجلی کا بل آنے پر دکاندار کو3 ہزار روپے فکسڈ ٹیکس دینا ہوگا 30 سے 50 ہزار روپے ماہانہ بجلی کا بل آیا تو دکاندار5 ہزار روپے ٹیکس دے گا۔

    جیمز ویب ٹیلی اسکوپ سے خلائی چٹان کا ایک ٹکڑا ٹکرا گیا

    50 ہزار سے ایک لاکھ روپے ماہانہ بل پر 10 ہزار روپے ٹیکس لگے گا مہنگی گھڑیاں اور بڑی کاریں بیچنے والوں پر 50ہزار روپے ماہانہ ٹیکس کی تجویز ہے۔

    وزیرخزانہ کا کہنا ہے کہ فکسڈ ٹیکس دینے والوں کو ایف بی آر تنگ نہیں کرے گا ایف بی آر کو سیلز ٹیکس ادا نہ کرنے والے دکانداروں کی بجلی اور گیس کے کنکشن کٹوانے کا اختیار دے دیا گیا۔

    دوسری جانب حکومت نے ایف بی آر کوسیلز ٹیکس میں رجسٹرڈاور پوائنٹ آف سیلز سسٹم سے منسلک نہ ہونے والے ٹیئر ون میں شامل چھوٹے تاجروں و دکانداروں کے بجلی و گیس کے کنکشن منقطع کرنے کے اختیارات دینے کی تجویز د ی ہے۔

    اس کیلئے فنانس بل کے ذریعے ٹیکس قوانین میں ترامیم کی گئی ہیں جن میں کہا گیا ہےکہ ٹیئر ون میں شامل دکاندارسیلز ٹیکس میں رجسٹرڈ نہیں ہوتے اور ایف بی آر کے پوائنٹ آف سیلز سسٹم کے ساتھ خود کو منسلک نہیں کرتے تو ایف بی آر سیلز ٹیکس جنرل آرڈر کے ذریعے بجلی و گیس کی تقسیم کار کمپنیوں کو ایسے تاجروں کےکنکشن منقطع کرنے کی ہدایات جاری کرسکے گا۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے مالی سال 23-2022 کا 95 کھرب 2 ارب روپے کا وفاقی بجٹ پیش کیا جو گزشتہ مالی سال سے 10 کھرب 15 ارب روپے زیادہ ہے۔

    مالی سال 23-2022 میں وفاقی حکومت کے کل اخراجات کا تخمینہ 9 ہزار 502 ارب روپے ہے، پروگرامز کیلئے 800 ارب، دفاع کیلئے 1523 ارب، پنشن کی مد میں 530 ارب، ایچ ای سی کیلئے 65 ارب روپے کی رقم مختص کی گئی ہے۔

    جس کے بعد ملک کے مختلف چیمبرز آف کامرس کا ملاجلا ردعمل سامنے آیا ہے اسلام آباد چیمبرز آف کامرس کے صدر نے کہا کہ جٹ متوازن ہے تاہم انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت زرعی زمین پر ہاؤسنگ سوسائٹیاں بنانے پر پابندی لگائے لاہور چیمبرز آف کامرس کے صدر نے ود ہولڈنگ ٹیکس سے مہنگائی بڑھنے کا امکان ظاہر کر دیا-

    فیصل آباد چیمبرزآف کامرس کے صدر نے کہا کہ آئی ایم ایف کی لٹکتی تلوار کے باوجود متوازن بجٹ پیش کیا گیا،حکومتی اعلانات پر عمل ہوا تو برآمدات میں اضافہ ہوگا جبکہ سرحد چیمبرآف کامرس کے صدرنے صنعتی شعبے میں لوڈشیڈنگ کے خاتمے کے اعلان کا خیر مقدم کیا لیکن انہوں نے صنعتوں کے لیے 14 سو 23 ارب کو نا کامی قرار دے دیا۔

    ملک بھر میں موسم کی صورتحال

    کراچی چیمبرز آف کامرس کے صدر کے مطابق بجٹ برا نہیں، سولر پینل پر ڈیوٹی ختم کرنے کی سفارش ماننے پرحکومت کا شکریہ ادا کرتے ہیں علاوہ ازیں کراچی چیمبر آف کامرس نے وفاقی بجٹ کو موجودہ حالات کے تناظر میں مناسب بجٹ قراردیتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ روس یوکرین جنگ طول اختیار کرنے سے چند ماہ بعد ایک اور بجٹ پیش ہوسکتا ہے۔

    کراچی چیمبر میں بعداز بجٹ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بزنس مین گروپ کےچئیرمین زبیرموتی والا نے کہا کہ جب تک عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی فی بیرل قیمت 70سے 75ڈالرکی سطح پر نہیں آئیں گی اس وقت تک ملک میں غیریقینی حالات برقراررہیں گے سارا پاکستان سوچ رہا تھا کہ سخت بجٹ پیش ہوگامگر ایسا نہیں ہے، ایف بی آر کےٹیکس وصولی بڑھائی ہے بجٹ اسی لیے زیادہ سخت نظر نہیں آرہاہےکیونکہ قبل از بجٹ ہی بجلی، گیس، پیٹرول، ڈیزل شرح سود بڑھادی گئی ہےاورڈالر کی قدر میں بھی اضافہ کردیا گیاتھاانہوں تنازعات کےتصفیوں کے لئے اے ڈی آر سی میں 2 ٹیکس دھندہ نمائندوں کی شمولیت مستحسن اقدام قراردیا-

    حمزہ شہبازکی سی ٹی ڈی کیلئے نئی پوسٹوں پر بھرتی کی منظوری

  • صنعتی سلائی مشین،کپاس کے درآمدی بیج اور زرعی آب پاشی آلات پر سیلز ٹیکس کی تجاویز منظور

    صنعتی سلائی مشین،کپاس کے درآمدی بیج اور زرعی آب پاشی آلات پر سیلز ٹیکس کی تجاویز منظور

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے درآمدی گوشت،صنعتی سلائی مشین،کپاس کے درآمدی بیج اور زرعی آب پاشی آلات پر سیلز ٹیکس کی منظوری دے دی –

    باغی ٹی وی : اجلاس کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر طلحہ محمود کی زیر صدارت منعقد ہوا ،جس میں کمیٹی نے فنانس ترمیمی بل کا شق وار جائزہ لیا،ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مشینری درآمد پر سیلز ٹیکس عائد کرنے زرعی آب پاشی آلات، گرین ہاؤس کے سامان پر 17 فیصد جی ایس ٹی عائد کرنے اور ادویات کے شعبے کو زیرو ریٹڈ رجیم میں شامل کرنے کی تجاویز منظور کر لی گئیں جبکہ گھریلو استعمال کی سلائی مشین،سولر پینل،درآمدی دودھ پر ٹیکس اضافہ مسترد کر دیا ہے۔

    ٹیکس نہ دینے والوں کو نوٹس نہیں ان کی آمدنی بتائیں گے:پھر پتے لگ جان گے:شوکت ترین

    اجلاس میں ایف بی آر اہلکاروں کی جانب سے ریٹیلرز کے گھروں پر چھا پے مارنے، چادر اور چار دیواری کا تقدص پامال کرنے کی شکایات کے انبار لگا دیئے ریٹیلرز نے کہا ایف بی آر نے بنا جانچ پڑتال چھاپہ مارا،ہمارے اوپر ایف آئی آر درج کی گئی، ہمارے گھروں پر دیواریں پھلانگ کر چھاپے مارے گئے، بیٹے کی منگیتر اور تین سالہ نواسی کے متعلق بھی معلومات دریافت کی گئیں۔

    کمیٹی اراکین نے ریٹیلرز کے انکشافات پر برہمی کا اظہار کیا،چیئرمین کمیٹی نے مذکورہ واقع پر ایف بی آر حکام کو پیر تک رپورٹ مرتب کرکے پیش کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔

    واضح رہے کہ وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹیکس تو سب کو دینا پڑے گا، نوٹسز نہیں، خود ٹیکس گزار تک پہنچیں گے، لوگ کارروائی سے پہلے محاصل ادا کرنا شروع کردیں، ٹیکس پیئرز کی تعداد دو کروڑ ہونی چاہیے شوکت ترین کا کہنا تھا کہ وقت آگیا ہے کہ سب لوگ اپنا ٹیکس دینا شروع کردیں، اب ہم نوٹس نہیں دیں گے، اب ہم ان لوگوں کوبتائیں گے کہ آپ کی اتنی آمدن ہے، ہم کسی کوہراساں نہیں کریں گے، اگرکوئی ٹیکس ادا نہیں کرے گا تو قانون کے مطابق کارروائی ہوگی، جوٹیکس ادا نہیں کررہے ان کوچاہیے ہمارے پہنچنے سے پہلے وہ ٹیکس ادا کردیں۔

    ریاست کے اندر ایک ریاست نہیں بنیں گے،اسٹیٹ بینک

    وفاقی وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ گڈزپرسیلزٹیکس وفاق کا دائرہ کارہے، یہ مجھے نہیں معلوم آج ہوں یا کل نہیں، اگراس عہدے پر رہا توسب کو انکم ٹیکس اور سیلزٹیکس بھی دینا پڑے گا، ملک کو اس وقت ٹیکس کی ضرورت ہے، ادھارلیکرملک چلایا جاتا ہے یہ نہیں چلے گا، بڑی بڑی گاڑیاں والے ٹیکس نہیں دیتے، دوملین لوگ ٹیکس دیتے ہیں، کم ازکم 20ملین لوگوں کوٹیکس دینا چاہیے، عمران خان مسٹرکلین، آپ کے دیئے گئے ٹیکسوں کی خردبرد نہیں ہوگی، میں توتنخواہ بھی نہیں لیتا ہم نے اس سسٹم کوٹھیک کرنا ہے۔

    10کروڑ ڈالر کا آن لائن فراڈ، ایف آئی اے کا بڑا ایکشن:کون کون ہیں مجرم تفصیلات…

    شوکت ترین کا کہنا تھا کہ ٹیکس توآپ کودینا پڑے گا، ٹیکسوں کا نظام خودکارہونے سے محصولات بڑھیں گے، ٹیکسوں کے نظام کوآسان بنایا جارہا ہے، جب لوگوں کوسہولت ہوگی توزیادہ ٹیکس بھی دیں گےجب ٹیکس اکٹھے نہیں ہوں گے تو ملک میں ترقی کیسے ہو گی؟ ٹیکسوں ادائیگیوں سےہی ملک میں پائیدارترقی ہوسکتی ہے، ٹیکنالوجی کا استعمال کرکے ٹیکس ادا نہ کرنے والوں تک پہنچیں گے، جوٹیکس ادا نہیں کرتے ان کا ڈیٹا اکٹھا کرلیا ہے۔

    حکومتی اداروں کی نااہلی کی وجہ سے سینکڑوں خواتین جیلوں میں جبرا قید کاٹنے پر مجبور