Baaghi TV

Tag: سیمنٹ

  • سیمنٹ کی قیمت میں بھی اضافہ

    سیمنٹ کی قیمت میں بھی اضافہ

    پاکستان بیوروبرائے شماریات کی جانب سے اس بارے میں جاری کردہ اعدادوشمارکے مطابق 27 ستمبرکوختم ہونے والے ہفتہ میں ملک کے شمالی علاقوں میں سیمنٹ کی فی بوری کی اوسط ریٹیل قیمت 1210 روپے ریکارڈکی گئی جوپیوستہ ہفتہ کے مقابلہ میں 0.29 فیصدزیادہ ہے، پیوستہ ہفتہ میں ملک کے شمالی علاقوں میں سیمنٹ کی فی بوری کی اوسط ریٹیل قیمت 1206 روپے ریکارڈکی گئی تھی۔

    جبکہ اسی طرح ملک کے جنوبی علاقوں میں 27 ستمبرکوختم ہونے والے ہفتہ میں سیمنٹ کی فی بوری کی اوسط ریٹیل قیمت 1171 روپے ریکارڈکی گئی جوپیوستہ ہفتہ میں بھی 1171 روپے تھی۔اعددوشمارکے مطابق گزشتہ ہفتہ کے دوران اسلام آباد میں سیمنٹ کی فی بوری کی اوسط ریٹیل قیمت 1206 روپے، راولپنڈی 1201 روپے، گوجرانوالہ 1200 روپے، سیالکوٹ 1200 روپے، لاہور1250 روپے،فیصل آباد1200 روپے، سرگودھا1193 روپے، ملتان 1214 روپے،بہاولپور1243 روپے، پشاور1200 روپے اوربنوں میں 1200 روپے ریکارڈکی گئی۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    عالمی بینک سے قرض لینے والا سب سے بڑا ملک کون؟
    آئی سی سی پی کی جرائم کی شرح میں نمایاں کمی پر تمام افسران کو شاباش
    ممی کو 128 سال بعد مناسب طریقے سے دفنانے کی اجازت دے دی گئی
    انتخابات میں عالمی مبصرین کو بلانے بارے الیکشن کمیشن کا اجلاس
    امریکی کرنسی کے مقابلے روپیہ مزید تگڑا

    تاہم کراچی میں سیمنٹ کی فی بوری کی اوسط ریٹیل قیمت 1144 روپے، حیدرآباد1150 روپے،سکھر1200 روپے، لاڑکانہ 1173 روپے، کوئٹہ 1190 روپے اورخضدرارمیں سیمنٹ کی فی بوری کی اوسط ریٹیل قیمت 1170 روپے ریکارڈکی گئی۔

  • چکوال سالٹ رینج نیچر ریزرو کمپلیکس میں سیمنٹ پلانٹ کا انکشاف:شریں رحمان کا نوٹس

    چکوال سالٹ رینج نیچر ریزرو کمپلیکس میں سیمنٹ پلانٹ کا انکشاف:شریں رحمان کا نوٹس

    چکوال :چکوال سالٹ رینج نیچر ریزرو کمپلیکس میں سیمنٹ پلانٹ کا انکشاف:شریں رحمان کا نوٹس،اطلاعات کے مطابق وفاقی وزیر برائے ماحولیاتی تبدیلی سینیٹر شیری رحمان نے چکوال میں سالٹ رینج نیچر ریزرو کمپلیکس میں سیمنٹ پلانٹ کی تنصیب کا نوٹس لیتے ہوئے فوری رپورٹ طلب کرلی۔

    وفاقی وزیر شیری رحمان نے پنجاب انوائرمینٹل پروٹیکشن ایجنسی کو فوری طور پر پلانٹ کا جائزہ لینے کی ہدایت کردی۔ اپنے بیان میں شیری رحمان نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ خام مال کی بلاسٹنگ اور کھدائی سے حیاتیاتی تنوع کو خطرہ ہوگا، مقامی باشندے اور جنگلات کے محافظ پلانٹ کے شدید مخالف ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ پنجاب انوائرمینٹل پروٹیکشن ایجنسی معاملے کا سنجیدگی سے جائزہ لے، سیمنٹ پلانٹس کی وجہ سے علاقے کو پانی کی کمی کا سامنا ہے۔ انہوں نے یہ انکشاف بھی کیا کہ پہلے سے موجود 5 سیمنٹ پلانٹس کی وجہ سے زیر زمین پانی تیزی سے ختم کر رہے ہیں۔

    وفاقی وزیر کے مطابق یہ علاقہ 1200 ایکڑ کے قدرتی ذخائر پر محیط ہے اور علاقے میں مختلف قسم کے نباتات اور حیوانات موجود ہیں۔ قانون کے مطابق یہاں کان کنی جیسی سرگرمیاں سختی سے ممنوع ہیں۔

    معروف کمپنی کے بورے میں غیر معیاری سیمنٹ پیک کرنیوالے ملزمان گرفتار، مقدمہ درج

    اپنے بیان میں وزیر ماحولیات نے یہ بھی کہا کہ پہلے ہی حیاتیاتی تنوع کے نقصان، آلودگی اور ماحولیاتی بحران کا سامنا ہے، رواں برس شدید گرمی سے ہزاروں ایکڑ قیمتی جنگلات کو نقصان پہنچا۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہمیں ماحولیات کے ساتھ زیر زمین پانی کا بھی تحفظ کرنا ہے۔

    سیمنٹ پلانٹ لگانے والوں کیلیے خوشخبری، صوبائی وزیر صنعت و تجارت نے حکومتی پالیسی

    واضح رہے کہ کچھ روز قبل سوشل میڈیا پر بھی چکوال کے سالٹ رینج نیچر ریزرو کمپلیکس میں قائم سیمنٹ پلانٹ سے متعلق خبریں سامنے آئی تھیں، جس پر صارفین کی جانب سے شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا تھا۔ کچھ صارفین کی جانب کٹاس مندر میں ہونے والے پانی کے مسئلہ کو بھی اسی مسئلے سے جوڑتے ہوئے کہا گیا تھا کہ ایسے پروجیکٹ زیر زمین پانی کی قلت کا سبب بنتے ہیں

    چکوال کی تمام سیمنٹ فیکٹریاں بند کرنے کی سپریم کورٹ سے استدعا کر دی گئی

    کٹاس مندر کت تالاب میں پانی کی کمی کی خبریں سامنے آنے پر اٗس وقت کی پنجاب حکومت نے چکوال کے نزدیک قدیم کٹاس راج مندر کے قریب نئی سیمنٹ فیکٹریاں لگانے پر پابندی عائد کردی تھی۔

    ماحولیاتی امور پر تحقیق کرنے والے ماہرین کا کہنا تھا کہ علاقے میں سیمنٹ فیکٹریاں زیر زمین پانی استعمال کرتی ہیں، جس کے باعث کٹاس راج مندر کا صدیوں پرانا تالاب بھی خشک ہوگیا۔

  • سیمنٹ کا بحران,من مانے ریٹ

    سیمنٹ کا بحران,من مانے ریٹ

    قصور
    قصور شہر اور گردونواح میں سیمنٹ نایاب لوگ پریشان ڈیلروں کیمطابق سپلائی نہیں ملی
    تفصیلات کے مطابق قصور اور گردونواح میں سیمنٹ نایاب ہو گیا ہے چھوٹے دکانداروں کے پاس سیمنٹ بلکل بھی نہیں جبکہ بڑے دکاندار اپنی مرضی کے نرخوں پر فروخت کر رہے ہیں اس بابت جب دکانداروں سے پوچھا گیا تو انہوں نے بتایا کہ کلر کہار سیمنٹ فیکٹری سے سپلائی نہیں ملی جس کے باعث سیمنٹ کم پڑ گیا ہے ایک دو روز میں سپلائی مل جائے گی کیونکہ فیکٹری ہر ضلع کو کوٹہ کے لحاظ سے سپلائی فراہم کرتی ہے ضلع قصور میں لاک ڈاؤن میں نرمی سے اچانک کنسٹرکشن کا کام تیز ہو گیا ہے جس کے باعث سیمنٹ کا عارضی بحران بن گیا ہے
    جبکہ دوسری جانب گاہکوں کا کہنا ہے سیمنٹ بجری سریا کے ریٹ دکانداروں کی مرضی کے ہیں ان کے پاس کوئی ریٹ لسٹ نہیں ہوتی پوچھنے پر کہتے ہیں گورنمنٹ کی طرف سے ہمیں کوئی ریٹ لسٹ مہیا نہیں کی جاتی اس لئے ہر کوئی اپنی مرضی پر اپنی چیزیں فروخت کرتا ہے سیمنٹ کی بوری کی قیمت 510 سے 550 اور سریا 115 سے 130 روپیہ فی کلو کے حساب سے فروخت ہو رہا ہے لہذہ عام ضروریات زندگی کی اشیاء کی طرح سیمنٹ ،سریا اور بجری کے ریٹ بھی مقرر کرکے انہیں ریٹ لسٹیں لگانے کا پابند بنایا جائے تاکہ لوگ اصل قیمت پر چیزیں حاصل کر سکیں
    شہریوں نے اسسٹنٹ کمشنر قصور انعم زید اور ڈی سی قصور منظر علی سے اپیل کی ہے کہ نوٹس لے کر سیمنٹ سریا کے دکانداروں کو ریٹ لسٹ مہیا کرکے ان کیمطابق فروخت کرنے کا پابند بنایا جائے