Baaghi TV

Tag: سیمینار

  • پھلوں کا بادشاہ آم.56واں مینگو فیسٹیول میرپورخاص

    پھلوں کا بادشاہ آم.56واں مینگو فیسٹیول میرپورخاص

    تحریر . غلام رضا کھوسو ، ڈائریکٹر اطلاعات میرپورخاص ڈویزن
    Ghulam raza khoso
    ضلع میرپورخاص جو این جی اوز اور سٹی آف مینگوز کے طور پر اپنی پہچان رکھتا ہے اور گذشتہ 55سالوں سے میرپورخاص میں ہر سال ضلعی انتظامیہ اور مینجمنٹ کمیٹی مینگو فیسٹیول کی کاوشوں سے ہر سال جون میں شہید بینظیر بھٹو ایگزہیبیشن ہال (فروٹ فارم) میرپورخاص میں آموں کی نمائش کا انعقاد کیا جاتا ہے . رواں سال بھی میرپورخاص میں 56واں مینگو فیسٹیول 31 مئی 2024 سے 2 جون 2024 تک سالانہ تین روزہ آموں کی نمائش لگائی جائے گی .اس سلسلےمیں ضلعی انتظامیہ،محکمہ زراعت اور مینجمنٹ کمیٹی کی جانب سے انتظامات کا آغاز کیا گیا ہے .

    میرپورخاص میں آموں کی نمائش کا آغاز سن 1965 سے کیا گیا تھا جس کا مقصد نہ فقط صوبے بلکہ ملک کے دور دراز علاقوں کے زمیندار کا آپس میں میل جول اور زرعی معلومات کا تبادلہ آموں کی پیداوار اور اقسام کا فروغ ہو سکے تاکہ وہ اپنے اپنے علاقوں میں آموں کی پیداوار بہتر بنانے کے لیے کارآمد ہو سکے . حکومت سندھ کی جانب سے پانی کی کمی کے باعث ڈرپ ایریگیشن سسٹم کے ذریعے باغات کو پانی پہنچانے کے لیے کافی فنڈر مختص کئے گئے ہیں اور ابتدائی طور پر تجرباتی بنیادوں پر کام شروع کر دیا ہے ، اس ضمن میں حکومت کی جانب سے میرپورخاص میں سندھ ہارٹیکلچر ریسرچ انسٹیٹیوٹ میں یہ سسٹم قائم کیا گیا ہے .سندھ ہارٹیکلچر ریسرچ سنٹر جو کہ گورنمنٹ فروٹ فارم کے نام سے 1904 میں قائم ہوا اس وقت اس کا نام زرعی فارم تھا اس کے بعد 1926 میں اس ادارے کو تجرباتی اسٹیشن بنایا گیا . 1958میں اس ادارےکو ترقی دے کر باغات کی تحقیق کا ادارہ بنایا گیا اس ادارے کے سب اسٹیشنز سندھ بھر کے مختلف اضلاع میں بھی قائم کئے گئے جس میں ٹماٹر کے لیے ضلع بدین، مرچوں کے لیے ضلع عمرکوٹ کے تحصیل کنری ، بیر اور پیاز کے لیے حیدرآباد ، چیکو ، کیلا، پپیتہ ، کھٹے میوات اور آموں کے لیے شہید بینظیر آباد ، کھجور کے لیے ضلع خیرپورمیرس ، امرود کے لیے ضلع لاڑکانہ میں تحقیقات کا سلسلہ جاری و ساری ہے جس میں کاشتکاروں کو تمام فائدہ مند مشوروں کے ساتھ ساتھ پیداوار بڑھانے کی اقسام دی جاتی ہے . اس ادارے کے پرانے آموں کے اقسام میں سندھڑی، الماس ، چونسہ ، طوطہ پری، الفانسو، کلیکٹر، لنگڑا ، صالح بھائی، دسہری، سوارنیکا، بیگن پالی ،گلاب خاصہ ، سرولی ،نیلم ، زافران ، انور رٹول وغیرہ جو ملکی و بیرون ممالک میں بے حد مشہور ہیں .نئی اقسام میں اس ادارے کی جانب سے کاشتکاروں میں متعارف کروائے گئے ہیں جن میں جاگیردار ، مہران ، شہنشاہ انمول وغیرہ شامل ہیں .

    آموں کے فوائد .
    پکے ہوئے اور کچے آموں میں بہت سے وٹامن پائے جاتے ہیں ، وٹامن اے ، وٹامن سی ، وٹامن ای ، انسان کو دل کی بیماریوں ، کینسر ، شوگر جیسی بیماریوں سے محفوظ رکھتے ہیں. آموں میں 66فیصد تک کیلوریز ہوتے ہیں . ہمارے ملک پاکستان میں 110مختلف اقسام کے آم پیدا ہوتے ہیں ، زرعی ماہرین کا کہنا ہے کہ آموں کی برآمد کو بڑھانے کے لیے نئی مارکیٹوں تک رسائی کے ساتھ ساتھ آموں کی پروسیسنگ پر بھی خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے جس سے آموں کی برآمد میں بھی اضافہ ہو سکے گا ،، ہمارے ملک میں آموں کے باغات کی کاشت شدہ ایراضی ساڑھے چارلاکھ ایکڑ ہے جبکہ ملک میں سالانہ 18 لاکھ ٹن آموں کی پیداوار ہوتی ہے اسی طرح ایک اندازے کے مطابق ضلع میرپورخاص میں 30 ھزار ایکڑ پر 120000 ٹن آموں کی پیداوار ہے .

    ضلعی انتظامیہ میرپورخاص کی جانب سے ڈویزنل کمشنر میرپورخاص ڈویزن فیصل احمد عقیلی اور ڈپٹی کمشنر میرپورخاص سونو خان چانڈیو کی سربراہی میں میرپورخاص میں 31 مئی 2024 سے 2 جون 2024 تک سالانہ تین روزہ آموں کی نمائش کا انعقاد کیا جا رہا ہے جس میں کھیلوں اور ثقافتی پروگرام کا بھی انعقاد کیا جائے گا .نمائش کو کامیاب بنانے کے لیے سب کمیٹیاں بھی تشکیل دی گئی ہیں اس کے علاوہ نمائش میں چھوٹے چھوٹے زمینداروں کو اپنے آموں کے اسٹال لگانے کے لیے شرکت کی دعوت دی گئی ہے.

    میرپورخاص میں 56ویں سالانہ تین روزہ آموں کی نمائش کا باقاعدہ افتتاح 31 جون کو شہید بینظیر بھٹو ایگزہیبیشن ہال (فروٹ فارم) میں صوبائی وزیر زراعت کو شرکت کی دعوت دی گئی ہے اسی طرح دوسرے روز زرعی سیمینار اور سندھ کا روایتی کھیل ملاکھڑا کے مقابلے اور اختتامی تقریب میں شرکت کے لیے وزیر اعلی سندھ کو دعوت دی گئی ہے جہاں وہ نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے زمینداروں میں انعامات تقسیم کریں گے .

    آموں کی نمائش لگانے کا مقصد میرپورخاص کے آموں کو بین الاقوامی مارکیٹ تک رسائی کے لیے متعارف کروانے کے ساتھ ساتھ کاشتکاروں کو آپس میں میل جول کروانا ہے تاکہ آموں کی نئی اقسام کے متعلق آ گاہی اور بہتر طور پر دیکھ بھال کے متعلق آگاہی دینا ہے تاکہ عام آدمی نمائش میں رکھی آموں کے مختلف اقساموں کے متعلق معلومات حاصل کرتے ہیں بعد میں دوسرے دوست احباب کو تحفے کے طور بھیجتے ہیں ہر سال ٹیکنیکی سیشن زرعی سیمینار بھی منعقد کیا جاتا ہے تاکہ کاشتکاروں کو آموں کی نئی قسم ، پیداوار بڑھانے اور پیداوار کے نئے طریقوں کے متعلق آگاہی فراہم کرنا ہے . 56ویں آموں کی نمائش کے انعقاد کے لیے رئیس عارف خان بھرگڑی کو مینگو فیسٹیول مینجمنٹ کمیٹی کا چیئر مین جبکہ گوھرام بلوچ کو مینیجمنٹ کمیٹی کے چیئرمین کا کوآرڈینیٹر مقرر کیا گیا ہے اور امید کی جا رہی ہے کہ 56واں مینگو فیسٹیول میرپورخاص گذشتہ سالوں کے مقابلے میں منفرد اور بہتر طور پر منعقد کیا جائے گا .

  • دوست ممالک کی طرف سے سرمایہ کاری کے حصول کیلئے منصوبوں کی منظوری

    دوست ممالک کی طرف سے سرمایہ کاری کے حصول کیلئے منصوبوں کی منظوری

    اسلام آباد: وزیراعظم نے زراعت، حیوانات، معدنیات، کان کنی، آئی ٹی اور توانائی کے شعبوں میں دوست ممالک کی طرف سے سرمایہ کاری کے حصول کیلئے منصوبوں کی منظوری دے دی۔

    باغی ٹی وی: وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیش کونسل کا اجلاس ہوا، جس میں آرمی چیف جنرل عاصم منیر اور وفاقی وزرا بھی شریک تھے۔ ایپکس کمیٹی نے اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیش کونسل(SIFC) کے کام کاج اور سیمینارز اور پروجیکٹ کے افتتاح کے ذریعے ممکنہ سرمایہ کاروں تک رسائی کی حکمت عملی پر اطمینان کا اظہار کیا۔


    اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیش کونسل کے اجلاس میں وزراء کی جانب سے ایس آئی ایف سی کے تحت سرمایہ کاروں کے لئے تیار کردہ مختلف منصوبوں کا جائزہ لیا گیا اور مختلف شعبوں میں دوست ممالک کی طرف سے سرمایہ کاری کے حصول کے لئے منصوبوں کی منظوری دی گئی۔

    جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کے خلاف ریفرنس فیصلے پر دوبارہ نظر ثانی کیس کا فیصلہ جاری

    اجلاس کے اختتام پراتفاق رائے سے وزیراعظم نے زراعت، حیوانات، معدنیات، کان کنی، آئی ٹی اور توانائی کے شعبوں میں دوست ممالک کی طرف سے سرمایہ کاری کے حصول کے لئے منصوبوں کی منظوری دی وزیراعظم نے ہدایت کی کہ ان منصوبوں پر عمل درآمد اور انہیں عملی شکل دینے کے لئے دلچسپی دکھانے والے سرمایہ کاروں کو بھرپور سہولیات فراہم کی جائیں۔

    ایئرپورٹس کو آؤٹ سورس کرنے کا فیصلہ

  • محکمہ صحت لاہور کا کمال،سیمینار کے دوران فحش ویڈیو چل گئی

    محکمہ صحت لاہور کا کمال،سیمینار کے دوران فحش ویڈیو چل گئی

    ‏لاہور میں سیمینار کے دوران فحش ویڈیو چل گئی

    انسٹی ٹیوٹ آف پبلک ہیلتھ میں گلوبل نیو انیشٹوز ان ڈینگی اینڈ سچویشن ان پاکستان زوم سیمینار میں اچانک فحش ویڈیو چلنے لگی ، سیمینار میں بڑی تعداد میں خواتین شریک تھی انتظامیہ 2 منٹ تک فحش ویڈیو ہٹانے میں ناکام رہی، صوبائی وزیر صحت جاوید اکرم بھی سیمینار میں شریک تھے انکے جانے کے بعد ہی فحش ویڈیو چلنے لگ گئی، دو منٹ تک ویڈیو چلتی رہی ، انتظامیہ دو منٹ کے بعد ویڈیو ہٹانے کی کوشش میں کامیاب ہوئی،

    سیمینار میں فحش ویڈیو چلنے کے بعد افرا تفری مچ گئی، خواتین اٹھ کر باہر چلی گئیں،ویڈیو چلی تو سیمنار میں موجود تمام مردو خواتین نے شور مچایا کہ یہ کیا چلا دیا، جو خواتین باہر چلی گئی تھیں انکو منت سماجت کے بعد دوبارہ واپس لایا گیا اور فحش ویڈیو کا چلنا غلطی قرار دیا گیا،شرکا کا کہنا تھا کہ کسی میٹنگ یا سیمینار میں ایسا نہیں ہوا، یہاں کیوں غفلت برتی گئی، جس نے بھی یہ کام کیا اسکے خلاف کاروائی ہونی چاہئے،

    فحش ویڈیو چلنے پر محکمہ صحت نے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے اور ایف آئی اے سائبر کرائم کو کاروائی کا بھی کہہ دیا ہے،

    ایم بی اے کی طالبہ کو ہراساں کرنا ساتھی طالب علم کو مہنگا پڑ گیا

    تعلیمی ادارے میں ہوا شرمناک کام،68 طالبات کے اتروا دیئے گئے کپڑے

    فحاشی کے اڈے پر چھاپہ، پولیس کو ملیں صرف خواتین ،پولیس نے کیا کام سرانجام دیا؟

    جادو سیکھنے کے چکر میں بھائی کے بعد ملزم نے کس کو قتل کروا دیا؟

    پولیس کا ریسٹورنٹ پر چھاپہ، 30 سے زائد نوجوان لڑکے لڑکیاں گرفتار

    واٹس ایپ پر محبوبہ کی ناراضگی،نوجوان نے کیا قدم اٹھا لیا؟

    غیرت کے نام پر سنگدل باپ نے 15 سالہ بیٹی کو قتل کر دیا

    جنسی طور پر ہراساں کرنے پر طالبہ نے دس سال بعد ٹیچر کو گرفتار کروا دیا

    غیر ملکی خاتون کے سامنے 21 سالہ نوجوان نے پینٹ اتاری اور……خاتون نے کیا قدم اٹھایا؟

  • چترال :گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج میں معیاری تحقیق پر ایک روزہ سیمینار

    چترال :گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج میں معیاری تحقیق پر ایک روزہ سیمینار

    چترال(گل حماد فاروقی)ڈسٹرکٹ یوتھ آفس (محکمہ امور نوجوانان چترال) نے ضلعی انتظامیہ کے اشتراک سے گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج برائے خواتین دنین چترال میں معیاری تحقیق یعنی کوالٹی ریسرچ پر ایک روزہ سیمینار کا اہمتام کیا۔اس موقع پر ڈسٹرکٹ یوتھ آفیسر جبار غنی مہمان خصوصی تھے جبکہ کالج کی پرنسپل اور اسسٹنٹ کمشنر چترال ڈاکٹر محمد عاطف جالب اور ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر ڈاکٹر عدنان حیدر ملوکی نے اس موضوع پر لیکچر دئے۔ کوالٹی ریسرچ سیشن میں شریک کالج کے طالبات کو معیاری تحقیق پر دوررس معلومات فراہم کی گئیں۔ اس سیشن کا بنیادی مقصد تحقیق اور تحقیق میں شامل اقدامات کے بارے میں طالبات کو آگاہی دینا تھا تاکہ وہ بہتر تحقیق کیلئے کونسے اقدامات اٹھائیں۔

    کوالٹی ریسرچ کے سیشن سے اظہار خیال کرتے ہوئے اے سی چترال ڈاکٹر محمد عاطف جالب نے کہا کہ آج کا دور انفارمیشن ٹیکنالوجی کا دور ہے اور اس میں مفروضوں یا دقیانوس طریقوں پر تجزیہ نہیں کیاجاسکتا بلکہ آج کا دور مقابلے کا دور بھی ہے اور اس میں جو بندہ زیادہ معیاری تحقیق کرکے کوئی بھی تجزیہ پیش کرے وہ قابل قبول ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ طلباء و طالبات ہمارا روشن مستقبل ہیں اور ہمیں ان سے بہت ساری امیدیں وابستہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی موضوع پر تحقیق اور پھر معیاری تحقیق کرنے کیلئے بہت پھاپڑ بیلنا پڑتے ہیں مگر محنت کا صلہ ضرور ملتا ہے۔انہوں نے کہا کہ جو طالب علم خوب محنت کرکے اچھی تحقیق کرے اور اس کے بعد کسی نتیجے پر پہنچے تو اسے کامیابی ضرور ملے گی۔

    ڈاکٹر عدنان حیدر ملوکی نے کہا کہ اب وہ زمانہ گیا کہ لوگ سنی سنائی باتوں پر یقین کرتے تھے آج کا دور تحقیق کا دور ہے اور جو بھی اپنی تحقیق میں متعلقہ مواد اکھٹا کرے گا یا اس تحقیق سے متعلقہ موضوعات، دستاویزات، مقالہ جات یا متعلقہ مواد پر کام کرے گا وہ ایک کامیاب اور معیاری تحقیق ثابت ہوگی۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے طالبات سے کہا کہ ایک عام ریسرچ اور کوالٹی ریسرچ میں فرق یہ ہوتا ہے کہ کوالٹی ریسرچ پر یر ادارہ یا ہر فورم یقین کرے گا اور وہ ہر فورم پر قابل قبول ہوتا ہے مگر عام ریسرچ میں جو زیادہ باریک بینی نہیں کی گئی ہو وہ زیادہ قابل قبول نہیں ہوسکتا۔انہوں نے غیر ملکی محقیقن کا مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہ لوگ ایک معیاری تحقیق پر بعض اوقات کئی کئی مہینے بھی لگاتے ہیں اور تمام مراحل سے گزر کر پھر کسی نتیجے پر پہنچ پاتے ہیں اسی لئے ان کی ریسرچ اتھنٹک یعنی صحیح ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے ہمارے ملک میں کوانٹیٹی یعنی مقدار کے لحاظ سے تعلیم کا شرح تو زیادہ ہے مگر کوالٹی ایجوکیشن یعنی معیاری تعلیم کا شرح بہت کم ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم تحقیق نہیں کرتے۔انہوں نے امتحان کے بارے میں وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ بعض طلباء امتحان میں تو اچھے نمبر لیتے ہیں مگر وہ آگے جاکر ٹیسٹ میں فیل ہوجاتے ہیں اسلئے کہ وہ تحقیق کی بجائے رٹہ لگانے یا خانہ پری کرتے ہیں۔اس سیمینار سے محققین نے کوالٹی ریسرچ، اس کے طریقہ کار، مواد کے حصول اور اس میں کامیابی پر مختلف زاویوں سے بات کرکے طالبات کو نہایت مفید معلومات اور گائڈ لائن فراہم کیں۔

    آخر میں گرلز ڈگری کالج کی پرنسپل نے ڈسٹرکٹ یوتھ آفیسر، ضلعی انتظامیہ اور سہولت کاروں کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے اتنے اہم موضوع پر اس کالج میں اس سیشن کا اہتمام کیا جس سے بجا ء طور پر اس کالج کی طالبات کو تحقیق کے راہ میں بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا۔ کوالٹی ریسرچ کے اس سیشن میں ڈگری کالج کی 120 طالبات نے حصہ لیا۔

     

  • ون پاکستان فورم کے زیر اہتمام سیمینار،کرینگے مفتاح،عباسی و دیگر خطاب

    ون پاکستان فورم کے زیر اہتمام سیمینار،کرینگے مفتاح،عباسی و دیگر خطاب

    ون پاکستان فورم کے زیر اہتمام پاکستان کی موجودہ معاشی و سیاسی صورتحال پر سیمنیار شہر قائد کراچی میں ہو گا

    سیمینار سے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، مفتاح اسماعیل، مصطفیٰ نواز کھوکھر سمیت دیگر خطاب کریں گے،سیمنیار کا آغاز ساڑھے بارہ بجے ہو گا جبکہ شام چھ بجے آخری خطاب ہو گا، سیمینار حبیب یونیورسٹی گلستان جوہر میں منعقد کیا جائے گا، سیمنیار میں پاکستان کی سیاسی و معاشی صورتحال پر ماہرین خطاب کریں گے، سیمینار میں واصف رضوی ابتدائی خطاب کریں گے جبکہ مفتاح اسماعیل،اکبر زیدی،اقدس افضل، خدیجہ باری،عادل منصور، خرم حسین خطاب کریں گے، بلوچستان کے مسائل پر میر ہمایوں کرد خطاب کریں گے،حاجی لشکری رئیسانی،خواجہ محمد ہوتی بھی سیمینار سے خطاب کریں گے

    سیمینار سے مصطفیٰ نواز کھوکھر، شاہد خاقان عباسی،فیصل سبزواری، فیصل صدیقی،ماہم مہر، ظفر مرزا،صلاح الدین احمد، فواد حسن فواد،بھی خطاب کریں گے، سیمینار میں شرکت کرنیوالوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ شناختی کارڈ ہمراہ لائیں اور بروقت حاضری یقینی بنائیں

    ویڈیو آ نہیں رہی، ویڈیو آ چکی ہے،کپتان کا حجرہ، مرشد کی خوشگوار گھڑیاں

    عمران خان کی محبت بھری شاموں کا احوال، سب پھڑے جان گے، گالی بریگیڈ پریشان

    عمران خان پرلاٹھیوں کی برسات، حالت پتلی، لیک ویڈیو، خواجہ سرا کے ساتھ

  • لاہورمیں انسداد ڈینگی ڈے،ریلیاں،آگاہی سیمیناراور واک کا اہتمام

    لاہورمیں انسداد ڈینگی ڈے،ریلیاں،آگاہی سیمیناراور واک کا اہتمام

    لاہور بھر میں انسداد ڈینگی ڈے منایاجارہاہے، شہر بھر میں ڈینگی سے آگاہی کیلئے واک اور مختلف سیمینار منعقد کئے گئے.صوبائی وزیرخواجہ سلمان رفیق کی قیادت میں ڈی جی ہیلتھ سروسزکے دفترمیں انسدادای ڈینگی واک کا اہتمام کیا گیا.خواجہ سلمان رفیق نے شاہراہ پر شہریوں میں ماسک بھی تقسیم کئے۔

    انسداد ڈینگی واک میں ڈی جی ہیلتھ سروسزڈاکٹرہارون جہانگیر،ڈاکٹریونس،ڈاکٹرشاہدحسین مگسی،ڈاکٹرمختاراعوان اور ڈی جی ہیلتھ دفترکے تمام افسران وملازمین نے شرکت کی،افسران نے اپنے ہاتھوں میں انسدادی ڈینگی سے متعلقہ پلے کارڈزاٹھارکھے تھے۔

    صوبائی وزیرخواجہ سلمان رفیق نے شارہ پرشہریوں کو خودماسک پہنائے۔اس موقع پر صوبائی وزیر خواجہ سلمان رفیق نے کہا کہ وزیراعلی پنجاب حمزہ شہبازکی ہدایت کے مطابق آج سارے صوبہ میں انسدادی ڈینگی ڈے منایاجارہاہے۔ پنجاب کے تمام سرکاری ہسپتالوں اور محکمہ صحت کے دفاترمیں آگاہی سیمینارزاور واکس کا اہتمام کیاجارہاہے۔ انسدادی ڈینگی ڈے منانے کا بنیادی مقصدعوام میں ڈینگی سے بچاؤ کے سلسلہ میں آگاہی پھیلاناہے۔ وزیراعلی پنجاب حمزہ شہباز کی ہدایت پر تمام صوبائی سیکرٹریزاپنے محکمہ جات میں صفائی ستھرائی کا خاص خیال رکھ رہے ہیں۔

    خواجہ سلمان رفیق نے کہا کہ بطورشہری اپنے گھروں کوصاف ستھرارکھناہماری بھی بنیادی ذمہ داری ہے۔ شہبازشریف کی قیادت میں ماضی میں پنجاب میں ڈینگی پر مکمل قابوپایاتھا۔پنجاب کے تمام محکمہ جات ڈینگی پرقابوپانے کیلئے اس وقت محنت کررہے ہیں۔ آگاہی سیمینارزاورواکس کے ذریعے عوام میں ڈینگی سے متعلق آگاہی پھیلانے کی کوشش کررہے ہیں۔ عوام میں ڈینگی سے متعلق آگاہی پھیلانے میں میڈیاانتہائی اہم کرداراداکررہاہے۔ شہری اپنے گھروں میں پانی بالکل جمع نہ ہونے دیں۔ شہریوں کوبرسات کے موسم میں ڈینگی سے بچاؤکیلئے زیادہ محتاط کرنی ہوگی۔

    خواجہ سلمان رفیق کا کہنا تھا کہ پنجاب میں اٹھاسی فیصدسے زائد شہری ویکسی نیٹڈ ہیں۔ ملک میں کوروناکے کیسزمیں بھی تیزی سے اضافہ ہورہاہے۔ ہمیں ڈینگی کے ساتھ ساتھ کوروناسے بچاؤکیلئے بھی احتیاطی تدابیرپرسختی سے عملدرآمدکرواناہے۔ نان ویکسینیٹڈ افرادفوری طورپرکوروناسے بچاؤکیلئے ویکسینیٹڈہوجائیں۔عوام سے اپنے گھروں میں صفائی ستھرائی رکھ کرحکومت سے مکمل تعاون کرنے کی اپیل کرتے ہیں۔ ڈینگی کی انسدادی سرگرمیوں میں کوتاہی برتنے والے افسران کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

    میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ سلمان رفیق نے کہا کہ انشاء اللہ حمزہ شہبازہی جیتیں گے۔ الحمداللہ حمزہ شہبازکو واضح عددی برتری حاصل ہے۔ این سی اوسی کی ہدایات کے مطابق پنجاب میں ایس اوپیزپرمکمل عملدرآمدکروارہے ہیں۔ پنجاب میں پیناڈول گولیوں کی کوئی قلت نہیں ہے۔

    کمشنر لاہور کیپٹن ر محمد عثمان نے بتایا کہ لاہور سمیت پوری ڈویژن میں انسداد ڈینگی آگاہی سیمینارز،واکس کا انعقاد جاری ہے۔تمام متعلقہ ادارے منظم کام کریں۔کسی ایک کی کوتاہی ساری محنت کو ضائع کرسکتی ہے۔ جاری ڈینگی سرویلنس میں لاروا مل رہا ہے۔ڈینگی ٹیموں و ذمہ دار شہریوں کو ان تھک کام کرنا ہوگا،انسداد ڈینگی ٹیموں۔ہیلتھ افسران کیلئے معمولی سی غفلت کی بھی گنجائش نہیں۔ڈینگی کے خلاف جنگ شہریوں اور تمام طبقہ ہائے فکر کے تعاون کے بغیر نہیں جیتی جاسکتی۔تمام ڈی سیز آج آگاہی سیمینارز اور واکس کی خود قیادت کررہے ہیں۔ہم نے ملکر انسداد ڈینگی کیلئے کام کرنا ہے۔یہ قومی فریضہ اور ہر فرد کا اخلاقی فرض ہے۔لاہور میں ہر انسداد ڈینگی ورکر تربیت یافتہ ہے۔حکومت مکمل وسائل فراہم کررہی ہے۔بارش کے موسم میں انسداد ڈینگی ٹیموں اور شہریوں کو انتہائی حفاظتی تدابیر پر عمل کرنا ہوگا۔

    سیکرٹری معدنیات پنجاب محمد علی عامر کی زیر قیادت بھی ڈینگی آگاہی واک کا انعقاد کیا گیا، ایڈیشنل سیکرٹری سارہ رشید، ڈپٹی سیکرٹری عاتکہ عمار اور دیگرنے شرکت کی،سیکرٹری معدنیات نے دفترکے اطراف صفاٸی کا بھی جاٸزہ لیا،سیکرٹری معدنیات نے بارشوں کے دوران پانی کھڑا نہ ہونے پر بھی زور دیا،ان کا کہنا تھا کہ ڈینگی سے بچاٶ کا واحد حل ماحول کو صاف رکھنا اور پانی کو جمع ہونے سے روکنا ہے۔ کھڑا پانی ڈینگی مچھر کی افزاٸش کا باعث بن سکتا ہے۔ احتیاطی تدابیر کے زریعے ڈینگی کا پھیلاٶ روکنا ہماری قومی ذمہ داری ہے۔ افسران نے ڈینگی آگاہی واک اور سیمینار ز کا انعقاد کیا ۔ ڈینگی سے بچاؤ کے لیے شہریوں میں پمفلٹ تقسیم کیے گئے ۔

    ایم سی ایل کے ٹاونز کے زیراہتمام بھی ریلیاں نکالی گئیں، جن کی قیادت متعلقہ اے سیز اور ٹی ایم اوز نےکی۔انسداد ڈینگی آگاہی ریلیوں میں افسران۔ڈینگی ٹیموں اور شہریوں نے شرکت کی۔انسداد ڈینگی ریلی شرکاء نے ڈینگی حفاظتی تدابیر پر مشتمل پمفلٹس بھی تقسیم کیے

    ڈائریکٹر جنرل اوقاف پنجاب ڈاکٹر طاہر رضا بخاری کی سربراہی میں ڈینگی ڈے کے حوالے سے ایوان ِ اوقاف لاہور میں آگاہی واک کا انعقاد ہوا۔ آگاہی واک ایوان ِ اوقاف سے شروع ہو کر جی پی او چوک پر اختتام پذیر ہوئی۔مفتی محمد رمضان سیالوی، مولانا فتح محمد راشدی، مولانا احمد رضا سیالوی،مفتی محمد عمران حنفی،مولانا شفیق احمد،مولانا مسعود احمد،محمد یوسف،آصف اعجاز، غلام عباس، شیخ قیوم، طاہر احمد، شیخ محمدجمیل و ملازمین کی کثئر تعداد میں شرکت کی۔

    اس موقع پرسیمینار کا انعقاد بھی ہوا۔سمینارسے ڈی جی اوقاف طاہر رضا بخاری و دیگر علماء کرام نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ اوقاف و مذہبی امور نے پنجاب بھر کی مساجد میں ” ڈینگی آگاہی مہم” کے سلسلے میں مختلف تقریبات اور کانفرنسز کا اہتمام کیا ہوا ہے۔ڈینگی کے تدارک کے لیے حکومت مستعداور محراب و منبر سرگرمِ عمل ہیں۔اس موذی مرض سے بچاؤ کے سلسلے میں عوام میں شعور بیدار کرنا ہے۔علماء دفاع ِ وطن کے تقاضوں سے آگاہ اور استحکام پاکستان کے حوالے سے اپنا کردار اداکرتے رہیں گے۔وبائی امراض سے چھٹکارے کے لیے تعلیماتِ نبوی ﷺ سے استفادہ ضروری ہے۔ اسوہئ رسول ﷺ اور قرآنی افکار کی روشنی میں، اِس صورتحال سے نپٹنے کی بابت ہدایات عطا کیں۔ آخر میں اس موذی وبا سے بچنے کے لئے دعابھی کی گئی۔

    محکمہ جنگلات کی جانب سے بھی ڈینگی ڈے کے حوالے سے آگاہی واک کا انعقاد کیا گیا ،آگاہی واک فاریسٹ سیکرٹریٹ سے پنجاب اسمبلی تک کی گئی۔ واک کی قیادت چیف کنزرویٹر فاریسٹ شاہد رشید اعوان نے کی۔ واک میں محکمہ جنگلات کے سینئر افسران و ملازمین نے شرکت کی.واک کے شرکاء نے راہگیروں کو بھی ڈینگی تدارک حوالے سے آگاہی دی،راہگیروں میں ڈینگی سے آگاہی بارے پمفلٹ بھی تقسیم کئے گئے۔

    محکمہ ایکسائز ,ٹیکسیشن و نارکوٹکس کنٹرول پنجاب کے زیر اہتمام ڈینگی آگاہی واک اور سیمینار کا اہتمام کیا گیا.واک کی قیادت سیکرٹری ایکسائز,ٹیکسیشن و نارکوٹکس کنٹرول صائمہ سعید اور ڈی جی ایکسائز رفاقت علی نے کی،واک میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی،شرکاء نے ڈینگی آگاہی کے حوالے سے پوسٹرز, بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے،جن پر ڈینگی سے بچاؤ اور احتیاطی تدابیر کے حوالے سے معلومات درج تھیں.

    اس موقع پرصائمہ سعید ,سیکرٹری ایکسائز ,ٹیکسیشن و نارکوٹکس کنٹرول نے کہا کہ پنجاب حکومت ڈینگی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کیلئے پر عزم ہے،بہترین شعور اور آگاہی سے ہم ڈینگی کو شکست فاش دے سکتے ہیں،ڈینگی کی روک تھام کیلئے بہترین انتظامات کیے گئے ہیں ،ڈینگی آگاہی کیلئے محکمہ ایکسائز پنجاب بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہا ہے،آج کی واک اور سیمینار ڈینگی آگاہی مہم سلسلے کی کڑی ہے ،ڈینگی سے بچاؤ ہمارے ہاتھ میں ہے ,اس کیلئے ضروری ہے ماحول کو صاف ستھرا رکھا جائےرفاقت علی ڈی جی ایکسائز نے کہا کہ ڈینگی سے بچاؤ کیلئے ضروری ہے کہ زیادہ سے زیادہ احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں،گھر اور ماحول کو صاف ستھرا رکھ کر ہم ڈینگی پر قابو پا سکتے ہیں.

  • سینیٹرز ولید اقبال، اعظم سواتی، اعجاز چوہدری اور ڈاکٹر یاسمین راشد کے کیسز: رپورٹ طلب

    سینیٹرز ولید اقبال، اعظم سواتی، اعجاز چوہدری اور ڈاکٹر یاسمین راشد کے کیسز: رپورٹ طلب

    اسلام آباد: ایوان بالاء کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر محسن عزیز کی زیرصدارت پارلیمنٹ ہاوُس میں منعقد ہوا-قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں پی ٹی آئی کے حقیقی آزادی مارچ کے دوران امن امان قائم کرنے والی ایجنسیوں اور انتظامیہ کی جانب سے لانگ مارچ شرکاء پر آنسو گیس، کیمیکل گیس کی شیلنگ اور پی ٹی آئی لیڈر شپ پر پولیس کی کریک ڈاؤن سمیت پی ٹی آئی رہنماؤں اور عام عوام پر ایف آئی آر کا اندراج، غیر قانونی پکڑ دھکڑ، چادر اور چار دیواری کے تقدس کی پامالی کے معاملات کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔

    چیئرمین کمیٹی سینیٹر محسن عزیز نے کہا کہ قائمہ کمیٹی نے گزشتہ اجلاس میں بھی حقیقی آزادی مارچ کے شرکاء پر بے تحاشہ شیلنگ اور رکاؤٹوں کے معاملات کا تفصیل سے جائزہ لیا تھا۔ متعدد سینیٹرز نے کمیٹی اجلاس میں شرکت کر کے نا صرف روداد بیان کی تھی بلکہ ویڈیو لنک کے ذریعے بھی مسائل بارے آگاہ کیا تھا۔ قائمہ کمیٹی حالات واقعات کا تفصیلی جائزہ لینے کیلئے چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی کی اجازت سے تمام صوبوں کا دورہ کر کے حتمی رپورٹ تیار کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ قائمہ کمیٹی کے حوالے سے ٹویٹ اور سوشل میڈیا پر ریٹائرڈ آرمی افسران کی کینیڈا میں شہریت کے حوالے سے غلط خبریں گردش کر رہی ہیں جن کا اس کمیٹی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔کمیٹی یہ معاملہ نہ ہی کبھی زیر بحث لایا گیا ہے اور نہ ہی اس حوالے سے کوئی رپورٹ بنائی گئی ہے۔

    ویڈیو لنک کے ذریعے سابق صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد نے تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ25ماڑچ کو لاہور سے ا حتجاج کے لئے نکلی تھی تو میری گاڑی پر ڈنڈے برسائے گئے ہمیں زدوکوب کیا گیا ہمیں گرفتار کر کے تھانہ لے جایا گیا ابھی تک ہماری ایف آئی آر درج نہیں کی گئی۔انہوں نے کہا کہ احتجاج میں شرکاء کی گاڑیوں کو بھی توڑا پھوڑا گیا۔ سنیٹر ولید اقبال نے بتایا کہ جیو فینسنگ کے ذریعہ سے ایک لسٹ بھی شیئر ہوئی جس میں میرا نام تھا۔رات کے بارہ بجے مجھے لاہور گھر سے فون آیا کہ پولیس کی ایک نفری نے ہمارے گھر پر دھاوا بول دیا ہے اور پولیس وین کے ذریعے ہمارے گیٹ کو توڑا گیا۔ میں اپنے والدین کے گھر رہتا ہوں میرے گھر کے گیٹ پر میرے والد اور والدہ کا نام بھی لکھا ہے۔ اہلکار دیوار پھلانگ کر گھر داخل ہو ئے۔ میرے بارے پوچھا گیا کہ ولید اقبال کدھر ہے پھر کک کے ذریعہ دروازے پیٹے گئے۔ دو دن بعد ڈی آئی جی صاحب سے ہمارے گھر آئے اور آئی جی پنجاب کی جانب سے معذرت کی۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کو واضح معلوم تھا کہ میں اسلام آباد میں ہوں پھر بھی میرے گھر والوں کو شدید حراساں کی گیا۔ جس پر چیئرمین و اراکین کمیٹی نے کہا کہ شاعر مشرق کے بیٹے کے گھر پر اسطرح دھاوا بولنا انتہائی شرم ناک ہے۔قائد حزب اختلاف سینیٹ سینیٹر ڈاکٹر شہزاد وسیم نے کہا کہ حقیقی آزادی مارچ کے شرکاء کے حوالے سے جو واقعات ہوئے ہیں اُن کے دو پہلو ہیں۔ اُن پر نہ صرف بے تحاشہ شیلنگ، رکاوٹیں اور مسائل پیدا کئے گئے بلکہ انہیں کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئیں اور کچھ کے خلاف دہشت گردی کی دفعات بھی لگائی گئیں ہیں۔ ان کو علیحدہ علیحدہ دیکھنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی پارلیمنٹرین کو سخت حراساں کی گیا۔

    سینیٹر اعجاز چوہدری نے ویڈیو لنک کے ذریعے کمیٹی کو بتایا کہ انہیں پولیس نے گرفتار کیا اور مختلف تھانوں میں رکھا اور کسٹڈی کے دوران اُن پر ایف آئی آر درج کی گئیں۔میرے فون کی لوکیشن موجود ہے میرے گھر کو توڑا گیا اور میرے اُوپر دہشت گردی کی دفعات لگائی گئیں۔ چیئرمین کمیٹی سینیٹر محسن عزیز نے کہا کہ سینیٹرز ولید اقبال، اعظم سواتی، اعجاز چوہدری اور ڈاکٹر یاسمین راشد کے کیسز کے حوالے سے متعلقہ ادارے 15دن کے اندر رپورٹ تیار کر کے کمیٹی کو فراہم کریں۔ اراکین کمیٹی نے کہا کہ ویڈیو لنک کے ذریعے کمیٹی کا اجلاس کرنے کا مقصد پورا نہیں ہوتا۔ آئندہ اجلاس میں متعلقہ ادارے اور متاثرین شرکت کر کے معاملات کا جائزہ لیں۔ جس پر چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ آئندہ اجلاس میں صوبہ پنجاب کے حوالے سے ان معاملات کا تفصیل سے جائزہ لیا جائے گا اور متعلقہ اداروں سے جو تفصیلات اور رپورٹس طلب کی گئیں ہیں وہ بروقت فراہم کی جائیں۔

    سوشل میڈیا سے تعلق رکھنے والے عمران ریاض نے کمیٹی کو بتایا کہ پنجاب پولیس نے ایک ڈاکو کو اُن کے گھر کے قریب لا کر جعلی مقابلے میں ہلاک کر دیا اور اس کے گھر کے پاس فائرنگ بھی کرتے رہے۔میں نے خود پولیس سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ پولیس مقابلہ ہوا ہے جس میں ایک ڈاکو ہلاک ہوا ہے اورڈاکو موٹر سائیکل پر آئے تھے رات تین بجے کا وقت تھا اُس ڈاکو کا زمین پر پڑا خون گرم جبکہ اُس موٹر سائیکل کا سائلنسر بلکل ٹھنڈا تھا اس جعلی مقابلے کی انکوائری ہونی چاہئے۔ مجھے اور میرے گھر والوں کو حراساں کیا جا رہا ہے مجھے کہا جا رہا ہے کہ لاہور سے شفٹ ہو جائیں۔انہوں نے کہا کہ میرے گھر کے آس پاس پانچ پولیس ناکے لگا کر مجھ سے ملنے آنے والوں کو شدید تنگ کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مختلف صحافیوں پر دو درجن کے قریب ایف آئی آرز درج کی گئیں ہیں جن میں سیکشن 505لگائی گئی ہے جو وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی اجازت کے بغیر نہیں لگائی جا سکتی اور اُن علاقوں سے بھی ایف آئی آر درج کی گئیں ہیں جہاں انٹرنیٹ کا نام و نشان بھی نہیں ہے۔ سینیٹر رانا مقبول احمدنے کہا کہ جعلی مقابلے اور عمران ریاض کو حراساں کرنے کے معاملے کی انکوائری ہونی چاہئے۔ جو پولیس اہلکار ملوث ہیں انکے خلاف کاروائی ہونی چاہیے۔سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ کچھ معروف صحافیوں کو جان بوجھ کر ٹارگٹ کیا جا رہا ہے اُن کو کام سے روکنے کیلئے ایسے ہتھ کنڈے استعمال کئے جا رہے ہیں جس کی ہم بھر پور مذمت کرتے ہیں۔

    صوبائی ممبرا سمبلی حلیم عادل نے کہا کہ آزدی مارچ کرنا ہر ایک کاآئینی حق ہے مگر آزادی مارچ کرنے والے پارلیمنٹرین اور عوام پر دہشت گردی کی دفعات لگانا انتہائی افسوسناک ہے پولیس کی ستم ظریفی سے کوئی بھی محفوظ نہیں رہا میں ایک ٹی وی پروگرام میں تھا اُس وقت بھی میرے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی۔ سینیٹر ثمینہ ممتاز نے کہا کہ کراچی یونیورسٹی کے طلبعلم جو صوبہ بلوچستان سے تعلق رکھتے ہیں اُن کے اغوا پر اہل خانہ نے احتجاج کیا تو خواتین کے ساتھ انتہائی نا مناسب سلو ک کیا گیا۔ قائمہ کمیٹی نے معاملے کی رپورٹ متعلقہ حکام سے طلب کر لی۔ قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ سندھ میں آزادی مارچ کے حوالے سے 225ایف آئی آر درج ہوئی اور چار سے پانچ ایف آئی آر میں دہشت گردی کی دفعات لگائی گئی ہیں اور زیادہ تر پکڑے گئے لوگوں کو آزاد کر دیا گیا تھا۔ اے آئی جی سندھ نے کہا کہ جو بچے اغوا ہوئے تھے اُن کے لواحقین نے سی ایم ہاؤس اور عدالت کی طرف احتجاج کرنے کی دھمکی دی تو پولیس نے اعلیٰ حکام کو بتائے بغیر ایکشن لیا اُن کے خلاف انکوائری چل رہی ہے۔ سندھ ہوم ڈپارٹمنٹ سے بھی انکوائری ہو رہی ہے۔

    پی ٹی آئی رہنما صداقت عباسی نے کمیٹی کو بتایا کہ اسلام آباد میں جتنا نقصان ہوا پولیس کے ایکشن کے ری ایکشن میں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ جب عدالت نے اجازت دے دی تھی تو پولیس نے کس کے حکم سے عوام پر آنسو گیس کی بارش کی۔ پارلیمنٹرین پر لاٹھی چارج کیا گیا۔پولیس نے قانون سے بالا تر ہو کر کام کیا اس کی انکوائری ہونی چاہئے۔ سینیٹر فلک ناز چترالی نے کہا کہ 25 مئی کو اسلام آباد مقبوضہ کشمیر کا منظر پیش کر رہا تھا۔ وہ پولیس کی آنسو گیس سے میں بے ہوش گئی تھی۔میرا دس سال کا بچہ گھر پر اکیلا تھا مگر مجھے پارلیمنٹ جانے کی اجازت نہیں دی گئی ساری رات سڑک پر گزاری۔ میرا بچہ ٹراما میں ہے ابھی تک وہ نارمل نہیں ہوا۔ اسلام آباد پولیس نے بہت زیادہ شیلنگ کی تھی اور خود درختوں کو آگ لگائی جس کی ویڈیوز موجود ہیں۔ سینیٹر سیمی ازدی نے کہا کہ آگ لگانے والے بندے کو ہمارے لوگوں نے پکڑا بھی تھا جو پٹرول چھڑک کر آگ لگا رہا تھا۔ آر پی او روالپنڈی نے بتایا پنڈی ریجن میں کوئی پبلک پراپرٹی کا نقصان نہیں ہوا اورجن لوگوں کوپکڑا گیا تھا انہیں چھوڑ دیا گیا۔آئی جی اسلام آباد نے کہا کہ ہم سب کو قانون کے مطابق کام کرنا چاہئے آزادی مارچ کے حوالے سے معاملہ عدالت میں ہے اور جن لوگوں نے قانون کے خلاف کام کیا ہے اُن کے خلاف شفاف انکوائری کرائی جائے گی۔
    سینیٹر فوزیہ ارشد نے کہا کہ گزشتہ کئی ماہ سے ڈی چوک اور نادرا چوک اسلام آباد کو بلا جواز بند کر کے سرکاری ملازمین اور عام عوام کی مشکلات میں اضافہ کر دیا گیا ہے عوام کو ریلیف دینا چاہئے سیکورٹی کی وجہ بتا کر آئے دن سڑکیں بلاک کرنا مناسب نہیں۔ قائمہ کمیٹی نے فوری طور پر ڈی چوک اور نادرا چوک کو کھولنے کی ہدایت کر دی۔ سینیٹر فوزیہ ارشد نے کہا کہ ملک میں جو مہنگائی کا طوفان آیا ہے اس کی بدولت پورے ملک اور خاص طور پر وفاقی دارلحکومت اسلام آباد میں چوری ڈکیتی کے واقعات میں ہوش ربا اضافہ ہو چکا ہے۔ اسلام آباد پولیس مختلف علاقوں میں نہ صرف اپنی نفری میں اضافہ کرے بلکہ پولیس گشت میں بھی اضافہ کر کے ان مسائل کے تدارک کرے۔

    قائمہ کمیٹی کے آج کے اجلاس میں قائد حز ب اختلاف سینیٹ سینیٹر ڈاکٹر شہزاد وسیم، سینیٹرز ثمنیہ ممتاز زہری، رانا مقبول احمد، شہادت اعوان، فوزیہ ارشد، سرفراز احمد بگٹی، دلاور خان، شبلی فراز، ولید اقبال، فلک ناز، سیمی ازدی کے علاوہ اسپیشل سیکرٹری داخلہ، اسپیشل سیکرٹری ہوم سندھ، اسپیشل سیکرٹری ہوم پنجاب، ڈی سی اسلام آباد، آر پی او راولپنڈی، ایڈیشنل آئی جی کراچی، ایڈیشنل کمشنر اسلام آباد اور آن لائن پر سابق صوبائی وزیر ڈاکٹر یاسمین راشد، صوبائی ممبر اسمبلی حلیم عادل، ایس پی لاہور، اے آئی جی میر پور اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ *

    "معیشت کی حالت اور سالانہ بجٹ” کے موضوع پر سینیٹ اراکین کا سیمینار،اطلاعات کے مطابق سینیٹ آف پاکستان اور یورپی یونین کے فنڈڈ پروجیکٹ "مستحکم پاکستان” نے مشترکہ طور پر "معیشت کی حالت اور سالانہ بجٹ” کے موضوع پر سینیٹ کے اراکین کے لیے ایک سیمینار آج پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد کیا۔ مالیاتی اور اقتصادی ماہرین نے سینیٹرز کو این ایف سی کے تحت وسائل کی تقسیم، قرضوں کے انتظام کے مسائل اور رکاوٹوں، پاکستان کی معیشت کو درپیش اہم اقتصادی چیلنجوں، وفاقی بجٹ میں آئینی شقوں اور مالیاتی نگرانی کے حوالے سے پالیسی سفارشات کے بارے میں بریفنگ دی۔

    سینیٹرز نے پاکستان کی مجموعی اقتصادی صورتحال اور مالیاتی بحران پر قابو پانے کے لیے بجٹ تجاویز کے متعلق اپنے سوالات پیش کیے۔ ڈپٹی چیئرمین سینیٹ مرزا محمد آفریدی نے سیمینار کو انتہائی اہم سرگرمی قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ مالیاتی حالات اور قرضوں کی صورتحال پر قابو پانے کے لیے طویل المدتی منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔

    مرزا محمد آفریدی نے کہا کہ "ہمیں چھوٹے کاروباروں کو سپورٹ کرنا چاہیے۔ میکرو اور مائیکرو اکنامک عوامل کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ ہمیں سوچنے کی ضرورت ہے کہ قوم کی تعمیر کیسے کی جائے۔ سینیٹ کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا”.

    سیمینار میں سینیٹرز، ہدایت اللہ خان، دوست محمد خان، دنیش کمار، عمر فاروق، ولید اقبال، افنان اللہ خان، سید صابر شاہ، بہرامند خان تنگی، محمد عبدالقادر، فدا محمد، سیکرٹری سینیٹ، قاسم صمد خان اور ایگزیکٹو ڈائریکٹر PIPS نے شرکت کی۔

  • عمران خان پانی کی بوتل ضائع نہیں ہونے دیتا،  وہ کرپش کیسے کریگا۔ ارشد شریف

    عمران خان پانی کی بوتل ضائع نہیں ہونے دیتا، وہ کرپش کیسے کریگا۔ ارشد شریف

    اسلام آباد میں منعقدہ تحریک انصاف کی ایک تقریب سے گفتگو کرتے ہوئے اینکرپرسن ارشد شریف نے کہا کہ: عمران خان کے خلاف بڑی کوشش کی گئی کہ کرپشن کیسز نکالے جائیں مگر ابھی تک موجودہ حکومت کو کرپشن کاکوئی ثبوت نہیں ملا ۔

    اینکرپرسن نے دعوی کیاکہ: ایک دن مجھے کسی نے کہا کہ آپ تو کرپشن پر بڑی اسٹوریز کرتے ہیں مگر عمران خان کی کرپشن پر کیوں خاموش ہیں تو میں نے انہیں جواب دیا کہ: ہمارے بھی وزیراعظم کے دفتر میں ذرائع ہوتے ہیں اور مجھے پتہ ہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان وہ شخص ہے جو پانی کی آدھی بوتل بھی ضائع نہیں ہونے دیتا وہ کرپشن کیسے کرسکتا ہے۔

    ارشد کہتے ہیں کہ : ایک دن مجھے معلوم ہواکے عمران خان نے پانی کی بوتل پی اور آدھی بچ گئی جب انہیں یاد آیا کہ آدھی پانی کی بوتل بچ گئی تھی اور وہ بوتل کسی نے اٹھا لی تھی تو سابق وزیراعظم کو یہ بات بھی بری لگی کہ اگر پانی کی آدھی بوتل بچ گئی تھی تو اسے ضائع کرنے کی کیا ضرورت ہے۔

    ارشد شریف نے مزید کہا: ہم (یعنی تحریک انصاف کے حامی) صحافیوں سمیت اب تو سابقہ پوری کابینہ پر ایف آئی آر درج ہوگئی ہیں۔

    انس نامی شخص نے ارشد شریف کو یاد دلایا کہ: عمران خان ایک ایسا شخص ہے جس نے کہا تھا کہ ان کی کابینہ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن کی طرح بڑی ہوگی مگر انہوں نے اقتدار کے بعد ان سے بھی بڑی کابینہ بنائی جس میں تینتیس وفاقی وزیر، پانچ مشیر اور بیس خصوصی مشیر رکھے۔ جو آج تک کی سب سے بڑی کابینہ تھی۔
    https://twitter.com/NotAnosss/status/1539656076177854464

    سیاسی کارکن افنان احمد نے اینکرپرسن ارشد شریف کو مبارکباد دیتے کہا کہ: آپ کو پاکستان تحریک انصاف میں شامل ہونے پر مبارک باد پیش کرتے ہیں. آپ کو انکے سیمینار میں پہلی قطار میں کرسی ملنی چاہئے تھی.

    صارف عالم گیر کے خیال میں ارشد شریف کو یہ بتانا چاہئے تھا کہ: انکے اندر تعصب کیسے پیدا ہوا اور اپنے پروگرام میں ایک جماعت کے سیاسی بیانیہ کو انہوں نے کیسے پھیلانا شروع کیا.
    https://twitter.com/AamirSiming/status/1539657879535628288

  • ملکی موجودہ ابتر معاشی صورتحال تباہ کن مغربی سودی نظام ہے،علامہ زاہدالراشدی

    ملکی موجودہ ابتر معاشی صورتحال تباہ کن مغربی سودی نظام ہے،علامہ زاہدالراشدی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ملکی موجودہ ابتر معاشی صورتحال تباہ کن مغربی سودی نظام ہے،علامہ زاہدالراشدی کا کہنا تھا ۔متحدہ علماء محاذ کے بانی مولانا محمد امین انصاری،سرپرست مولاناجعفرالحسن تھانوی پر مشتمل وفد سے گفتگو ہوئی ۔
    متحدہ علماء محاذ کا تحریک انسداد سود کی کامیابی کیلئے سیمینار کے انعقاد کا اعلان کیا گیا ۔
    اور سودی نظام کے خاتمے کیلئے وفاقی شرعی عدالت کا تاریخی فیصلہ مقاصد پاکستان کی اساس اور قومی امنگوں کا آئینہ دار ہے۔
    وفد نے علامہ زاہدالراشدی کو سودی نظام کے خاتمے کیلئے جاری تحریک کی کامیابی کیلئے اپنے ہر ممکن تعاون کا یقین بھی دلایا تھا ۔

    کراچی پاکستان شریعت کونسل کے مرکزی سیکریٹر جنرل اور تحریک انسداد سود کے کنوینر شیخ الحدیث مولانا زاہد الراشدی نے جامعہ انوارالقرآن نارتھ میں متحدہ علماء محاذ پاکستان کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہاہے کہ سودی نظام کے خاتمے کیلئے تمام مکاتب فکر موثر کردار اداکریں۔ سودی نظام کے خاتمے کیلئے وفاقی شرعی عدالت کا تاریخی جرأت مندانہ فیصلہ مقاصد پاکستان کی اساس اور قومی امنگوں کا آئینہ دار ہے۔ ملک کی موجودہ ابتر معاشی صورتحال غیر اسلامی تباہ کن مغربی سودی نظام ہے۔وفد میں متحدہ علماء محاذ پاکستان کے بانی سیکریٹری جنرل مولانا محمد امین انصاری،سرپرست مولاناجعفرالحسن تھانوی، مفتی وجاہت الحسن تھانوی، حافظ اضفرتھانوی،میڈیا کوآرڈینیٹر فاروق احمد ریحان شامل تھے۔عالمی شہرت یافتہ بین المسالک و بین المذاہب ہم آہنگی کے عظیم داعی علامہ زاہد الراشدی نے شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بعض ناعاقبت اندیش امریکی غلامی کے اسیر مغرب کے پروردہ مالیاتی ادارے وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے کے خلاف دوبارہ اپیل دائر کرنے کی منصوبہ بندی کررہے ہیں جبکہ گذشتہ 30سال پہلے ہی اپیلوں میں ضائع کئے جاچکے ہیں انہوں نے دو ٹوک انداز میں واضح کیا کہ ملک بھر کے تمام مکاتب فکر کے علماء مشائخ متفق ہیں کہ وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے پر مقررہ وقت کے اندر مکمل عمل درآمد کیلئے عوامی جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔ متحدہ علماء محاذ کے وفد نے تحریک انسداد سود کے مرکزی کنوینر علامہ زاہدالراشدی کو سودی نظام کے خاتمے کیلئے جاری تحریک کی کامیابی کیلئے اپنے ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا۔ اس موقع پر محاذ کے بانی مولانا محمد امین انصاری نے اعلان کیا کہ 12جون بروز اتوار کو مرکزی سیکریٹریٹ گلشن اقبال میں ”انسداد سود سیمینار“ کا انعقاد کیاجائے گاجس میں مختلف مکاتب فکر کے جید علماء مشائخ سیاسی جماعتوں کے زعماء سمیت دانشور، وکلاء، صحافی، تاجر اور ممتاز شخصیات شرکت و خطاب کریں گے اور مشترکہ طور پر وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیل کرنے والوں کے خلاف لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔

  • آزادی صحافت اور میڈیا کو درپیش مسائل پر سیمینار 6 فروری کو ہوگا، کے یو جے

    آزادی صحافت اور میڈیا کو درپیش مسائل پر سیمینار 6 فروری کو ہوگا، کے یو جے

    سیمینار پی ایف یو جے کی جاری جدوجہد کا حصہ ہے، سیاسی قیادت، سول سوسائٹی مزدور اور صحافی مدعو
    کے یو جے کی جنرل کونسل 13 فروری 2021 کو کراچی پریس کلب میں ہوگی، مجلس عاملہ کے اجلاس میں فیصلہ

    ملک میں آزادی صحافت اور میڈیا کو درپیش مسائل پر کراچی یونین آف جرنلسٹس کے تحت سیمینار 6 فروری 2021 کو مقامی ہوٹل میں ہوگا سیمینار میں ملک کی سیاسی قیادت، سینئر صحافیوں، سول سوسائٹی اور مزدور رہنماوں کو مدعو کیا گیا ہے اس موقع پر پی ایف یو جے کی 70 سالہ جدوجہد پر مبنی کتاب کی رونمائی اور کراچی یونین آف جرنلسٹس کی ویب سائٹ کا اجرا بھی کیا جائے گا ۔ سیمینار پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کی* *جانب سے ملک میں صحافت کو درپیش مسائل پر آگاہی اور ان کے حل کی تلاش میں جاری سیمینارز کا تسلسل ہے اس سلسلے کا پہلا سیمینار 14 جنوری 2021 کو لاہور میں ہوا تھا۔ کراچی یونین آف جرنلسٹس کی مجلس عاملہ کے اجلاس میں سیمینار کی تیاریوں کا جائزہ لیا گیا۔ کے یو جے کے صدر نظام الدین صدیقی کی صدارت میں ہونے والے اجلاس میں طے پایا کہ سیمینار میں تمام سیاسی جماعتوں، حکومتی نمائندوں، سینئر صحافیوں، وکلا اور ڈاکٹرز سمیت سول سوسائٹی کے ارکان اور مزدور رہنماوں کو مدعو کیا جائے گا۔ اجلاس میں سیمینار، کتاب کی رونمائی اور ویب سائٹ کے اجرا کے حوالے سے مختلف کمیٹیاں قائم کی گئیں جو انتظامات کو حتمی شکل دیں گی* ۔ *اجلاس میں پی ایف یو جے کی فیڈرل ایگزیکٹو کونسل کے فیصلے کے تحت 13 فروری کو کے یو جے کی جنرل کونسل بلانے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔ 13 فروری کو کے یو جے کی جنرل کونسل کراچی پریس کلب میں ہوگی۔ کراچی یونین آف جرنلسٹس نے اپنے تمام ارکان سے درخواست کی ہے کہ وہ سیمینار اور جنرل کونسل میں زیادہ سے زیادہ تعداد میں شرکت کریں.