Baaghi TV

Tag: سینئر صحافی

  • صحافی جان محمد مہر کا قتل،15 مشتبہہ افراد گرفتار

    صحافی جان محمد مہر کا قتل،15 مشتبہہ افراد گرفتار

    سکھر کے صحافی جان محمد مہر کے قاتلوں کی گرفتاری کے لئے پی ایف یو جے نے آج ملک گیر احتجاج کی کال دے رکھی ہے

    پاکستان کے تمام بڑے شہروں میں صحافی جان محمد مہر کے قتل کے واقعہ کے خلاف احتجاج کیا جائے گا پی ایف یو جے نے وفاقی و صوبائی حکومت، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور پولیس حکام کو متنبہ کیا ہے کہ جان محمد مہر کے قاتلوں کو جلد گرفتار کیا جائے وگرنہ احتجاج کا دائرہ کار مزید وسیع کیا جائے گا

    سندھ کے شہر سکھر میں قتل ہونے والے صحافی جان محمد مہر کے قتل کیس میں نامزد دو افراد کو پولیس نے گرفتار کیا ہے،جان محمد مہر کے قتل کی تحقیقات کے لئے سات رکنی تحقیقاتی ٹیم بنائی گئی ہے تحقیقاتی ٹیم ایک ماہ میں تحقیقات مکمل کر کے رپورٹ جمع کرائے گی، پولیس حکام کے مطابق قتل کیس میں نامزد دو ملزمان کو حراست میں لیا گیا جن سے تحقیقات جاری ہے ،گزشتہ شب پولیس نے چھاپہ مار کارروائیوں کے نتیجے میں دو ملزمان کو گرفتار کیا، گرفتار ملزمان کی شناخت بخش علی عرف بخشو مہر ولد گولو،بابر مہر ولد بخش علی کے طور پر ہوئی،

    واضح رہے کہ صحافی جان محمد مہر کو 14 اگست کو قتل کیا گیا تھا، قتل کا مقدمہ 11 نامزد اور تین نامعلوم ملزمان کے خلاف درج کیا گیا ،درج ایف آئی آر کے مطابق جان محمد مہر کو ٹارگٹ کیا گیا کیونکہ بااثر افراد جان محمد مہر سے ناراض تھے اور انہیں دھمکیاں بھی مل رہی تھی، پولیس نے کاروائی کے دوران 15 مشتبہ افراد کو بھی گرفتار کیا ہے

    جماعت اسلامی کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمان کا کہنا ہے کہ سکھر میں صحافی جان محمد مہر کی شہادت قابل مذمت ہے ، ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ جان محمد مہر کے قاتلوں کو فوری گرفتار کیا جائے ۔جان محمد مہر کا قصور یہ تھا کہ وہ کچے کے ڈاکوؤں کو رپورٹ کر رہا تھا، آج صورتحال یہ ہے کہ ڈاکو اغوا کرتے ہیں اور تاوان مانگتے ہیں، ڈاکو نہ مسلمانوں کو نہ ہندوؤں کو چھوڑتے ہیں، کچے کے ڈاکو سڑکوں پر نکل رہے، کوئی کاروائی کرنیوالا نہیں،

    سکھر کے سینئر صحافی جان محمد مہر کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے شمعیں روشن کی گئی، صھافیوں کا کہنا تھا کہ جان محمد مہر کے قاتلوں کو انجام تک پہنچنا چاہئے، جب تک جان محمد مہر کے قاتلوں کو سزا نہیں ملے گی چین سے نہیں بیٹھیں گے

    سوشل میڈیا پر جعلی آئی ڈیز کے ذریعے لڑکی بن کر لوگوں کو پھنسانے والا گرفتار

    بیوی، ساس اورسالی کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل کرنے کے الزام میں گرفتارملزم نے کی ضمانت کی درخواست دائر

    سپریم کورٹ کا سوشل میڈیا اور یوٹیوب پر قابل اعتراض مواد کا نوٹس،ہمارے خاندانوں کو نہیں بخشا جاتا،جسٹس قاضی امین

    ‏ سوشل میڈیا پر وزیر اعظم کے خلاف غصے کا اظہار کرنے پر بزرگ شہری گرفتار

    سکھر کے سینئر صحافی جان محمد مہر کو گولیاں مار دی گئی ہیں،

    جان محمد مہر کے قاتلوں کی عدم گرفتاری پر صحافیوں کا احتجاجی مظاہرہ

    جان محمد مہر کے قتل کے خلاف17 اگست کو ملک گیر احتجاج کا اعلان

  • سکھر میں سینئر صحافی جان محمد مہر قتل،وزیراعلیٰ سندھ کا نوٹس

    سکھر میں سینئر صحافی جان محمد مہر قتل،وزیراعلیٰ سندھ کا نوٹس

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سندھ کے شہر سکھر میں افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے، سکھر کے سینئر صحافی جان محمد مہر کو گولیاں مار دی گئی ہیں،

    واقعہ گزشتہ شب پیش آیا، جان محمد مہر اپنے دفتر سے گھر جا رہے تھے کہ راستے میں نامعلوم افراد نے فائرنگ کر دی، جان محمد مہر کو زخمی حالت میں ہسپتال منتقل کیا گیا مگر وہ جانبر نہ ہو سکے اور انکی موت ہو گئی، جان محمد مہر کی موت پر لاڑکانہ پریس کلب نے تین رو زہ سوگ کا اعلان کیا ہے،

    جان محمد مہر کی نماز جنازہ ادا کر دی گئی بعد ازاں مقامی قبرستان میں تدفین کی گئی، نماز جنازہ میں صحافی برادری سمیت سول سوسائٹی ، سیاسی و سماجی رہنماؤں نے بھی شرکت کی،

    پولیس حکام کے مطابق نامعلوم حملہ آوروں نے جان محمد مہر پر قریب سے گولیاں چلائیں، حملہ اسوقت کیا گیا جب وہ کار میں سفر کر رہے تھے، صحافی جان محمد مہر کو سر اور آنکھوں کے قریب گولیاں لگیں،

    پیپلز پارٹی کی مرکزی سیکرٹری اطلاعات شازیہ مری نے سکھر میں سینیئر صحافی جان محمد مھر کی قاتلانہ حملے میں شھادت پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ،شازیہ مری نے دہشتگردی کی اس کی واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کی اورکہا کہ ملوث عناصر کو قانون کی گرفت میں لاکرسخت سے سخت سزا دی جائے۔

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے سکھر کے سینئر صحافی جان محمد مہر کی قاتلانہ حملے میں شہادت پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ،وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے آئی جی سندھ کو جان محمد کے قاتلوں کو گرفتار کرنے کی ہدایت دی ،وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے جان محمد مہر کے بلند درجات اور ورثا کے صبر کے لیے دعا کی

    کرونا لاک ڈاؤن، رات میں بچوں نے کیا کام شروع کر دیا؟ والدین ہوئے پریشان

    لاک ڈاؤن ہے تو کیا ہوا،شادی نہیں رک سکتی، دولہا دلہن نے ماسک پہن کے کر لی شادی

    سابق اہلیہ کی غیراخلاقی تصاویر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرنے والے ملزم پر کب ہو گی فردجرم عائد؟

    ‏سوشل میڈیا پرغلط خبریں پھیلانا اورانکو بلاتصدیق فارورڈ کرنا جرم ہے، آصف اقبال سائبر ونگ ایف آئی اے

    سوشل میڈیا پر جعلی آئی ڈیز کے ذریعے لڑکی بن کر لوگوں کو پھنسانے والا گرفتار

    بیوی، ساس اورسالی کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل کرنے کے الزام میں گرفتارملزم نے کی ضمانت کی درخواست دائر

    سپریم کورٹ کا سوشل میڈیا اور یوٹیوب پر قابل اعتراض مواد کا نوٹس،ہمارے خاندانوں کو نہیں بخشا جاتا،جسٹس قاضی امین

    ‏ سوشل میڈیا پر وزیر اعظم کے خلاف غصے کا اظہار کرنے پر بزرگ شہری گرفتار

    ‎سندھ جرنلسٹس اینڈ ادر میڈیا پریکٹشنرز کمیشن نے آئی جی سندھ غلام نبی میمن سے سکھر میں سینئر صحافی جان محمد مہر کے قتل کے واقے کی تفصیلی رپورٹ طلب کرلی ہے کمیشن کی ایگزیکٹو کمیٹی کا ہنگامی اجلاس چیئرمین جسٹس ریٹائرڈ رشید اے رضوی کی صدرات میں ہوا۔ اجلاس کے ٹی این کے سینئر صحافی جان محمد مہر کو سکھر میں نامعلوم افراد کی جانب سے فائرنگ کرکے قتل کیے جانے کے واقعے پر کراچی یونین آف جرنلسٹس کی درخواست پر ایک نکاتی ایجنڈے پر طلب کیا گیا تھا اجلاس میں کمیشن کے رکن، کراچی یونین آف جرنلسٹس کے صدر فہیم صدیقی، ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے پروفیسر ڈاکٹر توصیف احمد خان اور سی پی این ای کے ڈاکٹر جبار خٹک نے شرکت کی اجلاس میں جان محمد مہر کے قتل کے واقعے کو صوبے میں پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ناکامی قرار دیا گیا کمیشن کے چیئرمین جسٹس رشید اے رضوی نے واقعے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے آئی جی سندھ کو حکم دیا ہے کہ جان محمد مہر کے قاتلوں کو فوری گرفتار کرکے رپورٹ کمیشن میں پیش کی جائے۔ کے یو جے کے صدر فہیم صدیقی نے کمیشن کے اجلاس میں کہا کہ یہ سندھ حکومت کی ناکامی ہے کہ وہ صوبے میں صحافیوں کے خلاف تواتر سے پیش آنے والے سنگین واقعات کو روکنے میں ناکام ہے ابھی مراد علی شاہ بطور وزیراعلی سندھ موجود ہیں انہیں جاتے جاتے اس واقعے کو ایک مثال بناتے ہوئے قاتلوں کی گرفتاری کو یقینی بنانا چاہیے۔ کمیشن میں ایچ آر سی پی کے نمائندے پروفیسر توصیف احمد خان کا کہنا تھا کہ سندھ میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں جاری ہیں آج اگر نگراں وزیراعلی پر اتفاق ہوجاتا ہے تو آنے والے نگران وزیراعلی کو سب سے پہلے اس واقعے کا نوٹس لینا چاہیے اور کمیشن میں اس کی رپورٹ بھجوانی چاہیے سی پی این ای کے نمائندے جبار خٹک نے کے ٹی این سے وابستہ سینئر صحافی جان محمد مہر کے قتل کے واقعے کو صحافیوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک کا تسلسل قرار دیا جبار خٹک نے کمیشن کے اجلاس میں زور دیا کہ جان محمد مہر کے قاتلوں کی گرفتاری کے لیے پولیس کو 24 گھنٹے کا وقت دیا جائے۔

  • گزشتہ ماہ ڈاکوؤں کے ہاتھوں سینئر صحافی سمیت 6 افراد  قتل،35 زخمی

    گزشتہ ماہ ڈاکوؤں کے ہاتھوں سینئر صحافی سمیت 6 افراد قتل،35 زخمی

    کراچی میں گزشتہ ماہ ڈاکوؤں نے سینئر صحافی سمیت 6 افراد کو زندگی سے محروم اور 35 سے زائد شہریوں کو زخمی کیا۔

    باغی ٹی وی : رپورٹ کے مطابق رواں سال کے پہلے 2 ماہ کے دوران مجموعی طور پر 18 شہریوں کو ڈاکوؤں نے مزاحمت پر موت کے گھاٹ اتار دیا جبکہ 90 سے زائد افراد کو فائرنگ کر کے زخمی کر دیا دوسری جانب 12 فروری سے 28 فروری تک مجموعی طور پر 35 سے زائد پولیس مقابلوں میں 4 ڈاکو ہلاک جبکہ 40 سے زائد زخمی حالت میں گرفتار کرلیے گئے۔

    ترجمان مسلم لیگ (ن) کا وزیراعظم عمران خان کے خطاب پر ردِ عمل

    رپورٹ کے اس حوالے سے جاری رپورٹ کے مطابق گزشتہ ماہ 6 فروری کو سرسید ٹاؤن کے علاقے نارتھ کراچی الیون اے میں ڈاکوؤں نے مزاحمت پر فائرنگ کر کے حافط قرآن اسامہ کو قتل کیا تاہم چند روز قبل سمن آباد پولیس نے اسامہ کو فائرنگ کا نشانہ بنانے والے 2 زخمیوں سمیت 5 ڈاکوؤں کو گرفتار کیا۔

    18 فروری کو نارتھ ناظم آباد کے ڈی اے چورنگی کے قریب سما ٹی وی کے پروڈیوسر و سینئر صحافی اطہر متین کو موٹر سائیکل لفٹر نے فائرنگ کا نشانہ بنا کر کے انہیں زندگی سے محروم کر دیا تاہم اس واردات میں شامل ایک ملزم کو کراچی پولیس نے گرفتار کرلیا جبکہ اطہر متین پر گولی چلانے والے ملزم کی تاحال تلاش جاری ہے۔

    21 فروری کو لانڈھی کے علاقے زمان آباد میں ڈکیتی کے دوران مزاحمت پر فائرنگ سے شدید زخمی ہونے والے 60 سالہ علی بن عمر گزشتہ روز زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئی زندگی کی بازی ہار گئے۔

    28 فروری کو ڈسٹرکٹ کورنگی کے علاقے لانڈھی میں ڈاکوؤں کی فائرنگ سےفرسٹ ایئر کا طالب علم 19 سالہ عثمان گردن پرگولی لگنے سے موت کی آغوش میں چلا گیا جبکہ اسی ڈسٹرکٹ کے علاقے کورنگی صنعتی ایریا میں دن دیہاڑے کارسوار ڈاکوؤں نےکیشن وین لوٹنے کے دوران مزاحمت پر میڈیسن کمپنی کے ملازم اشوک کو فائرنگ کر موت کے گھاٹ اتار دیا۔

    گزشتہ ماہ شہر کے مختلف علاقوں میں ڈاکوؤں نے لوٹ مار کے دوران مزاحمت پر 35 سے زائد افراد کو فائرنگ کا نشانہ بنا کر زخمی کیا۔

    علاوہ ازیں سیٹزن پولیس لائژن کمیٹی نے کراچی میں جنوری اورفروری میں ہونے والے جرائم کے اعداد وشمار کی رپورٹ جاری کردی جس کے مطابق کراچی میں رواں سال کے ابتدائی 2 ماہ میں چوری اورچھینا جھپٹی کی 13ہزارسے زائد وارداتوں میں شہری لا کھوں روپے کی قیمتی اشیا سے محروم ہوگئے-

    سانپ دکھا کر لوٹنے اور بلیک میل کرنے والی ڈکیت خاتون

    رپورٹ کے مطابق رواں سال کے ابتدائی 2ماہ میں چوری اور چھینا جھپٹی کی13404 وارداتوں میں کراچی کے شہریوں سے لاکھوں روپوں کی قیمتی اشیا چھین لی گئیں کراچی میں جنوری کے مہینے میں چوری اورچھینا چھپٹی کی7026وارداتیں ہوئیں۔ 2499 شہریوں سے موبائل فون چھینے گئے جبکہ 419 موٹر سائیکلیں چھینی اور 3908 چوری کی گئیں۔

    رپورٹ کے مطابق جنوری میں اسلحے کے زورپر16 گاڑیاں چھینی گئیں اور184 چوری کرلی گئیں جبکہ فروری میں چوری اورچھینا جھپٹی کی 6ہزار378 وارداتیں ہوئیں جبکہ یومیہ227 شہریوں کو قیمتی موبائل فون، موٹر سائیکلوں اورگاڑیوں سے محروم کیا گیا۔

    دوسری جانب ساؤتھ زون انویسٹی گیشن پولیس نے رواں سال کی سب سے بڑی ڈکیتی کی واردات میں ملوث 4 ڈاکوؤں کو گرفتار کرلیا ڈی آئی جی ساؤتھ شرجیل کھرل نے اپنے دفتر میں پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ 2 فروری کو لاہور کا تاجر سونا فروخت کر کے رکشا میں کینٹ اسٹیشن کی جانب جا رہا تھا کہ 2 موٹر سائیکلوں پر سوار 4 ڈاکو انھیں یرغمال بنا کر ساڑھے تین کروڑ روپے سے بھرا بیگ چھین کر فرار ہوگئے تھے۔

    شہباز شریف اثاثہ جات کیس: ڈیلی میل اپنی بات پر قائم ،جواب عدالت میں جمع کرادیا

    ڈی آئی کی ساؤتھ نے بتایا کہ واردات کے بعد تفتیش کے لیے 2 ٹیمیں تشکیل دی گئیں جبکہ مذکورہ مقام کی جیوفینسنگ اور ٹیکنیکل ڈیٹا سمیت سی سی ٹی وی کی فوٹیج بھی حاصل کی گئیں، پولیس نے 21 فروری کو ایک ڈاکو محمد طاہر کو گرفتار کیا جس نے دوران تفتیش واردات میں ملوث ہونے کا اعتراف کرتے ہوئے اپنے دیگر 3 ساتھیوں کے بھی نام بتائے.

    بعدازاں پولیس نے سخت جدوجہد کے بعد واردات میں ملوث دیگر 3 ڈاکوؤں سلمان ، ظفر اور محسن کو گرفتار کر کے مجموعی طور پر 46 لاکھ روپے اور 4 پستول بھی برآمد کرلیے، ملزمان عادی جرائم پیشہ ہیں جو ڈکیتی کی متعدد وارداتوں میں گرفتار ہو کر جیل بھی جا چکے ہیں۔

    سیاسی جماعتیں سڑکوں پر ہوں گی تو ایوان میں کون بیٹھے گا،ریحام خان