Baaghi TV

Tag: سینئر صحافی اور اینکر مبشر لقمان

  • نیتن یاہو جنگی جرائم کا مرتکب  مگر ٹرمپ کی حمایت کیوں،دبئی  منی لانڈرنگ کی جنت،امریکہ کا قطر سے دھوکہ

    نیتن یاہو جنگی جرائم کا مرتکب مگر ٹرمپ کی حمایت کیوں،دبئی منی لانڈرنگ کی جنت،امریکہ کا قطر سے دھوکہ

    سینئر صحافی اور اینکر پرسن مبشر لقمان نے اپنے تازہ پروگرام میں مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صورتحال پر کھل کر گفتگو کی۔ پروگرام میں امریکا کے صدر جو بائیڈن کے سابق مشیر اور ممتاز سیاسی رہنما شاہد احمد خان شریک تھے۔ گفتگو کا محور قطر پر ہونے والے حالیہ حملے، امریکا کے کردار اور خطے میں طاقت کے توازن کے گرد گھومتا رہا۔

    مبشر لقمان نے کہا کہ قطر امریکا کا سب سے قریبی اتحادی ہے۔ نہ صرف امریکا کا سب سے بڑا فوجی بیس قطر میں موجود ہے بلکہ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی اور سفارتی تعلقات بھی انتہائی گہرے ہیں۔ اس کے باوجود امریکا نے حملے کو روکنے کے لیے کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا۔ ان کے مطابق یہ رویہ قطر کے ساتھ ایک کھلا دھوکہ ہے جو خطے میں امریکا کے اتحادیوں کے لیے ایک سوالیہ نشان ہے۔

    شاہد احمد خان نے اس موقف سے جزوی اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ صورتحال بلاشبہ پیچیدہ ہے۔ ان کے مطابق صرف امریکا پر الزام ڈال دینا حقیقت کو سادہ بنانے کے مترادف ہوگا۔ حملے میں وہ ممالک بھی شامل ہیں جنہوں نے اپنے فضائی راستے استعمال کرنے کی اجازت دی۔ اس لیے ذمہ داری مشترکہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا کی پالیسی میں کئی بار تضادات دیکھنے کو ملتے ہیں لیکن خطے کے ممالک کو بھی اپنے فیصلوں کی ذمہ داری لینی ہوگی۔

    قطر کو طویل عرصے سے مشرقِ وسطیٰ کا سفارتی مرکز مانا جاتا ہے۔ یہاں عالمی طاقتوں کے نمائندے آ کر بات چیت کرتے ہیں، امن معاہدے طے پاتے ہیں اور مذاکرات ہوتے ہیں۔ مبشر لقمان نے کہا کہ حملے کے بعد قطر کے وقار اور اعتماد کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ شاہد احمد خان نے بھی اس بات سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ قطر کو اپنی سلامتی کے حوالے سے نئے اقدامات کرنے ہوں گے تاکہ مستقبل میں اس طرح کی صورتحال دوبارہ پیدا نہ ہو۔

    گفتگو کے دوران شاہد احمد خان نے پاکستان کو "بہادر ملک” قرار دیا۔ ان کے مطابق پاکستان نے ہمیشہ مشکل حالات میں اپنے قومی مفاد کو ترجیح دی ہے اور خطے میں امن کے قیام کے لیے اپنا کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو چاہیے کہ اپنی پالیسیوں میں تسلسل برقرار رکھتے ہوئے عالمی سطح پر بھی اپنا مؤقف مؤثر انداز میں پیش کرے۔

    پروگرام کے آخر میں مبشر لقمان نے کہا کہ اگر خطے کے ممالک نے مشترکہ حکمتِ عملی نہ اپنائی تو آنے والے دنوں میں مزید بحران جنم لے سکتے ہیں۔ انہوں نے امریکا کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اتحادیوں کو نظرانداز کرنا اس کی پرانی عادت ہے، مگر اب مشرقِ وسطیٰ کے ممالک کو خود بھی اپنی ذمہ داری نبھانی ہوگی۔

    امریکی وزیر خارجہ کا اسرائیل کی غیر متزلزل حمایت کا اعلان

    شہباز شریف قطر کا ایک روزہ دورہ مکمل کرکے وطن روانہ

    قطر پر اسرائیلی حملہ، مسلم دنیا متحد ، دوحہ اجلاس کا مشترکہ اعلامیہ جاری

    اسرائیلی حملہ دہشت گردی اور عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے، ایرانی صدر

  • یوکرین کا روس پرسب سے بڑا ڈرون حملہ: عالمی سطح پر نیوکلیئر جنگ کا خطرہ؟

    یوکرین کا روس پرسب سے بڑا ڈرون حملہ: عالمی سطح پر نیوکلیئر جنگ کا خطرہ؟

    یوکرین نے روس کے دو حساس اور دور دراز ملٹری ایئر بیسز پر "آپریشن اسپائیڈر ویب” کے نام سے ایک غیر معمولی اور خفیہ ڈرون حملہ کر کے دنیا بھر کو حیران کر دیا۔ یہ حملہ ایسے وقت کیا گیا جب عالمی برادری ترکی میں روس-یوکرین مذاکرات سے امن کی امید باندھ رہی تھی۔ تاہم اس حملے نے حالات کو مزید خطرناک رخ دے دیا ہے۔

    سینئر صحافی اور اینکر مبشر لقمان کے انکشافات کے مطابق یوکرین نے ہزاروں کلومیٹر دور سائبریا اور آرکٹک ریجن میں روسی ایئر بیسز پر FPV ڈرونز سے حملہ کیا۔ یہ ڈرونز یوکرین سے روانہ نہیں ہوئے بلکہ unmarked وینز کے ذریعے روسی کھیتوں میں چھپا کر لانچ کیے گئے، جس نے روس کی دفاعی لائنز کو بری طرح ناکام کر دیا۔ ان حملوں میں روس کے اربوں ڈالر کے ملٹری اثاثے تباہ ہوئے اور 34 فیصد اسٹریٹجک کروز کیریئرز کو نقصان پہنچا۔

    یوکرین کی SBU انٹیلیجنس ایجنسی نے اس آپریشن کی تصدیق کی ہے، جس میں چار اہم ملٹری ایئر فیلڈز پر چالیس سے زائد جنگی اور جاسوسی طیاروں کو نشانہ بنایا گیا۔ اس کے نتیجے میں روسی میڈیا اور دفاعی حلقوں میں ہنگامہ برپا ہو گیا ہے، اور صدر ولادیمیر پیوٹن نے فوری طور پر نیشنل سیکیورٹی کونسل کا ہنگامی اجلاس طلب کر لیا ہے۔

    روسی دفاعی تجزیہ کاروں اور پرو-کریملن میڈیا میں اس حملے کے بعد نیوکلیئر ردعمل کی باتیں زور پکڑ چکی ہیں۔ مبشر لقمان کے مطابق روس کی نیوکلیئر ڈاکٹرین میں واضح ہے کہ اگر ملکی عسکری انفراسٹرکچر کو سنگین نقصان پہنچے تو نیوکلیئر ہتھیاروں کا استعمال جائز ہو جاتا ہے۔

    لقمان نے اس حملے کو "روس کا پرل ہاربر” قرار دیا ہے، جبکہ ٹیکٹیکل نیوکلیئر ویپنز کے استعمال کے امکان کو بھی خارج نہیں کیا جا رہا۔ یہ ہتھیار محدود فاصلے پر تباہی مچانے کی صلاحیت رکھتے ہیں لیکن تابکاری کے اثرات عالمی ماحول پر بھی اثرانداز ہو سکتے ہیں۔

    یوکرین کا یہ قدم، بقول تجزیہ کاروں کے، نہ صرف ایک عسکری فتح ہے بلکہ یہ مغربی دنیا کی روس مخالف حکمت عملی کا حصہ ہو سکتا ہے۔ برطانیہ سمیت بعض یورپی ممالک کا نام بھی سامنے آ رہا ہے جو یوکرین کی پس پردہ مدد کر رہے ہیں۔

    اگر روس کی طرف سے نیوکلیئر ردعمل سامنے آتا ہے تو یہ نہ صرف یورپ بلکہ پوری دنیا کو جنگ کی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔ حالات نہایت نازک ہو چکے ہیں اور دنیا ایک بڑے تصادم کے دہانے پر کھڑی ہے۔

    پاکستان میں مئی کے دوران دہشتگردی میں معمولی اضافہ، بڑی کارروائیاں ناکام

    یوکرین کے ڈرون حملے: روس کے سائبیریا میں 40 سے زائد جنگی و جاسوس طیارے تباہ

    مائیکروسافٹ کی حمایت یافتہ برطانوی اے آئی اسٹارٹ اپ دیوالیہ ہو گیا

    پاکستان کی شاندار فتح، محمد حارث کی سنچری سے بنگلہ دیش کو کلین سوئپ