Baaghi TV

Tag: سینما

  • ہماری کہانی بدل گئی ہماری فلم باسی ہوگئی!!! — ریاض علی خٹک

    ہماری کہانی بدل گئی ہماری فلم باسی ہوگئی!!! — ریاض علی خٹک

    سینما پر فلم دیکھنے کا دور تمام ہوا. ہمارے بچپن میں البتہ اسکا عروج تھا. پہلے شو کی ٹکٹ , کھڑکی پر شور, اور عوام کا رش دھکم پیل جیب کتروں کا خوف ایک عجیب منظر ہوتا. ایسا لگتا کہ اگر یہ شو مس ہوگیا تو اسی فلم کا اگلا شو پھر شائد یہ فلم نہیں رہے گی.

    اس شور اور دھکم پیل سے نکل کر لیکن اگر آپ ہال میں پہنچ جاتے تو وہاں پھر یہی شور مچاتی عوام نیم اندھیرے میں بلکل خاموش پردے کی طرف دیکھ رہی ہوتی. درمیان میں کبھی ہیرو کیلئے داد تو کبھی ولن کیلئے ناراضگی کی آوازیں البتہ ضرور اٹھ جاتی.

    ہم لوگ سینما ہال کے باہر کا وہی ہجوم ہیں. ہم میں سے کوئی صبر نہیں کرنا چاہتا. ہمیں لگتا ہے ہم نے پہلا شو مس کر دیا تو ہماری زندگی کی فلم اور کہانی شائد باسی ہو جائے گی.

    ہم اعتماد کھو چکے ہیں. خود پر بھی اور دوسروں پر بھی. پیچھے رے جانے کا ڈر ہمیں مجبور کرتا ہے دھکے دو بلیک میں ٹکٹ خرید لو سفارش کر لو منت سماجت جیسے بھی ممکن پہلے شو میں جگہ بنا لو.

    پہلا شو مس ہو جانے کے خوف نے ہمیں بے صبری بد اعتمادی دی ہے. ہم سے قطار نہیں بنائی جاتی. ہم سے انتظار نہیں ہوتا. سینما کا دور اب ختم ہوا. یہ نیٹ فلیکس ایمزون پرائم کا دور ہے.

    لیکن ہمارے خوف وہی پرانے ہیں. ہم سے آج بھی قطار نہیں بنائی جاتی. ہم سے آج بھی نہ صبر ہوتا ہے نہ اعتماد ہمارا مضبوط ہے. ہم آج بھی سمجھتے ہیں کہ شو مس کر دیا تو کہانی بدل جائے گی.

    ہم لیکن بھول جاتے ہیں ہم خود ہی اپنی کہانی کے قلمکار ہیں. ہم اپنا کردار لکھتے ہیں چاہے وہ ہیرو کا ہو یا ولن کا. خوف ہمارا کردار بدل دیتا ہے اور ہم بے بسی سے دیکھ رہے ہوتے ہیں.

    ہم سمجھتے ہیں چونکہ ہمیں ٹکٹ نہیں ملا تو ہماری کہانی بدل گئی ہماری فلم باسی ہوگئی.

  • آنے والے دنوں میں ریلیز ہونے والی پاکستانی فلمیں

    آنے والے دنوں میں ریلیز ہونے والی پاکستانی فلمیں

    کورونا کے بادل چھٹنے کے بعد اس سال پاکستانی فلمیں سینما گھروں کی زینت بنیں. عید الفطر پر چاراوردو فلمیں (پردے میں رہنے دو ، چکر ، دم مستم ، گھبرانا نہیں‌ ہے) اور ایک پنجابی (تیرے باجرئ دی راکھی) ریلیز ہوئی. ان پانچوں فلموں نے خاطر خواہ بزنس نہ کیا پرڈیوسرز نے بزنس نہ کرنے کی وجہ ہالی وڈ فلم ڈاکٹر سٹرینج کی ان کے ساتھ ریلیز بتائی. سرمد سلطان کھوسٹ کی فلم کملی بھی ریلیز ہوئی اس نے اچھا بزنس کیا. اس کے بعد عید الاضحی پر دو بڑی فلمیں ریلیز ہوئی جن میں لندن نہیں جائونگا اور قائداعظم زندہ بعد شامل تھیں ان کے ساتھ فلم لفنگے بھی ریلیز ہوئی لفنگے کا بزنس مایوس کن رہا. جبکہ ان فلموں کے ساتھ ہالی وڈ تھار بھی ریلیز ہوئی لیکن لندن نہیں جائونگا اور قائداعظم زندہ باد نے تھار کی موجودگی میں

    اچھا بزنس کیا. اب سال ختم ہونے میں صرف چاہ ماہ باقی ہیں اور ان چار ماہ میں جو فلمیں‌ریلیز ہونے جا رہی ہیں ان کے نام کچھ یوں‌ہیں.انتظار ، دا لیجنڈ آف مولا جٹ ، نیلوفر ، شاٹ کٹ ، ڈوڈا ، کارما ، ضرار ، یارا وے ، ٹچ بٹن ، آسمان بولے گا. ان میں‌ سے زیادہ تر فلمیں بڑے بجٹ کی بڑی کاسٹ کے ساتھ ہیں امید کی جا رہی ہے کہ یہ سب فلمیں‌باکس آفس بہت اچھا بزنس کریں گی. مجموعی طور پر دیکھیں تو یہ سال فلموں کی ریلیز کے حوالے سے کافی حوصلہ فزاء رہا ہے.

  • سینما اور پروڈیوسرز کی آمدن انکم ٹیکس سے استثنیٰ قرار

    سینما اور پروڈیوسرز کی آمدن انکم ٹیکس سے استثنیٰ قرار

    گزشتہ روز پیش کئے گئے بجٹ 2022-23 میں سینما اور پروڈیوسرز کی آمدن کو انکم ٹیکس سے استثنیٰ قرار دے دیا گیا-

    باغی ٹی وی : اپریل سے جون کے درمیان 214 ارب روپے کی سبسڈی ادا کی گئی،آئندہ مالی سال پیٹرولیم کے شعبے کو 71 ارب روپے کی سبسڈی مہیا کریں گے،حکومت کی جانب سے جلد گیس کے نئے نرخوں کا اعلان کیا جائے گا،صنعتوں کو خطے کے دیگر ممالک کے ریٹ کے مطابق گیس فراہم کی جائے گی،نئے مالی سال میں ہائی ایجوکیشن کے لیے 65 ارب روپے مختص کی گئی،ہائی ایجوکیشن کے لیے 44 ارب روپے اضافی رکھے گئے،نئے مالی سال فصلوں اور مویشیوں کی تعداد بڑھانے کے لیے 21 ارب روپے مختص کئے گئے،فصلوں اور مویشیوں کی پیداوار کے لیے 3 سالا پروگرام مرتب کیا گیا ،موسمیاتی تبدیلوں کے اثرات، اسمارٹ زرعات کا فروغ اور ایگرو پرسیسنگ منصوبے میں شامل ہیں ،یوتھ امپلائمنٹ پالیسی کے تحت 20 لاکھ روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں گے،گرانٹ کی صورت میں 1242 ارب روپے رکھے گئے،نوجوانوں کو کاروبار کے لیے 5 لاکھ تک بلا سود قرض فراہم کیا جائے گا،نئے بجٹ میں ڈھائی کروڑ روپے تک آسان اقساط پر قرض دیا جائے گا،نئے بجٹ میں قرضہ اسکیم میں 25 فیصد کوٹہ خواتین کا ہوگا،نئے بجٹ میں گرین یوتھ مومینٹ کے تحت لیپ ٹاپ دیئے جائیں گے،ملک میں 250 منی اسپورٹس اسٹیڈیم قائم کیے جائیں گے،گیارہ سے 25 سال کی عمر کے افراد کے لیے” ٹیلنٹ ہنٹ” ہوگا-

    بجٹ 2022 تا 2023 موبائل کی درآمد پر بھی 1600 تک لیوی عائد

    بجلی کی پیداوار اور ترسیل کی مد میں 73 ارب روپے مختص کئے گئے ،مہمند ڈیم کی تعمیر کے لیے 12 ارب روپے رکھے گئے،آبی وسائل کے لیے 100 ارب روپے کی رقم مختص کی گئی،شا ہراہوں اور بندرگاہوں کے لیے 202 ارب روپے کی رقم مختص کی گئی،سماجی شعبے کے لیے 40 ارب روپے کا تخمینہ لگایا گیا،اعلیٰ تعلیم کے منصوبوں کے لیے 51 ارب روپے مختص کئے گئے،صحت کے اداروں کی صلاحیت بڑھانے کے لیے 24 ارب روپے مختص کئے گئے،ماحولیات 10 ارب روپے مختص،آئی ٹی شعبے کے لیے 17 ارب روپے مختص کئے گئے،زراعت اور فوڈ سیکیورٹی کے لیے 11 ارب روپے مختص کئے گئے،صنعت ور زرعی پیداوار کے لیے 5 ارب روپے مختص کئے گئے،سینما اور پروڈیوسرز کی آمدن کو انکم ٹیکس سے استثنیٰ قراردیاگیا،ڈسٹری بیوٹرز اور پروڈیوسرز پر عائد 8 فیصد ودہولڈنگ ٹیکس ختم کیا گیا،فلم وڈراموں کی وآلات کی امپورٹ پر کسٹم ڈیوٹی 5 سال کےلیےختم کر دی گئی ،نئی فلم ، ڈراموں کے لیے آلات منگوانے پر سیلز ٹیکس صفر کیا گیا،نئی فلم ، ڈراموں کے لیے آلات منگوانے پر انٹرٹینمنٹ ڈیوٹی ختم کی گئی،نیشنل فلم انسٹیٹیوٹ ، پوسٹ فلم پروڈکشن فسیلٹی اور نیشنل فلم اسٹوڈیو کا قیام ہوگا،تنخواہ دار طبقے کے لیے ٹیکس چھوٹ 12 لاکھ روپے کرنے کی تجویزدی گئی،بزنس انڈیویجول اے او پیز کے لیے انکم ٹیکس چھوٹ کی حد 6 لاکھ روپےکردی-

    دوری جانب چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے وفاقی حکومت کے بجٹ کو مسترد کردیا ہے عمران خان نے کہا کہ حکومت کے عوام اور کاروبار دشمن بجٹ کو مسترد کرتے ہیں،بجٹ افراط زر، اقتصادی ترقی کے مفروضوں پر مبنی ہے،حساس قیمتوں کا انڈیکس آج 24 فیصد تک جا پہنچا ہے، اعداد و شمار سے واضح ہے کہ مہنگائی کی شرح 25 سے 30 فیصد ہوگی-

    ‏چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے وفاقی بجٹ مسترد کردیا