Baaghi TV

Tag: سینیٹر رحمان ملک

  • پاک فوج پر بزدلانہ حملے کی مذمت،  شہداء کو سلام و خراج عقیدت پیش،  سینیٹ اجلاس

    پاک فوج پر بزدلانہ حملے کی مذمت، شہداء کو سلام و خراج عقیدت پیش، سینیٹ اجلاس

    سینیٹر رحمان ملک کی زیرصدارت سینیٹ قائمہ کمیٹی داخلہ کا اجلاس منعقد ہوا۔ سینیٹ قائمہ کمیٹی داخلہ کے اجلاس میں اعتزاز احسن خصوصی طور پر شریک ہوئے- سینیٹ قائمہ کمیٹی داخلہ کا ‏جنوبی وزیرستان میں پاک فوج کے چار جوانوں کی شہادت پر گہرے دکھ و افسوس کا اظہارکیا گیا- کمیٹی نے وزیرستان میں پاک فوج کےشہداء کے لئے فاتحہ خوانی کی گئی-

    سینیٹر رحمان ملک کا کہنا تھا کہ کیمٹی دہشتگردوں کی طرف سے پاک فوج پر بزدلانہ حملے کی شدید مذمت کرتی ہے- اللہ تعالی شہداء کی قربانی کو قبول اور اعلٰی مقام عطا فرمائے- شہید جوانوں کے خاندانوں کے غم میں برابر کے شریک ہیں- شہداء اور شہداء کے لواحقین کو سلام و خراج عقیدت پیش کرتے ہیں- ہمارے شہداء کا خون رائیگاں نہیں جائے گا، شکست دشمن عناصر کا مقدر ہے- سخت اپریشن کے ذریعے جنوبی وزیرستان کو ان سفاک دھشتگردوں سے مکمل پاک کیا جائے- دشمن عناصر اسطرح کے بزدلانہ حملوں سے ملک میں امن و امان برباد کرنا چاہتے ہیں-

    سینیٹر رحمان ملک نے مزید کہا کہ دشمن اپنی مذموم عزائم میں کبھی کامیاب نہیں ہونگے- بھارت افغانستان کی سرزمین کو پاکستان کیخلاف دھشتگردانہ واقعات کے لئے استعمال کر رہا ہے- حکومت پاکستان دھشتگردانہ حملوں کا معاملہ حکومت افغانستان کیساتھ اٹھایا جائے- حکومت سے ایک بار پھر مطالبہ کرتا ہوں کہ مودی کیخلاف عالمی عدالت انصاف میں جائے- یہ کمیٹی ہر اجلاس میں مظلوم کشمیریوں کیساتھ اظہار یکجہتی کا اظہار کرتی آئی ہے-

  • سرکاری ملازمین پرلاٹھی چارج نہیں شفقت کا برتاؤ کیا جائے، رحمان ملک

    سرکاری ملازمین پرلاٹھی چارج نہیں شفقت کا برتاؤ کیا جائے، رحمان ملک

    چئیرمین قائمہ کمیٹی داخلہ سینیٹر رحمان ملک نے سرکاری ملازمین پر تشدد اور گرفتاری کی شدید مذمت کا اظہار کیا ہے-

    سینیٹر رحمان ملک نے سرکاری ملازمین پر تشدد اور گرفتاری پر بیان دیتے ہوئے کہا کہ سرکاری ملازمین کے پرامن احتجاج پر حکومتی تشدد قابل مذمت اور افسوس ہے- سرکاری ملازمین کے مطالبات سن کر معاملہ باہمی افہام و تفہیم کیساتھ حل کرنا چاہئے- سرکاری ملازمین ہماری سوسائٹی کا پسا ہوا طبقہ ہے- سرکاری ملازمین کا اپنے مطالبات کے لئے پرامن احتجاج جائز ہے- لاٹھی چارج و گرفتاریوں کی بجائے سرکاری ملازمین کے ساتھ شفقت کا برتاؤ کیا جائے- گرفتار سرکاری ملازمین کو جلد رہا کیا جائے اور انکے مطالبات پورے کئے جائے-

  • ہزاروں جعلی سوشل میڈیا اکاؤنٹس، سائبرقانون سازی کی سخت ضرورت، سینیٹر رحمان ملک

    ہزاروں جعلی سوشل میڈیا اکاؤنٹس، سائبرقانون سازی کی سخت ضرورت، سینیٹر رحمان ملک

    سینیٹر رحمان ملک کا سینیٹ قائمہ کمیٹی آئی ٹی میں اظہار خیال سامنے آگیا-

    سینیٹر رحمان ملک نے سینیٹ قائمہ کمیٹی آئی ٹی میں کہا کہ ہزاروں جعلی سوشل میڈیا اکاؤنٹس چلائے جا رہے ہیں- جعلی اکاؤنٹس کو مختلف مقاصد کے لئے استعمال کئے جا رہے ہیں- جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے مختلف لوگوں کی کردارکشی سمیت توہین آمیز مواد بھی پھیلائے جارہے ہیں- ہم نے ایک ہارڈ وئیر کا بندوبست کیا تھا تاکہ اسطرح اکاؤنٹس کو فوری بند کیا جا سکے- پی ٹی اے بتائے کہ اس ہارڈ وئیر کا کیا بنا کیا اب تک اس پر کام ہورہا ہے- مختلف ناموں سے پروپیگنڈہ کے لئے جعلی اکاؤنٹس بنائے گئے ہیں-

    اعتزاز احسن کے نام سے ٹویٹر پر جعلی اکاونٹ چلایا جا رہا ہے- اعتزاز احسن نے کئی بار ایف آئی اے کو اسکی شکایت درج کروائی ہے- کئی ماہ گزرے مگر اعتزاز احسن کے نام سے جعلی اکاونٹ بند نہیں کیا جا سکا- اب سوشل میڈیا کا وقت ہے اسطرح چیزوں کو کنٹرول کرنے کیلئے قانون سازی کی ضرورت ہے- سائبر قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کیخلاف سخت قانونی کاروائی ہونی چاہیے-آئی ٹی منسٹری اب تک پنشنز پر فیصلہ نہیں کر سکی- کمیٹی کے ہر اجلاس میں پی ٹی سی ایل ملازمین کے پنشنز کا مسئلہ اٹھایا جارہا ہے- پی ٹی سی ایل کا معاملہ ایف آئی اے کو ریفر کیا جائے تاکہ تحقیق ہوجائے- ہر بار باور کیا جاتا ہے کہ پنشنز ادا کئے جائینگے مگر معلوم ہوتا ہے کہ نہیں ملے ہیں-

    ذیلی کمیٹی نے بھی پی ٹی ای ٹی کے ملازمین کے پنشن میں اضافے کے معاملے پر کئی اجلاس کئے- سب کمیٹی نے اپنی سفارشات پر مبنی ایک جامع رپورٹ سینیٹ قائمہ کمیٹی آئی ٹی کو جمع کیا تھا- سینیٹ قائمہ کمیٹی آئی ٹی نے سب کمیٹی کی سفارشات کو منظور کرکے سینیٹ میں بھیجے تھے- سفارشات کو سینیٹ ہاوس نے منظور کرکے ساٹھ دنوں میں لاگو کرنے کے احکامات دئیے ہیں-عدالت پہلے ملازمین کو پنشن میں اضافے کی ادائگیوں کے احکامات دے چکی ہے-

  • کیا پاکستان میں سوشل میڈیا کو کنٹرول کرنے کا امکان ہے؟ رحمان ملک نے  اشارہ کردیا

    کیا پاکستان میں سوشل میڈیا کو کنٹرول کرنے کا امکان ہے؟ رحمان ملک نے اشارہ کردیا

    سینیٹ میں قائمہ کمیٹی برائے آئی ٹی کا اجلاس منعقد ہوا-

    سینیٹ قائمہ آئی ٹی کے اجلاس میں سینیٹر رحمان ملک نے کہا کہ سوشل میڈیا کو کنٹرول کرنے کیلئے ہمیں سعودی عرب اور یو اے ای کا ماڈل اپنانا چاہئے- توہین آمیز و قابل اعتراض مواد لگانے والوں کیخلاف سخت کارروائی ہونی چاہئے- سوشل میڈیا پر توہین رسالت پر مبنی مواد پھیلائے جا رہے ہیں- توہین رسالت کسی بھی مسلمان کے لئے ناقابل برداشت ہے-

    سوشل میڈیا آپریٹرز سے بات کیجائے کہ پاکستان میں اپنے دفاتر کھلے- سوشل میڈیا آپریٹرز کے دفاتر کھلنے سے ایسے قابل اعتراض مواد فوری ہٹانا ممکن ہو جائیگا-

  • بچوں کے ساتھ زیادتی کے کیسسز میں سخت ترین سزا : بل منظور

    بچوں کے ساتھ زیادتی کے کیسسز میں سخت ترین سزا : بل منظور

    سینٹ قائمہ کیمٹی برائے داخلہ کا سینیٹر رحمان ملک کی زیرصدارت اجلاس بچوں کے ساتھ زیادتی کے بل پر بحث اور اکثریت کیساتھ منظور-

    سینیٹر رحمان ملک کا کہنا تھا کہ بچوں کیساتھ زیادتیوں میں آئے روز اضافہ ہورہا ہے جو قابل تشویش ہے- اس کمیٹی نے کمسن زینب سے زیادتی و قتل کا سوموٹو لیا تھا- کمیٹی نے ظالم قاتل کی سزا تک کیس کی پیروی کی اور انجام تک پہنچ گیا- وقت کی ضرورت ہے کہ ایسے ظالم مجرموں کو سخت سزا دی جائے- میں نے بچوں کیساتھ زیادتی کرنے والوں کے لئے سرعام پھانسی کی تجویز پیش کی تھی-

    مجھے کبھی تنقید کا سامنا کرنا پڑا جب میں نے بچوں کیساتھ زیادتی کرنے والوں کے لئے سرعام پھانسی کی سزا تجویز کی- سینیٹر جاوید عباسی کا کہنا تھا کہ بچے اور بچیوں کے ساتھ حادثہ ہوتا ہے تو ایک ہفتہ بات ہوتی اور پھر اگلے حادثے کا انتظار کرتے ہیں- 377میں عمر کا مطلب ٹل ڈیتھ سمجھا جائے- بچوں اور بچیوں کے ساتھ زیادتی کے کیسسز میں سزا سخت ترین ہونی چایئے- بچوں کے ساتھ زیادتی کے کیسسز میں فیملی کو بھی راضی نامے کی اجازت نہیں ہونی چاہیئے-اثرورسوخ والے لوگ فیملیز کو پیسے دے کر کیس ختم کروا دیتے ہیں- بچے اور بچیوں کے زیادتی کے کیسسز کا فیصلہ دو ماہ میں کرنے کا قانون بنایا جائے- بچے یہ بچیوں کے ساتھ زیادتی کرنے والوں کو سرعام پھانسی دینے کا قانون بنایا جائے-

    سینیٹر شہزاد وسیم نے کہا کہ زیادتی کے کیسسز میں پہلے ہی دو آرڈیننس آ چکے ہیں- ان آرڈیننس میں سخت سزاوں،سپیڈی ٹرائل کے ساتھ کمپنسیشن کا اپشن بھی موجود ہے- سینیٹر شہزاد وسیم کی بچوں کے ساتھ زیادتی کے کیسسز میں سرعام پھانسی کے بل کی مخالفت کردی- داخلہ کیمٹی نے زیادتی کے کیسسز میں سرعام پھانسی کے بل کی منظوری دے دی- سرعام پھانسی کے بل کے ساتھ پہلے سے بنے آرڈیننس بھی فاروڈ کئے جائیں گے- حکومت کو حق ہے کہ وہ کسی بھی بل کی مخالفت کرے-

  • سینیٹر رحمان ملک نے  بھارت  داعیش اور بلوچستان میں پھیلائی جانے والی بد امنی کے کلاوے جوڑدیئے

    سینیٹر رحمان ملک نے بھارت داعیش اور بلوچستان میں پھیلائی جانے والی بد امنی کے کلاوے جوڑدیئے

    اسلام آباد (حمزہ رحمن) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کمیٹی چیئرمین سینیٹر رحمان ملک نے کہا کہ بھارت خود داعش کی پرورش کر رہا ہے اور بھارت میں داعش کے باقاعدہ ٹریننگ کیمپ موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہزارہ برادری پر ہونے والے حملوں،بلوچستان میں پھیلائی جانے والی بد امنی اور عالمی سطح پر بھارت کے خلاف ملنے والے شواہد عالمی برادری کی آنکھیں کھولنے کے لئے کافی ہیں۔ سینیٹر رحمان ملک نے کہا کہ بلوچستان میں داعش ایک عناصر تخریبی کاروائیوں میں ملوث ہیں اور وزارت داخلہ اس سلسلے میں کمیٹی کو تفصیلی رپورٹ پیش کرے اور اب تک جو اقدامات اٹھائے گئے ہیں اُس پر تفصیلی طور پر آگاہ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں مودی کے مظالم کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا اور ہم کشمیریوں کے حقوق کیلئے ہر سطح پر آواز اٹھائیں گے۔
    کرونا وباء سے تحفظ کیلئے ویکسین پر بات کرتے ہوئے سینیٹر رحمان ملک نے کہا کہ اگر چہ ویکسین دنیا کیلئے ای اچھی اور خوش آئند پیش رفت ہے لیکن مقبوضہ کشمیر کے عوام بھارتی سرکار کے ہاتھوں اس سہولت سے بھی محروم رہے گے اور ہمیں خود مقبوضہ کشمیر کے بھائیوں اور بہنوں کو یہ سہولت فراہم کرنی ہو گی۔
    انہوں نے کہا کہ نوجوانوں میں زونبی کے نام سے ایک نشہ متعارف کرایا جا رہا ہے جو کہ انتہائی خطرنا ک نشہ ہے جس سے بچے عجیب و غریب حرکا ت شروع کر دیتے ہیں اور اپنا ذہنی توازن برقرار نہیں رکھ پاتے۔ انہوں نے کہا کہ اس گنونے جرم میں ملوث عناصر کے خلاف کاروائی کی اشد ضرورت ہے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو چاہئے کہ اس کے خلاف سخت سے سخت کاروائی کرے۔

  • سینیٹر رحمان ملک کاسینیٹ قائمہ کمیٹی آئی ٹی کا اجلاس

    سینیٹر رحمان ملک کاسینیٹ قائمہ کمیٹی آئی ٹی کا اجلاس

    کیا وزارت آئی ٹی نے کوئی ایس او پی تیار کی ہے ریمورٹ اور پسماندہ علاقوں کی نشاندہی کرنے کیلئے؟ جہاں تک بلوچستان کی بات ہے تو وہان کن علاقوں کو پسماندہ قرار دیا گیا ہے اوربدقسمتی سے گلگت بلتستان کو ہمیشہ نظرانداز کیا گیا ہے. گلگت سے اترتے ہی بہت سے علاقے میں انٹرنیٹ تو دور موبائل نیٹ ورک بھی نہیں ہے.جن ریمورٹ ائیر یا میں نیٹ ورک دیا جارہا ہے اسکی طاقت کیا ہوگا. کیا نیٹ ورک کا سٹرنگتھ پسماندہ علاقوں میں وہی ہوگا کو جو ترقی یافتہ علاقوں میں ہوگا؟

    میں نے سنا ہے کہ مختلف نیٹ ورک سرویس کے ٹاورز غیرملکیوں کو فروخت کئے جارہے ہیں. اگر سچ ہے تو یہ بہت بڑا سیکورٹی رسک ہوگا آر میں اسکی بھرپور اختلاف کرونگا.کہیں ایسا نہ ہو تو ہمارے یہ ٹاورز کسی بھارت کے زیر اثر کمپنی کو نہ ملے. جیسے الیکشن کمیشن نے جو ایپ بنایا تھا اس کمپنی کا ہیڈ آفس میں حیدرآباد انڈیا میں تھا!! اور تواورآج بھی الیکشن کمیشن کے ویب سائٹ پر ہیکرز کے حملے ہوتے ہیں .ہمیں بھی اپنے ذمہ داریوں سے غافل نہیں ہونا چاہئے کہ کوئی ٹاور دشمن کے استعمال نہ آئے.