Baaghi TV

Tag: سینیٹ اجلاس

  • ہم افغان طالبان کے ساتھ تعمیری انگیجمنٹ چاہتے ہیں،پاکستان

    ہم افغان طالبان کے ساتھ تعمیری انگیجمنٹ چاہتے ہیں،پاکستان

    پاکستان کی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ افغانستان سے صرف ایک توقع ہےکہ وہ پاکستان کےجائز سکیورٹی خدشات حل کرے، افغان سرزمین پربی ایل اے اور ٹی ٹی پی سمیت دہشتگرد تنظیموں کےخلاف ٹھوس کارروائی کی جائے-

    سینیٹ اجلاس میں وزارت خارجہ کی جانب سے افغانستان سے متعلق تحریری جواب جمع کروایا گیا وزارت خارجہ کے مطابق بطور پڑوسی پاکستان ایک پرامن، مستحکم، خوشحال افغانستان کا خواہاں ہے، پاکستان نے افغان طالبان رجیم کے ساتھ مستحکم مصروفیت کی پالیسی اپنائی، افغانستان سے صرف ایک توقع ہےکہ وہ پاکستان کےجائز سکیورٹی خدشات حل کرے، افغان سرزمین پربی ایل اے اور ٹی ٹی پی سمیت دہشتگرد تنظیموں کےخلاف ٹھوس کارروائی کی جائے، افسوسناک ہےکہ افغان رجیم کی جانب سے ہماری کوششوں کا مثبت جواب نہیں دیا گیا۔

    جواب میں لکھا گیا کہ افغان رجیم کے اگست2021میں برسراقتدار آنے کے بعدافغان سرزمین سے کارروائیاں بڑھیں، گزشتہ برس افغانستان سے 5300 دہشت گرد حملے ہوئے جن میں 1200 جانیں ضائع ہوئیں، افغانستان میں موجود دہشتگرد تنظیمیں پاکستان اور دیگر ہمسایہ ممالک کے لیے خطرہ ہیں، افغانستان میں موجود دہشتگرد تنظیمیں علاقائی اورعالمی سکیورٹی کے لیے خطرہ ہیں-

    آذربائیجان کے نخچیوان ائیرپورٹ پر ایرانی ڈرون حملہ، 2 افراد زخمی

    وزارت خارجہ کے تحریری جواب کے مطابق اکتوبر2025میں افغان رجیم نے ٹی ٹی پی ٹھکانوں سےپاکستان کے خلاف جارحیت کی، ہم اپنی کارروائیوں میں دہشتگردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بناتے ہیں امن اور سفارتکاری کا حامی ہونے کی وجہ سےپاکستان مزیدکشیدگی نہیں چاہتا، ہم افغان طالبان کے ساتھ تعمیری انگیجمنٹ چاہتے ہیں، مذاکرات درست راستہ ہے،تنہائی نہیں، پاکستان کی سلامتی اور مختاری اور عوام کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔

    سعودیہ اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر آنےکی بات بھول جائیں، سابق سربراہ سعودی انٹیلی جنس

  • خیبرپختونخوا سے 8 نومنتخب سینیٹرز نے حلف اٹھا لیا

    خیبرپختونخوا سے 8 نومنتخب سینیٹرز نے حلف اٹھا لیا

    چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں خیبرپختونخوا سے منتخب ہونے والے 8 نومنتخب سینیٹرز نے سینیٹ رکنیت کا حلف اٹھا لیا۔

    خیبرپختونخوا سے منتخب 11 سینیٹرز میں سے 8 ارکان نے سینیٹ اجلاس میں رکنیت کا حلف اٹھایا۔ چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی نے نو منتخب اراکین سے حلف لیا اور انہیں مبارکباد پیش کی۔ حکومتی اور اپوزیشن اراکین نے بھی نومنتخب سینیٹرز کو مبارکباد دی۔حلف اٹھانے والے سینیٹرز میں سینیٹر طلحہ محمود، روبینہ خالد، فیصل جاوید، نورالحق قادری، مرزا محمد آفریدی، دلاور خان، عطا الحق اور نیاز احمد شامل ہیں۔ نیاز احمد مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور وفاقی وزیر امیر مقام کے صاحبزادے ہیں۔

    یاد رہے کہ خیبرپختونخوا سے سینیٹ کے حالیہ انتخابات میں 11 اراکین منتخب ہوئے جن میں آزاد امیدوار مراد سعید، فیصل جاوید، مرزا محمد آفریدی، نورالحق قادری، مسلم لیگ (ن) کے نیاز احمد، ،پیپلز پارٹی کے طلحہ محمود اور روبینہ خالد، جے یو آئی کے عطا الحق اور دلاور خان جبکہ خواتین نشست پر آزاد امیدوار روبینہ ناز، ٹیکنوکریٹ نشست پر اعظم سواتی (آزاد)شامل ہیں۔تاہم مراد سعید، اعظم سواتی اور روبینہ ناز نے تاحال سینیٹ رکنیت کا حلف نہیں اٹھایا۔

    علاوہ ازیں پنجاب سے مسلم لیگ (ن) کے حافظ عبدالکریم بھی سینیٹر منتخب ہوئے ہیں، یہ نشست سینیٹر ساجد میر کے انتقال کے بعد خالی ہوئی تھی۔پارلیمانی ذرائع کے مطابق باقی ماندہ سینیٹرز کے حلف اٹھانے کے لیے آئندہ اجلاس میں موقع دیا جائے گا۔

    وزیراعظم کا سستی بجلی پیکج ختم ہونے کو، ریلیف مرحلہ وار واپس

    زرمبادلہ کے ذخائر میں 6 کروڑ 90 لاکھ ڈالر کی کمی

    طالبان حکومت نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق رپورٹ مسترد کر دی

    نوکریاں نہ دیں تو مزدور طبقہ مخالف جماعتوں کا رخ کرے گا، برطانوی یونینز

  • اسلا م میں جن واقعات پرسزائے موت ہے وہ قانون رہنا چاہیے،وزیر قانون

    اسلا م میں جن واقعات پرسزائے موت ہے وہ قانون رہنا چاہیے،وزیر قانون

    سینیٹ اجلاس میں کئی بلز منظور کی منظوری دی گئی۔

    ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سردار سیدال خان ناصر کی زیر صدارت سینیٹ کا اجلاس ہوا جس میں حوالگی ملزمان، فوجداری قوانین ترمیمی بل اور پاکستان شہریت ترمیمی بلز منظور کر لیے گئےفیڈرل بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن ایکٹ میں مزید ترمیم کا بل بھی منظور کر لیا گیا –

    پاکستان شہریت ترمیمی بل 2025ء وزیر مملکت داخلہ طلال چودھری نے ایوان میں پیش کیابل کے مطابق کوئی بھی شہری پاکستانی شہریت چھوڑ کر اپنی شہریت حاصل کر سکے گا سینیٹ نے فوجداری قوانین ترمیمی بل 2025 بھی منظور کیا، بل وزیر مملکت طلال چودھری نے پیش کیا۔

    سینیٹ نے فوجداری قوانین میں ترمیم کا بل کثرت رائے سے منظورکیا جس کے تحت خاتون کو اغوا یا سرعام برہنہ کرنے والے کو پناہ دینے پرسزائے موت ختم کردی جائے گی سینیٹ سے پاس بل کے مطابق خاتون پر مجرمانہ حملہ کرنے یا اسے سرعام برہنہ کرنے پر ملزم کو بغیر وارنٹ گرفتار کیا جا سکے گا، جرم ناقابل ضمانت اور ناقابل مصالحت ہوگا جب کہ مجرم کو عمر قید ، جائیداد کی ضبطی اور جرمانے کی سزا ہوگی۔

    س حوالے سے سینیٹرعلی ظفر نے کہا کہ عورت کے کپڑے اتارنے پر سزائے موت برقرار رہنا چاہیے جب کہ سینیٹر ثمینہ ممتاز نے کہا کہ ہم عورت کو کمزور بنا رہے، یہ سزا باہر کے لوگوں کو خوش کرنے کیلئے کم کی جارہی ہے،اس موقع پر وزیر قانون سینیٹر اعظم نذیر تاررڑ کا کہنا تھا کہ یہ کیسے سوچ لیا کہ سزا کی سنگینی جرم کو روکتی ہے، موت کی سزا دینے سے جرائم کم نہیں ہوں گے، ہمارے پاس 100 جرائم میں سزائے موت ہے لیکن جرم کی شرح بڑھ رہی ہے-

    وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ پانی کے جھگڑوں پر مقدمہ بنا لیتے ہیں کہ عورت کے کپڑے اتارتے ہیں تاکہ اگلے کو سزا موت ہوجائے، شریعت کے مطابق 4 جرم کے علاوہ کسی جرم پر سزائے موت نہیں ہونی چاہیے سزائے موت دینے سے جرائم میں کمی نہیں آئے گی، معاشرے میں قانون کا غلط استعمال کیا جاتا ہے، اسلا م میں جن واقعات پرسزائے موت ہے وہ قانون رہنا چاہیے، انہوں نے کہا کہ یورپ میں سزائے موت کی سزا نہیں لیکن کرائمز کی شرح کم ہے۔

    حکومت کا بیروزگاروں کیلئے بڑا فیصلہ

    سینیٹ میں وزیر مملکت برائے داخلہ نے حوالگی ملزمان ترمیمی بل 2025 پیش کیا جس پر بیرسٹر علی ظفر نے بل کی مخالفت کر دی، وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ ممالک کے مابین دو طرفہ طور معاملات ہوتے ہیں، حوالگی ملزمان کا ایک طریقہ کار طے ہے، ملزمان کا ممالک کے درمیان تبادلہ ہوتا رہتا ہے، بعد ازاں سینیٹ نے حوالگی ملزمان ترمیمی بل 2025 منظور کر لیا۔

    سینیٹ اجلاس میں فیڈرل بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن ایکٹ میں مزید ترمیم کا بل بھی کثرت رائے سے منظور کر لیا گیا سینیٹر علی ظفر نے سینیٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ موسمیات نے بارش کی پیشگوئی کر رکھی تھی،بارش کے باعث نقصان حکومتی ناکامی تھی لوگ جان بچانے کیلئے چھتوں پر کھڑے تھے، پی ڈی ایم اے اور این ڈے ایم اے والے کہاں تھے؟ متاثرین کی فوری امداد کیوں نہیں کی گئی؟ انہوں نے حالیہ تباہی اور حکومتی اقدامات سے متعلق رپورٹ مانگ لی۔

    ڈیوو پاک موٹرز کا تعلیمی تعاون، بابا گورو نانک یونیورسٹی کو جدید مشینیں فراہم

    اس موقع پر ڈپٹی چیئرمین سردار سیدال خان نے کہا کہ پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی جائے جو اس معاملے کو دیکھے، انہوں نے کہا کہ پیر کو بارشوں اور تباہی سے متعلق ایوان میں بات کریں گے، بعد ازاں سینیٹ کا اجلاس پیر کی شام 5بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔

  • نیشنل ایکشن پلان کے کچھ حصوں پر عملدرآمد نہیں ہوا، جس کا نقصان آج پوری قوم اٹھا رہی ہے، اسحاق ڈار

    نیشنل ایکشن پلان کے کچھ حصوں پر عملدرآمد نہیں ہوا، جس کا نقصان آج پوری قوم اٹھا رہی ہے، اسحاق ڈار

    سینیٹ اجلاس کے دوران نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نےکہا کہ پاکستان ہر صورت میں اپنے بچوں کے قاتلوں کا حساب لے گانیشنل ایکشن پلان کے کچھ حصوں پر عملدرآمد نہیں ہوا، جس کا نقصان آج پوری قوم اٹھا رہی ہے۔

    جمعرات کو جاری سینیٹ اجلاس کے دوران نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے خضدار کے سانحے کو ’’ناقابل برداشت‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ بھارت اپنی پراکسیز سے باز آ جائے، پاکستان ہر صورت میں اپنے بچوں کے قاتلوں کا حساب لے گانیشنل ایکشن پلان کے کچھ حصوں پر عملدرآمد نہیں ہوا، جس کا نقصان آج پوری قوم اٹھا رہی ہے۔ ہم نے بارڈرز کھول کر 35 سے 40 ہزار افراد کو ملک میں داخل ہونے دیا، اور ان میں سے بعض ہی ہمارے لیے آج فتنہ بنے ہوئے ہیں اس فتنہ کو ختم کرنا ہوگا اور حکومت اس معاملے کو سنجیدگی سے دیکھ رہی ہے۔

    سینیٹر شیری رحمان نے بھی واقعے پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ بچوں کو اسکول جاتے ہوئے نشانہ بنایا گیا، یہ کھلی دہشتگردی ہے پاکستان نے ہمیشہ دہشتگردی کے خلاف جنگ لڑی اور قربانیاں دیں، ہم نے محترمہ بینظیر بھٹو کو دہشتگردی میں کھویا، بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے کئی لوگ شہید ہوئے۔

    شیری رحمان نے بھارت کی مداخلت کے ثبوتوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کلبھوشن یادیو کی گرفتاری اس بات کا ثبوت ہے کہ بھارت پاکستان میں دہشتگرد کارروائیوں میں ملوث ہے، لیکن بھارت آج تک کسی واقعے کا کوئی ثبوت پیش نہیں کر سکا 87 گھنٹے کی حالیہ جنگ میں بھی بھارت نے عام شہریوں کو نشانہ بنایا، جب کہ پاکستان نے صرف فوجی اہداف پر جواب دیا۔

    خضدار واقعے پر بحث کے دوران سینیٹر ایمل ولی خان نے کہا کہ ایسے شاید جانوروں کو بھی نہ مارا جائے جیسے ہمارے معصوم بچوں کو مارا گیا۔ انہوں نے اے پی ایس سانحے کے بعد بننے والے نیشنل ایکشن پلان پر عدم عملدرآمد پر شدید تنقید کی اور کہا کہ اگر نیشنل ایکشن پلان پر عمل نہیں ہوگا تو ایسے واقعات ہوتے رہیں گے۔

    ایمل ولی خان نے سوال اٹھایا کہ کیا اُن افسران کے خلاف کوئی کارروائی ہوگی جنہوں نے اس پالیسی پر عمل نہیں کیا؟ ان کا کہنا تھا کہ پچاس سال میں یہ طے نہیں ہوسکا کہ طالبان گڈ ہیں یا بیڈ، یہ بھی طے نہیں ہو سکا کہ یہ دہشتگرد ہیں یا اسٹریٹیجک اثاثے؟بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے عوام اب پراکسی جنگوں سے تنگ آ چکے ہیں۔ ہمیں امن امریکہ یا سعودیہ سے نہیں، اپنے دفاعی ادارے سے چاہیے۔

    ایمل ولی خان نے مزید کہا کہ وفاق میں 50، 60 وزارتیں بیٹھی ہیں، کیا کر رہی ہیں؟ خطے میں امن کی پالیسی اپنانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں ایران اور افغانستان سے بات کرنی چاہیے، اور مفروضوں سے نکل کر تجارت کی طرف جانا ہوگا۔

    ایمل ولی خان نے گزشتہ روز چئیرمین پی ٹی اے کے متنازع ریمارکس پر احتجاج کا معاملہ بھی اجلاس میں اٹھایا، جس پر چئیرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی نے معاملہ استحقاق کمیٹی کو بھجوا دیا اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار سے بھی رائے طلب کرلی۔

    سینیٹر فیصل واوڈا نے ملک کی سلامتی اور دفاعی صلاحیت کو مضبوط بنانے کیلئے دفاعی بجٹ میں دو سے تین گنا اضافے کی پرزور تجویز دی ہے انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنا پیٹ کاٹ کر دفاعی بجٹ کو بڑھانا پڑے گا، ہمیں ترقیاتی منصوبوں کی بجائے اب دفاع پر توجہ مرکوز کرنی ہو گی۔

    فیصل واوڈا نے کہا کہ افواج پاکستان کی تنخواہوں کو دوگنا کرنا وقت کی ضرورت ہے اور بھارت کے مقابلے کے لیے حکمت عملی پر بھی سنجیدہ سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بھارت سے جنگ کو منطقی انجام تک پہنچا کر ہی ہمیں ترقی کے بار ے میں سوچنا چاہیے، ہم محفوظ ہاتھوں میں ہیں اور قوم متحد ہے، اب دیکھنا یہ ہے کہ بجٹ کو کیسے دو یا تین گنا کیا جائے۔

    سینیٹر فیصل واوڈا نے بھارتی جارحیت پر پاکستان کے منہ توڑ جواب کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ پاک افواج نے حالیہ معرکہ میں دشمن کے 285 اہلکاروں کو ہلاک کیا پاک فوج نے اپنی پیشہ ورانہ صلاحیت کا بھرپور مظاہرہ کیا اور چیف آف آرمی اسٹاف جنرل سید عاصم منیر کی واضح ہدایت تھی کہ کسی سویلین کو نقصان نہ پہنچے۔

    فیصل واوڈا نے کہا کہ بھارت پاکستان کو کمزور سمجھ بیٹھا تھا، لیکن ہماری افواج نے جرات مندانہ جواب دے کر دشمن کو اس کی اوقات یاد دلا دی ہم ہندوستان کے سامنے اپنی طاقت واضح کرچکے ہیں حکومت کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اپوزیشن کو اعتماد میں لے، یہ سب کچھ اپوزیشن کو ساتھ ملائے بغیر ممکن نہیں ہوگا،وہ دل بڑا کرے اور اپوزیشن سے اختلافات کو طے کرنے کیلئے سنجیدگی سے بات چیت کرے،بھارت کی فوج کی تعداد ہم سے زیادہ ہے، لیکن ہم نے ابھی تک اپنا بھرپور دفاع کیا ہے اور ہماری قوم اور فوج ہر سطح پر تیار ہے۔

    اجلاس کے دوران سینیٹ نے سینیٹر آغا شاہزیب درانی کی تحریک کو متفقہ طور پر منظور کر لیا جس کے تحت سانحہ خضدار پر بحث کے لیے وقفہ سوالات معطل کر دیا گیا۔

    اس موقع پر سینیٹر انوار الحق کاکڑ نے جذباتی تقریر کرتے ہوئے کہا کہ معصوم بچوں کی شہادت کا دلخراش واقعہ ہوا ہے اور ہمیں اس پر آواز اٹھانے دی جائے انہوں نے آر ایس ایس اور بی جے پی کی شدت پسند سوچ کو پاکستان پر حملوں کا ذمہ دار قرار دیا،ا نوار الحق کاکڑ ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کی تقریر ختم کرنے کی ہدایت پر برہم دکھائی دئیے اور کہا، ’اگر یہاں بات نہیں کرنی تو پھر ٹک ٹاک یا یوٹیوب بنانا شروع کر دوں؟‘

    خضدار میں اسکول جاتی تین معصوم بچیوں کی شہادت کو سینیٹر عرفان صدیقی نے انسانیت کے خلاف بدترین جرم قرار دیتے ہوئے کہا کہ خضدار میں جو واقعہ ہوا اس کی مذمت کے لیے الفاظ نہیں کرہ ارض پر کوئی اتنا سنگدل کیسے ہوسکتا ہے؟ یہ کون سے حقوق مانگے جا رہے ہیں؟ معصوم بچیوں کو اسکول جاتے ہوئے شہید کر دینا درندگی ہے اس دہشتگردی کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہے، جو نہ صرف ان گروہوں کو فنڈنگ دے رہا ہے بلکہ اسلحہ اور تربیت بھی فراہم کرتا ہے۔

    سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا کہ بھارت ہمارا دشمن ہے جس میں دشمنی کا بھی سلیقہ نہیں، اور اب وقت آ گیا ہے کہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کر دیا جائے انہوں نے زور دیا کہ یہ دہشتگرد کسی ناراضی یا حقوق کے لیے نہیں، بلکہ ایک پیشہ ورانہ سلسلہ بنا چکے ہیں، اور ان کے ساتھ کسی قسم کی ہمدردی نہیں برتی جانی چاہیے ہماری تین بچیوں کا خون رائیگاں نہیں جائے گا، اس خون سے جو انقلاب آئے گا وہ بھارت کو بہت تکلیف دے گایہ دہشتگرد ہیں، ان کو کچلا جائے، ان پر رحم نہ کیا جائے، اور نہ ہی ان کی حمایت میں کوئی آواز اٹھنی چاہیے۔

  • سینیٹ اجلاس میں سیکیورٹی فورسز پر الزام لگانے پر اراکین میں تلخ کلامی

    سینیٹ اجلاس میں سیکیورٹی فورسز پر الزام لگانے پر اراکین میں تلخ کلامی

    سینیٹ اجلاس کے دوران بلوچستان سے تعلق رکھنے والے وکیل کے مبینہ اغوا پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے سینیٹر کامران مرتضیٰ اور سابق نگراں وزیراعظم و سینیٹر انوارالحق کاکڑ کے درمیان شدید تلخ کلامی ہوگئی۔

    باغی ٹی وی کے مطابق سینیٹ کا اجلاس ڈپٹی چیئرمین سیدال خان ناصر کی زیر صدارت ہوا، جس میں سینیٹر کامران مرتضیٰ نے دعویٰ کیا کہ 18 مئی کی رات بلوچستان بار کونسل کے جنرل سیکرٹری عطا اللہ بلوچ کو اغوا کر لیا گیا، اور اس واقعے میں سیکیورٹی فورسز کے ملوث ہونے کا الزام عائد کیا۔کامران مرتضیٰ نے کہا کہ وکالت ایک مقدس پیشہ ہے، اور اس طرح کے اقدامات سے نہ صرف اس پیشے کی توہین ہوتی ہے بلکہ قومی یکجہتی کو بھی نقصان پہنچتا ہے۔

    اس بیان پر ردعمل دیتے ہوئے انوارالحق کاکڑ نے کامران مرتضیٰ پر شدید تنقید کی اور کہا، ’’آپ خود ہی جج بن کر فیصلہ سنا رہے ہیں کہ اغوا میں سیکیورٹی فورسز ملوث ہیں، میں اس الزام کی سختی سے مذمت کرتا ہوں۔اس پر کامران مرتضیٰ نے سوال کیا، ’’کیا آپ یہاں سیکیورٹی فورسز کی نمائندگی کر رہے ہیں؟ جس پر انوارالحق کاکڑ نے جواب دیا، ’’جی ہاں، میں نمائندگی کرتا ہوں۔

    دونوں سینیٹرز کے درمیان گرما گرم جملوں کا تبادلہ اتنا شدید ہو گیا کہ دیگر ارکان کو مداخلت کرکے دونوں کو بٹھانا پڑا۔ ڈپٹی چیئرمین نے مداخلت کرتے ہوئے ہدایت کی کہ تمام ارکان صرف چیئر کو مخاطب کر کے بات کریں۔وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے بھی معاملے پر بات کرتے ہوئے کہا، ’’کسی پر بغیر ثبوت الزام لگانا مناسب نہیں، ہماری سیکیورٹی فورسز اس وقت ملک کے دفاع کے لیے جانوں کا نذرانہ دے رہی ہیں۔ تنقید حق ہے، لیکن ذمہ داری کے ساتھ۔‘‘

    آخر میں ڈپٹی چیئرمین سیدال خان ناصر نے "سیکیورٹی فورسز” کے ذکر کو ایوان کی کارروائی سے حذف کرنے کی ہدایت جاری کی۔

    چین کی پاک بھارت کشیدگی پر تشویش، تحمل کا مشورہ

    روس کا یوکرین پر سب سے بڑا ڈرون حملہ، متعدد مکانات تباہ، خاتون ہلاک

    بلوچستان میں فورسز کی کارروائیاں، بھارتی حمایت یافتہ 3 دہشت گرد ہلاک

  • ہم نے دنیا پر ثابت کیا کہ بھارت غلط بیانی کر رہا ہے،اسحاق ڈار

    ہم نے دنیا پر ثابت کیا کہ بھارت غلط بیانی کر رہا ہے،اسحاق ڈار

    اسحاق ڈار نے کہا ہم نے دنیا پر ثابت کیا کہ بھارت غلط بیانی کر رہا ہے، کچھ ممالک نے کہا بھارت دوبارہ مکا مارے گا، میں نے کہا بھارت پھر جوابی مکا بھی کھائے گا۔

    سینیٹ نے بھارتی جارحیت کے خلاف مسلح افواج کی کارروائی پر قرار داد متفقہ طور پر منظور کرلی، وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے مسلح افواج سے متعلق قرار داد ایوان میں پیش کی، جسے متفقہ طور پر منظور کرلی گئی،قرار داد میں کہا گیا ہے کہ آرمی، ایئر فورس اور نیوی نے پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کیا اس آپریشن نے پاکستان کی خود مختاری کا تحفظ کیا، آپریشن پختگی سے کیا گیا۔

    قرار داد میں بھارت کو منہ توڑ جواب پر پاک فوج کو زبردست خراجِ تحسین کیا گیا ہے۔ متن میں پاکستان کا علاقائی اور عالمی امن کے مکمل عزم کا اعاد کیا گیا ہے۔

    اس کے علاوہ قرارداد میں مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرنے کا مطالبہ کیا گیا جبکہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کی مسترد کرتے ہوئے اسے پاکستان کی سلامتی کا مسئلہ قرار دیا گیا ہے۔

    قرارداد میں لکھا گیا ہے کہ آپریشن بُنیان مرصوص کو کامیابی سے تکمیل ہونے پر افواج پاکستان کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں، پاکستان کی عوام کو مبارکباد پیش کرتے ہیں جنہوں نے سیاست کو بالائے طاق رکھتے ہوئے قومی یک جہتی کا ثبوت دیا گیا پروفیشنل ملٹری آپر یشن پر ایئر فورس کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں، پاکستان کی دفاعی صلاحیت کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔

    قرارداد میں بھارت کی طرف سے پاکستان میں مساجد معصوم شہریوں پر حملہ کی مذمت بھی کی گئی ہے جبکہ کہا گیا ہے کہ پاکستان ہمیشہ امن کا خواہاں رہے گا، پاکستان تمام مسائل کا حل ہمیشہ بات چیت کرنے کا خواہاں ہے مسئلہ کشمیر پر بھی مذاکرات کا خواہش مند ہےپاکستان کسی بھی طرح کے مس ایڈونچر کا بھارت کو بھرپور جواب دیتا رہے گا۔

    سینیٹ اجلاس میں اسحاق ڈار نے کہا ہم نے سینیٹ میں متفقہ قرارداد منظور کی، انھوں نے کہا پہلگام واقعے کے بعد بھارت نے یکطرفہ اقدامات کیے، قومی سلامتی کمیٹی نے بھارتی اقدامات کے پیش نظر فیصلے لیے بین الاقوامی برادری پاکستان اور بھارت سے رابطے میں تھی، تمام ممالک سے ہم سفارتی رابطے میں تھے، سب ممالک کہہ رہے تھے کہ آپ ایٹمی طاقت ہیں، ساٹھ وزرائے خارجہ، وزرائے اعظم سے میری فون پر بات ہوئی تھی۔

    انہوں نے کہا سب کو کہا تھا کہ ہم صبر سے چل رہے ہیں، انھیں کہا تھا ہم پہلے جارحیت نہیں کریں گے، اس بار بھارت کا بیانیہ نہیں بکاہم نے دنیا پر ثابت کیا کہ بھارت غلط بیانی کر رہا ہے، کچھ ممالک نے کہا بھارت دوبارہ مکا مارے گا، میں نے کہا بھارت پھر جوابی مکا بھی کھائے گا، بھارت کے چھ طیارے گرائے گئے، وہ اسے ہضم نہیں ہوا، ہمارے ایک جہاز کو بھی نقصان نہیں ہوا پاکستا ن پر الزام تراشی بھارت کا پرانا وتیرہ ہے، پہلگام واقعہ کے فوری بعد بھارت نے الزام پاکستان پر لگا دیا، ہم نے پہلے کہہ دیا تھا کہ ہم ادلے کا بدلہ دیں گے-

  • سینیٹ اجلاس: اراکین پارلیمنٹ کی تنخواہوں اور الاؤنسز سے متعلق ترمیمی بل 2025 منظور

    سینیٹ اجلاس: اراکین پارلیمنٹ کی تنخواہوں اور الاؤنسز سے متعلق ترمیمی بل 2025 منظور

    اسلام آباد: سینیٹ کے اجلاس کے دوران اراکین پارلیمنٹ کی تنخواہوں اور الاؤنسز سے متعلق ترمیمی بل 2025 منظور کرلیا گیا،جبکہ دیت سے متعلق بل قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کے سپرد کردیا گیا۔

    باغی ٹی وی : سینیٹر دنیش کمار نے ارکان پارلیمنٹ کی تنخواہوں اور الائونسز سے متعلق ترمیمی بل سینیٹ میں پیش کیا، اس دوران وفاقی وزیر قانون سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے بل کی مخالفت نہیں کی، اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ بل کی منظوری پر مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے، قومی اسمبلی نے حال ہی میں ہاؤس فنانس کمیٹی کو تنخواہوں اور الائونسز سے متعلق اختیار دیا،سینیٹ میں بھی ہاؤس فنانس کمیٹی کو تنخواہو ں اور الائونسز سے متعلق اختیار دیا جارہا ہے، دونوں ایوانوں میں اب یکساں پالیسی ہوگی، اس لیے مخالفت نہیں کی –

    اجلاس کے دوران دیت سے متعلق سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری کا بل قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کے سپرد کردیا گیا۔

    مراکش کشتی حادثے میں ایک اور پاکستانی کے زندہ بچ جانے کی تصدیق

    وزیرقانون نے کہا کہ دیت کی کم سے کم حد متعین ہے لیکن زیادہ سے زیادہ دیت کی حد مقرر نہیں، راضی نامے کی صورت میں دیت طے کرنے کا حق ورثا اور متاثرہ شخص کے پاس ہےورثادیت کی رقم پچاس کروڑ اور ایک ارب بھی مانگ سکتے ہیں، عدالت نے طے کرنا ہے کہ کتنی دیت آرڈر کرنی ہے۔

    اس کے علاوہ سینیٹر محسن عزیز کا اسلام آباد صحت عامہ انضباط ترمیمی بل 2025 متعلقہ کمیٹی کے سپرد کردیا گیا سینیٹر محسن عزیز نے کہا کہ خیبرپختونخوا سے ہمارے سینیٹرز نہ ہونے کا ہمیں ایوان میں نقصان ہے ، ایک سال ہوگیا ہے خیبرپختونخوا میں سینٹ کا انتخاب نہیں ہوا۔

    صدرمملکت سے ایرانی آرمی چیف کی ملاقات

    جبکہ سینیٹر عبدالقادر کا دستور ترمیمی بل 2025 بھی متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کردیا گیا علاوہ ازیں قومی اسمبلی سیکرٹریٹ ملازمین ترمیمی بل 2024 سینیٹ سے منظور کرلیا گیا،بل سینیٹرز محسن عزیز کی جانب سے پیش کیا گیا۔

    اسی طرح سینیٹ اجلاس میں پاکستان سٹینڈرڈ اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی ترمیمی بل سے متعلق تحریک مسترد کردی گئی شبلی فراز نے پاکستان سٹینڈرڈ اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی ترمیمی بل کے متعلق تحریک پیش کی، جس میں کہا گیا کہ پاکستان کی بہت سی مصنوعات عالمی معیار کے مطابق نہیں پاکستان کی مصنوعات برآمد کے لیے عالمی معیار کے مطابق نہیں ہوتیں، پاکستان سٹینڈرڈ اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی ایک کرپٹ ادارہ بن چکا ہے اتھارٹی کو کراچی سے اسلام آباد لانے سے اس کی کارکردگی بہتر ہوگی

    ثانیہ مرزا کےا ماراتی بزنس ٹائیکون کیساتھ تعلقات کی خبریں

  • صحافی حضرات ہمیں معاشرے کی نبض بتاتے ہیں،اعظم نذیر تارڑ

    صحافی حضرات ہمیں معاشرے کی نبض بتاتے ہیں،اعظم نذیر تارڑ

    اسلام آباد: وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ حکومت نے صحافیوں کی ٹرولنگ کرنے والے عناصر کے خلاف انکوائری کا حکم دیا ہے۔

    باغی ٹی وی: چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی کی زیرِ صدارت سینیٹ اجلاس ہوا، پشاور کے آرمی پبلک اسکول (اے پی ایس) سانحہ کے شہدا کے لیے ایوان میں دعا کرائی گئی، دعا سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کرائی اجلاس کے دوران سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کہا کہ ہمیں سوچنا ہوگا کہ دعا کے ساتھ کیا دوا بھی کی ہے، جس پر چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ پہلے آج کا بزنس مکمل ہو جائے پھر اس پر بھی بات کرتے ہیں۔

    ملک میں بالخصوص اسلام آباد میں ہیروئن کے عادی افراد کی تعداد میں تشویشناک اضافہ کی تحریک پیش کی گئی، تحریک سینیٹر کامران مرتضیٰ نے پیش کی سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کہا کہ اسلام آباد میں ہیروئن کے عادی افراد کی تعداد میں اضافہ ہوتا جارہا ہے، وفاقی درالحکومت میں کھلے عام ہیروئن کے عادی افراد نظر آتے ہیں۔

    اس حوالے سے وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ نارکوٹس کے کنٹرول کے لیے اینٹی نارکوٹکس فورس کام کر رہی ہے، اینٹی نارکوٹکس کے تحت کارروائیوں میں لاکھوں ٹن نشہ تلف کیا جا چکا، پاکستان میں اس حوالے سے سزاؤں کی شرح بھی زیادہ ہے نشے سےمتاثرہ افراد کے لیے، بحالی سینٹروں کیلئے قانون بنایا گیا ہے، 27 سالوں سے ایک قانون موجود ہے لیکن کارکردگی خوش آئند نہیں، قانون کے تحت صوبوں نے بحالی سینٹرز پر کام کرنا تھا۔

    وفاقی وزیر قانون نے کہا کہ نشے سے متعلق قانون کے تحت سزاؤں پر اچھی پیشرفت ہے، بدقسمتی سے نشے سے متاثرہ افراد کی بحالی کے لیے پیشرفت نہیں، فیصلہ کیا ہے کہ یہ معاملہ وزیراعظم کے نوٹس میں لاؤں گا، معاملہ کابینہ کے سامنے رکھا جائے گا اور صوبوں سے بھی بات ہوگی۔

    دوران اجلاس صحافیوں کو دھمکیاں دینے اور ٹرولنگ کا معاملہ بھی ایوان میں زیر بحث آیا سینیٹر جام سیف اللہ نے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ کچھ صحافیوں اور اینکرز کو ایک مخصوص سیاسی جماعت کی جانب سے نشانہ بنایا جارہا ہے، ان صحافیوں کی ٹرولنگ کی جارہی ہے، دھمکیاں دی جارہی ہیں۔

    سینیٹر عرفان صدیقی کا کہنا تھا کہ ہم صحافیوں سے پوری طرح اظہار یکجہتی کرتے ہیں، یہ وہ صحافی ہیں جن کو اسی سیاسی جماعت کے دور میں نوکریوں سے نکالا گیا، ایک طبقہ کہتا ہے پاکستان میں کشمیر اور فلسطین سے زیادہ ظلم ہورہا ہے، میں اس معاملے کو وزیراعظم تک بھی پہنچاؤں گا، آوازوں کو بند کرنے کا کلچر ختم ہونا چاہیے۔

    وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ آج یہ معاملہ وزیر اطلاعات عطاتارڑ نے وزیراعظم کے ساتھ میٹنگ میں اٹھایا ہے، صحافی حضرات ہمیں معاشرے کی نبض بتاتے ہیں، آئین بھی اظہار رائے کی آزادی دیتا ہے، ہمیں ایک تحمل و برداشت والا معاشرہ چاہیے، حکومت نے ایسے عناصر کے خلاف جو صحافیوں کے خلاف ٹرولنگ کررہے ہیں، انکوائری کا حکم دے دیا ہے۔

    بعد ازاں سینیٹ کا اجلاس جمعرات شام ساڑھے چار بجے تک ملتوی کردیا گیا۔

  • سینیٹ اجلاس  اتوار ساڑھے بارہ بجے، قومی اسمبلی اجلاس اتوار 11 بجے تک ملتوی

    سینیٹ اجلاس اتوار ساڑھے بارہ بجے، قومی اسمبلی اجلاس اتوار 11 بجے تک ملتوی

    اسلام آباد: سینیٹ کا چار مرتبہ ملتوی ہونے والا اجلاس رات کو 8 بجے شروع ہونا تھا –

    باغی ٹی وی : مقررہ وقت پر عملے نے اجلاس کے پیش نظر گھنٹیاں بجائیں تاہم ڈیڑھ گھنٹے میں صرف 9 سینیٹر ایوان پہنچ سکے جبکہ اس دوران چیئرمین سینیٹ اور ڈپٹی چیئرمین بھی چیمبر سے غائب رہے،مسلم لیگ ن کے سینیٹر مصدق ملک 8 منٹ تاخیر سے پہنچے دوسرے دروازے سے نکل گئے جبکہ پیپلزپارٹی کی سینیٹر پلوشہ خان بھی ایک دروازے سے داخل ہوکر دوسرے سے واپس روانہ ہوگئیں۔

    اس کے بعد ن لیگ کے سینیٹر ساجد میر پہنچے اور وہ بھی دوسرے دروازے سے روانہ ہوگئے بعد ازاں 20 منٹ کی تاخیر کے بعد پیپلز پارٹی کی پلوشہ رحمان، شہادت اعوان، ایم کیو ایم کی خالدہ اطیب ایوان میں پہنچیں وزیر خزانہ محمد اورنگزیب ایک گھنٹہ تاخیر کے بعد ایوان میں پہنچے۔

    بعد ازاں سینیٹ اجلاس ڈپٹی چیئرمین سیدال خان کی زیر صدارت تین گھنٹے کی تاخیر سے شروع ہواجس میں صرف 37 اراکین شریک ہوئے جو اجلاس کے دوران بڑھ کر 51 ہو گئی۔ جس میں سے پیپلز پارٹی کے سینیٹرز کی ارکان کی بھی بڑی تعداد موجود ہے۔ چیئرمین سینیٹ کی فائل بھی ایوان میں پہنچا دی گئی۔

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے ارکان ایوان میں موجود نہیں ہیں۔ اجلاس کے دوران اپوزیشن کے 2 ارکان بھی ایوان میں پہنچے۔ جن میں ایم ڈبلیو ایم کے سینیٹر راجہ ناصر عباس اور نیشنل پارٹی کے جان بولیدی شامل ہیں۔

    اجلاس کی کارروائی کا آغاز ہونے کے بعد سینیٹر عرفان صدیقی نے وقفہ سوالات موخر کرنے کی قرارداد پیش کی جسے ایوان نے منظور کرلیا گیا جبکہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے بینکنگ کمپنیز ترمیمی بل ایوان میں پیش کیا۔

    وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ اسلامی بینکنگ کی سپورٹ کے لیے لیگل فریم ورک کو زیادہ مستحکم بنایا گیا ہے۔ اور اسٹیٹ بینک کے ریگولیٹری رول کو مستحکم کیا گیا۔ 2008 میں عالمی معاشی بحران میں کئی کمپنیاں ڈوب گئیں خدانخواستہ کوئی فنانشل ادارہ مشکل میں جاتا ہے تو اس حوالے سے اصلاحات کی گئی ہیں۔ اور بنکنگ محتسب کے پاس شکایات کے لیے آسانی پیدا کی گئی ہے۔

    بعد ازاں بحث کے دوران وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ 6 لاکھ سالانہ انکم پر کوئی ٹیکس نہیں۔ اور یہ واحد ملک ہے جس میں نان فائلر کی اختراع ہے لیکن نان فائلرز کی اختراع ختم کرنا ہو گی نان فائلر سے متعلق قانون سازی لانے والے ہیں۔ جبکہ دنیا کے کئی ممالک میں ٹیکس نہ دیں تو ووٹ نہیں دے سکتے۔ اب مجھ سے بھی ذرائع آمدن اور کاروبار کے اضافی سوال ہوں گےسیاسی لوگوں کو بینکنگ کی کسی سہولت سے انکار نہیں ہونا چاہیئے۔ میں خود بھی ایک سیاسی آدمی ہوں اور بینکوں کو سیاسی لوگوں کے ساتھ بھی کاروبار کرنا چاہیئے۔

    سینیٹر دنیش کمار نے ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سے بات کرنے کی اجازت مانگی،دنیش کمار کو اجازت ملی تو انہوں نے کہا کہ میری درخواست ہے کہ آج 6دن ہوچکے ہیں ہم مسلسل آرہے ہیں،آج ترامیم پیش کی جائیں، انہوں نے ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سے درخواست کی کہ فون آرہے ہیں کہ کیا بناترامیم کا،اب ہمارا نام ترامیم والے سینیٹرز رکھ دیا گیا ہے،جواب میں ڈپٹی چیئرمین سینیٹ نے کہا اس کو دیکھیں گے اگر آپ عوامی مفاد میں کچھ کہنا چاہتے ہیں تو کہیں۔

    دوسری جانب رات گئے شروع ہونے والا قومی اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی اسپیکر سید میر غلام مصطفیٰ شاہ کی صدارت میں شروع ہوا جو بغیر کسی کارروائی کے ملتوی کر دیا گیا۔

  • سینیٹ اجلاس،ججز تعداد بڑھانے سمیت 10 بل پیش،ایک مسترد

    سینیٹ اجلاس،ججز تعداد بڑھانے سمیت 10 بل پیش،ایک مسترد

    اسلام آباد (محمد اویس) سینیٹ میں 10 بل پیش جو متعلقہ قائمہ کمیٹیوں کو بھیج دیئے گئے جبکہ ایک اپوزیشن کا بل مسترد کردیا گیا۔سینیٹ میں 3بل واپس لے لئے گئے جبکہ ایک بل مشترکہ اجلاس کو بھیج دیا گیا،پرامن اجتماع وامن عامہ بل 2024اور سپریم کورٹ ججز کی تعداد ججان بل پیش کرنے پر اپوزیشن نے شدید احتجاج کیا ۔تحریک انصاف نے بل کو بدنیتی پر مبنی قرار دیتے ہوئے کہاکہ کل یہی بل ان کے گلے پڑیں گے۔ حیران کن طور پر پرامن اجتماع وامن عامہ بل کے محرکوں میں اے این پی کے سینیٹر عمر فاروق بھی شامل ہیں ۔رانا محمود الحسن نے جنوبی پنجاب اور بہاولپور صوبہ بنانے کا بل واپس لے لیا ۔ایمل ولی خان نے کہاکہ باپ کا بل باپ پیش کررہی ہے تو کسی کا باپ بھی روک نہیں سکتا،سینیٹر عبدالقادر نے کہاکہ باپ تو پھر باپ ہوتا ہے۔

    سینیٹ کا اجلاس چیئرمین سینیٹ یوسف رضاگیلانی کی زیر صدارت ہوا۔وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے 6 ارکان سینیٹ کو پی اے سی بنانے کی تحریک ایوان میں پیش کی جس کو منظور کرلیا گیا ،چیئرمین سینیٹ نے کہاکہ پی اے سی میں چاروں صوبوں اور وفاق کی نمائندگی ہوگی۔ تحریک متفقہ طور پر منظور کرلی گئی۔سینیٹ نے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے ممبران کی منظوری دے دی ،پی اے سی کے لیے سینیٹر کے ارکان کے ناموں کی منظوری دی گئی،شبلی فراز، بلال احمد، سلیم مانڈوی والا، افنان اللہ، فوزیہ ارشد اور محسن عزیز ممبران نامزد کئے گئے ہیں، چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ تمام صوبوں کو سینیٹ کی جانب سے پی اے سی میں نامزدگی دی گئی ہے،

    اپوزیشن لیڈر شبلی فراز نے کہاکہ اسلام آباد میں کنٹینرز لگائے گئے ہیں جس کی وجہ سے ممبران کو آنے میں مشکلات ہیں ،چیئرمین سینیٹ نے کہاکہ کنٹینر ہٹائیں اپوزیشن کو بہت پرابلم ہورہاہے ،چیئرمین سینیٹ نے ارکان کے ٹریفک میں پھنس جانے کی وجہ سے ایجنڈا موخر کیا ۔

    پیپلزپارٹی کے ممبر ضمیر حسین گھمرو نے سول ملازمین ترمیمی بل 2024 ایوان میں پیش کیا جس کی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے بل کی مخالفت کردی اور کہاکہ کمیٹی کو بھیج دیا جائے جس پر بل متعلقہ قائمہ کمیٹی کو بھیج دیا گیا ۔سینیٹر شہادت اعوان نے پاکستان جنگلی نباتات وحیوانات ترمیمی بل 2024 ایوان میں پیش کیا جو جانداروں پودے پاکستان کی ماحول کے لیے ٹھیک نہیں ہیں ان کی درآمد و بر آمد پر پابندی لگائے جائے گی۔ بل قائمہ کمیٹی کو بھیج دیا گیا،سینیٹر علی ظفر نے مسلم عائلی قوانین ترمیمی بل 2024 ایوان میں پیش کیا ۔علی ظفر نے کہا کہ یہ قانون 11کروڑ خواتین کے لیے لایا گیا ہے ،وزیر قانون نے کہاکہ اس کو اسلامی نظریاتی کونسل کو بھیج دیا جائے اس کی رائے اس میں ضروری ہے۔ بل کو متعلقہ قائمہ کمیٹی کو بھیج دیا گیا ،سینیٹر فوزیہ ارشد نے دستور ترمیمی بل 2024 دستور کے آرٹیکلز 62،63کی ترمیم کا بل ایوان میں پیش کیا ۔ وزیرقانون نے کہاکہ یہ بی اے پارلیمان کے رکن کے لیے لازمی ہے یہ مارشل لاءمیں ترمیم ہوئی ہے یہ ترمیم آئین کے خلاف ہے ۔ وزیر قانون نے بل کی مخالفت کردی۔قائد حزب اختلاف شبلی فراز نے کہاکہ جھوٹ اور غلط چیز کے پاؤں نہیں ہوتے ہیں پارلیمان کے لیے کوئی معیار تو ہونی چاہیے ۔ بل کو سینیٹ نے کثرت رائے سے مسترد کردیا۔سینیٹر پلوشہ محمد نے تحفظ اراضی شاملات بل 2024 ایوان میں پیش کیا جس کو متعلقہ قائمہ کمیٹی کو بھیج دیا گیا ۔ سینیٹر محسن عزیز نے سٹیٹ بینک آف پاکستان ترمیمی بل 2023 ایوان میں پیش کیا جس کو متعلقہ قائمہ کمیٹی کو بھیج دیا گیا۔سینیٹر عرفان صدیقی نے پرامن اجتماع و امن عامہ بل 2024 ایوان میں پیش کیا ،بل کے محرک میں پیپلزپارٹی سلیم مانڈوی والا،باپ ثمینہ ممتاز زہری مسلم لیگ ن عرفان الحق صدیقی ایم کیو ایم فیصل سبزواری اور اپوزیشن کی جماعت اے این پی کے سینیٹر عمر فاروق ہیں۔وزیر قانون نے بل کی حمایت کردی،احتجاج کے لیے جگہ مختص ہوگی ۔

    قائد حزب اختلاف سینیٹر شبلی فراز نے کہاکہ بل کے محرک کو بات کرنے کی اجازت ہونی چاہیے۔یہ بل لانے کے پیچھے سوچ غلط ہے اس طرح کی قانون سازی کرکے ہمارے آنکھوں میں دھول نہ ڈالیں ہمیں جلسے کی اجازت ملتی ہے اور ایک دن پہلے اجازت منسوخ کردیتے ہیں یہ قانون سازی کل ان کے گلے پڑے گی ۔ اگر اس ایوان میں رولنگ نہیں آتی تو یہ مباحثہ کا کلب بن جائے گا ۔ یہ بل جمہوریت کے لیے بھی بہتر نہیں ہے ۔ کیا اس قانون کو ہم چھاٹیں۔عرفان صدیقی نے کہاکہ آج اسلام آباد سیاسی جماعت کے احتجاج کی وجہ سے بند نہیں ہے بلکہ اس کی وجہ کوئی اور ہے ۔احتجاج کے لیے ایک مہذب طریقہ ہونا چاہیے ۔ یہ بل ہمیں اور اپوزیشن کی مدد کرئے گا. ہمیں نے عوام کی زندگی کو بھی آسان کرنا ہوگا ۔اس بل کو فوری طور پر پاس کیا جائے ۔ علی ظفر نے کہاکہ یہ قانون تحریک انصاف کے جلسوں پر پابندی کے لیے لایا گیا ہے تاکہ تحریک انصاف جلسے اسلام آباد میں نہ کرسکیں یہ بدنیتی پر مبنی قانون ہے ۔ہمایوں مہمند نے کہا کہ اس بل کی وجہ تحریک انصاف ہے اس طرح کے بلوں کا انجام اچھا نہیں ہوگا۔ ہم جانے و انجانے میں اپنی جڑیں کھوکھلی کررہے ہیں ۔کل کو کوئی اس بل کو اپنے مخالفین کے لیے مزید سخت کردے گا۔

    سینیٹر انوشہ رحمان نے کہاکہ ایوان میں حکومتی اور اپوزیشن کے ارکان کتنی رہی کہ بل آج پاس ہوسکتا ہے کہ نہیں اور بعد میں وزیر قانون اور عرفان صدیقی کو رپورٹ کرتی رہیں۔وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہاکہ اچھے قوانین بھی مس یوز ہوئے ہیں لوگوں کی زندگی آسان رکھنے کے لیے ہر ملک میں اس طرح کے قوانین نافذ ہیں ۔قائد حزب اختلاف شبلی فراز نے بل کی مخالفت کردی۔ شبلی فراز نے کہاکہ اس ایوان کو عدالیہ پر حملے کرنے کے لیے استعمال کیا گیا ۔چیئرمین سینیٹ نے بل قائمہ کمیٹی کو بھیج دیا اور حکم دیا کہ دو دن میں رپورٹ جمع کی جائے۔شبلی فراز نے دو دن کا حکم دینے پر شدید احتجاج کیا کہ اس طرح آپ نے زیاتی کی ہے ۔

    سپریم کورٹ میں ججز کی تعداد بڑھانے متعلق بل پیش کرنے کی تحریک پیش کی گئی،سینیٹر عبدالقادر نے بل پیش کرنے کی تحریک پیش کردی اور کہا کہ آئینی کیسز بہت زیادہ سپریم کورٹ آرہے ہیں،جس پر لارجر بنچز بن جاتے ہیں جس کے باعث اربوں ٹیکسز والے مسائل دب جاتے ہیں،پہلے ہی ملک چلانے کیلئے ہزاروں ارب کا قرضہ لے رہے ہیں،ججز کی تعداد کم ہے آہستہ آہستہ آبادی بڑھ رہی ہے ،بل منظور کیا جائے سپریم کورٹ میں مقدمات کی تعداد بڑھ رہی ہے،سینیٹر عبدالقادر نے سپریم کورٹ تعداد ججان ترمیمی بل 2024 ایوان میں پیش کیا وزیر قانون نے بل کو قائمہ کمیٹی کو بھیجنے کا کہا ۔عبدالقادر نے کہاکہ سپریم کورٹ میں ججوں کی کمی ہے کیس کو فکس کرنے کے لئےپہیے لگائے جاتے ہیں میں نے 6 ججوں کے اضافے کی ترمیمی دی ہے.وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہاکہ فوزیہ ارشد نے بل لایا تھا ججوں کو بڑھنے کے حوالے سے جو آج وہ واپس لے رہی ہیں ۔سینیٹر علی ظفر نے کہاکہ سات ججز بڑھانے کا کہا جارہا ہے سب سے پہلے یہ دیکھنا ہوگا کہ سات نمبر کہاں سے آیا ہم دو ججز بڑھانے کے حق میں ہیں لیکن سات کے نہیں، عبدالقادر صاحب کی قوم سے محبت بہت ہے لیکن وہ استعمال ہورہے ہیں سات ججز کی تعداد بڑھانے کا مطلب جوڈیشل کو (بغاوت) ہے سینیٹر سیف اللہ آبڑو نے کہاکہ اچانک ججز کی تعداد کو بڑھانے کا کوئی بیک گراؤنڈ ہےپی ٹی آئی کو مخصوص سیٹیں ملنی تھی جس کیلئے یہ سب کیا جارہا ہےآپ پہلے سپریم کورٹ کے فیصلے کو تو عزت دیں اتنی تعداد بڑھا کر کونسی عدلیہ کو عزت دیں گے اگر اتنی جلدی ہے عدلیہ میں ججز بڑھانے کی تو بنیاد سے تعداد بڑھائیں پہلے مخصوص نشستوں والے فیصلے پر تو عملدرآمد کروا لیں برطانیہ سے سینیٹرز کو ٹوکنے کیلئے بندے ہائر کئے گئے ہیں یہ منڈے ابھی نئے آئے ہیں انکو سمجھ آجائے گی،ناصر بٹ نے کہاکہ چیرمین صاحب انکو کہیں غنڈا لفظ واپس لیں، ارکان نے سمجھیا کہ انہوں نے غنڈا نہیں کہا منڈا کہا ہے.چیئرمین سینیٹ نے سپریم کورٹ تعداد ججان ترمیمی بل 2024 متعلقہ قائمہ کمیٹی کو بھیج دیا گیا ۔

    ایمل ولی خان نے کہاکہ عدالتی اصلاحات کے ساتھ یہ بل کیوں نہیں آیا جب باپ کا بل ہو گا اور بل باپ پیش کرے گا تو کسی کا باپ بھی اس بل کو روک نہیں سکے گا ۔سپریم کورٹ سے آئینی اختیارات لے کر الگ آئینی عدالت بنانی چاہیے ۔ججوں کی تعداد سپریم کورٹ میں بڑھانے سے زیادہ نچلے عدلیہ میں اضافہ کیا جائے ۔ سات ججوں سے چیف صاحب کو پاور مل جائے گی ۔پوری قوم کو پتہ ہے سات ججز کی کس کو ضرورت ہے سپریم کورٹ صرف ان کیسوں کو اٹھاتی ہے جن سے ان کو کوریج ملےسپریم کورٹ عوامی مسائل کے کیسز کو ترجیح نہیں دیتی ججز کی تعداد بڑھائیں لیکن سپریم کورٹ میں نہیں لوئر کورٹس میں بڑھائیں۔ ہائیکورٹ میں بھی ججز کی تعداد کو بڑھائیں.

    سینیٹر پلوشہ نے انسداد دہشت گردی ترمیمی بل 2024 ایوان میں پیش کیا بل متعلقہ قائمہ کمیٹی کو بھیج دیا گیا,سینیٹر محسن عزیز نے نشہ آور اشیاء ترمیمی بل 2023 ایوان میں پیش کیا ۔وزیر قانون نے کہاکہ اے این ایف حکام نے بل کی مخالفت کردی ہے۔ بل متعلقہ قائمہ کمیٹی کو بھیج دیا گیا ۔سینیٹر پلوشہ نے اسلام آباد تحفظ ماحول وانصرام جنگلی حیات بل 2024 سینیٹر رانا محمود الحسن نے دستور ترمیمی بل 2022 آرٹیکل 1،51،59،106،154،175الف،198اور 218کی ترمیم) اور سینیٹر فوزیہ نے سپریم کورٹ تعداد ججان ترمیمی بل 2023 واپس لیا۔سینیٹر ہدایت اللہ نے پاکستان انسٹیٹیوٹ آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی بل 2024 کو مشترکہ اجلاس میں پیش کرنے کی تحریک پیش کی جو متفقہ طور پر منظور کرلی گئی۔

    وزیرقانون اعظم نذیر تارڑ نے ارشد ندیم کے لیے قرارداد ایوان میں پیش کی ۔ قرارداد کے محرکوں میں سید شبلی فراز محمد قاسم، دنیش کمار، فلک ناز سیف الله ابرو، پلوشہ محمد ، سلیم مانڈوی والا فوزیہ ارشد، منظور احمد ،شہادت اعوان، جان محمد، گردیپ سنگھ، عمر فاروق، سید فیصل علی سبزواری، عامر ولی الدین چشتی، پرویز رشید محسن عزیز ، دوست محمد خان، اعظم نذیر تارڑ محمد ہمایوں مہمند ، ناصر محمود، سید محسن رضا نقوی ، کامران مرتضی، سیف اللہ سرور خان نیازی ، ذیشان خانزاده، ایمل ولی خان اور ہدایت اللہ خان تھے قرارداد میں کہا گیا ہے کہ سینیٹ آف پاکستان ارشد ندیم کو پیرس اولمپکس میں جیویلین تھرو میں طلائی تمغہ جیتنے کی شاندارکامیابی پر مبارکباد پیش کرتا ہے۔یه ایوان تسلیم کرتا ہے کہ ارشد ندیم کی کامیابی محنت و لگن سے منزل مقصود پانے کا ثبوت ہے جس نےپاکستان کے نوجوانوں میں نئی امید پیدا کی ہے۔یہ ایوان حکومت کو تاکید کرتا ہے کہ سکول ، کالج اور یونیورسٹی کی سطح پر نوجوانوں کو کھیلوں کے مختلف شعبوں میں مقابلے کے مواقع فراہم کرے۔یه ایوان ارشد ندیم سے یکجہتی کا اظہار کرتا ہے، اور پیرس المپیکس میں طلائی تمغہ جیتنے پر خوشی کا اظہارکرتا ہے، اور ان کی صلاحیتوں پر بھر پور اعتماد کرتا ہے کہ وہ مستقبل میں مزید کامیابیاں سمیٹ کر عالمی سطح پر ملک کا نام روشن کرے گا ، جونو جوانوں میں ولولہ پیدا کرنے کا باعث بنے گا۔اللہ کرے کہ ارشد ندیم کی کامیابی قوم کے لئے بیداری کا باعث بنے اور ہم میں یہ احساس پیدا کرےکہ ہم کھیلوں کے فروغ کو اپنی ترجیح بنائیں اور نو جوان نسل کو عظیم کامیابیاں حاصل کرنے کے مواقع فراہم کریں ۔ قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی گئی۔

    ایک نمبر کا بدمعاش اور تلنگا ڈاکٹر ریاض،دہشتگردوں سے تعلق،ایجنسیوں پر الزام

    پی آئی اے کا جنازہ ہے،ذرا دھوم سے نکلے،مرحوم کیلیے بہت دعائیں

    ثابت ہو گیا حسنہ واجد بھارت کی "کٹھ پتلی” تھی.مبشر لقمان

    190 ملین پاؤنڈ کیس،عمران کے گلے کا پھندہ،واضح ثبوت،بچنا ناممکن

    فیض حمید جیو نیوز کو بند کرنا چاہتے تھے،پی ٹی آئی ٹوٹ پھوٹ کا شکار،اگلا چیئرمین کون

    ماہ رنگ بلوچ کون،دو نمبر انقلاب اور بھیانک چہرہ

    پاکستان کی بدترین شکست،ڈریسنگ روم میں لڑائی،محسن نقوی ناکام ترین چیئرمین

    جنرل عاصم منیرنے ڈنڈا اٹھا لیا، فیض حمید گواہ،اب باری خان کی