Baaghi TV

Tag: سینیٹ اجلاس

  • سینیٹ اجلاس میں ارشد ندیم کو مدعو کرنے کا فیصلہ

    سینیٹ اجلاس میں ارشد ندیم کو مدعو کرنے کا فیصلہ

    سینیٹ کا اجلاس ڈپٹی چیئرمین سیدال خان کی زیرصدارت پارلیمنٹ ہاوس میں ہوا۔

    وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہاکہ ارشد ندیم نے اولمپکس میں پاکستان کا نام روشن کیا ہے ہم اس کو مبارک باد پیش کرتے ہیں ،ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سیدال خان نے کہاکہ ارشد ندیم کو سینیٹ کی طرف سے مبارک باد پیش کرتے ہوئے کہاکہ سینیٹ میں مدعو کیا جائے گا اور ان کو انعام بھی دیا جائے گا ،سینیٹر ذیشان خان زادہ نے کہاکہ ایوان میں ان کے لیے قرارداد پاس کی جائے۔

    وقفہ سوالات کے دوران وفاقی وزیر اعظم نذیر تارڑ نے جواب دیا کہ بیرون ملک سفارت خانوں میں پاکستان کے 57 کمرشل اتاشی/ٹریڈ قونصلرز تعنیات ہیں۔مخلتف ملکوں میں دس مزید اسامیاں قائم کی گئی ہیں۔یہ کمرشل اتاشی گریڈ اٹھارہ سے گریڈ اکیس تک ہوتے ہیں۔ان کمرشل اتاشیوں کا انتخاب باقاعدہ تحریری امتحان ، انٹرویو کے بعد اعلیٰ سطح سلیکشن بورڑ کرتا ہے۔ان کمرشل اتاشیوں کا انتخاب شفاف طریقے سے ہوتا ہے۔

    ڈاکٹر زرقا تیمور نے کورم کی نشاندہی کردی کہ ایوان میں وزیر موجود نہیں ہیں ،کورم مکمل نہ ہونے پر اجلاس ڈپٹی چیئرمین نے اجلاس غیرمعینہ مدت تک ملتوی کردیا گیا

    ارشد ندیم نے گولڈ میڈل جیتا وہ بھی میرا بیٹا ہے،بھارتی جیولین تھرور نیرج چوپڑا کی والدہ

    گولڈ میڈل پاکستانی قوم کے نام کرتا ہوں، ارشد ندیم

    بیٹے کو گلے لگانے کیلئے بے چین ہوں،والدہ ارشد ندیم

    افواج پاکستان کے سربراہان کی ارشد ندیم کو گولڈ میڈل جیتنے پر مبارکباد

    پیرس اولمپکس: ارشد ندیم نے پاکستان کو 40 سال بعد اولمپک گولڈ مڈل جتوا دیا

  • سینیٹ اجلاس، انتخابات ترمیمی بل 2024 کثرت رائے سے منظور

    سینیٹ اجلاس، انتخابات ترمیمی بل 2024 کثرت رائے سے منظور

    سینیٹ کا اجلاس چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی کی زیر صدارت ہوا

    سینیٹ نے انتخابات ترمیمی بل 2024 کثرت رائے منظور کرلیا ۔سینیٹ میں ترمیمی بل 2024 کی پی ٹی آئی اور جمعیت علمائے اسلام کی مخالفت کردی پی ٹی آئی اور جمعیت علمائے اسلام کا ایوان سے واک آؤٹ کرلیا ۔فاروق ایچ نائیک نے کہاکہ 2013 میں الیکشن ٹریبونل کے ریٹائرڈ ججز تعینات کیے گئے تھے 2018 میں الیکشن ٹریبونل کے ججز حاضر سروس تعینات کے گئے ساری انتخابی عذر داریوں کو نہیں نمٹایا جا سکا آزاد عدلیہ کا مطلب کوئی بھی جج دباؤ کے بغیر کام کرے دباؤ کے بغیر کام کریں چاھے وہ حاضر سروس ہو یا ریٹائرڈ ہوں۔

    قائد حزب اختلاف سینیٹر شبلی فراز نے کہاکہ آج جو بل پیش ہورہاہے 2017میں اس بل میں ترمیم ہوئی تھی اس میں دوبارہ ترامیم 2023 میں ہوئی تھی کہ صرف ہائی کورٹ کے جج لگائے جائیں گے اور آج دوبارہ ترمیم آرہی ہے کہ ریٹائرڈ اور حاصر دونوں ہائیکورٹ کے جج ٹریبونل کی میں لگائے جاسکتے ہیں۔ آپ کے پاس نمبر ہے اس لیے آپ یہ تبدیلی کررہے ہیں وزیر قانون اس کی وجہ سے بات تک سن نہیں رہے ہیں ۔ رجیم تبدیلی کے بعد جو مشکلات ہماری جماعت پر ڈالی گئیں ان میں انتخابی نشان لیا گیا ۔ 90دن میں الیکشن نہیں کرائے گئے ۔آئین کی خلاف ورزی کی گئی ۔پاکستان تحریک انصاف پر ظلم کے پہاڑ توڑے گئے ۔الیکشن مشکل سے ہوئے ۔ ہمارے امیدواروں کو اٹھایا گیا ان کے کاغذات چھینے گئے انہوں نے اف تک نہیں کی جو آج حکومت میں بیٹھے ہوئے ہیں ۔اس کے باوجود ہم نے پارٹی الیکشن کرائے وہ بھی الیکشن کمیشن نے نہیں مانے۔ الیکشن کمیشن نے اس صدی کا سب سے متنازعہ الیکشن کرایا ہے ۔

    صحافی ثاقب بشیر ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ الیکشن میں جانے سے پہلے ترمیم پھر الیکشن کے بعد پھر وہی ترمیم ، ویسے اخیر ہو گئی پی ڈی ایم حکومت نے 9 اگست 2023 حکومت جانے سے 14 دن پہلے 26 جولائی 2023 کو الیکشن ایکٹ 2017 میں مشترکہ اجلاس کے ذریعے ترمیم کی کہ ریٹائرڈ جج ٹریبیونل تعینات نہیں ہو سکے گا پھر الیکشن کے بعد جب معاملہ پھنس گیا تو بڑا یوٹرن مارا آج جولائی 2024 میں دوبارہ ریٹائرڈ جج ٹریبیونل لگانے والی ترمیم کردی

    واضح رہے کہ 26 جولائی کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے الیکشن ایکٹ ترمیمی بل 2023 منظورکیا گیا تھا،جس میں کہا گیا تھا کہ الیکشن ٹربیونل میں ریٹائر ججز کو شامل نہیں کیا جائے گا،قومی اسمبلی نشست پر 8000 سے کم جبکہ صوبائی اسمبلی نشست پر 4000 سے کم ووٹوں کے فرق پر دوبارہ گنتی ہوگی

    بیٹے کے قاتلوں کی گرفتاری کا مطالبہ کرنے والے باپ کو پولیس نے گرفتار کر لیا

    عمران خان کیخلاف درخواست دینے پر جی ٹی وی نے رپورٹر کو معطل کردیا

    سوال کرنا جرم بن گیا، صحافی محسن بلال کو نوکری سے "فارغ” کروا دیا گیا

    صوبائی کابینہ نے بانی پی ٹی آئی کے خلاف شواہد کے تحت کارروائی کی اجازت دی

    پاکستان سٹیل ملز کو نجکاری کے لسٹ سے نکال لیا گیا، رانا تنویر

    امید ہے پی آئی اے کی نجکاری سے کوئی بھی بے روزگار نہیں ہوگا،علیم خان

    پی آئی اےکی نجکاری کیلئے 6کمپنیوں نے پری کوالیفائی کرلیا

    پی آئی اے کا خسارہ 830 ارب روپے ہے، نجکاری ہی واحد راستہ ہے، علیم خان

    پیشکشوں میں توسیع کا وقت ختم، نجکاری کمیشن پری کو آلیفیکیشن کریگا:عبدالعلیم خان

    پی آئی اے سمیت24اداروں کی نجکاری، شفافیت کیلئے ٹی وی پر دکھائینگے:وفاقی وزیر عبد العلیم

     پی آئی اے کی نجکاری کے حوالہ سے اہم پیشرف 

    پی آئی اے کسے اور کیوں بیچا جارہا،نجکاری پر بریفنگ دی جائے، خورشید شاہ

    پی آئی اےکی نجکاری کیلئے 6کمپنیوں نے پری کوالیفائی کرلیا

    اسٹیل مل کی نجکاری نہیں، چلائیں گے، شرجیل میمن

  • مجھے پتہ ہےگاڑیوں پر ٹیکس کون لگوا رہا ہے،  مجبور نہ کیا جائے  پبلک میں بتا دوں گا،فیصل واوڈا

    مجھے پتہ ہےگاڑیوں پر ٹیکس کون لگوا رہا ہے، مجبور نہ کیا جائے پبلک میں بتا دوں گا،فیصل واوڈا

    اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں ٹیکس کے معاملے پر سینیٹر فیصل واوڈا چیئرمین ایف بی آر کے درمیان تلخ کلامی ہو گئی-

    باغی ٹی وی : سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت ہوا جس میں کمیٹی نے الیکٹرک اور ہائبرڈ گاڑیوں پر ٹیکس کی شرح بڑھانے کی مخالفت کر دی،دوران اجلاس سینیٹر فیصل واوڈا کا کہنا تھا پوری دنیا میں الیکٹرک گاڑیوں کی حوصلہ افزائی کی جارہی ہے، چھ ماہ میں اگر کسی کی شپمنٹ پہنچتی ہے اس کو تو پتہ ہی نہیں تھا، پالیسی بناکر جب اس پر نظرثانی کی جاتی ہے تو مسائل بڑھ جاتے ہیں۔

    چیئرمین ایف بی آر کا کہنا تھا ڈیڑھ کروڑ روپے سے اوپر کی گاڑی پر 25 فیصد سیلز ٹیکس لگایا گیا ہے، جس پر فیصل واوڈا کا کہنا تھا ٹیکس اور پالیسیوں میں تبدیلی کی وجہ سےکوئی اس ملک میں انڈسٹری نہیں لگاتا،جس پر چئیرمین ایف بی آر نے کہا کہ درآمدی گاڑیوں پر ٹیکس لگا ہے مقامی طور پر تیار گاڑیوں پر ٹیکس نہیں لگایا، جس پر سینیٹر فیصل واوڈا کا کہنا تھا یہ میرا کاروبار ہے مجھے پتہ ہےگاڑیوں پر ٹیکس کون لگوا رہا ہے، مجھے مجبور نہ کیا جائے میں پبلک میں بتا دوں گا، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے گاڑیوں پر ٹیکس کے معاملے کو مؤخر کر دیا۔

    ثانیہ مرزا اور بھارتی کرکٹر محمد شامی جلد شادی کرنے والے ہیں،بھارتی میڈیا

    سینیٹر فیصل واوڈا کا کہنا تھا بجٹ میں ٹیکس لگانے سے پورے پاکستان میں پراپرٹی مارکیٹ بیٹھ گئی ہے، اب عام آدمی گھر نہیں خرید سکے گا، آئی ایم یف کے کہنے پر ہر چیز کا بھٹہ بٹھا دیں گے چیئرمین ایف بی آر کا کہنا تھا تنخواہ دار طبقے پر 35 فیصد تک اور غیر تنخواہ دار طبقے پر45 فیصدتک ٹیکس عائد ہے، پراپرٹی سیکٹر میں فائلر کیلئے ٹیکس 15 فیصد اور نان فائلر کیلئے 45 فیصد ہے، پراپرٹی سیکٹر میں ٹیکسوں کی شرح فیئر ہے۔

    فیصل واوڈا کا کہنا تھا پراپرٹی پر بڑھائے جانے والے ٹیکس سے عام آدمی گھر کیسے بنائے گا، جس پر چیئرمین ایف بی آر کا کہنا تھا سیمنٹ پر فی کلو فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (ایف ای ڈی) میں ایک روپیہ بڑھانےکی تجویز ہے کیونکہ سیمنٹ کے ریٹ بڑھنے سے ایف بی آر کو کوئی فائدہ نہیں ہوا، سیمنٹ پر ایکسائز ڈیوٹی 2 روپے سے بڑھا کر3 روپےکلو کر دی گئی ہے، ایک روپیہ اس لیے بڑھایا جا رہا ہے کہ ایف بی آر کو ریونیو آئے۔

    بلے کا انتخابی نشان واپس لینے کی درخواست پر فریقین کو نوٹسز جاری

    چیئرمین ایف بی آر نے بتایا کہ پلاٹوں پر ایکسائز ڈیوٹی عائد کر دی گئی ہے، جس پر فاروق ایچ نائیک نے پوچھا پلاٹوں پر ایکسائز ڈیوٹی کس طرح عائد کی گئی؟ چیئرمین ایف بی آر نے بتایا کہ ہم سیلز ٹیکس عائد کرنا چاہتے تھے اس لیے ایکسائز ڈیوٹی عائد کی فاروق ایچ نائیک کا کہنا تھا پلاٹ تو اشیاء میں نہیں آتے نہ ہی یہ خدمات میں آتے ہیں، آپ نے پلاٹ کی خریداری پر ٹیکس کس قانون کے تحت لگایا؟ آپ نے قانون کو کھینچ کر ان کو شامل کیا ہے، یہ قانون چیلنج ہو جائے گا میں اس کے حق میں نہیں ہوں۔

  • سینیٹر سلیم مانڈوی والا سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے خزانہ  چیئرمین منتخب

    سینیٹر سلیم مانڈوی والا سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے خزانہ چیئرمین منتخب

    اسلام آباد: سینیٹر سلیم مانڈوی والا کو سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے چیئرمین منتخب کرلیا گیا-

    باغی ٹی وی : سینیٹ کی قائمہ کمیٹی خزانہ کا اجلاس ہوا ، سیکرٹری سینیٹ نے چیئرمین منتخب کرنے سے متعلق آگاہ کرتے ہوئے چیئرمین شپ کیلئے صرف سینٹرسلیم مانڈوی والا کی نامزدگی کی درخواست کا بتایا۔

    شبلی فراز نے اعتراض کرتے ہوئے کہاکہ اجلاس طلبی کی اطلاع نہیں دی گئی ،سینیٹر محسن عزیز نے کہا کہ کمیٹی چیئرمین کا معاملہ باہمی رضا مندی سے طے کیا جاتا ہےقائمہ کمیٹی خزانہ اورقانون کا چیئرمین اپوزیشن سے لیا جاتا ہے، جس پر محسن عزیزاورشبلی فراز نے اجلاس غیرقانونی قراردیتے ہوئے بائیکاٹ کردیا۔

    سب مجھے خاموش کرنے میں لگے ہوئے ہیں کہ کسی طرح دھاندلی کور ہو جائے،عمران …

    شیری رحمان نے کہا کہ جمہوری طریقہ کاراختیار کیا ہے ہم نے انہیں دوسری کمیٹی کی سربراہی کی پیشکش کی، فیصل واوڈا نے شیری رحمان کے مؤقف کی تائید کرتے ہوئے کہاکہ سی ڈی اے کی زمین پرقبضہ کرنے اورشورمچانے سے ریلیف نہیں ملے گام کمیٹی نے متفقہ طورپرسینٹر سلیم مانڈوی والا کوچیئرمین سینیٹ قائمہ کمیٹی خزانہ منتخب کرلیا،سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے منصوبندی کی چیئرپرسن اور پی پی پی رہنما قراتہ العین مری منتخب کیا گیا ، سینیٹر شہادت اعوان نے قراتہ العین مری کونامزد کیا تھا ،جس پر تحریک انصاف کے سینیٹرز شبلی فراز، محسن عزیز اور ذیشان خانزادہ نے اجلاس غیرقانونی قراردیتے ہوئے بائیکاٹ کردیا۔

    190 ملین پاؤنڈ ریفرنس : آج کسی گواہ کا بیان ریکارڈ نہ ہوسکا

  • پریذائڈنگ افسر پر اپوزیشن کے  اعتراض کے بعد سینیٹ اجلاس ملتوی

    پریذائڈنگ افسر پر اپوزیشن کے اعتراض کے بعد سینیٹ اجلاس ملتوی

    سینیٹ اجلاس چیئرمین سید یوسف رضا گیلانی کی زیر صدارت مقررہ وقت سے پندرہ منٹ تاخیر کے ساتھ شروع ہوا

    سینیٹ اجلاس میں پینل آف چیئرمین کا اعلان کیا گیا،جاری اجلاس کیلئے چیئرمین کی طرف سے پینل آف چیئرمین کی اعلان کر دیا گیا ،سینیٹر محمد اسحاق ڈار، پلوشہ خان اور منظور احمد بطور پریذائیڈنگ آفیسر زمہ داریاں نبھائیں گے

    نادرہ ریکارڈ میں سابق شوہر کا نام شناختی کارڈ سے ہٹایا جانا چاہیئے.سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری
    سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے توجہ دلاؤ نوٹس پیش کیا اور کہا کہ نادرہ ریکارڈ میں سابق شوہر کا نام شناختی کارڈ سے ہٹایا جانا چاہیئے،ہمارے معاشرے میں طلاق کے اکثر واقعات ناخوشگوار حالات میں ہوتے ہیں،بچوں کے شناختی کارڈ پر ولدیت اور ایف آر سی میں ریکارڈ موجود ہوتا ہے ،ایسے میں سابق شوہر کا نام کسی خاتون کے شناختی کارڈ پر رہنے دینے کا جواز نہیں،ڈی جی نادرہ کو اس بات کا خیال کرنا چاہیئے ،سنگا پور کے پاسپورٹ میں والد ، شوہر یا سابق شوہر کو کہیں نام نہیں ہوتا .ہم اپنے سسٹم کو کب درست کریں گے .ہم خواتین کو معاشرہ میں جینے کا حق کیوں نہیں دیتے

    وفاقی وزیر میاں ریاض حسین پیر زادہ نے کہا کہ سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری کی طرف سے جس معاملے پر توجہ دلائی گئی ہے اس پر ہائی کورٹ کا آرڈر بھی موجود ہے .ہائی کورٹ نے تین ماہ میں رولز میں تبدیلی کے بعد ریکارڈ کی درستگی کا کہا ہے .ڈی جی پاسپورٹ آفس اس پر کام کر رہا ہے .اب یہ معاملہ میرے خیال میں حل ہو گیا ہے

    اگر ہم ہر چیز کورٹ پر چھوڑ دیں تو پھر ہمارا کیا کردار ہے یہاں .شبلی فراز
    سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے اہم نکات اٹھائے .ہمیں اس بل اور فیملی لاز کو ری وزٹ کرنا چاہیے .اگر ہم اپ ڈیٹ کریں تو یہ بہت اہم چیز ہے .اگر ہم ہر چیز کورٹ پر چھوڑ دیں تو پھر ہمارا کیا کردار ہے یہاں .میری تجویز ہے کہ فیملی لاز میں کچھ تبدیلی کی ضرورت ہے .ہمارے مولوی بھی بیٹھے ہیں ہم اپنے مذہب سے باہر نہیں نکلیں گے.اس پر غور کرنا چاہیے .سینیٹر عطاء الرحمن نے کہا کہ اسکو کمیٹی میں بھیجا جائے .اسلامی نظریاتی کونسل سے بھی تجاویز لینی چاہیے.شبلی فراز نے کہا کہ گھریلو خواتین جس کرب سے گزرتی ہیں اس کی نشان دہی آج یہاں کی گئی ہے .اس معاملے کو داخلہ کمیٹی میں بھیجا جانا چاہیئے .یہ ایک اہم بل ہے اس پر ضرور بحث کرنی چاہیئے . چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ وفاقی وزیر کی وضاحت کے بعد شاید یہ معاملہ حل ہو چکا ہے .جب یہ معاملہ دوبارہ سامنے آیا یا بل آیا تو ضرور کمیٹی کو بھیجیں گے.مولانا عطاء الرحمان نے کہا کہ اس معاملے پر اسلامی نظریاتی کونسل سے سفارشات کے لینی چاہیئے .اراکین سینیٹ کی طرف سے مولانا عطاء الرحمان کے مطالبہ پر شور شرابہ کیا گیا،چیئرمین سینیٹ نے معاملہ نمٹا دیا

    بانی پی ٹی آئی نےسکھر حیدرآباد موٹروےمنصوبے کی فرضی نقاب کشائی کی .سینیٹر جان سیف اللہ خان
    سینیٹر جان سیف اللہ خان نے توجہ دلاؤ نوٹس میں کہا کہ کراچی سے سے حیدر آباد اور پھر سکھر ہیوی ٹریفک ہوتی ہے .موٹروے جیسی سہولتیں سارے ملک میں ہونی چاہیئے .ایم سکس ، سکھر سے حیدر آباد پر گزشتہ آٹھ ماہ سے بہت سست رفتار سے کام ہو رہا ہے .گزشتہ حکومت نے اس پر چائینہ کی ایک بڑی کمپنی کا ٹھیکہ دیا . 2017 میں جب اس ٹھیکہ کی دوبارہ بڈنگ ہوئی چائینہ کنسٹرکشن کمپنی نے دوبارہ ٹھیکہ حاصل ہوا.تحریک انصاف کی حکومت نے اس کمپنی پر بغیر جواز کے الزامات لگائے گئے .انہیں اتنا تنگ کیا گیا کہ وہ کمپنی واپس چلی گئی .بانی پی ٹی آئی نے اس منصوبے کی فرضی نقاب کشائی بھی کی .کراچی سے حیدر آباد تک بھی صرف نام کی موٹر وے ہے .حیدر آباد اور سکھر کا موٹروے ملتان سکھر طرز پر بننا چاہیئے .اب بتایا جا رہا اب یہ منصوبہ 307 بلین میں دیا گیا ہے .یہ منصوبہ پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت بنانا مزاق ہے.اس منصوبے کو شروع کرنے والی کمپنی کو واپس بلانا چاہیئے .جنہوں نے اس منصوبے کی رکاوٹیں ڈالیں اس کی نشان دہی کی جائے .میرا مطالبہ ہے یہ معاملہ کمیٹی کا بھیجا جائے.

    سینیٹر ضمیر حسین گھمرو نے کہا کہ حیدر آباد سکھر موٹروے میں تاخیری حربے ناقابل برداشت ہیں .اس منصوبے کو جتنا جلدی ہو سکے مکمل کیا جائے .اس معاملے پر سینیٹر جان سیف اللہ کے مطالبے کی تائید کرتا ہوں .سینیٹر محمد اسلم ابٹرو نے کہا کہ حیدر آباد سکھر راستے کے حالات بہت خراب ہیں .کئی کئی گھنٹے کراچی پہنچنے کیلئے لگ جاتے ہیں .ہمارے سندھ میں اچھے روڈ کیوں نہیں بن رہے .کے پی ، پنجاب میں اچھے روڈ ہیں ہمیں خوشی ہے لیکن ہمیں احساس کمتری کا شکار کیوں کیا جا رہا ہے .سینیٹر پونجو بیل نے کہا کہ 2017 سے شروع ہونے والے اس منصوبے پر ابھی تک کام مکمل نہ ہونا زیادتی ہے .اسے جلد مکمل کرنے کے اقدامات اٹھائے جائیں.

    ملتان سکھر روڈ میاں نواز شریف کا ایک شاہکار منصوبہ،چھ ماہ میں پیشرفت ہو گی.وفاقی وزیر میاں ریاض حسین پیرزادہ ن
    وفاقی وزیر میاں ریاض حسین پیرزادہ نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ حیدر آباد تا سکھر التواء کا شکار موٹروے منصوبہ مسنگ لنک ہے .کرونا کے بعد قیمتوں میں فرق آنے سے اس منصوبے کا ٹھیکیدار بھاگ گیا تھا .اب چائینہ ، ابو ظہبی کو اس منصوبے میں دلچسپی لینے کا کہا جا رہا ہے .ابھی وزیر اعظم چائینہ گئے ہوئے ہیں تو اچھی امید کی جانی چاہیئے .ملتان سکھر روڈ میاں نواز شریف کا ایک شاہکار منصوبہ ہے .اس معاملہ کو اسٹینڈنگ کمیٹی کو بے شک بھیج دیا جائے .حکومت کی کوشش جاری ہے انشاء اللہ اس معاملہ پر چھ ماہ میں پیش رفت ہو گی .چیئر مین نے معاملہ اسٹینڈنگ کمیٹی کو بھیج دیا.

    تحریک انصاف نے ڈپٹی چئیرمین کی موجودگی میں چئیر آف پینل کی صدارت کرنے پر اعتراض کر دیا ،فوزیہ ارشد نے کہا کہ ڈپٹی چئیرمین کی موجودگی میں کس رول کے تحت پینل آف چئیر صدارت کر سکتی ہیں۔اپوزیشن لیڈر شبلی فراز نے بھی اعتراض کیا اور کہا کہ مسلم لیگ ن نے اپنے ہی اپنے ڈپٹی چئیرمین کو باہر بھیج دیا۔پی ٹی آئی ارکان نے اپنی نشستوں پر کھڑے ہو کر احتجاج کیا.پلوشہ خان نے کہا کہ یہ ایوان غنڈا گردی دھونس پر نہیں چلے گا۔شبلی فراز نے کہا کہ آپ کس رول کے تحت یہاں بیٹھی ہیں۔ پلوشہ خان نے کہا کہ جس رول کے تحت آپ اس ملک میں بیٹھے تھے۔چئیرمین کا اختیار ہے۔ آپ اعتراض نہیں کر سکتے۔ہم ٹیکس پئیر کے پیسے پر بیٹھے ہیں وقت پورا کریں گے۔ مولانا عطاء الرحمان نے کہا کہ ڈپٹی چئیرمین کی موجودگی میں پینل آف چئیر کا کوئی بندہ نہیں بیٹھ سکتا۔آپ ڈپٹی چئیرمین کو صدارت دے دیں ورنہ ہم واک آوٹ کریں گے۔ آپ ڈپٹی چئیرمین سینٹ کو بلا کر صدارت دیں۔

    سینیٹر بلال احمد خان نے اپوزیشن کے رویہ پر تنقید کی اور کہا کہ اپوزیشن بتائے کہ وہ کس رول کی بنیاد پر اعتراض کررہے ہیں ۔پی ٹی آئی ارکان نے چور چور کے نعرے لگائے.سینیٹر طلال چودھری نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر اور پی ٹی آئی کا مشکور ہوں کہ انہیں مسلم لیگ ن کے ڈپٹی چیئرمین سے محبت ہے .

    پریذائڈنگ افسر پر اعتراض کے بعد بلوشہ خان نے اجلاس پیر کو شام5بجے تک ملتوی کردیا

    چاہت فتح علی خان سے بڑے بڑے سپر اسٹارز خوفزدہ کیوں ؟

    مخصوص نشستیں، فیصلہ پی ٹی آئی کے حق میں نظر نہیں آ رہا، مبشر لقمان

    مبشر لقمان: ہزاروں چہروں والا اینکر ، دنیا کا پہلا مصنوعی ذہانت سے چلنے والے نیوز اوتار پر ایک نظر

    لندن پلان بارے مبشر لقمان کا انکشاف،نواز شریف نے تصدیق کر دی

    لندن پلان: عمران خان، طاہرالقادری اور چوہدری برادران کو اکٹھا جہانگیر خان ترین نے کیا تھا، مبشر لقمان

  • سسیلین مافیا،گاڈ فادر اور پراکسی جیسے الفاظ کہیں گے تو کون برداشت کرے گا،طلال چودھری

    سسیلین مافیا،گاڈ فادر اور پراکسی جیسے الفاظ کہیں گے تو کون برداشت کرے گا،طلال چودھری

    اسلام آباد: ن لیگی رہنما اور سینیٹر طلال چودھری نے کہاہےکہ ثاقب نثار نے مجھے پیغام بھیجا نواز شریف اور مریم نواز کے خلاف بیان دو، پیغام بھیجا کہ بیان دو گے تو پارلیمنٹ جاؤ گے ورنہ جیل جاؤ گے۔

    قائم مقام چیئرمین سینیٹ سیدال خان کی زیر صدارت سینیٹ کا اجلاس منعقد ہوا، اس دوران سینیٹ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے طلال چودھری نے کہا کہ عدالت کا وقار آئین بنانے والوں کو نہیں، آئین توڑنے والوں کو سزا دینے سے بلند ہوگا، ہم نے ہمیشہ عدالتی فیصلوں کا احترام کیا اور ہمیں توہین عدالت کے نوٹس ملے لیکن ہم نے اس کا کھلے دل سے سامنا کیا۔

    انہوں نے کہا کہ پی سی او ججز کو نکالو، قانونی ججز کی بات نہیں کی تھی، جلسے میں کہا تھا کہ پی سی اوججز انصاف نہیں دے سکتے، مجھے توہین عدالت قانون کا نشانہ اس لیے بنایا گیا کہ میں نظریے پر کھڑا تھا ، دنیا میں توہین عدالت کا قانون ختم ہو چکا ہے، اداروں کے درمیان تصادم نہیں ہونا چاہیے، درگزر کا اصول عدالت کو ملحوظ خاطر رکھنا چاہیے، آپ سسیلین مافیا،گاڈ فادر اور پراکسی جیسے الفاظ کہیں گے تو کون برداشت کرے گا، مجھے نوٹس ملنے سے 6 ماہ پہلے اعجاز الاحسن نے کہا وزیر اعظم کا معاملہ حل کریں پھر جو باہر باتیں کرتے ہیں انہیں دیکھتے ہیں۔

    اسلام آباد میں آئی ٹی پارک کی تعمیر کا کام جلد از جلد مکمل …

    ہم قانون ساز اداروں میں بیٹھے ہیں ہمارا کام ہے قانون سازی کرنا، سینیٹر فیصل سبزواری

    سینیٹر فیصل سبزواری نے کہا ہے کہ آئین صرف ججز کی نہیں ،عوامی نمائندوں کی عزت کے حوالے سے بھی بات کرتا ہے،ہم قانون ساز اداروں میں بیٹھے ہیں ہمارا کام ہے قانون سازی کرنا کہ توہین کے بھی قواعد و ضوابط طے ہوں، یہ نا ہو آج میرا موڈ اچھا نہیں تو فلاں جو بات تھی وہ توہین عدالت ہے، ہماری انفرادی اور مشترکہ عزتیں اچھالنے کا حق کسی کو نہیں ہونا چاہیے، پاکستان میں سلیکٹو جسٹس تو دیکھا ہے مگر توہین میں بھی ججز صاحبان سلیکٹو رہتے ہیں، اگر آپ کسی مخصوص جماعت کہ ہیں تو آپ کو کھلی چھوٹ ہے کہ کچھ بھی کہہ دیں۔

    انہوں نے کہاکہ ہم قانون ساز اداروں میں بیٹھے ہیں ہمارا کام ہے قانون سازی کرنا کہ توہین کے بھی قواعد و ضوابط طے ہوں، یہ نا ہو کہ آج میرا موڈ اچھا نہیں تو فلاں جو بات تھی وہ توہین عدالت ہے۔سینیٹر نے فیصل واڈا کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کو جج صاحبان نے کہا کہ یہ پراکسی ہیں، حامد خان صاحب نے اپنی کتاب میں ججز کی پراکسی کا ذکر کیا تو لکھنے والے اس بات کی دلیل پیش کرتے ہیں، ہاں فیصل واوڈا پراکسی ہیں اس ایوان کے عوام کے اور تب بھی ان کو پراکسی کہا جائے کسی منفی معنی میں تو اس ایوان کے نمائندوں کی عزتوں پر بھی حرف اٹھتا ہے۔

    غزہ میں اسرائیل کے وحشیانہ حملے جاری،مزید 85 فلسطینی شہیدv

    سینیٹر فیصل سبزواری نے کہا ہے کہ یہاں توہین توہین کا کھیل کھیلا جا رہا ہے، لوگوں کے لاکھوں ووٹ سے منتخب ہونے والے ممبر اسمبلی اور سینیٹرز کے علاوہ سب کی عزت ہے، آئین صرف ججز کی عزت کے حوالے سے بات نہیں کرتا وہ عوامی نمائندوں کی عزت کے حوالے سے بھی بات کرتا ہے، ٹی وی پر صبح سے شام تک ریمارکس کا کھیل چلتا ہے، ہماری پگڑیاں اچھالی جاتی ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ ایک چیف جسٹس نے کہا کہ نسلہ ٹاور کو گرا دو کہ وہاں امیر لوگ نہیں رہتے، تو یہ کونسا انصاف ہے اور میں اس پر بات کروں تو کہتے ہیں کہ توہین آمیز لہجہ ہو رہا ہے، میں لوگوں کے لیے بات نہ کروں آئین سازی اور آئین میں ترمیم کا اختیار پارلیمنٹ کے علاوہ کسی کے پاس نہیں، سابق چیف جسٹس نے آئین کو خود ہی دوبارہ لکھ دیا تھا آرٹیکل 62، 63 کے معاملے پر، آپ کے فیصلے سے آئین میں آپ کی مداخلت ہوئی ہے، ہمیں یہ آزادی نہیں چاہیے کہ کہ 50، 50 کیسز میں ضمانتیں دے دیں-

    پارلیمنٹ کی توقیر کا آئین کے حوالے سے تحفظ کرنا بہت ضروری ہے، اس کو ذاتی ایجنڈا نا بنایا جائے، جب ذاتی ایجنڈوں پر بات ہوتی ہے تو ہمیں طیش آتا ہے،سینیٹر محسن عزیز

    چین روس کو مہلک امداد فراہم کر رہا ہے،برطانیہ

    پاکستان تحریک انصاف کے سینیٹر محسن عزیز نے سینیٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ جب ہماری پارٹی کو جھنڈا لگانے کی اجازت نہیں تھی کسی نے آواز نہیں اٹھائی، سینیٹر چوہدری اعجاز کے کئی مرتبہ پروڈکشن آرڈر جاری کئے، اس ایوان میں بارہ لوگوں کی موجودگی میں الیکشن میں تاخیر کا بل پاس کیا گیا تو کیا یہ پارلیمنٹ کی عزت تھی؟ ایک چیف جسٹس نے کہا الیکشن کروائے جائیں تو اس پر عمل نہیں کیا گیا، ایک جج کے پاس کون سی فورس ہوتی جو وہ اپنے فیصلے پر عمل کرائے، پارلیمنٹ کی توقیر کا آئین کے حوالے سے تحفظ کرنا بہت ضروری ہے، اس کو ذاتی ایجنڈا نا بنایا جائے، جب ذاتی ایجنڈوں پر بات ہوتی ہے تو ہمیں طیش آتا ہے، اگر لاپتہ افراد کی بات کی گئی ہے تو کیا ہمارا حق نہیں کہ ہم لاپتہ افراد کی بات کریں،اگر کسی جج نے لاپتہ افراد کی بات کی ہے تو ہمیں اس جج کی حمایت کرنی چاہیے،اگر ایک جج نے ہفتے کے روز عدالت کھول کر نواز شریف کی صحت کی ضمانت مانگی ہم نے اس وقت بات کیوں نہیں کی، توہین کا قانون ہے تو ہمیں بیٹھ کر اس پر قانون سازی کرنی چاہیے، یہاں بیٹھ کر ذاتی ایجنڈے کی بات نہیں کرنی چاہیے۔

    لگتا ہے کچھ ججز کیخلاف ایک پراکسی شروع ہوئی ہے اور ہم بھی اسی کیساتھ چل رہے ہیں، سینیٹر کامران مرتضی

    نیپرا کا بجلی مزید مہنگی کرنے کا ارادہ

    جے یو آئی کے سینیٹر کامران مرتضی نے کہا کہ تاثر مل رہا ہے یہ اجلاس بلانے کا مقصد ایک ہی ہے، ایک سپریم کورٹ اور کچھ ہائی کورٹس کے ججز آج بھی نشانے پر ہیں، شاید وجہ یہ ہے کہ کوئی فیصلہ یا ریمارکس نہ آئے، لگتا ہے کچھ ججز کیخلاف ایک پراکسی شروع ہوئی ہے اور ہم بھی اسی کیساتھ چل رہے ہیں، ایسے محسوس کروانا کہ یہ ادارہ کسی اور ادارے سے برتر ہے، محسن اختر کیانی، بابر ستار اور اطہر امن للہ کو نشانہ بنایا گیا، محسن اختر کیانی لاپتہ افراد کا معاملہ اٹھا رہے، ہم میں سے کسی کو جرات نہیں ہوئی کہ وہ لاپتہ افراد کا مسئلہ اٹھائے، بابر ستار کا مسئلہ بھی آپ کو پتہ ہے کیا چیز چل رہی ہے، اس طرح سے ججز کے ساتھ نا کریں، اطہر من اللہ صاحب کا گناہ کیا ہے وہ بھی ہم جانتے ہیں۔

  • سینیٹ اجلاس،ایرانی صدر کی شہادت،قرارداد منظور

    سینیٹ اجلاس،ایرانی صدر کی شہادت،قرارداد منظور

    سینیٹ کا اجلاس قائمقام چیئرمین سینیٹ سیدال خان ناصر کی زیرصدارت پارلیمنٹ ہاوس میں ہوا۔
    اجلاس مقرہ وقت سے دس منٹ تاخیر سے شروع ہوا۔علامہ ناصر عباس نے ایرانی صدر ودیگر کے حادثہ میں شہادت پر ایوان میں دعا کرائی ۔وزیرقانون اعظم نزیر تارڑ نے کہاکہ آج کابینہ میں بھی ایرانی صدر کی شہادت کے حوالے سے قرار داد پاس کی ہے ایوان میں بھی قراداد پاس کی جائے ۔شیری رحمان نے ایرانی صدر وزیر خارجہ و دیگر حکام کی شہادت پر ایوان میں قرارداد ایوان میں پیش کی ۔قراداد متفقہ طور پر منظور کرلی گئی۔

    بھنگ کنٹرول اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی آرڈیننس 2024ایوان میں پیش
    وزیر قانون اعظم نذیر تارڑنے وزیر خارجہ کی جگہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دستور کے آرٹیکل 89کی شق 2کے متقضات میں حاشیہ آرڈیننس 2024سینیٹ میں پیش کیا ،چیئرمین نے آرڈیننس قائمہ کمیٹی کو بھیج دیا گیا ۔وزیر قانون اعظم نزیر تارڑ نے بھنگ کنٹرول اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی آرڈیننس 2024ایوان میں پیش کیا ۔آرڈیننس قائمہ کمیٹی کو بھیج دیا گیا ۔وزیر قانون اعظم نے وزیر خوراک رانا تنویر حسین کی طرف سے سیڈ ٹرمیمی آرڈیننس 2024ایوان میں پیش کردیا ،آرڈیننس متعلقہ قائمہ کمیٹی کو بھیج دیا گیا ۔

    قائمقام چیئرمین سیدال خان ناصر بغیر بتائے سیٹ چھوڑ کر چلے گئے اور چند لمحوں بعد سینیٹر شیری رحمان نے صدارت سنبھالی اس دوران ایوان میں سب ارکان حیران ہوگئے کہ قائمقام چیئرمین کیوں سیٹ سے چلے گئے ؟۔

    امیر لوگ سولر پر سرمایہ کاری کررہے جس کی وجہ سے پروٹیکٹڈ صارفین کو نقصان ہورہا،وزیر توانائی اویس لغاری
    وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہاکہ توجہ مبذول کرنے والا ایجنڈا موخر کردیں جس پر موخر کردیا گیا مگر اسی دوران وزیر توانائی ایوان میں آگئے جس پر شیری رحمان نے موخر کردیا ۔ایک توجہ مبذول کرنے کا نوٹس لے لیا گیا جوشمسی توانائی کے حوالے سے تھا ۔قرۃ العین مری نے کہاکہ پاکستان میں بجلی کی لوڈشیڈنگ ہے اور حکومت سولر پر بھی ٹیکس لگایا جا رہا ہے ۔ سولرئزیشن کے حوالے سے کیا پالیسی ہے ۔وزیر توانائی اویس لغاری نے کہاکہ 2017میں مسلم لیگ ن کی حکومت میں نیٹ میٹرنگ کا آغاز ہوا۔ اس کی اچھی گروتھ ہوئی ہے ۔ نیٹ میٹرنگ میں 100فیصد اضافہ ہوا ہے سولر کی قیمت کم ہوئی ہیں سولر کی قیمت 45روپے فی واٹ ہوگئی ہے جو پہلے 145روپے تھی ۔ آج تک ہم نے نیٹ میٹرنگ کو ڈس کریڈٹ نہیں کیا ہے سرکولر ڈیٹ کو ہم مزید آگے نہیں جانے دیں گے ۔ پارو سیکٹر میں اصلاحات کی ہم نے بات کی ہے ۔ ہم نے واضح طور پر کہاہے کہ ہم اس طرح کوئی کام نہیں کررہے ہیں ۔ 1500 میگاواٹ سولر لگا ہوا ہے مگر جب یہ 4ہزار میگاواٹ ہوجائے گا تو اس کا کیا کریں گے پہلے سولر پر سرمایہ کاری 3 سال میں واپس آتی تھی اب 2سال میں پوری ہورہی ہے ۔ امیر لوگ سولر پر سرمایہ کاری کررہے ہیں جس کی وجہ سے پروٹیکٹڈ صارفین کو نقصان ہورہاہے ۔

    جسٹس اطہر من اللہ نے میری اور ایوان کی توہین کی، ایوان ان کے خلاف کارروائی کرے ،فیصل واوڈا
    فیصل واڈا نے جسٹس اطہر من اللہ کے خلاف تحریک استحقاق ایوان میں ہی سینیٹ حکام کے حوالے کردی ۔فیصل واوڈا کا کہنا تھا کہ جسٹس اطہر من اللہ نے میری اور ایوان کی توہین کی ہے ایوان ان کے خلاف کارروائی کرے.میں نے جو پریس کانفرنس کی اس میں کہی گئیں تمام باتیں زیر اور زبر سمیت پر میں آج بھی قائم ہوں،میں نے کسی کی تذلیل کرنے کی کوشش نہیں کی، مجھے منافقت نہیں آتی، جو بات ہوتی ہے وہی کرتا ہوں.ہم کسی جج کے کنڈکٹ پر بات نہیں کر سکتے بلکہ آئین اور قانون مس کنڈکٹ پر ہمیں بات کرنے کی اجازت دیتا ہے،شکر ہے میں سینیٹ میں ہوں ورنہ گیس نہ آتی توبھی توہین عدالت لگ جاتی،جن پر توہین عدالت لگنی چاہیے تھے ان پر نہیں لگی،میں ہمیشہ ٹھوس اور شواہد کے ساتھ بات کرتا ہوں،یہاں اب نشاندہی کرنا بھی گناہ بن گیا ہے تو پھانسی دیدیں،عزت تو کسی اور کی ہے ہماری تو نہیں ہے،لاہور ہائیکورٹ نے 7 فروری 2023 کو پی سی بی کو خط لکھا 30 وی وی آئی پیز پاسز دئیے جائیں،اگر یہ سوال کرنا جرم ہے تو میں کرتا رہوں گا،جسٹس باقر نجفی نے دفتر خارجہ کو خط لکھا کہ بیٹے کو پروٹوکول دیا جائے،فیصل واڈا نے دونوں خطوط ایوان میں لہرا دیا اور کہا کہ کیا ان ججز کو عدالتوں میں رہنا ٹھیک ہے؟ فیصل واوڈا کی سینیٹ میں تقریر کے دوران مسلم لیگ ن کے بعض سینیٹر ڈیسک بجاتے رہے۔

    پاکستان کی سیاسی پارٹی کے ترجمان پر حملہ کیا گیا،یہ ناقابل برداشت ہے،شبلی فراز
    قائدحزب اختلاف سینیٹر شبلی فراز نے کہاکہ ہمارے سیکرٹری اطلاعات پر نجی ٹی وی چینل میں حملہ ہوا ہے ،ان پر فزیکلی اٹیک کیا گیا ہے اور زخمی کیا گیا ہے، جس پر پی ٹی آئی اراکین نے شیم شیم کے نعرے لگائے، شبلی فراز نے کہا کہ ہم چاہیں گے کہ وزیر قانون کو چاہئے کہ رپورٹ طلب کریں اور کاروائی کریں ، اس پر فوری ردعمل چاہئے،بات یہاں تک آ گئی کہ پاکستان کی سیاسی پارٹی کے ترجمان پر حملہ کیا جاتا ہے یہ ناقابل برداشت ہے،بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ ہمیں ایوان سے واک آؤٹ کرنا چاہئے،وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہاکہ یہ رپورٹ کریں اس معاملے پر ضرور کاروائی ہوگی ۔میں وزیر داخلہ سے اس معاملے کا پتہ کرتا ہوں ،حکومت کی ذمہ داری ہے کہ شہریوں کا تحفظ کرے،ایوان سے تحریک انصاف کے ارکان نے واک آؤٹ کرلیا.شبلی فراز نے کہا کہ رؤف حسن پر حملے کی 24گھنٹے میں تحقیقات کی جائیں، کٹھ پتلی ہی سہی اگر کوئی حکومت ہے تو ایوان کو رپورٹ دیں،

    ایوان بالا کاحالیہ سیشن متوقع طور پر جمعہ24 مئی2024 تک جاری رکھا جائے گا
    دوسری جانب سینیٹ کی بزنس ایڈوائزی کمیٹی کا اجلاس قائمقام چیئرمین سینیٹ سینیٹر سیدال خان کی سربراہی میں پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔ ایڈوائزری کمیٹی کے اجلاس میں سینیٹ کے 338 ویں سیشن کے حوالے سے اہم امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ قائمقام چیئرمین سینیٹ نے تمام پارلیمانی لیڈروں کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ بزنس ایڈوائزی کمیٹی ایک اہم فورم ہے جس میں اجلاس کے حوالے سے تمام پارلیمانی رہنماؤں سے مشاورت کا نہ صرف موقع ملتا ہے بلکے اجلاس کے امور بھی طے کیے جاتے ہیں۔ پارلیمانی رہنماؤں نے قائمقام چیئرمین سینیٹ کو اپنے بھر پور تعاون کا یقین دلایا جس پر قائمقام چیئرمین سینیٹ نے شکریہ ادا کیا۔ ایڈوائزری کمیٹی کو سیکرٹری سینیٹ سید حسنین حیدر نے موجود ہ اجلاس کے حوالے سے اہم امور پر بریفنگ دی اور پارلیمانی کیلنڈر کے بارے میں بھی آگاہ کیا۔ کمیٹی کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ایوان بالا کاحالیہ سیشن متوقع طور پر جمعہ24 مئی2024 تک جاری رکھا جائے گا۔ آج کے اجلاس میں سینیٹ میں قائد حزب اختلاف سینیٹر سید شبلی فراز اور وفاقی وزیر برائے قانون و انصاف سینیٹر اعظم نذیر تارڑ کے علاوہ سینیٹرز شیری رحمان،عرفان الحق صدیقی، سید علی ظفر، منظور احمد،مولانا عطا الرحمن، حاجی ہدایت اللہ، سید فیصل علی سبز واری، کامل علی آغا، راجہ ناصر عباس، حامد خان اور سیکرٹری سینیٹ سید حسنین حیدر نے شرکت کی۔

    تصاویر:سعودی عرب میں سوئمنگ سوٹ فیشن شو،خواتین ماڈلز کی نیم عریاں کیٹ واک

    بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    چلڈرن ہسپتال کا کوکلیئر امپلانٹ کے تمام اخراجات برداشت کرنے کافیصلہ،ڈاکٹر جاوید اکرم

    کم عمر لڑکیوں کے ساتھ زیادتی کے شوقین جعلی عامل کو عدالت نے سنائی سزا

    کاروبار کے لئے پیسے نہ لانے پر بہو کو کیا گیا قتل

    16 خواتین کو نازیبا و فحش ویڈیو ،تصاویر بھیج کر بلیک میل کرنے والا گرفتار

    دوران پرواز 16 سالہ لڑکی کو ہراساں کرنیوالے کو ملی سزا

    کپڑے اتارو،مجھے…دکھاؤ، اجتماعی زیادتی کا شکار لڑکی کو مرد مجسٹریٹ کا حکم

    زبردستی دوستی کرنے والے ملزم کو خاتون نے شوہر کی مدد سے پکڑوا دیا

  • ہمارے ورکر رہنما جیل میں ہوں تو کس طرح ملک میں استحکام آئے گا،شبلی فراز

    ہمارے ورکر رہنما جیل میں ہوں تو کس طرح ملک میں استحکام آئے گا،شبلی فراز

    سینیٹ کا اجلاس چیئرمین سینیٹ یوسف رضاگیلانی کی زیرصدرت پارلیمنٹ ہاوس میں ہوا
    اجلاس مقررہ وقت سے صرف 5منٹ کی تاخیر سے شروع ہوا۔چیئرمین سینیٹ نے شہادت اعوان عرفان صدیقی اور ثمینہ ممتاز زہری کو پرائززڈنگ افسر کا علان کردیا ۔فیصل ووڈا اور مولانا عبدالواسع سے چیئرمین سینیٹ نے حلف لیا۔قائد ایوان سینیٹر اسحاق ڈار نے ٹیکس قوانین ترمیمی کے لیے خصوصی کمیٹی بنانے کی تحریک پیش کی جس پر خصوصی کمیٹی بنادی گئی ،اسحاق ڈار نے ٹیکس قوانین ترمیمی بل ایوان میں پیش کیا بل چیئرمین نے خصوصی کمیٹی کو بھیج دیں ۔وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے انتخابات ترمیم بل 2024ایوان میں پیش کیا بل قائمہ کمیٹی کو بھیج دیا گیا ۔وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے موشن پکچرز ترمیمی بل 2023ایوان میں پیش کیا بل قائمہ کمیٹی کو بھیج دیا گیا ۔

    جو کچھ ہمارے ساتھ ہورہاہے کل آپ کے ساتھ بھی ہوگا ،شبلی فراز
    قائد حزب اختلاف سینیٹر شبلی فراز نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ میں عمران خان کو سلام پیش کرتا ہوں جس ثابت قدمی کے ساتھ جمہوریت اور عوام کے لیے قانون کی حکمرانی کے لیے کھڑے ہیں ۔ان پر سیاسی مقدمات بنا کر پابند سلاسل کیا گیا ہے مگر اس کے باوجود ان کی استقامت میں کمی نہیں ہوئی ان کی اہلیہ کو بھی جیل میں رکھا گیا ہے ۔ پاکستان کی تاریخ میں سب سے زیادہ سیاسی قیدی اس وقت پاکستان میں ہیں 99فیصد قیدیوں کو تعلق پاکستان تحریک انصاف سے ہے ہماری خواتین کو بھی قید رکھا گیا ہے اعجاز چوہدری کا پروڈکشن آرڈر کیا جائے ۔ جس طرح ہماری حکومت ختم کی گئی اس کی تفصیل پورا پاکستان جانتا ہے ۔ملک نے آئین اور قانون کی حکمرانی سے ترقی ہوگی ۔پنجاب حکومت کو ہم نے آئینی طریقہ سے ختم کیا تھا پنچاب میں الیکشن کرانے کے بجائے نگران حکومت بنائی گئی جس نے مظالم کی انتہاء کردی تھی آئین سے ماروہ اقدم ہوں گے تو ملک کا کیا بنے گا ۔الیکشن سے پہلے ہمارا انتخابی نشان واپس لیا ۔ ہمیں جو انتخابی نشان دیئے ان پر ہم نے کامیابی حاصل کی ۔ اس کے بعد ہمیں مخصوص نشستوں سے محروم کیا گیا ۔ اس ایوان میں ایک صوبے کو محروم کیا گیا ہے کے پی کے کے سینیٹرز ایوان میں موجود نہیں ہیں۔ یہ ایوان اپاہچ ہے ۔جنرل الیکشن صحیح نہیں ہوئے ہیں ۔الیکشن پر سب نے سخت اعتراضات کئے ہیں ۔ ہائیکورٹ کے جج خط لکھ رہے ہیں ہم ایک پرامن جماعت ہیں آئین کی حکمرانی کے بغیر ملک ترقی نہیں کرسکتا ہے ۔ ہمارے ورکر رہنما جیل میں ہوں تو کس طرح ملک میں استحکام آئے گا ۔ ہم سینیٹ میں سب سے بڑی جماعت ہیں ہم حقیقت ہیں ۔یہ سسٹم عمران خان پر کھڑا ہے ۔ حکمران پارٹیوں کو بے وفاؤں نے یکجا کیا ہے ۔قانون کی حکمرانی نہیں ہوگی تو ملک میں کون سرمایہ کاری کرئے گا ۔جو کچھ ہمارے ساتھ ہورہاہے کل آپ کے ساتھ بھی ہوگا ہم نہیں چاہتے ہیں کہ آپ کے ساتھ بھی ایسا ہو جس طرح ہمارے ساتھ ہورہاہے ۔ ہر اس کام کو روکنا ہے جو ایوان کے تقدس کے خلاف ہو۔ظلم کا نظام نہیں چل سکتا ہے ۔

    میں صلح صفائی کے لیے مشہور تھا میں نے تحریک انصاف سے بات کی،اسحاق ڈار
    قائد ایوان سینیٹر اسحاق ڈار نے کہاکہ کاش یہ اچھی باتیں قائد حزبِ اختلاف دوسال پہلے کرتے تو یہ حالات نہ ہوتے ۔ میں نے الیکشن کے لیے فنڈز وقت پر جاری کئے تھے ۔ نگران حکومت نے اپنی ڈیوٹی ادا کی ۔ الیکشن کرانا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری تھی کے پی کے سے سینیٹرز کو ایوان میں ہونا چاہیے الیکشن کمیشن کا فیصلہ بھی سامنے ہے ۔ ہم اس میں مداخلت نہیں کرسکتے ہیں ۔ الیکشن ایکٹ میں پارٹی کے اندر الیکشن کا شق تحریک انصاف نے ڈالی اس پر ہی ان کو سزا ہوئی ہے پارٹی میں الیکشن نہیں کروائیں گے تو پارٹی کا نشان نہیں ملے گا ۔ میں صلح صفائی کے لیے مشہور تھا میں نے تحریک انصاف سے بات کی تھی جب انہوں نے دھرنا دیا تھا ۔9 مئی کو آپ نے ریاست پر حملہ کیا تھا جی ایچ کیو پر حملہ نہیں ہونا چاہیے تھا ۔ جس کو الیکشن پر اعتراض ہے وہ متعلقہ فورم پر جائیں ۔ 2013میں ہم نے ملک کو ترقی پر لگایا مگر پاکستان کو نظر لگ گئی ۔اس ایوان کے تقدس کے لیے قائد حزب اختلاف کے ساتھ کام کرنے کے لیے تیار ہوں ۔24ویں معیشت کو 47ویں معیشت بناکر پاکستان کو برباد کیا گیا ۔ پاکستان کو کسی ملک سے قرض نہیں مانگنا چاہیے اس سے خودمختاری ختم ہو تی ہے ۔

    سینیٹر انوار الحق کاکڑ نے کہاکہ آئین میں الیکشن 90دن میں کرنے کا لکھاہے مگر اس کے ساتھ دیگر لوازمات بھی ہیں اس میں الیکشن ایک شرط ہے اور باقی بھی آئینی شرائط ہیں دس سال میں مردم شماری کرنا بھی ایک شرط ہے جس کے تحت دوبارہ حلقہ بندیاں ہونی ہوتی ہیں ۔

    ایسے نہیں ہو سکتا کہ سرحدوں پر قربانیاں دینے والوں کا بار بار تماشا بنایا جائے،فیصل واوڈا
    فیصل واوڈا نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ جب صحیح بات کہنے پر مجھے پارٹی سے نکالا گیا،اس وقت پارٹی ستاروں سے بات کر رہی تھی،پارٹی کے کچھ لوگ وکٹ کے دونوں طرف کھیل رہے ہیں،ہمیں اپنے رولز کو بہتر کرنے کی ضرورت ہے،جو قوانین ہم بناتے ہیں ان پر عمل بھی ہم کروائیں گے،ایسا نہیں ہو گا کہ کوئی باہر سے صادق اور امین کے سرٹیفکیٹ دے،والدین اور خاندان سب کا ایک جیسا ہے ،میری والدہ ڈیتھ بیڈ پر تھی جب میرے خلاف اقدامات کیے گئے،میں بہت ضدی آدمی ہوں 10 روپے پر لاکھ لگانے والا آدمی ہوں،اپنے اوپر قوانین کا عمل درآمد نہیں ہوتا لیکن ہم پر کر دیا جاتا ہے،جب بھٹو صاحب کو پھانسی دی گئی 44 سال بعد انصاف دیا گیا،جس نے اس قلم کا غلط استعمال کیا ان سے سوال کیوں نہیں کیا جاتا،جب تک نظام درست نہیں ہو گا اس وقت تک 6 کو 9 اور 9 کو 6 کرنا مشکل ہو گا،دوہری شہریت کا حلف نامے اگر ہم پر لاگو ہے تو یہ ججز اور بیوروکریٹ پر بھی لاگو کروائیں گے،عدل کا نظام درست کئے بغیر بہتری نہیں آئے گی،کسی کی عزت نہ اچھالی جائے،ایسے نہیں ہو سکتا کہ سرحدوں پر قربانیاں دینے والوں کا بار بار تماشا بنایا جائے،رولز پر عملدرآمد کروانے کے لئے سینیٹ کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا،میں پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے مجھے سپورٹ کیا، میں ان لوگوں میں سے نہیں جنہوں نے نو مئی کے بعد اپنے چیئرمین کے خلاف پریس کانفرنس کی اور سیٹیں بھی اپنے پاس رکھیں،پی ٹی آئی کیجانب سے اعجاز چوہدری کے پروڈکشن آڈر جاری کرنے کی حمایت کرتا ہوں،میں اپنے خلاف ہونے والے اقدامات پر قانونی چارہ جوئی کروں گا،جناب چیئرمین میں ضدی آدمی ہوں اسٹینڈ لے لوں تو پھر کچھ نہیں دیکھتا، ایوان میں آج پہلا دن ہے ، کسی کانام لینا مناسب نہیں سمجھتا ، ایوان میں ایسے لوگ بھی ہیں جو چاروں طرف کھیل رہے ہیں ،ایوان میں چاروں طرف کھیلنے والوں کو بے نقاب کرنا پڑے گا ،

    ایوان میں 7 آرڈیننس ایوان میں پیش کئے گئے ۔
    وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے پاکستان براڈ کاسٹنگ کارپوریشن ترمیمی آرڈیننس 2023، وزیر بحری امور قیصر شیخ نے پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن ترمیمی آرڈیننس 2023، وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے پاکستان پوسٹل سروسز منیجمنٹ بورڈ ترمیمی آرڈیننس 2023، نیشنل ہائی وے اتھارٹی ترمیمی آرڈیننس 2023 ،فوجداری قوانین ترمیمی آرڈیننس 2023،نجکاری کمیشن ترمیمی آرڈیننس 2023 اور اپیلٹ ٹربیونل آرڈیننس 2023 ایوان میں پیش کئے ۔

    کونسی کمیٹی اپوزیشن کو جائے گی، کونسی حکومت کو ،ملکر طےکرتے ہیں،سپیکر قومی اسمبلی

    متروکہ وقف املاک کی 14 سو47 ایکڑ زمین پر قبضہ ہے،وزیر قانون

    عمران خان کی سابق معاون خصوصی کو حکومت میں عہدہ مل گیا

    پی ٹی آئی کو ایک اور دھچکا، دوبارہ کروائے گئے انٹرا پارٹی انتخابات پر اعتراض عائد

    ضمنی انتخابات میں مریم نواز کا جادو کیسے چلا؟ اہم انکشافات

    بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

    بحریہ ٹاؤن،چوری کا الزام،گھریلو ملازمین کو برہنہ کر کے تشدد،الٹا بھی لٹکایا گیا

    بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

  • ایف بی آر کے دس ہزار ملازم ٹیکس ریٹرن جمع نہیں کراتے،سینیٹر مشتاق خان

    ایف بی آر کے دس ہزار ملازم ٹیکس ریٹرن جمع نہیں کراتے،سینیٹر مشتاق خان

    اسلام آباد: جماعت اسلامی کے رہنما اور سینیٹر مشتاق خان نے دعویٰ کیا ہے کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے دس ہزار ملازم ٹیکس ریٹرن جمع نہیں کراتے۔

    باغی ٹی وی : سینیٹ اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے سینیٹر مشتاق کا کہنا تھاکہ سرکاری ملکیتی ادارے عوام کے ٹیکس کے 458 ارب روپےکھا رہے ہیں، ان سرکاری ملکیتی اداروں کی کارکردگی صفر ہے، سرکاری ادارے عوام کو سہولت دینے میں ناکام ہوگئے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ پاکستان میں سرمایہ غریب سے امیر کی طرف جاتا ہے، موجودہ ماڈل غریبوں کا نوالہ چھیننے والا اور امیروں کو نوازنے والا ہے، پاکستان کی 40 فیصد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے ہے،ایف بی آر کے دس ہزار ملازم ٹیکس ریٹرن جمع نہیں کراتے، پاکستان میں غربت بڑھ رہی ہے جبکہ جنوبی ایشیامیں فی کس آمدن بڑھ رہی ہے، سرکاری ملکیتی اداروں کاخسارہ کل جی ڈی پی کا دس فیصد تک پہنچ گیا ہے، جو ریاستی ادارے چل نہیں سکتے ان کی نجکاری کر دی جائے۔

    شادی شدہ افراد زیادہ خوش باش او ر صحت مند ہوتے ہیں یا تنہا زندگی …

    سنی اتحاد کونسل کے رانا آفتاب کا وزیراعلیٰ پنجاب کا انتخاب ماننے سے …

    146 جان بچانے والی ادویات کی قیمتوں میں اضافے کا نوٹیفکیشن جاری

  • سوشل میڈیا پر فوج مخالف پروپیگنڈہ کےخلاف سینیٹ میں قراردادمنظور

    سوشل میڈیا پر فوج مخالف پروپیگنڈہ کےخلاف سینیٹ میں قراردادمنظور

    چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی زیرصدارت سینیٹ اجلاس ہوا.

    چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی نے اجلاس کے آغاز کے موقع پر کہا کہ آپ سب کو پورے پاکستان کو نئے سال کی مبارک باد، اللہ پاک پاکستان کو کامیاں دے، اللہ پاک ملک کو معاشی خوشحالی دے،

    سوشل میڈیا پر فوج مخالف پروپیگنڈہ کےخلاف سینیٹ میں قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی گئی،پیپلز پارٹی کے سینیٹر بہرہ مند تنگی نے قرار داد پیش کی۔قرارداد میں کہا گیا ہے کہ سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز پر مسلح افواج اور دفاعی ایجنسیوں کےخلاف منفی اور بدنیتی پر مبنی پروپیگنڈہ کیا جا رہا ہے،پاک فوج اور سکیورٹی فورسز کے خلاف منفی اور بدنیتی پر مبنی پروپیگنڈا کرنے والا سخت سزا کا مستحق ہے، پارلیمنٹ کا ایوان بالا فوج اور سکیورٹی فورسز کی دہشت گردی کے خلاف جنگ اور سرحدوں کی حفاظت کے لیے دی گئی قربانیوں کا ادراک کرتا ہے، دشمن ہمسائیوں کے ہوتے ہوئے مضبوط فوج اور سکیورٹی ایجنسی ناگزیر ہے، سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر پاک فوج کے خلاف بدنیتی پر مبنی پروپیگینڈا کیا جا رہا ہے، سینیٹ اس قرارداد کے ذریعے حکومت کو کہتی ہے کہ اس میں ملوث افراد کو سخت سزا دینے کے اقدامات کرے، ملوث افراد کیلئے عوامی عہدے سے 10 سال تک کی نااہل کی سزا ضروری ہے

    جو افواج پاکستان کے خلاف گندی زبان استعمال کرتا ہے ان زبانوں کو کاٹنا چاہئے،سینیٹر بہرامند تنگی
    سینیٹر بہرامند تنگی نے سینیٹ کے اندر افواج پاکستان کے خلاف گندی زبان استعمال کرنے والوں کی زبان کاٹنے کا مطالبہ کردیا۔ ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ جہاں تک مسنگ پرسن کی بات ہے، میں کولیگز کو بتانا چاہتا ہوں کہ بلوچستان میں محب وطن ہیں انکو کسی نے مسنگ نہیں، انہوں نے چیئرمین سینیٹ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ بھی بلوچستان سے ہیں ،آپکے آباؤ اجداد نے بھی سیاست کی، پاکستان کے لئے سیاست کرتے ہیں، ملک کے لئے سیاست کرتے ہیں، آپ کو تو کسی نے لاپتہ نہیں کیا، یہ جو مسنگ پرسن کا مارچ آیا بتا سکتے ہیں کہ مسنگ پرسن کون ہیں،جو افواج پاکستان کے خلاف گندی زبان استعمال کرتا ہے ان زبانوں کو کاٹنا چاہئے،ادارے ہماری،ہمارے بچوں کی حفاظت کرتے ہیں،ملک کی حفاظت کرتے ہیں، آپکی حفاظت کرتے ہیں، آج اس چیپٹر کو کلوز کرنا چاہئے کہ ٹویٹر پر یا کہیں اور کوئی اداروں پر تنقید کرے.

    سینیٹر اکرم نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ بلوچوں کا دھرنا اسلام آباد آیا ہے اسلام آباد میں پولیس کا رویہ غلط تھا ان کو گرفتار کیا گیا ۔مسنگ پرسن کا مسئلہ انسانی المیہ ہے اس سے پورا پاکستان متاثر ہے ان لوگوں کو اٹھایا جاتا ہے یہ مسنگ نہیں ہیں یہ یونیورسٹیوں کے طالب علم ہیں ،بہرمند تنگی نے کہاکہ آپ کو کیوں نہیں اٹھایا جاتا ہے؟محمد اکرم نے کہاکہ کسی کا بھائی کسی کا والد غائب ہے سینیٹ وفاق کی نمائندگی کرتی ہے اس معاملے پر بات ہونی چاہیے ۔پاکستان کے تمام سٹیک ہولڈر ڈائیلاگ کریں ۔یہ پورے بلوچستان کا مسئلہ ہے بلوچستان پاکستان کا مستقبل ہے بلوچستان میں وقتا فوقتا 5آپریشن ہوئے ہیں۔

    ادارے بضد ہیں تو پھر انتخابات میں بھر پور حصہ لیں گے، ہمیں کہا جاتا ہے اپنی خود حفاظت کریں، بتائیں ہم کیسے حفاظت کریں، عبدالغفور حیدری
    سینیٹر عبدالغفور حیدری نے کہاکہ کل مولانافضل الرحمن کے قافلے پر حملہ ہوا مگر مولانا فضل الرحمن قافلے میں نہیں تھے ہم ان حالات میں الیکشن لڑرہے ہیں. آئے روز اس طرح کے واقعات ہورہے ہیں الیکشن کے لیے امن ضروری ہے بلوچستان کے شمالی علاقہ جات جنوری فروری میں سردی کی لپیٹ میں ہیں مولانافضل الرحمن پر تین خودکش حملے ہوئے اور درجنوں کارکن شہید ہوئے ہیں ہم اہنے نظریے اور عقیدے پر قائم ہیں ۔ کوئٹہ میں جلسے سے پہلے وزیر داخلہ آئے کہ حملے کا خطرہ ہے ۔ سیکیورٹی نہیں دے سکتے تو ہاتھ کھڑے کرلیں کہ ملک دہشت گردوں حوالے ہے ۔مجھ پر بھی حملے کا خطرہ ہے مجھے جان کا خطرہ ہے بلٹ پروف گاڑی نہیں دے رہے ہیں میں خود کس طرح بلٹ پروف گاڑی لے سکتا ہوں مولانا فضل الرحمان پر حملے کی مذمت کرتے ہیں، اگر ادارے بضد ہیں تو پھر انتخابات میں بھر پور حصہ لیں گے، ہمیں کہا جاتا ہے اپنی خود حفاظت کریں، بتائیں ہم کیسے حفاظت کریں، عبدالغفور حیدری کا کہنا تھا کہ بالاچ بلوچ اور دھرنے میں بیٹھے لوگوں سے اختلاف کیا جاسکتا ہے مگر ان کے مطالبات ٹھیک ہیں۔ ہمیں اطمینان دلایا جائے کہ جو اٹھا کر غائب کئے گئے ہیں وہ کب رہاہوں گے ان کو عدالت میں پیش کیا جائے ٹرائل کیا جائے ۔

    کاغذات مسترد کرنا تائید کنندہ کو غائب کرنا الیکشن کو رکوانا ہے یہ پھر الیکشن نہیں سلیکشن ہوگا،سینیٹر مشتاق احمد
    سینیٹر مشتاق احمد نے کہاکہ ڈیتھ سکواڈ کو ختم کیا جائے لاپتہ افراد کو رہا کیا جائے بلوچستان سے آئے مظاہرین پر اسلام آباد میں تشدد کیا گیا واٹر کینن استعمال کیا گیا اسلام آباد کی انتظامیہ اور پولس کو شرم آنی چاہیے ۔ چمن میں 3ماہ سے دھرنا ہے 50ہزار لوگوں کو بے روزگار کیا گیا منظور پشتین کو جانے نہیں دیا گیا گرفتار کیا گیا منظور پشتن کو غدار کہا گیا ،بہرمند تنگی نے کہاکہ منظور پشتین غدار ہے ،مشتاق احمد نے کہاکہ مولانافضل الرحمن پر حملے کی مذمت کرتے ہیں سیکیورٹی کی آڑ میں کاغذات مسترد کرنا تائید کنندہ کو غائب کرنا الیکشن کو رکوانا ہے یہ پھر الیکشن نہیں سلیکشن ہوگا ۔

    شفاف الیکشن کرانا نگران حکومت کا کام ہے اگر یہ نہیں کرسکتے تو گھر چلے جائیں،سینیٹر ہمایوں مہمند
    سینیٹر ہمایوں مہمند نے کہاکہ مبارک باد سے ملک ٹھیک نہیں ہوتا ہے ۔تحریک انصاف کے رہنماؤں، ان کے تائید کنندہ کو گرفتار کیا جارہاہے صاف شفاف الیکشن کرانا نگران حکومت کا کام ہے اگر یہ نہیں کرسکتے تو گھر چلے جائیں ۔اس طریقہ سے ملک میں استحکام نہیں آتا ہے ۔نگران حکومت بہت زیادہ ظلم کررہی ہے ان کو ان کا حساب کتاب دینا ہوگا۔ اس طرح کی مداخلت بڑھتی جارہی ہے. ساری سیاسی جماعتوں کو مذمت سے آگے جاکر کچھ کرنا پڑے گا ۔

    محمد طاہر بزنجو نے کہا کہ بلوچستان میں لاپتہ افراد حقیقت ہیں یہ کو ئی قصہ اور کہانی نہیں ہیں اگر اس مسئلے کو حل نہ کیاتو یہ معاملہ قومی اور بین الاقوامی سطح پر مسئلہ بنا رہے گا انصاف دو گے تو بلوچستان میں امن و شانتی آئے گی ورنہ بدامنی اور دھرنے چلتے رہیں گے۔

    غلطیاں کرنی ہیں تو نئی کریں پرانی غلطیاں نہ کریں،الیکشن صاف و شفاف ہونا چاہئے،مشاہد حسین سید
    سینیٹر مشاہد حسین سید نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ غزہ میں 25 ہزار معصوم شہریوں اور بچوں کو شہید کردیا گیا،اسرائیل اس وقت فلسطین پر ظلم و بربریت کے پہاڑ توڑ رہا ہے ،اسرائیلی جارحیت کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے، بلوچستان کے مظاہرین اس وقت اسلام آباد میں بیٹھے ہیں،اگر اٹھائے گئے افراد میں سے کوئی شخص قصور وارہے تو اسے سزا دیں ،2018 میں جس طرح الیکشن کے عمل کو سبوتاژ کیا گیا وہ اس بار نہیں ہوناچاہئے،غلطیاں کرنی ہیں تو نئی غلطیاں کریں پرانی غلطیاں نہ کریں،الیکشن صاف و شفاف ہونا چاہئے.

    فوجداری قوانین ترمیمی بل 2023 سینیٹ میں پیش کر دیا گیا،بل متعلقہ کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا،سروس ٹربیونلز ترمیمی بل 2023 سینیٹ میں پیش کر دیا گیا،بل سینیٹر شہادت اعوان نے پیش کیا ،بل متعلقہ کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا،پاکستان انکوائری کمشنز ترمیمی بل 2023 سینیٹ میں پیش کر دیا گیا،بل متعلقہ کمیٹی کے سپردکر دیا گیا،اسلام کیپیٹل ٹریٹری آبی کناروں کی حفاظت اقدامات بک 2023سینیٹ میں پیش کر دیا گیا،بل متعلقہ کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا،ہائیر ایجوکیشن کمیشن ترمیمی بل 2023 سینیٹ میں پیش کر دیا گیا،بل متعلقہ کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا

    تمام امیدواران کو الیکشن کا برابر موقع ملنا چاہئے

    عام انتخابات کے دن قریب آئے تو تحریک انصاف کی مشکلات میں اضافہ 

     این اے 15سے نوازشریف کے کاغذات نامزدگی منظور

    نواز شریف پر مقدر کی دیوی مہربان،راستہ صاف،الیکشن،عمران خان اور مخبریاں

    انتخابات سے متعلق سروے کرنے پر ٹی وی چینلز کیخلاف کارروائی کا حکم

    تحریک انصاف کے وکیل شعیب شاہین چیف جسٹس پاکستان کے سامنے پیش

    ٹکٹوں کی تقسیم،ن لیگ مشکل میں،امیدوار آزاد لڑیں گے الیکشن

    الیکشن کمیشن کا فواد حسن فواد کو عہدے پر برقرار رکھنے کا فیصلہ