Baaghi TV

Tag: سینیٹ

  • قرارداد کے اندر جو مسائل بیان کئے گئے ہیں، وہ حقیقی ہیں، مرتضیٰ سولنگی

    قرارداد کے اندر جو مسائل بیان کئے گئے ہیں، وہ حقیقی ہیں، مرتضیٰ سولنگی

    نگران وفاقی وزیر اطلاعات، نشریات و پارلیمانی امور مرتضیٰ سولنگی نے پارلیمنٹ ہاﺅس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایوان بالا میں الیکشن کے التواءکی قرارداد میں دلائل دینے کا موقع نہیں ملا،

    مرتضیٰ سولنگی کا کہنا تھا کہ وزیراعظم یا کابینہ کی طرف سے الیکشن کی تاخیر کے حوالے سے کوئی حکم موجود نہیں تھا،آئین کے آرٹیکل 218(3) کے تحت الیکشن کرانا، الیکشن کی تاریخ دینا یا تبدیل کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے،ہم کسی آئینی ادارے کے معاملات میں مداخلت نہیں کر سکتے، قرارداد کے اندر جو مسائل بیان کئے گئے ہیں، وہ حقیقی مسائل ہیں، پاکستان کی پارلیمانی سیاست اور انتخابات کی تاریخ میں یہ مسائل پہلے بھی موجود رہے ہیں، سیکورٹی کی فراہمی سمیت موسم اور دیگر مسائل کا خیال رکھنا حکومت کی ذمہ داری ہے، ابھی تک کسی حلقے کی طرف سے کوئی ایسا اشارہ نہیں ملا جس میں واضح پیغام ہو کہ انتخابات نہیں ہونے چاہئیں،الیکشن کے التواء یا انعقاد کا آئینی اختیار صرف الیکشن کمیشن آف پاکستان کے پاس ہے،

    واضح رہے کہ سینیٹ میں ملک میں بڑھتی ہوئی دہشگردی کے واقعات کو بنیاد بنا کر انتخابات ملتوی کروانے کی قرارداد سینیٹر دلاور خان نے پیش کی۔جسے سینیٹ نے متفقہ طور پر منظور کر لیا۔قرارداد میں کہا گیا کہ الیکشن ملتوی کئے جائیں،جنوری اور فروری میں بلوچستان کے کئی علاقوں پر موسم سخت ہوتا ہے،مولانا فضل الرحمن اور محسن داوڑ پر حملے ہوئے اور کئی لیڈرزکو دھمکیاں مل رہی ہیں۔سینٹ وفاق کے حقوق کا ضامن ہے۔الیکشن شیڈول کو ملتوی کیا جائے۔قرارداد کثرت رائے منظور کر لی گئی

    ڈاکٹر مہر تاج روغانی نے ادویات کی قلت پر توجہ دلاؤ نوٹس دیا،

    فوج مخالف پروپیگنڈہ کےخلاف سینیٹ میں قرارداد متفقہ طور پر منظور

    تمام امیدواران کو الیکشن کا برابر موقع ملنا چاہئے

    عام انتخابات کے دن قریب آئے تو تحریک انصاف کی مشکلات میں اضافہ 

     این اے 15سے نوازشریف کے کاغذات نامزدگی منظور

    نواز شریف پر مقدر کی دیوی مہربان،راستہ صاف،الیکشن،عمران خان اور مخبریاں

    انتخابات سے متعلق سروے کرنے پر ٹی وی چینلز کیخلاف کارروائی کا حکم

    تحریک انصاف کے وکیل شعیب شاہین چیف جسٹس پاکستان کے سامنے پیش

    ٹکٹوں کی تقسیم،ن لیگ مشکل میں،امیدوار آزاد لڑیں گے الیکشن

    الیکشن کمیشن کا فواد حسن فواد کو عہدے پر برقرار رکھنے کا فیصلہ

  • کرکٹ ذکا اشرف کی "ہابی” پھر پی سی بی چیئرمین کیوں بنایا گیا؟ سینیٹ میں سوال

    کرکٹ ذکا اشرف کی "ہابی” پھر پی سی بی چیئرمین کیوں بنایا گیا؟ سینیٹ میں سوال

    چئرمین پی سی بی ذکا اشرف کی آڈیو اور انکی تقرری بارے سینیٹ میں بحث ہوئی

    چیئرمین پی سی بی ذکاء اشرف کی تفصیلات سینیٹ میں پیش کر دی گئیں،سینیٹ کے اجلاس میں وزارتِ بین الاصوبائی رابطہ نے اس ضمن میں تحریری جواب پیش کر دیا، تحریری جواب میں کہا گیا کہ ذکاء اشرف ایک معروف بزنس مین ہیں اور اس وقت چیئرمین پی سی بی ہیں،ذکاء اشرف اس وقت چیئرمین اشرف گروپ آف انڈسٹریز ہیں،ذکاء اشرف اس وقت چیئرمین شوگر ریسرچ ڈیولپمنٹ بورڈ اور ممبر چیف منسٹر پنجاب ایگریکلچر ٹاسک فورس ہیں، ذکاء اشرف کے تجربے میں چیئرمین پی سی بی اور چیئرمین ایشین کرکٹ کونسل ڈیولپمنٹ کمیٹی ہے، ذکاء اشرف کے مشغلے میں کرکٹ، زراعت،ریسرچ اور ڈیولپمنٹ ہے

    چیئرمین پی سی بی کی تقرری، سینیٹ میں بھی گونج،آڈیو لیک کا بھی تذکرہ
    سینیٹ میں بھی چیئرمین پی سی بی کی تقرری کی گونج سننے میں آئی، سینیٹر مشتاق احمد نے کہا کہ سیاست میں آڈیو لیکس کا سنا تھا اب کرکٹ میں میں آڈیو لیکس آنے لگی ہیں،میں نے چئیرمین پی سی بی کی تقرری کا طریقہ پوچھا تھا،بتایا گیا وہ شوگر مل کے چئیرمین، قائمہ کمیٹی کے چیئرمین اور صادق پبلک اسکول کے ممبر رہے ہیں؟انہوں نے کرکٹ کو مشغلہ کے طور پر لکھا ہے،ان کا کرکٹ کا تجربہ کچھ نہیں،ا اگر مشغلہ ہو گا تو پھر یہ کرکٹ کا یہی حال ہو گا، کھیلوں کا تجربہ نہیں تو چیئرمین کیوں بنایا گیا، ہماری اولمپکس اور ہاکی کی بھی تباہی ہو چکی ہے،وفاقی وزیر پارلیمانی امور مرتضیٰ سولنگی نے سینیٹ میں وقفہ سوالات کے دوران سینیٹر مشتاق احمد کے سوال پر جواب میں کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین کی تقرری نگران حکومت نے نہیں کی، وہ پہلے بھی چیئرمین رہ چکے ہیں انکی کارکردگی چیک کی جا سکتی ہے موجودہ نگران حکومت نے ان کے اختیارات محدود کر دیئے ہیں،وہ کوئی بنیادی فیصلہ نہیں لے سکتے اور جو الیکشن ہیں اس کا حکم بھی دیا ہے،

     ٹی ٹونٹی کو ختم کرنا ہوگا،ٹی ٹونٹی سے پیسہ بن سکتا ہے پلیئرز نہیں

    چئیرمین پی سی بی ذکا اشرف کی آسٹریلوی وزیراعظم سے ملاقات 

    پاکستانی کھلاڑی طلحہ کے کنٹرول میں،ذکا اشرف کی آڈیو لیک

  • الیکشن ملتوی کروانے کی قرارداد سینیٹ میں منظور

    الیکشن ملتوی کروانے کی قرارداد سینیٹ میں منظور

    چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی زیرصدارت سینیٹ اجلاس ہوا

    سینیٹ میں ملک میں بڑھتی ہوئی دہشگردی کے واقعات کو بنیاد بنا کر انتخابات ملتوی کروانے کی قرارداد سینیٹر دلاور خان نے پیش کی۔جسے سینیٹ نے متفقہ طور پر منظور کر لیا۔قرارداد میں کہا گیا کہ الیکشن ملتوی کئے جائیں،جنوری اور فروری میں بلوچستان کے کئی علاقوں پر موسم سخت ہوتا ہے،مولانا فضل الرحمن اور محسن داوڑ پر حملے ہوئے اور کئی لیڈرزکو دھمکیاں مل رہی ہیں۔سینٹ وفاق کے حقوق کا ضامن ہے۔الیکشن شیڈول کو ملتوی کیا جائے۔قرارداد کثرت رائے منظور کر لی گئی، جس وقت قرارداد پیش کی گئی اسوقت سینیٹ میں چودہ اراکین موجود تھے،ن لیگی سینیٹر افنان اللہ خان نے قرارداد کی مخالفت کردی، قرارداد کی منظوری کے وقت پی پی کے بہرمند تنگی،پی ٹی آئی کےا گردیپ سنگھ، ن لیگ کے افنان اللہ ،مسلم لیگ ق کے کامل علی آغا ودیگر ایوان میں موجود تھے،آزاد گروپ کےدلاور خان،ہدایت،اللہ ہلال الرحمن ،باپ کےمنظور کاکڑ،ثمینہ زہری، احمد خان، ثناء جمالی کہودہ بابر،پرنس احمد عمر،نصیب اللہ بازائی ایوان میں موجود تھے

    سینیٹر دلاور خان نے اس موقع پر کہا کہ میں نے ایک بل سینیٹ سیکریٹریٹ کو ایک بل دیا ہوا ہےمیں ایک قرارداد پیش کرنا چاہتا ہوں,الیکشن کمیشن کی ذمے داری ہے شفاف الیکشن کروائےالیکشن کمیشن کا کام ہے کہ الیکشن میں اچھا ٹرن آؤٹ ہوسیاسی جماعتیں کی لیڈرشپ پر حملے کئے جارہے ہیں,مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کے حوالے سے تھریٹ الرٹ جاری ہورہے ہیں,یہ تھریٹ الرٹ مختلف ایجنسیز نے جاری کئے8 فروری کو ہونے والے الیکشن ملتوی کئے جائیں,

    ایوان میں وزیر اطلاعات مرتضی سولنگی نے مخالفت کی تو قراداد دوبارہ پیش کی گئی جس پر سینیٹر افنان اللہ،سینیٹر گردیپ سنگھ نے مخالفت کی باقی سب نے حمایت کی ،پہلی بار صرف افنان اللہ نے مخالفت کی تھی

    سینیٹ اجلاس کے آغاز پر سابق وزیرخزانہ سرتاج عزیز کی مغفرت کیلئے دعا کرائی گئی،جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد نے مرحوم کے درجات کی بلندی کیلئے دعائے مغفرت کرائی،سینیٹر سعدیہ عباسی نے کہا کہ سرتاج عزیر کی ملک کیلئے وسیع خدمات رہی ہیں، مرحوم تعلیم،معشیت اور زرعی حوالے سے ماہر تھے، سرتاج عزیز نے فاٹا مرجر متعلق قانون سازی میں اہم کردار ادا کیا،مرحوم محب وطن پاکستانی اور آخری دم تک پاکستان کی بہتری کیلئے کوشاں رہے، ایوان بالا کی طرف سے تعزیت کا خط انکے خاندان کو جانا چاہیے،

    چیئرمین پی سی بی کی تقرری، سینیٹ میں بھی گونج،آڈیو لیک کا بھی تذکرہ
    سینیٹ میں بھی چیئرمین پی سی بی کی تقرری کی گونج سننے میں آئی، سینیٹر مشتاق احمد نے کہا کہ سیاست میں آڈیو لیکس کا سنا تھا اب کرکٹ میں میں آڈیو لیکس آنے لگی ہیں،میں نے چئیرمین پی سی بی کی تقرری کا طریقہ پوچھا تھا،بتایا گیا وہ شوگر مل کے چئیرمین، قائمہ کمیٹی کے چیئرمین اور صادق پبلک اسکول کے ممبر رہے ہیں؟انہوں نے کرکٹ کو مشغلہ کے طور پر لکھا ہے،ان کا کرکٹ کا تجربہ کچھ نہیں،ا اگر مشغلہ ہو گا تو پھر یہ کرکٹ کا یہی حال ہو گا، کھیلوں کا تجربہ نہیں تو چیئرمین کیوں بنایا گیا،وفاقی وزیر پارلیمانی امور مرتضیٰ سولنگی نے سینیٹ میں وقفہ سوالات کے دوران سینیٹر مشتاق احمد کے سوال پر جواب میں کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین کی تقرری نگران حکومت نے نہیں کی، وہ پہلے بھی چیئرمین رہ چکے ہیں انکی کارکردگی چیک کی جا سکتی ہے موجودہ نگران حکومت نے ان کے اختیارات محدود کر دیئے ہیں،وہ کوئی بنیادی فیصلہ نہیں لے سکتے اور جو الیکشن ہیں اس کا حکم بھی دیا ہے،

    آئن لائن کھیلوں میں جوئے کےسائٹس اور کرکٹ میچوں میں جوئے کیلئے پاکستانیوں کا استعمال پر سینیٹ میں تحریری جواب جمع کروایا گیا جس میں کہا گیا کہ ویب سائٹس بعض غیرملکیوں کی جانب سے کنٹرول کیے جاتے ہیں،پلیٹ فارمز پاکستان میں خدمات کی پیشکش تو نہیں کررہے

    سعودی عرب سے رہا قیدیوں کی تفصیلات سینیٹ میں پیش
    سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے دورہ پاکستان کے بعد سعودی عرب کی جیلوں سے 4 ہزار 130 پاکستانی قیدی رہا ہوئے،وزارت خارجہ نے تفصیلات سینیٹ میں پیش کردیں، وزارت خارجہ نے تحریری جواب میں کہا کہ اکتوبر 2019 کے بعد سے اب تک 4130 پاکستانی سعودی عرب سے رہا ہوئے ہیں، سال 2019 میں 545, 2020 میں 892, 2021 میں 916 پاکستانی، 2022 میں 1331 اور سال 2023 میں 447 پاکستانی قیدی سعودی عرب سے رہا ہوئے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ بتانا مشکل ہے کہ رہائی پانے والوں میں سے کتنے سعودی حکومت کی اعلان کردہ نرمی کی وجہ سے رہا ہوئے ہیں.

    ادویات کی قیمتوں‌میں اضافہ، سینیٹ میں بحث،ہم نے اضافہ نہیں کیا، نگران وزیر صحت
    سینیٹ اجلاس میں ادویات کی قلت ،قیمتوں میں اضافے کا معاملہ بھی زیر بحث آیا،سینیٹر مشتاق احمد نے ادویات کی قیمتوں میں اضافے سے متعلق بات کی،سینیٹر مشتاق احمد نے کہا کہ ادویات کی قیمتوں میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے،صرف مرگی کی دوا کی قیمت میں کافی اضافہ ہوا ہے مجھے پتہ ہوتا تو ادویات ساتھ لے آتا، نگران وزیر صحت ندیم جان نے ایوان میں کہا کہ ” ہماری حکومت میں سات پیسے دوا مہنگی نہیں ہوئی یہ اضافہ سی پی آئی پالیسی کے تحت اضافہ ہوا ہے ہم نے خود نہیں کیا، اگر کوئی ثبوت آپکے پاس ہے تو لے آئیں دس سے پندرہ قسم کی دوا متعلق ڈریپ نے بتایا کہ فارما کو نقصان ہورہا ہے ہم نے ڈریپ کو کہا ہے فارما سے بات کریں، آئن لائن سروس اور پورٹل سروس سے مانیٹرنگ ہورہی ہےاب تک 77 شکایات درج ہوئیں جس پر ایکشن ہوا ہم روزانہ کی بنیاد پرذخیرہ اندوزی اور گراں فروشی پر کارروائی کررہے ہیں”

    سینیٹر بہرامند تنگی نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ادویات کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے، بہت سی اہم ادویات کافی مہنگی ہوگئی ہیں، اس معاملے کو قائمہ کمیٹی کو بھجوایا جائے،سینیٹر کامران مرتضی نے کہا کہ ادویات مہنگی ہونے کے باوجود صحت حکام کو پتہ تک نہیں بتایا جائے اسپتال کی مد میں کتنی ادویات جارہی ہیں اور کتنے کی خریدی جارہی ہیں؟ نگران وزیرصحت ندیم جان نے کہا کہ ادویات کی شارٹیج ہے لیکن اتنا نہیں کہ کنٹرول نہ ہوسکے، ہم ادویات کو دیکھ رہے ہیں آپ بھی ہماری آواز بنیں،سینیٹر فوزیہ ارشد نے کہا کہ کہا گیا عالمی ادارہ صحت اور یونیسف ہمیں فنڈز نہیں دیتے،کیا آپکے کہنے پر وہ فنڈز دیتے ہیں؟ ضروریات کیا آپ بتاتے ہیں؟نگران وزیر صحت ندیم جان نے کہا کہ ہم انہیں اپنی ضروریات بتاتے رہتے ہیں، جسے وہ اپنے اسٹاک سے مہیا کرتے ہیں، ہمارا سسٹم بہت کمزور ہے اس پر سرمایہ کاری ہونی چاہیے،سینیٹر بہرامند تنگی نے کہا کہ غیر معیاری اور جعلی ادویات کی روک تھام متعلق کیا حکمت عملی ہے؟ اگر سب بہترین وسائل موجود ہیں تو ملک میں ایک نمبر دو نمبر نہیں بارہ نمبر ادویات کیوں ہیں؟ نگران وزیر صحت ندیم جان کا کہنا تھاکہ 262 دوائیاں آئیں کہ ان کی قیمت بڑھائیں،لیکن ہمیں عوام کی قوت خرید کا پتہ ہے، ہماری پالیسی کے مطابق دوائی مہنگی نہیں ہوئی، 2018 میں پالیسی بنی کہ فارما کمپنی سات فیصد اور دس فیصد تک قیمتیں بڑھا سکتی ہیں پھر 2021 میں اس کو بڑھایا گیا، سی پی آئی کے تناظر میں قیمتیں بڑھیں ، اسکے علاوہ اگر کوئی اضافہ ہوا تو سامنے لائیں،ہم ایکشن لیں گے،

    سینیٹر مشتاق احمد نے پمز اور پولی کلینک میں ادویات کی قلت کا معاملہ اٹھادیا، سینیٹر مشتاق احمد نے کہا کہ حکومت ادویات کی قلت کو کیوں ختم نہیں کر رہی،وزارت صحت نے تحریری جواب میں کہا کہ پمز کو چند ادویات کی کمی کا سامنا ہے، ایک تو بجٹ کم ہونے کے باعث ادائیگی کے مسائل کی بابت ادویات کی قلت ہے، دوسرا مہنگائی کے باعث طلب اور رسد میں غیر مطابقت واقع ہو جاتی ہے، پمز کے ساتھ ساتھ پولی کلینک ہسپتال میں بھی بعض ادویات کی قلت کا انکشاف سامنے آیا ہے،پولی کلینک ہسپتال میں اینٹی ریبیز کی ویکسینیشن بھی دستیاب نہ ہونے کا انکشاف سامنے آیا، سینیٹر ہمایوں مہمند نے کہا کہ پمز کے حالات بہت زیادہ خراب ہوگئے ہیں،سینیٹر روبینہ خالد نے کہا کہ مرگی کی دوائی آٹھ دس مہینے سے مارکیٹ میں نہیں ہے،

    کرونا کی نئی قسم، سینیٹ میں سوال،ابھی کوئی کیس پاکستان میں نہیں، جواب
    سینیٹر محسن عزیز نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ سننے میں آرہا ہے کہ پاکستان میں کوئی نئی قسم کا کورونا آیا ہے، کیا یہ سچ ہے اور اس کے لئے حکومت کیجانب سے کیا اقدامات کئے جارہے ہیں؟ جس پر نگران وزیر صحت ندیم جان نے کہا کہ ابھی تک کوئی بھی کورونا کا نیا کیس پاکستان میں نہیں آیا، ہم اس معاملے پر ریڈ الرٹ پر ہیں، ہم نے تین مرتبہ ایڈوائزری بھی جاری کی ہے۔ پیمرا سے گزارش ہے کہ ایڈوائزری کو چلائیں، ایڈوائزری میں واضح کہا ہے کہ کوئی نیا کیس نہیں آیا تاہم احتیاط کی جائے.

    یوریا کھاد کے دو کارخانے بند رہے جس کی وجہ یوریا کھاد میں کمی آئی ہے
    سینیٹ میں یوریا کھاد کی قلت اور بڑھتی ہوئی قیمتوں سے متعلق توجہ دلاؤ نوٹس کا جواب دیتے ہوئے وزیر اطلاعات و نشریات مرتضی سولنگی نے کہا کہ کہ زراعت ہماری معیشت کا ایک چوتھائی ہے ،ہم جتنے منصوبے بنارہے ہیں وہ زراعت کے بغیر نہیں چل سکتے ،دولاکھ بیس ہزار ٹن یوریا کھاد درآمد کی گئی ہے ،یوریا کھاد کے دو کارخانے بند رہے جس کی وجہ یوریا کھاد میں کمی آئی ہے ،باہر سے کھاد منگوانے کا فیصلہ لیٹ کیا گیا جس کی وجہ سے کھاد مہنگی ہوئی ہے ،صوبوں کو یوریا کھاد کی سپلائی بڑھائی ہے،مافیاز کے خلاف ایف آئی آر ز کا اندراج بھی کروائے ہیں ،یوریاد کھاد کی قیمت چار ہزار روپے ہے

    سینیٹ میں قائد ایوان سینیٹر اسحاق ڈار نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ گلوبلی ہمارا سوشل سیکٹر پر بہت کم خرچ ہے، تمام صوبوں کی یہاں نمائندگی ہے، صوبوں کے وسائل ان کے پاس ہیں،کہاجاتا ہے وزیراعظم ہونے سے بہتر ہے صوبے میں چیف منسٹر ہوں،صوبے مل کر وفاقی حکومت کے ساتھ طے کریں کہ صحت اور تعلیم پر خرچ میں کئی گنا اضافہ ہونا چاہئے،

    حماس کے ترجمان خالد قدومی سینیٹ اجلاس کے دوران گیلری میں موجود تھے، سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہا کہ ہمیں فلسطینی بھائیوں پر فخر ہے، پاکستان فلسطینی عوام کی مکمل حمایت کرتا ہے،پاکستانی عوام فلسطین کے ساتھ ہیں، سینیٹر مشتاق احمد نے کہا کہ اسرائیل کسی بین الاقوامی قانون کو خاطر میں نہیں لاتا،او آئی سی اپنی قراردادوں پر عملدرآمد کرے، او آئی اسی پبلک ہیئرنگ کرے،امریکہ نے اسرائیل کو سپورٹ دی ہے، عالمی برادری اس کا نوٹس لے

    ڈاکٹر مہر تاج روغانی نے ادویات کی قلت پر توجہ دلاؤ نوٹس دیا،

    فوج مخالف پروپیگنڈہ کےخلاف سینیٹ میں قرارداد متفقہ طور پر منظور

    تمام امیدواران کو الیکشن کا برابر موقع ملنا چاہئے

    عام انتخابات کے دن قریب آئے تو تحریک انصاف کی مشکلات میں اضافہ 

     این اے 15سے نوازشریف کے کاغذات نامزدگی منظور

    نواز شریف پر مقدر کی دیوی مہربان،راستہ صاف،الیکشن،عمران خان اور مخبریاں

    انتخابات سے متعلق سروے کرنے پر ٹی وی چینلز کیخلاف کارروائی کا حکم

    تحریک انصاف کے وکیل شعیب شاہین چیف جسٹس پاکستان کے سامنے پیش

    ٹکٹوں کی تقسیم،ن لیگ مشکل میں،امیدوار آزاد لڑیں گے الیکشن

    الیکشن کمیشن کا فواد حسن فواد کو عہدے پر برقرار رکھنے کا فیصلہ

  • سینیٹ اجلاس،ادویات کی قلت پر بحث،وزیر کی عدم موجودگی،چیئرمین برہم

    سینیٹ اجلاس،ادویات کی قلت پر بحث،وزیر کی عدم موجودگی،چیئرمین برہم

    چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی زیر صدارت سینیٹ اجلاس ہوا

    ڈاکٹر مہر تاج روغانی نے ادویات کی قلت پر توجہ دلاؤ نوٹس دیا، ڈاکٹر ندیم وزیر صحت اور سیکرٹری صحت کی غیر حاضری پرایوان بر ہم ہو گیا، چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ سیکرٹری سمیت کوئی وزارت صحت سے کوئی ایوان میں موجود نہیں۔اگر سیکرٹری صحت جمعہ کو نہیں آئے تو سسپینڈ کردوں گا۔ڈاکٹر مہرتاج روغانی نے کہا کہ ادویات کی قلت کے اہم معاملے پر بھی وفاقی وزیر صحت کا ایوان سے غیر حاضر ہونا افسوسناک ہے۔چیئرمین سینیٹ نے اظہار برہمی کیا اور وفاقی وزیر کو جلد ایوان میں پہنچنے کا پیغام دینےکی ہدایت کی اور کہا کہ ڈاکٹر ندیم جان آپ سے ڈرتا ہے ،آپ ان کی استاد ہیں۔ڈاکٹر مہر تاج نے کہا کہ نگران وزیر نہ آئیں تو کوئی بات نہیں ،ہمارے دور میں تو وزیروں کو بہت رگڑا دیتے تھے۔وزیر پارلیمانی امور مرتضیٰ سولنگی نے کہا کہ وفاقی وزیر راستے میں ہیں،اگر اجلاس ختم ہو گیا تو اگلے اجلاس میں بیان دیں گے۔چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ وزیر وقت پر کیوں نہیں آتے کیا ایوان ان کا انتظار کرتا رہے۔مہرتاج نے کہا کہ مجھے معلوم ہوا کہ وزیرستان میں ادویات کی قلت کے سبب ایک بچہ جاں بحق ہوگیا ،بچوں کے لیے وزیرستان میں ادویات دستیاب نہیں ، مپہلے روس سے اینٹی ڈیفتھیریا سیرم اتا تھا پھر انڈیا سے آرہا تھا ،دونوں ممالک نے بند کردیا ہے ،اب مقامی کمپنی بیچ رہی ہے جو بلیک میں مل رہاہے ،میزلز،لاکڑا کاکڑا،خسرہ اور ٹائی فائیڈ سمیت کئی وباؤں کی ادویات دستیاب نہیں ہیں ،ملک میں آج امیونائزیشن کی شرح بہت کم ہوگئی ہے ،

    ایوان بالا کے اجلاس میں وقفہ سوالات کے دوران سینیٹر فوزیہ ارشد نے اسلام آباد میں غیر قانونی ہاؤسنگ سکیموں کا معاملہ اٹھایا اور کہا کہ ان ہاؤسنگ سکیموں کی وجہ سے وہاں پر گھر تعمیر کرنے والے لوگوں کو بہت زیادہ مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے،سی ڈی اے کو اس حوالے سے سخت اقدامات کرنے چاہئیں اور غیر قانونی ہاؤسنگ سکیموں کی قطعاً اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے یہ معاملہ قائمہ کمیٹی کو بھجواتے ہوئے ہدایت کی کہ اس پر غور کیا جائے اور غیر قانونی ہاؤسنگ سکیموں کی روک تھام کے لئے سخت اقدامات کئے جانے چاہئیں،

    دو سال میں دہشت گردی کے 1560 واقعات،فورسز کے 593 اہلکار،263 عام شہری شہید
    مئی 2022 سے اگست 2023 تک ملک میں دہشت گردی کے ہونے والے واقعات کی تفصیلات سینیٹ میں پیش کر دی گئی،ملک میں دو سال میں دہشت گردی کے 1560 واقعات ہوئے، دہشت گردی کے دوران قانون نافذ کرنے والے 593 اور 263 شہری شہید ہوئے،دہشت گردی کے واقعات میں 1365 سیکورٹی فورسز اور 773 دیگر زخمی ہوئے،سال 2022 میں دہشت گردی کے 736 واقعات میں 227 سیکورٹی فورسز اور 97 دیگر شہید ہویئے،سال 2022 میں 520 سیکورٹی فورسز اور 401 دیگر افراد زخمی ہوئے ،یکم اگست 2023 تک ملک میں دہشت گردی کے 824 واقعات میں 366 سیکورٹی فورسز اور 166 دیگر افراد شہید ہویئے،یکم اگست 2023 تک دہشت گردی کے واقعات میں 845 سیکورٹی فورسز اور 372 دیگر افراد زخمی ہوئے،

    بلوچستان میں دہشتگردی کے 263، خیبر پختونخوا میں 457،پنجاب میں پانچ،سندھ میں سات واقعات
    بلوچستان میں دہشتگردی کے 263 واقعات ہوئے،52 سکیورٹی اہلکار شہید ہوئی 43 عام شہری ان واقعات میں شہید ہوئے،108 سکیورٹی اہلکار زحمی ہوئے اور 250 عام شہری زحمی ہوئے،گلگت بلتستان میں 2022 میں 3 دہشتگردی کے واقعات ہوئے لیکن کوئی جانی نقصان نہیں ہوا،اسلام آباد میں 2022 کے دوران ایک دہشتگردی کا واقع ہوا ایک سکیورٹی اہلکار شہید اور 5 سکیورٹی اہلکار زحمی اور ایک عام شہری زحمی ہوا،خیبرپختونخوا میں دہشتگردی کے 457 واقعات ہوئے،172 سکیورٹی اہلکار شہید ہوئے ،50 عام شہری ان واقعات میں شہید ہوئے 409 سکیورٹی اہلکار زحمی ہوئے،104 عام شہری زحمی ہوئے،پنجاب میں سال 2022 میں 5 دہشتگردی کے واقعات ہوئے ایک سکیورٹی اہلکار شہید ایک عام شہری شہید 14 عام شہری زحمی ہوئے،سندھ میں سال 2022 کے دوران 7 دہشتگردی کے واقعات ہوئے جن میں ایک سکیورٹی اہلکار شہید 3عام شہری شہید 3سکیورٹی اہلکار زحمی ہوئے 32 عام شہری زحمی ہوئے،

    داعش بھی پاکستان میں پنجے گاڑ رہی ہے، وزارت داخلہ کا سینیٹ میں جواب
    وزارت داخلہ نے تحریری جواب میں کہا کہ افغانستان سے امریکہ کے انخلا کے بعد افغان عبوری حکومت کی جانب سے بے عملی کے بعد ٹی ٹی پی کو اپنا اثر رسوق اور کاروائی بڑھانے کا موقع ملا،امن مزکرات کے دوران ٹی ٹی پی نے خود کو دوبارہ منظم کیا،ضم اضلاع میں ٹی ٹی پی کی آمد کے بعد وہاں خود کش حملہ آوروں کی بھرتی اور تربیت تشویش ناک ہے،ٹی ٹی پی اور دیگر دہشت گردی تنظیم سرحد پر باڑ کو سبوتاژ کر رہی ہیں ،داعش بھی پاکستان میں پنجے گاڑ رہی ہے،
    isis

    2022 کے دوران سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو پی ٹی اے کی جانب سے انتہاپسند، فرقہ وارانہ ، ریاست مخالف اور دہشت گرد مواد کو بلاک کرنے 16 ہزار 522 شکایات ارسال کی گئیں ،سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو ان کے اکاونٹ کو بلاک کرنے 2021 میں 55 ہزار 200, سال 2022 میں 16 ہزار 522 اور جون 2023 تک 3456 درخواست کیں ،دہشت گرد مواد والی سال 2021 میں 19 ہزار 80، 2022 میں 4323 اور جون 2023 میں 2138 سوشل میڈیا لنکس کو بلاک کیا گیا ،دہشت گردی مواد کی 2021 میں 14 یو ار ایل URLs 2022 میں 3 اور ۲۰۲۳ میں 1 یو ار ایل بلاک کی گئی،

    سال 2022 میں 209 دہشتگرد ہلاک،1781 گرفتار،جون 2023 تک 1083 دہشت گردوں کا چالان ، 114 کو سزا ،133 بری
    سال 2022 میں سی ٹی ڈی نے دہشت گردوں کے خلاف 4892 انٹیلجنس بیس آپریشنز کی جس میں 209 دہشت گرد ہلاک اور 1781 گرفتار ہوئے،ان intelligence based operationsمیں 169 قانون نافذ کرنے والے اہلکار شہید اور 284 زخمی ہوئے،جنوری جون 2023 میں 3364 اپریشنز میں 172 دہشت گرد مارے گئے اور 171 گرفتار ہویئے،سال 2020 میں 1079 دہشت گردوں کا چالان ہوا، 189 کو سزا ہوئی اور 172 بری ہوئے،سال 2021 میں 1528 دہشت گردوں کا چالان ہوا، 150 کو سزا ہوئی، 165 بری ہوئے،سال ۲۰۲۲ میں 2006 دہشت گرد کا چالان ہوا ، 218 کو سزا ہوئی ، 306 بری ہوئے،جون 2023 تک 1083 دہشت گردوں کا چالان ہوا، 114 کو سزا ہوئی اور 133 بری ہوئے،

    2021 سے اکتوبر 2023 کے دوران ریڈ بک میں موجود 44 انسانی سمگلرز گرفتار
    یورپی ممالک سے 2021 سے 2023 تک دوران غیر قانونی داخلے پر 17 ہزار 773 پاکستانیوں کو ڈی پورٹ کیا گیا،ترکی سے سب سے زیادہ 15 ہزار 40 پاکستان کو غیر قانونی داخلے پرڈی پورٹ کیا گیا،آسٹریا سے 45، سائپرس سے 98, فرانس سے 71، جرمنی سے 962 , یونان سے 1377 اور رومانیہ سے 63 پاکستانیوں کو ڈی پورٹ کیا،اس عرصے کے دوران مجموعی طور پر 1 لاکھ 54 ہزار 205 پاکستانیوں کو ڈی پورٹ کیا گیا ،جعلی یا ناکافی دستاویزات پر پرواز سے 44 ہزار 283 افراد کو اف لوڈ کیا گیا،اپریل میں یونان کشتی حادثے میں 281 پاکستانی متاثرین کی اطلاع دی گئی 15 کی نشاندہی بائیو میٹرک سے ہوئی ،یونان کشتی حادثے پر 193 ایف آئی ار رجسٹر ہوئیں ، 240 سمگلرز کی نشاندہی ہوئی ، 89 سمگلر گرفتار ہوئے ، بیرون ملک موجود 35 سمگلرز کی اطلاع آئی،سال 2021 سے 2023 کے دوران تارکین وطن کی اسمگلنگ کے 1042 کیسز رجسٹر ہوئے ، 572 چلان ہوئے ، 494 انسانی اسمگلر رجسٹر ہوئے اور 499 کو سزا ہوئی ،2021 سے اکتوبر 2023 کے دوران ریڈ بک میں موجود 44 انسانی سمگلرز گرفتار ہوئے،انٹر ایجنسی ٹاسک فورس نے اس عرصے میں انسانی سمگلنگ کے 5308 ممکنہ متاثرین کو روکا.

    رپورٹ، محمد اویس،اسلام آباد

    فوج مخالف پروپیگنڈہ کےخلاف سینیٹ میں قرارداد متفقہ طور پر منظور

    تمام امیدواران کو الیکشن کا برابر موقع ملنا چاہئے

    عام انتخابات کے دن قریب آئے تو تحریک انصاف کی مشکلات میں اضافہ 

     این اے 15سے نوازشریف کے کاغذات نامزدگی منظور

    نواز شریف پر مقدر کی دیوی مہربان،راستہ صاف،الیکشن،عمران خان اور مخبریاں

    انتخابات سے متعلق سروے کرنے پر ٹی وی چینلز کیخلاف کارروائی کا حکم

    تحریک انصاف کے وکیل شعیب شاہین چیف جسٹس پاکستان کے سامنے پیش

    ٹکٹوں کی تقسیم،ن لیگ مشکل میں،امیدوار آزاد لڑیں گے الیکشن

    الیکشن کمیشن کا فواد حسن فواد کو عہدے پر برقرار رکھنے کا فیصلہ

  • قائمہ کمیٹی انسانی حقوق میں سرِعام پھانسی کیخلاف قراداد منظور

    قائمہ کمیٹی انسانی حقوق میں سرِعام پھانسی کیخلاف قراداد منظور

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کے اجلاس میں سرعام پھانسی کے معاملے پر غور کیا گیا

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی انسانی حقوق میں سرِعام پھانسی کیخلاف قراداد منظور، سرعام پھانسی کی مخالفت کی گئی ، سیکرٹری انسانی حقوق نے کہا کہ ہمیں سرِعام پھانسی نہیں دینی چاہیے،قومی اور بین الاقوامی اثرات ہیں،دنیا کی توقع ہے کہ ہم سزائے موت ختم کریں،اجلاس میں سرِعام پھانسی کے خلاف زیادہ ووٹ آگئے،اتنی جلدی ووٹنگ کرانے پر مہرتاج روغانی نے اجلاس سے واک آؤٹ کر دیا، مشاہد حسین سید نے کہا کہ یاد رکھیں آخر میں سیاستدانوں کو سرِعام پھانسی ہو جائے گی،سرِعام پھانسی کی مخالفت پر سینیٹ کی قائمہ کمیٹی انسانی حقوق کی قرارداد سینیٹر ولید اقبال نے پڑھی ،قرارداد میں کہا گیا کہ کمیٹی سرِعام پھانسی کی مخالفت کرتی ہے، سینیٹ سے درخواست ہے ایسا کوئی قانون منظور نہ کرے جس میں سرِعام پھانسی ہو،

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کے چیئرمین سینیٹر ولید اقبال نے کہا کہ سرعام پھانسی کے معاملے پر ایک بل داخلہ کمیٹی نے منظور کیا تھا مجھے بطور چیئرمین اس کے خلاف بہت کالز آئیں کہ آپ اس کا نوٹس لیں، داخلہ کمیٹی نے اس بل کو انسانی حقوق کے تناظر میں نہیں دیکھا تھا. سیکرٹری انسانی حقوق نے قائمہ کمیٹی میں کہا کہ سرعام پھانسی کے قومی اور بین الاقوامی طور پر اثرات ہیں، سر عام پھانسی یہ حساس مسئلہ ہے، بین الاقوامی ڈونرز کے سزائے موت سے متعلق سخت مؤقف ہیں، پاکستان کے قانون میں سزائے موت اور سرعام پھانسی کی اجازت ہے دہشت گردی، ریپ، ہائی جیکنگ، آرمی میں بد اخلاقی اور توہین رسالت پر سزائے موت کی سزا ہے،امریکی ریاستوں میں بھی سزائے موت کی سزا دی جاتی ہے ، یورپ کے اکثر ممالک میں سزائے موت کی سزا نہیں ، اقوامِ متحدہ اور یورپی یونین کہتی ہے کہ سزائے موت کو کم کیا جائے، سیکشن 22 انسدادِدہشتگردی کے مطابق حکومت سزائے موت کا طریقہ اور جگہ کا تعین کرسکتی ہے. اس کا مطلب ہے کہیں بھی سزائے موت دی جا سکتی ہے یعنی سرعام پھانسی انسدادِ دہشت گردی قانون میں موجود ہے

    سیکریٹری انسانی حقوق نے قائمہ کمیٹی اجلاس میں مزید کہا کہ لاہور ہائیکورٹ نے سرعام پھانسی سے متعلق زینب ریپ کیس میں فیصلہ دیا، فیصلہ ہے کہ جابرانہ جرم پر سرعام پھانسی کی طرح کی جابرانہ سزا نہیں دی جا سکتی پاکستان نے بین الاقوامی سات انسانی حقوق کنونشن پر دستخط کر رکھے ہیں دنیا کی توقع ہے کہ ہم سزائے موت ختم کریں، یورپی یونین نے جی ایس پی اسٹیٹس نظرثانی پر سزائے موت معطل کرنے کا کہا، وزارتِ انسانی حقوق کا کہنا ہے سرعام پھانسی پاکستان کے بین الاقوامی مفاد میں نہیں، سرعام پھانسی سے ملک کا دنیا میں تشخص خراب ہوگا، ہمیں سرعام پھانسی نہیں دینی چاہیے، سرعام پھانسی گلف ممالک میں ہوتی ہیں، لوگ منشیات پر سعودی عرب میں گرفتار ہوتے ہیں لیکن پھر بھی ڈرگ لے کر جاتے ہیں،

    اجلاس میں سینیٹر مشاہد حسین سید کا کہنا تھا کہ ضیاء دور میں لاہور میں پپو کی سرعام پھانسی ہوئی تھی، پاکستان میں آخری سرِعام پھانسی کب ہوئی،سیکرٹری انسانی حقوق نے کہا کہ جیل رولز سرعام پھانسی کی اجازت نہیں دیتے جیل رولز کہتے ہیں پھانسی دس گیارہ لوگ دیکھیں، ایران میں منشیات پر سرعام پھانسی دی جاتی تھی، ایران نے اب منشیات پر سزائے موت ختم کردی ہے،ہم نے بھی اپنی حکومت کو کہا ہے منشیات سے سزائے موت ختم کریں کوئی شواہد نہیں کہ پھانسی سے منشیات کا جرم رکے،

    کوئٹہ ویڈیو اسکینڈل،ہدایت خلجی کو سرعام پھانسی دینے کا مطالبہ

    پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس،33 بل منظور،زیادتی کے مجرم کو سرعام پھانسی کی ترمیم مسترد

    خواتین اور بچوں کے ساتھ زیادتی،سرعام پھانسی پر اتفاق رائے پیدا کرنا ہو گا، سینیٹر فیصل جاوید

    بیوی طلاق لینے عدالت پہنچ گئی، کہا شادی کو تین سال ہو گئے، شوہر نہیں کرتا یہ "کام”

    تعلیمی ادارے میں ہوا شرمناک کام،68 طالبات کے اتروا دیئے گئے کپڑے

    خواتین اور بچوں کے ساتھ زیادتی، ملزم کو کیسے نامرد بنایا جائیگا؟ تفصیل سامنے آ گئی

    خاتون پولیس اہلکار کے کپڑے بدلنے کی خفیہ ویڈیو بنانے پر 3 کیمرہ مینوں کے خلاف کاروائی

    غیر ملکی خاتون کے سامنے 21 سالہ نوجوان نے پینٹ اتاری اور……خاتون نے کیا قدم اٹھایا؟

    وزیراعظم نے زیادتی کے مجرم کی سرعام پھانسی کی مخالفت کردی،

    بچوں کے ساتھ جنسی اورجسمانی تشدد کا حل سرعام پھانسی دینا نہیں بلکہ..عدالت نے کیا حل بتایا؟

  • پی آئی اے کو گزشتہ پانچ سالوں میں 291 ارب روپے سے زائد نقصان کا انکشاف

    پی آئی اے کو گزشتہ پانچ سالوں میں 291 ارب روپے سے زائد نقصان کا انکشاف

    سینیٹ میں پی آئی اے کو گزشتہ پانچ سالوں میں 291 ارب روپے سے زائد نقصان کا انکشاف ہوا ہے،

    سینیٹ کا اجلاس چیئرمین صادق سنجرانی کی صدارت میں ہوا،وزارت ہوابازی کی جانب سے پی آئی اے سی ایل کے نقصانات سے متعلق دیئے گئے تحریری جواب کے مطابق سال 2022 میں پی آئی اے سی ایل کو 88 ارب روپے کا نقصان ہوا،2021 میں پی آئی اے سی ایل کو 50 ارب، 2020 میں 34 ارب، 2019 میں 52 ارب اور2018 میں 67 ارب کا نقصان ہوا.

    سینیٹر زرقا تیمور نے کہا کہ پی آئی اے کا معاشی بحران بد سے بدتر ہوتا جارہا ہے، معزز وزیر سے گزارش سینیٹ کی ایوی ایشن کمیٹی اجلاس میں آئیں اور پی آئی اے کے بحران پر بات کریں.جہاز ہمارے پتہ نہیں کہاں کھڑے ہیں،کرائے کی مد میں ملین ڈالر ادا کر رہے ہیں، ایوی ایشن بارے ہمارے تحفظات تھے لیکن کہیں سے کوئی جواب نہیں ملتا، ہمیں ایک پراپر سیشن چاہئے،جہازوں کے کرائے کے مد میں جو پیسے دے رہا تھا وہ کون ہے؟ کس کی ذمہ داری تھی،

    ارکان کے سوالوں کے جواب دیتے مشیر ہوابازی نے ایوان کو بتایا کہ پی آئی اے کی نجکاری کا پراسس نجکاری کمیشن کے سپرد کیا گیا،تمام منظوریاں کابینہ نے دیں،نجکاری کمیشن کی جانب سے فنانشل ایڈوائزر ہائیر ہو چکا ہے،ایئرپورٹ بیچے نہیں جارہے آؤٹ سورس کئے جارہے ہیں.

    سینیٹ کے اراکین نے نگران وزیر اطلاعات و پارلیمانی امور مرتضیٰ سولنگی کی جانب سے موشن پکچرز ترمیمی بل 2023 پیش کرنے کی مخالفت کرتے ہوئے ایوان میں احتجاج کیا اور کہا کہ نگران حکومت کا کام قانون سازی کرنا نہیں ہے،جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد خان نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ نگران حکومت کے پاس قانون سازی کرنے کا سرے سے کوئی حق نہیں ہے۔ نگران حکومت کا سینیٹ میں آرڈیننس لانا پارلیمنٹ، آئین، پاکستان کے جمہور اور عوام کو بائی پاس کرنا ہے۔ اس کی قطعاً اجازت نہیں دی جا سکتی،

    پی آئی اے کا ایک اور فضائی میزبان کینیڈا میں لاپتہ

    پی آئی اے،بوئنگ 777 طیارے کے انجن میں آگ،حادثے سے بچ گیا

    پی آئی اے اور گو لوٹ لو کی جانب سے قرعہ اندازی، گاڑیاں اور سمارٹ فون کے انعامات

    پی آئی اے ایک بار پھر مشکل کا شکار،اکاونٹس منجمد

    پرواز سے قبل پی آئی اے عملے کیلئے شراب نوشی کا ٹیسٹ لازمی قرار

     پی آئی اے کے دو مزید فضائی میزبان ٹورنٹو میں پراسرار طور پر لاپتہ 

     سول ایوی ایشن اتھارٹی (سی اے اے) مدد کیلئے سامنے آگئی

    پی آئی اے کی نجکاری کے عمل کو جلد از جلد تکمیل تک پہنچانے کی ہدایت

    پائلٹس کی ابتدائی 8 سے 10 ماہ کی تربیت پر 15000 سے 20000 ڈالر کا خرچ

    پاکستان کی قومی ایئر لائن پی آئی اے کو مجموعی طور پر 383 بلین کا خسارہ ہے 

    سپریم کورٹ نے پی آئی اے کو نئی 205 پروفیشنل بھرتیوں کی اجازت دیدی

  • مارچ تک پی آئی اے کی نجکاری ہو جائے گی، سیکرٹری نجکاری کمیشن

    مارچ تک پی آئی اے کی نجکاری ہو جائے گی، سیکرٹری نجکاری کمیشن

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے ہوابازی کا اجلاس قائمقام چیئرمین سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاوس میں ہوا ۔اجلاس میں سینیٹر عمر فاروق،سینیٹر صابر شاہ اور سینیٹر افنان اللہ نے شرکت کی

    مشیر ہوابازی نے کمیٹی کو بتایا کہ 7اگست کوسابقہ کابینہ نےپی آئی اے کو نجکاری کمیشن کے حوالے کردیا تھا ،ستمبر کے آخرمیں پی آئی اے کو مکمل طور پر نجکاری کمیشن کے حوالے کردیا ہے ۔پی آئی اے کی 22ارب روپے ماہانہ آمدن تھی جو 10عشاریہ 5ارب قرض کی ادائیگی میں چلے جاتے تھے 1.4ارب روپے منافع ہوتا تھا ۔10ارب میں 5ارب سود اور باقی 5ارب اصل رقم۔واپس ہوتی تھی ۔پی ایس او سے کریڈٹ پر تیل پی آئی اے لیتا تھا جب پی ایس او کا اپنا مسئلہ ہوا تو تیل کا مسئلہ ہوا۔ 80سے 90فلائیٹ چلتی تھی جس کے بعد تیل کی وجہ سے آدھے 45فلائیٹس ہو گئے نومبر میں 76فلائیٹس بحال ہوگئیں ۔اکتوبر میں تیل کی وجہ سے ہمیں نقصان ہوا۔اب ہم اپنے اصل ٹارگٹ پر پہنچ گئے ہیں ۔جو فلائٹس نقصان میں چل رہی تھی ان کو بند کردیا ہے ۔

    عمر فاروق نے کہا کہ ہماری کوئٹہ کی فلائٹس بند کی ہوئی ہیں۔کمیٹی اجلاس میں کہا گیا کہ ہر ایئرلائن نے قرض لیا ہوا ہے ،بوئنگ 777جہاز 1.8ارب روپے کماتا ہے ،ائیر بس 320جہاز 800ملین روپے کماتا ہے .حکومت نے 8ارب روپے جہازوں کے لیے دیئے تھے جو جکارتہ میں پھنسے ہوئے تھے ،ائیر ایشیاء کے ساتھ 26ملین ڈالر میں عدالت کے باہر معاہدہ ہوگیا ۔ 13ملین ڈالر ادا کئے ہیں باقی 13ملین ڈالر ادا کریں گے تو 2سے 3ہفتوں میں مکمل ہوجائے گا ،جو جہاز خراب ہیں اگر ان کے لیے 20 ارب روپے دے دیں تو سارے خراب جہاز ٹھیک ہوجائیں گے ۔ 3 جہاز777گراونڈ ہیں جن میں سے دو ٹھیک ہوسکتے ہیں ۔3ہمارے جہاز جو پاکستان میں خراب 320ہیں وہ ٹھیک ہوجائیں تو معاملات ٹھیک ہوجائیں گے ۔

    سی ای او پی آئی اے نے کہاکہ فلائٹس اب 76دوبارہ کردیئے ہیں۔ فلائٹس کوئٹہ کے لیے روزانہ جائے تو نقصان ہوتا ہے کوئٹہ کے لیے روزانہ مسافر اتنے نہیں ہوتے ہیں ۔ سینیٹرسلیم مانڈوی والا نے کہاکہ اے ٹی آر کیوں نہیں استعمال کرتے ،جس پر پی آئی اے کے سی ای او نے کہا کہ وہ جہاز دیگر جگہوں پر استعمال ہورہے ہیں ۔سیکریٹری نجکاری کمیشن نے کمیٹی اجلاس میں کہاکہ 266ارب روپے نجی بینکوں کا قرض پی آئی اے نے لیا ہے ، چیئرمین کمیٹی نے کہاکہ یہ قرض تو حکومت نے لینا ہے کوئی کمپنی اس قرض کو نہیں لے گی ۔سیکریٹری نجکاری کمیشن نے کہا کہ 95فیصد قرض کی گارنٹی حکومت نے دی ہے باقی 5فیصد پی آئی اے نے خود لی ہے ۔ نجکاری تک پی آئی اے کو مالی امداد کی ضرورت ہوگی ۔مارچ تک پی آئی اے کی نجکاری ہوجائے گی ۔

    پی آئی اے کا ایک اور فضائی میزبان کینیڈا میں لاپتہ

    پی آئی اے،بوئنگ 777 طیارے کے انجن میں آگ،حادثے سے بچ گیا

    پی آئی اے اور گو لوٹ لو کی جانب سے قرعہ اندازی، گاڑیاں اور سمارٹ فون کے انعامات

    پی آئی اے ایک بار پھر مشکل کا شکار،اکاونٹس منجمد

    پرواز سے قبل پی آئی اے عملے کیلئے شراب نوشی کا ٹیسٹ لازمی قرار

     پی آئی اے کے دو مزید فضائی میزبان ٹورنٹو میں پراسرار طور پر لاپتہ 

     سول ایوی ایشن اتھارٹی (سی اے اے) مدد کیلئے سامنے آگئی

    پی آئی اے کی نجکاری کے عمل کو جلد از جلد تکمیل تک پہنچانے کی ہدایت

    پائلٹس کی ابتدائی 8 سے 10 ماہ کی تربیت پر 15000 سے 20000 ڈالر کا خرچ

    پاکستان کی قومی ایئر لائن پی آئی اے کو مجموعی طور پر 383 بلین کا خسارہ ہے 

    سپریم کورٹ نے پی آئی اے کو نئی 205 پروفیشنل بھرتیوں کی اجازت دیدی

  • ریڈیو پاکستان میں پنشنر کی تعداد ملازمین سے زیادہ،مالی معاملات کی وجہ سے متعدد پروگرام بند

    ریڈیو پاکستان میں پنشنر کی تعداد ملازمین سے زیادہ،مالی معاملات کی وجہ سے متعدد پروگرام بند

    ایوان بالاء کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس سینیٹر فوزیہ ارشد کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاوس میں منعقد ہوا۔کمیٹی اجلاس میں 19 اکتوبر 2023 کو منعقدہ کمیٹی اجلاس میں 53 ڈیلی ویجز ملازمین کی بھرتیوں کے حوالے سے دی گئی سفارشات، پی ٹی وی اور ریڈیو پاکستان میں 9 اگست 2023 سے اب تک کی گئی بھرتیاں،ڈی جی پاکستان براڈ کارپوریشن سے ریڈیو پاکستان میں نئی اصلاحات اور بہتری کے حوالے سے کی گئی گفتگو پر عمل درامد کے علاوہ پاکستان براڈ کاسٹنگ ایسوسییشن کے کردار، کارکردگی اور فنکشنز کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔

    ڈی جی ریڈیو پاکستان نے کمیٹی کو بتایا کہ قائمہ کمیٹی کی ہدایت پر ڈپٹی کنٹرولر کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دے دی گئی تھی او ر اس کی رپورٹ قائمہ کمیٹی کو فراہم کر دی گئی ہے۔ اسٹاف کی ضرورت تھی ضرورت کی بنیاد پر 53 سٹاف کو عارضی طور پر رکھا گیا تھا۔ڈی جی ریڈیو نے بتایا کہ ریٹائرڈ ملازمین کی جگہ نئی بھرتیاں نہیں کی گئیں ہیں سٹاف کی بہت کمی ہے سوشل میڈیا کے لیے ضرورت کے تحت بھرتی کی گئی۔ سینیٹر فوزیہ ارشد نے کہا کہ ہم نے میرٹ اور سٹاف کے حوالے سے معلومات مانگی تھیں وہ فراہم نہیں کی گئیں کمیٹی کو بتایا گیا کہ 53 میں سے 18 لوگ کام پر موجود ہیں باقی تنخواہ نہ ملنے کی وجہ سے جا چکے ہیں جس پر اراکین کمیٹی نے کہا کہ اس طرح ملازمین رکھنا اور ہٹانا نا مناسب ہے اس سے ادارے کی بھی بدنامی ہوتی ہے۔ ڈی جی ریڈیونے کہا کہ ریڈیو پاکستان میں ضرورت پر بکنگ پر کام لیا جاتا ہے اور اس کے مطابق ادائیگی کی جاتی ہے۔چیئر پرسن کمیٹی فوزیہ ارشد نے کہا کہ ریڈیو پاکستان کو ایڈہاک ا زم پر چلانے سے بہتری ممکن نہیں ہے مستقل حل کے لیے حکمت عملی تیار کی جائے۔ سینٹر مولا بخش چانڈیو نے کہا کہ حیدرآباد ریڈیو اسٹیشن ویران ہو چکا ہے ملک کے نامور فنکار وہاں کام کرتے تھے ڈی جی ریڈیو نے کہا کہ سٹاف کی شدید کمی ہے 2019 میں 1200 سے زائد کنٹریکٹ ملازمین فارغ ہو گئے تھے اور مالی مسائل کی وجہ سے بہت سے پروگرام بھی بند ہو گئے تھے آلات اور ٹرانسمیٹرز بہت پرانے ہیں۔بجٹ کا 76 فیصد تنخواہوں اور پینشن پر خرچ ہو جاتا ہے اور ریڈیو پاکستان سرکاری اداروں میں سب سے زیادہ پرانا ادارہ ہے۔پینشنرزکی تعداد ملازمین سے زائدہے۔وفاقی وزیر اطلاعت و نشریات مرتضی سولنگی نے کہا کہ ان اداروں میں اصلاحات کی اشد ضرورت ہے۔ آئندہ اجلاسوں میں ماتحت اداروں سمیت تمام سٹیک ہولڈرز کو بلا کر جائزہ لیا جائے اور موثر تجاویز تیار کی جائیں۔ اس لیئے قائمہ کمیٹی جو ہدایات دی گی عمل کیا جائے گا۔سیکٹری اطلاعات نے کہا ریڈیو پاکستان کی بہتری کیلئے بجلی بلوں کی طرز پر ٹی وی فیس کے ساتھ 15روپے ریڈیو فیس لینے کی تجویز زیر غور ہے۔ سینیٹر فوزیہ ارشد نے کہا کہ غریب لوگوں سے پہلے بھی ٹی وی فیس وصول کی جا رہی ہے اور اب ریڈیو فیس لینا منا سب نہیں۔

    پی ٹی وی میں ہیڈ آف ڈرامہ اینڈ فلم پروڈکشن کا پیکج 8 لاکھ ،تفصیلات طلب
    ڈی جی ریڈیو پاکستان نے9 اگست سے اب تک کی بھرتیوں کے حوالے سے بتایا کہ 43 لوگ ایک پروجیکٹ کے لیے رکھے گئے تھے ۔ منصوبہ کی مدت ختم ہو گئی ہے اور PC-4 منطوری کے مراحل میں ہے۔ا منصوبے کو جاری رکھنے کے لیے 10 افراد موجود ہیں باقی جا چکے ہیں جن کو 32 سے 40ہزار تنخواہ ماہوار ملتی ہے۔ پی سی فور منظور ہونے کے بعد مستقل بھرتیاں کی جائیں گی۔پی ٹی وی کے حوالے سے بتایا کہ 70 نئے لوگ رکھے گئے تھے جس میں سے 8 اینکرز اور باقی ریسرچرزہیں پروگرامز کے مطابق لوگ بھرتی کیے جاتے ہیں جو عارضی ہوتے ہیں پروگرام ختم ہونے پر وہ فارغ ہو جاتے ہیں۔سینٹر فوزیہ ارشد نے کہا کہ دو لاکھ سے 8 لاکھ تنخواہ ادا کی جا رہی ہے ان کی تقرری اور پیکج کا طریقہ کار مقرر کرنا چاہیے وفاقی وزیر اطلاعت مرتضیٰ سولنگی نے کہا کہ مارکیٹ ویلیو کے حساب سے لوگ رکھے جاتے ہیں اور اسی تناسب سے پیکج مقرر ہوتے ہیں۔ پی ٹی وی میں پیکج سب سے کم ہیں۔سینٹر عرفان الحق صدیقی نے کہا کہ ہیڈ آف ڈرامہ اینڈ فلم پروڈکشن کا پیکج 8 لاکھ ہے ان کی تقرری کے عمل کی تمام تر تفصیلات کمیٹی کو فراہم کی جائیں۔

    ٹی وی چینلز پر کچھ ڈرامے دکھائے جا رہے وہ فیملی کے ساتھ بیٹھ کر دیکھنے کے قابل نہیں،سینیٹر فوزیہ ارشد
    ای ڈی پاکستان براڈکاسٹنگ ایسوسی ایشن نے کمیٹی کو پی بی اے کی کارکردگی اور فنکشنز بارے تفصیلی آگاہ کیا سینیٹر فوزیہ ارشد کے سوال کے جواب میں بتایا گیا کہ پیمرا میں شکایات کا جائزہ لینے کیلئے کونسل آف کمپلینٹس ہوتی ہے جو 2.5سال سے غیر فعال ہے جس کی وجہ سے شکایات کا ازالہ ممکن نہیں ہے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مرتضیٰ سولنگی نے کہا کہ کونسل آف کمپلینٹس کے حوالے سے تمام کام مکمل ہو چکا ہے کیبنیٹ سے منظوری حاصل کرنا باقی ہے۔ سینیٹر فوزیہ ارشد نے کہا کہ ٹی وی چینلز پر کچھ ڈرامے دکھائے جا رہے ہیں وہ فیملی کے ساتھ بیٹھ کر دیکھنے کے قابل نہیں ہیں۔ کچھ چیزیں ہماری روایات اور اخلاقیات کے خلاف ہیں۔موثر حکمت عملی اختیا ر کرکے اپنی ثقافت،روایات،رسم و رواج اور اخلاقیات کے مطابق ڈرامے چلانے چاہیے . آج کے اجلاس میں سینیٹرز عرفان الحق صدیقی،مولا بخش چانڈیو،محمد طاہر بزنجو،نسیمہ احسان کے علاوہ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مرتضیٰ سولنگی،سیکرٹری اطلاعات،چیئرمین پیمرہ،ڈی جی ریڈیو،ای ڈی پی بی اے اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی

    پی ٹی وی کے پاس پرانے کیمرے، سپیئر پارٹس نہیں ملتے،قائمہ کمیٹی اجلاس میں انکشاف

    پی ٹی وی سپورٹس پر اینکرز کی دس دس گھنٹے کی تنقید ، قائمہ کمیٹی نے تجزیوں کو غیر معیاری قرار دے دیا

    فلم پالیسی کو بہت جلد عملی جامہ پہنایا جائے گا، قائمہ کمیٹی تعاون کرے گی: سینیٹر فیصل جاوید

    پاکستان کے علاقے کو دشمن ملک کے ساتھ دکھانا بہت بڑا جرم،قائمہ کمیٹی نے پی ٹی وی سے کیا جواب طلب

    ڈائریکٹوریٹ آف الیکٹرانک میڈیا کیا کر رہا ہے؟ قائمہ کمیٹی نے بریفنگ مانگ لی

    موجودہ دور کے ڈرامے صرف خواتین کیلئے بنائے گئے جو بے حیائی پھیلا رہے ہیں،قائمہ کمیٹی

    حکومت کے حق میں آرٹیکلز لکھنے پر اشتہارات ملتے ہیں، قائمہ کمیٹی میں انکشاف

    قائمہ کمیٹی کا اجلاس،تنخواہیں کیوں نہیں دی جا رہیں؟میڈیا ہاﺅسز کے اخراجات اور آمدن کی تفصیلات طلب

    میں نے صدر عارف علوی کا انٹرویو کیا، ان سے میرا جھوٹا افیئر بنا دیا گیا،غریدہ فاروقی

  • اسلام آباد،سٹریٹ کرائم،موبائل،موٹرسائیکل چوری کی وارداتوں میں اضافہ

    اسلام آباد،سٹریٹ کرائم،موبائل،موٹرسائیکل چوری کی وارداتوں میں اضافہ

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کااجلاس چئیرمین کمیٹی سینیٹر محسن عزیز کی زیرصدارت پارلیمنٹ ہاوس میں ہوا،

    اجلاس میں سینیٹرز کامل علی آغا، سیف اللہ ابڑو، شہادت اعوان، فوزیہ ارشد، دنیش کمار، ثانیہ نشتر، سردار محمد شفیق ترین اور ثمینہ ممتاز زہری نے شرکت کی-نگران وزیرداخلہ سرفراز بگٹی، اسپیشل سیکریٹری داخلہ،اسلام آباد کیپیٹل سٹی پولیس آفیسر ، آئی جی سندھ، ڈی سی اسلام آباد، چئیرمین سی ڈی اے بھی اجلاس میں شریک ہوئے-

    اجلاس میں سینیٹر ثانیہ نشتر کی جانب سے پیش کئے گئے "The Rehriban livelihood Protection Bill, 2023″ پر تفصیلی بحث ہوئی۔موور ثانیہ نشتر نے بل کے خدوخال اور مقصد بارے کمیٹی کو بریفنگ دی۔ چئیرمین سی ڈی اے نے کہا کہ اس حوالے سے لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2015 پہلے سے ہی موجود ہے۔اگر یہ بل پاس ہوتا ہے تو ایک مساوی سٹرکچر کھڑا ہوجائےگا۔اگر پہلے سے موجود قانون میں ترمیم کرنی ہو اس کیلئے تیار ہیں جہاں بہتری کی گنجائش ہو تو اس کو بہتر ہونا چاہئے۔بل پر تفصیلی بحث کے بعد چئیرمین کمیٹی نے کہا کہ سی ڈی اے اور تمام متعلقہ ادارے دونوں بلز کا ایک تقابلی جائزہ اگلی میٹنگ میں پیش کریں۔اگلی میٹنگ میں دونوں بلز کا تقابلی جائزہ دیکھ کر ثانیہ نشتر کی طرف سے پیش کئے گئے بل کے حوالے سے فیصلہ کریں گے۔
    سینیٹر شہادت اعوان کی جانب سے پیش کیا گیا ” The Pakistan Penal Code (amendment) Bill, 2023 (Amendment in section 377A of PPC) ترمیمی بل، حکومت کی طرف سے جواب نا آنے پر موخر کردیا گیا۔
    اجلاس میں سینیٹر شہادت اعوان کی جانب سے پیش کئے گئے بلز ” The Provincial Motor vehicles ( Amendment)، Bill 2023 (Insertion of new section 101A) اور ” The Islamabad Capital Territory Charities Registration, Regulation and Facilitation (Amendment) Bill, 2023″ متفقہ طور پر منظور کئے کر لئے گئے۔

    صحافی جان محمد مہر کے قاتل کچے کے علاقے میں، چھاپے مارے جا رہے، آئی جی سندھ
    قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں پارلیمنٹری رپورٹرز ایسوسیشن کے نمائندوں نے مشہور صحافی جان محمد مہر کے قتل کا معاملہ اٹھایا۔ان کا کہنا تھا کہ 108 دن ہوگئے ہیں لیکن قاتل گرفتار نہیں ہوسکے ہیں۔ آئی جی سندھ اور ایس ایس پی سکھر نے معاملے پر کمیٹی کو بریفنگ دی۔آئی جی سندھ نے کہا کہ فیڈرل یونین آف جرنلسٹ کے وفد کے ہمراہ چیف منسٹر سندھ سے اسی معاملے پر ملاقات ہوئی جنہوں نے 30 دن کا وقت دیا ہے جس میں 12 دن گزر چکے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ اطلاعات کے مطابق جان محمد مہر کے قاتل کچے کے علاقے میں داخل ہوئے ہیں۔قاتل کی گرفتاری کیلئے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔گرفتاری کیلئے اپنی جان کی پرواہ کئے بغیر کوشش جاری رکھے ہوئے ہیں۔چئیرمین کمیٹی نے آئی جی سندھ کے کام اور دلیری کو سراہا اور کیس کو جلد منتقی انجام تک پہنچانے کیلئے ہدایات جاری کی۔

    چمن دھرنا، شرکاء کے پاس جائیں گے،نگران وزیر داخلہ
    اجلاس میں سینیٹر سردار محمد شفیق ترین نے چمن بارڈر پر گزشتہ کئے روز سے جاری دھرنا اور وہاں کے لوگوں کو درپیش مسائل کمیٹی میں اجاگر کئے۔انہوں نے بتایا کہ اس مسئلے کو سنجیدگی سے حل کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ "ون ڈکومنٹ رجیم” کے بعد چمن کے باشندوں کی تقریبا 10 ہزار دکانیں، مساجد بارڈر کے اس پر رہ گئی ہیں۔بارڈر ، ٹرانزٹ ٹریڈ بند ہیں، لوگوں کا کاروبار بند ہے۔اجلاس میں دھرنا شرکاء کے نمائندے بھی پیش ہوئے اور موجودہ حالات بارے کمیٹی کو آگاہ کیا۔نگران وزیر داخلہ سرفراز بگٹی نے معاملے پر تفصیل سے کمیٹی کو آگاہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مسئلے کی سنگینی کا علم ہے لیکن اس وطن کی حفاظت کرنا بھی ہماری زمہ داری ہے۔انہوں نے کمیٹی کو یقین دلایا کہ ہفتہ کے اندر کوئی ایسا میکنزم بنا لیں گے کہ ان کیلئے کاروبار میں آسانی ہو اور فریقین کیلئے ون۔ون سیچویشن ہو۔یہ ہمارے لوگ ہیں ہر پلیٹ فارم پر ان کیلئے آواز اٹھاتے رہیں گے۔مسئلے کو حل کریں گے لیکن ریاست کا نقصان نا ہو یہ بھی ملحوظ خاطر رکھنا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعظم کے ساتھ بیٹھ کر کوئی لائحہ عمل بنا کر دوبارہ دھرنا شرکاکے پاس جائیں ان کو ساتھ لے کر چلیں گے۔

    کمیٹی میں باجوڑ کے رہائشی سلطان محمد، جن کو ایس ایچ او ضلع خیرپور چونکونارا نے گرفتار کیا اور زیر حراست تشدد کا نشانہ بنا کر قتل کیا گیا تھا، کا معاملہ اٹھایا گیا۔چئیرمین کمیٹی نے آئی جی سندھ کو ہدایت کی کہ زمہ داران کے خلاف شفاف انکوائری کر کے کمیٹی کو رپورٹ پیش کریں۔آئی جی سندھ نے یقین دلایا کہ وہ فیکٹ فائینڈنگ کمیٹی بنا کر اس کی رپورٹ کمیٹی میں پیش کردیں گے۔

    اسلام آباد ،گزشتہ برس منشیات کے 900 پرچے،رواں برس 32 فیصد اضافہ
    اسلام آباد کیپیٹل سٹی پولیس آفیسر نے اسلام آباد میں چوری، ڈکیتی، سٹریٹ کرائمز کے واقعات میں اضافے اور نشے کے بڑھتے رجحانات بارے کمیٹی کو بریف کیا۔انہوں نے بتایا کہ پچھلے سال کی نسبت گھروں کی چوری، اسنیچنگ میں کمی آئی ہے جبکہ سٹریٹ کرائمز میں اضافہ ہوا ہے۔ڈولفن کو بہتر بنایا ہے، مزید 1000 کیمرے اسلام آباد میں لگا دئے گئے ہیں جس کی وجہ سے بہتری آ رہی ہے۔ائیرپورٹ کی طرف جاتے ہوئے راستوں پر مزید کیمرے لگانے کی ضرورت ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پچھلے سال نشے میں ملوث افراد کے خلاف تقریبا 900 پرچے ہوئے تھے جبکہ رواں سال 32 فیصد زیادہ پرچے کئے گئے ہیں۔کالجز اینڈ یونیورسٹیز پر ہماری زیادہ توجہ ہے۔انہوں نے کہا کہ اساتذہ کو بھی طلباءپر توجہ دینی چاہئے۔چئیرمین کمیٹی نے کہا کہ موبائل اور موٹرسائیکل کی چوری میں کافی اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔اس حوالے سے اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔چئیرمین کمیٹی نےڈرگ ڈیلرز اور پارٹی ہاوسز کے خلاف کریک ڈاون تیز کرنے کی ہدایت کر دی،

    گاڑی یا موٹر سائیکل چلانے والے شخص پر موبائل فون کے استعمال پر پابندی
    شہادت اعوان کی جانب سے پیش کردہ پروونشل موٹر وہیکلز (ترمیمی) بل کا جائزہ لیا گیا، سینیٹر شہادت اعوان نے کہا کہ گاڑی یاموٹرسائیکل پر بیٹھ کر کوئی آدمی موبائل استعمال نہ کرے، سینیٹرسیف اللہ ابڑو نے کہا کہ یہ بل پہلے پاس ہوچکا ہے تو دوبارہ بحث کی کیا ضرورت ہے، آئی جی اسلام آباد پولیس نے بل کی ایک شق پر اعتراض اٹھا دیا،سیکرٹری کمیٹی نے کہا کہ پہلے بل لیپس ہوچکا تھا اس لیے دوبارہ لایا گیا، کمیٹی نے معمولی ترمیم کے ساتھ پروونشل موٹروہیکلز ترمیمی بل منظور کرلیا،بل کے تحت گاڑی یا موٹر سائیکل چلانے والے شخص پر موبائل فون کے استعمال پر پابندی ہوگی،بل کے تحت صرف ایمرجنسی کی صورت میں ہی موبائل فون استعمال کی اجازت ہوگی.

    آئے روز وزیراعظم کو اتار دیا جائےتو پھر ملک کیسے چلے گا ،نواز شریف

    قصے،کہانیاں سن رہے ہیں،یہ کردار تھا ان لوگوں کا،نواز شریف کا عمران خان پر طنز

    خاور مانیکا کے انٹرویو پر نواز شریف کا ردعمل

    سات منٹ پورے نہیں ہوئے اور میاں صاحب کو ریلیف مل گیا،شہلا رضا کی تنقید

    پینا فلیکس پر نواز شریف کی تصویر پھاڑنے،منہ کالا کرنے پر مقدمہ درج

    نواز شریف کے خصوصی طیارے میں جھگڑا،سامان غائب ہونے کی بھی اطلاعات

  • چیئرمین سینیٹ نے 6 سال میں سینیٹ کو دکان بنایا ہوا ہے،سینیٹر سیف اللہ ابڑو

    چیئرمین سینیٹ نے 6 سال میں سینیٹ کو دکان بنایا ہوا ہے،سینیٹر سیف اللہ ابڑو

    اسلام آباد: سینیٹ آف پاکستان میں نئی روایت قائم کردی گئی،رولز کے برخلاف عدم اعتماد سے تحریک انصاف کو قائمہ کمیٹی برائے توانائی کی صدارت سے محروم کردیا گیا،چیئرمین سینیٹ نے اچانک قائمہ کمیٹی توانائی کا اجلاس بلایا اور عدم اعتماد کے بعد سینیٹر سیف اللہ ابڑو کو ہٹا کر اعظم نذیر تارڑ کو نیا چیئرمین بنادیا گیا ۔

    باغی ٹی وی: تحریک انصاف کے سینیٹروسابق چیئرمین قائمہ کمیٹی توانانی سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے کہاکہ چیئرمین سینیٹ نے 6 سال میں سینیٹ کو دکان بنایا ہوا ہے،دکان کے آگے جو بھی بندہ کسی بات پر اسٹینڈ لے گا تو وہ ایسے ہی قانون کی دھجیاں اڑائے گا جیسے آج اڑائی ہیں،ماضی میں عدم اعتماد کے بعد کمیٹی اسی جماعت کے دوسرے سینیٹر کو چیئرمین بنایا جاتا تھا ۔

    سینیٹ کی تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا کہ کہ عدم اعتماد کرکے قائمہ کمیٹی کی صدارت کسی دوسری جماعت کو دی گئی ہے منگل کو قائمہ کمیٹی کا اجلاس ایڈیشنل سیکرٹری سینٹ حفیظ اللہ شیخ کی صدارت میں پارلیمنٹ ہاوس میں ہوا ،سنیٹر سیف اللہ ابڑو کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے توانائی کی چیئرمین شپ سے ہٹادیا گیاسیف اللہ ابڑو کیخلاف عدم اعتماد کی تحریک متفقہ طور پر منظور کی گئی۔

    غزہ میں مختلف وبائی امراض بہت تیزی سے پھیل رہے ہیں،عالمی ادارہ صحت

    سینیٹرسیف اللہ ابڑو کیخلاف تحریک عدم اعتماد سینیٹرز بہرہ مند خان تنگی، منظور کاکڑ ،ثنا جمالی، حافظ عبدالکریم اور دلاور خان نے جمع کرائی تھی۔قائمہ کمیٹی میں موجود اراکین نے متفقہ طور پر سینیٹر اعظم نزیر تارڑ کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے توانائی کا چئیرمین منتخب کیا۔

    تحریک عدم اعتماد سنیٹ کے رولز کے تحت پیش کی گئی اجلاس میں سینیٹرز اعظم نذیر تارڑ، سیف اللہ ابڑو، سیف اللہ خان نیازی، حاجی ہدایت اللہ ،منظور احمدکاکڑ، ثناجمالی، دلاور خان ،حاجی ہدایت اللہ،محمد علی شاہ جموت اور فدا محمد شریک ہوئےعدم اعتماد کے بعد قائمہ کمیٹی برائے توانائی کے سابق چیئرمین سیف اللہ ابڑو نے کہاکہ صبح 10بج کر 36 منٹ پرمجھے اسٹاف نے نوٹس شیئر کیا کہ آج کمیٹی کی میٹنگ ہے-

    نگران وزیراعظم کا ابوظہبی میں شیخ زاید گرینڈ مسجد کا دورہ

    ووٹ آف نوکانفیڈنس ہے،میٹنگ کے نوٹس میں کوئی بھی روول نہیں دیا ہوا،یہ ایک بندے کی چال اور کام کام ہے،سینیٹ کے چیئرمین کی اجارہ داری ہے،چیئرمین سینیٹ نے 6 سال میں سینیٹ کو دکان بنایا ہوا ہے،دکان کے آگے جو بھی بندہ کسی بات پر اسٹینڈ لے گا تو وہ ایسے ہی قانون کی دھجیاں اڑائے گا جیسے آج اڑائی ہیں، آپ ان سے پوچھیں کہ قانون کون سا ہے؟ سارے ملک میں ایسے ہی اندھیر نگری چل رہی ہے-

    یہ چیزیں ہی ساری غیر قانونی ہیں جو انہوں نے کیاہے،نوٹس میں روول کوئی نہیں لکھا ہوا،جب میٹنگ بلائی جاتی ہے تو اس میں روول لکھا جاتا ہے،10 بج کر 36 منٹ پر نوٹس ملا یے، 11 بجے میٹنگ ہے،کمیٹیاں ہماری ذاتی پراپرٹی تو نہیں ہوتیں۔منگل کو سینیٹ کی تاریخ میں نیاباب شروع ہوا ہے جس میں عدم اعتماد کے ذریعے قائمہ کمیٹی کا چیئرمین ہٹایا گیا اور نئے چیئرمین بنائے گئے ہیں اور چیئرمین سینیٹ نے اس کی منظوری دے دی ہے۔

    عدالت کا پولیس کو شیریں مزاری کو گرفتارنہ کرنے کا حکم

    اس سے قبل قائمہ کمیٹی کے چیئرمین کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش ہوئی ہے مگر اس وقت موجودہ چیئرمین صادق سنجرانی نے نئے چیئرمین کی منظوری نہیں دی اور موقف اختیار کیا کہ قائمہ کمیٹی کس جماعت کو کتنی اور کون سی ملنی ہے یہ اتفاق رائے سے جب سینیٹ مکمل ہوتا ہے طے ہوتا ہے اور تین سال کے دوران اس پر ہی عمل ہوتا ہے اگر تبدیلی کرنی ہوتو متعلقہ جماعت اور قائد ایوان اور خزب اختلاف کے رضامندی سے ہوگا –

    ماضی میں ایم کیو ایم کے سینیٹر قائمہ کمیٹی صحت کے خلاف عدم اعتماد ہوئی تو قائمہ کمیٹی ایم کیو ایم کے نئے رکن کو دی گئی جبکہ سینیٹر شفیق ترین کو کمیٹی ارکان نے ووٹ سےچیئرمین بنایا مگر چیئرمین سینیٹ نے اس کو مسترد کردیا تھا عدم اعتماد کے بعد تحریک انصاف کی ایک قائمہ کمیٹی کی صدارت سے محروم ہوگئی ہے ۔

    نگران وزیراعظم کا ابوظہبی میں شیخ زاید گرینڈ مسجد کا دورہ