Baaghi TV

Tag: سینیٹ

  • واجپائی پاکستان آئے، بات چیت آگے بڑھنے لگی تو کارگل کا پنگا لے لیا،اسحاق ڈار

    واجپائی پاکستان آئے، بات چیت آگے بڑھنے لگی تو کارگل کا پنگا لے لیا،اسحاق ڈار

    سبق وزیرخزانہ اور ایوان بالا میں قائد ایوان اسحاق ڈار نے سینیٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی وزیراعظم واجپائی چل کر پاکستان آئے، بات چیت آگے بڑھنے لگی تو کارگل کا پنگا لے لیا،

    اسحا ق ڈار کا کہنا تھا کہ نوازشریف نے5ارب ڈالرٹھکرا کر پاکستان کومضبوط قوت بنایا،وہ فیصلہ بہت مشکل تھا، میں اس وقت نوازشریف کےساتھ تھا،5ایٹمی دھماکوں کے مقابلے میں6دھماکےکیےگئے،پاکستان کے ذخائر محدود ہیں، 1998میں پابندیاں تھیں،نوازشریف نے جرات کا مظاہرہ کیا،دستاویزموجودہیں،کشمیرسمیت ہرمسئلہ افہام وتفہیم سےحل کریں گے،مستحکم کرنسی ہی کسی بھی ملک میں ترقی کا باعث بنتی ہے،ایٹمی قوت کی بدولت دشمن جان گیا تھا حملہ کیا تو سخت جواب آئےگا،ایٹمی دھماکوں کے بعد بھارتی وزیراعظم چل کر پاکستان آئے،نواز شریف نے اربوں روپے ٹھکرا کر پاکستان کو ایٹمی قوت بنایا ،واجپائی نے مینار پاکستان کہا تھا کہ کشمیر سمیت تمام مسائل افہام و تفہیم سے حل کریں گے،پھر ہم نے کارگل کا پنگا لے لیا.

    اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ دسمبر 2017 تک پاکستانی روپیہ ایشیا کی مستحکم ترین کرنسی تھی ،عالمی مالیاتی ادارے مجھے کرنسی ڈیویلیو ایشن کا دشمن سمجھتے ہیں ،روپے کی بے قدری انتہائی سنجیدہ معاملہ ہے یہ تمام مسائل کی ماں ہے ،پہلی بار 1998 میں وزیر خزانہ بنا تو ہم نے ڈالر کو 52 روپے پر مستحکم رکھا، بین الاقوامی قوتیں مالیاتی اداروں کی مدد سے پاکستان کو ڈیفالٹ کرانا چاہتی تھیں، ڈالر کی قیمت پر پچیس سال سے بین الاقوامی اداروں سے لڑائی ہے، روپے کی قدر کم ہونے سے برآمدات بڑھنے کی باتیں کتابی معیشت ہے، پاکستان جیسے ملک کیلئے روپے کی قدر میں کمی درست نہیں،

    پی ٹی آئی کی سینیٹر زرقانے اسحاق ڈار کی تقریر میں مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ پہلے بیرون ملک سے اپنا پیسہ واپس لائیں ،اسحاق ڈار نے جواب دیا کہ پہلے یہ بتائیں کہ آپ کے دور میں آئے 84 ارب ڈالر کہاں ہیں ؟ سینیٹ اجلاس کے دوران شور شرابہ ہوا، سینیٹر زرقا تیمور نے کہا کہ آپ نے ڈالر دو سو سے نیچے لانا تھا،آپ اپنے پیسے واپس لائیں،اسحاق ڈار نے کہا کہ آپ اپنے لیڈر کو کہیں کہ وہ اپنے پیسے واپس لیکر آئیں، لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے،جب ایوان میں قائدایوان بات کرتے ہیں تو کوئی نہیں بولتا روایت ہیں،سینیٹر فلک ناز نے کہا کہ یہ بھی قیامت کی نشانی ہے کہ آپ اکانومی پر بات کررہے ہیں،

    میرا ایک سوال ہے کہ یہ لوگ قبر میں کتنی گاڑیاں،بنگلے اور سونے کی اینٹیں لے کر جائیں گے، ڈاکٹر زرقا ء
    سینیٹر زرقا تیمور نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان میں بلیک اکانومی بڑھی ہے، وائیٹ اکانومی سے اور اس پر ہمارے ہی لوگ ڈاکہ ڈالتے ہیں گٹھ جوڑ کر کے، جب تک اس پر سوچ بچار نہیں ہو گی ہر روز یہی حالت رہے گی،پاکستان وینٹی لیٹر پر ہی رہنے کا امکان ہے، اب وقت آ گیا ہے سب پاکستانی ایک ہیں کسی بھی پارٹی سے ہوں، ملک ہمارا ہے، ہمیں ایکٹ کرنا چاہئے، ذاتی مفادات سے اونچا اٹھ کر کام کرنا ہو گا، کافی پیسے بنا لئے، قبر میں کتنی گاڑیاں، کتنے محل،کتنی سونے کی اینٹیں لے کر جائیں گے، میرے خیال میں ہم نے فرعون کو بھی پیچھے چھوڑ دیا، اب وقت آ گیا، سوچ بچارکرنا چاہئے

     اٹھارویں آئینی ترمیم پر تمام سیاسی جماعتوں نے دستخط کیے ہیں

     جسٹس منصور علی شاہ نے نیب ترامیم کیس میں دو صفحات پر مشتمل تحریری نوٹ جاری کر دیا

    میری ریٹائرمنٹ قریب ہے، فیصلہ نہ دیا تو میرے لئے باعث شرمندگی ہوگا،چیف جسٹس

    قیام پاکستان سے اب تک توشہ خانہ کے تحائف کی تفصیلات کا ریکارڈ عدالت میں پیش

    نیب ٹیم توشہ خانہ کی گھڑی کی تحقیقات کے لئے یو اے ای پہنچ گئی، 

    ملک میں گندم کے وافر ذخائر موجود ہیں،مرتضیٰ سولنگی
    نگراں وفاقی وزیر پارلیمانی امور مرتضیٰ سولنگی نے سینیٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ سینیٹر محترمہ ثانیہ نشتر نے بہت اہم نکات اٹھائے ہیں،پارلیمانی کی اجتماعی دانش سے یقیناً حکومت کو رہنمائی ملتی ہے، ملک میں گندم کے وافر ذخائر موجود ہیں، کسی قسم کی کمی نہیں،پنجاب کے پاس 39 لاکھ 24 ہزار 367 میٹرک ٹن گندم موجود ہے،سندھ کے پاس 8 لاکھ 17 ہزار 394 میٹرک ٹن، خیبر پختونخوا کے پاس 2 لاکھ 15 ہزار 82 میٹرک ٹن گندم موجود ہے،بلوچستان کے پاس 89 ہزار 354 میٹرک ٹن گندم موجود ہے، پاسکو کے پاس 17 لاکھ 18 ہزار 177 میٹرک ٹن گندم موجود ہے،پاسکو اور صوبائی محکمہ خوراک کے پاس مجموعی طور پر 67 لاکھ 64 ہزار 374 میٹرک ٹن گندم موجود ہے، پرائیویٹ اسٹاکس میں پنجاب کے پاس 3 لاکھ 37 ہزار 270 میٹرک ٹن، سندھ کے پاس 93 ہزار 165 میٹرک ٹن، خیبر پختونخوا کے پاس 14918 میٹرک ٹن اور بلوچستان کے پاس 4157 میٹرک ٹن گندم موجود ہے،مجموعی طور پر پرائیویٹ اسٹاکس میں گندم کے ذخائر 4 لاکھ 49 ہزار 510 میٹرک ٹن ہیں، ملک میں گندم کے مجموعی ذخائر 72 لاکھ 13 ہزار 884 میٹرک ٹن ہیں،درآمد شدہ گندم کے پرائیویٹ سٹاک 10 لاکھ 33 ہزار 845 میٹرک ٹن ہیں،صوبوں میں گندم کی سپورٹ پرائس مختلف ہے، پنجاب میں سپورٹ پرائس 4600 روپے جبکہ سندھ میں 4700 روپے ہے، درآمد شدہ گندم کی قیمت کم ہے، اس لئے وافر مقدار میں گندم موجود ہے،

  • ایک سینیٹر کی تنخواہ ایک لاکھ 40 ہزار،گورنر سٹیٹ بینک کی تنخواہ 40 لاکھ،سینیٹر پھٹ پڑے

    ایک سینیٹر کی تنخواہ ایک لاکھ 40 ہزار،گورنر سٹیٹ بینک کی تنخواہ 40 لاکھ،سینیٹر پھٹ پڑے

    چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی زیر صدارت سینیٹ اجلاس ہوا
    چیئرمین سینیٹ نے استفسار کیا کہ وزیر خزانہ کہاں ہیں،ایوان سے ممبر نے کہا کہ وزیر خزانہ ائی ایم ایف کے ساتھ ہیں، جس پر چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ اوہ چلیں پھر چپ رہتا ہوں ، نگران وزیراطلاعات مرتضیٰ سولنگی نے کہا کہ وزیرخزابہ سینیٹ میں ہیں اور وزارت خزانہ کے افسران سے بریفنگ لے رہی ہیں، چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ وزیرخزانہ سینیٹ میں ہیں تو ایوان میں آئی کیوں نہیں ؟ انہیں بلائیں، اس کے بعد وزیر خزانہ شمشاد اختر ایوان میں آ گئیں،

    نگراں وفاقی وزیر پارلیمانی امور مرتضیٰ سولنگی نے سینیٹ میں سینیٹر مشتاق کے سوال پر جواب میں کہا کہ پی سی آر ڈبلیو آر نے اپنی سہ ماہی رپورٹ اپریل سے جون 2022ءمیں پانی کے 20 برانڈز کو مضر صحت قرار دیا تھا، ان میں سے دو برانڈز ایسے ہیں جو پی ایس کیو سی اے کے تحت رجسٹرڈ تھے، بہت سے گروہ اس طرح کی مضر صحت اشیاءتیار کرتے ہیں، ان کے خلاف ایکشن لیا گیا،پی ایس کیو سی اے کےقانون کے مطابق غیر لائسنس یافتہ افراد کو50ہزار روپے جرمانہ ، ایک سال کی سزا عدلیہ کے ذریعے دی جاتی ہے،جب تک ان برانڈز کی پراڈکٹس معیار پر پورا نہیں اتریں، تب تک انہیں کھولا نہیں گیا، بقیہ18برانڈ رجسٹرڈ نہیں تھے، بہت سے ایسے گروہ اس طرح کی مضر صحت اشیاءتیار کرتے ہیں، ان کے خلاف ایکشن لیا گیا،سینیٹر صاحب کے پاس اس ادارے کے بارے میں کرپشن کے حوالے سے شواہد ہیں تو ضرور آگاہ کریں، متعلقہ اداروں سے تحقیقات کروائیں گے، قائداعظم محمد علی جناح کی 11 اگست 1947ءکی پہلی تقریر سے لے کر اب تک ہماری تقاریر میں کرپشن کا معاملہ ضرور شامل رہا ہے، ایک سرکاری ادارے کو کرپشن کا گڑھ کہنا قابل افسوس ہے،

    سینیٹر مشتاق احمد نے کہا کہ سپریم کورٹ کے ایک ڈرائیور کی تنخواہ ہمارے ایک سینیٹر کی تنخواہ سے بھی ڈبل ہے، جس پر چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ یہ معاملہ لاء منسٹری کو بھیجتے ہیں جو ایوان میں رپورٹ جمع کروائے گی،

    گورنر اسٹیٹ بینک ایسا کونسا کام کرتے ہیں کہ ان کی تنخواہ 40 لاکھ روپے ہے،پلوشہ خان
    اجلاس میں سینیٹرز نے اسٹیٹ بینک ملازمین کی زیادہ تنخواہوں پر تعجب کا اظہار کیا، اراکین نے کہا کہ اسٹیٹ بینک کے گریڈ 8کے ملازم کی تنخواہ تقریبا40 لاکھ روپے ہیں، ہماری تنخواہ ایک لاکھ60 ہزار اور گریڈ8 کے ملازم کی 40 لاکھ روپے کیوں ؟ سینیٹر دنیش کمار نے کہا کہ سنا ہے گورنر اسٹیٹ بینک کی تنخواہ 40 لاکھ رو پے ہے، نگران وزیر خزانہ شمشاد اختر نے کہا کہ اسٹیٹ بینک ایک کارپوریٹ باڈی ہے،یہ تمام معاملات اسٹیٹ بینک بورڈ آف گورنرز کی باڈی کرتی ہے، سینیٹر پلوشہ نے کہا کہ ایک سینیٹر کی تنخواہ ایک لاکھ 40 ہزارروپے ہے، گورنر اسٹیٹ بینک ایسا کونسا کام کرتے ہیں کہ ان کی تنخواہ 40 لاکھ روپے ہے، ہم آئی ایم ایف سے بھیک مانگتے اور دوسری جانب اسٹیٹ بینک کے لوگوں کی اتنی تنخواہ ،نگران وزیر خزانہ شمشاد اختر نے کہا کہ اسٹیٹ بینک نے پالیسی دی تھی کہ پنشن ختم ہونے کی صورت میں تنخواہ بڑھا دی،اسٹیٹ بینک کی پنشن بوجھ بڑھ رہا تھا تو یہ پالیسی لائی گئی،دنیا بھر میں سینٹرل بینک کا سیلری اسٹرکچر سب سے مختلف ہوتا ہے،

    وزیر خارجہ جلیل عباس جیلانی نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ غزہ کے معاملے پر او آئی سی اجلاس میں اسلامی ممالک نے اسرائیل پر جو پریشر ڈالا اسکا اثر ضرور ہوا ہے،او آئی سے نے کوشش کی کہ جنگ بندی ہو اور مسئلے کا مستقل حل تلاش کیا جائے، اسوقت اسرائیل کا جو نیریٹو ہے،اسکی دنیا میں قبولیت بہت کم ہے، دنیا میں فلسطین کے حق میں جلوس نکل رہے ہیں، اسرائیل سمجھتا تھا کہ یہ مسئلہ دب جائے گا لیکن ایسا نہیں ہوا، ایک ماہ میں فلسطین کا مسئلہ دنیا بھر میں اجاگر ہوا ہے،پاکستان ان چند ممالک میں شامل ہے جنہوں نے فلسطین کے لئے ایکٹو رول پلے کیا ،

    پاکستان اسرائیل کو دہشتگرد کیوں نہیں کہہ رہا؟ سینیٹر مشتاق احمد
    جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد نے کہا کہ ایک ریاست اور دو ریاست کی گردان کو ابوعبیدہ نے دفن کردیا ،پاکستان کو دو ریاستی حل کے بجائے آزادفلسطینی ریاست کی بات کرنی چاہیے،میں وزیر خارجہ سے چند مطالبات کرتاہوں کہ پاکستان ایکٹو ڈپلومیسی کیوں نہیں کر رہا، پاکستان مضبوط موقف کیوں نہیں دے رہا، پاکستان دہشت گرد کو دہشت گرد کیوں نہیں کہہ رہا، پاکستان عالمی عدالت میں کیوں نہیں جا رہا، پاکستان کی ڈپلومیسی سمجھ نہیں آ رہی، اب پاکستان سیز فائر کو بڑھوائے، او آئی سی کے پیغام سے طاقتور پیغام ہونا چاہئے کہ سیز فائر بڑھنی چاہئے،پاکستان اعلان کرتا کہ ہم تمام زخمیوں‌کو ایئر لفٹ کرنا چاہتے ہیں، کسی نے اجازت نہیں دینی تھی تا ہم ہمدردی کا اظہار ہو جاتا، لیکن پاکستان خاموش ہیں، آپ ایسا اعلان کرتے تو دنیا سے لوگ پیسہ دیتے،

    سینیٹر مشتاق احمد نے کہا کہ اسلام آباد میں سرکاری دفاتر اور رہائش گاہوں کو سالانہ دس ارب روپے مالیت کی مفت بجلی فراہم ہوتی ہے، جس پر سینیٹ اجلاس میں نگران وزیر خزانہ شمشاد اختر نے کہا کہہم تمام وزارتوں کے سیکرٹریوں کو مراسلہ ارسال کرتے ہیں کہ اس خرچ کو کنٹرول کیا جائے.

    جناح ہاؤس لاہور میں ہونیوالے شرپسندوں کے حملے کے بارے میں اہم انکشافات

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    نواز شریف کو سزا سنانے والے جج محمد بشیر کی عدالت میں عمران خان کی پیشی 

     لیگل ٹیم پولیس لائن گئی تو انہیں عدالت جانے سے روک دیا گیا

    غیر ملکی سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کر دی 

    جی ایچ کیو حملے میں پی ٹی آئی خواتین رہنماوں کا کردار,تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے آئی ہے،

    جناح ہاؤس میں سب سے پہلے داخل ہونے والا دہشتگرد عمران محبوب اسلام آباد سے گرفتار 

    حکومت کی شاہ خرچیاں بڑھ رہی ہیں،رضا ربانی
    پیپلز پارٹی کے رہنما سینیٹر رضا ربانی نے ایوان میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ اشرافیہ کی تنخواہ اور مراعاتیں بے حساب بڑھائی جا رہی ہیں، سرمایہ دار 32 ہزار روپے مزدور کو دینے کو تیار نہیں، پارلیمنٹیرین کی تنخواہ ایک لاکھ 60 ہزار روپے ہے، وزارت خزانہ نے اسکیل ایم پی ون، ٹو اور تھری کی تنخواہ بڑھائی ہے، ایم پی ون کی تنخواہ 8 سے 10 لاکھ روپے ماہانہ اور مراعات کے ساتھ 11 لاکھ ہو گئی ہے،ہ اسکیل ایم پی ٹو کی تنخواہ اب 3 لاکھ 70 ہزار سے 6 لاکھ روپے ہو گی، اسکیل ایم پی تھری کی ماہانہ تنخواہ 24 لاکھ سے 33 لاکھ روپے ہوگی، کہا جاتا ہے پارلیمنٹ پیسہ کھا گئی ہے، پیسہ پارلیمنٹ نے کھایا ہے کہ سول بیوروکریسی کھا رہی ہے،164 ریٹائرڈ فوجی اور سول افسران جو باہر پینشن لے رہے ہیں ڈالرز میں، اس کا کیا جواز ہے پھر کہا جاتا ہے اٹھاوریں ترمیم، این ایف سی، صوبے سارے پیسے کھا گئے، ایک طرف آئی ایم ایف کے کہنے پر بجلی گیس کی قیمت بڑھائی جا رہی ہے، دوسری طرف حکومت کی شاہ خرچیاں بڑھ رہی ہیں.

  • سینیٹ اجلاس، فوجی عدالتوں کے حق میں قرارداد کی منظوری پر احتجاج

    سینیٹ اجلاس، فوجی عدالتوں کے حق میں قرارداد کی منظوری پر احتجاج

    چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی زیر صدارت سینیٹ اجلاس ہوا

    سینیٹ اجلاس میں اپوزیشن نے ایوان میں احتجاج کیا، احتجاج ملٹری کورٹس کی حمایت میں منظور قرارداد پرکیاگیا ،اراکین کی جانب سے ایوان میں شور شرابہ کیا گیا، کامران مرتضیٰ کا کہنا تھا کہ گزشتہ دنوں قرارداد منظور کر کے ہم نے اچھا نہیں کیا،چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی جانب سے اراکین کو بیٹھنے کی ہدایت کی گئی، اراکین کا کہنا تھا کہ فوجی عدالتوں کے حق میں منظور کی گئی قرارداد پر بات کی اجازت دی جائے،

    کامران مرتضی نے نقطہ اعتراض پر بات کرنے اصرار کیا اور کہا کہ اس دن ایوان میں جو قرارداد منظور کی گئی اس پر بات کرنا چاہتا ہوں، سعدیہ عباسی نے کہا کہ جب تک مذکورہ قرارداد پر بات نہیں ہوتی ایوان نہیں چلنے دیں گے، سینیٹ میں ممبران اپنی نشستوں پر کھڑے ہوگئے اور کہا کہ ایجنڈے سے قبل کچھ روز قبل منظور ہونے والی قرارداد پر بات کی اجازت دی جائے، احتجاج اور شور شرابے کے بعد چیئرمین سینیٹ نے سینیٹ اجلاس پیر تین بجے تک ملتوی کردیا، صادق سنجرانی کا کہنا تھا کہ اس طرح بات نہیں ہو سکتی، اس لہجے میں بات نہیں ہو سکتی، ہاؤ س کی عزت رکھیں، بیٹھیں گے تو بات ہو گی، اراکین نہ بیٹھے تو چیئرمین سینیٹ نے اجلاس ملتوی کر دیا.

    سینیٹ وقفہ سوالات،ملک بھر میں ریلوے اراضی پر غیر قانونی قبضے کی تفصیلات سینیٹ میں جمع کروا دی گئی، تحریری جواب میں کہا کہ ملک بھر میں ریلوے کی 13 ہزار 974 ایکڑ اراضی پر غیر قانونی قبضہ ہے،ریلوے کی 5512 ایکڑ زرعی،3309 ایکڑ رہائشی،769 ایکڑ کمرشل اراضی پر غیر قانونی قبضہ ہے،سندھ میں 5ہزار 948،پنجاب 5809،کے پی 1181 اور بلوچستان میں 1034 ایکڑ اراضی پر غیر قانونی قبضہ ہے،اراضی واگزار کروانے کےلیےتمام ڈویژنل سپریٹینڈنٹس کو احکامات جاری کئے گئے ہیں.

    واضح رہے کہ  سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف سینیٹ میں قرارداد منظور ہوئی تو اس وقت ایوان میں 15 سینیٹرز موجود تھے، 9 سینیٹرز نے قرارداد کے حق میں اور تین نے قرارداد کی مخالفت کی, تین خاموش رہے۔

    گزشتہ روز سینیٹ میں 9 مئی کے مقدمات کا ٹرائل خصوصی عدالتوں میں چلانے کی قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی گئی۔9 مئی کے مقدمات کا ٹرائل خصوصی عدالتوں میں چلانے کی قرار داد سینیٹر دلاور حسین نے سینیٹ میں پیش کی، جسے متفقہ طور پر منظور کرلیا گیا،گزشتہ ماہ، سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے حکومت کو 9 مئی کے پرتشدد مظاہروں کے نتیجے میں گرفتار کیے گئے شہریوں کا فوجی ٹرائل کرنے سے روک دیا تھا۔

    شہداء فورم کا فوجی عدالتوں کی بحالی کا مطالبہ

    سپریم کورٹ، فوجی عدالتوں میں سویلین کا ٹرائل کالعدم قرار

    سپریم کورٹ،فوجی عدالتوں سے متعلق درخواستیں، فل کورٹ تشکیل دینے کی استدعا مسترد

    جناح ہاؤس لاہور میں ہونیوالے شرپسندوں کے حملے کے بارے میں اہم انکشافات

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    نواز شریف کو سزا سنانے والے جج محمد بشیر کی عدالت میں عمران خان کی پیشی 

     لیگل ٹیم پولیس لائن گئی تو انہیں عدالت جانے سے روک دیا گیا

    غیر ملکی سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کر دی 

    جی ایچ کیو حملے میں پی ٹی آئی خواتین رہنماوں کا کردار,تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے آئی ہے،

    جناح ہاؤس میں سب سے پہلے داخل ہونے والا دہشتگرد عمران محبوب اسلام آباد سے گرفتار 

  • سینیٹ اجلاس، ارکان کا فوجی عدالتوں کے حق میں منظور قرارداد واپس لینے کا مطالبہ

    سینیٹ اجلاس، ارکان کا فوجی عدالتوں کے حق میں منظور قرارداد واپس لینے کا مطالبہ

    سینیٹ کا اجلاس ڈپٹی چیئرمین مرزا محمد آفریدی کی زیر صدارت شروع ہوا اجلاس کی کاروائی شروع کرنے کے ساتھ ہی تمام ایوان میں موجود سینیٹرز نے شدید احتجاج شروع کردیا اور کہاکہ کل سینیٹ نے قرارداد پاس کی ہے جو کہ رولز کی خلاف ورزی کرہے پاس کی گئی ہے اس پر بات کرنے کی اجازت دی جائے اس کے بعد کارروائی جائی جائے ڈپٹی چیئرمین نے کہاکہ 15منٹ میں ایجنڈا مکمل ہوجائے گا اس کے بعد بات کرنے کی اجازت دوں گا ۔اسی احتجاج کے دوران ایک سینیٹر نے کورم کی نشاندہی کردی ۔

    سینیٹر سعدیہ عباسی نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ کل سینیٹ نے قرارداد پاس کی جب صرف 12 ارکان ایوان میں موجود تھے، ایجنڈا میں جو چیز شامل نہیں تھی اسے پیش کیا گیا ،یہ قرارداد جمہورئت کی نفی ہے، جمہوریت پر شب خون مارا گیا ،ایوان نے قواعدوضوابط سے ہٹ کر جو کام کیا ہم اسے سپورٹ نہیں کرتے ،ایوان کو استعمال کرکے ایسے قرارداد پاس کرائی گیی جو جمہوریت کی نفی ہے ،کیا ایوان کل یہ قرارداد لے آے گا کہ ملک میں مارشل لاءگا دیا جائے تو کیا مارشل لاء لگا دیا جائے گا،یہ طریقہ کار نفی کرتا ہے پارلیمانی روایت کی،موجودہ حالات میں ایسی قرارداد سے جمہوریت مضبوط ہو ،یہ قرارداد واپس لیں،یہ قرارداد اس ایوان کی عکاس نہیں ہے

    سینیٹر رضا ربانی، طاہر بزنجو، تاج حیدر ، سینیٹر مشتاق نےبھی نشتوں پر کھڑے ہو کر احتجاج کیا،سینیٹر رضا ربانی اور مشتا ق نے کہا کہ ہم اس معاملے پر بات کرنا چاہتے ہیں، مرزا آفریدی نے کہا کہ سینیٹ ایجنڈا مکمل کرکے میں آپ کو بات کرنے کی اجازت دیتا ہوں،سینیٹر سیف اللہ نے کہا کہ چیئرمین سینیٹ نے ایوان کا ریپ کیا ، ایوان کو تباہ کر دیا ہے

    سینیٹر رضا ربانی اور سینیٹر مشتاق احمد سمیت ارکان نے قراداد سے متعلق بولنے کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا،ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کی جانب سے بات کرنے کی اجازت نہ ملنے پر ایوان میں شورشرابا ہوا،ن لیگ پیپلز پارٹی، عوامی نیشنل پارٹی اور پی ٹی آئی اور جماعت اسلامی کے ارکان نے گزشتہ روز منظور ہونے والی قرارداد پر بات کرنے کے لیے وقت کا مطالبہ کیا،ڈپٹی چیئرمین سینیٹ نےپہلے ایجنڈے کی کارروائی مکمل کرنے پر اصرارکیا،سینیٹر مشتاق احمد نے ڈائس سامنے آکر احتجاج کیا،ایوان میں کورم کی نشاندہی کردی گئی ،سینیٹ میں کورم پورا نہ نکلا،سینیٹ کا اجلاس جمعہ ساڑھے دس بجے تک ملتوی کر دیا گیا

    واضح رہے کہ کل جب سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف سینیٹ میں قرارداد منظور ہوئی تو اس وقت ایوان میں 15 سینیٹرز موجود تھے، 9 سینیٹرز نے قرارداد کے حق میں اور تین نے قرارداد کی مخالفت کی, تین خاموش رہے۔ آج سینیٹ اجلاس شروع ہوا تو پی ٹی آئی، ن لیگ، پیپلزپارٹی، اے این پی اور جماعت اسلامی نے قرارداد منظوری کے عمل پر اعتراض کیا۔ ڈپٹی چیئرمین نے اجلاس ہی ملتوی کردیا۔

    گزشتہ روز سینیٹ میں 9 مئی کے مقدمات کا ٹرائل خصوصی عدالتوں میں چلانے کی قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی گئی۔9 مئی کے مقدمات کا ٹرائل خصوصی عدالتوں میں چلانے کی قرار داد سینیٹر دلاور حسین نے سینیٹ میں پیش کی، جسے متفقہ طور پر منظور کرلیا گیا،گزشتہ ماہ، سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے حکومت کو 9 مئی کے پرتشدد مظاہروں کے نتیجے میں گرفتار کیے گئے شہریوں کا فوجی ٹرائل کرنے سے روک دیا تھا۔

    شہداء فورم کا فوجی عدالتوں کی بحالی کا مطالبہ

    سپریم کورٹ، فوجی عدالتوں میں سویلین کا ٹرائل کالعدم قرار

    سپریم کورٹ،فوجی عدالتوں سے متعلق درخواستیں، فل کورٹ تشکیل دینے کی استدعا مسترد

    جناح ہاؤس لاہور میں ہونیوالے شرپسندوں کے حملے کے بارے میں اہم انکشافات

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    نواز شریف کو سزا سنانے والے جج محمد بشیر کی عدالت میں عمران خان کی پیشی 

     لیگل ٹیم پولیس لائن گئی تو انہیں عدالت جانے سے روک دیا گیا

    غیر ملکی سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کر دی 

    جی ایچ کیو حملے میں پی ٹی آئی خواتین رہنماوں کا کردار,تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے آئی ہے،

    جناح ہاؤس میں سب سے پہلے داخل ہونے والا دہشتگرد عمران محبوب اسلام آباد سے گرفتار 

  • سینیٹ اجلاس میں ملٹری کورٹس بنانے کے حوالے سے قرارداد منظور

    سینیٹ اجلاس میں ملٹری کورٹس بنانے کے حوالے سے قرارداد منظور

    اسلام آباد: سینیٹ میں 9 مئی کے مقدمات کا ٹرائل خصوصی عدالتوں میں چلانے کی قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی گئی۔

    باغی ٹی وی: 9 مئی کے مقدمات کا ٹرائل خصوصی عدالتوں میں چلانے کی قرار داد سینیٹر دلاور حسین نے سینیٹ میں پیش کی، جسے متفقہ طور پر منظور کرلیا گیا،گزشتہ ماہ، سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے حکومت کو 9 مئی کے پرتشدد مظاہروں کے نتیجے میں گرفتار کیے گئے شہریوں کا فوجی ٹرائل کرنے سے روک دیا تھا۔

    بینچ کی سربراہی کرنے والے جسٹس اعجاز الاحسن نے 23 اکتوبر کو فیصلہ سنایا، جس میں بینچ نے پاکستان آرمی ایکٹ کی دفعہ 2 (1) (d) اور دفعہ 59 (4) (سول جرائم) کو بھی غیر آئینی قرار دیا تھا، 9 مئی کے واقعے میں ملوث ہونے کے الزام میں جن 102 شہریوں کو فوجی ٹرائل کے لیے حراست میں لیا جا رہا ہے، ان پر صرف فوجداری عدالتوں میں مقدمہ چلایا جا سکتا ہےآرمی ایکٹ کے تحت مسلح افواج کے خلاف تشدد کے ملزمان کا ٹرائل پاکستان کے موجودہ آئینی فریم ورک اور قانونی نظام کے مطابق ایک مناسب اور متناسب ردعمل ہے۔

    رواں ماہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا امکان

    قرارداد میں کہا گیا کہ ملک کے آئینی فریم ورک کے اندر، آرمی ایکٹ کے تحت ریاست مخالف توڑ پھوڑ اور تشدد کے ملزمان کا ٹرائل اس طرح کی کارروائیوں کے خلاف ایک رکاوٹ کا کام کرتا ہے،وہ شہدا کے خاندانوں کے ساتھ مضبوطی سے کھڑے ہیں جنہوں نے ملک کے لیے نمایاں قربانیاں دی ہیں اور سپریم کورٹ کے فیصلے سے عدم تحفظ اور غداری کے جذبات کا اظہار کیا ہے، ان کے کو تشویش ہے کہ فوجی عدالتوں میں ٹرائل نہ ہونے سے دہشت گردی کی کارروائیوں کے ذمہ داروں کی حوصلہ افزائی کا امکان ہے، اسی لیے باقاعدہ عدالتوں میں سخت انصاف نہ ہونے کی وجہ سے اس کی مکمل تائید کی جاتی ہے۔

    نواز شریف کا جے یو آئی سربراہ مولانا فضل الرحمان سے ٹیلفونک رابطہ

    قرارداد کے مطابق عدالت عظمیٰ کے فیصلے نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مسلح افواج، شہریوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے شہداء کی قربانیوں کو کالعدم قرار دیا ہے فوجی عدالتوں نے دہشت گردی کی کارروائیوں کے ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کو یقینی بنا کر دہشت گردی سے نمٹنے میں اہم کردار ادا کیا ہے،تاہم یہ فیصلہ شہادت کے جذبے کو ترک کرتے ہوئے دہشت گردوں، ریاست مخالف عناصر، غیر ملکی ایجنٹوں اور جاسوسوں کا عام عدالتوں میں ٹرائل کرنے کے لیے نرمی فراہم کرتا ہے عدالت عظمیٰ نے موجودہ طریقہ کار کو مدنظر نہیں رکھا جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ فوجی عدالتوں کی طرف سے دی جانے والی سزائیں صوابدیدی نہیں ہیں اور مناسب عمل اور رسمی کارروائیوں کے بعد سنائی جاتی ہیں۔

    امریکی‌ڈالر کی قدر میں مزید اضافہ

    قرارداد کے مطابق فوجی عدالتوں کے احکامات کے خلاف اپیل کے عمل کی موجودگی، جس میں چیف آف آرمی سٹاف اور صدر کے ساتھ اپیل کی راہیں شامل ہیں، اور ساتھ ہی عدالتوں میں رٹ پٹیشنز دائر کرنے کا اختیار بھی شامل ہے جو بالآخر سپریم کورٹ تک بھی پہنچ سکتی ہیں انہیں نظر انداز کیا گیا، آرمی ایکٹ کی دفعات اور بنیادی طریقہ کار اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ آئین کے آرٹیکل 10 اے کےتحت منصفانہ ٹرائل کے ق کی خلاف ورزی نہ ہو سویلین کےمقدمات خصوصی عدالتوں میں چلنے چاہئیں خصوصی عدالتوں سے متعلق سپریم کورٹ اپنے فیصلے پر نظرثانی کرے۔

    بعدازاں سینیٹ کا اجلاس کل صبح ساڑھے 10 بجے تک ملتوی کردیا گیا۔

    پنجاب میں گندم اور آٹے کا سرکاری ریٹ مقرر

  • پی آئی اے نجکاری،سینیٹ میں بحث،وفاقی وزیر اجلاس کی بجائے کراچی چلے گئے

    پی آئی اے نجکاری،سینیٹ میں بحث،وفاقی وزیر اجلاس کی بجائے کراچی چلے گئے

    چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی زیر صدارت سینیٹ اجلاس ہوا

    سینیٹر زرقاتیمور سہروردی نے پی آئی اے حالت زار پر تشویش کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ کبھی پی آئی اے ہمارا فخر تھا، پی آئی اے نے گلف سمیت دیگر ممالک کی ایئرلائین کو بنایا ،پی آئی اے میں غیر ضروری بھرتیاں کرکے اس کے بازو کاٹ دیئے گئے، برطانیہ میں پروازیں بند ہیں لیکن سالوں سے یوکے میں عملہ تعینات ہے،پروازیں بند کر کے پی آئی اے کو اس کے روز ویلٹ جیسے اثاثوں سمیت اونے پونے بیچنے کا منصوبہ تیار کرلیا گیا ہے ،وفاقی وزیر کراچی چلے گئے تاکہ ان کو جواب نہ دینا پڑے ،چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ اگلے اجلاس میں اس کا جواب متعلقہ وفاقی وزیر سے لیا جائے گا،

    سینیٹر زرقا تیمور نے کہا کہ جو گاڑیاں نگران دور حکومت میں سرکاری خزانے سے وزراء کے لئے خریدی جاتی ہیں، ان کا کیا مستقبل ہوتا ہے؟ بی ایم ڈبلیو گاڑیوں کی مد میں یہ پیسہ تو ٹیکس پیر کی مد میں ہے، جب وہ نگران وزیر ختم ہو جاتے ہیں تو انکا مستقبل کیا ہوتا ہے؟اسکے جواب میں کہا گیا کہ ایک ہفتے بعد وہ گاڑیاں کیبنٹ ڈویژن میں چلی جاتی ہیں اور بعد میں استعمال ہوتی ہیں

    پی آئی اے کو فنڈز کی عدم فراہمی و فلائٹ شیڈول متاثر ہونے سے متعلق توجہ دلاؤ نوٹس آج سینیٹ اجلاس کے ایجنڈے میں شامل ہے،نواب شاہ کے قریب ٹرین حادثے سے متعلق توجہ دلاؤ نوٹس ایجنڈے کا حصہ ہے،سینیٹ اجلاس میں غزہ میں اسرائیلی جارحیت و ملکی معاشی وسیاسی صورتحال بھی زیر بحث رہے گی

     سول ایوی ایشن اتھارٹی (سی اے اے) مدد کیلئے سامنے آگئی

    پی آئی اے کی نجکاری کے عمل کو جلد از جلد تکمیل تک پہنچانے کی ہدایت

    پائلٹس کی ابتدائی 8 سے 10 ماہ کی تربیت پر 15000 سے 20000 ڈالر کا خرچ

    پاکستان کی قومی ایئر لائن پی آئی اے کو مجموعی طور پر 383 بلین کا خسارہ ہے 

    سپریم کورٹ نے پی آئی اے کو نئی 205 پروفیشنل بھرتیوں کی اجازت دیدی

  • ہمیں آئین کی باقی شقیں بھی یاد رکھنی چاہیے،اسحاق ڈار

    ہمیں آئین کی باقی شقیں بھی یاد رکھنی چاہیے،اسحاق ڈار

    چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی زیر صدارت سینیٹ اجلاس ہوا

    سینیٹ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے سابق وفاقی وزیر، ن لیگی رہنما اسحاق ڈار کا کہنا تھاکہ آئین کہتا ہے نوے دن میں الیکشن ہوں، ہمیں آئین کی باقی شقیں بھی یاد رکھنی چاہیں ، مردم شماری ہوجائے مشترکہ مفادات کونسل منظوری دے تو حلقہ بندیاں آئینی تقاضا ہے،نئی مردم شماری کے بعد حلقہ بندیاں ضروری ہیں، جب بجٹ پیش کیا تو الیکشن کمیشن کیلئے صرف پانچ ارب تھے،الیکشن کمیشن 54ارب مانگ رہا تھا پھر بات چیت سے 46ارب پر اتفاق ہوا ، اس کے باوجود سولہ ارب روپے مزید درکار تھے ، ہم اس وقت آئی ایم ایف کے پروگرام میں تھے ، پھر قومی اسمبلی نے قرارداد کے ذریعے مجھے پابند کردیا تھا،

    اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ ریکارڈ پر حقائق رکھنے ضروری ہیں.آئین میں نوے دن میں الیکشن ضروری ہیں، ہم بھی چاہتے تھے،آئین بہت کلیئر ہے، ممبر نیشنل اسمبلی اپنے اور دوسری پارٹیوں کے لوگوں کو بھی ملا ہوں،اپوزیشن لیڈر نے بڑی اہم باتیں ہمارے لئے رکھی ہیں، بالکل صحیح کہتے ہیں کہ نوے روز میں الیکشن ہونے چاہیے،جب ہم یہ سوچتے ہیں یا سمجھتے ہیں کہ نوے روز میں انتخابات کروا دینے چاہئے تھے تو یہ بھی غیر آئینی سوچ ہے، جب مردم شماری کی منظوری ہوجائے تو الیکشن کمیشن کے پاس کوئی چوائس نہیں ہے،پہلے بجٹ میں مختض رقوم الیکشن 5 بلین تھی الیکشن کمیشن کو 54 ارب درکار تھے، ہم نے46 بلین دینے کا طے کیا،پنجاب اور کے پی کےالیکشن کے لیے اضافی 16 ارب درکار تھے، ایک طرف ہم آئی ایم ایف کے پروگرام میں تھے، میرے پاس بھی کوئی چوائس نہیں تھی،یہ ہاؤس میرے اوپر کوئی قدغن لگاتا ہے تو اسکو فالو کرنا پڑتا ہے،

    نیب ترامیم کیخلاف درخواست،جسٹس منصور علی شاہ کی فل کورٹ تشکیل دینے کی تجویز

     جسٹس منصور علی شاہ نے نیب ترامیم کیس میں دو صفحات پر مشتمل تحریری نوٹ جاری کر دیا

    میری ریٹائرمنٹ قریب ہے، فیصلہ نہ دیا تو میرے لئے باعث شرمندگی ہوگا،چیف جسٹس

    قیام پاکستان سے اب تک توشہ خانہ کے تحائف کی تفصیلات کا ریکارڈ عدالت میں پیش

    نیب ٹیم توشہ خانہ کی گھڑی کی تحقیقات کے لئے یو اے ای پہنچ گئی، 

  • سینیٹ میں علی ظفر تحریک انصاف کے پارلیمانی لیڈر بن گئے

    سینیٹ میں علی ظفر تحریک انصاف کے پارلیمانی لیڈر بن گئے

    سینیٹ میں پی ٹی آئی کے پارلیمانی لیڈر تبدیل ، ایوان بالا میں سینیٹر شہزاد وسیم کی جگہ سینیٹر علی ظفر تحریک انصاف کے پارلیمانی لیڈر نامزد کر دیئے گئے،

    سینیٹ اجلاس کے دوران پی پی رہنما سینیٹر نثار کھوڑو نےا اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ آج بھی اقتدار پاکستان کی عوام کے پاس نہیں،کہا گیا پاکستان کے عوام اس اہل نہیں کہ انہیں قومی سطح کے فیصلے کرنے دیاجائے،حکومت وقت نے فلسطین کے لئے اب تک کیا کیا ؟ہمیں اپنے اندر اعلیٰ اخلاقی معیارات پیدا کرنا ہوں گے،ہماری ہمدردیاں فلسطین کے ساتھ ہیں اور ہمیشہ رہیں گی،ذوالفقار علی بھٹو نے تمام لوگوں کو ایک جگہ جمع کیا،اگر بھٹو ہوتے تو دنیا کی صورتحال کچھ اور ہوتی.

    سینیٹر بہرہ مند تنگی نے ا اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ حماس کو ختم کرنے کا اعلان فلسطین کو ختم کرنے کا اعلان ہو گا،کیا صرف تقاریر سے فلسطین کے زخمیوں کو دوائیاں مل سکتی ہیں؟اس ہاؤس میں سلیم مانڈوی والا کی طرح ارب پتی لوگ موجود ہیں،ہمیں فلسطین کے لئے مالی امداد کا اعلان کرنے کی ضرورت ہے،

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

    الاہلی ہسپتال پر حملے کا اسرائیل کا حماس پر الزام،امریکی اخبار نے اسرائیلی جھوٹ کو کیا بے نقاب

    اسرائیلی حملے میں صحافی کے خاندان کی موت

  • سابق وزیراعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو کی چیئرمین سینیٹ  سے ملاقات

    سابق وزیراعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو کی چیئرمین سینیٹ سے ملاقات

    آج سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو نے چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی سے اسلام آباد میں ملاقات کی۔ اس موقع پر سینیٹر دلاور خان، سینیٹر نصیب اللہ بازئی اور سردار عبدالرحمن کھیتران بھی موجود تھے جبکہ جاری اعلامیہ کے مطابق ملاقات کے دوران شرکاء نے بلوچستان کی مجموعی سماجی و اقتصادی صورتحال پر توجہ مرکوز کی۔ چیئرمین سینیٹ، محمد صادق سنجرانی نے عبدالقدوس بزنجو کی بطور وزیراعلیٰ بلوچستان خدمات کو سراہتے ہوئے ان کی قیادت میں شروع کیے گئے مثالی ترقیاتی منصوبوں پر روشنی ڈالی۔

    علاوہ ازیں‌چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ بلوچستان کے نوجوانوں کو ترقیاتی عمل میں شامل کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے بلوچستان کی ترقی کے لیے اجتماعی ذمہ داری اور سیاسی قوتوں کے درمیان اتحاد کی اہمیت پر زور دیا، چیئرمین سینیٹ، محمد صادق سنجرانی نے کہا کہ بیروزگاری اور غربت کے خاتمے کے لیے جامع منصوبہ بندی وقت کی اہم ضرورت ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    اسٹینڈرڈ چارٹرڈاور کراچی یونائٹیڈ کے تحت یوتھ فٹ بال لیگ، چھٹے ایڈیشن کا آغاز
    کوئلے کی کان میں دھماکہ؛ 11 مزدور زخمی
    ہمارا حق مارا جائے گا تو سڑکوں پر نکل کر بتائیں گے،مولانا فضل الرحمان
    شیخ رشید کی بازیابی کیلئے مزید آٹھ دن کا وقت مل گیا
    ” ون لائن” کی پہلی خاتون لکھاری مسرت ناز
    کیا پاکستان ورلڈکپ میں نئی تاریخ رقم کر پائے گا؟
    ورلڈکپ: پاکستان کو جیت کیلئے345 رنز کا ہدف
    سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو نے بلوچستان کی ترقی کے لیے چیئرمین سینیٹ کی جانب سے فراہم کی جانے والی رہنمائی کا اعتراف کرتے ہوئے اُنکا شکریہ ادا کیا، سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو نے کہا کہ چیئرمین سینیٹ نے بلوچستان حکومت کی ترقی کے حوالے سے ہر قدم پر رہنمائی کی، ہمیشہ ایوان بالا میں بلوچستان کے لیے آواز اٹھائی جس کے لیے میں شکر گزار ہوں۔ ملاقات کا اختتام بلوچستان کی ترقی اور خوشحالی کے لیے مشترکہ طور پر کام کرنے کے مشترکہ عزم کے ساتھ ہوا اور خطے میں سماجی و اقتصادی چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے مربوط کوششوں کی اہمیت پر زور دیا گیا۔

  • سینیٹر اسحاق ڈار کی زیر قیادت سینیٹ آف پاکستان کے وفد کا دورہ اقوام متحدہ

    سینیٹر اسحاق ڈار کی زیر قیادت سینیٹ آف پاکستان کے وفد کا دورہ اقوام متحدہ

    سینیٹر اسحاق ڈار کی زیر قیادت سینیٹ آف پاکستان کے وفد نے اقوام متحدہ کا دورہ کیا ہے

    اقوام متحدہ میں پاکستان کے سفیر خلیل ہاشمی نے پاکستان اور اقوام متحدہ کے مابین مختلف شعبوں میں جاری شراکت داری پر بریفنگ دی،وفد انٹر پارلیمینٹری یونین کی دعوت پر ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن کے پبلک فورم میں شریک ہے۔وفد میں سینیٹر اسحاق ڈار، سینیٹر کامران مرتضیٰ، سینیٹر سید مظفر شاہ اور سینیٹر اعظم نذیر تارڑ شامل ہیں،

    ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن کی ڈائریکٹر جنرل نگوزی اوکونجو لیوئلا نے وفد کو خوش آمدید کہا،ملاقات میں عالمی تجارتی تعلقات کو مزید مضبوط کرنے پر تبادلہ خیال کیا گیا،ملاقات میں معاشی تعاون کو مزید وسیع کرنے، عالمی تجارت کو درپیش مسائل دور کرنے پر غور کیا گیا،سینیٹر اسحاق ڈار نے عالمی تجارت کو درپیش مسائل کے حل کے لئے کثیر الجہتی کے فروغ پر زور دیا،پاکستانی وفد نے مساوات پر مشتمل عالمی معاشی نظام بنانے پر زور دیا

    سینیٹر اسحاق ڈار نے اقوام متحدہ کانفرنس برائے تجارت و ترقی کی جانب سے عالمی مالیاتی سٹرکچر میں عدم توازن ختم کرنے کی کاوشوں کی تعریف کی،پاکستانی وفد نے یو این سی ٹی اے ڈی کی جانب سے ترقی پذیر ممالک کے لئے قرضوں کی ادائیگی میں ریلیف اور موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لئے مالی امداد کو سراہا۔

    جوہرٹاؤن دھماکہ؛ بارود سے بھری گاڑی کا مالک کون؟بارود کہاں نصب کیا گیا اورگاڑی کیسے پہنچی؟تہلکہ خیزانکشافات 

    لاہور دھماکہ، ایئر پورٹ سے فرار ہونیوالے مشتبہ شخص کو گرفتار کر لیا گیا

    جوہر ٹاؤن دھماکہ،تحقیقات میں زبردست کامیابی حاصل کر لی، شیخ رشید

    جوہر ٹاؤن دھماکہ "را” کے ملوث ہونے کے ثبوت،دو مزید ملزمان گرفتار،ڈیوڈ بارے اہم انکشافات

    جوہر ٹاؤن دھماکہ، سب ملزمان گرفتار، ملک دشمن خفیہ ایجنسی ملوث، بزدار کی پریس کانفرنس

    جوہرٹاؤن دھماکہ ، گرفتار ملزمہ عدالت پہنچ گئی