Baaghi TV

Tag: سینیٹ

  • فریڈرک نیومن فاؤنڈیشن فار فریڈم کے تین رکنی وفد کی  چیئرمین سینیٹ سے ملاقات

    فریڈرک نیومن فاؤنڈیشن فار فریڈم کے تین رکنی وفد کی چیئرمین سینیٹ سے ملاقات

    فریڈرک نیومن فاؤنڈیشن فار فریڈم کے تین رکنی وفد نے چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی سے پارلیمنٹ ہاؤس میں ملاقات کی۔ چیئرمین سینیٹ نے وفد کو ایوان بالاء کے کام کے طریقہ کار اور قانون سازی میں کردار سے متعلق آگاہ کیا۔ریجنل ڈائریکٹر فریڈرک نیومن فاؤنڈیشن فارفریڈم کارسٹن کلین نے چیئرمین سینیٹ کو فاؤنڈیشن کے پاکستان میں کام کے حوالے سے بریف کیا۔

    جبکہ انہوں نے کہا کہ یہ ادارہ دنیا بھر کے60 ممالک میں خدما ت سرانجام دے رہا ہے۔پاکستان میں 1986 سے دونوں ممالک کی عوام کے لئے خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں کاروبار کے لیے سازگار ماحول کو فروغ دینے کے لیے فاؤنڈیشن نے بہت محنت کی ہے۔تاجر برادری کو درپیش چیلنجز کو سمجھنے اور ان سے نمٹنے کے لئے موثرحکمت عملی اختیار کی گئی ہے۔

    علاوہ ازیں انہوں نے مزید کہا کہ جنوبی ایشیا میں توانائی کی حفاظت اور قابل تجدید توانائیوں کی طرف منتقلی کے بارے میں بھی موثر کام کیا گیا ہے۔ پاکستان اور جرمنی دونوں ممالک نے چیمبرز آف کامرس کے ساتھ مل کر خواتین کی ترقی اور ان کی پائیدار کاروباری صلاحیت کو فروغ دینے کے لئے موثر کام کیا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ ادارہ علاقائی اقتصادی تعاون، موثرحکمرانی اور ماحولیاتی تحفظ کے لیے بھی جامع حکمت عملی سے کام اور تربیت فراہم کر رہا ہے۔ فنی تعلیم و تربیت، ڈیجیٹلائزیشن، سائنس و ٹیکنالوجی، پبلک مینجمنٹ اور ایڈمنسٹریشن و دیگر شعبوں میں مثبت تبدیلی کو فروغ دینے میں فاؤنڈیشن کا کلیدی کردار رہا ہے۔

    چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی نے جرمنی اور پاکستان کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے FNF کے کردار کو سراہا۔چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ جمہوری اقدار کے فروغ اور پائیدار ترقی میں فاؤنڈیشن کی گراں قدر خدمات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے مابین مختلف شعبوں میں تعاون کی وسیع گنجائش موجود ہے۔ دونوں ممالک تجارت و سرمایہ کاری کے فروغ کے حوالے سے موثر حکمت عملی اختیار کریں۔ جرمنی پاکستان میں موجود سرمایہ کاری کے مواقعوں سے مستفید ہو۔ چیئرمین سینیٹ نے مزید کہا کہ بلوچستان جیسے پسماندہ صوبے میں غربت کے خاتمے کے لئے کام کرنے کی ضرورت ہے۔چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ ایوان بالا ادارہ جاتی تعاون کو فروغ دینے کے لیے کوشاں ہے اور استعداد کار بہتر بنانے کے لئے جامع حکمت عملی پر عمل پیرا ہیں۔انہوں نے کہا کہ جدید دور کے چیلنجز سے نمٹنے کے لئے اداروں کی ترقی اور معاونت لازمی ہے۔

    چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی کو پارلیمنٹ ہاؤس کا دورہ کرنے والے وفد نے برلن دیوار کا ٹکڑا بطور تحفہ پیش کیا جس کو چیئرمین سینیٹ نے ایوان بالاء کے میوزیم میں نمائش کے لئے رکھنے کی ہدایت کی۔ملاقات کے دوران سینیٹرز منظور احمدکاکڑ، نصیب اللہ بازئی،پلوشہ محمد زئی خان، سیکرٹری سینیٹ محمد قاسم صمدخان اور ڈی جی کوارڈینیشن میر شے مزار بلوچ بھی موجود تھے۔

    دوسری جانب بلوچستان عوامی پارٹی کے رہنماؤں کی چیئرمین سینیٹ سے ملاقات جبکہ ملاقات میں ملک کی موجودہ صورتحال اور صوبہ بلوچستان کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا اور سینیٹ میں بلوچستان عوامی پارٹی کے پارلیمانی لیڈر منظور احمد کاکڑ نے چیئرمین سینیٹ کو آگاہ کرتے ہوئے سینیٹر منظور کاکڑ نے کہا بی اے پی ایوان بالا میں جمہوری روایات کے فروغ کے فلسفے پر کارفرما ہے ۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    چندریان تھری کا لینڈر موڈیول ڈیزائن کرنے کا دعویٰ کرنیوالا جعلی سائنسدان گرفتار
    ایشیا کپ ،پاکستان کا نیپال کے خلاف ٹاس جیت کر بیٹنگ کا فیصلہ
    سائفر کیس،شاہ محمود قریشی کو جوڈیشل ریمانڈ پر بھیج دیا گیا

    علاوہ ازیں بی اے پی رہنما نے کہا کہ جمہوری پارلیمانی روایات کے فروغ اور وفاق و صوبے کے درمیان روابط کو بہتر بنانے کے لئے اقدامات اٹھاتے رہیں گے ۔آزاد ، شفاف اور منصفانہ انتخابی عمل پر یقین رکھتے ہیں، جبکہ بی اے پی رہنماؤں کا ملاقات میں موقف اپنایا گیا کہ بی اے پی بلوچستان کے عوام کی آواز بن چکی ہے ۔ بی اے پی کے رہنماؤں کا حلقہ بندیوں پر بھی تبادلہ خیال کریں.

    علاوہ ازیں چیئرمین سینیٹ نے ملک کی سماجی و اقتصادی ترقی کے سیاسی قوتوں کے مابین اتفاق رائے پیدا کرنے پر زور دیا اور چیئرمین سینیٹ نے کہا ملک کو مسائل سے نکالنا ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے سب کو آگے بڑھنا ہوگا ۔

  • چیئرمین سینیٹ سے برطانیہ میں تعینات پاکستانی ہائی کمشنر کی ملاقات

    چیئرمین سینیٹ سے برطانیہ میں تعینات پاکستانی ہائی کمشنر کی ملاقات

    چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی سے برطانیہ میں تعینات پاکستانی ہائی کمشنر ڈاکٹر محمد فیصل کی پارلیمنٹ ہاؤس میں ملاقات ہوئی ہے،

    چئیرمین سینیٹ نے ڈاکٹر فیصل کو نئی ذمہ داریاں سنبھالنے پر مبارکباد دی ،انہوں نے ڈاکٹر فیصل کیلئے نیک خواہشات کا اظہار کیا ،چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی کا کہنا تھا کہ امید ہے بطور پاکستانی ہائی کمشنر پاکستان اور برطانیہ کے دو طرفہ تعلقات مزید بہتر ہوں گے، چئیرمین سینیٹ نے ڈاکٹر فیصل کو ماحولیات، تجارت، آئی ٹی، تعلیم کے شعبوں میں برطانیہ کے ساتھ تعاون کو مزید فروغ دینے کے حوالے سے ہدایات دیں

    چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی کا کہنا تھا کہ برطانیہ کے تاجروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے کیلئے اقدامات اٹھانے چاہئے، سرمایہ کاروں کا اعتماد معیشت کے استحکام میں مدد گار ثابت ہوگا، کاروباری و معاشی روابط عوام کو مزید قریب لانے میں مدد گار ثابت ہونگے، برطانیہ میں مقیم پاکستانی دونوں ملکوں کے درمیان ایک پل کا کردار ادا کر رہے ہیں، برطانیہ میں مقیم پاکستانیوں کو درپیش مسائل کے حل کیلئے فوری اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے، امید ہے آپ اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے نبھائیں گے،

     کسی سویلین کا ٹرائل ملٹری کورٹ میں نہیں ہونا چاہیے

    کرپشن کا ماسٹر مائنڈ ہی فیض حمید ہے

    برج کھیل کب ایجاد ہوا، برج کھیلتے کیسے ہیں

    عمران خان سے اختلاف رکھنے والوں کی موت؟

    حضوراقدس پر کوڑا بھینکنے والی خاتون کا گھر مل گیا ،وادی طائف سے لائیو مناظر

    برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپئن شپ مہمان کھلاڑی حویلی ریسٹورنٹ پہنچ گئے

    کھیل سے امن کا پیغام دینے آئے ہیں.بھارتی ٹیم کے کپتان کی پریس کانفرنس

    وادی طائف کی مسجد جو حضور اقدس نے خود بنائی، مسجد کے ساتھ کن اصحاب کی قبریں ہیں ؟

    9 مئی کے بعد زمان پارک کی کیا حالت ہے؟؟

  • گندھارا تہذیب کے تحفظ کے حوالہ سے بل،کمیٹی میں بحث

    گندھارا تہذیب کے تحفظ کے حوالہ سے بل،کمیٹی میں بحث

    ایوان بالاء کی قائمہ کمیٹی برائے قومی ورثہ و ثقافت کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر افنان اللہ کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔

    قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں گندھارا تہذیب کے تحفظ اور پروموشن کے حوالے سے 7 اگست2023 کو منعقدہ سینیٹ اجلاس میں پیش کیے گئے گندھارا ثقافت کے فروغ اور تحفظ کے اتھارٹی بل 2023 جو سینیٹر رانا محمود الحسن، سرفراز احمد بگٹی اور محمد اکرم کی جانب سے پیش کیا گیا تھا کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔

    ڈاکٹر رمیش کمار نے کہا کہ گندھارا تہذیب پاکستان میں 70 فیصد اور باقی ممالک میں 30 فیصد پائی جاتی ہے جس کی تاریخ صدیوں پرانی ہے۔گندھارا تہذیب کی پروموشن اور تحفظ کے لئے بہت کام کیا ہے۔ گندھارا تہذیب کے فروغ اور تحفظ کے لئے صوبائی حکومتوں خیبرپختونخواہ اور سندھ نے اچھا کام کیا ہے۔ پنجاب میں وہ کام نہیں ہوا جو ہونا چاہیے تھا۔ یہ بل اس لئے متعارف کرایا گیا ہے دنیا بھر کے سیاحوں کو ایک ویب سائٹ کے ذریعے سہولت فراہم کی جا سکے۔ اس بل کا تعلق صرف وفاقی دار لحکومت تک ہوگا صوبوں کے ساتھ نہیں ہوگا تمام معلومات ویب سائٹ پر موجود ہوں گی۔گندھارا کے حوالے سے دنیا کی 2100 جامعات میں پڑھایا جارہا ہے اور لوگ اس پر تھیسس لکھ رہے ہیں۔سہولت سینٹر کھولیں گے ویزے اور اس سے متعلقہ امور کے حوالے سے سیاح مستفید ہونگے۔

    سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہا کہ قدیمی مذہبی مقامات پر متعلقہ مذہبی عبادت گاہیں بنائی جائیں۔انہوں نے کہا کہ اس بل میں اختیارات کے حوالے سے کلاز اے اور ڈی کے علاوہ باقیوں پر اتفاق کرتا ہوں۔سینیٹر روبینہ خالد نے کہا کہ 18 ویں ترمیم کے بعد سیاحت کا شعبہ صوبوں کو منتقل ہوگیا ہے اس اتھارٹی کے قیام سے یہ صوبائی خود مختاری کے خلاف ہوگا۔ اس بل میں دیئے جانے والے اختیارات سے کافی مسائل پیدا ہونگے۔ سینیٹر فوزیہ ارشد نے کہا کہ اس اتھارٹی کے قیام سے صوبوں کی صوبائی خود مختاری سلب ہو گی۔ سینیٹر فلک ناز نے اتھارٹی بل کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ صوبے کے ساتھ نا انصافی ہوگی۔ ہمارے صوبے کے 20 ہزار تاریخی مقامات ہم سے چھن جائیں گے۔

    ڈپٹی سیکرٹری قومی ورثہ ڈویژن نے کمیٹی کو بتایا کہ اس بل کو وزارت قانون سے رائے کے لئے بھیجا تو انہوں نے صوبوں کے ساتھ معاملہ اٹھانے کی بات کی کیونکہ یہ صوبائی معاملہ ہے۔ اس اتھارٹی بل کو کیبنٹ میں منظوری کے لئے سمری بھیجی اس کا بھی ابھی تک جواب نہیں آیا۔ جس پر چیئرمین کمیٹی سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ تمام صوبوں کی اس بل کے حوالے سے رائے نہیں آئی ان کو سننا ضروری ہے بہتر یہی ہے کہ اس بل کو آئندہ اجلاس تک موخر کیا جائے تب تک کیبنٹ کا فیصلہ بھی آ جائے اور بل کو بھی مزید بہتر بنایا جائے تاکہ اراکین کمیٹی کے تحفظات دور ہو سکیں۔ قائمہ کمیٹی نے بل کا جائزہ آئندہ اجلاس تک موخر کر دیا۔

    امریکا کا صحافی ارشد شریف کی موت پر اظہار افسوس،شفاف تحقیقات کا مطالبہ
    شادی سے انکار پر لڑکے نے 22 سالہ کزن کو زندہ جلا دیا،پسند کی شادی نہ ہونے پرلڑکے نے کزن کو قتل کر کے خودکشی کرلی
    اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ ہم کیا کہتے لیکن فٹ بال پر توجہ دینی چاہئے. زیدان
    پاکستانی ہائی کمشنر کی کینیڈین وزیر سے ملاقات؛ کثیر الجہتی باہمی شراکت داری کو مضبوط بنانے پر زور
    ایف بی آر نے چھوٹے تاجروں کیلیے سادہ انکم ٹیکس ریٹرن فارم متعارف کروا دیا
    ارشد شریف کا قتل دو الگ ممالک کا معاملہ ہے، ابھی جوڈیشل کمیشن کی تشکیل کی ضرورت نہیں،چیف جسٹس

  • پیمرا ترمیمی بل دوبارہ سینیٹ میں پیش

    پیمرا ترمیمی بل دوبارہ سینیٹ میں پیش

    وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے پیمرا ترمیمی بل دوبارہ سینیٹ میں پیش کر دیا،

    وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے سینیٹ کے اجلاس میں ایک بار پھر پیمرا ترمیمی بل جمع کرا دیا۔ وفاقی وزیر نے سینیٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ بل پرمختلف صحافتی تنظیموں سےمشاورت ہوئی، اس بل میں صحافیوں کیلئے کم سے کم تنخواہ کا بھی تعین کیا گیا ہے جو ادارہ 2 ماہ میں ادائیگیاں نہیں کرے گا حکومت اس کو اشتہار نہیں دے دی، بل پڑھے بغیر جان بوجھ کر متنازع بنایا گیا اگر کوئی ادارہ دوماہ میں ورکنگ جرنلسٹس کو واجبات کی ادائیگی نہیں کرتا تو حکومت اسکے اشتہارات روک دے گی اگر کوئی ادارہ اپنے ورکنگ جرنلسٹس کو کم از کم تنخواہ نہیں دے گا تو اس پر بھی حکومت اسکے اشتہارات روک دے گی ،بل پر تیاری اپریل 2022 سے شروع کی، بل کے لئے صحافی برادری اور میڈیا مالکان سے مشاورت کی گئی،یہ پرویز مشرف کا کالا قانون تھا بل میں مس انفارمیشن اور ڈس انفارمیشن کی تشریح کی گئی بل میں صحافیوں کو کونسل آف کیمپلینٹ کا حق دیا گیا ہے بل میں صحافیوں کو ان کا حق دینے کی کوشش کی گئی ،بل میں صحافیوں کی بروقت تنخواہوں کی ادائیگی کو یقینی بنایا گیا ،یہ بل قومی اسمبلی سے منظور ہوچکا ہے ،یہ بل سینیٹ میں آیا اور پھر یہ قائمہ کمیٹی میں گیا ،کمیٹی اجلاس میں رائے آئی کہ چیرمین پیمرا کی تعیناتی پارلیمنٹ کرے ،میں نے کمیٹی اجلاس میں کہا اگر کوئی ترمیم ہے تو ہمیں دی جائے .مس انفارمیشن اور ڈس انفارمیشن کی تشریح کے لئے مختلف بارہ ممالک سے مدد لی گئی ،کمیٹی اجلاس میں ترامیم تو نہ آئیں لیکن سوشل میڈیا پر میری ذات پر تنقید کی گئی ،یہ بل حکومت نے ضرور موو کیا لیکن یہ بل میڈیا انڈسٹری کا ہے

    سینیٹ اجلاس: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات ونشریات کی جانب سے پیمرا ترمیمی بل 2023 کی رپورٹ ایوان میں پیش کر دی گئی،فوزیہ ارشد نے کہا کہ حکومت نے کمیٹی کے دوسرے اجلاس میں بل واپس لیا تھا، بل میں کچھ پوائنٹس پر اتفاق نہ ہوسکا تھا،ڈس انفارمیشن اور مس انفارمیشن کی تشریح میں اتفاق نہ ہوسکا تھا،

    اجلاس سے قبل مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ پیمرا ترمیمی بل 2023 پر 12 ماہ کام کیا گیا، پیمرا ترمیمی بل 2023 میں چیئرمین پیمرا کے اختیار کو کم کیا تھا، پیمرا بل میں تاریخی ترمیم کی گئیں،ورکنگ جرنلسٹ کیلئے ایک بہترین بل لائے تھے، کہا گیا کہ کالا قانون لایا جارہا ہے، پہلے چیئرمین پیمرا کوئی بھی چلتا پروگرام بند کردیتا تھا، صحافیوں کیساتھ شانہ بشانہ ہر جگہ کھڑی رہی کیا میں کالا قانون لاؤں گی؟ وزیراعظم نے صحافیوں کے لیے ہیلتھ انشورنس کارڈ کا اجراء کیا جس کی باضابطہ شروعات کل ہوچکی ہیں۔جو صحافی اپنے فرائض کی ادائیگی کے دوران اپنی جان گنوا بیٹھتا ہے انکے لواحقین کیلیے وزیراعظم نے 40,40 لاکھ فنڈ کا اعلان کیا

    وفاقی حکومت نے پیمرا ترمیمی بل واپس پارلیمنٹ لانے اور منظور کروانے کا فیصلہ کیا،ورکنگ جرنلسٹس کی جانب سے حکومتی فیصلے پر اظہار تشکر کیا گیا،ورکنگ جرنلسٹس کی جانب سے آج احتجاج کی کال واپس لینے کا اعلان کر دیا گیا اور کہا گیا کہ حکومت کی جانب سے بل کی کی منظوری دلوانے کا اعلان خوش آئند ہے،وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب کا شکر گزار ہیں جنہوں نے ورکنگ جرنلسٹس کیلئے کام کیا ورکنگ جرنسلٹس نے گزشتہ دو روز قومی اسمبلی اجلاس سے واک آؤٹ اور احتجاج کیا تھا ،آج بھی جرنسلٹس کی جانب سے قومی اسمبلی اور مشترکہ اجلاس میں احتجاج کا فیصلہ کیا گیا تھا ،حکومت کے بل واپسی اور منظوری کے اعلان پر احتجاج کی کال واپس لے لی گئی

    اسلام آبادم پنڈی، کراچی، صادق آباد و دیگر شہروں میں مقدمے درج 

    عدالت نے کہا کہ میں کیوں ایسا حکم جاری کروں جو سسٹم ہے اسی کے مطابق کیس فکس ہوگا،

    عمران خان نے باربار قانون کی خلاف ورزی کی جس پر انہیں جواب دینا ہوگا

    چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ آپ کا اپنا کیا دھرا ہے 

     پیمرا نے عمران خان کی کوریج پر پابندی لگا دی 

  • این ٹی ڈی سی کے بورڈ آف ڈائریکٹر کیخلاف سخت کاروائی کی سفارش

    این ٹی ڈی سی کے بورڈ آف ڈائریکٹر کیخلاف سخت کاروائی کی سفارش

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پاور کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر سیف اللہ ابڑو کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں 765kv ڈبل سرکٹ ٹرانسمشن لائن داسو ہائیڈرو پاور سٹیشن سے اسلام آبادگرڈ اسٹیشن تک کی تعمیر، اس کے ٹینڈرنگ کے طریقہ کار، اب تک ہونے والے کام کی موجودہ صورتحال،و رک آرڈر، مکمل ہونے کا سرٹیفکیٹ ، کام کرنے والی کمپنیوں کے تجربہ، بڈنگ کے عمل میں حصہ لینے والی کمپنیوں کی تعداد وغیر کے معاملات کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔

    چیئرمین کمیٹی نے کہ ان امور کے حوالے سے کمیٹی 6 ماہ سے معاملات کا جائزہ لے رہی ہے۔ گزشتہ روز منعقد ہونے والے کمیٹی کے اجلاس میں معاملات کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا تھا اور متعلقہ اداروں سے کچھ ضروری دستاویزات طلب کیے تھے۔ قائمہ کمیٹی کو آگاہ کیا گیا کہ جو دستاویزات طلب کیے گئے تھے وہ فراہم کر دیئے گئے ہیں۔ مانسہرہ اور اسلام آباد کے حوالے سے دستاویزات جلد کمیٹی کو فراہم کر دیئے جائیں گے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ منصوبے پر ولڈ بینک کی گائیڈ لائن کے مطابق عمل کیا گیا ہے۔ اس حوالے سے ورلڈ بینک کی دستاویزات اور ایویلیشن رپورٹ بھی فراہم کر دی گئی ہے۔ چیف انجینئر نے کمیٹی کو منصوبے کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ منصوبے کا معاہدہ 16 اگست2013 کو ہوا۔کمیٹی کو بتایا گیا کہ منصوبے پر سائینو ہائیڈرو اور گوپا کمپنیوں نے کام کیا۔ دونوں کمپنیوں کی استعداد اتنی نہیں تھی کہ وہ اس منصوبے پر کام کر سکے۔ جس پر چیئرمین و اراکین کمیٹی نے کہا کہ جب ادارے کو معلوم ہوگیا تھا کہ متعلقہ کمپنیاں اس کا م کی اہلیت نہیں رکھتی تو شروع میں ہی ایکشن لیا جاتا۔ بدقسمتی کی بات ہے انتہائی اہمیت کے حامل منصوبے ہیں۔ این ٹی ڈی سی کے بورڈ آف ڈائریکٹر نے بھی آنکھیں بند کر لیں اور وزارت کے لوگ بھی اس کرپشن میں شامل رہے جو بورڈ کا کام تھا اسے وقت پر احسن طریقے سے کرنا چاہیے تھا۔ بورڈ کو ایشوز کا علم ہی نہیں اعتراضات کو دور کرنا چاہیے تھا اسی وقت فیصلہ کرتا مگر ملک کے ساتھ ذیادتی کی گئی ہے۔

    اراکین کمیٹی نے کہا کہ ان امور پر کافی بحث ہو چکی ہے۔ چیئرمین کمیٹی متعلقہ اداروں کو معاملات کے حوالے سے ہدایات دیں۔ جس پر چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ اس منصوبے پر گو پا کے کام کرنے کی استعداد نہیں تھی نہ ہی اس کام کے لئے ان کا متعلقہ تجربہ پورا تھا۔ فراہم کردہ دستاویزات کے مطابق کمپنی ان کاموں کی اہل ہی نہیں اور قانون کے مطابق منصوبے کی ہر لاٹ کے لئے علیحدہ علیحدہ دستاویزات ہوتے ہیں۔ کمیٹی کسی بھی قسم کی کرپشن کو بالکل بھی سپورٹ نہیں کر ے گی۔ ادارہ ورلڈ بینک کو لکھے کہ سائینو ہائیڈرو اور گوپا کو بلیک لسٹ کیا جائے اور این ٹی ڈی سی کے بورڈ آف ڈائریکٹر کے خلاف سخت ایکشن لے اور وزارت کے دیگر لوگ جو بھی اس کرپشن میں شامل ہیں ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائیں۔ ورلڈ بینک ان کمپنیوں کی جگہ کسی اور کو ری ٹینڈرنگ کریں۔ ادارے کے پاس تمام کمپنیوں کی کوالیفیکیشن موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ لاٹ ٹو میں بھی چیزیں واضح ہیں کہ وہ کمپنیاں کوالیفائی نہیں کرتیں۔آئندہ اجلاسوں میں بھی باقی لاٹوں کا بھی تفصیل سے جائزہ لیا جائے گا۔

    چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ قائمہ کمیٹی نے کل بھی معاملات کا جائزہ لیتے ہوئے جو ہدایات دی تھیں ان بھی عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔ قائمہ کمیٹی کے کل کے ہونے والے اجلاس میں طے ہوا تھا کہ بے ضابطگیوں کے کافی ثبوت موجود ہیں جو سابقہ BoD، NTDC اور M/s GOPA Intec بطور کنسلٹنٹ کر رہے ہیں۔ اس لیے کمیٹی نے پاور ڈویژن کو مبینہ اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی کرنے کی ہدایت کی اور کیس کو ایف آئی اے یا نیب کو بھیج کر ایک ہفتے میں رپورٹ پیش کرنے کی سفارش کی۔ مزید برآں، قائمہ کمیٹی نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا تھا اور پاور ڈویژن کو ہدایت کی تھی کہ وہ کنٹریکٹ دینے میں ہونے والی بے ضابطگیوں سے آگاہ کرنے کے لیے ورلڈ بینک کو خط لکھے۔

    ہوشیار۔! آدھی رات 3 بڑی خبریں آگئی

    زمان پارک کی جادوگرنی، عمران پر دس سال کی پابندی حسان نیازی کہاں؟ پتہ چل گیا

    لوٹوں کے سبب مجھے "استحکام پاکستان پارٹی” سے کوئی اُمید نہیں. مبشر لقمان

    لوگ لندن اورامریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

    الیکشن کیلیے تیار،تحریک انصاف کا مستقبل تاریک،حافظ سعد رضوی کا مبشر لقمان کوتہلکہ خیز انٹرویو

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    اینکر پرسن مبشر لقمان اوورسیز پاکستانیوں کی آواز بننے کے لئے میدان میں آ گئے

     شہبا ز شریف نے جب تک حکومت چلانی اب مولانا نے نخرے ہی دکھانے ہیں

    بشریٰ بی بی پھنس گئی،بلاوا آ گیا، معافی مشکل

  • ہم نے ڈبہ، بالٹی اور کنستر ڈال کر اظہار رائے کا مقابلہ نہیں کیا،مریم اورنگزیب

    ہم نے ڈبہ، بالٹی اور کنستر ڈال کر اظہار رائے کا مقابلہ نہیں کیا،مریم اورنگزیب

    وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے پارلیمنٹ ہاﺅس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پیمرا ترمیمی بل سینیٹ میں پیش کر دیا ہے بل کی تیاری میں تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کی گئی،

    مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ پچھلے چار سال ملک پر سینسر شپ عائد رہی، مس انفارمیشن اور ڈس انفارمیشن کی تعریف میں غلطی کی گنجائش رکھی ہے،پی آر اے، تمام میڈیا تنظیموں، پارلیمنٹ، قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی نے اتفاق رائے سے اسے منظور کیا ہے،میری خواہش ہے کہ سینیٹرز کی بھی اس میں رائے، اس بل کو متنازعہ نہیں بنانا چاہتی،میں نے چیئرمین سینیٹ سے درخواست کی کہ اس بل پر سینیٹرز کی رائے لی جائے، چیئرمین سینیٹ نے میری درخواست منظور کرتے ہوئے اس بل کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی میں بھیج دیا ہے،موجودہ دور وہ دور نہیں جب چلتے پروگرام بند ہوں، جب ملک کے وزیراعظم کو پریڈیٹر کہا جائے،بل کے پراسیس کو مزید تقویت دینے کے لئے بل کو اسٹینڈنگ کمیٹی میں بھیجا ہے،

    مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ پچھلے چار سال ہم نے ڈبہ، بالٹی اور کنستر ڈال کر اظہار رائے کا مقابلہ نہیں کیا بلکہ سر اٹھا کر بہادری سے مقابلہ کیا،اس بل پر رائے آنی چاہیئے لیکن یہ رائے تعمیری ہونی چاہیئے،اس بل کی تیاری میں پوری دنیا سے بہترین طریقوں کو شامل کیا گیا ہے، قانون سازی ایک سنجیدہ عمل ہے

    اینکر حامد میر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کی اور کہا کہ سینیٹر طاہر بزنجو اور سینیٹر مشتاق احمد خان کا شکریہ کہ انہوں پیمرا ترمیمی بل کی مخالفت کی سینیٹر فیصل سلیم بھی مخالفت کر رہے تھے لیکن انہیں تقریر کی اجازت نہیں ملی ارکان سینیٹ کی اکثریت اس بل کی مخالف ہےاعظم نذیر تارڑ اور یوسف رضا گیلانی کے مشورے پر وزیر اطلاعات نے بل کمیٹی کو بھجوا دیا اب کمیٹی کے چئیرمین فیصل جاوید آئیں گے تو فیصلہ ہو گا

    اس ٹویٹ کے جواب میں وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ حامد بھائی!ارکان کا یہ کہنا تھا کہ وہ اس بل کو پڑھنا چاہتے ہیں۔ میڈیا کے تمام فریقین سمیت سب کی مشاورت سے ہونے والی قانون سازی کو متنازعہ نہیں بنانا چاہتی تھی جسے قومی اسمبلی سمیت ہر فورم نے متفقہ طورپر منظور کیا ۔ میں چاہتی ہوں کہ سینٹ سے بھی یہ متفقہ طورپر منظور ہو۔ اس لئے میں نے خود چئیرمین سینٹ سے درخواست کر کے یہ بل قائمہ کمیٹی کو بھجوایا ہے تاکہ سب اسے پڑھ کر اپنی رائے بنائیں۔ میڈیا کو آزادیاں ہم نے دی ہیں، سابق سیاہ دور کی فسطائیت کی زنجیریں توڑی ہیں، خود جس سیاہ دور کو بھگتا ہے، اس کی سیاہی کسی صورت قانون نہیں بننے دیں گے۔ آپ کا بھی شکریہ آپ نے مجھے اپنے پروگرام میں اس قانون سازی کی تفصیل بتانے کا موقع دیا

    شہباز شریف نے الیکشن نئی مردم شماری کے بعد کرانے کا اعلان کر دیا

    الیکشن مہم میں سرکاری مشینری کا بے دریغ استعمال کیا گیا،علی زیدی

    سپریم کورٹ نے ایم کیو ایم کی سندھ میں بلدیاتی انتخابات روکنے کی استدعا مسترد کردی

    ہ سازش کے تحت بلدیاتی انتخابات میں تاخیرکی جارہی ہے،

    ونین کونسلز کی تعداد کا تعین صوبائی حکومت کا اختیار ہے

     بل کی ترمیم میں معاونت کرنے والے میڈیا کے تمام لوگوں کا شکریہ ادا کرتی ہوں۔

  • پرتشدد انتہا پسندی کی روک تھام کا بل ارکان کی مخالفت کے بعد ڈراپ

    پرتشدد انتہا پسندی کی روک تھام کا بل ارکان کی مخالفت کے بعد ڈراپ

    اسلام آباد: چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے پرتشدد انتہا پسندی کی روک تھام کا بل ارکان کی مخالفت کے بعد ڈراپ کر دیا۔

    باغی ٹی وی : وزیر مملکت برائے قانون شہادت اعوان نے پرتشدد انتہاپسندی کی روک تھام کا بل 2023 سینیٹ میں پیش کیا۔ بل پیش ہوتے ہی اپوزیشن ارکان اپنی نشستوں پر کھڑے ہوگئےپی ٹی آئی سینیٹر ہمایوں مہمند نے کہا کہ لگتا ہے یہ بل تحریک انصاف کو الیکشن سے روکنے کا بل ہے اس بل کی تمام شقوں سے تحریک انصاف کے خلاف بو آ رہی ہے حکومتی اتحادی جماعتوں جے یو آئی ف اور نیشنل پارٹی نے بھی بل کی مخالفت کر دی-

    مسلم لیگ ن کے سینیٹرعرفان صدیقی نے کہا کہ پرتشدد انتہاپسندی کی روک تھام بل 2023 اہمیت کا حامل ہے، اس بل کو پاس کرنے سے پہلے کمیٹی میں پیش کرنا چاہیے تھا،کل کو کوئی بھی اس بل کا شکار ہوسکتا ہے،ابھی جلد بازی میں بل پاس ہورہا ہے،کل کہا جائے گا بل پاس ہورہا تھا تو آپ کہاں تھے،سینیٹر عرفان صدیقی نے بھی بل کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ یہ بل کل ہمارے گلے پڑے گا-

    زمین کا وہ مقام جہاں نظام شمسی کے گرم ترین سیارے جتنی سورج کی روشنی …

    سینیٹرکامران مرتضیٰ نے کہا کہ یہ بل کل ہم سب کیلئے مصیبت بنے گا، اعتماد میں لیے بنا قانون سازی نہیں کرنی چاہیے جے یو آئی ف کے مولانا عبدالغفورحیدری نے بھی بل کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ کسی کیخلاف نعرہ بھی لگایا گیا تو کہا جائے گا عوام کو اکسایا گیا ہے،سینیٹر مشتاق احمد نے کہا کہ یہ بل پی ٹی آئی نہیں تمام سیاسی جماعتوں کے خلاف ہے، یہ بل جمہوریت کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوگا،اس بل کی مخالفت کرتا ہوں۔

    سینیٹر طاہر بزنجو نے کہا کہ یہ بل جمہوریت کیخلاف ہے، یہ بل کل تمام جماعتوں کے گلے کا پھندہ بن جائے گا،یہ بل جمہوریت پر کھلا حملہ ہے، ہم اس بل کی سختی سے مخالفت کرتے ہیں، اگر بل منظور کیا گیا تو ایوان سے ٹوکن واک آؤٹ کروں گا، پیپلزپارٹی پی ڈی ایم کا حصہ نہیں، ن لیگ سے سخت گلہ ہے، کسی جماعت کو بھی اعتماد میں نہیں لیا گیا،وفاقی وزیرشیری رحمان نے کہا کہ بل عجلت میں پاس کرنے میں کوئی ممانعت نہیں، ہم اس بل میں اپنی ترامیم لائیں گے۔

    گلوکارہ ٹیلر سوئفٹ کے کانسرٹ کی وجہ سے2.3 شدت کا زلزلہ

    چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی نے کہا کہ یہ بل منظور کرنے کے لیے اجلاس نہیں بلایا ، حکومت کرے یا نہ کرے ، میں اس بل کو ڈراپ کررہا ہوں-

  • پرتشدد انتہاپسندی کی روک تھام کا بل آج سینیٹ میں پیش کیا جائے گا

    پرتشدد انتہاپسندی کی روک تھام کا بل آج سینیٹ میں پیش کیا جائے گا

    سینیٹ میں پرتشدد انتہاپسندی کی روک تھام کا بل آج پیش کیا جائے گا-

    باغی ٹی وی: بل کے متن کے مطابق پرتشدد انتہا پسندی سے مراد نظریاتی عقائد،مذہبی و سیاسی معاملات میں طاقت کا استعمال اور تشدد ہے، اس کے علاوہ اس میں فرقہ واریت کی خاطر دھمکانا یا اکسانا، فرقہ واریت کی ایسی حمایت کرنا جس کی قانون میں ممانعت ہو، پرتشدد انتہا پسندی میں شامل کسی فرد یا تنظیم کی مالی معاونت کرنا یا تشدد اور دشمنی کے لیے اکسانا بھی شامل ہے۔

    پرتشدد انتہا پسندی میں ملوث شخص کو لسٹ ون اور ٹو میں شامل کیا جا سکتا ہے، لسٹ ون میں وہ تنظیم ہو گی جو پرتشدد انتہا پسندی میں ملوث ہے، وہ تنظیم بھی ہوگی جس کا سربراہ خود پرتشدد ہولسٹ ٹو میں ایسا شخص شامل ہے جو پرتشدد انتہا پسندی میں ملوث ہو، اس لسٹ میں ایسا شخص ہوگا جو پرتشدد ادارے کی مالی معاونت کرتا ہوحکومت لسٹ میں شامل شخص کو گرفتار کرکے 90 روز تک حراست میں رکھ سکتی ہے۔ 90 روز کی مدت میں 12 ماہ تک توسیع ہو سکتی ہے۔

    کینیڈا میں چھوٹا طیارہ گرکر تباہ ،6 افراد ہلاک

    سینیٹر مشتاق غنی کا کہنا ہے کہ حکومت کے تیور بتا رہے ہیں کہ بل پر بحث کرنے کی اجازت نہیں دیں گے اور بل کو فوی پاس کر لیں گےانھوں نے بل کو خوفناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ بل کے سیکشن 5 اور سیکشن 6 ڈریکونین ہیں، یہ پاکستان تحریک انصاف پر پابندی کا بل ہے کسی سیاسی لیڈر یا جماعت کو مائنس کرنے کی کوشش غلط ہےحکومت اس بل کو ہر صورت میں کمیٹی میں بھیجے، حکومت قواعد و ضوابط کو پامال نہ کرے، پارلیمنٹ کو ربڑ اسٹمپ، انگوٹھا چھاپ نہ بنائیں-

    دوسری جانب پرتشدد اتنہا پسندی کی روک تھام کا بل سینیٹ میں پیش کرنے سے قبل ہی پاکستان تحریک انصاف نے بل پر تحفظات کا اظہار کردیا ہے-

    دوران ڈرائیونگ ڈرائیور کی آنکھ لگنےسے تیز رفتار مسافر بس الٹ گئی،5 افراد جاں بحق …

  • فوج کو بدنام کرنے یا اس کیخلاف نفرت انگیزی پھیلا نے پر 2 سال قید ،ترمیمی بل منظور

    فوج کو بدنام کرنے یا اس کیخلاف نفرت انگیزی پھیلا نے پر 2 سال قید ،ترمیمی بل منظور

    چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی زیر صدارت سینیٹ اجلاس ہوا

    وزیر دفاع خواجہ آصف نے آرمی ایکٹ ترمیمی بل منظوری کے لیے پیش کیا جسے ایوان نے منظور کرلیا گیا،بل کے متن کے مطابق سرکاری حیثیت میں پاکستان کی سلامتی اورمفاد میں حاصل معلومات کا غیر مجاز انکشاف لرنے والے شخص کو 5 سال تک سخت قید کی سزا دی جائے گی،آرمی چیف یا بااختیار افسر کی اجازت سے انکشاف کرنے والے کو سزا نہیں ہو گی، پاکستان اور افواج پاکستان کے مفاد کے خلاف انکشاف کرنے والے سے آفیشل سیکرٹ ایکٹ اور آرمی ایکٹ کے تحت نمٹا جائے گا  قانون کے ماتحت شخص سیاسی سرگرمی میں حصہ نہیں لے گا،متعلقہ شخص ریٹائرمنٹ، استعفی ، برطرفی کے 2 سال بعد تک سیاسی سرگرمی میں حصہ نہیں لے گا،حساس ڈیوٹی پر تعینات شخص 5 سال تک سیاسی سرگرمی میں حصہ نہیں لے گا،سیاسی سرگرمی میں حصہ لینے پر پابندی کی خلاف ورزی کرنے والے کو 2 سال تک سخت سزا ہو گی، آرمی ایکٹ کے ماتحت شخص اگر الیکڑنک کرائم میں ملوث ہو جس کا مقصد پاک فوج کو بدنام کرنا ہو تو اس کے خلاف الیکٹرانک کرائم کے تحت کاروائی کی جائے گی ،آرمی ایکٹ کے تحت شخص اگر فوج کو بدنام کرے یا اس کے خلاف نفرت انگیزی پھیلائے اسے 2سال تک قید اور جرمانہ ہو گا

    وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ ماضی میں ایک دو منٹ کے اندر 54 بل پاس کیے گئے، جنہوں نے چند منٹ میں اتنے بل پاس کیے وہ ہمیں درس نہ دیں، سینیٹ سے آرمی ایکٹ ترمیمی بل منظور ،رضا ربانی اور طاہر بزنجو نے واک آؤٹ کیا،رضا ربانی نے کہا کہ کچھ بلز ہمیں آج صبح ملے ہیں، ان بلز کا تعلق آرمی ایکٹ، کنٹونمنٹس، ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی ایکٹ سے ہے ،بل کو متعلقہ قائمہ کمیٹی میں بھیجا جائے، سینیٹر مشتاق احمد نے کہا کہ ہم سب کو آرمی سے محبت ہے لیکن ایوان کے تقدس کا خیال رکھا جائے، بل کو کمیٹی میں بھیجا جائے،

    چیئرمین پی ٹی آئی نے مریم نواز سے متعلق کیا کچھ کہا،وہ مریم سے معافی مانگیں،خواجہ آصف
    سینیٹ اجلاس: وزیر دفاع خواجہ آصف کے پی ٹی آئی خواتین سینیٹرز بارے ریمارکس کا معاملہ سینیٹ پہنچ گیا،سینیٹر کامران مرتضی نے کہا کہ خواجہ آصف کے ریمارکس پر میں اپنی بہنوں سے معذرت کرتا ہوں،خواجہ آصف نے پی ٹی آئی خواتین بارے ریمارکس پر معانی مانگنے سے انکار کردیا اور کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی نے مریم نواز سے متعلق کیا کچھ کہا،یہ پہلے مریم نواز سے معافی مانگیں،میں نے خواتین بارے کوئی ریمارکس نہیں دئیے،میرے ریمارکس مخصوص جنس کے لئے نہیں تھے،وزیر دفاع خواجہ آصف نے ایک بار پھر معذرت کرنے سے انکار کردیا ،تحریک انصاف کے سینیٹرز خواجہ آصف کے معافی نہ مانگنے پر ایوان سے آؤٹ کرگئے۔ آرمی ایکٹ میں ترامیم شامل نہ کرنے پر رضاربانی اور طاہر بزنجو واک آؤٹ کرگئے

    وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ میں نے خواتین کے حوالےسے کوئی تضحیک کی کوئی بات نہیں کی،اگر کوئی میرے بیان کو اپنی طرف سمجھتا ہے تو سمجھتے رہیں،پی ٹی آئی کی قیادت نے مریم نواز شریف کے حوالے سے بات کی اس پر معافی مانگیں میں بھی معافی مانگ لوں گا ،سینیٹ میں خواجہ آصف کی وضاحت پر شور شرابہ ہوا

    بورڈ آف انوسمنٹ ترمیمی بل 2023ء کثرت رائے سے منظورکرلیا گیا،بورڈ آف انوسمنٹ ترمیمی بل وفاقی قانون اعظم نذیر تارڑ نے پیش کیا تھا

    پاکستان دونوں سالوں میں صرف سود کی ادائیگی کرے گا، اسحاق ڈار
    سینیٹ اجلاس میں وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ چینی ایگزم بینک نے پاکستان کا 2.4 بلین ڈالر قرض رول اوور کر دیا،پاکستان کو اگلے 2 سال میں2.4 بلین امریکی ڈالر قرض ادا کرنا تھا، مالی سال 2023-24 اور 2024-25 میں 1.2 بلین ڈالر کی ادائیگی کرنا تھی، پاکستان دونوں سالوں میں صرف سود کی ادائیگی کرے گا،

    ثبوت کی کمی کے باعث 1 ہزار 606 نیب کیسز کو بند کیا گیا
    وزارت قانون و انصاف کی جانب سے سینیٹ میں تحریری جواب جمع کروایا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ نیب میں 2013 سے 4 ہزار 142 کیسز اور انکوائری کا آغاز کیا گیا،ثبوت کی کمی کے باعث 1 ہزار 606 نیب کیسز کو بند کیا گیا ،نیب راولپنڈی میں 261 انکوئری کا آغاز کیا گیا ،175 کیسز بند ہوئے،نیب لاہور میں 304انکوئری کا آغاز کیا گیا ، 124 کیسز بند ہوئے، نیب ملتان میں 445 انکوئری کا آغاز کیا گیا ، 114 کیسز بند ہوئے،نیب کے پی میں 1178 انکوئری کا آغاز کیا گیا،565 کیسز بند ہوئے،نیب کراچی میں 820 انکوئری کا آغاز کیا گیا182 کیسز بند ہوئے،نیب سکھر میں 608 انکوئری کا آغاز کیا گیا114 کیسز بند ہوئے،نیب بلوچستان میں 526 انکوئری کا آغاز کیا گیا ، 332 کیسز بند ہوئے،

     کسی سویلین کا ٹرائل ملٹری کورٹ میں نہیں ہونا چاہیے

    کرپشن کا ماسٹر مائنڈ ہی فیض حمید ہے

    برج کھیل کب ایجاد ہوا، برج کھیلتے کیسے ہیں

    عمران خان سے اختلاف رکھنے والوں کی موت؟

    حضوراقدس پر کوڑا بھینکنے والی خاتون کا گھر مل گیا ،وادی طائف سے لائیو مناظر

    برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپئن شپ مہمان کھلاڑی حویلی ریسٹورنٹ پہنچ گئے

    کھیل سے امن کا پیغام دینے آئے ہیں.بھارتی ٹیم کے کپتان کی پریس کانفرنس

    وادی طائف کی مسجد جو حضور اقدس نے خود بنائی، مسجد کے ساتھ کن اصحاب کی قبریں ہیں ؟

    9 مئی کے بعد زمان پارک کی کیا حالت ہے؟؟

  • قائمہ کمیٹی ہاوسنگ اینڈ ورکس،بارہ ارب کا پروجیکٹ،غیر تسلی بخش جواب

    قائمہ کمیٹی ہاوسنگ اینڈ ورکس،بارہ ارب کا پروجیکٹ،غیر تسلی بخش جواب

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی براے ہاوسنگ اینڈ ورکس کا اجلاس پارلیمنٹ ہاوس میں کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر حاجی ہدایت اللہ کی زیر صدارت ہوا

    اجلاس میں فیڈرل ہاوسنگ اینڈ ورکس کے حکام کو سیکٹر جی تیرہ اسلام آباد میں بارہ ارب کے پروجیکٹ کے حوالے سے غیر تسلی بخش جواب دینے پرسبکی کا سامنا کرنا پڑا۔ کمیٹی رکن سینیٹر سیف اللہ ابرو نے کہا کہ پروجیکٹ چکلالہ ہائیٹس پرکام کیوں بند کیا گیا ہے؟ کیوں متعلقہ ٹھیکیدارسے ٹھیکہ لیکر اس کوکام سے روکا گیا؟ سینیٹر فدا محمد نے کہا کہ جس کمپنی کی مشینری ہے اسے کام کرنے دیا جائے اور قوم کا وقت اورپیسہ ضائع نہ کریں۔

    فیڈرل ہاوسنگ اینڈ ورکس کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ جی تیرہ کشمیر ہائی وے اسلام آباد پرچارپروجیکٹس ہیں جنکی مالیت بارہ ارب روپے بنتی ہیں۔ کشمیر ایونیو اپارٹمنٹس پر چالیس فیصد کام ہوچکا ہے اور چکلالہ ہائٹس اپارٹمنٹس پر 1.36 فیصد کام ہی ہوا ہے۔ سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے کہا اس کمپنی کو بلیک لسٹ کرنا چاہیے اور جس کمپنی کو ایک پروحیکٹ ملا ہواوروہ دوسراپروجیکٹ لینا چاہے تو پہلا پروجیکٹ اس سے واپس لیا جائے اور جس کمپنی نے تین سال ضائع کیے اسے دوسرا پروجیکٹ کیوں دیا گیا۔ بورڈ کو بھی سوچنا چاہیے اور پروجیکٹ دینے سے پہلے کمپنی کی کارکردگی دیکھنی چاہیے۔

    حکام نے بتایا کہ سکائی لائن اپارٹمنٹس پروجیکٹ وزارت نے آریان کمپنی کے ساتھ جی وی کیا ہے اور یہ پروجیکٹ 2020 میں شروع ہوا تھا اور اسے 2023 میں مکمل ہونا تھا۔حکام نے مزید بتایا کہ اس پر26 فیصد کام ہوچک اہے اور کمپنی کے ساتھ معاملات پربات چیت جاری ہے۔ اس کے علاوہ لائف سٹائل ریزیڈینشیا پروجیکٹ بھی وزارت نے جی وی کیا ہے۔اور اس پروجیکٹ پر 9.9فیصد کام ہوچکاہے۔

    میں کمیٹی کا چیئرمین ہوتا میں وزیراعظم کو پچیس سکیموں میں کرپشن کا بتاتا،سیف اللہ ابڑو
    اجلاس میں سندھ میں پروجیکٹس کے حوالے سے حکام نے بتایا کہ ایک ماہ میں 123ملین روپے ان پروجیکٹس کیلئے جاری کیے جن پر 92 فیصد کام ہوچکا ہے۔سینیٹر سیف اللہ ابرو نے کہا کہ بتایاجائے محکمے نے لاڑکانہ،نواب شاہ اوراندرون سندھ میں کس کس سکیم کا دورہ کیا اور چھوٹی سکیموں کیلئے تین ماہ میں ٹینڈر نہیں دیئے لیکن پھراچانک ایک ماہ میں سکیم پر 90 فیصد مکمل کرلیا گیا؟۔اُن کا کہنا تھا کہ سندھ میں ممبران قومی اسمبلی کے ترقیاتی کاموں کے حوالے سے تفصیلات منگوائی جائے۔ اس کے علاوہ ان تمام پروجیکٹس کادورہ بھی کریں کہ یہ پروجیکٹس دراصل زمین پرموجود ہیں بھی کہ یہ محض کاغذوں میں کام ہوا ہے۔ سیف اللہ ابڑو نے کہا کہ جومعلومات ہمیں دی گئی اسکے مطابق جون کے ایک ماہ میں یہ پروجیکٹس مکمل کیے گئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعظم نے کہا کہ پندرہ ماہ میں ہم پرکرپشن کاالزام ہے توبتائیں،اگر میں کمیٹی کا چیئرمین ہوتا میں وزیراعظم کو پچیس سکیموں میں کرپشن کا بتاتا۔

    کرائم ونگ کی ٹیم نے اسلام آباد میں بھروسہ ایپ کے دفتر پر چھاپہ مارا 

    بلیک میلنگ میں ملوث آن لائن لون ایپس کے 9 ملزمان کو گرفتار کر لیا

    26 سال کے بعد بھی شاہ رخ خان کا کرشمہ قائم ہے شامک داور
    کرشنا ابھیشیک نے اپنے ماموں گووندا اور ممانی کے ساتھ جھگڑے کی خبروں پر رد عمل دیدیا
    سورو گنگولی نغمہ کے ساتھ اپنی دوستی چھپا کر رکھنا چاہتے تھے لیکن کیا ہوا؟‌
    سعودی عرب: حسن قرات کا دنیا کا سب سے بڑا مقابلہ ایرانی قاری نے جیت لیا
    کچے کے علاقے میں ڈاکوؤں کے خلاف آپریشن ،آئی جی پنجاب اور ڈی پی او پر فائرنگ