Baaghi TV

Tag: سینیٹ

  • سپریم کورٹ کا پی آئی اے کے انتظامی امور سے کوئی تعلق نہیں، قائمہ کمیٹی برائے ہوا بازی

    سپریم کورٹ کا پی آئی اے کے انتظامی امور سے کوئی تعلق نہیں، قائمہ کمیٹی برائے ہوا بازی

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے ہوا بازی کا اجلاس جمعرات کو چیئرمین کمیٹی سینیٹر ہدایت اللہ کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں سینیٹر سلیم مانڈوی والا، سینیٹر عمر فاروق، سینیٹر ڈاکٹر افنان اللہ خان اور وزارت ہوا بازی، پی آئی اے اور ایف آئی اے کے سینئر افسران نے بھی شرکت کی۔

    قائمہ کمیٹی نے پائلٹ لائسنس کے مسائل کے حل کے لیے تشکیل دی گئی ذیلی کمیٹی کی رپورٹ منظور کرلی۔ سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے سابق وزیر ہوابازی کی جانب سے ’جعلی پائلٹس‘ کے دعوے کو غلط قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے پی آئی اے اور ملک کو عالمی سطح پر بڑا دھچکا لگا ہے۔ انہوں نے تجویز دی کہ سول ایوی ایشن اتھارٹی ایف آئی اے اور عدالت کی مداخلت کے بغیر اس معاملے کو اپنے قواعد کے دائرہ کار میں حل کرے۔

    پی آئی اے کو بلوچستان کے لیے قابل عمل فلائٹ پلان تیار کرنے کی سفارش
    قائمہ کمیٹی کو گزشتہ دو ماہ میں بلوچستان کے تمام ایئرپورٹس سے منسوخ ہونے والی پروازوں کی تفصیلات سے آگاہ کیا گیا۔ پی آئی اے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں 49 پروازیں تاخیر کا شکار ہوئیں جبکہ جون میں 9 پروازیں تاخیر کا شکار ہوئیں۔ تاہم حکام نے یقین دلایا تاخیر مالی اور عملے کی مجبوریوں کی وجہ سے ہوئی اور حج آپریشن کی تکمیل کے بعد پروازوں کو معمول پر لایا جائے گا۔ سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے تجویز دی کہ پی آئی اے پرائیویٹ ایئر لائنز سے روابط کو بہتر کرے تاکہ مسافروں کو سہولیات مہیا کی جا سکیں۔ کمیٹی نے پی آئی اے کو بلوچستان کے لیے قابل عمل فلائٹ پلان تیار کرنے کی سفارش کی اور آئندہ اجلاس میں نجی ایئرلائنز کو مدعو کرنے کا فیصلہ کیا۔

    پائلٹس کی ابتدائی 8 سے 10 ماہ کی تربیت پر 15000 سے 20000 ڈالر کا خرچ
    سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے پر غور کرتے ہوئے جس نے قومی کیریئر کو 205 ہنر مند ملازمین کو بھرتی کرنے کی اجازت دی تھی۔ پی آئی اے حکام نے بتایا کہ سپریم کورٹ نے پی آئی اے کو ایک سال کے کنٹریکٹ پر کیبن کریو، آئی ٹی پروفیشن اور 80 پائلٹس بھرتی کرنے کی اجازت دے دی ہے۔ حکام نے بتایا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے میں سب سے بڑی رکاوٹ یہ ہے کہ پائلٹس کی ابتدائی 8 سے 10 ماہ کی تربیت پر 15000 سے 20000 ڈالر کا خرچ آتا ہے اور اس میں ایسی کوئی قانونی پابندی نہیں ہے جو پائلٹس کو ابتدائی معاہدے کے بعد دوسری ایئرلائنز میں شمولیت سے روک سکے۔ قائمہ کمیٹی نے کہا کہ سپریم کورٹ کا پی آئی اے کی انتظامی امور سے کوئی تعلق نہیں اور پی آئی اے کو ہدایت کی کہ عدالتی فیصلے کو آئندہ کمیٹی اجلاس میں پیش کیا جائے۔مزید یہ کہ قائمہ کمیٹی نے پی آئی اے کی جانب سے جمع کرائی گئی ملازمین کی تفصیلات پر عدم اطمینان کا اظہار کیا۔ چیئرمین کمیٹی نے ہدایت کی کہ ملازمین کے تجربے اور موجودہ پوسٹنگ کے ساتھ مکمل تفصیلات آئندہ اجلاس میں پیش کی جائیں۔

    جعلی ڈگریوں والے ملازمین کو کسی صورت بخشا نہیں جائے گا ،سینیٹر ہدایت اللہ
    قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں پی آئی اے ملازمین کی جعلی ڈگریوں پر تقرری کا معاملہ بھی اٹھایا گیا۔ ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ 260 نامزد ملازمین کے خلاف 15 مقدمات میں چالان جمع کرائے گئے ہیں تاہم متاثرہ ملازمین کی خصوصی کمیٹی نے مقدمات واپس لینے کی ہدایت کی ہے۔ چیئرمین کمیٹی سینیٹر ہدایت اللہ نے کہا کہ جعلی ڈگریوں والے ملازمین کو کسی صورت بخشا نہیں جائے گا اور قائمہ کمیٹی کی سفارشات پر عمل کیا جائے۔

    پی آئی اے، 5 ہزار بیواؤں سمیت 15 ہزار ملازمین پنشن لے رہے
    سینیٹر ڈاکٹر افنان اللہ خان نے استفسار کیا کہ پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن کارپوریشن (PIAC) سے پنشن حاصل کرنے والے فعال پنشنرز کی تعداد اور ملازمین کی بیواؤں کو کتنی پنشن دی جا رہی ہے۔ جس پر پی آئی اے حکام نے بتایا کہ اس وقت 15 ہزار ملازمین پنشن لے رہے ہیں جن میں سے 5 ہزار بیوائیں ہیں جنہیں ہر ماہ 2 سے 3 ہزار پنشن دی جاتی ہے۔ کمیٹی نے سفارش کی کہ بیوہ کی پنشن کو 2 سے بڑھا کر 5 ہزار کیا جائے کیونکہ موجودہ رقم خاندان کے گزارہ کے لیے کافی نہیں ہے۔

    پاکستان کی قومی ایئر لائن پی آئی اے کو مجموعی طور پر 383 بلین کا خسارہ ہے 

    سپریم کورٹ نے پی آئی اے کو نئی 205 پروفیشنل بھرتیوں کی اجازت دیدی

    اگرکوئی پائلٹ جعلی ڈگری پر بھرتی ہوا ہے تو سی اے اے اس کی ذمے دارہے،پلوشہ خان

    بین الاقوامی فیڈریشن آف پائلٹس اینڈ ائیرٹریفک کنڑولرز طیارہ حادثہ کے ذمہ داروں کو بچانے میدان میں آ گئی

    شہباز گل پالپا پر برس پڑے،کہا جب غلطی پکڑی جاتی ہے تو یونین آ جاتی ہے بچانے

    پائلٹس کے لائسنس سے متعلق وفاق کے بیان کے مقاصد کی عدالتی تحقیقات ہونی چاہیے، رضا ربانی

    کراچی طیارہ حادثہ کی رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش، مبشر لقمان کی باتیں 100 فیصد سچ ثابت

    ایئر انڈیا: کرو ممبرزکیلیے نئی گائیڈ لائن ’لپ اسٹک‘ ’ناخن پالش‘ خواتین کے لیے اہم ہدایات

  • چیئرمین سینیٹ سے پاکستان امریکن مسیحی برادری کے وفد کی ملاقات

    چیئرمین سینیٹ سے پاکستان امریکن مسیحی برادری کے وفد کی ملاقات

    چیئرمین سینیٹ سے پاکستان امریکن مسیحی برادری کے وفد کی ملاقات

    چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی سے سینیٹر دنیش کمار، سینیٹر گردیپ سنگھ اورسینیٹر انور لال دین کی سربراہی میں پاکستان امریکن مسیحی برادری کے ایک وفد نے ملاقات کی۔ ملاقات میں باہمی دلچسپی کے اہم ا مور کے علاوہ بین المذاہب ہم آہنگی اور پر امن بقائے باہمی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    چیئرمین سینیٹ نے وفد کا پارلیمنٹ ہاؤس میں استقبال کرتے ہوئے کہا کہ بین المذاہب ہم آہنگی پہلے کی نسبت اب مزید اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلاموفوبیا کا بڑھتا ہوا رجحان اس بات کا متقاضی ہے کہ دنیا کو بتایا جائے کہ اسلام ایک پر امن مذہب ہے جو دوسرے مذاہب کے احترام کا بھی درس دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں پر بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ بین المذاہب ہم آہنگی کو عام کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔

    ڈاکٹر کرس نے چیئرمین سینیٹ کو امریکہ کا دورہ کرنے کی دعوت بھی دی
    وفد جس میں کرسچن سوشل اپ لفٹ تنظیم کے صدر برونیئر بی۔ نیوٹن، آل نیبرزانٹرنیشنل کے سربراہ الیاس مسیح، ڈاکٹر کرس گناکن شامل تھے۔ وفد نے چیئرمین سینیٹ کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے چیئرمین سینیٹ کے خیالات سے اتفاق کیا اور کہا کہ پاکستانی امریکن کرسچن کمیونٹی پاکستان اور امریکہ کے درمیان پل کا کردار ادا کر رہی ہے اور بہتر رابطہ کاری میں بھر پور معاونت کاری فراہم کر رہی ہے۔ ڈاکٹر کرس نے چیئرمین سینیٹ کو امریکہ کا دورہ کرنے کی دعوت بھی دی۔

    چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ یہ ان کے لئے ایک تاریخ ساز موقع ہو گا جس میں وہ پاکستانی کمیونٹی سے تبادلہ خیال بھی کریں گے۔ چیئرمین سینیٹ نے بتایا کہ پاکستان کا آئین تمام اقلیتوں کو برابر کے حقوق فراہم کرتا ہے۔ چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ سینیٹ آف پاکستان میں ایوان بالاء کے اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے اراکین سینیٹ، مسلم مذہبی سکالز اور سینیٹرز پر مشتمل ایک فرینڈ شپ گروپ بھی تشکیل دیا جائے گا تاکہ ملکی و بین الاقوامی سطح پر پاکستان امریکن کرسچن کمیونٹی کے ساتھ مل کر مذہبی ہم آہنگی، مفاہمت اور رواداری کے فروغ کے لئے کام کیا جا سکے۔ پاکستان میں بسنے والی تمام اقلیتیں ملک کی ترقی میں بھر پور کردار ادا کر رہی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ کھیل، سیاست اور سماجی شعبہ ہائے زندگی میں اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے افراد ملک کا نام روشن کر رہے ہیں۔

    چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ پاکستان ایک کثیر الثقافتی ملک ہے اور اس کا ثقافتی تنوع اس کی خوبصورتی میں مزید اضافے کا باعث بنتا ہے۔ انہوں نے وفد پر زور دیا کہ وہ امریکن سوسائٹی کو پاکستان کے بارے میں آگاہ کریں اور معاشرتی پہلوؤں کو اُجاگر کر یں تاکہ ایک دوسرے کو سمجھنے میں مدد ملے اور ترقی کے عمل کو تیز کیا جائے۔ چیئرمین سینیٹ نے اس موقع پر اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے اراکین سینیٹ کی کاوشوں کو بھی سراہا اور کہا کہ ایوان بالا ء میں اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے اراکین سینیٹ نے قانون سازی میں ہمیشہ موثر کردار ادا کیا ہے اور اچھی روایات قائم کیں ہیں

    پاکستان پیپلزپارٹی آزادی صحافت کی حمایت جاری رکھے گی۔

    عثمان مرزا کی جانب سے لڑکی اور لڑکے پر تشدد کے بعد نوجوان جوڑے نے ایسا کام کیا کہ پولیس بھی دیکھتی رہ گئی

    نور مقدم کیس، فنڈ ریزنگ اور مبشر لقمان کے انکشاف، بیٹا اور بیٹی نے نوازشریف کو ڈبودیا تاریخی رسوائی، شلپا شیٹھی، فحش فلمیں اور اصل کہانی؟

     اگر دوسرے صوبوں کے ساتھ بھی نا انصافی ہوئی تو آواز اٹھائیں گے 

    شمولیت سے پارٹی مضبوط سے مضبوط تر ہوگی ,سعید غنی

  • چیئرمین سینیٹ کی مراعات میں اضافے کا بل ،پبلک اکاؤنٹس کمیٹی بھی خاموش نہ رہی

    چیئرمین سینیٹ کی مراعات میں اضافے کا بل ،پبلک اکاؤنٹس کمیٹی بھی خاموش نہ رہی

    چیئرمین سینیٹ کی مراعات میں اضافے کے بل کو حکومت کی اتحادی جماعت پی پی نے مسترد کیا تو دوسری جب پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے بھی معاملے پر افسوس کا اظہار کیا ہے،

    پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین نورعالم خان کا کہنا ہے کہ پی اے سی کی حیثیت سے اس پر افسوس کرتے ہیں ہم چاہتے ہیں کہ ججز زیادہ پیسے لے رہے ہیں تو وہ بھی کم کریں ،کمیٹی اجلاس میں ن لیگی رہنما، رکن کمیٹی روحیل اصغر کا کہنا تھا کہ جہاں بھی پیسے کا نقصان ہو پی اے سی کا کام ہے اس پربحث کرے اورروکنے کی کوشش کرے ، پیپلز پارٹی کے سینیٹر سلیم مانڈوی والا کا کہنا تھا کہ کل اس معاملے پرکافی شرمندگی ہوئی کافی ممبرز کو یہ بل دکھایا نہیں گیا ان سے دستخط لے لیے گئے سفرپر سینیٹ ممبرز کے لیے صرف 20 روپے کلومیٹرکا اضافہ کیا گیا ہےباقی ساری چیزیں چیئرمین سینیٹ کے لیے تھیں

    پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اراکین کا کہنا تھا کہ چیئرمین سینیٹ اوراسپیکرز کے لیے12 سرکاری ملازمین کی سہولت بل میں شامل کی گئی ہے چیئرمین سینیٹ اوراسپیکرز کو فلائٹ نہیں ملتی تو چارٹرڈ طیارہ کرا سکتے ہیں ایوان میں معاملہ آئے تو اس کے خلاف ووٹ دیں اور بل مسترد کریں

    واضح رہے کہ سینیٹ نے چیئرمین، ڈپٹی چیئرمین اور اراکین کی تنخواہوں ، مراعات میں اضافے کا قانون منظور کیا تھا ،پی پی نے اسکو مسترد کیا ہے،

    دوسری جانب پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو نے کہا ہے کہ ملکی معیشت کی روز بروز بگڑتی صورتحال حکمرانوں کے سامنے ہے۔اس گمبھیر معاشی حالات کے اندر چئیرمین سینیٹ، ڈپٹی چیئرمین اور ارکان سینیٹ کی مراعات کی مراعات میں اضافے کا بل مضحکہ خیز اقدام ہے، پاکستان پر آئی ایم ایف کی جانب سے قرضوں کا بوجھ کیا کم ہے کہ اب عوامی خدمت گاروں کی مراعات میں بھی مزید اضافہ کرکے بوجھ بڑھایا جارہا ہے۔ موجودہ حکومت کے پاس معاشی حالات پر قابو پانے کا کوئی پلان موجود نہیں ہے،

    ان خیالات کا اظہار انہوں نے مرکزی مسلم لیگ لاہور کی مرکزی کابینہ اور کارکنان سے گفتگو کرتے ہوئے کیا انہوں نے مزید کہا کہ عوام مہنگائی، بے روزگاری اور غربت کی چکی میں پس رہے ہیں۔ موجودہ حکومت کی معاشی حکمت عملی صرف اشرفیہ نوازی پر مبنی ہے، وزیر خزانہ کہتے ہیں کہ حکومت کے پاس عوام کو معاشی ریلیف دینے کے لیے ایک روپیہ نہیں ہے جبکہ دوسری جانب ارکان پارلیمنٹ کو آئے روز نٸی سے نٸی مراعات دی جا رہی ہیں ، پارلیمنٹ و اسمبلیوں سے زبردستی مراعات کے بل پاس کروائے جارہے ہیں۔ چیئرمین و ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کی مراعات میں اضافے کے بل پر ایوانِ بالا کے اُن اراکین کو ہوش کی ناخن لینے چاہیے تھے، جنہوں نے اس بل کی حمایت کی ہے۔ پاکستان کی موجود گھمبیر صورتحال میں چیئرمین سینیٹ کے بل پاس کروانے پر ساری دنیا میں جگ ہنسائی ہوئی ہے حکومت کی دلچسپی ملک اور قوم کی فلاح و بہبود میں نہیں، لوٹنے اور بیرون ملک جائدادیں بنانے میں ہے

    پاکستان پیپلزپارٹی آزادی صحافت کی حمایت جاری رکھے گی۔

    عثمان مرزا کی جانب سے لڑکی اور لڑکے پر تشدد کے بعد نوجوان جوڑے نے ایسا کام کیا کہ پولیس بھی دیکھتی رہ گئی

    نور مقدم کیس، فنڈ ریزنگ اور مبشر لقمان کے انکشاف، بیٹا اور بیٹی نے نوازشریف کو ڈبودیا تاریخی رسوائی، شلپا شیٹھی، فحش فلمیں اور اصل کہانی؟

     اگر دوسرے صوبوں کے ساتھ بھی نا انصافی ہوئی تو آواز اٹھائیں گے 

    شمولیت سے پارٹی مضبوط سے مضبوط تر ہوگی ,سعید غنی

  • سینیٹ اجلاس،الیکشن ایکٹ میں ترمیم کا بل کثرت رائے سے منظور

    سینیٹ اجلاس،الیکشن ایکٹ میں ترمیم کا بل کثرت رائے سے منظور

    سینیٹ آف پاکستان نے الیکشن ایکٹ میں ترمیمی بل بھاری اکثریت سے منظور کر لیا اب آرٹیکل( 62 ون ایف)کے تحت نااہلی کی مدت پانچ سال سے زیادہ نہیں ہوسکے گی

    الیکشن کی تاریخ کا اختیار صدر مملکت سے واپس لیکر الیکشن کمیشن کو دینے کا بل سینیٹ سے کثرت رائے سے منظورکر لیا گیا،چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی زیر صدارت سینیٹ اجلاس ہوا ،دوران اجلاس وزیر مملکت شہادت اعوان نے الیکشن ایکٹ 2017 میں ترمیم کا بل پیش کیا جس کو کثرت رائے سے منظور کرلیا گیا ،بل کے مطابق الیکشن ایکٹ کی سیکشن 57 میں ترمیم کی گئی ہے جس کے تحت الیکشن کمیشن نیا شیڈول اور عام انتخابات کی تاریخ کااعلان کرے گا جب کہ الیکشن پروگرام میں ترمیم بھی کر سکے گا ،بل کے متن کے مطابق آئین میں جس جرم کی مدت سزا متعین نہیں اس میں نااہلی پانچ برس سے زیادہ نہیں ہوگی الیکشن ایکٹ کی اہلی اور نااہلی سے متعلق سیکشن 232 میں ترمیم کا بل پیش گیا، جس میں کہا گیا کہ اہلیت اور نااہلی کا طریقہ کار، طریقہ اور مدت ایسی ہو جیسا آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 میں فراہم کیا گیا ہے ،مذکورہ بل کے مطابق سپریم کورٹ، ہائیکورٹ یا کسی بھی عدالتی فیصلے، آرڈر یا حکم کے تحت سزا یافتہ شخص فیصلے کے دن سے پانچ سال کے لیے نااہل ہو سکے گا ،سینیٹ میں پی ٹی آئی اور جماعت اسلامی کی جانب سے الیکشن ایکٹ 2017 میں ترمیم بل کی مخالفت کی گئی ،

    سینیٹ اجلاس میں قائد ایوان، اپوزیشن لیڈر اور اراکین کی مراعات کا بل بھی منظور کرلیا گیا جسے سینیٹر کہدہ بابر، منظور احمد، رضا ربانی اور دیگر نے ایوان میں پیش کیا

    اپنی حفاظت کرنا سب کا فرض ہے حکومت بھی مدد کررہی ہے . وزیراعلیٰ سندھ

    سمندری طوفان کے پیش نظر کراچی ڈویژن کی 40 عمارتوں کو مکمل مخدوش قرار 

    وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے عام انتخابات کی تاریخ دے دی
    وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ آئندہ عام انتخابات مقررہ وقت اکتوبر میں ہوں گے ، اسمبلی کی مدت بڑھانے کی کوئی تجویز زیر غور نہیں ، آئین کے مطابق معاشی ایمرجنسی نافذ کرکے اسمبلی کی مدت بڑھائی جاسکتی ہے ، حکمران اتحاد وقت پر انتخابات چاہتا ہے ،نظرثانی قانون صرف نوازشریف کیلئے نہیں سیکڑوں افراد کو فائدہ ہوگا، نواز شریف الیکشن مہم کی قیادت کرینگے ،

    پاکستان کا نام پلاٹستان رکھنا چاہئے،زرقا تیمور
    پی ٹی آئی خاتون سینیٹر زرقا تیمور نے تہلکہ خیز تقریرکرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا نام بدلنا چاہئے،پاکستان کا نام پلاٹستان رکھنا چاہئے، اس میں ملک ریاض، علیم خان کا نام ہے، صابر مٹھو، اب ملک بوستان آ گئے انکو عہدے دیں، ملک ریاض کو پاکستان کا وزیراعظم بنائیں،یہ لوگ ہیں اصلی، باقی کھلواڑ ہے، پرانے پاکستان میں کس کو ریلیف دیا جا رہا،عمران خان پر کیس بنائے گئے، ابھی جو مقدمہ بنایا عمران خان اور اسکی بہن پر ، اس کی جو تاریخ لکھی گئی وہ 30 فروری لکھی گئی، تاریخ میں کبھی 30 فروری کی تاریخ آئی، 160 کیس میں انکو کچھ نہیں ملنا، جبر کا موسم کب بدلے گا، ہم بدلیں گے تب بدلے گا،

    جاوید لطیف کا کہنا تھا کہ نواز شریف جلد آئینگے ،قوم جانتی ہے اس کے بغیر ملک ترقی نہیں کرسکتا، 9 مئی کے واقعات میں ملوث عناصر کو کٹہرے میں لایا جائے،مسلم لیگ ن پاکستان کی سب سے بڑی جماعت ہے ،ہم موسمی پرندوں پر یقین نہیں رکھتے ہمارے پاس اضافی امیدوار ہیں ، مسلم لیگ ن اپنے انتخابی نشان پر الیکشن میں حصہ لے گی

  • متعلقہ تفصیلات مہیا نہ کرنے پر چیئرمین کمیٹی کا برہمی کا اظہار

    متعلقہ تفصیلات مہیا نہ کرنے پر چیئرمین کمیٹی کا برہمی کا اظہار

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی پاور ڈویژن کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر سیف اللّہ ابڑو کی زیرصدارت پارلیمنٹ ہاوس میں ہوا-

    سینیٹرز فدامحمد، حاجی ہدایت اللّہ خان، سیف اللّہ خان نیازی، اسد جونیجو، پرنس عمر احمدزئی کے علاوہ رانا محمود الحسن نے بطور موور اجلاس میں شرکت کی-ایڈیشنل سیکریٹری پاور ڈویژن، جوائنٹ سیکریٹری پاور ڈویژن اور این ٹی ڈی سی کے اعلیٰ حکام بھی کمیٹی اجلاس میں شریک ہوئے-

    پاور ڈویژن کے حکام نے داسو ہائیڈرو پاور سٹیشن سے اسلام آبادi/c گرڈ سٹیشن تک 765kV ڈبل سرکٹ ٹرانسمیشن لائن منصوبے سے متعلق کمیٹی کو بریفنگ دی- 765kV ڈبل سرکٹ ٹرانسمیشن لائن کے حوالے سے متعلقہ تفصیلات,کاغذات مہیا نہ کرنے پر چیئرمین کمیٹی نے برہمی کا اظہار کیا-انہوں نے کہا کہ پاورڈویژن کا حال یہ ہے کہ چھ ماہ میں ٹینڈرنگ پراسس میں حصہ لینے والوں کے کوائف سامنے نہیں لا سکے-اب تک ”ہائرنگ آف کنسلٹنسی“سے متعلق وزارت ہمیں مطمئن نہیں کر پائی-ان کا مزید کہنا تھا کہ 765kV ڈبل سرکٹ ٹرانسمیشن لائن منصوبے کیلئے 20 کمپنیاں آئیں جس میں 14 کمپنیوں کو نااہل قرار دیاگیا جبکہ پسندیدہ لوگوں کو کام دیا گیا ان کیلئے راہ ہموار کی گئی-این ٹی ڈی سی حکام نے منصوبے کیلئے کوالیفائی کرنے والی چھ کمپنیوں (AECOM Canada)، جے وی آف سرجنٹ اینڈ لُنڈی (یو ایس اے) اینڈ نیسپاک، جے وی آف لاہمیر جرمنی اینڈ ہیچ لمیٹڈ کینیڈا، سٹانٹک کانسلٹنگ لمیٹڈ کینیڈا، گوپا اینٹک، ٹیٹرا ٹک انٹرنیشنل، ایل ایل سی، یو ایس اے) کی تفصیلات کمیٹی میں پیش کیں -کمپنیوں کی مطلوبہ قابلیت بارے چیئرمین کمیٹی نے سوالات اٹھائے- 765 کے وی، داسو-مانسہرہ-اسلام آباد (لاٹ -1) کیلئے کنٹریکٹرز کے حوالے سے این ٹی ڈی سی حکام نے بتایا کہ 10 میں سے 9 فرمز کو شارٹ لسٹ کیا گیا- لاٹ-1 میں“انرگو-زیڈ وی ایس روس”فرمز کو تشخیصی عمل میں وضاحتی جوابات جمع نہ کرانے پر مسترد کیا گیا

    ورلڈ بینک کے روکنے پر قائمہ کمیٹی کو کاغذات نہیں دیئے،حکام پاور ڈویژن
    765kV ڈبل سرکٹ ٹرانسمیشن لائن منصوبے کے حوالے سے ورک آرڈرز، کمپلیشن اور تجربے کا سرٹیفیکیٹ اور متعلقہ کاغذات کمیٹی کو مہیا نہیں کئے گئے- حکام نے بتایا کہ ورلڈ بینک نے ورک آرڈرز اور دیگر کاغذات دکھانے کی اجازت نہیں دی-جس پر چیئرمین کمیٹی نے شدید برہمی کا اظہار کیا اور فوری طور پر متعلقہ کاغذات کمیٹی کو مہیا کرنے کے احکامات جاری کئے- سینیٹراسد جونیجونے تجویز دی کہ اگر ورلڈ بنک نے کاغذات شئیر نہ کرنے کا کہا ہے تو اس ایجنڈے کو اگلی میٹنگ تک موخر کردے- ان-کیمرہ میٹنگ میں وزارت این ٹی ڈی ای 765کے وی اور دیگر منصوبوں سے متعلق کاغذات مہیا کرے اور اس پر بحث کی جائے- جس پر چیئرمین کمیٹی نے اگلی ان کیمرہ میٹنگ میں معاملہ دوبارہ اٹھانے کا فیصلہ کیا-

    خواہش کے مطابق 18،18 لاکھ تک کی تنخواہیں
    کاسا-1000 منصوبے، 500/200/132kv لاہور نارتھ گرڈ اسٹیشن کی تعمیر اور کمیشننگ اور500/200/132kv نوکھر گرڈ اسٹیشن کے توسیعی منصوبوں کے حواے سے بھی ورک آرڈرز، تکمیلی اور تجربے کا سرٹیفیکیٹ اور دیگر متعلقہ کاغذات اگلی میٹنگ میں دوبارہ طلب کرلی گئیں -چیئرمین کمیٹی نے این ٹی ڈی سی میں کچھ افراد کو الاٹ شدہ گریڈ سے زیادہ تنخواہیں دینے پر سوالات اٹھا دئیے-ان کا کہنا تھا کہ جو نیا بندہ چارج لیتا ہے اس کو اسکیل کے مطابق سیٹ چھوڑنے والے جتنی ہی تنخواہ ملنی چاہئے ایسا نہیں کہ خواہش کے مطابق 18،18 لاکھ تک کی تنخواہیں دی جائیں -چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ این ٹی ڈی سی میں بورڈ آف ڈائریکٹرز کی تقرری میرٹ پر ہونی چاہئے، قابل اور تجربہ کار لوگوں کو بٹھائیں -انہوں نے کہا کہ این ٹی ڈی سی میں ایک شخص کو نوازنے کیلئے ڈی ایم ڈی (ایس او) کی پوسٹ بنائی گئی -ان کا کہنا تھا کہ انکوائری میں ہمیں 9 ماہ لگے-یہ غیرقانونی تقرری تھی -کمیٹی نے وزارت توانائی کو ہدایات دیں کہ نیا بورڈ آف ڈائریکٹرز جب چارج سنبھالے تو یہ معاملہ اس کے سامنے رکھیں، ڈی ایم ڈی (ایس او) کی پوسٹ کو ختم کی اجائے، یہ پوسٹ نہیں ہونی چاہئے سیاسی پوسٹ ہے انجینئیرز اور منیجنگ ایکسپرٹ کی میرٹ پر تقرری کی جائے اور تنخواہیں معقول ہوں

    سپورٹس آفیسر کی سیٹ کیلئے پیش دونوں امیدواران (رانا محمد آصف اور رضیہ سلطانہ) کی کارکردگی کا تقابلی جائزہ
    اجلاس میں سینیٹر رانا محمود الحسن کی طرف سے اٹھائے گئے ”میپکو میں تقرریوں کے عمل” کے حوالے سے عوامی اہمیت کے نکتہ اور میپکو میں رانا محمد آصف کی بطور سپورٹس آفیسر تقرری کے حوالے سے سینیٹر رانا محمود الحسن کی عوامی پٹیشن نمبرPP-5232 پر بھی کمیٹی میں گفتگو ہوئی- سینیٹر رانا محمود الحسن نے کہا کہ اس پلیٹ فارم پر معاملے کو دیکھنا چاہئے اور جس کا جو حق ہے وہ ملنا چاہئے- ڈی جی ایچ آر میپکو نے معاملے پر کمیٹی کو بریفنگ دی-انہوں نے سپورٹس آفیسر کی سیٹ کیلئے پیش ہونے والے دونوں امیدواران (رانا محمد آصف اور رضیہ سلطانہ) کی کارکردگی کا تقابلی جائزہ بھی کمیٹی میں پیش کیا-کمیٹی نے متفقہ طور پر انٹرنیشنل سطح پر گولڈ میڈلز جیتنے کی بنیاد پر رانا محمدآصف کو اسپورٹس آفیسر بنانے جبکہ رضیہ سلطانہ کو بھی برابر سطح پر پوسٹ دینے کی تجویز دی-چئیرمین کمیٹی نے کہا کہ سی ای او میپکو سے بات کر کے خواتین کیلئے ایک نئی پوسٹ بنا کر رضیہ سلطانہ کو اس پر ایڈجسٹ کریں گے-

    عادل راجہ کو بڑی رقم پہنچ گئی، پٹھان فلم سے تعلق

    پاکستان مخالف بیانیہ؛ میجر (ر) عادل راجہ کی پنشن مکمل طور پر روک دی گئی

     پاک فوج کے بھگوڑے عادل راجہ کے بارے میں اصلیت قوم کو بتائی

    جی ایچ کیو حملے میں پی ٹی آئی خواتین رہنماوں کا کردار,تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے آئی ہے،

    جناح ہاؤس لاہور میں ہونیوالے شرپسندوں کے حملے کے بارے میں اہم انکشافات

    جناح ہاؤس میں سب سے پہلے داخل ہونے والا دہشتگرد عمران محبوب اسلام آباد سے گرفتار 

  • وراثت میں خواتین کا حصہ، خواتین کی تعلیم تک رسائی اہم چیلنجز

    وراثت میں خواتین کا حصہ، خواتین کی تعلیم تک رسائی اہم چیلنجز

    رفاہ انٹرنیشنل یونیورسٹی اسلام آباد کے طلباء نے بدھ کے روز فیکلٹی ممبران کے ہمراہ پارلیمنٹ ہاوس کا دورہ کیا۔
    وفد کی سربراہی ڈاریکٹر شعبہ تربیہ رفاہ یونیورسٹی، سابق سینیٹر ڈاکٹر کوثر فردوس نے کی-وفد نے سینیٹر مشتاق احمد سے ملاقات کی-ملاقات میں خواتین کو درپیش مسائل اور ان کا حل، ڈاکٹر عافیہ صدیقی، قانون سازی سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیاگیا-سینیٹر مشتاق احمد نے وفد کو آئین کے خدوخال اور پارلیمانی کاروائی بارے وفد کو آگاہ کیا-انہوں نے درس گاہوں /تعلیمی اداروں میں آئین پڑھانے کی ضرورت پر زور دیا-ان کا کہنا تھا کہ اس وقت پاکستان میں کروڑوں خواتین شناختی کارڈ سے محروم ہیں، محض 7فیصد خواتین کے بینک اکاونٹس ہیں،وراثت میں خواتین کا حصہ، خواتین کی تعلیم تک رسائی اہم چیلنجز ہیں جس سے نمٹنا وقت کی ضرورت ہے-انہوں نے او-آئی-سی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ مسلم ممالک میں اس وقت 83 کروڑ لوگ ان پڑھ جس میں زیادہ تعداد خواتین کی ہے-

    اس موقع پر ان کا مزید کہنا تھا کہ سمجھ سے بالا تر ہیں کہ افغانستان میں خواتین پر پابندی کیوں لگائی گئی جبکہ اسلام کی تاریخ دیکھیں تو خواتین نے کاروبار، تعلیم اور دیگر شعبوں میں حصہ لیا ہے-انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ علم فرض ہے کسی کو اس سے روکا نہیں جا سکتا-ان کا کہنا تھا کہ“مسلمانوں کے مسائل کیلئے مغربی حل نہیں ڈھونڈنا چاہئے”-

    وفد کے عافیہ صدیقی سے متعلق سوال کے جواب میں سینیٹر مشتاق احمد کا کہنا تھا کہ وہ حکومت کی کوششوں سے امریکہ ڈاکٹر عافیہ سے ملنے نہیں گئے تھے- ہمارے ساتھ موجود وکیل نے 87 قیدیوں کو گوانتا ناموبے سے رہائی دلائی-ان 87 لوگوں پر اتنا ظلم نہیں کیا گیا جتنا اکیلے ڈاکٹر عافیہ پر ظلم کیا گیا ہے ڈاکٹر عافیہ کی 24 گھنٹے نگرانی کی جاتی ہے اور پاگلوں کے جیل میں رکھا گیا ہے-ہم کوشش کر رہے ہیں کہ ان کو اس جیل سے منتقل کیا جائے اگر ریاست مدعی بن جائے تو اس کی رہائی ممکن ہے- ڈاکٹر عافیہ صدیقی کیلئے آن لائن رجسٹریشن کا آغاز کیا ہے اور دس لاکھ لوگوں کے دستخط لینے کا ٹارگٹ رکھا ہے-

    ڈاکٹر عافیہ صدیقی سے ملاقات کروائی جائے، اہلخانہ عدالت پہنچ گئے

    نئی حکومت ڈاکٹرعافیہ صدیقی کو رہا کرائے،مولانا عبدالاکبر چترالی کا مطالبہ

     ایک ماہ کے بعد دوسری رپورٹ آئی ہے جو غیر تسلی بخش ہے ،

    عالمی یوم تعلیم امریکی جیل میں قید ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے نام منسوب

    امریکی جیل میں ڈاکٹرعافیہ صدیقی پرحملہ:پاکستان نے امریکہ سے بڑا مطالبہ کردیا ،

    ربا سے متعلق سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے فیڈرل شریعت کورٹ کا فیصلہ بھی خوش آئند ہے اور مفتی تقی عثمانی صاحب نے بھی اس حوالے سے ایک سیمینار کا انعقاد کروایا تھا جس میں وزیرخزانہ سمیت مختلف متعلقہ شخصیات نے شرکت کی-ربا کے خاتمے کیلئے اقدامات اٹھانے ہوں گے تب ہی معیشت بہتر ہوگی-ان کا مزید کہنا تھا کہ جاپان میں انٹرسٹ ریٹ زیرو رکھا گیا ہے جبکہ یورپ میں بھی کم ترین ہے-انہوں نے ورلڈ اکنامک فارم کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ دنیا کی 83 فیصد دولت محض 3 فیصد لوگوں کے پاس ہے-

    بعد ازاں وفد کو سینیٹ میوزیم کا دورہ کرایا گیا جہاں پر ان کو سینیٹ کی تاریخ پر مبنی ڈاکومنٹری بھی دکھائی گئی۔طلباء نے سینیٹ میوزیم میں ملک کے ممتاز سیاستدانوں کے مجسموں اور تاریخی تصاویر میں دلچسپی کا اظہار کیا اور تصاویر بھی بنوائی۔طلباء کو فیکلٹی ممبران کے ہمراہ سینیٹ ہال کا بھی دورہ کرایا گیا جہاں پرایوان بالا کے کام کے طریقہ کار، قانون سازی اور فکشنز کے حوالے سے بھی وفدکو بریفنگ دی گئی

  • سینیٹر وقار مہدی اور سینیٹر سیف اللہ ابڑو کے مابین تلخ جملوں کا تبادلہ

    سینیٹر وقار مہدی اور سینیٹر سیف اللہ ابڑو کے مابین تلخ جملوں کا تبادلہ

    سینیٹر رضا ربانی نے سینیٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ آئی ایم ایف ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت گول پوسٹ کو آگے بڑھا دیتی ہے

    سینیٹر رضا ربانی کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف بین الاقوامی سامراج کے ایجنٹ کا ہے مجھے لگتا ہے کہ آئی ایم ایف سے معاہدہ نہیں ہوگا بین الاقوامی سامراج کو پاکستان اور چین کے تعلقات کھٹک رہے ہیں ہیں آئی ایم ایف نے کہا کہ ہم تصدیق کرنا چاہتے ہیں کہ ان کا دیا گیا قرضہ چین کو ادائیگیوں کے لیے استعمال تو نہیں ہوگا پاکستان کو آئی ایم ایف اور بین الاقوامی سامراج کے چنگل سے نکلنا ہوگا ، چھوٹے صوبوں کے ساتھ پھر امتیازی سلوک کیا جارہا ہے ۔ بلوچستان کے ترقیاتی فنڈز کو کم کیا گیا ہے میرا مطالبہ ہے کہ بلوچستان کے ترقیاتی فنڈز میں اضافہ کیا جائے ۔ سندھ کو سیلاب کے حوالے سے جو گرانٹ ملنا تھی آج تک نہیں ملی ،

    سینیٹ اجلاس ،سینیٹر وقار مہدی اور سینیٹر سیف اللہ ابڑو کے مابین تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا،سینیٹر وقار مہدی نے کہا کہ کہا گیا کہ ایک سال کے دوران گدھوں کی تعداد میں اضافہ ہوا، اصل میں یہ گدھے 2018 میں پیدا ہوئے لیکن گنے اب گئے، یہ گدھے چند مہینے پہلے یتیم ہو چکے،2018 میں گدھے کی پیدائش کے الفاظ پر سینیٹر فوزیہ ارشد اور سیف اللہ ابڑو نے سخت احتجاج کیا،سینیٹر بہرہ مند تنگی نے سیف اللہ ابڑو کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ جناب چئیرمین اس کو پٹہ ڈالیں، ڈپٹی چئیرمین سینیٹ نے گدھے کی پیدائش کے الفاظ حزف کروا دیے ،اپوزیشن نے نعرے لگائے یہ پاگل ہے اس کا علاج کرایا جائے،

    سینیٹ میں آئندہ مالی سال کے بجٹ پر بحث شروع ہوتے ہی تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا جس میں اپوزیشن ارکان نے ملک کو معاشی بدحالی کے دہانے پر لے جانے پر موجودہ حکمرانوں پر تنقید کی اور حکومتی اراکین نے آئی ایم ایف کے ساتھ کشیدہ تعلقات کا ذمہ دار پی ٹی آئی کو ٹھہرایا،

    برج کھیل کب ایجاد ہوا، برج کھیلتے کیسے ہیں

    عمران خان سے اختلاف رکھنے والوں کی موت؟

    حضوراقدس پر کوڑا بھینکنے والی خاتون کا گھر مل گیا ،وادی طائف سے لائیو مناظر

    برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپئن شپ مہمان کھلاڑی حویلی ریسٹورنٹ پہنچ گئے

    کھیل سے امن کا پیغام دینے آئے ہیں.بھارتی ٹیم کے کپتان کی پریس کانفرنس

    وادی طائف کی مسجد جو حضور اقدس نے خود بنائی، مسجد کے ساتھ کن اصحاب کی قبریں ہیں ؟

  • نو مئی کے واقعات،تحریک انصاف کے سینیٹرنے مذمتی قرارداد جمع کروا دی

    نو مئی کے واقعات،تحریک انصاف کے سینیٹرنے مذمتی قرارداد جمع کروا دی

    تحریک انصاف کے سینیٹرز کی جانب سے نو مئی کے واقعات سے متعلق مذمتی قرارداد سینیٹ میں جمع کروائی گئی ہے

    تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے سینیٹرز نے نو مئی کے واقعات کی مذمت کی ہے اور اس حوالہ سے ایک قراردار سینیٹ میں جمع کروائی ہے، قرارداد پر تحریک انصاف کے سینیٹر کے دستخط ہیں، قرارداد فیصل سلیم، سیمی ایزدی، فلک ناز چترالی، زرقا سہروردی اور دہگر کی جانب سے جمع کروائی گئی ہے، قرارداد جمع کروانے کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے سینیٹر فیصل سلیم کا کہنا تھا کہ 9 مئی کے واقعات کی بھرپور مذمت کرتے ہیں ہم نے ایوان بالا میں ایک قرار داد جمع کرائی ہے دفاعی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا ہم اس پر شرمندہ ہیں

    سیمی ایزدی کا کہنا تھا کہ کہ میرا خاندان آرمی سے تعلق رکھتا ہے ہم تصور بھی نہیں کرسکتے کہ کوئی آرمی تنصیبات پر حملہ کرے جو لوگ اس واقعے میں ملوث ہیں انہیں واقعی سزا ملنی چاہیے سینیٹر فلک ناز کا کہنا تھا کہ کہ 9 مئی کا دن میری زندگی کا سب سے منحوس دن ہے 9 مئی کو پاکستان کے شہدا کی یادگار اور املاک کو نقصان پہنچانے کی کوششوں کو مسترد کرتے ہیں میرا بھائی اور بھتیجا فوج میں حاضر سروس ہیں ،ڈاکٹر زرقا سہروردی نے کہا کہ 9 مئی کو جو ہوا ہم اس کی شدید مذمت کرتے ہیں ہم سب سے پہلے پاکستانی ہیں اور اس کے بعد باقی چیزیں ہیں جو لوگ 9 مئی کے واقعے میں ملوث ہیں انہیں قرار واقعی سزا ہونی چاہیے بے گناہ لوگوں کو رہا کیا جانا چاہیے

    قرارداد کے متن میں کہا گیا ہے کہ عسکری اور تاریخی عمارتوں پر حملوں کی شدید مذمت کرتے ہیں یہ ایوان 9 مئی کو جی ایچ کیو، جناح ہاؤس پر ہونے والے پرتشدد حملوں کی شدید مذمت کرتا ہےجناح ہاؤس لاہور میں کور کمانڈر رہائش پذیر ہیں اسے بھی آگ لگا دی گئی تھی بانیٔ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کے قیمتی سامان کو بھی نذر آتش کیا گیا جب کہ شہداء کی یادگاریں بھی جلادی گئیں ہ تاریخی عمارتوں، مساجد اور اسکولوں کو آگ لگائی گئی اور نقصان پہنچایا گیایہ ایوان اپنے اداروں کے ساتھ اظہار یکجہتی اورغیر متزلزل حمایت کرتا ہے مسلح افواج ،سیکیورٹی ایجنسیوں اور بڑے پیمانے پر ان واقعات سے متاثر ہونے والے عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں

     پرامن احتجاج ہرکسی کا حق ہے،9 مئی کو جو کچھ ہوا اسکےحق میں نہیں 

    عدالت کے گیٹوں پر پولیس کھڑی ہے آنے نہیں دیا جارہا 

    کنیز فاطمہ کا کہنا تھا کہ کوئی بھی محب وطن پاکستانی ایسی واقعات کو پسند نہیں کرتا،

    ،اٹارنی جنرل روسٹرم پر آ گئے اور کہا کہ میں کچھ کہنا چاہتا ہوں

    آخر یہ القادر ٹرسٹ کیس ہے کیا؟

    عمران خان ذہنی طور پر ٹھیک نہیں ہے.

  • نو مئی کے واقعات صرف قابل مذمت نہیں ناقابل قبول،پارٹی نہیں چھوڑوں گا،شہزاد وسیم

    نو مئی کے واقعات صرف قابل مذمت نہیں ناقابل قبول،پارٹی نہیں چھوڑوں گا،شہزاد وسیم

    سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر ڈاکٹر شہزاد وسیم نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ نو مئی پاکستانی تاریخ کا سیاہ دن تھا،

    اپوزیشن لیڈر ڈاکٹر شہزاد وسیم کا کہنا تھا کہ نو مئی کی ہر ذی شعور پاکستانی نے مذمت کی،نو مئی کے واقعات افسوسناک اور اندوہناک تھے ،نو مئی کو شہداء کی یادگاروں اور فوجی تنصیبات پر حملے کئے گئے نو مئی کو کور کمانڈر ہاؤس پر حملے کئے گئے نو مئی کے واقعات صرف قابل مذمت نہیں ناقابل قبول ہیں،میرا تعلق اس خاندان سے ہے جسکی چار نسلوں نے اپنی ملک کے دفاع کے لئے وقف کی،میرا دادا شہید ہوئے میرے چچا نے عزیز بھٹی شہید کے ساتھ شہادت نوش کی،میں گجر خان کی مٹی کا باسی ہوں جس نے پہلے نشان حیدر دیا تھا عمران خان اور پارٹی کو نہیں چھوڑوں گا، میں تحریک انصاف کا سینیٹر اور اپوزیشن لیڈر ہوں جمہوری عمل میں اپنا حصہ ادا کرتا ہوں گا 9 مئی لے واقعات پر مفروضوں پر بات نہیں کرنی چاہیے،سنجیدہ تحقیقات کے بعد جو لوگ ملوث ہوں ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے

    آڈیو لیکس جوڈیشل کمیشن نے کارروائی پبلک کرنے کا اعلان کر دیا

    عابد زبیری نے مبینہ آڈیو لیک کمیشن طلبی کا نوٹس چیلنج کردیا

    تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے

    سردار تنویر الیاس کی نااہلی ، غفلت ، غیر سنجیدگی اور ناتجربہ کاری کھل کر سامنے آگئی 

    سپریم جوڈیشل کونسل کے ہوتے ہوئے کوئی کمیشن قائم ہونا ممکن نہیں، چیف جسٹس نے واضح کر دیا 

    بابر اعوان نے بیرون ملک روانہ

     کنول شوزب بیرون ملک فرار 

    مراد راس نے عمران خان اور پی ٹی آئی سے راستہ جُدا کرلیا

  • سینیٹ سیکرٹریٹ کے ملازمین کو سرکاری ملازم نہیں کہا جا سکتا،قائمہ کمیٹی

    سینیٹ سیکرٹریٹ کے ملازمین کو سرکاری ملازم نہیں کہا جا سکتا،قائمہ کمیٹی

    سینیٹ کی کابینہ سیکرٹریٹ کمیٹی نے سفارش کی کہ توشہ خانہ میں تحائف کو ٹھکانے لگانے سے جاری ہونے والے فنڈز کو ملک کے پسماندہ ترین علاقوں میں خواتین کی پرائمری تعلیم کے لیے استعمال کیا جائے۔ ترمیم کمیٹی نے منظور کی اور سینیٹر تاج حیدر نے پیش کی۔ یہ دلیل دی گئی کہ توشہ خانہ کو ملنے والے موجودہ اور مستقبل کے تحائف کھلی نیلامی کے ذریعے نمٹائے جائیں گے اور اس نیلامی سے حاصل ہونے والی رقم کو الگ اکاؤنٹ میں رکھا جائے گا اور اسے خواتین کی تعلیم کے فروغ کے لیے استعمال کیا جائے گا۔

    کمیٹی کا اجلاس جمعرات کو سینیٹر رانا مقبول احمد کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوا۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ توشہ خانہ (منیجمنٹ اینڈ ریگولیشن) بل 2022 پر تین تقابلی بل سینیٹر بہرام خان تنگی، سینیٹر مشتاق احمد اور سینیٹر تاج حیدر کی طرف سے تجویز کردہ ترمیمی بل پیش کیے گئے ہیں۔ یہ بھی بتایا گیا کہ توشہ خانہ مینجمنٹ ریگولیشن بل کا مسودہ وزیر اعظم کی طرف سے تشکیل دی گئی ایک بین وزارتی کمیٹی نے تیار کیا ہے جس کی کابینہ نے باقاعدہ منظوری دے دی ہے اور قانون و انصاف ڈویژن کی جانب سے مزید جانچ کا انتظار ہے۔ چیئرمین کمیٹی نے کابینہ کو ہدایت دیتے ہوئے معاملہ موخر کر دیا کہ مسودہ ایک دن کے اندر کمیٹی کے ساتھ شیئر کیا جائے تاکہ اس کی تفصیل سے جانچ پڑتال کی جا سکے اور آئندہ اجلاس میں توشہ خانہ ریگولیشنز پر ایک ہی بل میں شامل کیا جا سکے۔ سینیٹر بہرامند خان تنگی اور سینیٹر مشتاق احمد کی طرف سے توشہ خان مینجمنٹ اینڈ ریگولیشن کے دو بلوں کے مقاصد جہاں ایک شفافیت کو یقینی بنانا اور پبلک آفس ہولڈرز کی شمولیت کو کم کرنا اور عام عوام عوامی نیلامی کے ذریعے تحائف خریدیں گے جبکہ دوسرے میں ایک بل کے قیام کی تجویز ہے۔

    کمیٹی نے سینیٹر دانش کمار اور سینیٹر گردیپ سنگھ کی طرف سے پیش کردہ قرارداد پر ایجنڈا کے آئٹمز کو موخر کر دیا اور اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے انچارج وزیر کی مرضی پر سینیٹر دانش کمار کے سوال کا جواب دیا جس میں ایف پی ایس سی نے تحریری امتحان لیا جس میں ہر ایک کی نشاندہی کی گئی۔ کمیشن کی طرف سے تقرری کے لیے تجویز کردہ امیدواروں کی تعداد سے متعلق تفصیل۔ کمیٹی نے معاملہ موخر کردیا اور ایف پی ایس سی کو ہدایت کی کہ سینیٹر دانش کمار کے پوچھے گئے اضافی سوالات پر تفصیلی رپورٹ پیش کی جائے۔ چیئرمین کمیٹی نے یہ بھی ہدایت کی کہ 5 فیصد اقلیتی کوٹہ کی تقسیم پر بھی رپورٹ پیش کی جائے جس پر سپیشل سیکرٹری نے کمیٹی کو بتایا کہ تقسیم آبادی کی بنیاد پر کی جاتی ہے تاہم انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی معاملہ ہے جو مینڈیٹ سے باہر ہے۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ غلط پالیسیوں کی اصلاح کی جائے اور ضرورت پڑنے پر قانون سازی کی جائے۔ چیئرمین کمیٹی نے کابینہ کی اس پالیسی کی تفصیلات طلب کیں جس کے ذریعے تمام صوبوں میں اقلیتوں کے لیے 5 فیصد ملازمتوں کے مخصوص کوٹے کی یکساں تقسیم کی جائے تاکہ ہر صوبوں کی اقلیتوں کو سرکاری خدمات میں مناسب نمائندگی مل سکے۔

    قبل ازیں اجلاس میں سینیٹر مظفر حسین شاہ، سینیٹر ہدایت اللہ، سینیٹر ذیشان خان زادہ اور سینیٹر دلاور خان کی جانب سے پیش کیا گیا سول سرونٹ ترمیمی بل 2023 کے عنوان سے بل کو نمٹا دیا گیا۔ یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ سینیٹ سیکرٹریٹ کے ملازمین کو سرکاری ملازم نہیں کہا جا سکتا کیونکہ سینیٹ سیکرٹریٹ ایک خود مختار ادارہ ہے جس میں انڈکشن کا عمل بالکل مختلف ہے اور ایف پی ایس سی کی جانب سے سرکاری ملازمین کے معاملے میں اس طرح کی تبدیلی کو شامل نہیں کیا جا سکتا۔ بل کو نمٹاتے ہوئے اس بات پر بھی بحث کی گئی کہ فیورٹ کو ایڈجسٹ کرنے کے لیے نئی سیٹوں کی توسیع اور تخلیق کے کلچر کو روکا جائے۔ سینیٹر ہدایت اللہ نے کہا کہ سیاسی بنیادوں پر بااثر نشستوں کی تخلیق کو بھی ختم کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے اس حقیقت پر افسوس کا اظہار کیا کہ پی آئی اے کے تمام ورکرز کو ڈیپوٹیشن کے ذریعے بھرتی کیا گیا ہے اور کوئی بھی فیلڈ سے نہیں ہے۔ اسی طرح چیئرمین کمیٹی نے ٹربیونلز کے لیے متعلقہ اہلیت کی سفارش کی۔ سینیٹر سعدیہ عباسی نے کہا کہ ٹربیونلز پارکنگ لاٹ بن چکے ہیں اور سلیکٹیز کے پاس اہلیت نہیں ہے جس کی وجہ سے مقدمات التوا کا شکار ہیں۔ چیئرمین کمیٹی نے وزارت قانون کو ہدایت کی کہ وہ ایسا طریقہ کار بنائے جس کے ذریعے ملازمین کی اہلیت تک رسائی حاصل ہو اور مقدمات کو مرحلہ وار نمٹا سکے۔ کمیٹی نے ایک ماہ میں تعمیل اور رپورٹ طلب کر لی

    قیام پاکستان سے اب تک توشہ خانہ کے تحائف کی تفصیلات کا ریکارڈ عدالت میں پیش

    نیب ٹیم توشہ خانہ کی گھڑی کی تحقیقات کے لئے یو اے ای پہنچ گئی، 

    وفاقی دارالحکومت میں ملزم عثمان مرزا کا نوجوان جوڑے پر بہیمانہ تشدد،لڑکی کے کپڑے بھی اتروا دیئے

    بزدار کے حلقے میں فی میل نرسنگ سٹاف کو افسران کی جانب سے بستر گرم کی فرمائشیں،تہلکہ خیز انکشافات