Baaghi TV

Tag: سینیٹ

  • دنیا بھر کی طرح پاکستان کو بھی مہنگائی کا سامنا ہے،وزیراعظم

    دنیا بھر کی طرح پاکستان کو بھی مہنگائی کا سامنا ہے،وزیراعظم

    وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ 1973 کے آئین میں چاروں صوبوں کو برابرکے حقوق دیئے گئے،

    سینیٹ کے خصوصی اجلاس میں وزیراعظم شہباز شریف نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے آئین کو50 سال گزر چکے ہیں،سینیٹ میں 50سال میں اہم قانون سازی کی گئی،تمام دیگرمماملک کے سفیر،ہائی کمشنرز کے سینیٹ آنے پر شکریہ ادا کرتا ہوں،حالیہ سیلاب میں بھرپور تعاون پر دوست ممالک کا شکریہ ادا کرتا ہوں،پاکستان اس وقت مشکل حالات سے گزر رہا ہے،یوکرین جنگ کی وجہ سے پاکستانی کی معیشت بھی دباو کاشکار ہے ،دنیا بھر کی طرح پاکستان کو بھی مہنگائی کا سامنا ہے،مہنگائی کی عالمی لہر سے پاکستان جیسے ترقی پزیر ممالک متاثر ہوئے، جب ہم آئے ملکی معاشی حالات سازگار نہیں تھے،ہم نے آتے ہی آئی ایم ایف سے ڈیل کی کوشش کی اقتدار میں آتے ہی ہمارے پاس 2 راستے تھے ایک راستہ تھا کہ سبسڈیز دیتے یا ذمہ داری اٹھاتے،ہم نے مشاورت سے ریاست کو محفوظ کرنے کا راستہ اپنایا ،ہم نے کفایت شعاری اپنائی پی ٹی آئی حکومت نے آئی ایم ایف معاہدے کی پاسداری نہیں کی جب اقتدار سنبھالا تو ملکی معیشت زبوں حالی کا شکار تھی، معاہدے سے روگردانی سے عالمی سطح پر پاکستان کے تشخص کو نقصان پہنچا،

    وزیراعظم شہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ معاشی نظام کو ٹھیک کرنا ہے تو سیاسی استحکام ضروری ہے،جب تک سیاسی استحکام نہیں ہوگا معاشی استحکام نہیں آئے گا،ہماری ٹیم پوری کوشش کررہی ہے کہ ملک کو ان مشکلات سے نکالا جائے ،آئی ایم ایف کی تمام کڑوی ،شدید کڑوی شرائط پوری کر دی ہیں،اگلے چند دنوں میں ہمیں اسٹاف لیو ل معاہدے میں جانا چاہئے،آئی ایم ایف معاہدے میں تاخیرپر اپنوں کا بھی قصورہے،عمران خان جب وزیراعظم تھے تو وہ اپوزیشن کے ساتھ بیٹھنے کو تیار نہیں تھے،فروری 2019میں ملک میں جنگ جیسی صورتحال تھی،

    وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے سینیٹ میں کہا کہ کوئی بھی عالمی طاقت پاکستان کو ایٹمی اور میزائل ٹیکنالوجی سمیت سٹریٹیجک اثاثوں پر کوئی فیصلہ لینے پر مجبور نہیں کرسکتی، آئی ایم ایف پروگرام میں تاخیر حکومت کی طرف سے نہیں اس بار بات چیت بہت غیرمعمولی رہی بہت زیادہ مطالبات سامنے رکھے گئے ہم نے ہر چیز مکمل کر لی ہمیں قومی مفاد کا تحفظ کرنا ہے کوئی بھی نیوکلیئر یا میزائل پروگرام پر سمجھوتا نہیں کرے گا کسی کو حق نہیں کہ پاکستان کو بتائے کہ وہ کس رینج کے میزائل یا ایٹمی ہتھیار رکھے میں نے ماضی میں سب سے پہلے آئی ایم ایف معاہدہ ویب سائٹ پر ڈالا تھا، اب بھی جیسے ہی آئی ایم ایف سے اسٹاف لیول معاہدہ ہوگا ویب سائٹ پر ڈال دیا جائے گا

    عدالت نے کہا کہ میں کیوں ایسا حکم جاری کروں جو سسٹم ہے اسی کے مطابق کیس فکس ہوگا،

    عمران خان نے باربار قانون کی خلاف ورزی کی جس پر انہیں جواب دینا ہوگا

    چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ آپ کا اپنا کیا دھرا ہے 

    سینیٹ خصوصی اجلاس وفاقی وزیر برائے ماحولیاتی تبدیلی سینیٹر شیری رحمان نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ سینیٹ کی گولڈن جوبلی ہم سب کیلئے باعث فخر ہے، اس خصوصی سیشن کے انعقاد پر چیرمین سینیٹ اور سینیٹ سیکریٹریٹ مبارک کے مستحق ہیں۔ سینیٹ ملک کی وفاقی امنگوں کی پاسدار ہے،

  • چیئرمین سینیٹ  سے بین الپارلیمانی یونین کے صدرکی ملاقات

    چیئرمین سینیٹ سے بین الپارلیمانی یونین کے صدرکی ملاقات

    چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی سے بین الپارلیمانی یونین کے صدر دوآرتے پاشیکونے پارلیمنٹ ہاؤس میں ملاقات کی۔ ملاقات میں بین الپارلیمانی یونین کو مزید متحرک بنانے اور ادارہ جاتی تعاون کو بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ آئی پی یو کے صدر انٹرنیشنل پارلیمنٹرینز کانگریس کی روڈ سیفٹی کے حوالے سے 8 فروری سے شروع ہونے والی دو روزہ کانفرنس میں شرکت کے لئے پاکستان کے دورے پر ہیں۔انہوں نے آئی پی سی کے اس اقدام کو انتہائی اہم قرار دیا اور کہا کہ روڈ سیفٹی جدید دور میں انتہائی اہم ہے۔

    چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ پاکستان اس وقت علاقائی سطح پر رابطہ کاری کو بڑھانے اور زمینی راستوں کے ذریعے کاروبای و معاشی نقل وحمل پر زور دے رہا ہے۔ روڈ سیفٹی ایک عالمی مسئلہ ہے اور اس کے لئے سب کو مل کر کام کرناہوگا۔ انہوں نے کہا کہ آئی پی سی نے اس موضوع کی اہمیت کومحسوس کرتے ہوئے فیصلہ کیا کہ بین الاقوامی سیاسی قیادت اور ماہرین کے تجربات سے بھی استفادہ کیاجائے اور مشترکہ لائحہ عمل کے ذریعے حکمت عملی تیار اور سفارشات مرتب کی جائیں۔
    چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی نے کہا کہ پاکستان آئی پی یو کے مشن کے مطابق امن، جمہوریت، انسانی حقوق، صنفی مساوات اور پائیدار ترقی کے فروغ کیلئے پر عزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر جن چیلنجز کا سامنا ہے ان میں روڈ سیفٹی بھی خاصی اہمیت اختیار کرتی جا رہی ہے۔روڈ سیفٹی مجموعی ترقیاتی عمل میں کافی اہمیت رکھتی ہے اور مسئلہ عالمی نوعیت کا ہے۔ چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ پارلیمنٹرینز عوام کو آگاہی دے سکتے ہیں۔ چیئر مین سینیٹ نے مہمان کو ایوان بالا کے آئینی اور قانونی کردار، انتخاب کے طریقہ کار اور اہمیت کے بارے میں آگاہ کیا۔ ملاقات میں سینیٹر برائے مہمان داری سینیٹر فیصل سلیم رحمان، سیکرٹری سینیٹ قاسم صمد خان اور اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔

    چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ آئی پی یو ایک مثالی پلیٹ فارم ہے۔ بین الپارلیمانی تعاون،قومی اور علاقائی ترقی کیلئے اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو IPU جیسی تنظیم پر مکمل اعتماد ہے اور اس کے ذریعے مضبوط بین الپارلیمانی تعاون، ترقی کے مواقع پیدا کرنے کا باعث بن سکتا ہے۔پاکستان عوامی بھلائی کی خاطر پائیدار ترقی کا عزم رکھتا ہیں اور اسی مقصد کے لئے کوشاں ہے۔

    تعلیمی ادارے میں ہوا شرمناک کام،68 طالبات کے اتروا دیئے گئے کپڑے

    ہماری بیگمات کے ساتھ ناجائز تعلقات تھے،دو بھائیوں نے سگے بھائی کا گلا کاٹ دیا

    جنسی طور پر ہراساں کرنے پر طالبہ نے دس سال بعد ٹیچر کو گرفتار کروا دیا

    ایم بی اے کی طالبہ کو ہراساں کرنا ساتھی طالب علم کو مہنگا پڑ گیا
    چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی نے کہا کہ آئی پی یو کے فورم سے تنازعات کے پرامن حل کی جانب بڑھا جا سکتا ہے اور مقبوضہ جموں و کشمیر اور فلسطین میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں توجہ طلب ہیں اور مجھے یقین ہے کہ آپ صدر آئی پی یو کی حیثیت سے مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرنے اور عالمی امن کو فروغ دینے میں اپنا تعمیری کردار ادا کریں گے۔انہوں نے کہا کہ مجھے امید ہے کہ یہ دورہ دونوں ادارہ جاتی تعلقات کو فروغ دینے میں بھی مددگار ثابت ہوگا اور صحیح سمت میں آگے بڑھنے کیلئے رنگ، مذہب، جغرافیہ یا معاشیات کی تفریق کو ختم کرنا ہوگا۔ صدر آئی پی یو نے اپنے دورہ پاکستان کو انتہائی اہم قرار دیا اور کہا کہ پاکستان کے آئی پی یو میں کردارکے معترف ہیں

  • ریڈیو پاکستان کی مختلف شہروں میں زمین اورعمارتوں کی نجکاری بارے تجویز

    ریڈیو پاکستان کی مختلف شہروں میں زمین اورعمارتوں کی نجکاری بارے تجویز

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر فیصل جاوید کی زیر صدارت آج پارلیمنٹ لاجز میں منعقد ہوا۔

    2015/16 میں کنٹریکٹ پر بھرتی کیے گئے پی ٹی وی نیوز کے نمائندوں کے سروس سٹرکچر کی منظوری کے بارے میں سینیٹر فدا محمد کی طرف سے اٹھائے گئے معاملے پر پی ٹی وی حکام نے کمیٹی کو تفصیلی بریفنگ دی۔ایم ڈی پی ٹی وی نے کمیٹی کو بتایا کہ پی ٹی وی نیوز میں بغیر مستقل آسامی کے ہوتے ہوئے یہ لوگ کنٹریکٹ پر بھرتی کیے گئے تھے۔ یہ معاملہ ادارے کی ایچ آر کمیٹی کو بھیجا کیا گیا تھا جسکی سفارشات چار دن پہلے ہونے والی پی ٹی وی بورڈ میٹنگ میں پیش کی گئیں۔ جسکے مطابق ان تمام نیوز نمائندوں کی سروسز کو ریگولر کرنے کے حوالے سے فیصلہ ہو چکا ہے اور جلد ہی میٹنگ کے منٹس مرتب ہونے کے بعد سب کو ریگولر کر دیا جائےگا۔ چیئرمین کمیٹی نے اس حوالے سے تمام تر تفصیلات سے کمیٹی اور سینیٹر فدا محمد کو آگاہ رکھنے کی ہدایت دی۔

    ریڈیو پاکستان کے ملازمین کو پينشن کی ادائیگی میں تاخیر پر کمیٹی میں تفصیلی غور کیا گیا۔ ڈی جی ریڈیو پاکستان نے کمیٹی کو بتایا کہ ریڈیو پاکستان کو اخراجات کی مد میں سالانہ تقریباً ساڑھے چھے ارب روپے کی ضرورت ہے اور اس وقت ساڑھے چار ارب روپے مل رہے ہیں۔ دو ارب روپے کی کمی کی وجہ سے ادراے کو پینشن اور ملازمین کے میڈیکل بلز کی ادائیگی میں مشکلات پیش آرہی ہیں۔ چیئرمین کمیٹی کا کہنا تھا کہ غریب ریٹائرڈ ملازمین کی پینشن ادائیگی ادارے کی اوّلین ترجیح ہونی چاہیے اور اس حوالے سے وزارت خزانہ سے بات کی جائے۔ ڈی جی ریڈیو پاکستان نے بتایا کہ ریڈیو پاکستان کی مختلف شہروں میں زمین اور عمارتوں کی نجکاری کرکے خاطر خواہ رقم حاصل کی جا سکتی ہے جس سے ان تمام اخراجات کی ادائیگی ممکن ہو سکے گی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اس حوالے کام جاری ہے۔

    سینیٹر عرفان صدیقی نے استفسار کیا کہ آیا ادارے نے ریڈیو پاکستان کے اثاثوں کی نجکاری کےلیے کوئی کنسلٹنٹ یا فرم کی خدمات حاصل کی ہیں یا ادارہ خود یہ تمام کام کر رہا ہے۔ سینیٹر سید وقار مہدی نے کراچی میں ریڈیو پاکستان کی عمارتوں کے بارے میں سوال کیا۔ اُنکا کہنا تھا کہ کراچی میں ریڈیو پاکستان کے ٹاور کو نہایت ہی کم پیسوں میں دوسرے اداروں کو کرائے پر دیا گیا ہے اور ایک عمارت پاکستان رینجرز کے زیر استعمال ہے۔ سیکریٹری اطلاعات نے کمیٹی کو بتایا کہ رینجرز کے زیر استعمال عمارت کی واگزاری کے لیے متعلقہ اداروں کو خطوط لکھے گئے ہیں۔ چیئرمین کمیٹی نے ریڈیو پاکستان کے معاملات کو یکسو کرنے کےلیے سینیٹر عرفان صدیقی کی سربراہی میں ایک ذیلی کمیٹی قائم کر دی۔

    چیئرمین کمیٹی نے وزیر برائے اطلاعات و نشریات کی کمیٹی اجلاس میں عدم موجودگی پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ صحافیوں کے مسائل کے حل کیلئے متعلقہ صحافتی تنظیموں کے نمائندوں کو کمیٹی اجلاس میں بلایا جائےگا اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا موقف سننے کے بعد صحافیوں کی فلاح و بہبود اور آزادی اظہار رائے کو لاحق خطرات سے نمٹنے کیلئے لائحہ عمل طے کیاجائے گا۔

    سینٹر ولید اقبال اور دیگر سینیٹرز کی جانب سے پیش کردہ رائیٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ میں ترمیم کے بل پر غور کیا گیا۔ بل پر تفصیلی بحث کے بعد مزید وضاحت کےلیےمعاملہ محکمہ قانون کو بھیجنے پر اتفاق کیا گیا۔کمیٹی اجلاس میں سینیٹرز، فوزیہ ارشد، سید وقار مہدی، انور لال دين، عرفان صدیقی، عمر فاروق، فدا محمد، ولید اقبال، ایم ڈی پی ٹی وی، سیکریٹری وزارت اطلاعات و نشریات اور پیمرا کے حکام نے شرکت کی۔

    پی ٹی وی کے پاس پرانے کیمرے، سپیئر پارٹس نہیں ملتے،قائمہ کمیٹی اجلاس میں انکشاف

    پی ٹی وی سپورٹس پر اینکرز کی دس دس گھنٹے کی تنقید ، قائمہ کمیٹی نے تجزیوں کو غیر معیاری قرار دے دیا

    فلم پالیسی کو بہت جلد عملی جامہ پہنایا جائے گا، قائمہ کمیٹی تعاون کرے گی: سینیٹر فیصل جاوید

    پاکستان کے علاقے کو دشمن ملک کے ساتھ دکھانا بہت بڑا جرم،قائمہ کمیٹی نے پی ٹی وی سے کیا جواب طلب

    ڈائریکٹوریٹ آف الیکٹرانک میڈیا کیا کر رہا ہے؟ قائمہ کمیٹی نے بریفنگ مانگ لی

    موجودہ دور کے ڈرامے صرف خواتین کیلئے بنائے گئے جو بے حیائی پھیلا رہے ہیں،قائمہ کمیٹی

    حکومت کے حق میں آرٹیکلز لکھنے پر اشتہارات ملتے ہیں، قائمہ کمیٹی میں انکشاف

    قائمہ کمیٹی کا اجلاس،تنخواہیں کیوں نہیں دی جا رہیں؟میڈیا ہاﺅسز کے اخراجات اور آمدن کی تفصیلات طلب

    میں نے صدر عارف علوی کا انٹرویو کیا، ان سے میرا جھوٹا افیئر بنا دیا گیا،غریدہ فاروقی

  • اگر کوئی بیوی کو جھڑک بھی دے تو مقدمہ بنا دیا جاتا ہے،کامل علی آغا کا سینیٹ میں خطاب

    اگر کوئی بیوی کو جھڑک بھی دے تو مقدمہ بنا دیا جاتا ہے،کامل علی آغا کا سینیٹ میں خطاب

    چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی زیر صدارت سینیٹ اجلاس ہوا

    پیٹرولیم ڈویژن نے تحریری جواب جمع کروایا جس میں کہا گیا کہ جنوری میں پیٹرولیم مصنوعات کی تجارت سے متعلق روسی وفدسے ملاقاتیں ہوئیں، خام مال تیل درآمد کی 20 فیصد ضروریات پورا کرنے کے لیے روس سے مذاکرات جاری ہیں،آئندہ ملاقاتوں میں تجارتی شرائط، خام تیل کی خصوصیات کو زیر بحث لایا جائے گا ،وزیر توانائی خرم دستگیر کا کہنا تھا کہ سولر پینل پر کوئی ڈیوٹی نہیں ہے، معاملے پرجلد پالیسی لار ہے ہیں ،سولر پینل سے متعلق ہم 3حصوں پر کام کر رہے ہیں،ملک کے دیہاتی علاقوں میں ایک سے 4میگا واٹ کے سولر دینے جا رہے ہیں وفاقی حکومت کی تمام عمارتوں کو سولر پر تبدیل کر رہے ہیں ،

    88 رکنی کابینہ اور وزرا ایوان میں موجود نہیں،سینیٹر مشتاق برس پڑے
    سینیٹر مشتاق احمد نے کہا کہ 70رکنی کابینہ ہے اور وزرا ایوان میں موجود نہیں ،چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے سوال کیا کہ وزرا کہاں ہیں ؟ اپوزیشن لیڈر شہزاد وسیم نے کہا کہ 88رکنی کابینہ ہے ،سینیٹر مشتاق نے کہا کہ پہلے3 سوال ہیں مگر ایک بھی وزیر نہیں،وزرا کی ایوان میں عدم حاضری پر اپوزیشن نے واک آوٹ کر دیا، چیئرمین سینٹ نے کہا کہ وزراکی عدم شرکت پر وزیر اعظم کو آج خط لکھتا ہوں،

    60 دن سے روس سے مذاکرات چل رہے ہیں،وزیر مملکت پیٹرولیم مصدق ملک
    وزیر مملکت پیٹرولیم مصدق ملک کا کہنا تھا کہ 60 دن سے روس سے مذاکرات چل رہے ہیں ،روس سے مذاکرات کے بعد مشترکہ اعلامیہ جاری ہوا ،روس سے تمام معاملات مارچ سے پہلے طے ہو جائیں گی روس نے یقین دہانی کروائی ہے کہ 20 سے 21دن ٹریول ٹائم ہے ، ایران کے ساتھ بارٹر ڈیل ہیں، اس پر پابندی لگی ہوئی ہے ،تیل کی مصنوعات کی قیمت زیادہ ہے ، تبادلے کے لیے زیادہ اشیا نہیں ہے پاکستان پر پابندی نہیں لگنے دیں گے ،ایل پی جی بارٹر کے ذریعے ایران سے آرہی ہیں،کراچی الیکٹرک کو ایک ہزار تک میگا واٹ روزانہ فراہم کر رہے ہیں کے الیکٹرک نے سوئی سدرن کو بھی ادائیگی کرنی ہے کے الیکٹرک کو 20روپے کی رعایت سے بجلی فراہم کی جارہی ہے کراچی الیکٹرک سے2015 سے کوئی معاہدہ موجود نہیں کے الیکٹرک سے نیا ایگریمنٹ آئندہ چند دنوں میں مکمل لیں گے تھر میں کے الیکٹرک کو سستا بجلی پلانٹ لگانے کے لیے سہولیات فرایم کریں گے،

    شہزاد وسیم کی جانب سے شرم سے ڈوب کر مرنے کے الفاظ پر حکومتی بینچوں پر احتجاج
    شہزاد وسیم نے کہا کہ حکومت کی ایک ترجیح ہے کہ سیاسی مخالفین کو کچلا جائے آئے روز ایک نئی کہانی دیکھتے ہیں ،آج نام کی حکومت ہے اخلاقی اتھارٹی نہیں ،وزرا کا امبار ہے مگر کوئی کام نہیں ہے بینک ہے پیسے نہیں ،الیکشن کمیشن ہے انتخابات نہیں ہر لفظ میں توہین کا پہلو ڈھونڈا جا رہا ہے ،یہ ملک کے ماحول کو سیاسی پستی میں لے کر جا رہے ہیں ,شہزاد وسیم کی جانب سے شرم سے ڈوب کر مرنے کے الفاظ پر حکومتی بینچوں پر احتجاج کیا گیا، چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ پہلے ان کی بات سن لیں وہ الفاظ حذف کر لیں، حکومتی اراکین نے کہا کہ عابدہ عظیم سے شہزاد وسیم معافی مانگیں، روبینہ خالد نے کہا کہ ہمیں دھمکیاں دینے کے لیے یہ اپوزیشن لیڈر بنے ہیں،شہزاد وسیم نے کہا کہ اگر کسی کو ناگوار گزرا تو میں معذرت چاہتا ہوں، بیٹیاں سب کی سانجھی ہوتی ہیں، اگر ہم ایسے لوگوں کا دفاع کرینگے تو ملک کیسے آگے چلے گا،میں نے کہا ہماری بچیاں ناکردہ گناہ کہ سزا کاٹ رہی ہیں، میں معافی مانگتا ہوں ان بچیوں سے جو نا کردہ گناہ کہ سزا کاٹ رہی ہیں، نوید قمر کی جانب سے نیشنل اسکلز یونیورسٹی ترمیمی بل 2023 پیش کیا گیا

    نیک نامی کی بات کرتے ہیں آپ کی نیک نامی پر کتابیں لکھی گئیں ہیں،مولا بخش چانڈیو
    سینیٹر مولا بخش چانڈیو نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر نے خاتون رکن کے ساتھ اچھے الفاظ استعمال نہیں کیے کوئی بھی ایسی حکومت نہیں جس سے غلطیاں نا ہوں انہوں نے جو رواج ڈالا گفتگو کا سیاسی بگاڑ کا یہ ٹھیک نہیں ان کا لیڈر کہتا ہے میرا نام بار بار نام نا لو آپ کا شوہر ناراض ہو جائے گا یہ جو زبان الفاظ استعمال کرتے ہیں وہ سنانے کے قابل نہیں نیک نامی کی بات کرتے ہیں آپ کی نیک نامی پر کتابیں لکھی گئیں ہیں ہمیں تو بلاول نے منع کیا ہے کہ ایسے الفاظ استعمال نا کریں اگر ہم وہ زبان استعمال کریں تو لوگ مزے لے لے کر بتائیں گے

    سستی بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں کی تفصیلات ایوان بالا میں پیش
    اسلام آباد ملک میں بجلی کی پیدوار میں کمی اور بڑھتی ہوئی قیمتیں ،سستی بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں کی تفصیلات ایوان بالا میں پیش کر دی گئیں،ایوان کو بتایا گیا کہ گزشتہ تین سالوں میں پانچ ہائیڈرو پاور پراجیکٹس منصوبوں پر کام شروع ہوا چار منصوبوں پر گزشتہ حکومت اور ایک منصوبے پر موجود حکومت نے کام کا آغاز کیا پانچ منصوبوں سے ملکی مجموعی بجلی کی پیداوار اور ہائیڈرو پاور کی صلاحیت میں 6ہزار 918میگا واٹ کا اضافہ ہوگا مہمند ڈیم پر ستمبر 2019 میں کام شروع ہوا دیامیربھاشاڈیم پر اگست 2020 کو کام شروع ہوا تربیلا کی پانچویں ایکسٹینشن کے منصوبے پر اگست 2021 کو کام کا آغاز کیا گیا ہارپوہائیڈرو پراجیکٹ کا آغازجولائی 2019 کو کیا گیا عطا آباد لیک منصوبے پر جولائی 2022میں کام شروع کیا گیا

    کارکن تپتی دھوپ میں سڑکوں پرخوار،موصوف ہیلی کاپٹر پرسوار،مریم کا عمران خان پر طنز

    خیبرپختونخوا حکومت کا ہیلی کاپٹر جلسوں میں استعمال کیا جا رہا ہے،وفاقی وزیر اطلاعات

    وہ کون ہے جس نے احسان فراموش عمران خان کیلیے ملک کی بقا کی خاطر سب کچھ کیا؟

    کامل علی آغا نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ایک طرف لوگ بھوک سے مر رہے ہیں دوسری جانب انتقامی کاروائیاں ہورہی ہیں،اگر کوئی بیوی کو جھڑک بھی دے تو مقدمہ بنا دیا جاتا ہے ،مقدمہ بعد میں ہوتا ہے اٹھا پہلے لیا جاتا ہے، شیخ رشید اس کی مثال ہے ،پرویز الہٰی5 ماہ اقتدار میں آئے اور 5 سال کے برابر کام کیا محسن نقوی وزیر اعلی ٰہوں گے تو صرف انتقامی کارروائیاں ہونگی مونس الہٰی او اہلیہ پر مقدمہ بنایاگیا ،راسخ الہٰی اوران کی اہلیہ کے خلاف بھی ایساہوا پرویز الہٰی کے وکیل کو اغوا کر لیا گیا ،ان کا کیاجرم ہے ؟

    ڈیمز وقت پر ہی مکمل ہونگے، گھر نہیں کہ دو ماہ میں بن جائیں، وزیر مملکت
    بہرامند تنگی نے کہا کہ ہائیڈرو الیکٹرسٹی ڈیموں کی تعمیر پر پیشرفت کی منصوبہ وار تفصیلات کیا ہیں؟ ابھی تک 9فیصد کام ہوا ہے اگلے سال مکمل ہونا تھا اب کیسے مکمل ہونگے؟ وزیر مملکت سعادت اعوان نے جواب میں کہا کہ سارے ڈیمز اپنے وقت پر مکمل ہوجائیں گے،ڈیمز سے بجلی بھی بنائی جاسکے گی یہ کوئی گھر نہیں جو دو ماہ میں مکمل ہوجائیں گے

    عمران ریاض کو واقعی خطرہ ہے ؟ عارف علوی شہباز شریف پر بم گرانے والے ہیں

    ویڈیو آ نہیں رہی، ویڈیو آ چکی ہے،کپتان کا حجرہ، مرشد کی خوشگوار گھڑیاں

    عمران خان کی محبت بھری شاموں کا احوال، سب پھڑے جان گے، گالی بریگیڈ پریشان

    عمران خان پرلاٹھیوں کی برسات، حالت پتلی، لیک ویڈیو، خواجہ سرا کے ساتھ

  • سینیٹ اجلاس میں سینیٹر مشتاق احمد بطور احتجاج روٹی لے آئے

    سینیٹ اجلاس میں سینیٹر مشتاق احمد بطور احتجاج روٹی لے آئے

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی زیر صدارت سینیٹ اجلاس ہوا

    قائد حزب اختلاف شہزاد وسیم نے سینیٹ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ پشاور دھماکے میں قیمتی جانیں ضائع ہوئیں جس پر افسوس ہے ،کل عوام کا معاشی قتل کیا گیا ،

    سینیٹر مشتاق احمد بطور احتجاج روٹی لے آئے اور کہا کہ کے پی میں روٹی سائز میں بھی چھوٹی ہے اور قیمیت بھی ذیادہ ہے کے پی کے میں جو آٹے کی قیمت ہے پنجاب اور سندھ میں اس سے کم ہے ،سینیٹ اجلاس میں وفاقی وزیر فوڈ سیکورٹی طارق بشیر چیمہ نے کہا کہ ہم پاکستان کو زرعی ملک تو کہتے ہیں لیکن لمحہ فکریہ یہ ہے آج حقیقت کچھ اور ہے آج ہم کاٹن برآمد کرنے کی بجائے درآمد کررہے ہیں میرا دل دکھی ہے کہ آج لوگ لائن میں لگ کر آٹا لیتے ہیں ہمیں معلوم ہے سندھ اور بلوچستان میں سیلاب سے گندم کی فصلوں کو نقصان پہنچا کہا گیا ملک میں گندم وافر مقدار میں موجود ہے تو آٹے کا بحران کیوں ہے؟ آن فلور کہتا ہوں خیبر پختونخوا سمیت جس صوبے نے جتنی گندم مانگی ہم نے دی گندم کی فراہمی وفاق کا نہیں بلکہ صوبوں کا کام ہے،

    سینیٹ اجلاس میں سینیٹر مشتاق احمد نگران وزیراعلی کے پی اعظم خان پر برس پڑے، سینیٹر مشتاق احمد نے کہا کہ کے پی میں 86 سالہ شخص کو نگران وزیراعلی لگا دیا، ایسا نگران وزیراعلی مسلط کیا ہے جو اپنے آپکو نہیں سنبھال سکتا جہاں سکیورٹی کرائسسز،فوڈ اور فنانشل کرائسسز ہیں وہ صوبہ ایسے نگران وزیراعلی کے حوالے کیا ہے

    عمران خان کو آرمی چیف سے کیا چاہئے؟ مبشر لقمان نے بھانڈا پھوڑ دیا

    عمران ریاض کو واقعی خطرہ ہے ؟ عارف علوی شہباز شریف پر بم گرانے والے ہیں

    ویڈیو آ نہیں رہی، ویڈیو آ چکی ہے،کپتان کا حجرہ، مرشد کی خوشگوار گھڑیاں

    عمران خان کی محبت بھری شاموں کا احوال، سب پھڑے جان گے، گالی بریگیڈ پریشان

    عمران خان پرلاٹھیوں کی برسات، حالت پتلی، لیک ویڈیو، خواجہ سرا کے ساتھ

  • بھارت کے ساتھ اس وقت کوئی بیک ڈور ڈپلومیسی نہیں،کوشش ہےکہ لائن آف کنٹرول اور تمام سرحدیں پر امن رہیں،حنا ربانی

    بھارت کے ساتھ اس وقت کوئی بیک ڈور ڈپلومیسی نہیں،کوشش ہےکہ لائن آف کنٹرول اور تمام سرحدیں پر امن رہیں،حنا ربانی

    اسلام آباد: وزیر مملکت خارجہ حنا ربانی کھر نےکہا ہےکہ کوشش ہےکہ لائن آف کنٹرول اور تمام سرحدیں پر امن رہیں۔

    باغی ٹی وی : سینیٹ اجلاس میں وزیر مملکت خارجہ حنا ربانی کھر نےکہا کہ سابقہ دور حکومت میں بیک ڈور ڈپلومیسی ہو رہی تھی، بھارت کے ساتھ اس وقت کوئی بیک ڈور ڈپلومیسی نہیں،بیک ڈور ڈپلومسی نتیجہ خیز ہو تو ضرور ہونی چاہیے-

    سینیٹ اجلاس،بہرا مند تنگی اور سیف اللہ ابڑو میں تلخ کلامی

    انہوں نے کہا کہ دنیا میں لوگ ہمیں کہتے ہیں کہ بھارت کے ساتھ امن کے راستے پر کیوں نہیں چلتے، اگرسرحد پار وزیراعظم کہےکہ ایٹمی اثاثے دیوالی کے لیے نہیں رکھے، تو آپ کیا کریں گے؟ –

    وزیر مملکت کا کہنا تھا کہ بھارت کے ساتھ تجارت پر کوئی بات چیت نہیں ہوئی، ابھی سرحد پار سے دشمنی ایک منفرد طرز کی ہے، جو سرحد پار حکومت کے باعث ہے،کوشش ہےکہ لائن آف کنٹرول اور تمام سرحدیں پر امن رہیں،خطے کے مفاد میں نہیں کہ لاشیں گریں، خون بہتا رہے، ہمیں سیاست کی بجائے ریاستی پالیسی کو اپنانا ہو گی ہم ایسا ریلیف ہر روز دیں گے جس سے ملک کے لوگ شہید ہونا بند ہوں-

    ریاست کا کام کاروبار کرنا نہیں، چیف جسٹس

    حنا ربانی کھرکا کہنا تھا کہ ہم امن کے راستے پر ہیں، پاکستان نے اپنی تاریخ سے سبق سیکھا لیکن خطے کے بعض ممالک نے نہیں سیکھا، پاکستان میں اقلیتیوں کو مکمل مذہبی تحفظ حاصل ہے بھارت میں اقلیتیوں کے ساتھ بہت برا سلوک ہوریا ہے اب بی بی سی کی دستاویزی فلم سے دنیا کو وہ سب آشکار ہوا ہے جو ہمارا موقف تھا۔

  • سینیٹ اجلاس،بہرا مند تنگی اور سیف اللہ ابڑو میں تلخ کلامی

    سینیٹ اجلاس،بہرا مند تنگی اور سیف اللہ ابڑو میں تلخ کلامی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی زیر صدارت سینیٹ اجلاس ہوا

    قائد حزب اختلاف شہزاد وسیم نے وقفہ سوالات میں بات کرنے کے لئے وقت مانگ لیا ۔ چئیرمین سینیٹ نے اجازت دے دی ،قائد حزب اختلاف سینیٹ ڈاکٹر شہزاد وسیم نے نقطہ اعتراض پر بات کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ گزشتہ دنوں پارلیمنٹ اندھیروں میں ڈوبی تھی وجہ معلوم نہیں ہوسکی رجیم چینج کے بعد بہت کچھ ہوا ،ڈاکٹر شہزاد وسیم کی تقریر کے دوران بہرہ مند تنگی نے شورشرابہ کیا سیف اللہ ابڑو اور بہرہ مند تنگی کے دوران تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا، بہرہ مند تنگی نے کہا کہ میں کسی کو بولنے نہیں دوں گا،ڈاکٹر شہزاد وسیم نے کہا کہ شہباز گل، اعظم سواتی کے بعد فواد چوہدری کو گرفتار کیا گیا الیکشن کمیشن کی جانبداری واضح نظر آ رہی ہے جب الیکشن کا وقت ہو تو وہ تیار نہیں ہوتا جب الیکشن کا وقت نہ ہو تو وہ الیکشن کمیشن کہتا ہے کہ ہم تیار ہیں، الیکشن کمیشن ایسا کام نہ کرے کہ جانبداری نظر آئے پنجاب میں نگران وزیر اعلی غیر جانبدار ہونا چاہئیے الیکشن کمیشن نے جانبدار کا نام چنا،محسن نقوی غیر جانبدار نہیں یے محسن نقوی نیب کا بینیفشری ہونے کی وجہ سے وزیر پنجاب کا اہل نہیں محسن نقوی رجیم چینج کا حصہ رہا ہے فواد چوہدری جو چادر میں ڈھانپ کر ہتھکڑیاں لگا کر پیش کیا فواد چودھری کو ایسے پیش کیا کیا گیا جیسے وہ بہت بڑا دہشت گرد ہو ہمیں اپنی تاریخ سے سبق سیکھنا ہوگا،

    سینیٹ اجلاس ،بہرا مند تنگی اور سیف اللہ ابڑو میں پھر تلخ کلامی ہوئی، سیف اللہ ابڑو نے کہا کہ تم ہوکون ؟ کسی کا آدھا نام لینے سے عزت نہیں بڑھے گی،بہرا مند تنگی اپنی نشست پر کھڑے ہوگئے، چیئرمین سینیٹ نے بیٹھنے کا کہہ دیا کہا کہ آپ لوگ کیوں وقت ضائع کررہے ہیں، سیف اللہ ابڑو نے کہا کہ جناب چیئرمین ا س کو خاموش کرائیں، اپنی نشست پر بٹھائیں، اب میں سندھ اور بلدیاتی انتخابات کی بات کرونگا پھر یہ غصہ کھاجائےگا،

    سینیٹ اجلاس میں سینیٹر آصف کرمانی اپنی ہی حکومت پر برس پڑے ،بولے وزرء کہاں ہیں ،وزراء کی پوری لائن خالی ہے، وزراء کو پابند بنایا جائے کہ وقت پر آیا کریں اور روز آیا کریں ہم جب اپوزیشن میں تھے تو اعتراض کرتے تھے ایک ہی پارلیمانی وزیر سارے جواب دیتا ہے آج بھی صورتحال مختلف نہیں آج بھی ایک وزیر مملکت سارے سوالات کے جوابات دیتے ہیں آج بھی وزراء کی لائن خالی نظر آتی ہے اگر وزراء نہیں آسکتے تو اس ایوان کو تالا لگا دیں مانتا ہوں اسلام آباد میں ٹھنڈ ہے لیکن ممبرز بھی تو پہنچ جاتے ہیں،

    ہم نہیں چاہتے کہ سرحدوں پر کشیدگی سے دونوں سائیڈ پر لاشیں گریں،حناربانی کھر
    سینیٹ اجلاس وقفہ سوالات کے دوران وزیر مملکت برائے خارجہ حناربانی کھر نے کہا کہ پاکستان میں اقلیتیوں کو مکمل مذہبی تحفظ حاصل ہے بھارت میں اقلیتیوں کے ساتھ بہت برا سلوک ہوریا ہے، مودی سے متعلق بی بی سی کی ڈاکومینٹری ثبوت ہے، بھارت کے منفی روئیے کے باوجود پاکستان امن کی راہ پر چلتا رہے گا، ایل او سی پر پاکستان بھارت کے مابین کشیدگی میں کمی آئی ہے، ہم خطے میں خون نہیں بہانا چاہتے،ہماری پالیسی بہت واضح ہے کہ ہم خطے میں امن اور استحکام چاہتے ہیں،ہم سرحدوں پر کشیدگی کے حق میں ہرگز نہیں،ہم نہیں چاہتے کہ سرحدوں پر کشیدگی سے دونوں سائیڈ پر لاشیں گریں،ہمیں سیاست کی بجائے ریاستی پالیسی کو اپنانا ہو گی،

    پاکستان کو گندم کی کمی کا سامنا ،اعدادوشمار نے گندم کے مزید بحران کا خدشہ ظاہر کردیا
    پاکستان کو گندم کی کمی کا سامنا ،اعدادوشمار نے گندم کے مزید بحران کا خدشہ ظاہر کردیا رواں مالی سال کے دوران ملک میں گندم کی پیداوار کھپت اور قلت کی تفصیلات ایوان بالا میں پیش کر دی گئی، ایوان میں بتایا گیا کہ رواں مالی سال پاکستان کو 23لاکھ میٹرک ٹن گندم کی قلت کا سامنا ہے رواں مالی سال گندم کی کل کھپت کا 3کروڑ میٹرک ٹن لگایا گیا رواں مالی سال گندم کی پیدوار کا تخمینہ 2کروڑ 63لاکھ میٹرک ٹن لگایا گیا کیری فارورڈ اسٹاک 20لاکھ میٹرک ٹن گندم ہے،گندم کی کل پیدوار کا مجموعی تخمینہ 2کروڑ 84لاکھ میٹرک ٹن لگایا گیا

    عمران خان کو آرمی چیف سے کیا چاہئے؟ مبشر لقمان نے بھانڈا پھوڑ دیا

    عمران ریاض کو واقعی خطرہ ہے ؟ عارف علوی شہباز شریف پر بم گرانے والے ہیں

    ویڈیو آ نہیں رہی، ویڈیو آ چکی ہے،کپتان کا حجرہ، مرشد کی خوشگوار گھڑیاں

    عمران خان کی محبت بھری شاموں کا احوال، سب پھڑے جان گے، گالی بریگیڈ پریشان

    عمران خان پرلاٹھیوں کی برسات، حالت پتلی، لیک ویڈیو، خواجہ سرا کے ساتھ

    سینیٹ اجلاس وقفہ سوالات کے دوران پاکستان کے کثیر الجہتی معاہدے جن میں بھارت بھی فریق ہے،تفصیلات ایوان میں پیش کر دی گئیں، تحریری جواب میں بتایا گیا کہ پاکستان نے 16 جون 2022 کو فارن پبلک ڈاکومنٹس ہیک کنونشن پر دستخط کئے،فارن پبلک ڈاکومنٹس برائے 1961 قانون سازی کیلئے ضرورت ختم کیلئے تھا،26 اکتوبر 2004 کو ہیک کنونشن پر بھارت نے بھی دستخط کئے،پاکستان نے کنونشن آن دی پروٹیکشن اینڈ پروموشن آف دی ڈائیورسٹی آف کلچرل ایکسپریشن پر دستخط کئے کنونشن آن دی پروٹیکشن اینڈ پروموشن آف دی ڈائیورسٹی آف کلچرل ایکسپریشن (2005) 4 جون 2022 سے رائج ہے،بھارت نے کنونشن آن دی پروٹیکشن اینڈ پروموشن پر15 دسمبر 2006کو دستخط کئےپاکستان نے 5 نومبر 2022 کو ٹی آئی پی پروٹوکول -2000 پر دستخط کئے،بھارت جے ٹی آئی پی پروٹوکول -2000 پر 5 مئی 2011 کو دستخط کئے،

    وزراء کی گاڑیوں پر جھنڈے کے استعمال پر اعتراض
    حکومتی اتحادی فاروق ایچ نائیک نے وزراء کی گاڑیوں پر جھنڈے کے استعمال پر اعتراض کیا، فاروق ایچ نائیک نے گاڑی پر جھنڈے کے استعمال پر چیئرمین سے رولنگ مانگ لی ،فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ اس ملک میں وزرا، وزرائے مملکت اور ایسے مشیر ہیں جو وزرا کا سٹیٹس استعمال کررہے ہیں ہر گاڑی پر جھنڈا لگایا جاتا ہے اور صوابدید کے تحت یہ سب کچھ ہورہا ہے اس معاملے پر چیئرمین سینیٹ رولز اور قانون کے مطابق رولنگ دیں ، سینیٹر یوسف رضا گیلانی نے فاروق ایچ نائیک کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ 85ء میں پاکستان کے جھنڈے لگانے کی اجازت نہیں تھی ایک تحریک تھی جس کے باعث جھنڈے لگانے پر پابندی تھی اس معاملے میں میں بھی کابینہ کا حصہ تھا تو اس وقت کے وزیراعظم کے سامنے معاملہ اٹھایا تھا وزیراعظم جونیجو نے اپنے دور میں وزرا اور وزرائے مملکت کی گاڑیوں پر جھنڈے کی اجازت دیجب وزراء، وزرائے مملکت یا وہ مشیر جنہیں وزرا کا سٹیٹس دیا جائیگا تو پھر جھنڈا بھی دیا جائیگا ، فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ ہم قانون کی بالادستی کی بات کررہے ہیں ، اس وقت ہم جس جگہ پہنچے ہیں وہ صوابدید کی ہی وجہ ہے اس حوالے سے چیئرمین سینیٹ کو رولز کے تحت اور قانون کے تحت رولنگ دینی چاہیئے ، چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے کہا کہ اس معاملے کو دیکھا جائیگا اور کل جھنڈے کے استعمال سے متعلق رولنگ دونگا

    کارکن تپتی دھوپ میں سڑکوں پرخوار،موصوف ہیلی کاپٹر پرسوار،مریم کا عمران خان پر طنز

    خیبرپختونخوا حکومت کا ہیلی کاپٹر جلسوں میں استعمال کیا جا رہا ہے،وفاقی وزیر اطلاعات

    وہ کون ہے جس نے احسان فراموش عمران خان کیلیے ملک کی بقا کی خاطر سب کچھ کیا؟

    سابقہ حکومت نے جاتے جاتے ایسے اقدامات کئے کہ ہمیں ڈیفالٹ کے دہانے پرملا ،عائشہ غوث پاشا
    سینیٹ اجلاس میں وزیر مملکت خزانہ عائشہ غوث پاشا نے کہا کہ پاکستان میں سیاسی ، معاشی عدم استحکام ہے توقع کرنا کہ کاروبار روٹین کے مطابق ہو گا ہم نے پاکستان کو اس نہج تک پہنچا دیا ہے سابقہ حکومت نے جاتے جاتے ایسے اقدامات کئے کہ ہمیں ڈیفالٹ کے دہانے پرملا آئی ایم ایف پروگرام معطل تھا لوگ ہماری بات ماننے کو تیار نہیں تھے یوکرائن کی جنگ کے باعث بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا عالمی ماحول نے پاکستان کو بڑا دھچکا دیا ہم جس حد تک کر سکتے تھے ہم نے کیا ،آئی ایم ایف پروگرام کے لئے مشکل اقدامات کرنا پڑے ،ہم درست اقدام کر رہے تھے جس کو دوسرے سیاست کی نظر کر رہے تھے ملکی مفاد میں سیاست کو ترجیح دی جاتی ہے تو یہی حال ہوتا ہے جو پاکستان کا آج ہے آئی ایم ایف کے پاس جانے کے سوا کوئی راستہ نہیں تھا جتنا بڑا سیلاب آیا اس سے پہلے وہ کبھی نہیں آیا

    سینیٹ اجلاس میں سینیٹر مشتاق احمد نے کہا کہ فواد چوہدری کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ درست نہیں، یہ کوئی دلیل نہیں کہ وہ دوسروں کے ساتھ کیا کرتے تھے، اس وقت فواد چوہدری جو کرتا تھا وہ غلط تھا لیکن آج جو فواد چوہدری کے ساتھ جو ہو رہا ہے وہ بھی غلط ہے،ہمیں اصولوں کے ساتھ رہنا چاہئے افراد کے ساتھ نہیں، منشی کہنا کون سی بڑی بات ہے؟ یہاں تو پرویز مشرف کے خلاف ہائی کورٹ کا فیصلہ موجود ہے کہ انہیں پھانسی دی جائے، مشرف سے متعلق تو یہاں کوئی بات نہیں کرتا، توہین پارلیمنٹ اور توہین عوام پر کبھی بات نہیں ہوئی،

  • گزشتہ چار سال میں پاکستان میں قتل ہونے والے صحافیوں کی تفصیل سینیٹ میں پیش

    گزشتہ چار سال میں پاکستان میں قتل ہونے والے صحافیوں کی تفصیل سینیٹ میں پیش

    گزشتہ چار سال میں پاکستان میں قتل ہونے والے صحافیوں کی تفصیل سینیٹ میں پیش کر دی گئی ہے.

    گزشتہ چار سال میں پاکستان میں قتل ہونے والے صحافیوں کی تفصیل سینیٹ میں پیش کر دی گئ ہے۔آج بروز جمعہ چیئرمین صادق سنجرانی کی زیرصدارت سینیٹ کا اجلاس ہوا جہاں گزشتہ چار سال میں قتل ہونے والے صحافیوں کی تفصیلی رپورٹ پیش کی گئی، رپورٹ کے مطابق چار سال کے دوران ملک میں 42 صحافیوں کو قتل کیا گیا۔

    پنجاب میں 15 ، سندھ 11 ،خیبر پختونخواہ 13 اور بلوچستان میں 3 صحافی قتل ہوئے، پنجاب میں صحافیوں کے قتل پر 26 ملزمان کے خلاف کارروائی کی گئی جبکہ پنجاب میں صحافیوں کے قتل پر 7 ملزمان گرفتار اور 2 ضمانت پر ہیں، پنجاب میں صحافیوں کے قتل پر 5 ملزمان انڈر ٹرائل اور 8 مفرور جبکہ 3 ملزمان پولیس مقابلوں میں مارے گئے ہیں اور ایک کو بری کردیا گیا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    جنوری2023 کیلیے 533.453ارب کا ٹیکس ہدف مقرر
    توشہ خانہ میں عمران خان کا گھٹیا کردار سامنے آیا ہے. وزیر داخلہ راناثنااللہ
    جنوبی ایشیا میں پاکستان روس کا اہم اتحادی ہے. صدر پیوٹن
    لیونل میسی کی پی ایس جی رونالڈوکی سعودی آل اسٹارزٹیم کے خلاف فتح
    وزیر خارجہ کی جنوبی افریقہ کے بین الاقوامی تعلقات اور تعاون کے وزیر سے ملاقات
    حدیقہ میمن کیس:اجتماعی زیادتی کا جرم ثابت ہونے پر چار ملزمان کو عمر قید کی سزا
    ایرانی سفیر کی دفتر خارجہ طلبی، دہشت گردانہ حملے پرتشویش کا اظہار
    رپورٹ کے مطابق سندھ میں 11صحافیوں کے قتل کے بعد 11ملزمان کے خلاف کارروائی کی گئی، صحافیوں کے قتل پر 4ملزمان گرفتار، 7 انڈر ٹرائل ہیں۔ جبکہ خیبرپختونخوا میں صحافیوں کے قتل کے الزام میں 13ملزمان کے خلاف کارروائی کی گئی، جن میں سے 4 ملزمان انڈرٹرائل، 2بری، ایک مفرور اور 6 متفرقات ہیں۔ اس کے علاوہ بلوچستان میں صحافیوں کے قتل کے الزام میں 5ملزمان کے خلاف کارروائی کی گئی۔

  • فیصل واوڈ کی نشست پر انتخاب کامعاملہ،کاغذات نامزدگی آج سے 7 جنوری تک جمع ہوں گے

    فیصل واوڈ کی نشست پر انتخاب کامعاملہ،کاغذات نامزدگی آج سے 7 جنوری تک جمع ہوں گے

    فیصل واوڈا کےاستعفی سےخالی سینیٹ کی نشست پرانتخاب کامعاملہ، کاغذات نامزدگی آج سے 7 جنوری تک جمع ہوں گے۔

    باغی ٹی وی : نامزد امیدواروں کی فہرست 9 جنوری کو لگائی جائے گی،کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال 12 جنوری کوہوگی ،کاغذات نامزدگی 20 جنوری تک واپس لیے جاسکیں گےپولنگ 25 جنوری کو کی جائے گی جبکہ سندھ اسمبلی کوپولنگ اسٹیشن بنایاجائےگا۔

    خیال رہے کہ سندھ سے ایوان بالا کی جنرل نشست فیصل واوڈا کے استعفی کے باعث خالی ہوئی تھی، انہوں نے اپنا استعفا چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کو پیش کیا جو منظور کرلیا گیا تھا فیصل واوڈا سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں مستعفی ہوئے تھے-

    الیکشن کمیشن نے 2018 کے انتخابات میں کاغذات نامزدگی کے ساتھ دہری شہریت پر جھوٹا حلف نامہ جمع کروانے پر فیصل واوڈا کو نااہل قرار دیا تھا۔ جس کے خلاف انہوں نے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی تھی سپریم کورٹ نے فیصل واوڈا کو تاحیات نااہلی کیس میں دو آپشن دیئے تھے۔

    عدالت نے کہا تھا کہ اپنی غلطی تسلیم کریں اور 63 (1) سی کے تحت نااہل ہوجائیں، بصورت دیگر عدالت 62 (1) ایف کے تحت کیس میں پیش رفت کرے گی فیصل واوڈا نے اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوئے سینیٹر شپ سے استعفا دے دیا تھا جس پر ان کی تاحیات نااہلی ختم ہوگئی تھی۔

  • پارلیمنٹ ہاؤس میں آئی ٹی کمپلیکس کا افتتاح کر دیا گیا

    پارلیمنٹ ہاؤس میں آئی ٹی کمپلیکس کا افتتاح کر دیا گیا

    چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی نے پارلیمنٹ ہاؤس میں حال ہی میں قائم کیے گئے آئی ٹی کمپلیکس کا افتتاح کیا۔

    ڈی جی (آئی ٹی) سینیٹ، سید عاصم رضا نے چیئرمین سینیٹ کو ڈیجیٹل پارلیمانی فریم ورک کے تحت شروع کیے گئے جاری آئی ٹی منصوبوں کے بارے میں آگاہ کیا، جو کہ اپگریڈیشن، آئی ٹی انفراسٹرکچر، پارلیمانی عمل کی آٹومیشن اور سٹیزن سینٹرک آئی ٹی خدمات کی فراہمی پر مشتمل ہے۔ چیئرمین سینیٹ کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ نیا قائم کردہ آئی ٹی کمپلیکس ٹیلی کاسٹنگ سیل، سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ ہال، ہیلپ ڈیسک، آئی ٹی اسٹور اور ورکشاپ پر مشتمل ہے۔

    چیئرمین سینیٹ نے سینیٹ کارروائی کے اینالاگ ویڈیو ریکارڈ کی ڈیجیٹلائزیشن کے منصوبے کا بھی افتتاح کیا۔ چیئرمین سینیٹ نے آئی ٹی ڈائریکٹوریٹ کی کاوشوں کو سراہا۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ آئی سی ٹی نے عوامی اہمیت کے حامل اداروں کے کام کاج میں انقلاب برپا کر دیا ہے۔ اس مقصد کے لیے پارلیمنٹ کو لوگوں کی سہولت کے لیے انفارمیشن ٹیکنالوجی پر زیادہ سے زیادہ انحصار کرنے کی ضرورت ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ ہمارا مقصد جدید ترین آئی سی ٹی سروسز متعارف کروا کر پارلیمنٹ کے کام کاج کو تیز کرنا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ نیا تیار کردہ آئی ٹی کمپلیکس سینیٹرز، سینیٹ کے عملے کو زیادہ سے زیادہ مدد اور ادارے کو مزید موثر بنائے گا۔ اس موقع پر سینیٹرز کہدہ بابر، فدا محمد اور سیکرٹری سینیٹ قاسم صمد خان بھی موجود تھے۔

    سال 2020 کا پہلا چائلڈ پورنوگرافی کیس رجسٹرڈ،ملزم لڑکی کی آواز میں لڑکیوں سے کرتا تھا بات

    پانچ بچوں کی ماں سے "خفیہ”ملنے آنیوالے تاجر کا قاتل گرفتار،کس نے کیا قتل؟ اہم انکشاف

    عید کے حوالے سے کی جانے والی شراب کی بڑی سپلائی ناکام بنا دی گئی

    بھارت ، سال کے ابتدائی چار ماہ میں کی 808 کسانوں نے خودکشی