Baaghi TV

Tag: سینیٹ

  • بلوچستان کےمختلف کالجز پر مشتمل پروفیسرزاورلیکچرارکی پارلیمنٹ ہاؤس آمد

    بلوچستان کےمختلف کالجز پر مشتمل پروفیسرزاورلیکچرارکی پارلیمنٹ ہاؤس آمد

    چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی نے کہا ہے کہ معاشرے میں مثبت تبدیلی لانے کیلئے نوجوان نسل کا ہمیشہ کلیدی کردار رہا ہے تاہم اساتذہ پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ نوجوان نسل کی کردار سازی کے ساتھ ساتھ تخلیقی سوچ اور مثبت طرز عمل کو پروان چڑھانے کیلئے اپنی توانائیاں بروئے کار لائیں تاکہ ملک کی مجموعی سماجی و معاشی ترقی میں بھر پور کردار ادا کیا جا سکے۔

    چیئرمین سینیٹ نے ان خیالات کا اظہار صوبہ بلوچستان کے مختلف کالجز پر مشتمل پروفیسرز اور لیکچرار کے ایک وفد سے پارلیمنٹ ہاؤس میں ملاقات کے دوران کیا۔ وفد ان دنوں پاکستان کے دیگر دوسرے صوبوں کے تعلیمی اداروں اور جامعات کے مطالعاتی دورے پر ہے۔

    چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے بلوچستان کو مختلف قدرتی وسائل سے نوازاہے اور ان قدرتی وسائل سے استفادہ کر کے صوبے کی ترقی کا عمل تیز تر کیا جا سکتا ہے۔ تاہم انہوں نے یہ بات زور دے کر کہی کہ اس سلسلے میں مقامی سطح پر پیشہ وارانہ تربیت اور مہارت کو عام کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں سرمایہ کاری کے ذریعے روزگار کے مواقع پیدا کئے جا سکتے ہیں اور اس مقصد کی خاطر نوجوان نسل میں کاروباری سوچ اور فکر کی نشو ونماء ضروری ہے۔ چیئرمین سینیٹ نے اساتذہ پر زور دیا کہ وہ بچوں کی ذہین سازی کریں تا کہ وہ ملک کی ترقی میں مثبت کردار ادا کر سکیں۔ چیئرمین سینیٹ نے تعلیمی اور مطالعاتی دوروں کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ان اقدامات سے دیگر تعلیمی اداروں کے ساتھ رابطہ کاری اور ایک دوسرے کے تجربات سے استفادہ کرنے کا موقع ملتا ہے۔

    چیئرمین سینیٹ نے وفد کو بتایا کہ ایوان بالاء میں تعلیم کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک کاکس تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے اور جلد ہی اس کا باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک اہم فورم کے طور پر صوبوں کے ساتھ مل کر تعلیم کے فروغ، تعلیم کے شعبے میں پیش آنے والی مشکلات اور پسماندہ علاقوں میں تعلیم اداروں کو جدید خطوط پر استوار کرنے کیلئے اپنی سفارشات مرتب کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے اساتذہ اور پروفیسرز بھی اس فورم کے ساتھ ملکر ایسی تجاویز مرتب کر سکتے ہیں جس سے صوبے میں تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔ چیئرمین سینیٹ نے وفد کو ایوان بالاء کے اغراز و مقاصد اور آئینی کردار کے بارے میں آگاہ کیا۔

    پی ٹی آئی کارکنان کا مسجد میں گھس کر امام مسجد پر حملہ، ویڈیو وائرل

    پی ٹی آئی کے منحرف رکن اسمبلی کے گھر پر حملہ،فائرنگ،قاتلانہ حملہ کیا گیا، بیٹے کا دعویٰ

    اللہ خیر کرے گا،دعا کریں پاکستان کی خیر ہو ،شہباز شریف پارلیمنٹ ہاؤس پہنچ گئے

    غیرت کے نام پر استعفے دینے والے آج عدالت چلے گئے، ثانیہ عاشق

    قبل ازیں اساتذہ کے وفد نے چیئرمین سینیٹ کو بتایا کہ اس مطالعاتی دورے میں بلوچستان کے مختلف کالجز کے سینئر اساتذہ، لیکچرار اور پروفیسرز شامل ہیں۔ وفد نے دورے کے اغراض و مقاصد کے بارے میں چیئرمین سینیٹ کو آگاہ کیا۔ انہوں نے چیئرمین سینیٹ کے خیالات سے اتفاق کیا۔ملاقات میں سینیٹر نصیب اللہ بازئی بھی موجود تھے

  • قائم مقام گورنراسٹیٹ بینک آف پاکستان کے خلاف تحریک استحقاق واپس

    قائم مقام گورنراسٹیٹ بینک آف پاکستان کے خلاف تحریک استحقاق واپس

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قواعد و ضوابط اور استحقاق کا اجلاس بدھ کو چیئرمین کمیٹی سینیٹر محمد طاہر بزنجو کی زیر صدارت پارلیمنٹ لاجز میں منعقد ہوا۔

    کمیٹی نے سینیٹ کے اجلاس کے دوران سینیٹر بہرامند خان تنگی کی جانب سے پیش کی جانے والی سینیٹ کے قواعد و ضوابط و طریقہ کار 2012 کے قاعدہ57 میں مجوزہ ترمیم پر بحث کی گئی۔ ترمیم میں ضمنی سوالات کی تعداد تین سے کم کر کے ایک کرنے کی تجویز دی گئی۔ سینیٹر بہرامند خان تنگی نے کہا کہ اس ترمیم کے تحت چیئرمین سینیٹ ایک سے زائد ضمنی سوال کی اجازت نہیں دیں سکیں گے۔ وزارت نے ترمیم کی حمایت نہیں کی کیونکہ اس سے پارلیمنٹ میں ممبران کو آزادی اظہار رائے کے آئین کے آرٹیکل (1) 66 کی خلاف ورزی ہو سکتی ہے۔سابق چیئر مین سینیٹ سینیٹر میاں رضاربانی اور کمیٹی کے دیگر ارکان نے بھی ترمیم کی مخالفت کی جس پر سینیٹر بہرامند خان تنگی نے مجوزہ ترمیم واپس لے لی۔

    سینیٹر منظور احمد کاکڑ کی جانب سے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے قائم مقام گورنر کے خلاف تحریک استحقاق کا معاملہ بھی زیر غور آیا۔ محرک نے کمیٹی کو قائم مقام گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے خلاف اپنے تحفظات اور شکایت سے آگاہ کیا۔ ان کا موقف تھا کہ اراکین پارلیمنٹ عوامی مسائل سے متعلق حکومتی عہدیداروں کو فون کرتے ہیں لیکن جب بھی انہوں نے اور سینیٹ اور قومی اسمبلی کے کچھ دیگر اراکین نے قائم مقام گورنر اسٹیٹ بینک کو فون کیا تو انہوں نے کبھی جواب نہیں دیا۔ قائم مقام گورنر اسٹیٹ بینک نے اپنی جانب سے غفلت برتنے پر غیر مشروط طور پر معذرت کر لی اور کہا کہ یہ نادانستگی کی وجہ سے ہوا اور اسٹیٹ بینک پارلیمنٹرینز کی خدمات کو نظرانداز کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا۔ انہوں نے کہا کہ ماضی قریب میں مالی معاملات کے حوالے سے مصروفیات کی وجہ سے وہ اپنے موبائل پر کی گئی کالوں کا جواب نہیں دے سکے۔ سینیٹر منظور احمد کاکڑ نے معذرت قبول کرتے ہوئے قائم مقام گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے خلاف تحریک استحقاق واپس لے لی۔

    سینیٹر میاں رضا ربانی کی جانب سے پیش کردہ رولز 9 میں مجوزہ ترمیم اور سینیٹ میں قواعد و ضوابط اور طریقہ کار میں فورتھ شیڈول کی شمولیت کو بھی زیر غور لایا گیا۔ سینیٹر رضا ربانی نے اس بات پر زور دیا کہ چیئرمین سینیٹ و ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کا انتخاب فورتھ شیڈول کی شق کے مطابق اراکین سینیٹ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایوان کانجی معاملہ ہے۔ سینیٹر رضا ربانی نے کہا کہ چیئرمین سینیٹ اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے انتخابات الیکشن کمیشن کی سرپرستی میں کروانا اور ایوان بالاء کے اختیارات الیکشن کمیشن کو دینا پارلیمنٹ کی خودمختاری کے خلاف ہے۔ کمیٹی نے معاملے پر مزید غور و خوض کے لیے معاملہ کو موخر کر دیا کیونکہ وزیر مملکت برائے وزارت قانون و انصاف شہادت اعوان نے وفاقی وزیر قانون و انصاف کی جانب سے کمیٹی کو اس معاملے کے التوا کی درخواست کی۔ وزیر مملکت برائے وزارت قانون و انصاف نے کمیٹی کو بتایا کہ وفاقی وزیر اس معاملے پر وزارت کا موقف کمیٹی اجلاس میں ذاتی طور پر دینا چاہتے تھے۔

    فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ

    سپریم کورٹ نے دیا پی ٹی آئی کو جھٹکا،فواد چودھری کو بولنے سے بھی روک دیا

  • بلدیاتی انتخابات میں خواتین ووٹرز کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ ہوا،الیکشن کمیشن

    بلدیاتی انتخابات میں خواتین ووٹرز کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ ہوا،الیکشن کمیشن

    بلدیاتی انتخابات میں خواتین ووٹرز کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ ہوا،الیکشن کمیشن

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پارلیمانی امور کہ اجلاس سینیٹر تاج حیدر کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔

    ایرا ملازمین کے مستقبل کے حوالے سے کمیٹی کی جانب سے 2020 میں جاری کی گئی سفارشات پر عمل درآمد کا جائزہ لیا گیا ۔ ایرا کے سینیئر حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ ایرا کے تمام ملازمین کنٹریکٹ اور ڈیلی ویجز کی بنیاد پر بھرتی کیے گئے تھے اورملازمین کو کنٹریکٹ کی میعاد ختم ہونے پر ہی قانون کے مطابق ملازمت سے برخاست کیا گیا ہے چیئرمین کمیٹی سینیٹر تاج حیدر نے کہا کہ چونکہ ایرا کو این ڈی ایم اے میں زم کرنے کا فیصلہ ہو چکا ہے اورملک میں سیلاب کی صورت حال کو دیکھتے ہوئے ہمیں ایرا کے تربیت یافتہ لوگوں کی ضرورت ہوگی اسلئے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ملازمین کو اُنکی ملازمت پر بحال کیا جائے ایرا حکم نے بتایا کہ رواں مہینے کے آخر میں ایرا بورڈ میٹنگ میں معاملے کا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے قانون کے مطابق فیصلہ کیا جائےگا۔

    الیکشن کمیشن کے حکام نے حالیہ بلدیاتی اور ضمنی الیکشن کے دوران ووٹر لسٹوں میں پائی جانے والی بے ضابطگیوں پر کمیٹی کو تفصیلی بریفنگ دی خصوصی سیکریٹری الیکشن کمیشن نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ الیکشن پرانی ووٹر لسٹوں کے مطابق کیے منعقد کیے گئے تھے اور انتخابی نظام میں ابھی بھی بہت ساری خامیاں پائی جاتی ہیں جن کو دور کرنے کے لیے کمیشن نادرا کے ساتھ مل کر انتخابی نظام کو بہتر بنانے کی مسلسل کوشش میں ہے انہوں نے کمیٹی کو بتایا کہ لوگ اپنا گھر تو تبدیل کر لیتے ہیں لیکن آگاہی نہ ہونے کی وجہ سے نادرا ریکارڈ میں اپنے نئے پتے کا اندراج نہیں کرواتے جس کی وجہ سے الیکشن والے دن مسائل کا سامنا رہتا ہے۔ الیکشن کمیشن نے ان تمام مشکلات کو کم کرنے کے لیے گھر گھر جا کر ووٹرز کی تصدیق کا عمل مکمل کر لیا ہے اوراسکے مطابق نئی ووٹر لسٹیں نو ستمبر کے بعد دستیاب ہونگی۔

    الیکشن کمیشن کے حکم نے بتایا کہ جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے آئندہ انتخابات میں ایک محفوظ آر ٹی ایس سسٹم کے تحت پولنگ اسٹیشنز سے الیکشن کے نتائج کی ترسیل کا نظام بنایا جا رہا ہے۔ دستخط شدہ فارم 45 کی بروقت ترسیل کو ممکن بنایا جائےگا۔ خواتین ووٹرز کی رجسٹریشن اور آئی ڈی کارڈز کی فراہمی کے لیے نادرا کے ساتھ مل کر ملک کے مختلف علاقوں میں مہم چلائی جا رہی ہے۔ جسکی وجہ سے حالیہ بلدیاتی انتخابات میں خواتین ووٹرز کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے۔ عام عوام میں آگاہی کے لیے میڈیا کے ذریعے کمپین بھی شروع کی گئی ہے۔

    سینٹر ثانیہ نشتر اور دیگر ارکان نے کمیشن کی جانب سے اس ضمن میں کی گئی کوششوں کو سراہا۔ چیئرمین کمیٹی سینیٹر تاج حیدر نے کہا کہ الیکشن کے لیے وقت بہت کم رہ گیا ہے اور صاف و شفاف الیکشن کا انعقاد الیکشن کمیشن کی ذمےداری ہے۔ چیئرمین کمیٹی نے ہدایت دی کہ نادرا کے ساتھ مل کر ان تمام مسائل کا حل نکالا جائے اور اگر اس میں کسی قسم کی قانون سازی کی ضرورت ہے تو اس حوالے سے کمیشن اپنی سفارشات کمیٹی کو ارسال کرے۔

    ممنوعہ فنڈنگ کیس،الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا،تحریک انصاف "مجرم” قرار’

    ،عمرا ن خان لوگوں کو چور اور ڈاکو کہہ کے بلاتے تھے، فیصلے نے ثابت کر دیا، عمران خان کے ذاتی مفادات تھے

    سینیٹ اجلاس میں "فرح گوگی” کے تذکرے،ہائے میری انگوٹھی کے نعرے

    فرح خان بنی گالہ کی مستقل رہائشی ،مگرآمدروفت کا ریکارڈ نہیں، نیا سیکنڈل ،تحقیقات کا حکم

  • ججز تقرری سے متعلق آئینی ترمیمی بل 2022 اتفاق رائے سے سنیٹ نےمنظورکرلیا

    ججز تقرری سے متعلق آئینی ترمیمی بل 2022 اتفاق رائے سے سنیٹ نےمنظورکرلیا

    اسلام آباد:سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف نے ججز تقرری کے طریقہ کار سے متعلق آئینی ترمیمی بل 2022 اتفاق رائے سے منظور کر لیا۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف نے آئینی ترمیمی بل 2022 میں ججز کی تقرری سے متعلق جوڈیشل کمیشن اور انسیشن کمیٹی کا ڈھانچہ اور اختیارات واضح کردیے گئے۔

    آرٹیکل 175 اے میں مجوزہ ترمیم کے ذریعے جوڈیشل کمیشن کے ممبران کی تعداد 9 سے کم کرکے 7 کردی گئی ہے۔

    نئی مجوزہ آئینی ترمیم کے بعد جوڈیشل کمیشن اور انسیشن کمیٹی کو 90 روز کے اندر خالی آسامی پر جج کی تعیناتی کرنا ہوگی۔ اس سے قبل سپریم کورٹ نے پارلیمانی کمیٹی برائے ججز تقرری کو عدالتی نظرثانی سے مشروط کرکے غیرمؤثر کردیا تھا۔

    جوڈیشل کمیشن میں ایک سابق جج کی نمائندگی ختم کرکے حاضر سروس جج کی تعداد بھی 4 سے کم کرکے 3 کردی گئی۔ انیسیشن کمیٹی 60 روز میں ہائیکورٹ کی خالی آسامی پر نام بھجوانے کی مجاز ہوگی۔

    سینیٹر فاروق ایچ نائیک کا کہنا ہے کہ ہائیکورٹ میں اگر ایک سیٹ خالی ہے تو انسیشن کمیٹی جوڈیشل کمیشن کو 2 نام بھیجے گی۔ اس انسیشن کمیٹی میں چیف جسٹس، دو سینئیر ججز، صوبائی ایڈوکیٹ جنرل اور سینئیر ممبر جو سپریم کورٹ کا وکیل ہوگا اس کو متعلقہ بار منتخب کرے گی۔

    چیئرمین کمیٹی سینیٹر علی ظفر کا کہنا ہے کہ کمیٹی میں 3 سینئر ججز ہوں گے، اس کے ساتھ چیف جسٹس ہوں گے تو ججز کی تعداد 4 ہو جائے گی۔ ریٹائرڈ جج کی نمائندگی ختم کردی گئی ہے۔علی ظفر کا کہنا تھا کہ وزیر قانون، اٹارنی جنرل اور جو بار کا نمائندہ کمیٹی کے رکن ہوں گے۔ پارلیمانی کمیٹی کی طاقت پارلیمان کو واپس دے دی گئی ہے۔

  • رضاربانی نے صدرمملکت عارف علوی کے استعفے کا مطالبہ کردیا

    رضاربانی نے صدرمملکت عارف علوی کے استعفے کا مطالبہ کردیا

    اسلام آباد:رضاربانی نے صدرمملکت عارف علوی کے استعفے کا مطالبہ کردیا،اطلاعات کے مطابق سابق چیئرمین سینیٹ رضا ربانی کی پی ٹی آئی کے عارف علوی کے خلاف بطور صدر پاکستان 6 نکاتی چارج شیٹ پیش کرتے ہوئے فی الفورمستعفی ہونے کا مطالبہ کردیا ہے

    رضا ربانی کیطرف سے اس چارچ شیٹ میں کہا گیا ہے کہ صدرمملکت عارف علوی پاک فوج کے سپریم کمانڈرہیں اور ان کو لسبیلہ میں شہید ہونے والے پاک فوج کے افسران اور جوانوں کے شہدا کے جنازوں میں جانا چاہیے تھا ، مگر وہ نہیں گئے

     

    رضا ربانی دوسرا جو اعتراض کیا ہے اس میں الزام لگایا ہے کہ "بحیثیت صدر پاکستان جو کہ پاک فوج کے سپریم کمانڈر بھی ہیں کے ہوتے ہوئے بھی ایک خاص سیاسی پارٹی کے مفادات کے لیے غیر آئینی غیر قانونی کام بھی کرتے رہے "صدرمملکت افواج پاکستان کے سپریم کمانڈر کی حیثیت میں سیاست بازی سے دور رہنے کے پابند ہیں لیکن وہ ایک سیاسی جماعت کے مفادات کیلئےآئین کی مسلسل خلاف ورزی کر رہے ہیں

    رضا ربانی نے این ایف سی کے لیے بلوچستان سے ایک رکن کی نامزدگی کو بھی ایشو بنایا ہے

    رضا ربانی نے مختلف الزامات لگاتے ہوئے کہا ہے کہ چونکہ صدر مملکت آئینی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام رہےاس لیے اب ان کا عہدے پر براجمان رہنا جائز نہیں، رضا ربانی نے مزید کہا کہ صدر نے غیر آئینی طور پرقومی اسمبلی تحلیل کردی تھی ،جس کے سبب پر وہ انیس تہتر کے آئین کی دفعہ 95 کے تحت وہ اس عہدے کے قابل نہیں رہے لٰہذا ان کو جلد از جلد اپنے عہدے سے مستعفی ہوجانا چاہیے

     

     

    یاد رہے کہ  اس سلسلے میں صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کا کہنا ہے کہ میری شہیدوں کے جنازے میں عدم شرکت کو غیر ضروری طور پر متنازع بنایا جا رہا ہے۔

    مائیکرو بلاگنگ سائٹ پر جمعہ 5 اگست کو اپنے بیان میں صدر مملکت پاکستان ڈاکٹر عارف علوی نے لکھا کہ اس تمام غیرضروری مشق سے مجھے نفرت انگیز ٹویٹس کرنے والوں کی غیر واضح الفاظ میں مذمت کرنے کا موقع ملتا ہے جو نہ تو ہماری ثقافت اور نہ ہی ہمارے مذہب سے واقف ہیں۔

     

     

    انہوں نے یہ بھی لکھا کہ میں نے سیکڑوں شہدا کے خاندانوں سے رابطے کیے ہیں، جنازوں میں شرکت اور تعزیت کے لیے ان سے ملاقات کی ہے۔ آپ کی نمائندگی کرتے ہوئے میں یہ کام اپنا فرض سمجھتا ہوں۔ تمام خاندانوں کو اپنے شہدا پر ہمیشہ فخر ہوتا ہے، لیکن ہم سب اس دنیا میں غمگین اور ذاتی نقصان کو تسلیم کرتے ہیں۔

     

    صدر کا مزید لکھنا تھا کہ خصوصی طور پر ان شہدا کے اہل خانہ سے تعزیت کرنا نہایت مشکل کام ہے جہاں ان کے لواحقین میں چھوٹے بچے ہوں۔

    ڈاکٹر عارف علوی کے مطابق مجھے اس بات پر کوئی شبہ نہیں کہ پاکستان ان کی لازوال قربانیوں کی وجہ سے ہی محفوظ ہے اوریہی بات میرا پاکستان پر فخر مزید بڑھاتی ہے۔ پاکستان ہمیشہ زندہ اور پائندہ رہے گا۔

     

    واضح رہے کہ یکم اگست کو بلوچستان کے علاقے لسبیلہ میں بارشوں کے باعث آنے والے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیوں میں مصروف پاک فوج  کا ہیلی کاپٹر لاپتا ہوگیا تھا جس میں کور کمانڈر سمیت 6 افراد سوار تھے، بعد ازاں 2 اگست کو لاپتا ہوجانے والے فوجی ہیلی کاپٹر کا ملبہ مل گیا تھا۔

  • عمران خان کے خلاف تحقیقات کے لئے انکوائری کمیشن تشکیل دیا جائے، اراکین سینیٹ

    عمران خان کے خلاف تحقیقات کے لئے انکوائری کمیشن تشکیل دیا جائے، اراکین سینیٹ

    حکومت سے تعلق رکھنے والے اراکین سینیٹ نے کہا ہے کہ کسی سیاسی جماعت کو ممنوعہ فنڈنگ میں ملوث نہیں ہونا چاہیے، پی ٹی آئی کو الیکشن کمیشن کا فیصلہ ہضم نہیں ہو رہا، عمران خان کے خلاف تحقیقات کے لئے انکوائری کمیشن تشکیل دیا جائے۔

    وفاقی کابینہ نےعمران خان کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کی منظوری دیدی

    ایوان بالا کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے سینیٹر نثار کھوڑو نے کہا کہ کسی سیاسی جماعت کو ممنوعہ فنڈنگ میں ملوث نہیں ہونا چاہیے، پی ٹی آئی نے قوم کی امیدوں کا خون کیا ہے، الیکشن کمیشن پی ٹی آئی کا لگایا ہوا ہے، جب فیصلہ ان کے حق میں آتا ہے تو خوش ہوتے ہیں جب فیصلہ خلاف آتا ہے تو تنقید کرتے ہیں، سوچ سمجھ کر بات کرنی چاہیے۔

    سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کہا کہ پی ٹی آئی کو الیکشن کمیشن کا فیصلہ ہضم نہیں ہو رہا، چیف الیکشن کمشنر اور دو ممبر ان کے دور میں لگائے گئے، ایک اور ممبر بھی ان کا نامزد کردہ ہے، انہیں احتجاج کرنے کی بجائے عدالتوں میں مقدمات کا سامنا کرنا چاہیے۔

     

    عمران خان کی نااہلی کیلئے الیکشن کمیشن میں ریفرنس دائر

     

    سینیٹر کہدہ بابر نے کہا کہ دنیا نے دیکھ لیا کہ کون چور تھا، پی ٹی آئی کے دور حکومت میں کرپشن بڑھی، یہ پہلے مٹھائی تقسیم کرتے ہیں پھر کہتے ہیں کہ فیصلہ ان کے خلاف آیا ہے۔

    سینیٹر پلوشہ خان نے کہا کہ پی ٹی آئی کے دور حکومت میں مظاہرین کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا، ان شہریوں کے خلاف تشدد کرنے والوں کے خلاف بھی کارروائی ہونی چاہیے، رومیتا شیٹھی کے پاکستانی ہونے کا ثبوت ان کے پاس ہے،یہودیوں اور بھارتیوں کے پیسوں سے ریاست مدینہ بنے گی، یہ کہا جاتا ہے کہ عمران خان کو ووٹ نہیں دو گے تو قبر میں جواب دینا پڑے گا، 2018ء میں آر ٹی ایس بیٹھا، دھاندلی ہوئی، پی ٹی آئی کے کھرے کس ملک سے ملتے ہیں، جماعت کے فنڈز ایسے نکلتے تو ان کو لٹا دیا جاتا، عمران خان کے خلاف تحقیقات کے لئے انکوائری کمیشن تشکیل دیا جائے۔

    مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا کہ یہودی کمپنیاں عمران خان کی فنڈنگ اور لابنگ کرتی ہیں، یہ حکومت کی پالیسیوں پر اثر انداز ہوتے ہیں، پی ٹی آئی سے متعلق تحقیقات کے لئے اعلیٰ کمیشن بنایا جائے، ملک میں انتشار پیدا کیا گیا، ملک کے نوجوانوں کو گمراہ کیا گیا۔

  • سینیٹ میں صدرعارف علوی، عمران خان و دیگرکیخلاف آرٹیکل 6 کی کارروائی کیلئےقرارداد

    سینیٹ میں صدرعارف علوی، عمران خان و دیگرکیخلاف آرٹیکل 6 کی کارروائی کیلئےقرارداد

    صدرعارف علوی، عمران خان و دیگرکیخلاف آرٹیکل 6 کی کارروائی کیلئے سینیٹ میں قرارداد جمع کرا دی گئی.
    مسلم لیگ ن نے سپریم کورٹ کے ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کے حوالے سے فیصلےکے تحت آرٹیکل 6 کی
    کارروائی کے لیے سینیٹ میں قرارداد جمع کرادی۔ مسلم لیگ ن کے سینیٹر ڈاکٹر افنان اللہ خان نے سینیٹ میں قرارداد جمع کرا دی ہے۔

    سپریم کورٹ کے فیصلے سے تکلیف ہوئی،عمران خان

    قرارداد میں کہا گیا ہےکہ صدر مملکت عارف علوی، عمران خان ، فواد چوہدری اور قاسم سوری کے خلاف آرٹیکل 6 کی کارروائی کی جائے۔قرارداد کے متن کے مطابق صدر مملکت عارف علوی کے خلاف مواخذے کی کارروائی کا آغاز کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔

    سپریم کورٹ کی جانب سے ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کے خلاف ازخود نوٹس کے تفصیلی فیصلے پر جسٹس مظہر عالم میاں خیل نے اضافی نوٹ لکھا جس میں ان کا کہنا ہےکہ اسپیکر، ڈپٹی اسپیکر، صدر اور وزیراعظم نے 3 اپریل کو آرٹیکل 5 کی خلاف ورزی کی، اسپیکر،ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ سے صدر اور وزیراعظم کی اسمبلیاں تحلیل کرنے تک کی کارروائی عدم اعتماد ناکام کرنے کیلئے تھی۔

    آرٹیکل 6 ایسا ہتھیار نہیں کہ ہرکسی پرچلا دیں: اعتزاز احسن

     

    اضافی نوٹ میں کہا گیا کہ اسپیکر ،ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ اور صدر، وزیراعظم کی اسمبلیاں تحلیل کی کارروائی سے عوام کی نمائندگی کا حق متاثر ہوا، آرٹیکل 5 کے تحت آئین پاکستان کی خلاف ورزی پر آرٹیکل 6 کی کارروائی کا راستہ موجود ہے۔ جسٹس مظہر عالم کا کہنا ہے کہ پارلیمنٹیرین فیصلہ کریں کہ آرٹیکل 6 کی کارروائی پر عمل کرا کرمستقبل میں ایسی صورتحال کیلئے دروازہ کھلا چھوڑنا ہے یا بند کرنا ہے۔

    علاوہ ازیں وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز شریف نے کہا ہے کہ بار بار جھوٹ بول کر قوم کو گمراہ کرنے والوں کا ایک اور جھوٹ آشکار ہو گیا۔ الزام خان کی جھوٹ اور الزام تراشی کی سیاست کا پول کھل گیا ہے۔ سپریم کورٹ کا فیصلہ تاریخی ہے جس نے نظریہ ضرورت کو ایک بار پھر دفن کر دیا۔

    وزیراعلی پنجاب نے کہا کہ صدر عارف علوی ، اس وقت کے وزیراعظم عمران خان ، ڈپٹی سپیکر اور وزیر قانون نے آئین سے وفاداری کا حلف اٹھایا لیکن آئین شکنی کے مرتکب ہوئے۔آئین سے انخراف کرنے والوں کو قانون کے کٹہرے میں لانا پڑے گا، جس سے مستقبل میں ایسے آئین شکنوں کا رستہ رکے۔

    وزیراعلیٰ حمزہ شہباز نے سپریم کورٹ کے تفصیلی فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ آئین کے آرٹیکل 5 کو آئین کی خلاف وری کے لیے استعمال کیا ۔ آئین سے کھلواڑ کرنے والوں پر آرٹیکل 6 لگے گا ۔ یہ پارلیمنٹ کی ذمہ داری ہے۔سپریم کورٹ کے فیصلے نے پی ٹی آئی کے سازشی بیانیہ کو بھی دفن کردیا۔ قوم محب وطن اور لیٹروں میں فرق کو جان چکی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے واضح کر دیا کوئی سازش نہیں ہوئی۔ دراصل آئین شکنوں کا ٹولہ جو خود کو تحریک انصاف کہلاتا ہے عوام کی نمائندگی پر ڈاکہ ڈال رہا تھا اور اب بھی اس کوشش میں ہے۔عوام اس سازشی ٹولے کو ضمنی الیکشن میں بھی مسترد کردیں گے ۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد آئین کو پامال کرنے والے اب عدالتوں کو دھمکیاں دینے پر اتر آئے ہیں۔عدلیہ بھی ان دھمکیوں کا نوٹس لے اور اداروں کی توہین کے مرتکب اس ٹولے کو قانون کے کٹہرے میں لائے ۔

  • پی پی 83خوشاب:10امیدوارمد مقابل:تحریک انصاف اور ن لیگ دو: دو دھڑوں میں تقسیم

    پی پی 83خوشاب:10امیدوارمد مقابل:تحریک انصاف اور ن لیگ دو: دو دھڑوں میں تقسیم

    کراچی:پنجاب کے ضمنی انتخابات میں خوشاب کے حلقے پی پی 83 نے خاص اہمیت حاصل کر لی ہے۔پاکستان تحریک انصاف کے ناراض کارکن ملک حامدمحمود ڈھل ٹوانہ جبکہ مسلم لیگ ن کے سابقہ ممبر صوبائی اسمبلی ملک محمد آصف بھاءاپنی اپنی پارٹیوں کی جانب سے ٹکٹ جاری نہ کیے جانے پر آزاد حیثیت سے میدان میں اتر رہے ہیں۔

    حلقہ پی پی 83 خوشاب میں ووٹوں کی کل ووٹوں کی تعداد 3 لاکھ 22 ہزار 428 ہے۔ جس میں مرد ووٹروں کی تعداد ایک لاکھ 68 ہزار 279 ہے جبکہ اس حلقہ میں خواتین ووٹرز کی تعداد ایک لاکھ 54 ہزار149 ہے۔ اس حلقے میں ٹوٹل پولنگ اسٹیشنز کی تعداد 215 ہےجس میں53 خواتین کے پولنگ اسٹیشنز ہیں اور53 ہی مردوں کے لیے واقف کیے گئے ہیں اور 109 مشترکہ پولنگ اسٹیشنز ہیں۔

    الیکشن کمیشن کی جانب سے حلقے میں قائم کیے جانے والے پولنگ بوتھ کی کل تعداد 626 ہے جن میں سے 328 مردوں کیلئے اور 298 خواتین کیلئے مختص کیے گئے ہیں۔ خوشاب کے حلقے پی پی 83 میں سات آزاد امیدواروں سمیت 10 امیدوار انتخابی میدان میں مدِ مقابل ہوں گے۔حلقہ پی پی 83 سے کسی بھی خاتون امیدوار نے انتخابی میدان میں حصہ نہیں لیا۔

    مسلم لیگ ن نے ملک امیر حیدر سنگھا کو میدان میں اتارا ہے۔ ملک امیر حیدر سنگھا منحرف سابق ایم پی اے ملک غلام رسول سنگھا کے بھائی ہیں۔ جنہیں الیکشن کمیشن کی جانب سے ڈی سیٹ کیا گیا جس کے بعد مسلم لیگ ن نے ان کے بھائی ملک امیر حیدر سنگھا کو ٹکٹ جاری کرنے کا فیصلہ کیا۔

    ملک امیر حیدر سنگھا کی فیملی سیاسی بیگ گراؤنڈ رکھتی ہے۔ وہ خود بھی ماضی میں چیئرمین ضلع کونسل خوشاب بھی رہ چکے ہیں۔ ان کے بڑے بھائی ملک امیر مختار سنگھا بھی چیئرمین ضلع کونسل خوشاب رہ چکے ہیں۔اس حلقے میں تحریک انصاف نے ملک حسن اسلم اعوان کو مقابلے کے لیے میدان میں اتارا ہے، جن کا بطور امیدوار یہ پہلا الیکشن ہے۔ملک حسن اسلم خان خوشاب سابق وفاقی وزیر تجارت و سائنس اینڈ ٹیکنالوجی ملک نعیم خان اعوان مرحوم کے بھانجے ہیں اور پی ٹی آئی کے موجودہ مستعفی ایم این اے ملک اعوان کے چھوٹے بھائی ہیں۔

    ملک حسن اسلم اعوان کی الیکشن مہم میں پی ٹی آئی کے علی محمد خان اور زرتاج گل پیش پیش دکھائی دے رہی ہیں۔ اس حلقے میں آزاد امیدوار بھی اپنی جیت کے لیے پرعزم ہیں۔ ان آزاد امیدواروں میں ملک محمد آصف قابل ذکر ہیں۔ ان کا انتخابی نشان مٹکا ہے۔ملک محمد آصف بھاء تین بار صوبائی اسمبلی کے رُکن رہ چکے ہیں۔ ملک محمد آصف نے 2013ء میں مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر کامیاب ہو کر مسلم لیگ ن کے دورِ اقتدار میں مختلف صوبائی وزارتوں کا قلمبند سنبھالے رکھا، البتہ 2018ء کے انتخابات میں ان کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

    ملک محمد آصف نے اس حلقے سے شیر کے نشان کے ساتھ انتخابی میدان میں اترنے کی خواہش ظاہر کی تاہم مسلم لیگ ن کی جانب سے منحرف ایم پی اے کے بھائی غلام رسول سنگھا کو ٹکٹ ملنے کے بعد ملک محمد آصف بھاء نے آزاد حیثیت سے الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا جس کی وجہ سے ضلع خوشاب میں مسلم لیگ ن کے ووٹرز کی بھی ان کو سپورٹ حاصل ہے۔ ایک اور آزاد امیدوار ملک حامد محمود ڈھل کا شمار حلقے کے بااثر سیاسی گھرانے اور بڑے زمینداروں میں ہوتا ہے۔ ملک حامدمحمود ڈھل ٹوانہ پی ٹی آئی ضلع خوشاب کے اہم کارکن تھے، اور بلے کے نشان پر انتخابات میں حصہ لینے کے خواہشمند تھے، تاہم پارٹی کی جانب سے ٹکٹ جاری نہ کیے جانے پر انہوں نے آزاد حیثیت سے انتخابی میدان میں اترنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    تحریک لبیک پاکستان نے اپنے فعال کارکن زمرد عباس خان کو ٹکٹ جاری کیا ہے۔ پی ٹی آئی کے ناراض کارکن ملک حامد محمود ڈھل کے آزاد حیثیت سے انتخابات میں حصہ لینے کے باعث حلقہ پی پی 83 خوشاب میں اب پی ٹی آئی دو حصوں میں تقسیم ہے، جس کا فائدہ دیگر امیدواراں کو ہونے کے قوی امکانات ہیں۔ 17 جولائی کو ہونے والے ضمنی انتخابات میں موجودہ حکومت کے لیے سب سے بڑا چیلنج ملک میں جاری مہنگائی کی لہر ہے جو آئندہ انتخابات پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔

    2018ء کے عام انتخابات میں اس حلقے سےگیارہ امیدواروں نے حصہ لیا۔ پی ٹی آئی کاٹکٹ ملک گل اصغر کو دیا گیا، البتہ وہ قومی اسمبلی کا الیکشن لڑنا چاہتےتھے اس لئے وہ ٹکٹ لینے کے بعد عین اس وقت الیکشن لڑنے سے انکاری ہو گئے جب نشانات بھی الاٹ ہو چکےتھے،جس کی بنا پر پاکستان تحریک انصاف نے معروف بزنس مین ملک امیر مختار سنگھاا عوان کے بھائی اور سابق تحصیل ناظم ملک غلام رسول سنگھا اعوان کی سپورٹ کی جس کے باعث وہ بھاری مارجن سےجیت گئے۔ انہوں نے 68 ہزار 959 ووٹ لیکر پہلی پوزیشن حاصل کی جبکہ ان کےمدمقابل ملک محمدآصف بھا جن کاتعلق پاکستان مسلم لیگ ن سےتھااوروہ صوبائی وزیربھی رہے47 ہزار 684 ووٹ لیکر رنراپ رہے۔
    اس حلقے سے تحریک لبیک پاکستان کےامیدوار دلدار حسین رضوی نے9 ہزار 563 اور ایک آزادامیدوارملک ظفرا للہ خان بگٹی نے 10 ہزار 863 ووٹ لئے۔ پی پی کےٹکٹ پر نثار احمد خان نے ایک ہزار 899 ووٹ لئے۔ اس حلقہ میں ہڈالی، مٹھہ ٹونہ،بوتالہ و دیگر علاقے شامل ہیں،

    2013تک مسلم لیگ ن کا ڈنکا بجتا رہا لیکن عمران خان نے بالآخر 2018 میں یہ نشست ایک آزاد امیدوار کی حمایت کرکےجیتی ن لیگ نےسنگھاگروپ کوٹکٹ کنفرم کردیاہےتووہیں ملک آصف بھاءنےآزادالیکشنلڑنےکااعلان کردیاہے،جبکہ پاکستان تحریک انصاف ملک حسن اسلم اعوان پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔

    حلقہ 83 پی پی کے مسائل کی بات کی جائے تو اس حلقے میں سب سے بڑا مسئلہ پانی کا ہے۔ حلقے کی عوام کو پینے کے پانی سے لیکر اراضی سیراب کرنے مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ یہاں صحت کے حوالے سے بنیادی صحت کے مراکز میں زچہ و بچہ کیلئے کوئی خاطر خواہ انتظام موجود نہیں ہے۔سابقہ دور حکومت میں پی پی 83 میں تعلیمی اداروں کی اپ گریڈیشن کی گئی اور یہاں ایک بڑی بین الصوبائی شاہرہ کی بھی تعمیر کی گئی جو حلقہ پی پی 83 سے گزرتی ہے۔

    گزشتہ انتخابات میں مسلم لیگ ن کی اس حلقے میں کارکردگی زیادہ متاثر کن نہیں تھی اور وہ یہاں سے قومی اسمبلی کی دونوں نشستیں ہار بیٹھی تھی۔ حلقہ پی پی 83 خوشاب میں قومی اسمبلی کا حلقہ این اے 93 اور این اے 94 آتا ہے۔ حلقہ این اے 93 میں پاکستان تحریک انصاف کے عمر اسلم خان ایم این اے ہیں، جن کے بھائی ملک حسن اسلم اعوان پی پی 83 خوشاب سے پی ٹی آئی کے امیدوار ہیں جبکہ حلقہ این اے 94 سے پی ٹی آئی کے ملک محمد احسان اللہ ٹوانہ ایم این اے ہیں ۔

    سندھ میں سینیٹ کی ٹیکنوکریٹ کی نشست پیپلزپارٹی کی خالدہ سکندر میندھرو نے اپنے نام کرلی ۔

     

     

    ڈاکٹر سکندر میندھرو کے انتقال کے باعث خالی ہونے والی سندھ میں سینیٹ کی ٹیکنوکریٹ کی نشست پر پولنگ سندھ اسمبلی میں ہوئی، مرحوم ڈاکٹر سکندر میندھرو کی اہلیہ خالد ہ سکندر میندھرو پیپلزپارٹی کی جانب سے امیدوار تھیں اور مقابل میں پی ٹی آئی کے نور الحق قریشی میدان میں تھے البتہ پاکستان تحریک انصاف کے ارکان نے ووٹنگ کے عمل کا بائیکاٹ کیا جبکہ ایم کیوایم پاکستان اور دیگر جماعتوں نے بھی ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔

     

     

    پیپلزپارٹی کی جانب سے 99 میں سے 94 ارکان بشمول وزیر اعلیٰ سندھ مرادعلی شاہ سمیت پی ٹی آئی کے تین منحرف ارکان اسلم ابڑو، شہریار شر اور کریم بخش گبول نے بھی ووٹ کاسٹ کیا ۔ذاتی مصروفیات کے باعث پیپلزپارٹی کے پانچ ارکان شرمیلا فاروقی،اعجاز شاہ بخاری، عذرا پیچوہو، اسماعیل راہو اور علی نواز مہر نے ووٹ کاسٹ نہیں کیا۔

  • سینیٹرز ولید اقبال، اعظم سواتی، اعجاز چوہدری اور ڈاکٹر یاسمین راشد کے کیسز: رپورٹ طلب

    سینیٹرز ولید اقبال، اعظم سواتی، اعجاز چوہدری اور ڈاکٹر یاسمین راشد کے کیسز: رپورٹ طلب

    اسلام آباد: ایوان بالاء کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر محسن عزیز کی زیرصدارت پارلیمنٹ ہاوُس میں منعقد ہوا-قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں پی ٹی آئی کے حقیقی آزادی مارچ کے دوران امن امان قائم کرنے والی ایجنسیوں اور انتظامیہ کی جانب سے لانگ مارچ شرکاء پر آنسو گیس، کیمیکل گیس کی شیلنگ اور پی ٹی آئی لیڈر شپ پر پولیس کی کریک ڈاؤن سمیت پی ٹی آئی رہنماؤں اور عام عوام پر ایف آئی آر کا اندراج، غیر قانونی پکڑ دھکڑ، چادر اور چار دیواری کے تقدس کی پامالی کے معاملات کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔

    چیئرمین کمیٹی سینیٹر محسن عزیز نے کہا کہ قائمہ کمیٹی نے گزشتہ اجلاس میں بھی حقیقی آزادی مارچ کے شرکاء پر بے تحاشہ شیلنگ اور رکاؤٹوں کے معاملات کا تفصیل سے جائزہ لیا تھا۔ متعدد سینیٹرز نے کمیٹی اجلاس میں شرکت کر کے نا صرف روداد بیان کی تھی بلکہ ویڈیو لنک کے ذریعے بھی مسائل بارے آگاہ کیا تھا۔ قائمہ کمیٹی حالات واقعات کا تفصیلی جائزہ لینے کیلئے چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی کی اجازت سے تمام صوبوں کا دورہ کر کے حتمی رپورٹ تیار کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ قائمہ کمیٹی کے حوالے سے ٹویٹ اور سوشل میڈیا پر ریٹائرڈ آرمی افسران کی کینیڈا میں شہریت کے حوالے سے غلط خبریں گردش کر رہی ہیں جن کا اس کمیٹی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔کمیٹی یہ معاملہ نہ ہی کبھی زیر بحث لایا گیا ہے اور نہ ہی اس حوالے سے کوئی رپورٹ بنائی گئی ہے۔

    ویڈیو لنک کے ذریعے سابق صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد نے تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ25ماڑچ کو لاہور سے ا حتجاج کے لئے نکلی تھی تو میری گاڑی پر ڈنڈے برسائے گئے ہمیں زدوکوب کیا گیا ہمیں گرفتار کر کے تھانہ لے جایا گیا ابھی تک ہماری ایف آئی آر درج نہیں کی گئی۔انہوں نے کہا کہ احتجاج میں شرکاء کی گاڑیوں کو بھی توڑا پھوڑا گیا۔ سنیٹر ولید اقبال نے بتایا کہ جیو فینسنگ کے ذریعہ سے ایک لسٹ بھی شیئر ہوئی جس میں میرا نام تھا۔رات کے بارہ بجے مجھے لاہور گھر سے فون آیا کہ پولیس کی ایک نفری نے ہمارے گھر پر دھاوا بول دیا ہے اور پولیس وین کے ذریعے ہمارے گیٹ کو توڑا گیا۔ میں اپنے والدین کے گھر رہتا ہوں میرے گھر کے گیٹ پر میرے والد اور والدہ کا نام بھی لکھا ہے۔ اہلکار دیوار پھلانگ کر گھر داخل ہو ئے۔ میرے بارے پوچھا گیا کہ ولید اقبال کدھر ہے پھر کک کے ذریعہ دروازے پیٹے گئے۔ دو دن بعد ڈی آئی جی صاحب سے ہمارے گھر آئے اور آئی جی پنجاب کی جانب سے معذرت کی۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کو واضح معلوم تھا کہ میں اسلام آباد میں ہوں پھر بھی میرے گھر والوں کو شدید حراساں کی گیا۔ جس پر چیئرمین و اراکین کمیٹی نے کہا کہ شاعر مشرق کے بیٹے کے گھر پر اسطرح دھاوا بولنا انتہائی شرم ناک ہے۔قائد حزب اختلاف سینیٹ سینیٹر ڈاکٹر شہزاد وسیم نے کہا کہ حقیقی آزادی مارچ کے شرکاء کے حوالے سے جو واقعات ہوئے ہیں اُن کے دو پہلو ہیں۔ اُن پر نہ صرف بے تحاشہ شیلنگ، رکاوٹیں اور مسائل پیدا کئے گئے بلکہ انہیں کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئیں اور کچھ کے خلاف دہشت گردی کی دفعات بھی لگائی گئیں ہیں۔ ان کو علیحدہ علیحدہ دیکھنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی پارلیمنٹرین کو سخت حراساں کی گیا۔

    سینیٹر اعجاز چوہدری نے ویڈیو لنک کے ذریعے کمیٹی کو بتایا کہ انہیں پولیس نے گرفتار کیا اور مختلف تھانوں میں رکھا اور کسٹڈی کے دوران اُن پر ایف آئی آر درج کی گئیں۔میرے فون کی لوکیشن موجود ہے میرے گھر کو توڑا گیا اور میرے اُوپر دہشت گردی کی دفعات لگائی گئیں۔ چیئرمین کمیٹی سینیٹر محسن عزیز نے کہا کہ سینیٹرز ولید اقبال، اعظم سواتی، اعجاز چوہدری اور ڈاکٹر یاسمین راشد کے کیسز کے حوالے سے متعلقہ ادارے 15دن کے اندر رپورٹ تیار کر کے کمیٹی کو فراہم کریں۔ اراکین کمیٹی نے کہا کہ ویڈیو لنک کے ذریعے کمیٹی کا اجلاس کرنے کا مقصد پورا نہیں ہوتا۔ آئندہ اجلاس میں متعلقہ ادارے اور متاثرین شرکت کر کے معاملات کا جائزہ لیں۔ جس پر چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ آئندہ اجلاس میں صوبہ پنجاب کے حوالے سے ان معاملات کا تفصیل سے جائزہ لیا جائے گا اور متعلقہ اداروں سے جو تفصیلات اور رپورٹس طلب کی گئیں ہیں وہ بروقت فراہم کی جائیں۔

    سوشل میڈیا سے تعلق رکھنے والے عمران ریاض نے کمیٹی کو بتایا کہ پنجاب پولیس نے ایک ڈاکو کو اُن کے گھر کے قریب لا کر جعلی مقابلے میں ہلاک کر دیا اور اس کے گھر کے پاس فائرنگ بھی کرتے رہے۔میں نے خود پولیس سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ پولیس مقابلہ ہوا ہے جس میں ایک ڈاکو ہلاک ہوا ہے اورڈاکو موٹر سائیکل پر آئے تھے رات تین بجے کا وقت تھا اُس ڈاکو کا زمین پر پڑا خون گرم جبکہ اُس موٹر سائیکل کا سائلنسر بلکل ٹھنڈا تھا اس جعلی مقابلے کی انکوائری ہونی چاہئے۔ مجھے اور میرے گھر والوں کو حراساں کیا جا رہا ہے مجھے کہا جا رہا ہے کہ لاہور سے شفٹ ہو جائیں۔انہوں نے کہا کہ میرے گھر کے آس پاس پانچ پولیس ناکے لگا کر مجھ سے ملنے آنے والوں کو شدید تنگ کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مختلف صحافیوں پر دو درجن کے قریب ایف آئی آرز درج کی گئیں ہیں جن میں سیکشن 505لگائی گئی ہے جو وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی اجازت کے بغیر نہیں لگائی جا سکتی اور اُن علاقوں سے بھی ایف آئی آر درج کی گئیں ہیں جہاں انٹرنیٹ کا نام و نشان بھی نہیں ہے۔ سینیٹر رانا مقبول احمدنے کہا کہ جعلی مقابلے اور عمران ریاض کو حراساں کرنے کے معاملے کی انکوائری ہونی چاہئے۔ جو پولیس اہلکار ملوث ہیں انکے خلاف کاروائی ہونی چاہیے۔سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ کچھ معروف صحافیوں کو جان بوجھ کر ٹارگٹ کیا جا رہا ہے اُن کو کام سے روکنے کیلئے ایسے ہتھ کنڈے استعمال کئے جا رہے ہیں جس کی ہم بھر پور مذمت کرتے ہیں۔

    صوبائی ممبرا سمبلی حلیم عادل نے کہا کہ آزدی مارچ کرنا ہر ایک کاآئینی حق ہے مگر آزادی مارچ کرنے والے پارلیمنٹرین اور عوام پر دہشت گردی کی دفعات لگانا انتہائی افسوسناک ہے پولیس کی ستم ظریفی سے کوئی بھی محفوظ نہیں رہا میں ایک ٹی وی پروگرام میں تھا اُس وقت بھی میرے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی۔ سینیٹر ثمینہ ممتاز نے کہا کہ کراچی یونیورسٹی کے طلبعلم جو صوبہ بلوچستان سے تعلق رکھتے ہیں اُن کے اغوا پر اہل خانہ نے احتجاج کیا تو خواتین کے ساتھ انتہائی نا مناسب سلو ک کیا گیا۔ قائمہ کمیٹی نے معاملے کی رپورٹ متعلقہ حکام سے طلب کر لی۔ قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ سندھ میں آزادی مارچ کے حوالے سے 225ایف آئی آر درج ہوئی اور چار سے پانچ ایف آئی آر میں دہشت گردی کی دفعات لگائی گئی ہیں اور زیادہ تر پکڑے گئے لوگوں کو آزاد کر دیا گیا تھا۔ اے آئی جی سندھ نے کہا کہ جو بچے اغوا ہوئے تھے اُن کے لواحقین نے سی ایم ہاؤس اور عدالت کی طرف احتجاج کرنے کی دھمکی دی تو پولیس نے اعلیٰ حکام کو بتائے بغیر ایکشن لیا اُن کے خلاف انکوائری چل رہی ہے۔ سندھ ہوم ڈپارٹمنٹ سے بھی انکوائری ہو رہی ہے۔

    پی ٹی آئی رہنما صداقت عباسی نے کمیٹی کو بتایا کہ اسلام آباد میں جتنا نقصان ہوا پولیس کے ایکشن کے ری ایکشن میں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ جب عدالت نے اجازت دے دی تھی تو پولیس نے کس کے حکم سے عوام پر آنسو گیس کی بارش کی۔ پارلیمنٹرین پر لاٹھی چارج کیا گیا۔پولیس نے قانون سے بالا تر ہو کر کام کیا اس کی انکوائری ہونی چاہئے۔ سینیٹر فلک ناز چترالی نے کہا کہ 25 مئی کو اسلام آباد مقبوضہ کشمیر کا منظر پیش کر رہا تھا۔ وہ پولیس کی آنسو گیس سے میں بے ہوش گئی تھی۔میرا دس سال کا بچہ گھر پر اکیلا تھا مگر مجھے پارلیمنٹ جانے کی اجازت نہیں دی گئی ساری رات سڑک پر گزاری۔ میرا بچہ ٹراما میں ہے ابھی تک وہ نارمل نہیں ہوا۔ اسلام آباد پولیس نے بہت زیادہ شیلنگ کی تھی اور خود درختوں کو آگ لگائی جس کی ویڈیوز موجود ہیں۔ سینیٹر سیمی ازدی نے کہا کہ آگ لگانے والے بندے کو ہمارے لوگوں نے پکڑا بھی تھا جو پٹرول چھڑک کر آگ لگا رہا تھا۔ آر پی او روالپنڈی نے بتایا پنڈی ریجن میں کوئی پبلک پراپرٹی کا نقصان نہیں ہوا اورجن لوگوں کوپکڑا گیا تھا انہیں چھوڑ دیا گیا۔آئی جی اسلام آباد نے کہا کہ ہم سب کو قانون کے مطابق کام کرنا چاہئے آزادی مارچ کے حوالے سے معاملہ عدالت میں ہے اور جن لوگوں نے قانون کے خلاف کام کیا ہے اُن کے خلاف شفاف انکوائری کرائی جائے گی۔
    سینیٹر فوزیہ ارشد نے کہا کہ گزشتہ کئی ماہ سے ڈی چوک اور نادرا چوک اسلام آباد کو بلا جواز بند کر کے سرکاری ملازمین اور عام عوام کی مشکلات میں اضافہ کر دیا گیا ہے عوام کو ریلیف دینا چاہئے سیکورٹی کی وجہ بتا کر آئے دن سڑکیں بلاک کرنا مناسب نہیں۔ قائمہ کمیٹی نے فوری طور پر ڈی چوک اور نادرا چوک کو کھولنے کی ہدایت کر دی۔ سینیٹر فوزیہ ارشد نے کہا کہ ملک میں جو مہنگائی کا طوفان آیا ہے اس کی بدولت پورے ملک اور خاص طور پر وفاقی دارلحکومت اسلام آباد میں چوری ڈکیتی کے واقعات میں ہوش ربا اضافہ ہو چکا ہے۔ اسلام آباد پولیس مختلف علاقوں میں نہ صرف اپنی نفری میں اضافہ کرے بلکہ پولیس گشت میں بھی اضافہ کر کے ان مسائل کے تدارک کرے۔

    قائمہ کمیٹی کے آج کے اجلاس میں قائد حز ب اختلاف سینیٹ سینیٹر ڈاکٹر شہزاد وسیم، سینیٹرز ثمنیہ ممتاز زہری، رانا مقبول احمد، شہادت اعوان، فوزیہ ارشد، سرفراز احمد بگٹی، دلاور خان، شبلی فراز، ولید اقبال، فلک ناز، سیمی ازدی کے علاوہ اسپیشل سیکرٹری داخلہ، اسپیشل سیکرٹری ہوم سندھ، اسپیشل سیکرٹری ہوم پنجاب، ڈی سی اسلام آباد، آر پی او راولپنڈی، ایڈیشنل آئی جی کراچی، ایڈیشنل کمشنر اسلام آباد اور آن لائن پر سابق صوبائی وزیر ڈاکٹر یاسمین راشد، صوبائی ممبر اسمبلی حلیم عادل، ایس پی لاہور، اے آئی جی میر پور اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ *

    "معیشت کی حالت اور سالانہ بجٹ” کے موضوع پر سینیٹ اراکین کا سیمینار،اطلاعات کے مطابق سینیٹ آف پاکستان اور یورپی یونین کے فنڈڈ پروجیکٹ "مستحکم پاکستان” نے مشترکہ طور پر "معیشت کی حالت اور سالانہ بجٹ” کے موضوع پر سینیٹ کے اراکین کے لیے ایک سیمینار آج پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد کیا۔ مالیاتی اور اقتصادی ماہرین نے سینیٹرز کو این ایف سی کے تحت وسائل کی تقسیم، قرضوں کے انتظام کے مسائل اور رکاوٹوں، پاکستان کی معیشت کو درپیش اہم اقتصادی چیلنجوں، وفاقی بجٹ میں آئینی شقوں اور مالیاتی نگرانی کے حوالے سے پالیسی سفارشات کے بارے میں بریفنگ دی۔

    سینیٹرز نے پاکستان کی مجموعی اقتصادی صورتحال اور مالیاتی بحران پر قابو پانے کے لیے بجٹ تجاویز کے متعلق اپنے سوالات پیش کیے۔ ڈپٹی چیئرمین سینیٹ مرزا محمد آفریدی نے سیمینار کو انتہائی اہم سرگرمی قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ مالیاتی حالات اور قرضوں کی صورتحال پر قابو پانے کے لیے طویل المدتی منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔

    مرزا محمد آفریدی نے کہا کہ "ہمیں چھوٹے کاروباروں کو سپورٹ کرنا چاہیے۔ میکرو اور مائیکرو اکنامک عوامل کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ ہمیں سوچنے کی ضرورت ہے کہ قوم کی تعمیر کیسے کی جائے۔ سینیٹ کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا”.

    سیمینار میں سینیٹرز، ہدایت اللہ خان، دوست محمد خان، دنیش کمار، عمر فاروق، ولید اقبال، افنان اللہ خان، سید صابر شاہ، بہرامند خان تنگی، محمد عبدالقادر، فدا محمد، سیکرٹری سینیٹ، قاسم صمد خان اور ایگزیکٹو ڈائریکٹر PIPS نے شرکت کی۔

  • قائمہ کمیٹی برائے خارجہ، فاروق ایچ نائیک متفقہ طور پر چیئرمین منتخب

    قائمہ کمیٹی برائے خارجہ، فاروق ایچ نائیک متفقہ طور پر چیئرمین منتخب

    قائمہ کمیٹی برائے خارجہ، فاروق ایچ نائیک متفقہ طور پر چیئرمین منتخب

    چیئرمین کمیٹی کے انتخاب کیلئے ایوان بالا ء کی قائمہ کمیٹی برائے خارجہ امور کااجلاس پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔

    سینیٹر مشاہد حسین سید نے سابق چیئرمین سینیٹ سینیٹرفاروق ایچ نائیک کا نام بطور چیئرمین کمیٹی تجویز کیا اور سینیٹرز فیصل جاوید، ڈاکٹرزرقہ سہروری تیمور، ولید اقبال، ثمینہ ممتاز، مولانا عبدالغفور حیدری، مصطفی نواز کھوکھر نے متفقہ طور پر تائید کی۔ چیئرمین کمیٹی سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے اراکین کمیٹی کا اعتماد کرنے پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ تمام اراکین کمیٹی کے ساتھ مل کر خارجہ امور کے معاملات کو بہتر انداز میں آگے بڑھایا جائے گا۔ قائمہ کمیٹی وزارت خارجہ امور سے بھارت کی مقبوضہ کشمیر میں نہتے کشمیریوں پر جاری ظلم و بربریت اور بھارت میں اقلیتوں کے خلاف اور خاص طور پر مسلمانوں کیلئے مودی حکومت نے جو مسائل ومشکلات پیدا کی ہیں ان کے سّدباب کیلئے حکومت کی جانب سے اٹھائے گئے عملی اقدامات پر تفصیلی بریفنگ حاصل کی جائے گی۔

    اراکین کمیٹی نے سینیٹر فاروق ایچ نائیک کو قائمہ کمیٹی کا متفقہ طور پر چیئرمین کمیٹی منتخب ہونے پر مبارکباد دیتے ہوئے بھر پور تعاون کا یقین دلایا۔

    قائمہ کمیٹی کے آج کے اجلاس میں سینیٹر زمشاہد حسین سید،فیصل جاوید، ڈاکٹرزرقہ سہروری تیمور، ولید اقبال، ثمینہ ممتاز، مولانا عبدالغفور حیدری، مصطفی نواز کھوکھر کے علاوہ سیکرٹری سینیٹ محمد قاسم صمد خان، ایڈیشنل سیکرٹری حفیظ اللہ شیخ، جوائنٹ سیکرٹریٹ ربعیہ انور اور سینیٹ سیکرٹریٹ کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی

    چینی باشندوں کی جان لینے والوں کو پھانسی کے پھندے پر لٹکائیں گے،

    کراچی یونیورسٹی میں ایک خاتون کا خودکش حملہ:کئی سوالات چھوڑگیا،

    پاکستان میں تعینات چینی ناظم الامور مس پینگ چَن شِیؤکی وزیر داخلہ رانا ثناءاللہ سے ملاقات ہ

    کراچی کی مچھر کالونی کی سن لی گئی،سی پیک سے متعلق سست روی کا تاثر غلط ہے،خالد منصور