Baaghi TV

Tag: سینیٹ

  • الیکشن ایکٹ ترمیمی بل 2022 کےبعدنیب ترمیمی بل 2022 بھی  کثرت رائے سے منظور

    الیکشن ایکٹ ترمیمی بل 2022 کےبعدنیب ترمیمی بل 2022 بھی کثرت رائے سے منظور

    اسلام آباد: الیکشن ایکٹ ترمیمی بل 2022 کےبعدنیب ترمیمی بل 2022 کثرت رائے سے منظورہوچکا ہے ، یہ بل وزیرقانون اعظم نذیر تارڑ میں ایوان میں پیش کیا جسے پارلیمنٹ نےکثرت رائے سے منظورکرلیا ،

    پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس جاری ہے اور حکومت اور اتحادیون نے کثرت کے ساتھ الیکشن ایکٹ ترمیمی بل 2022کثرت رائے سے منظورکرلیا ہے ،

    اس سے پہلے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر اور وزیر قانون اعظم نذیر تارڑکا کہنا تھا کہ قانون سازی کرنا پارلیمنٹ کا اختیار ہے،صدر مملکت پارلیمنٹ کو ہدایات نہیں دے سکتے: پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر اور وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ صدرمملکت پارلیمٹ کوہدایات نہیں دے سکتے ،قانون سازی کرنا پارلیمنٹ کا اختیار ہے

    کیا یہ کورٹ پارلیمنٹ سے اختیارات واپس لے لے؟ عدالت کے ریمارکس

    پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر اور وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ ایوان کی بالادستی کیلئے صدر کے درخواست کا لفظ استعمال کیا،اعظم نذیر تارڑ کہتے ہیں کہ آرٹیکل 75 کے مطابق صدر مملکت بل میں تجاویز کی درخواست کر سکتے ہیں،مرتضیٰ جاوید عباسی کا یہ کہنا تھا کہ انتخابات میں ٹیکنالوجی کا استعمال پائلٹ پروجیکٹس کے بعد ہونا چاہیے،

    مرتضیٰ جاوید عباسی کا کہنا تھا کہ ای وی ایم پائلٹ پروجیکٹ رپورٹ کے مطابق کامیابی کی شرح 50 فیصد تھی ،الیکشن کمیشن کے کام کا کریڈٹ صدر مملکت لے رہے ہیں ،ان کا کہنا تھا کہ صدر مملکت نے نتیجہ اخذ کیا کہ ای وی ایک بیلٹ پیپر کی طرح ہی ہے ،

    برطانوی رکن پارلیمنٹ کی برٹش ایئرویز کو پاکستان سے پروازیں جاری رکھنے کی اپیل

    مرتضیٰ جاوید عباسی نے اس موقع پر کہا کہ صدر مملکت نے تسلیم کیا 2018 کے بعد اوورسیز پاکستانیوں کی ووٹنگ کیلئے کوئی پیشرفت نہیں ہوئی، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ آج پتہ چلا صدر عارف علوی آئی ٹی کے بھی ماہر ہیں، ہم سمجھتے تھے عارف علوی دانتوں کے ڈاکٹر ہیں

    پارلیمنٹ کےمشترکہ اجلاس کا ایجنڈا جاری

    مرتضیٰ جاوید عباسی کا کہنا تھا کہ آئینی عہدے پر بیٹھا شخص سیاسی جماعت کے کارکن کا کردار ادا کر رہا ہے،ادھر آخری اطلاعات کے آنے تک یہ بھی معلوم ہو اہے کہ سابق صدر آصف علی زرداری بھی پارلیمنٹ میں پہنچ چکے ہیں

  • ناموسِ رسالت ﷺ:سینیٹ کا تین رکنی وفد اقوام متحدہ کے دفتر جا کر اپنا احتجاج ریکارڈ کرائے گا

    ناموسِ رسالت ﷺ پر سینیٹ کا تین رکنی وفد اقوام متحدہ کے دفتر جا کر اپنا احتجاج ریکارڈ کرائے گا۔

    باغی ٹی وی : چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی اپنے زیر صدارت منعقدہ اجلاس میں کہا کہ ناموس رسالت ﷺ پر ایوان سے متفقہ طور پر مذمتی قرارداد منظور کروائی جائے گی، میرے دستخط کے ساتھ قرارداد کی کاپی اقوام متحدہ کے دفتر میں جمع کروائی جائے گی۔

    حضوراکرمﷺ کی شان میں گستاخی کرنیوالی بی جے پی لیڈر نپور شرما اور ٹائمز ناؤ کےخلاف…

    وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے اس موقع پر ایوان میں کہا کہ جب معاملہ ناموسِ رسالت ﷺکا ہو تو ہم سب ایک ہیں، اس سلسلے میں ایک قرارداد بھی منظور کی جائے۔

    جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد نے اس موقع پر کہا کہ بی جے پی کا یہ اقدام مسلمانوں پر حملہ ہےیہ اقدام تیسری جنگ عظیم کے مترادف ہے، 60 مسلم ممالک ناموس رسالتﷺپر جواب دیں انہوں نے تجویز پیش کی کہ اس معاملے پر او آئی سی کا ہنگامی اجلاس بلایا جائے، او آئی سی اجلاس میں ناموس رسالتﷺپر وارننگ دی جائے۔

    بھارتی حکام کے گستاخانہ بیانات، حافظ سعد حسین رضوی کی شدید مذمت

    پی پی پی رہنما اور سینیٹر سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ ناموس رسالت ﷺسے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں، اس قدام کی جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے انہوںنے موقف اختیار کیا کہ بی جے پی نے یہ حرکت کشمیر کے ایشو سے توجہ ہٹانے کے لیے کی ہے۔

    پی ٹی آئی رہنما اور قائد حزب اختلاف ڈاکٹر شہزاد وسیم نے اس موقع پر کہا کہ ناموس رسالتﷺپر ہماری جان بھی قربان ہے، بھارتی مصنوعات کا بائیکاٹ کیا جائے-

    پی ٹی آئی کے سینیٹر فیصل جاوید نے کہا کہ عمران خان نے اقوام متحدہ میں ناموس رسالت ﷺکا بھرپور مقدمہ اٹھایا، عمران خان کے اس اقدام کے بعد اسلامو فوبیا کا عالمی دن منایا گیا، اس معاملے کے بعد ہمارے وزیر خارجہ نظر نہیں آرہے ہیں۔

    نبی کریم ﷺکی شان میں انتہائی توہین آمیز ریمارکس کی مذمت کرتےہیں:پاکستان

    واضح رہے کہ بی جے پی کی ترجمان نوپور شرما اور ایک اور رہنما نوین کمار جندال نے نبی کریم ﷺ کے بارے میں توہین آمیز کلمات ادا کیے تھے بی جے پی کی ترجمان نوپور شرما نے ایک ٹی وی چینل کے پروگرام میں اسلام اور نبی کریمﷺکے حوالے سے متنازع گفتگو کی تھی۔بی جے پی کی ترجمان کے گستاخانہ بیان پر بھارت اور بیرون ملک شدیدغم وغصےکا اظہارکیا جارہا ہے دنیا بھر میں احتجاج کیا گیا اور بی جے پی کو ترجمان سے استعفیٰ لینا پڑا-

  • ٹرائل کورٹس میں زیرالتواء منشیات کیسز کی تفصیلات آئندہ اجلاس میں طلب

    ٹرائل کورٹس میں زیرالتواء منشیات کیسز کی تفصیلات آئندہ اجلاس میں طلب

    ٹرائل کورٹس میں زیرالتواء منشیات کیسز کی تفصیلات آئندہ اجلاس میں طلب
    ایوان بالا قائمہ کمیٹی برائے انسداد منشیات کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر اعجاز احمد چوہدری کی زیر صدارت آج پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا.

    کمیٹی نے مالی سال 2022-23 کے لیے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (PSDP) سے تحت سالانہ بجٹ کا جائزہ لیا۔ اے این ایف کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ پی ایس ڈی پی کے تحت چار منصوبہ جات کے لیے وزارت خزانہ سے فنڈز کی درخواست کی گئی تھی مگر فنڈز دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے صرف ایک منصوبے پر اکتفاء کرنا پڑ رہا ہے۔ اے این ایف حکام نے مزید بتایا کہ اسلام آباد کے علاقے ہمک میں ایک بحالی مرکز پر کام جاری ہے جو آئندہ سال مکمل کر لیا جائےگا.
    وزیر برائے انسداد منشیات شاہ زین بگٹی نے کمیٹی کو بتایا کہ بحالی مراکز کی تعمیر کے لیے صوبائی حکومتوں کے ساتھ رابطہ کر رہے ہیں۔ اس سلسلے میں وزیر اعلیٰ سندھ سے بھی ملاقات کر چکا ہوں اور وزیر اعلیٰ سندھ نے بحالی مراکز کے لیے سندھ کے اضلاع میں زمین اور سرکاری عمارتیں فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے.

    خیبرپختونخوا میں انسداد منشیات کے علیحدہ قانون کے معاملے پر وزارت انسداد منشیات نے کمیٹی کو بتایا کہ معاملہ صوبائی حکومت کے ساتھ اٹھایا گیا ہے لیکن معاملہ اب سپریم کورٹ میں ہے. چیئرمین کمیٹی کا کہنا تھا کہ اگر معاملہ سپریم کورٹ میں ہے تو انکے فیصلے کا انتظار کرنا چاہیے.عدالتوں میں زیر التوا منشیات کے ہائی پروفائل کیسز کے بارے میں گزشتہ اجلاس میں کمیٹی کو بتایا گیا تھا کہ اس طرح کے 141 کیس مختلف عدالتوں میں زیر التواء ہیں. چیئرمین کمیٹی نے ہدایات دیں کہ ٹرائل کورٹس میں زیر التواء کیسز کی بھی تفصیلات کمیٹی کے آئندہ اجلاس میں پیش کی جائیں.کمیٹی اجلاس میں سینیٹرز، دوست محمد خان، شہادت اعوان ، انور لال دين ، جام مہتاب حسین دھر، سیمی ایزدی، متعلقہ وزارت اور اے این ایف کے حکام نے شرکت کی،

    چلغوزے سستے،پڑھا لکھا ایس ایچ او،تمباکو کی قیمت ،مردم شماری کیلئے فنڈ ،کابینہ کے فیصلے

    تمباکو نوشی کے استعمال کے خلاف مہم،ویب سائٹ کا افتتاح

     تمباکو نوشی کے خلاف کرومیٹک کے زیر اہتمام کانفرنس :کس کس نے اور کیا گفتگو کی تفصیلات آگئیں

    تمباکو سیکٹر میں سالانہ 70 ارب روپے کی ٹیکس چوری کا انکشاف

    جب حکمران ٹکٹ ہی ان لوگوں کو دیں جن کا کاروبار تمباکو اور سگریٹ سے وابستہ ہو تو کیا پابندی لگے گی سینیٹر سحر کامران

  • صحافیوں کیخلاف ایکشن پر پیمرا کا کوئی تعلق نہیں چیئرمین پیمرا کا قائمہ کمیٹی میں جواب

    صحافیوں کیخلاف ایکشن پر پیمرا کا کوئی تعلق نہیں چیئرمین پیمرا کا قائمہ کمیٹی میں جواب

    اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر فیصل جاوید کی زیرصدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔ قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی جانب سے پیش کئے گئے ایکسز ٹو میڈیا (ڈیف اینڈ ڈمپ) پرسن بل2022 زیر بحث آیا۔ سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے بل سے متعلق قائمہ کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ کچھ ممبران کو بل میں ورڈنگ کے حوالے سے معمولی خدشات تھے جن کو دور کردیا گیا ہے۔خصوصی افراد کیلئے یہ بل لایا گیا ہے۔ایسے لوگ ڈرامہ نہیں دیکھ سکتے، خبریں نہیں دیکھ سکتے اور وہ کہتے ہیں کہ ہم الگ تھلگ ہو گئے ہیں۔بل میں جو ترمیم کی گئی ہے وہ معمولی نوعیت کی ہے۔آپ اس قانون پر عمل درآمدکرانے میں مدد کریں گے۔بل میں لفظ ”ڈمپ“کو نکال دیا گیا ہے۔ممبران میں سننے کی حس سے محروم ایک فرد کو بھی شامل کیا گیا ہے۔دو سینیٹرز اور دو قومی اسمبلی کے اراکین بھی ممبران میں شامل ہوں گے۔سیکرٹری وزارت اطلاعات و نشریات نے کہا کہ وزارت اطلاعات ونشریات کو بل پر کوئی اعتراض نہیں۔چیئرمین پیمرا نے بھی قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ پیمرا کو بھی بل کے حوالے سے کوئی اعتراض نہیں ہے۔جس پر چیئرمین کمیٹی سینیٹر فیصل جاوید نے کہا کہ ہم اس بل کو متفقہ طور پر پاس کرتے ہیں۔قائمہ کمیٹی نے ایکسز ٹو میڈیا(ڈیف اینڈ ڈمپ) پرسن بل 2022 کو متفقہ طور پر منظور کرلیا۔
    سینیٹر عرفان صدیقی کی جانب سے ریڈیو پاکستان کے راولپنڈی کے دفتر میں درختوں کی کٹائی کے معاملے پر قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں بحث ہوئی۔سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا کہ معلومات کرنے کے بعد مجھے پتہ چلا کہ متعلقہ حکام کے مطابق مالی بحران کے باعث درخت کاٹے گئے ہیں لیکن وجہ نہیں بتائی گئی۔درختوں کے معاملے میں تو پی ٹی آئی چیمپئین ہیں اور درخت لگانا عمران خان کا بہتر اقدام تھا۔درختوں کے رقبے کے لحاظ سے پاکستان دیگر ممالک سے بہت پیچھے ہے۔قائمہ کمیٹی کا فرض ہے کہ اس معاملے کی جانچ کرے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وہ درخت کٹنے کے قابل تھے، اگر عمران خان وزیراعظم ہوتے تو ان کو بھی لکھتا کہ اس معاملے کا وہ نوٹس لیں۔سینیٹر عرفان صدیقی نے پی بی سی کی طرف سے درختوں کی کٹائی سے متعلق رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کتنے درخت کاٹے گئے، درخت جو کاٹے گئے وہ کن اقسام کی تھے اور ان کی مارکیٹ ویلیو کیا تھی یہ سب تفصیلات کمیٹی کے ساتھ شیئر کرنا ضرروری ہے۔چیئرمین کمیٹی سینیٹر فیصل جاوید نے معاملے کی جانچ پڑتال کیلئے اگلی میٹنگ میں ای پی اے اور پنجاب کے ماحولیاتی ادارے کے حکام کو طلب کرلیا۔ ڈی جی پی بی سی نے کہا کہ ابھی دو ہفتے پہلے ڈی جی پی بی سی کا چارج سنبھالا ہے۔اس وقت ادارے کا مالی بحران 1922 ملین کا ہے جبکہ 22 ملین کا اس سال کا شارٹ فال ہے۔کچھ درخت بہت پھیل گئے تھے، ٹرانسمیشن اور سیکیورٹی کے مسئلے تھے اس وجہ سے درخت کاٹے گئے۔اس وقت پی بی سی کے 58 یونٹس ہیں جس میں 25 یونٹس نے جواب دیا اور آکشن کیلئے 21 یونٹس کیلئے اشتہار دیا گیا ہے۔پی بی سی راولپنڈی دفتر میں 100 درخت کاٹے گئے جن کی مالیت 7 لاکھ ہے۔
    قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں سینئراینکرپرسنز اور صحافیوں کے خلاف مقدمات کامعاملہ بھی زیربحث آیا ہے۔ اینکر پرسنز عمران ریاض، ارشد شریف، کمیٹی کے سامنے پیش ہوئے جبکہ اینکر پرسن صابر شاکر اور پی ایف یو جی کے نائب صدر لالہ اسد پٹھان نے بذریعہ زوم کمیٹی اجلاس میں شرکت کی۔چیئرمین کمیٹی سینیٹر فیصل جاوید نے کہا کہ آزادی صحافت پر حملے ہو رہے ہیں قد غن لگائی جا رہی ہے۔چینلز کے نمبر تبدیل ہو رہے ہیں مقدمات بنائے جا رہے ہیں۔صحافیوں کے تحفظ کیلئے بل پاس کیا گیا ان رولز پر عمل درآمد ابھی تک کیوں نہیں ہوا۔اینکر پرسن عمران ریاض نے کہا کہ مجھے نوٹسز مل رہے ہیں پیشی کے، 28 تاریخ کو پیش ہونا تھا اور نوٹس 31 کو ملا تاکہ میں پیش نہ ہو سکوں اور میرے خلاف ایکشن لیا جائے۔ڈرون کیمرے سے میرے گھر کی ویڈیوز بنائی گئیں۔پولیس نے بھی میرا گھر گھیرا لیکن میں نکل گیا، پولیس والے نے مجھے کہا کہ آپ نکل جائیں ورنہ گرفتار کرلیں گے۔ٹھٹھہ میں 502 کی دفعہ لگائی گئی جو کہ صرف حکومت لگا سکتی ہے، مدعی عاشق علی ہے جس کے خلاف منشیات کے 16 مقدمات ہیں اور عدالت نے اسکا شناختی کارڈ بلاک کرایا ہے۔مقدمہ وہ درج کیا گیا جو صرف ریاست کرا سکتی ہے۔نواب شاہ میں میرے خلاف دوسرا مقدمہ ہے، تیسرا مانسہرہ میں،کسی صوبائی حکومت نے ا نکوائری نہیں کرائی کہ یہ جعلی مقدمات کون کروا رہا ہے۔ہائی کورٹ سے ضمانت ملی ہے، جمعہ کو پیشی ہے، مجھے کہا گیا کہ اسلام آباد نہیں چھوڑنا ورنہ گرفتار کر لیں گے۔عالمی تنظیمیں ہم سے تفصیلات مانگ رہی ہیں، پاکستان کا امیج متاثر ہوگا ہمیں مجبور نہ کریں کہ یو این میں جائیں۔
    اینکر پرسن ارشد شریف نے کہا کہ سندھ، بلوچستان، کے پی کے اور پنجاب کے آئی جیز کو کمیٹی میں بلائیں کہ 505 کی دفعات کیوں لگائی گئی پینل کوڈ کے تحت۔سیالکوٹ، لاہور، ملتان میں اے آر وائے کو بند کیا گیا اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی ہوئی، کیبل آپریٹر نے عدالتی حکم کی خلاف ورزی کی۔کمیٹی سے گزارش ہے کہ آپ منتخب نمائندے ہیں آپ فیصلہ کریں، آپ سے انصاف کی امید ہے۔
    سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا کہ کسی کا نقطہ نظر مجھ سے مختلف ہو سکتا ہے لیکن کیا اپنی رائے کیلئے دوسرے کا گلا گونٹ دیا جائے یہ جبر ہے۔رائے سے اختلاف ہو سکتا ہے جب مجھے پکڑا گیا یہ سارے میرے ساتھ کھڑے تھے کیونکہ سوال اظہار رائے اور قلم کا تھا۔اس مسئلے پر میں صحافیوں اور ان اینکر پرسنز کے ساتھ ہوں۔نائب صدر پی ایف یو جے نے کہا کہ اے ار وائے کے اینکرز کے خلاف کل 8 مقدمات ہیں۔باہر ممالک میں چینلز کسی نہ کسی پارٹی کی سائیڈ لیتے ہیں اس میں کوئی حرج نہیں۔یہ کونسی جمہوریت ہے جس میں ایسے مقدمات لگائے جا رہے ہوں۔چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ چیئرمین پیمرا کے مطابق ان صحافیوں کے خلاف کوئی ایکشن ہی نہیں لیا گیا جس پر چیئرمین پیمرا نے قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ اس سے پیمرا کا تعلق نہیں ہے، پیمرا چینلز کے اندرونی انتظامیہ کے معاملات میں عمل دخل کرنے کا اختیار نہیں رکھتا۔جو ذمہ دار ہیں تو ان کو بلائیں۔نائنٹی ون کیبل کا ہمیں بتایا گیا اور ان کے خلاف ایکشن لے رہے ہیں۔چیئرمین کمیٹی نے چیئرمین پیمرا سے گزشتہ تین ماہ کی چینلز کی نمبرنگ کی تفصیلات طلب کرلیں۔

    اینکر پرسن صابر شاکر نے کہا کہ چیئرمین پیمرا کیبل آپریٹرز کو چینل کی بندش کاحکم نہیں دے سکتے۔ہمیں دھمکیاں مل رہی ہیں کہ جہاز سے اٹھا لیں گے، ارشد شریف، اے آر وائے اور چینل کے مالک سلمان کو عبرت کا نشان بنادیں گے۔ میری اور ارشد شریف کی زندگی خطرے میں ہے۔سینیٹرعرفان صدیقی کو بھی اس وقت کی حکومت نے نہیں اٹھایا تھا۔ کل تک محب وطن تھے آج دشمن ہو گئے۔مجھے شرمندگی ہو رہی ہے کہ کس ملک میں رہ رہے ہیں کیا یہ جمہوریت ہے۔
    سینیٹرعون عباس نے کہا کہ پیمرا بھی اس معاملے میں بے بس ہیں، سیکریٹری اطلاعات کا بھی کوئی کام نہیں۔اس معاملے کو سنجیدگی سے لیں ہر ہفتے کمیٹی بلائیں، آئی جیز اور ہوم سیکریٹریز کو بلائیں۔ سینیٹر طاہر بزنجو نے کہا کہ جمہوریت آزاد صحافت کے بغیر پروان نہیں چھڑتی۔ارشد شریف کا معاملہ میرے لئے حیران کن نہیں ہے۔بلوچستان میں سیاست دانوں کے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔صحافی کا بھی کسی جماعت کی طرف جھکاؤ ہو سکتا ہے۔ہر چینل کی اپنی پالیسی ہوتی ہے یہ ان کا حق ہے۔ شائستہ زبان میں تنقید برائے اصلاح ہونی چاہئے۔چاروں صوبوں کے آئی جیز کو بلائیں، معلومات کرائیں کہ جس شخص نے ایف آئی آر کاٹی وہ کون ہیں؟ کس کے کہنے پر یہ کیا ہے؟ یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ان کو انصاف اور حفاظت فراہم کریں۔جو بھی اقدامات اٹھائیں گے ہم ساتھ ہیں۔
    سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا کہ اس ایشو کے اوپر میں سیاسی وابستگی سے بالاتر ہو کر ساتھ ہوں یہ قومی مسئلہ ہے۔ہم ان کا دفاع کریں گے، جو بھی کمیٹی طے کرے گی ہم ساتھ ہیں۔ اپنے آپ کو خوش کرنے کیلئے سب کو بلائیں لیکن مسئلہ حل نہیں ہوگا کیونکہ یہ نہیں کرسکتے۔اصول بنائے کہ ہم ہر آواز کو سنیں، آواز کو بند کرنے کی بات نہیں ہونی چاہئے۔
    چیئرمین کمیٹی سینیٹر فیصل جاوید نے کہا کہ صحافیوں کے ساتھ جو ہو رہا ہے ان کا پرسان حال کون ہے؟ پیمرا کو بھی نہیں پتہ، وزارت کا کیا جواب ہے، صحافیوں پروٹیکشن بل کے رولز ابھی تک نہیں آئے۔سیکرٹری وزارت اطلاعات نے کہا کہ ہیومن رائٹ نے اس بل کے حوالے اے ایکشن لینا ہے۔چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ آزادی صحافت پر جو حملہ ہے اس میں وزارت کیا کرے گی۔ اینکر پرسن ارشد شریف نے کہا کہ شکایت کنندہ کو کمیٹی میں بلائیں ہم اخراجات برداشت کریں گے اور ان سے یہ کمیٹی پوچھے۔اس حوالے سے کوئی قانون سازی کرنی چاہئے، تاکہ کل کو صحافیوں کو تحفظ حاصل ہو۔چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ 5.5 سیکشن تو حکومت کے بغیر نہیں ہوسکتی۔چیئرمین کمیٹی نے طویل بحث کے بعد معاملے کو اگلی میٹنگ تک موخر کرتے ہوئے کہا کہ اگلی میٹنگ میں وزیر اطلاعات بھی آئیں اور دیگر متاثرین کو بھی آکر سنیں گے اس کے بعد کمیٹی فیصلہ دے گی۔
    چیئرمین کمیٹی نے سوال کیا کہ صحافیوں کے معاملے کا تعلق وزارت اطلاعات سے ہے،کیا آپ لوگ اس زیادتی کو تسلیم کرتے ہیں؟۔سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا کہ سینیٹ کی داخلہ کمیٹی کو لکھنا چاہئے کہ اس حوالے سے ایکشن لیں۔جس پر چیئرمین کمیٹی سینیٹر فیصل جاوید نے کہا کہ جو بھی اقدام اٹھائیں گے اس پر مشاورت کریں گے۔وزارت اطلاعات بتائیں کہ جو چینلز بندہیں ان کو بحال کریں گے۔جس پر چیئرمین پیمرا نے کمیٹی کو بتایا کہ اس وقت کوئی چینل بند نہیں ہے۔چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ اشتہارات کے معاملے میں کچھ چینلز اور اخبارات کو زیادہ نوازا جارہا ہے۔جو چینلز ایک ہی کیٹیگری میں ہیں ان کے اشتہارات میں اتنی تفریق کیوں ہے۔چینلز کی بندش کی تحقیقات کروائیں۔
    چیئرمین کمیٹی سینیٹر فیصل جاوید نے وزارت اطلاعات سے سات دن کے اندر 2008-2013، 2013-2018، 2018 -اپریل 2022 اور اپریل 2022 سے اب تک ٹی وی چینلز اور اخبارات کو دئیے گئے اشتہارات کا ڈیٹا طلب کرتے ہوئے وزیراعظم کے دورہ ترکی کے حوالے سے اشتہارات کی تفصیلات بھی چیئرمین کمیٹی نے طلب کرلیں۔چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ ٹیکس پئیر کا پیسہ ہے صحیح جگہ خرچ ہونا چاہئے۔صحافیوں کے تحفظ کے بل پر کیوں عمل درآمد نہیں ہوا۔چیئرمین کمیٹی نے صحافیوں کے تحفظ کے بل پر جلد سے جلد عمل درآمد کرانے کی ہدایت کی۔ابھی صحافیوں والا معاملہ عدالت میں ہے۔رولز کے مطابق زیر سماعت کیسز سے متعلق کمیٹی کوئی ہدایات نہیں دے سکتی۔چیئرمین کمیٹی نے سیکرٹری اطلاعات و نشریات سے اگلی میٹنگ میں اینکر پرسنز اور دیگر صحافیوں کے خلاف ایف آئی آرز کی تمام تفصیلات کرلیں۔چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ آپ لوگ اپنے صحافیوں کو تحفظ دیں، وزارت داخلہ کے ساتھ صحافیوں کے تحفظ کا معاملہ اٹھائیں۔اینکرپرسنز کے معاملے کی کوئی ذمہ داری نہیں لے رہا، بلیم گیم ہو رہی ہے۔صحافیوں کے تحفظ کی ذمہ داری وزارت اطلاعات کی ہے۔
    قائمہ کمیٹی کے آج کے اجلاس میں سینیٹرز عرفان صدیقی، عون عباس بپی، انور لعل دین، چاہر بزنجو اجلاس میں شریک ہوئے۔سینیٹر سلیم مانڈوی والا بطور موور اجلاس میں شریک ہوئے- چیئرمین پیمرا، چیئرمین پی سی بی، سیکرٹری وزارت اطلاعات ونشریات،اینکر پرسنز عمران ریاض، ارشد شریف، جبکہ اینکر پرسن صابر شاکر اور پی ایف یو جی کے نائب صدر لالہ اسد پٹھان نے بذریعہ زوم کمیٹی اجلاس میں شرکت کی۔

    پنجاب سے ڈی سیٹ پی ٹی آئی کے منحرف ارکان کا سپریم کورٹ میں اپیل کا فیصلہ

    خواتین پر تشدد کروانے پر عوام میں شدید غصہ پایا جاتا ہے:عمران خان

    عمران خان کی سی پی این ای کے نو منتخب عہدیداران کو مبارکباد

    مریم نواز کی ایک اور آڈیو لیک

  • انتخابات ترمیمی بل 2022 سینیٹ میں کثرت رائے سے منظور

    انتخابات ترمیمی بل 2022 سینیٹ میں کثرت رائے سے منظور

    انتخابات ترمیمی بل 2022 سینیٹ میں کثرت رائے سے منظور کر لیا گیا
    اپوزیشن نے شدید احتجاج کیا اور چیئرمین سینیٹ کے ڈائس کا گھیراؤ کرلیا۔ سینیٹ اجلاس میں اپوزیشن ارکان نے ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ دیں۔ بل کی شق وار منظوری دی گئی بل کثرت رائے سے منظور کیا گیا واضح رہے کہ الیکشن ترمیمی بل کو گزشتہ روز قومی اسمبلی سے منظور کیا گیا تھا۔

    چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے کہا کہ انتخابات ترمیمی بل کو کمیٹی کے سپرد کروں یا ابھی پاس کرانا ہے؟ وزیر قانون
    اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ یہ وہ بل ہے جسے سینیٹ کمیٹی نے منظورکیا تھا سمندر پار پاکستانیوں کے ووٹ کا حق واپس نہیں لیا گیا الیکشن کمیشن کوکہا ہے کہ سیکریسی کو مدنظر رکھ کر ووٹ کا حق ڈالنا یقینی بنائیں دونوں ترامیم سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے منظورکی تھیں الیکشن کمیشن نے کہا کہ الیکشن نہیں کرا پائیں گے، الیکشن کمیشن یقینی بنائے کہ سمندر پار پاکستانیوں کا ووٹ پڑے

    پی ٹی آئی سینیٹر شہزاد وسیم نے مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ہم کسی کو سمندر پار پاکستانیوں کے ووٹ کے حق پر ڈاکہ ڈالنے نہیں دیں گے ہم ای وی ایم پرسمجھوتا نہیں کریں گے اس ملک میں سب سے بڑی غیر ضروری امپورٹڈ چیز یہ امپورٹڈ حکومت خود ہے جس نے 25 تاریخ کو کنٹینرز کا قبرستان اور ملک کو ماڈل ٹاؤن بنا کر حقیقی آذادی کے نظریہ کو روکنے کی ناکام کوشش کی لیکن قوم نے انہیں مسترد کر دیا۔

    سپریم کورٹ نے دیا پی ٹی آئی کو جھٹکا،فواد چودھری کو بولنے سے بھی روک دیا

    عمران خان نے کل اداروں کے خلاف زہر اگلا ہے،وزیراعظم

    عمران خان کے فوج اور اُس کی قیادت پر انتہائی غلط اور بھونڈے الزامات پر ریٹائرڈ فوجی سامنے آ گئے۔

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ

    ای وی ایم ،اوورسیز ووٹنگ کے حوالے سے سابق حکومت کی ترامیم ختم

  • پاکستان:وفاقی کابینہ کا اجلاس آج :سینیٹ کا اجلاس بھی طلب کرلیا گیا

    پاکستان:وفاقی کابینہ کا اجلاس آج :سینیٹ کا اجلاس بھی طلب کرلیا گیا

    اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس آج ہوگا۔ تفصیلات کے مطابق وزیراعظم کی زیر صدارت ہونیوالے اجلاس کا 5 نکاتی ایجنڈا جاری کردیا گیا ہے۔ کابینہ اجلاس میں درآمدات، برآمدات اور تجارتی توازن کی صورتحال پر بریفنگ دی جائے گی۔

    رپورٹس کے مطابق وفاقی کابینہ کے اجلاس میں سافٹ ویئر ایکسپورٹ اور آئی ٹی شعبے کی شرح نمو کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔

    ایجنڈے کے مطابق وفاقی کابینہ میں ریٹائرمنٹ کی ڈائریکٹری رپورٹ پیش کی جائے گی، پاکستان کی 75ویں سالگرہ پر اعزازی نوٹ کے اجرا کی منظوری بھی دی جائے گی۔رپورٹس کے مطابق ای سی سی کے اجلاس کے فیصلوں کی توثیق بھی ایجنڈے میں شامل ہے۔

    ادھر ذرائع کے مطابق سینٹ کا اجلاس بھی طلب کرلیا گیا ہے اور یہ اجلاس وزیراعظم شہبازشریف کی طرف سے صدرمملکت کواجلاس کی ریکوزیشن بھیجنے کے بعد طلب کیا ہے ،

    اس اہم اجلاس میں کیا فیصلے ہوں گے ، اس کےبارے میں فی الحال تو کوئی واضح چیزیں سامنے نہیں آئیں تاہم یہ کہا جارہا ہےکہ یہ اجلاس بھی ہنگامہ خیز ہوسکتا ہے کیونکہ سینیٹ اجلاس میں پاکستان تحریک انصاف کے سینٹرز کی طرف سے سخت ردعمل کی توقع ہے ، ادھر اسلام آباد سے ملنے والی اطلاعات میں بتایا گیاہےکہ حکومت کی کوشش ہے کہ وہ اس اجلاس میں انتخابی اصلاحات کے‌حوالے سے کوئی پیش رفت کے طور پرمعاملے کو زیربحث لائے

  • سینیٹر ڈاکٹر شہزاد وسیم  سے اسلام آباد میں جرمنی کے سفیر کی ملاقات

    سینیٹر ڈاکٹر شہزاد وسیم  سے اسلام آباد میں جرمنی کے سفیر کی ملاقات

    سینیٹ میں قائد حزب اختلاف اور تحریک انصاف کے سفارتی امور کے سربراہ سینیٹر ڈاکٹر شہزاد وسیم  سے اسلام آباد میں جرمنی کے سفیر نے ملاقات کی ہے

    ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا،سینیٹ میں قائد حزب اختلاف ڈاکٹر شہزاد وسیم کا کہنا تھا کہ پاکستان اور جرمنی کے درمیان تعلقات مشترکہ جمہوری اقدار اور کثیر الجہتی تعاون پر مبنی ہیں، دونوں ممالک کے درمیان پارلیمانی تعاون کو فروغ دینے سے تعلقات مزید بہتر ہوں گے، انسانی حقوق کی پاسداری کے حوالے سے جرمنی کا کردار خصوصی اہمیت کا حامل ہے تحریک انصاف اپنے دور حکومت میں ملک کے بہترین مفاد میں آزاد خارجہ پالیسی پر عمل پیرا رہی جسے بھر پور عوامی تائید اور پزیرائی حاصل رہی۔

     

    ڈاکٹر شہزاد وسیم کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف  اقوام عالم کے ساتھ امن ، خود مختاری اور برابری کی بنیاد پر بہترین تعلقات پر یقین رکھتی ہے ۔بیرون ملک پاکستانی ہمارا قیمتی اثاثہ ہیں، جرمنی میں مقیم پاکستانی کمیونٹی جرمنی کی تعمیر و ترقی میں اہم  کردار ادا کر رہی ہے ۔ جرمنی یورپی یونین کی ایک مضبوط معیشت ہے،سابق وزیراعظم عمران خان کے دور حکومت میں جرمنی کے ساتھ باہمی تعلقات کے فروغ کو خصوصی اہمیت دی گئی ،جرمن سفیر کا کہنا تھا کہ جرمنی ،پاکستان کے  ساتھ بہترین دوطرفہ تعلقات اور کثیر الجہتی تعاون کو خصوصی اہمیت دیتا ہے ،

    پولیس فائرنگ سے جاں بحق اسامہ سٹی کی پوسٹ مارٹم رپورٹ آ گئی،کتنی گولیاں لگیں؟

    اسامہ ستی قتل کیس، وفاقی کابینہ کا اہم فیصلہ، وزیراعظم کا دبنگ اعلان

    اسامہ ستی قتل کیس ، پولیس افسران ملزمان کو بچانے کے لیے سرگرم

    جس طرح تحقیقات کروانا چاہیں حکومت تیار ہے، شیخ رشید کا اسامہ ستی کے والد کو فون

    پولیس اہلکاروں کو بچانے کی کوشش کی جارہی ہے،مقتول اسامہ ستی کے والد کی درخواست

  • تمام گریڈ کی آسامیوں پر اقلیتی کوٹہ کا خیال رکھا جانا چاہیے،سینیٹ قائمہ کمیٹی میں مطالبہ

    تمام گریڈ کی آسامیوں پر اقلیتی کوٹہ کا خیال رکھا جانا چاہیے،سینیٹ قائمہ کمیٹی میں مطالبہ

    تمام گریڈ کی آسامیوں پر اقلیتی کوٹہ کا خیال رکھا جانا چاہیے،سینیٹ قائمہ کمیٹی میں مطالبہ

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے ریاستی و سرحدی امور کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر ہلال الرحمن کی زیر صدارت آج پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔

    سیکریٹری لوکل گورنمنٹ خیبرپختونخواہ نےکمیٹی کو نئے ضم شدہ اضلاع کے لوکل گورنمنٹ دفاتر میں خالی اسامیوں کے حوالے سے بریفنگ دی۔ کمیٹی ممبران اور چیئرمین کمیٹی نے بڑے پیمانے پر آسامیاں خالی ہونے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ خالی آسامیوں پر جولائی تک تقرریوں کا عمل مکمل ہو جائے گا۔ سینیٹر ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے کہا کہ تمام تقرریاں چاہے کسی بھی درجے کی ہوں ایک ضابطے، ضرورت اور میرٹ کو مدِ نظر رکھتے ہوئے کی جائیں۔ تقرریوں میں سیاسی عمل دخل انتہائی تشویش ناک ہے۔ سینیٹر دوست محمد خان نے تجویز دی کہ بارودی سرنگوں کے دھماکوں کی وجہ سے سابقہ فاٹا میں زخمی یا شھيد ہونےوالے افراد کے ورثاء کو ان آسامیوں پر بھرتی کے لیے ترجیح دی جائے۔ سینیٹر دنیش کمار نے اقلیتی کوٹہ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اقلیتوں کو صرف درجہ چہارم کی آسامیوں پر بھرتی کرنا نا انصافی ہے۔ تمام گریڈ کی آسامیوں پر اقلیتی کوٹہ کا خیال رکھا جانا چاہیے۔ چیئرمین کمیٹی سینیٹر ہلال الرحمن نے ہدایت دی کہ تمام خالی آسامیوں پر جلد از جلد تقرریاں کی جائیں۔ چیرمین کمیٹی نے سابقہ فاٹا کے مسائل کو یکسو کرنے کے لیے سینیٹر ڈاکٹر ثانیہ نشتر کی زیر قیادت ایک ذیلی کمیٹی قائم کردی۔ سینیٹر ہدایت اللہ ، سینیٹر حاجی ہدایت اللہ خان، اور سینیٹر دوست محمد خان کمیٹی کا حصہ ہونگے۔

    وفاقی وزیر برائے ریاستی و سرحدی امور سینیٹر طلحہ محمود نے کمیٹی کو طالبان حکومت کے آنے کے بعد افغانستان سے مہاجرینِ کی پاکستان میں آمد کے حوالے سے بتاتے ہوئے کہا کہ اس حوالے سے پاکستانی حکومت کی پالیسی واضع ہے۔ حکومت پاکستان کسی طور بھی غیر قانونی طور پر پاکستان میں داخل ہونے والے افغان شہریوں کو مہاجرینِ کا درجہ دینے کے لیے تیار نہیں ہے۔ اُنکا کہنا تھا افغان ہمارے بھائی ہیں ہم نے اپنے افغان بھائیوں کے لیے بہت کچھ کیا ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ افغان مہاجرینِ کو باعزت افغانستان واپس جانا چاہیے۔ سینیٹر طلحہ محمود کا کہنا تھا کہ افغانستان سے پاکستان داخلے کے تمام پوائنٹس کو ریگولیٹ کریں گے۔ افغان مہاجرین کی آڑ میں پاکستان مخالف تخریبی عناصر امن امان خراب کرنے کی نیت سے پاکستان میں داخل ہوتے رہے ہیں۔ پاکستان میں موجود افغان مہاجرین کی تعداد معلوم کرنے کے لیے نادرا اور دیگر اداروں کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ سینیٹر طلحہ محمود نے تشویش کا اظہار کیا کہ ماضی میں بہت سے افغان مہاجرین غیر قانونی طور پر پاکستانی شناختی کارڈ حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے جس کا تدارک انتہائی ضروری ہے۔

    پاک پی ڈبلیو ڈی کے حکام نے کمیٹی کو سال ۲۲-۲۰۲۱ کے لیے قبائلی ضلع مہمند اور قبائلی ضلع باجوڑ میں ایس ڈی جی ترقیاتی سکیموں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی۔ کمیٹی کو فراہم کردہ معلومات کے مطابق 475 ملین کی لاگت سے گیارہ منصوبوں پر کام جاری ہے جس میں سے 384 ملین کی رقم استعمال کی جا چکی ہے۔ چیئرمین کمیٹی سینیٹر ہلال الرحمن نے استفسار کیا کہ کس طرح صرف چالیس دن میں اندر اتنی رقم استعمال کر لی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ضلع مہمند جیسے علاقے میں ایسا کر پانا ناممکن ہے۔ چیئرمین کمیٹی نے تمام منصوبہ جات میں پیپرا رولز کی سنگین خلاف ورزی پر شدید تحفظات كا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ سابقہ فاٹا کے غریب عوام کا پیسہ ہے ہم اسکو اس طرح چوری نہیں ہونے دیں گے۔ "جب کوئی منصوبہ مکمل ہی نہیں ہوا تو کیسے کنٹیکٹرز کو پیشگی ادائیگی کر دی گئی؟” پاک پی ڈبلیو ڈی کے حکام اس حوالے سے کوئی تسلی بخش جواب دینے سے قاصر رہے۔ جس پر چیئرمین کمیٹی نے ۱۷ مئی کو آئندہ اجلاس میں ڈی جی نیب خیبرپختونخواہ، ڈی جی ایف آئی اے اور ڈی سی ضلع مہمند کو طلب کر لیا۔ چیئرمین کمیٹی کا کہنا تھا کہ اس معاملے کی جامع تحقیقات کرتے ہوئے ذمےداران کے خلاف کارروائی کی جائیگی۔

    کمیٹی اجلاس میں سینیٹرز، انور لال دین، بہرامند خان تنگی، دنیش کمار، دوست محمد خان، گردیپ سنگھ، ہدایت اللہ، حاجی ہدایت اللہ خان، ڈاکٹر ثانیہ نشتر، شمیم آفریدی، فدا محمد، وفاقی وزیر برائے ریاستی و سرحدی امور سینیٹر طلحہ محمود، متعلقہ وزارت اور پی ڈبلیو ڈی کے حکام نے شرکت کی۔

  • اگلی عدم اعتماد کب اور کس کیخلاف؟ مبشر لقمان نے سب بتا دیا

    اگلی عدم اعتماد کب اور کس کیخلاف؟ مبشر لقمان نے سب بتا دیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ اب اگلی عدم اعتماد چیئرمین سینیٹ اور ڈپٹی چیئرمین سینٹ کے خلاف آئے گی-

    باغی ٹی وی : سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ اگلے ہفتے چیئرمین سینٹ اور ڈپٹی چیئرمین سینٹ کے خلاف تحریک عدم اعتماد متوقع ہے-

    پنجاب اسمبلی میں ہنگامہ آرائی،پرویزالٰہی مقدمہ درج کرانےتھانے پہنچ گئے

    انہوں نے اپنی ٹوئٹ میں کہا کہ سینٹ میں بھی تحریک عدم اعتماد کامیاب ہو گی اور پیپلز پارٹی کے رہنما موجودہ سینیٹ میں قائد حزب اختلاف سید یوسف رضا گیلانی چیئرمین سینٹ اور جے یو آئی کے رہنما عبدالغفور حیدری ڈپٹی چیئرمین سینیٹ ہو سکتے ہیں-

    عوام کے مسائل حل کرنا ترجیح ہے، اپوزیشن کو ساتھ لے کر چلنا چاہتے ہیں،وزیر اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز

    واضح رہے کہ اپوزیشن نے وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کروائی تھی جو کامیاب ہو چکی ہے اور شہباز شریف وزیراعظم بن چکے ہیں پنجاب میں وزیراعلی کے خلاف عدم اعتماد جمع ہوئی تو عثمان بزدار نے استعفی دے دیا اور آج پنجاب میں حمزہ شہباز وزیراعلی منتخب ہو گئے ہیں

    اپوزیشن کی جانب سے سپیکر قومی اسمبلی کے خلاف بھی تحریک عدم اعتماد جمع کروائی گئی تھی ڈپٹی سپیکر کے خلاف بھی دونوں نے استعفی دے دیا ہے

    اب اپوزیشن کا اگلا وار سینیٹ میں ہو گا اور سینیٹ میں بڑی تبدیلی کا امکان ہے-

    پنجاب میں بھی تبدیلی آ گئی حمزہ شہباز وزیراعلی منتخب

  • چیئرمین سینیٹ الیکشن کالعدم قرار دینے کی انٹراکورٹ اپیل پر فیصلہ آ گیا

    چیئرمین سینیٹ الیکشن کالعدم قرار دینے کی انٹراکورٹ اپیل پر فیصلہ آ گیا
    چیئرمین سینیٹ کے الیکشن کالعدم قراردینے سے متعلق یوسف رضا گیلانی کی اپیل مسترد کر دی گئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے چیئرمین سینیٹ الیکشن کالعدم قرار دینے کی انٹراکورٹ اپیل پر فیصلہ سنا دیا ،صادق سنجرانی ہی چئیرمین سینیٹ رہیں گے، یوسف رضا گیلانی کی انٹراکورٹ اپیل بھی مسترد کر دی گی،جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے انٹراکورٹ اپیل پر فیصلہ سنا دیا

    یوسف رضا گیلانی نے چیئرمین سینیٹ الیکشن کالعدم قرار دینے کی اپیل دائر کر رکھی تھی سنگل بینچ نے یوسف رضا گیلانی کی درخواست ناقابل سماعت قرار دے کر خارج کر دی تھی یوسف رضا گیلانی کی انٹراکورٹ اپیل پر 22 دسمبر 2021 کو فیصلہ محفوظ کیا گیا تھا عدالت نے کچھ پہلوؤں پر مزید معاونت کیلئے کیس دوبارہ سماعت کیلئے مقرر کیا تھا عدالت نے کیس دوبارہ سننے کے بعد گزشتہ روز اپیل پر فیصلہ محفوظ کیا تھا پریزائیڈنگ افسر نے یوسف رضا گیلانی کے 7 ووٹ مسترد کیے تھے

    گیلانی کے ایک ہی چھکے نے ن لیگ کی چیخیں نکلوا دیں

    بلاول میرا بھائی کہنے کے باوجود مریم بلاول سے ناراض ہو گئیں،وجہ کیا؟

    ندیم بابر کو ہٹانا نہیں بلکہ عمران خان کے ساتھ جیل میں ڈالنا چاہئے، مریم اورنگزیب

    ن لیگ بڑی سیاسی جماعت لیکن بچوں کے حوالہ، دھینگا مشتی چھوڑیں اور آگے بڑھیں، وفاقی وزیر کا مشورہ

    مجھے کیوں نکالا…..کس کس جماعت کو پی ڈی ایم سے نکال دیا گیا؟

    سینیٹ اجلاس ،پہلے خطاب میں یوسف رضا گیلانی کا حکومت کا ساتھ دینے کا اعلان،مولانا، مریم پریشان

    سینیٹ میں خفیہ کیمرے لگنے پر چیئرمین سینیٹ کا بڑا اعلان،ن لیگ کے مطالبے پر پی پی کا ہنگامہ

    آپ ایوان کا ماحول ٹھیک کرائیں، زبان ہمارے پاس بھی ہے،سینیٹ میں گرما گرمی

    پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنما اور ایوان بالا میں اپوزیشن لیڈر یوسف رضا گیلانی نے چیئرمین سینیٹ کے انتخاب متعلق ہائی کورٹ کے فیصلے کیخلاف انٹرا کورٹ اپیل دائر کی تھی اپیل یوسف رضا گیلانی کے وکیل ملک جاوید وینس نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر کی۔ متن میں شامل ہے کہ ہائیکورٹ کے سنگل بینچ نے دوران سماعت حقائق کا جائزہ نہیں لیا درخواست کے متن میں شامل ہے کہ آئین پاکستان غیر قانونیت کے حوالے سے واضع ہے۔ غیر قانونی عمل کی تشریح عدالتیں کر سکتی ہیں عدالت کا کام ہے کہ غیر قانونیت پر نعم البدل فراہم کرے، ایسے مقدمات میں عدالت نے ووٹرکی نیت کو پرکھنا ہوتا ہے اپیل میں استدعا کی گئی ہے کہ انٹرا کورٹ اپیل منظور اور سنگل بینچ کا فیصلہ مسترد کیا جائے۔ خیال رہے کہ 24مارچ کو یوسف رضا گیلانی کی درخواست ہائی کورٹ سے خارج کی گئی تھی۔

    عدالت نے تحریری فیصلے میں صادق سنجرانی کو ہٹانے کی درخواست ناقابل سماعت قرار دیا تھا۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ عدالت توقع رکھتی ہے کہ پارلیمنٹ کی بالادستی کو یقینی بنایا جائے گا اور پارلیمنٹ کےمسائل پارلیمنٹ کے اندر ہی حل کیے جائیں گے مزید کہا گیا کہ آرٹیکل 69 کےتحت عدالت اس معاملےمیں مداخلت نہیں کر سکتی، چیئرمین سینیٹ الیکشن سینیٹ کا اندرونی معاملہ ہی ہے، الیکشن کا ساراعمل ہائی کورٹ کے دائرہ اختیار سے باہر ہے یوسف رضاگیلانی نے پریذائیڈنگ افسرکی جانب سے7ووٹ مسترد کیے جانے کا فیصلہ چیلنج کیا تھا۔

    فیصل واوڈاصادق وامین نہیں رہے،حقائق چھپائے:نااہل کیا جائے:مبشرلقمان نےاسپیکرقومی اسمبلی کودرخواست دےدی

    فیصل واوڈا جو بوٹ لے کر گئے وہ میرے بچوں کا ہے، خاتون کا سینیٹ میں دعویٰ

    فیصل واوڈا کے خلاف ہارے ہوئے امیدوار کی جانب سے مقدمہ کی درخواست پر عدالت کا بڑا حکم

    نااہلی کی درخواست پر فیصل واوڈا نے ایسا جواب جمع کروایا کہ درخواست دہندہ پریشان ہو گیا

    فیصل واوڈا کی بیرون ملک جائیدادیں، ناقابل تردید ثبوت باغی ٹی وی نے حاصل کر لئے

    کیا فیصل واوڈا قانون سے بالا تر ہیں؟ ،عدم پیشی پر الیکشن کمیشن کا اظہار برہمی

    استعفیٰ دینے کے بعد فیصل واوڈا الیکشن کمیشن میں پیش، پھر مہلت مانگ لی

    میری غلطی ہے تو پھانسی لگا دیں لیکن یہ کام ضرور کریں، فیصل واوڈا کا الیکشن کمیشن میں بیان

    نااہلی سے بچنے کے لئے فیصل واوڈا نے عدالت میں کیا قدم اٹھا لیا