Baaghi TV

Tag: سیوریج پانی

  • خیبر پختونخوا  کے دوشہروں میں سیوریج کے پانی میں پولیو وائرس کی تصدیق

    خیبر پختونخوا کے دوشہروں میں سیوریج کے پانی میں پولیو وائرس کی تصدیق

    خیبر پختونخوا : پشاور اور ہنگو میں سیوریج کے پانی میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی ہے-

    باغی ٹی وی : یہ وائرس 10 اپریل کو پشاور کے نارے کھوار سائٹ اور ہنگو کے سول ہسپتال جانی چوک سے جمع کیے گئے ماحولیاتی نمونوں میں وائلڈ پولیو وائرس ون موجود ہے رواں سال ن نارے کھوار پشاور اور ہنگو کے سیوریج میں پہلی بار پولیو وائرس پایا گیا ہے، دونوں شہروں سے پولیو ٹیسٹ کیلئے سیمپلز 10 اپریل کو لئے گئے تھے-

    شاہد آفریدی کا کراچی میں لیجنڈز ارینا کے قیام کا اعلان

    یاد رہے کہ رواں سال اب تک پاکستان میں ایک شخص میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی ہے جبکہ دیگر 5 ماحولیاتی نمونے پولیو وائرس کے مثبت کیسز رپورٹ ہوئے ہیں-

    اسلام آباد میں قومی ادارہ صحت کی پاکستان پولیو لیبارٹری کے مطابق جو دو نئے وائرس سامنے آئے ہیں وہ جنیاتی طور پرجنوری 2023ء میں افغانستان کے صوبہِ ننگرہار کے ماحول میں پائے جانے والے پولیو وائرس سے منسلک ہےپاکستان اور افغانستان بچوں کی قوت مدافعت بڑھانے کے لیے مئی کے دوران ویکسینیشن مہم کا آغاز کریں گے۔

    صدر زیلنسکی نے روسی صدر پر حملے کی تردید کر دی

    واضح رہے کہ پشاور کے سیوریج میں آخری بار پولیو نومبر 2022 میں پایا گیا تھا ہنگو میں آخری بار پولیو کیس جولائی 2019 میں پایا گیا تھا،اس سے قبل گزشتہ سال جولائی کے مہینے میں پاکستان کے 7 شہروں کے سیوریج سیمپلز میں پولیو وائرس پایا گیا تھا، خیبرپختونخوا کے چار شہروں کے سیمپلز میں پولیو وائرس پایا گیا۔

    صوبےسرد علاقوں سے 6 لاکھ سے زائد مہمان پرندے ہجرت کر کے آئے،وائلڈ لائف سندھ

  • پینے کے پانی میں سیوریج کی آمیزش،نصف آبادی ہسپتال پہنچ گئی

    قصور
    نواحی گاؤں موضع جوڑا کے نصف سے زیادہ لوگ پیٹ کی بیماریوں میں مبتلا،آر ایچ سی جوڑا میں ادویات کم پڑ گئیں،ہسپتال عملہ و لوگ سخت پریشان،سرکاری پانی میں سیوریج پانی کی آمیزش کا شبہ

    تفصیلات کے مطابق قصور کے قصبہ نور پور کے نواحی گاؤں جوڑا میں نصف سے زیادہ آبادی پیٹ کی بیماریوں کا شکار ہو کر ہسپتال پہنچ گئی ہے
    ہر گھر سے دو چار افراد اور بعض پورے کے پورے گھرانے ڈائیریا کا شکار ہو چکے ہیں جبکہ متعلقہ ہسپتال آر ایچ سی جوڑا میں روٹین کی دوائی ہونے کی وجہ سے ایک دم مریضوں میں شدید اضافے کی بدولت ادویات ختم ہو گئی ہیں جس کے باعث ہسپتال انتظامیہ و لوگ سخت پریشان ہیں
    شبہ ہے کہ سرکاری پانی میں سیوریج کا پانی آمیزش کر رہا ہے جس کے باعث بیماریاں جنم لے رہی ہیں
    اہلیان علاقہ نے ضلعی انتظامیہ سے درخواست کی ہے کہ متعلقہ ہسپتال میں جلد سے جلد ادویات پہنچائی جائیں اور سرکاری پانی میں سیوریج کی آمیزش کو چیک کیا جائے اور پینے کے سرکاری واٹر سپلائی پانی کو پینے کے قابل بنایا جائے