Baaghi TV

Tag: سیٹیلائٹ

  • بھارت کا سب سے بھاری  سیٹلائٹ کامیابی سے خلا میں روانہ

    بھارت کا سب سے بھاری سیٹلائٹ کامیابی سے خلا میں روانہ

    بھارتی خلائی ایجنسی انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن (اسرو) نے بدھ کے روز اپنی تاریخ کا سب سے وزنی سیٹلائٹ کامیابی سے خلا میں روانہ کر دیا ہے-

    وزیراعظم نریندر مودی نے اپنے بیان میں کہا کہ LVM3-M6 راکٹ کے ذریعے امریکا میں تیار کردہ AST SpaceMobile کمیونیکیشن سیٹلائٹ کو لو ارتھ آربٹ میں بھیجا گیا یہ سیٹلائٹ 6 ہزار 100 کلوگرام وزنی ہے، جو اب تک بھارت کی سرزمین سے لانچ کیا جانے والا سب سے بھاری پے لوڈ ہے، اس کامیاب مشن سے بھارت کی ہیوی لفٹ لانچ صلاحیت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور عالمی کمرشل سیٹلائٹ مارکیٹ میں بھارت کا کردار مزید مضبوط ہوگا یہ لانچ بھارت کے خلائی سفر میں ایک قابلِ فخر سنگِ میل ہے اور اس سے مستقبل کے خلائی مشنز کے لیے نئی راہیں ہموار ہوں گی۔

    https://x.com/narendramodi/status/2003677923820335183?s=20

    اسرو نے رواں سال کے آغاز میں CMS-03 کمیونیکیشن سیٹلائٹ بھی خلا میں بھیجا تھا، تاہم حالیہ سیٹلائٹ وزن کے اعتبار سے اس سے کہیں زیادہ بھاری ہے بھارت آنے والے برسوں میں بغیر انسان کے خلائی مشن، انسانی خلائی پرواز اور 2040 تک خلا میں خلاباز کو چاند پر بھیجنے کا منصوبہ رکھتا ہے۔

  • چین چاند کے مدار میں ریڈیائی دوربینوں والے سیٹلائٹ روانہ کرے گا

    چین چاند کے مدار میں ریڈیائی دوربینوں والے سیٹلائٹ روانہ کرے گا

    بیجنگ: چین سال 2026 تک وہ چاند کے مدار میں ریڈیائی دوربینوں والے سیٹلائٹ روانہ کرے گا-

    باغی ٹی وی: چینی میڈیا کے مطابق ان سیٹلائٹ میں ایک مرکزی اور 8 چھوٹے سیٹلائٹ چاند کے گرد مدار میں بھیجے جائیں گے۔ چینی حکام کے مطابق کائنات میں انتہائی بعید ترین ریڈیائی سگنلوں کو دیکھنا ممکن ہوگااس کے لیے چھوٹی دوربینوں کا ڈیٹا مرکزی دوربین تک جائے گا۔ اس کے بعد وہاں ڈیٹا جمع ہوکر زمین کی جانب بھیجا جائے گااس منصوبے کا نام ’طویل طولِ موج سے فلکیاتی دریافت‘ یا ہونگ مینگ پروجیکٹ رکھا گیا ہے۔

    امریکا پاکستان کو آئی ایم ایف کیجانب سےامداد کی فراہمی میں کردارادا کرے،امریکی رکن کانگریس

    ماہرین کے مطابق قمری دوربینیں زیادہ گہرائی سے کائنات کے ان دیکھے گوشے دیکھ سکیں گی اور یوں ہمارے علم میں پیش بہا اضافہ ہوگا۔ زمین میں فضا، اور دیگر آلودگی کی وجہ سے یہ ریڈیائی مشاہدہ ممکن نہیں اور یہی وجہ ہے کہ چاند اس کے مشاہدے کی ایک بہترین جگہ ہے اس سے قدیم ترین ان ریڈیائی امواج کو سمجھنے میں مدد ملے گی جو عین بگ بینگ کے بعد نمودار ہوئی تھیں-

    ہرملک کواپنی توانئی کی ضروریات پوری کرنے کیلئے اپنے مطابق فیصلہ کرنا ہے،امریکا

    چائنا نیشنل اسپیس ایڈمنسٹریشن (سی این ایس اے) سے وابستہ زیولائی چین نے کہا کہ چاند پر رصدگاہ بنانے سے بہتر ہے کہ آلودگی سے پاک قمری مداروں میں دوربینی سیٹلائٹ روانہ کیے جائیں۔ انہیں بنانا کم خرچ ہے اور سادہ طریقہ بھی ہے۔

    ڈونلڈ ٹرمپ کو گرفتار کرلیا گیا

  • ناسا نے فضائی آلودگی کا جائزہ لینے والا سیٹلائٹ لانچ کر دیا

    ناسا نے فضائی آلودگی کا جائزہ لینے والا سیٹلائٹ لانچ کر دیا

    کیلیفورنیا: گزشتہ برسوں میں ناسا نے ارضی و فضائی آلودگی پر نظر رکھنے کے لیے کئی سیٹلائٹ بنائے اور مدار میں بھیجے ہیں جبکہ اب ٹیمپو نامی ایک نیا سیٹلائٹ شمالی امریکا پر نظر رکھے گا۔

    باغی ٹی وی: ’ٹروپوسفیرک ایمیشن مانیٹرنگ آف پلیوشن انسٹرومنٹ‘ یا ٹیمپو ایک ملک کے دوسرے ملک یا پھر ایک علاقے کے دوسرے علاقے میں بدلتی ہوئی فضا کا باہمی موازنہ کرے گااس کے سینسر بنیادی طورپرتین خوفناک گیسوں یا اجزا کا جائزہ لےگا جن میں نائٹروجن ڈائی آکسائیڈ، فورملڈیہائڈ اور زمین کے قریب اوزون کی سطح جیسے اہم عوامل ہے اسموگ میں اوزون کی بڑھی ہوئی مقدار پائی جاتی ہے۔

    خلا میں موجود شہابیہ ہر سمت میں پتھر اور چٹانیں پھینک رہا ہے،ماہرین فلکیات

    ناسا کے ماہر جان ہائنز نے بتایا کہ ان علاقوں میں تیل کے کارخانے ہیں جہاں فضائی آلودگی بہت زیادہ ہے۔ تاہم ہرجگہ زمینی سینسر اور مانیٹر موجود نہیں اور اسی ضرورت کے تحت ٹیمپو لانچ کیا گیا ہے۔

    ٹیمپو سیٹلائٹ، ارضِ ساکن (جیواسٹیشنری) مدار میں رہتے ہوئے ایک ہی جگہ پر گویا معلق رہے گا اور یوں وہ ایک جگہ پر آلودگی ریکارڈ کے گا تاہم ٹیپمو کا ڈیٹا عوام تک پہنچنے میں کچھ ماہ لگ سکتے ہیں کیونکہ مئی یا جون میں یہ اپنے تمام آلات کھول کر کام شروع کرے گا۔

    پینٹاگون نے حساس دستاویزات کا افشا ہونا قومی سلامتی کیلئےانتہائی سنگین خطرہ قرار دے دیا

  • ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی نوکیا چاند پر 4 جی نیٹ ورک لگانے کے لیے تیار

    ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی نوکیا چاند پر 4 جی نیٹ ورک لگانے کے لیے تیار

    ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی نوکیا کی جانب سے 2023 کے دوران کسی وقت 4 جی کنکٹویٹی کی سہولت فراہم کرنے والے سیٹلائیٹ کو چاند پر بھیجا جائے گا۔

    باغی ٹی وی: "سی این بی سی” کی رپورٹ کے مطابق امریکی خلائی ادارے ناسا کے آرٹیمس 3 مشن کے تحت جو انسان 5 دہائیوں بعد پہلی بار چاند کی سرزمین پر قدم رکھیں گے، وہ وہاں 4 جی نیٹ ورک کی بدولت سوشل میڈیا سائٹس پر سیلفی شیئر کر سکیں گے۔

    بل گیٹس کا آرٹیفیشل انٹیلی جنس سے متعلق خطرناک خدشے کا اظہار

    فن لینڈ کی ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی نوکیااس سال کے آخر میں چاند پر ایک 4G موبائل نیٹ ورک شروع کرنے کی تیاری کر رہا ہے، چاند کی دریافتوں کو بڑھانے کی امید میں اور سیٹلائٹ سیارے پر انسانی موجودگی کے لیے راہ ہموار کر رہا ہے نوکیا کی جانب سے 2023 کے دوران کسی وقت 4 جی کنکٹویٹی کی سہولت فراہم کرنے والے سیٹلائیٹ کو چاند پر بھیجا جائے گاکمپنی کی جانب سے اس کا عندیہ فروری 2023 کے آخر میں موبائل ورلڈ کانگریس کے دوران دیا گیا تھا۔

    نوکیا کے پرنسپل انجینئر لوئس ماسٹرو روئز ڈی ٹیمینو نے اس ماہ کے شروع میں بارسلونا میں موبائل ورلڈ کانگریس ٹریڈ شو میں نامہ نگاروں کو بتایا کہ فینیش ٹیلی کمیونیکیشن گروپ آنے والے مہینوں میں اسپیس ایکس راکٹ پر نیٹ ورک کو لانچ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

    28 مارچ کوآسمان پر پانچ سیارے ایک ساتھ نظر آئیں گے

    لینڈر اور روور کے درمیان ایک LTE کنکشن قائم کیا جائے گابنیادی ڈھانچہ شیکلٹن کریٹر پر اترے گا، جو چاند کے جنوبی حصے کے ساتھ واقع ہےنوکیا کا کہنا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کو خلا کے انتہائی حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے اس نیٹ ورک کو ناسا کے آرٹیمس 1 مشن کے اندر استعمال کیا جائے گا، جس کا مقصد 1972 کے بعد چاند کی سطح پر چلنے کے لیے پہلے انسانی خلابازوں کو بھیجنا ہے۔

    امریکی اسپیس کمپنی Intuitive Machines کی جانب سے رواں سال اسپیس ایکس راکٹ کے ذریعے نووا سی لینڈر چاند پر بھیجا جائے گا جس کے ساتھ نوکیا کا 4 جی بیس اسٹیشن بھی ہوگا لینڈر اور بیس اسٹیشن کے ساتھ ایک سولر پاور سے کام کرنے والا روور بھی اس مشن کا حصہ ہوگا۔

    پاکستان میں فیس بک اور انسٹاگرام کو ویریفائیڈ کروانے کی فیس کتنی اور کن شرائط …

    جب یہ بیس اسٹیشن چاند کے Shackleton crater پر پہنچ جائے گا تو روور اور لینڈر کی جانب سے 4 جی ایل ٹی ای کنکشن کو قائم کیا جائے گاکمپنی کو توقع ہے کہ اس نیٹ ورک سے چاند پر مستقبل کے انسانی تحقیقی مشن کو معاونت ملے گی آرٹیمس مشن میں شامل افراد ایک دوسرے سے اس نیٹ ورک کے ذریعے رابطے میں رہ سکیں گے جبکہ رئیل ٹائم میں زمین پر ویڈیو اسٹریمنگ کے ساتھ ساتھ ڈیٹا بھیج سکیں گے۔

    ابھی چاند پر اس 4 جی سیٹلائیٹ کو بھیجنے کی تاریخ طے نہیں ہوئی مگر ماہرین کے خیال میں 2023 میں ایسا ہونے کا قوی امکان ہے اگر چاند پر یہ موبائل نیٹ ورک کام کرنے لگتا ہے تو یہ خلا میں پہلا 4 جی سسٹم ہوگا جس سے چاند کی سطح پر رہتے ہوئے بھی رابطوں، تیز انٹرنیٹ اور دیگر کاموں میں مدد مل سکے گی۔

    ناسا کی جانب سے 2020 میں فن لینڈ کی کمپنی کو چاند پر 4 جی نیٹ ورک کی تنصیب کا کام سونپا تھا اور جب سے اس کی تیاریاں کی جا رہی تھیں یہ نیٹ ورک بہت زیادہ درجہ حرارت، ریڈی ایشن اور خلائی ماحول میں کام کرنے کے لیے ڈیزائن کیا جائے گا۔

    واٹس ایپ میں وائس چیٹ اور کال میں تبدیلیاں متوقع