قومی کرکٹ ٹیم ورلڈ کپ میں شرکت کے لیے انڈیا جائے گی یا نہیں اس حوالےسے اہم فیصلہ حکومت کی ہائی پروفائل کمیٹی نے کرلیا ہے ۔
قومی کرکٹ ٹیم کی اہم ایونٹ میں شرکت کے حوالے سے حکومت نے اجلاس میں فول پروف سکیورٹی کی شرط رکھ دی ہے۔ وزیر خارجہ بلاول بھٹو کی زیر صدارت وزیر اعظم شہباز شریف کی تشکیل کردہ خصوصی کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا، اجلاس میں قومی کرکٹ ٹیم کی بھارت میں شیڈول ورلڈ کپ میں شرکت کے حوالے سے تفصیلی غور کیا گیا۔
زرائع کے مطابق اجلاس میں وزیر مملکت حناء ربانی کھر، وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب اور وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے ٹیم بھارت بھیجنے کی حمایت جبکہ وفاقی وزیر احسان مزاری نے اجلاس کے دوران ٹیم بھارت بھیجنے کی مخالفت کی۔ذرائع کے مطابق قمر زمان کائرہ نے بھی ٹیم بھارت نہ بھیجنے کا مشورہ دیا جبکہ وزارت خارجہ حکام نے ٹیم بھارت بھیجنے کی بھرپور حمایت کی،ذرائع کے مطابق اجلاس میں وزارت خارجہ کے حکام نے ٹیم بھارت بھیجے کی حمایت کر دی، تاہم آئی سی سی سے فول پروف سکیورٹی مہیا کرنے کی یقین دہانی لی جائے گی۔
Tag: سیکورتی

قومی کر کٹ ٹیم ورلڈ کپ میں شرکت کے لئے بھارت جائے گی یا نہیں؟اہم فیصلہ آگیا

سابق چیف جسٹس گلزاراحمد کورینجرز کی سیکورٹی کے حوالے سے اہم فیصلے
اسلام آباد :حال ہی میں سبکدوش ہونے والے چیف جسٹس گلزار احمد نےحکومت سے فول پروف سیکیورٹی مانگ لی۔سابق چیف جسٹس کو سکیورٹی کیلئے وزارت داخلہ کو خط ریٹائرمنٹ سے قبل لکھا گیا ہے۔ خط میں رینجرز کی سیکورٹی برقرار رکھنے کی استدعا کی گئی ہے۔
خط کے مطابق جسٹس گلزار احمد اور اہلخانہ کو چیف جسٹس والی سکیورٹی برقرار رکھی جائے۔ جسٹس (ر) گلزاراحمد نے دہشتگردی، ماورائے عدالت قتل سمیت کئی ہائی پروفائل مقدمات کےفیصلےکیے، اقلیتوں کے حقوق، تجاوزات سمیت کئی حساس مقدمات کے فیصلےکیےہیں۔
خط میں استدعا کی گئی ہے کہ ریٹائرمنٹ کے بعد گھر اور سفر کے دوران رینجرز فراہم کی جائے۔ خط ڈپٹی رجسٹرار سپریم کورٹ کی جانب سے27 جنوری کو لکھا گیا تھا۔جسٹس گلزاراحمد چیف جسٹس ہاؤس سے ریٹائرڈ ججز کیلئے مختص گھرمیں منتقل ہوگئے، چیف جسٹس گلزاراحمد یکم فروری کو مدت مکمل کرکے ریٹائر ہوگئے تھے.
یاد رہے صدر مملکت نے جسٹس عمر عطا بندیال کو چیف جسٹس پاکستان مقرر کیا ، ان کی تعیناتی آئین کے آرٹیکل 175 اے کے تحت کی گئی۔
خیال رہے سپریم کورٹ کے جج کی ریٹائرمنٹ کی عمر 65سال مقرر ہے، چیف جسٹس کی ریٹائرمنٹ کے بعد سینئر ترین جج کو چیف جسٹس کا عہدہ تفویض کیا جاتا ہے ، جسٹس عمر عطا بندیال سپریم کورٹ سینئر ترین جج ہیں۔
جسٹس بندیال 18 ستمبر 2023 کو ریٹائر ہونے تک چیف جسٹس کے عہدے پر برقرار رہیں گے۔
دوسری طرف وزارت داخلہ کی طرف سے کہا گیا ہے کہ سابق چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد کو ریٹائرمنٹ کے بعد بھی فول پروف سیکیورٹی دی جائے گی۔

ذرائع کے مطابق شابق چیف جسٹس گلزار احمد کو ریٹائرمنٹ کے بعد بھی گھر اور دوران سفر فول پروف سیکورٹی دی جائے گی۔
اس حوالے سے سابق چیف جسٹس گلزار احمد نے کی ریٹائرمنٹ سے قبل 27 جنوری کو رجسٹرار آفس کی جانب سے وزارت داخلہ کو ایک خط لکھا گیا جس میں بتایا گیا کہ جسٹس گلزار احمد نے اپنے عہدے کی مدت کے دوران بہت سے ہائی پروفائل آئینی، فوجداری، بنیادی حقوق، سرکلر ریلوے، سرکاری افسران اور اقلیتوں کے حقوق سے متعلق مقدمات سنے اور ان پر فیصلے کئے ہیں۔
خط میں مزید کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ قواعد شق نمبر 25 (1) کے مطابق چیف جسٹس کو ریٹائرمنٹ کے بعد بھی سیکیورٹی دی جاتی ہے۔
خط کے مطابق چیف جسٹس (ریٹائرڈ) گلزار احمد اور انکے اہلخانہ کی زندگی کو شدید خطرات لاحق ہیں اس لئے کسی بھی ناخوشگوار واقعہ سے بچنے کیلئے لازمی ہے کہ چیف جسٹس گلزار احمد اور انکے اہلخانہ کو ریٹائرمنٹ کے بعد بھی بطور چیف جسٹس پاکستان ملنے والی سیکورٹی (رینجرز، پولیس) فراہم کی جائے۔
ذرائع کے مطابق رجسٹرار آفس کے خط پر وزارت داخلہ سے منظوری دی جا چکی ہے۔
دوسری جانب وفاقی وزیر شہباز گل بھی سابق چیف جسٹس جسٹس ریٹائرڈ گلزار احمد کی سیکیورٹی کے حق میں بول پڑے
انہوں نے کہا کہ جسٹس (ریٹائرڈ) گلزار احمد کافی بولڈ چیف جسٹس رہے ہیں، انہوں نے کافی اچھے اور بڑے فیصلے دیے ہیں، تجاوزات کے خلاف آپریشن اور اقلیتوں کے حقوق سے متعلق فیصلے دیے گئے۔
جسٹس ریٹائرڈ گلزار احمد سمیت تمام ججز محترم ہیں، انہیں سیکیورٹی ملنی چاہیے، یہ بھی کہا کہ رانا ثنا اللہ نے بیان دیا شہباز شریف کو سزا دینے والے ججز کا گھیراوٗ کریں گے، ججز یا عدلیہ کو دھمکانے والے رویے برداشت نہیں کریں گے۔


