Baaghi TV

Tag: سیکورٹی

  • نواز شریف کو وی وی آئی پی سیکورٹی کے احکامات

    نواز شریف کو وی وی آئی پی سیکورٹی کے احکامات

    سابق وزیراعظم نواز شریف چار سالہ خود ساختہ جلا وطنی کے بعد پاکستان واپس آ رہے ہیں

    نواز شریف اسلام آباد پہنچیں گے جہاں سے وہ لاہور آئیں گے اور جلسے سے خطاب کریں گے،نواز شریف کی آمد پر پاکستان کی وزارت داخلہ نے احکامات جاری کیے ہیں کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کو واپسی پر وی وی آئی پی پروٹوکولز کے تحت سیکیورٹی فراہم کی جائے گی

    مسلم لیگ ن نے سابق وزیراعظم نواز شریف کو وی وی آئی پی سیکورٹی فراہم کرنے کی درخواست دی تھی جس کو وزارت داخلہ نے منظور کر لیا، نواز شریف کو ی وی وی آئی پی پروٹوکولز کے تحت سیکیورٹی کے احکامات جاری کیے گئےہیں، نواز شریف کے اسلام آباد اور لاہور میں نقل و حرکت کے دوران رینجرز، ایف سی اور پولیس کی نفری تعینات ہوگی.

    سابق وزیراعظم نواز شریف اور شہباز شریف کا ٹیلی فونک رابطہ ہو اہے

    نواز شریف کا استقبال،خصوصی ٹرین کراچی سے روانہ

    واضح رہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے نواز شریف کو 21 اکتوبر کو پاکستان واپسی پر ائیرپورٹ پر گرفتار کرنے سے 24 اکتوبر تک روک دیا ، چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے احکامات جاری کئے، عدالت نے نواز شریف کو 24 اکتوبر کو ہائی کورٹ کے سامنے پیش ہونے کا حکم دے دیا.

     پنڈال میں جلسے کے شرکا کی آمد کا سلسلہ شروع 

    نواز شریف کی آمد،طیارے پھینکیں گے پھول

    نواز شریف کو وطن واپسی پر گرفتار نہیں کیا جائے گا

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    غیر ملکی سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کر دی 

     نواز شریف کو آج تک انصاف نہیں ملا،

    نواز شریف کا استقبال،11 ہزا ر گاڑیاں آنے کا امکان

    نواز شریف کا وطن واپسی پہنچنے پر ممکنہ طور پر ہیلی کاپٹر کے ذریعے جاتی امرا جانے کا امکان

  • بھارت کا ورلڈ کپ کے دوران پاکستان کے ساتھ کوئی خاص سلوک کرنے سے انکار

    بھارت کا ورلڈ کپ کے دوران پاکستان کے ساتھ کوئی خاص سلوک کرنے سے انکار

    ہندوستان کے سرکاری ترجمان ارندم باغچی کی وزارت خارجہ نے کہا کہ پاکستانی ٹیم کے ساتھ کوئی خاص سلوک نہیں کیا جائے گا۔ہمارے لیے پاکستانی ٹیم کسی بھی دوسری ٹیم کی طرح اہم ہے۔ کوئی خاص رعایت نہیں کی جائے گا جب اور جہاں بھی ضرورت ہوگی مناسب کور فراہم کیا جائے گا،گزشتہ ہفتے پاکستان کی حکومت نے قومی ٹیم کو اس سال اکتوبر نومبر میں بھارت میں ہونے والے ورلڈ کپ میں شرکت کے لیے گرین سگنل دیا تھا۔وزارت خارجہ نے ایک پریس ریلیز میں کہا، پاکستان نے مسلسل اس بات کو برقرار رکھا ہے کہ کھیلوں کو سیاست کے ساتھ نہیں ملایا جانا چاہیے۔ اس لیے اس نے آئندہ آئی سی سی کرکٹ ورلڈ کپ 2023 میں شرکت کے لیے اپنی کرکٹ ٹیم کو بھارت بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔ .تاہم وزارت خارجہ نے بھارت میں قومی ٹیم کی سکیورٹی پر تحفظات کا اظہار کیا۔پاکستان اپنی ورلڈ کپ مہم کا آغاز 6 اکتوبر کو راجیو گاندھی انٹرنیشنل اسٹیڈیم، حیدرآباد میں ہالینڈ کے خلاف کرے گا۔آئی سی سی ورلڈ کپ 2023 کے لیے پاکستان کا شیڈول یہ ہے جسکے مطابق 6 اکتوبر کو حیدرآباد میں ہالینڈ کے خلاف 12 اکتوبر ، حیدرآباد میں سری لنکا کے خلاف15 اکتوبر احمد آباد میں بھارت بمقابلہ20 اکتوبر ، بنگلورو میں بمقابلہ آسٹریلیا 23 اکتوبر کو چنئی میں افغانستان بمقابلہ پاکستان،27 اکتوبر بمقابلہ جنوبی افریقہ چنئی میں جبکہ 31 اکتوبر کو بمقابلہ بنگلہ دیش کولکتہ میںکھیلا جائے گا اس طرح 4 نومبر کو بمقابلہ نیوزی لینڈ بنگلورو اور 12 نومبر بمقابلہ انگلینڈ کولکتہ میں کھیلا جائے گا،دن کے میچ پاکستانی وقت کے مطابق صبح 10:00 بجے شروع ہوں گے جبکہ دیگر تمام میچز ڈے اینڈ نائٹ ہوں گے اور دوپہر 01:30 بجے پر شروع ہوں گے۔اگر پاکستان سیمی فائنل کے لیے کوالیفائی کرتا ہے تو وہ کولکتہ میں کھیلے گا۔اگر ہندوستان سیمی فائنل کے لیے کوالیفائی کرتا ہے تو وہ ممبئی میں کھیلے گا جب تک کہ پاکستان کے خلاف نہیں کھیلے گا، اس صورت میں وہ کولکتہ میں کھیلے گا۔کرکٹ ورلڈ کپ راؤنڈ رابن فارمیٹ میں کھیلا جائے گا جس میں تمام ٹیمیں ایک دوسرے کے خلاف کل 45 لیگ میچز کھیلیں گی۔ٹاپ چار ٹیمیں سیمی فائنل کے لیے کوالیفائی کریں گی جو کہ 15 نومبر کو ممبئی اور 16 نومبر کو کولکتہ میں ہوں گے۔ سیمی فائنل اور فائنل میں ریزرو ڈی ہوں گے۔

  • غیر ملکی وفد کی پاکستان آمد متوقع،اسلام آباد میں عام تعطیل کا اعلان

    غیر ملکی وفد کی پاکستان آمد متوقع،اسلام آباد میں عام تعطیل کا اعلان

    اسلام آباد۔ غیر ملکی وفد کی پاکستان آمد متوقع،وفاقی دارالحکومت میں 31 جولائی اور یکم اگست عام تعطیل کی تجویزدی گئی ہے،اس ضمن میں ضلعی انتظامیہ نے وزرات داخلہ کو سمری بھجوا دی۔ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ وفاقی دارالحکومت میں سکیورٹی کے فول پروف غیر معمولی انتظامات کیے جائیں گے۔ وزرات داخلہ کی منظوری کے بعد چھٹی کا نوٹیفکیشن جاری ہو گا۔وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں سرکاری دفاتر بدھ کوکھلیں گے

    باخبر ذرائع کے مطابق چینی نائب وزیراعظم پاکستان کے دورے پر آ رہے ہیں، سی پیک کے دس سال مکمل ہونے پر وہ تقریب میں شرکت کریں گے،چینی ناب وزیر اعظم کے ہمراہ اعلیٰ سطح کا وفد بھی پاکستان آئے گا۔ضلعی انتظامیہ کے مطابق چینی وفد کی آمد پر سکیورٹی کے فول پروف، غیر معمولی انتظامات کئے جائیں گے۔

    چینی نائب وزیراعظم ہی لیفینگ اپنے دورے کے دوران وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کریں گے، اس کے علاوہ چین کے نائب وزیراعظم وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری اور حکومتی شخصیات سے بھی ملاقاتیں کریں گے۔ذرائع کا بتانا ہے کہ چینی نائب وزیراعظم یکم اگست کو وطن واپس روانہ ہوں گے۔

    چین کے نائب وزیر اعظم پاکستان آئیں گے، ترجمان دفتر خارجہ
    ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق چین کے نائب وزیر اعظم اور کمیونسٹ پارٹی کی مرکزی کمیٹی کے رکن ہی لائفنگ پاکستان کا دورہ کریں گے،حکومت پاکستان کی دعوت پر چین کے نائب وزیر اعظم اور کمیونسٹ پارٹی کی سنٹرل کمیٹی کے رکن ہی لائفنگ 30 جولائی سے 01 اگست 2023 تک پاکستان کا دورہ کریں گے۔ دورے میں نائب وزیراعظم سی پیک کی 10ویں سالگرہ کی تقریبات میں شرکت کریں گے اور صدر اور وزیراعظم سے ملاقات کریں گے۔ وہ سی پیک کی دہائی کے سلسلے میں تقریب میں مہمان خصوصی بھی ہوں گے۔نائب وزیر اعظم ہی لائفنگ نے چین کے بین الاقوامی اقتصادی تعلقات اور بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کے نفاذ میں نمایاں کردار ادا کیا ہے جن میں سے سی پیک ایک اہم منصوبہ ہے۔

    نیشنل ڈویلپمنٹ اینڈ ریفارم کمیشن 2017-23 کے چیئرمین کے طور پر انہوں نے پاکستان میں سی پیک کے متعدد منصوبوں کی منصوبہ بندی اور ان پر عمل درآمد میں اہم کردار ادا کیا۔

    ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق یہ دورہ پاکستان اور چین کے درمیان باقاعدہ اعلیٰ سطحی تبادلوں اور مذاکرات کا حصہ ہے۔ یہ پاکستان اور چین کی طرف سے آل ویدر اسٹریٹجک کوآپریٹو پارٹنرشپ کو مزید گہرا کرنے کے لیے منسلک اہمیت کی عکاسی کرتا ہے۔ایک دوسرے کے بنیادی مفادات کے مسائل پر حمایت کی توثیق اقتصادی اور مالی تعاون کو بڑھانا سی پیک کی اعلیٰ معیار کی ترقی کو آگے بڑھانا اور دونوں ممالک کے درمیان تجارتی اور سرمایہ کاری کے تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے نئی راہیں تلاش کریں۔

    بھارت،خواتین کی برہنہ پریڈ کروانے والا گرفتار،سپریم کورٹ کا نوٹس
    روپے کی قدر میں 0.47 فیصد کی تنزلی ریکارڈ
    عمران خان کی مشکلات میں کمی نہ ہو سکی، ایک اور جے آئی ٹی نے 21 جولائی کو طلب کر لیا۔
    عراق؛ سویڈن سفارتخانہ نذرآتش، قرآن کی بے حرمتی پر سفیر کو نکلنے کا حکم
    عالمگیر ترین کی موت بارے فرانزک رپورٹ جاری

  • 9 اور 10 ویں محرم الحرام کو پشاور بی آر ٹی سروس معطل رہے گی

    9 اور 10 ویں محرم الحرام کو پشاور بی آر ٹی سروس معطل رہے گی

    بی آر ٹی پشاور کی بس سروس 9 اور 10 محرم الحرام کو بند رہےگی۔ ترجمان ٹرانس پشاور کے مطابق تمام روٹس بشمول فیڈر روٹس پر بی آر ٹی کی سروس معطل رہے گی ،ترجمان ترانس کے مطابق بی آر ٹی بند کرنے کا فیصلہ سیکورٹی خدشات کے پیش نظر کیا ہے،اس طرح زو بائیسکل شیئرنگ سسٹم کی سروس بھی 9 محرم الحرام کو معطل رہے گی جبکہ بائیسکل سروس 10 محرم الحرام کو فعال رہے گی۔واضح رہے کہ پشاور شہر میں محرم الحرام کے موقع پر ہر ممکن سیکورٹی فراہم کرنے کی کوشش جاری ہے،اور شہر میں تمام امام بارگاہوں پر اضافی سیکیورٹی مامور جبکہ جلوسوں کو مکمل نگرانی میں انجام دیا جا رہا ہے،شہر میں پولیس اور سیکورٹی ادارے کسی بھی ناخوشگوار واقع سے نمٹنے کے لئے بھر پور تیار ہے،

  • فرض سمجھا کہ شہر کا دورہ کرکے سیکورٹی انتظامات کا جائزہ لوں،گورنر خیبر پختونخوا غلام علی

    فرض سمجھا کہ شہر کا دورہ کرکے سیکورٹی انتظامات کا جائزہ لوں،گورنر خیبر پختونخوا غلام علی

    گورنر خیبر پختونخوا نے پشاور شہر کا دورہ کرکے محرم الحرام کے حوالے سے کئے گئے تمام انتظامات کا جائزہ لیا،اس دوران میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا آج فرض سمجھا کہ پورے شہر کا دورہ کروں تمام شہری پولیس کے انتظامات سے خوش اور مطمئن ہیں،غلام علی نے کہا شہر کا امن قائم رکھنا ہم سب کی زمہ داری ہے،محرم الحرام میں ہر قسم کے تنازعات کا خاتمہ ضروری ہے،گورنر خیبرپختونخوا غلام علی نے مزید کہا کہ اس وقت ملک دہشتگردی کے الیمنٹس کا سامنا کررہا ہے ،
    لہذا کوشش ہے کہ تمام مکاتب فکر کے لوگ اختلافی بیانات سے پرہیز کریں،انہوں نے مزید کہا کہ اللہ کرے محرم کا مہینے پر امن گزرے،ایک سوال کے جواب میں کہا کہ غلط فہمیوں سے ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات خراب نہیں کرسکتے،گورنر خیبرپختونخوا نے اس بات پر زور دیا کہ اللہ نا کریں کہ ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات خراب ہو،غلام علی نے کہا کہ دہشتگرد کہاں سے آئے؟ اس پر کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہوگا،گورنر کے پی کے کہا کہ پولیس کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں،کل بھی جمرود میں ایک پولیس جوان نے جان کی قربانی دی،جس کو ہم خراج تحسین پیش کرتے ہے،دہشتگردی کے واقعات کو روکنے کے لئے شہری بھی اپنے ارد گرد نظر رکھیں،اور کسی بھی مشکوک واقع کی اطلاع فوری طور پر پولیس اور سیکیورٹی اداروں کو دے،

  • اس کیس میں عمران خان کی حاضری بنتی ہی نہیں،عدالت

    اس کیس میں عمران خان کی حاضری بنتی ہی نہیں،عدالت

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کے دھمکی آمیز بیان پر سابق وزیراعظم عمران خان کی سیکیورٹی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی،

    وکیل عمران خان عدالت میں پیش ہوئے اور کہا کہ عمران خان اس کیس میں پیش نہیں ہو سکتے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس کیس میں حاضری بنتی ہی نہیں یہ سکیورٹی فراہمی کا کیس ہے درخواست گزار سابق وزیراعظم ہیں سکیورٹی کا کیا قانون ہے۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ ایکٹ 1975 کا ہے وزیراعظم کی سکیورٹی سے متعلق سیکشن 17 ہے ،سابق وزیراعظم کو مناسب سکیورٹی فراہم کی جائے گی،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا ابھی سکیورٹی فراہم کی گئی ہے؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا جی، عمران خان کو ایک بلٹ پروف گاڑی فراہم کی گئی ہے 18 ویں ترمیم کے بعد سکیورٹی صوبائی معاملہ ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ وزارت داخلہ میں کوئی پڑھا لکھا بندہ ہے؟ وزارت داخلہ کے نمائندہ نے کہا کہ لائف ٹائم سکیورٹی دی جاتی ہے نوٹیفکیشن جاری ہونا تھا وہ ابھی تک نہیں ہوا،اسلام آباد کی حد تک سکیورٹی وفاقی حکومت دیکھتی ہے جب تک عمران خان اسلام آباد تھے تب تک انہیں فول پروف سکیورٹی دی گئی تھی ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ فول یا اپریل فول کو چھوڑیں پھر کیا ہوا، اب کیا صورتحال ہے؟نمائندہ وزارت داخلہ نے کہا کہ عمران خان کو سکیورٹی فراہم کر رکھی ہے ، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ قانون، قاعدہ جو بھی عدالت وہ عدالت میں جمع کرا دیں مغرب آج کیوں ہم سے آگے ہے کیونکہ ان کے رولز ہیں ،عدالت نے سابق وزیراعظم عمران خان کو دی جانیوالی سکیورٹی کے رولز طلب کرلئے ،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا عدالت کو بتائیں سابق وزیراعظم کی کتنی سکیورٹی ہے، رولز پیش کریں پھر آرڈر جاری کریں گے

    چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ آپ کا اپنا کیا دھرا ہے

    زمان پارک سے اسلحہ ملنے کی ویڈیو

    زمان پارک، اسلحہ ملا،شرپسند عناصر تھے،آئی جی سب دکھائینگے،وزیر داخلہ

    اس بار تو پولیس نے آپ پر ڈکیتی کی دفعہ بھی لگا دی ہے

    عمران خان موو کرتے ہیں تو انکے ساتھ سیکیورٹی ہوتی ہے؟حکومت سے جواب طلب

  • قتل کرنے کی دھمکیاں،ممبئی پولیس نے سلمان خان کی سیکیورٹی بڑھا دی

    قتل کرنے کی دھمکیاں،ممبئی پولیس نے سلمان خان کی سیکیورٹی بڑھا دی

    ممبئی: بھارتی گلوکار سدھو موسے والا کے قتل کی منصوبہ بندی کے الزام میں گرفتار گینگسٹر لارنس بشنوئی کی جانب سے سلمان خان کو جان کی دھمکیاں ملنے کے بعد ممبئی پولیس نے اداکار کے گھر کے باہر سیکیورٹی میں اضافہ کر دیا۔

    باغی ٹی وی: بھارتی میڈیا کے مطابق ای میل کے ذریعے سلمان خان سے متعلق جان لیوا دھمکی موصول ہونے کے بعد ممبئی پولیس نے باندرہ پولیس اسٹیشن پر اداکار کے قریبی ساتھی کی مدعیت میں گینگسٹر لارنس بشنوئی اور کینیڈین نژاد گینگسٹر گولڈی برار سمیت روہت گرگ کے خلاف مختلف دفعات کے تحت مبینہ دھمکیوں کا مقدمہ درج کرلیا اور اداکار کے گھر کے باہر سیکیورٹی بڑھا دی-

    لارنس بشنوئی کی سلمان خان کو ایک اور دھمکی

    بھارتی میڈیا کے مطابق پولیس کا کہنا ہے کہ سلمان خان کےقریبی ساتھی کو روہت گرگ نامی شخص کی جانب سے ای میل کے ذریعے جان لیوا دھمکیاں موصول ہوئی تھیں، ای میل میں کہا گیا تھا کہ کینیڈین نژاد گینگسٹر گولڈی برارسلمان خان سےبراہ راست مل کربات کرنا چاہتے ہیں۔

    واضح رہے کہ گینگسٹر لارنس بشنوئی نے کہا ہے کہ اس کی زندگی کا مقصد ہی سلمان خان کو قتل کرنا ہے لارنس بشنوئی نے سلمان پر زور دیا کہ وہ اس کے مذہبی گرو جمبیشور(جمبا جی) کے مندر جائے اور معافی مانگے، اگر ہماری برادری معاف کر دے تو میں کچھ نہیں کہوں گا، ابھی میں غنڈہ ’نہیں‘ ہوں مگرسلمان کو مارنے میں غنڈہ بن جاؤں گا میری زندگی کا مقصد سلمان کو مارنا ہے، سکیورٹی ہٹتے ہی میں سلمان خان کو قتل کردوں گا۔

    غنڈہ نہیں ہوں مگرسلمان خان کو مارنے میں غنڈہ بن جاؤں گا، لارنس بشنوئی

    لارنس بشنوئی کے مطابق اس کی برادری کالے ہرن کو اپنے مذہبی گرو بھگوان جمبیشور (جمبا جی) کا اوتار سمجھتی ہے، لہٰذا عدالت سے اس کیس میں سزا یا بریت سلمان خان کیلئے حتمی فیصلہ نہیں ہوگی، اگر سلمان خان اور ان کے والد سلیم خان جمبا جی مندر میں جاکر سر عام معافی مانگ لیں تو وہ اپنا ارادہ بدل سکتا ہے ورنہ بشنوئی برادری انہیں قتل کردے گی، بچپن کا غصہ ہے میرے اندر، آج نہیں تو کل اس کا غرور ضرور توڑوں گا اگر سلمان خان معافی مانگ لے تو میں اس کو قتل نہیں کروں گا، وہ بہت مغرور ہے، سدھو موسے والا بھی اس کی طرح تھا۔

    بھارتی طیارہ گر کر تباہ خاتون پائلٹ سمیت 2 افراد ہلاک

  • عمران خان کے گھر کی سیکورٹی بڑھا دی گئی

    عمران خان کے گھر کی سیکورٹی بڑھا دی گئی

    عمران خان کے گھر کی سیکورٹی بڑھا دی گئی

    تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان پر لانگ مارچ کے دوران وزیرآباد میں مبینہ قاتلانہ حملے کے بعد عمران خان کی سیکورٹی کے مزید سخت انتظامات کر لئے گئے ہیں

    مبینہ حملے کے بعد عمران خان شوکت خانم منتقل ہوئے جہاں انکا علاج جاری رہا، ڈاکٹروں کے مشورے سے اسکے بعد عمران خان اپنی رہائشگاہ زمان پارک منتقل ہو گئے، زمان پارک میں عمران خان سے پارٹی رہنماوں سمیت دیگر شخصیات کی ملاقاتوں کا سلسلہ جاری ہے،عمران خان نے زمان پارک سے ہی گزشتہ روز لانگ مارچ کے شرکاء سے خطاب کیا تھا، زمان پارک میں عمران خان کی موجودگی کی وجہ سے علاقہ بھر کی سییکورٹی جہاں سخت کی گئی ہے وہیں عمران خان کی رہائشگاہ کی سیکورٹی بھی بڑھا دی گئی ہے

    اسپیشل برانچ کی طرف سے عمران خان کے لیے جاری سیکورٹی الرٹ کے بعد زمان پارک لاہور میں عمران خان کی رہائش گاہ کے باہر سیکورٹی کے اقدامات بڑھا دیے گئے ہیں عمران خان کے گھر کی دیوار کے ساتھ سکیورٹی کے پیش نظر ریت کے تھیلوں کی دیوار قائم کر دی گئی ہے جبکہ سیمنٹ کے بلاکس رکھ کر حفاظتی دیوار بھی بنا دی گئی ہے زمان پارک کے داخلی و خارجی راستوں پر بھی ریت کے تھیلوں کی چیک پوسٹ بنائی گئی ہے، مزید کیمرے بھی نصب کر دیے گئے ہیں

    عمران خان سے ملنے زمان پارک آنے جانے والوں کا ریکارڈ رکھنے کے لیے خصوصی ڈیسک بھی قائم کر دیا گیا ہے جبکہ پارٹی کی خواتین رہنماؤں کی آمد کے پیش نظر چیکنگ کے لیے خواتین پولیس اہلکار بھی تعنیات کی گئی ہیں ، وزیراعلیٰ پنجاب چوھدری پرویز الہیٰ نے عمران خان کی سیکورٹی کے بھر پور انتظامات کرنے کا حکم دیا ہے تو دوسری جانب پی ٹی آئی کارکنان بھی از خود سیکورٹی کر رہے ہیں، سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر پی ٹی آئی کے کئی کارکنان نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ کارکنان کو خود عمران خان کی سیکورٹی کرنی ہو گی، اسکے علاوہ کسی پر اعتماد نہیں، پولیس سے زیادہ کارکنان کا دستہ عمران خان کی سیکورٹی پر متعین ہونا چاہئے،

    پی ٹی آئی کا احتجاج،راستوں کی بندش،عدالت کا اظہار برہمی،انتظامیہ کیوں سوتی رہی،ریمارکس

    شوکت خانم کے باہر سے مشکوک شخص گرفتار

    جس کو پنجاب کا سب سے بڑا ڈاکو کہتا تھا اسے ڈاکو کی وزارت اعلیٰ کے نیچے عمران خان پر حملہ ہوا

    پاکستان کو ایک مرتبہ پھر انتہا پسندی اور مذہبی جنونیت کا سامنا 

    عمران خان کے صاحبزادوں قاسم اور سلیمان کی زمان پارک آمد 

  • عدالت جاتے ہوئے بھی عمران خان پولیس والے ساتھ لے کر جاتے ہیں، آئی جی اسلام آباد

    عدالت جاتے ہوئے بھی عمران خان پولیس والے ساتھ لے کر جاتے ہیں، آئی جی اسلام آباد

    عدالت جاتے ہوئے بھی عمران خان پولیس والے ساتھ لے کر جاتے ہیں، آئی جی اسلام آباد

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر محسن عزیز کی زیرصدارت پارلیمنٹ ہاوس میں ہوا

    سینیٹرز اعظم نذیر تارڑ، مولا بخش چانڈیو، فوزیہ ارشد، سیف اللّہ ابڑو، رانا مقبول احمد، شہادت اعوان، کامل علی آغا، سرفراز احمد بگٹی کے علاوہ سینیٹرز اعجاز احمد چودھری، فیصل جاوید، زیشان خانزادہ، اعظم خان سواتی نے خصوصی طور پر کمیٹی اجلاس میں شرکت کی-آئی جی پی اسلام آباد، چیف کمشنر اسلام آباد بھی کمیٹی اجلاس میں شریک ہوئے-چیئرمین کمیٹی سینیٹر محسن عزیز نے وزیر داخلہ اور سیکریٹری داخلہ کی عدم موجودگی پر تشویش اور برہمی کا اظہار کیا اور کہ کہ وزیرداخلہ اور سیکریٹری داخلہ کو کمیٹی میں شرکت کیلئے خطوط ارسال کئے گئے لیکن اس کے با وجود وہ کمیٹی میں پیش نا ہوئے-

    سابق وزیراعظم عمران خان کی سیکیورٹی کے معاملے پر بات کرتے ہوئے چیئرمین کمیٹی سینیٹر محسن عزیز نے کہا کہ عمران خان ایک عالمی لیڈر ہے، اسلاموفوبیا کے مسئلے پر انہوں نے پوری دنیا میں ہر پلیٹ پر بات کی سب نے ان کی کاوشوں کو سراہا ہے-انہوں نے بتایا کہ عمران خان جب اسلام کی بات کرتی ہے تو پوری دنیا اس کو اپنا لیڈر سمجھتی ہے-انہوں نے امریکہ کو “ابسولوٹلی ناٹ” کہا، امن کا ساتھ دینے اور کشیدگی سے دور رہنے کی بات کی یہ ایسی باتیں ہیں جس پر باہر کے ممالک بھی ناراض ہیں-چیئرمین کمیٹی نے مزید کہا کہ سیکیورٹی ایجنسیز اور پولیس نے خود کہا ہے کہ عمران خان کی جان کو خطرہ ہے تو ایسی صورتحال میں ان سے سیکیورٹی واپس لینا ناجائز اور غیرمناسب ہے-چیئرمین کمیٹی نے سوال کیا کہ عمران خان کے پاس جو پرائیویٹ سیکیورٹی گارڈز تھے ان کو کیوں ہٹایا گیا؟ ان کا سیکیورٹی لائسنس ناجائز طریقے سے واپس لیا گیا جو غیرمناسب ہے-انہوں نے مزید کہا کہ گلگت بلتستان سیکیورٹی کے اہلکار جو عمران خان کی سیکیورٹی مامور تھے ان کو واپس لیا گیا-سینیٹر کامل علی آغا نے کہا کہ شہید بے نظیر بھٹو کے ساتھ بھی غلط ہوا اور اب عمران خان کے ساتھ بھی غلط ہو رہا ہے-

    عمران خان کی سیکیورٹی واپس لینے کے حوالے سے کمیٹی کو بریفگ دیتے ہوئے آئی جی پی اسلام آباد نے بتایا کہ اس وقت سابق وزیراعظم عمران کی سیکیورٹی پر دو پرائیویٹ کمپنیز کے علاوہ خیبرپختونخوا، اسلام آباد، گلگت بلتستان، فرنٹیئر کانسٹیبلری اور رینجرز کے تقریبا 266 اہلکارمامور ہیں اور یہ سب ایک ہی کمانڈ کے انڈر کام کرتے ہیں- سابق وزیر اعظم عمران خان کی سیکیورٹی پر تنخواہوں سمیت تقریبا سالانہ 24 کروڑ کا خرچہ آرہا ہے-سینیٹر کامل علی آغا نے کہا کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کی سیکیورٹی پر 2200 اہلکار مامور ہوتے تھے جن کا خرچہ سالانہ 4.5 ارب روپے ہوتا تھا-کمیٹی کو بتایا گیا کہ دو پرائیویٹ سیکیورٹی کمپنیز کے لائسنس معمولی غلطی کے باعث منسوخ کئے گئے لیکن وہ ابھی بھی ڈیوٹی سرانجام دے رہے ہیں- چیف کمشنر نے بتایا کہ لائسنس منسوخ کرنے کا اختیار وزارت داخلہ کے پاس ہوتا ہے-ان کا کہنا تھا کہ وزارت داخلہ چاہتی ہے کہ ان دو پرائیویٹ کمپنیز کو تبدیل کردیا جائے-

    عمران خان سمیت پوری پی ٹی آئی کو نااھل قرار دے کر پی ٹی آئی کی رجسٹریشن منسوخ کرنے کا مطالبہ 

    ممنوعہ فنڈنگ کیس،الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا،تحریک انصاف "مجرم” قرار’

    ،عمرا ن خان لوگوں کو چور اور ڈاکو کہہ کے بلاتے تھے، فیصلے نے ثابت کر دیا، عمران خان کے ذاتی مفادات تھے

    اکبر ایس بابر سچا اور عمران خان جھوٹا ثابت ہوگیا،چوھدری شجاعت

    عمران خان چوری کے مرتکب پارٹی سربراہی سے مستعفی ہونا چاہیے،عطا تارڑ

    اس سے پہلے کمیٹی کے آغاز میں پاکستان میں موجودہ سیلابی صورتحال اور اس کے نتیجے میں متاثرین اور جاں بحق افراد کیلئے خصوصی دعا کی گئی-سینیٹر اور سینیٹ میں قائد حزب اختلاف ڈاکٹر شہزادوسیم نے کہا کہ بہت مشکل سے عمران خان جیسے لیڈرز پیدا ہوتے ہیں، بے نظیر کی شہادت بھی بڑا حادثہ تھا،عمران خان کی شکل میں وفاقی لیڈر موجود ہے-وہ سابق وزیر اعظم نہیں بلکہ لیڈر ہیں، لیڈر کا نقصان قوم کا نقصان ہوتا ہے- انہوں نے بتایا کہ کل مریم نواز سیلاب زدگان کے پاس جا رہی تھی تو پروٹوکول میں 62 گاڑیاں تھیں-عمران خان کی سیکیورٹی واپس لینا تشویش ناک ہے-

    سینیٹر کامل علی آغا کا کہنا تھا کہ سابق وزیراعظم عمران خان کی سیکیورٹی کا معاملہ حساس ہے اس کو سنجیدگی سے لینا چاہئے-بےنظیر کو بھی سیکیورٹی تھرڈ تھیں، نام بھی سامنے آگئے تھے، اس معاملے کو پارٹی وابستگی سے بالاتر ہو کر دیکھنا چاہئے-نوازشریف کوسیکیورٹی ملتی رہی اس لئے انہوں نےاعتراض نہیں کیا-انہوں نے بتایا کہ آج وزیر داخلہ کو لازمی کمیٹی اجلاس میں آنا چاہئے تھا کیونکہ الزامات ہیں کہ عمران خان کی پرائیویٹ سیکیورٹی کو بھی ہٹا دیا گیا ہے وہ ایک بڑی جماعت کے لیڈر ہیں-اگر وزارت داخلہ کےحکام کمیٹی اجلاس میں نہیں آئے تو اس سے تو یہ تاثر جائے گا کہ یہ عمران خان کو مروانا چاہتے ہیں-

    سینیٹراعظم خان سواتی نےکہا کہ ہائی کورٹ میں بھی کہا گیا کہ عمران خان کی جان کو خطرہ ہے-ان حالات کے اندر ہم سب نےاپنا فرض ادا کرنا ہے اور اس کمیٹی کی آواز موثر انداز سے باہرجانی چاہئے،عمران خان کی سیکیورٹی ان کی شخصیت کے مطابق نہیں ہے، دشمن کافی زیادہ ہیں، کمیٹی فیصلے میں عمران خان کو لاحق خطرات کو سامنے رکھا جائے-سینیٹر مولا بخش چانڈیو کا کہنا تھا کہ ہم عمران خان کی سلامتی کے دشمن نہیں ہیں ہم ان میں نہیں جنہوں نے بی بی اور بھٹو کی شہادت پر مٹھائیاں تقسیم کیں-سینیٹر اور سینیٹ میں قائد ایوان اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ سیلاب زدگان کی فکر نہیں لیکن عمران خان کے جلسے ہو رہے ہیں اور گالیاں دی جا رہی ہیں-انہوں نے کہا کہ یہ فارم اس قسم کے معاملات پر بحث کرنے کیلئے نہیں ہے-

    آئی جی پی اسلام آباد نے کہا کہ سابق وزیراعظم کی سیکیورٹی کا معاملہ اہم ہے-کوئی بھی سابق وزیراعظم ہو ان کی سیکیورٹی کا معاملہ سیاسی نہیں ہونا چاہئے-معاملے کی حساسیت کو دیکھتے ہوئے میڈیا میں اس حوالے سے باتیں نہیں ہونی چاہئے-ان کا کہنا تھا کہ سیکیورٹی مہیا کرنے کا ایک طریقہ ہے-ایجنسیز بھی اس عمل میں شریک ہوتی ہیں-سب قانون کے مطابق ہوتا ہے-ہماری گزارش ہوتی ہے کہ ہم سے بھی تعاون کیا جائے-عمران خان کو بھی وہی طریقہ کار کے مطابق سیکیورٹی دی جا رہی ہے-

  • عثمان بزدار کو مراعات نہ دینے پر آئی جی پنجاب کو نوٹس جاری

    عثمان بزدار کو مراعات نہ دینے پر آئی جی پنجاب کو نوٹس جاری

    عثمان بزدار کو مراعات نہ دینے پر آئی جی پنجاب کو نوٹس جاری

    سابق وزیر اعلیٰ پنجاب کی جانب سے مراعات کیلئے درخواست پر سماعت ہوئی

    لاہور ہائی کورٹ نے آئی جی پنجاب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا، چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آئی جی کا بیان ہے ،پروٹوکول دیا گیا ہے،چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ توہین عدالت کی درخواست دائر کریں،وکیل درخواست گزار نے عدالت میں کہا کہ توہین عدالت کے حق میں نہیں

    واضح رہے کہ سابق وزیر اعلی عثمان بزدار نے خراب اور کھٹارہ گاڑیاں ملنے پر دوبارہ لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کر لیا ،عثمان بزدار کی جانب سے دائر درخواست میں پنجاب حکومت سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے ،سابق وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے لاہور ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں موقف اپنایا کہ پنجاب حکومت نے سیکورٹی کے لیے خراب اور کھٹارہ گاڑیاں فراہم کی ہیں ۔حکومت قانون کے مطابق سیکورٹی اور ملازمین بھی فراہم نہیں کر رہی ۔لاہور ہائیکورٹ سیکیورٹی اور ملازمین فراہم کرنے کا حکم دے ۔عدالت پنجاب حکومت کو ٹھیک گاڑیاں دینے کے لیے احکامات دے

    بشریٰ بی بی کی قریبی دوست فرح نے خاموشی توڑ دی

    سائیں بزدار کا کمال،پہاڑ میں سرکاری خرچ پر 14 ایکڑ رقبے پر زیتون کا باغ لگوا لیا

    عثمان بزدار کے گرد بھی گھیرا تنگ،ایک گرفتاری بھی ہو گئی

    عثمان بزدار کے آبائی علاقے کے لوگ پانی کی بوند بوند کو ترس گئے

    عثمان بزدار کی درخواست ضمانت پر فیصلہ آ گیا

    بزدار کی رہائشگاہ پر اینٹی کرپشن کے چھاپے

    واضح رہے کہ سابق وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے خلاف پنجاب حکومت نے اینٹی کرپشن میں مقدمہ بھی درج کروا دیا ہے، جس پر عثمان بزدار نے ضمانت کروا رکھی ہے، ڈپٹی کمشنر ڈیرہ غازی خان کی انکوائری رپورٹ کی بنیاد پر عثمان بزدار کے خلاف مقدمات درج کئے گئے ہیں۔مقدمات میں سرکاری زمین کو جعلسازی سے اپنے نام منتقل کروانے کی دفعات شامل ہیں جبکہ متن میں لکھا گیا ہے کہ سردار عثمان بزدار نے 900 کنال سرکاری زمین کی الاٹمنٹ کے بارے میں جعلی لیٹر تیار کروایا اور 1986 میں منتقلی ظاہر کر کے زمین ہتھیا لی۔ عثمان بزدار اور بھائیوں پر الزام ہے کہ انہوں نے تونسہ میں کروڑوں روپے مالیت کی 900 کنال سرکاری زمین جعلی طور پر اپنے نام منتقل کروائی۔ ملزمان کے خلاف تھانہ اینٹی کرپشن ڈی جی خان میں مقدمات درج کر کے تفتیش کا آغاز کر دیا گیا ہے۔