Baaghi TV

Tag: سی آئی ایس ایس

  • سی آئی ایس ایس کے زیر اہتمام تقریب میں ’’معرکہ حق‘‘ کتاب کی رونمائی

    سی آئی ایس ایس کے زیر اہتمام تقریب میں ’’معرکہ حق‘‘ کتاب کی رونمائی

    سینٹر فار انٹرنیشنل اسٹریٹیجک اسٹڈیز (سی آئی ایس ایس) کے زیر اہتمام معرکہ حق، بازدار قوت، اشتعال انگیزی اور جنوبی ایشیا میں تزویراتی پختگی کے عنوان سے کتاب کی تقریبِ رونمائی منعقد ہوئی، جس میں ممتاز دانشوروں، سفارتکاروں، عسکری ماہرین اور جامعات کے نمائندوں نے شرکت کی۔

    تقریب آپریشن بنیان المرصوص کی پہلی سالگرہ کے موقع پر منعقد کی گئی، جہاں جنوبی ایشیا کی بدلتی ہوئی سکیورٹی صورتحال، بازدار قوت (Deterrence)، اشتعال انگیزی (Escalation) اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تفصیلی گفتگو کی گئی، شرکاء نے بحث کی کہ کس طرح یہ کتاب خطے میں سیکیورٹی کے پیچیدہ مسائل کو سمجھنے میں مدد فراہم کرتی ہے اور پاکستان کی دفاعی پالیسی پر روشنی ڈالتی ہے۔

    کتاب میں 10 ممتاز اسٹریٹجک، دفاعی اور سلامتی امور کے ماہرین کے تحقیقی مضامین شامل ہیں ” معرکۂ حق“ کو خطے میں اسٹریٹجک میچورٹی اور طاقت کے توازن میں اہم موڑقرار دیا گیا بھارت کا جارحانہ رویہ ، توسیع پسندانہ پالیسی، ہندوتوا نظریہ جنوبی ایشیا کے امن کے لئے سنگین خطرہ قرار دیا گیا۔

    تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سابق چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل زبیر محمود حیات نے کہا کہ مستقبل کی جنگیں روایتی عسکری طاقت کے ساتھ ہائبرڈ وارفیئر، سائبر صلاحیتوں اور بیانیے کی جنگ پر مشتمل ہوں گی، اس لیے ادارہ جاتی تیاری اور اسٹریٹجک بصیرت ناگزیر ہے۔

    پاکستان چائنہ انسٹیٹیوٹ کے چئیرمین مشاہد حسین سید نے کتاب کے حوالے سے کہا کہ یہ ایک اہم اور تاریخی دستاویز ہے جس میں معرکہ حق کے تمام پہلوؤں کو حقائق اور شواہد کی بنیاد پر بیان کیا گیا ہے کتاب میں ماہرین نے جنگ کے اسباب، نتائج، علاقائی اثرات اور دونوں ممالک کی حکمت عملی کا تفصیلی جائزہ لیا ہے، جس سے یہ تصنیف مستقبل کے محققین اور پالیسی سازوں کے لیے ایک اہم حوالہ بن گئی ہے ابھرتے ہوئے سلامتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے فکری مباحث، علاقائی روابط اور دانشمندانہ حکمت عملی ناگزیر ہیں، تھنک ٹینکس اور جامعات جنوبی ایشیا میں استحکام اور پالیسی تحقیق کے فروغ میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

    کتاب میں معروف تزویراتی ماہرین، سفارتکاروں اور ریٹائرڈ فوجی افسران کے مضامین شامل ہیں، جن میں جنوبی ایشیا میں بازدار قوت، بحرانی کیفیت کے انتظام، علاقائی سلامتی اور بدلتے ہوئے تزویراتی نظریات پر روشنی ڈالی گئی ہے، منتظمین کے مطابق یہ تصنیف بھارتی جارحیت، بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی اور خطے کی بدلتی صورتحال کے تناظر میں ایک بروقت علمی کاوش ہے۔

    تقریب میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے نامور افراد، بشمول سفارتکاروں، محققین، طلبہ، سینئر سول و عسکری حکام اور غیر ملکی نمائندوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی اور جنوبی ایشیا کی سلامتی صورتحال، تزویراتی استحکام اور بازدار قوت کے مستقبل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔

    ماہرین کے مطابق معرکۂ حق نے جنوبی ایشیا میں طاقت کے توازن کو نئی جہت دی۔ کتاب بھارت کی جارحانہ پالیسیوں اور ان کے علاقائی اثرات کا تفصیلی جائزہ پیش کرتی ہے مقررین نے مؤثر ڈیٹرنس کو خطے میں امن اور استحکام کے لیے ناگزیر عنصر قرار دیا۔