Baaghi TV

Tag: سی این این

  • ایران نے افزودہ یورینیم کے ذخائر کے لیے زیرِ زمین تنصیبات سیل کردیں،سی این این کا انکشاف

    ایران نے افزودہ یورینیم کے ذخائر کے لیے زیرِ زمین تنصیبات سیل کردیں،سی این این کا انکشاف

    امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے اپنے انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخائر کو محفوظ بنانے کے لیے زیرِ زمین جوہری تنصیبات کو سیل کر دیا ہے اور ان تک رسائی کے راستوں پر بارودی سرنگیں نصب کر دی ہیں۔

    سی این این کے مطابق امریکی انٹیلی جنس سے واقف پانچ ذرائع کے مطابق ایران نے حالیہ ہفتوں میں اپنے جوہری مواد کو مزید محفوظ بنانے کے لیے متعدد حفاظتی اقدا مات کیے ہیں ان اقدامات میں بعض زیرِ زمین سرنگوں کو بند یا منہدم کرنا اور داخلی راستوں پر بارودی سرنگیں نصب کرنا شامل ہے، ان اقدامات کے بعد تقریباً نصف ٹن انتہائی افزودہ یورینیم تک رسائی پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ مشکل، خطرناک اور وقت طلب ہو گئی ہے،جتنا کہ صرف ایک ماہ پہلے تھا، جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ عوامی طور پر یہ اشارہ دے رہے تھے کہ وہ امریکی فوج کو اسے ضبط کرنے کا حکم دے سکتے ہیں۔

    ذرائع کے مطابق بین الاقوامی اندازوں کے تحت اس ذخیرے کا بڑا حصہ وسطی ایران میں واقع اصفہان کی جوہری تنصیب کے قریب زیرِ زمین سرنگوں میں موجود ہے، جبکہ کچھ مقدار دیگر خفیہ مقامات پر بھی منتقل کی جا چکی ہے،ایرانیوں کی جانب سے نئی قلعہ بندیوں نے ٹرمپ انتظامیہ کے تہران کے ساتھ اس کے یورینیم کو ہٹانے اور تلف کرنے کے مجوزہ معاہدے میں پیچیدگی کی ایک اضافی تہہ ڈال دی ہے، اور اس اقدام سے یہ سوالات اٹھتے ہیں کہ اسے کھودنے کا خطرناک کام کون کرے گا-

    سی این این کی رپورٹ کے مطابق مئی کے وسط میں امریکی فوج نے ایران کے جوہری مواد پر قبضے کے لیے ممکنہ زمینی آپریشن پر غور کیا تھا، تاہم اس منصوبے کو انتہائی خطرناک قرار دیتے ہوئے مؤخر کر دیا گیا،امریکی انٹیلی جنس ذرائع کا کہنا ہے کہ اس کے بعد ایران نے اپنی جوہری تنصیبات اور ذخائر کے تحفظ کے لیے مزید سخت حفاظتی اقدامات اختیار کیے، جس سے کسی بھی ممکنہ کارروائی کی پیچیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے،خود ایرانیوں کے لیے بھی، کئی ذرائع نے کہا کہ افزودہ مواد کو ہٹانا اب مشکل اور خطرناک ہوگا، اس کے لیے کھدائی کے بھاری آلات اور کان کنی کی کوششوں کی ضرورت ہوگی ، جو مشکل اور خطرناک ہیں۔

    اقوام متحدہ میں ایران کے سفارتی وفد نے فوری طور پر اس رپورٹ پر باضابطہ ردعمل جاری نہیں کیا،جبکہ ہاؤس نے فوری طور پر سی این این کے سوالات کا جواب نہیں دیاماہرین کے مطابق اگر یہ اطلاعات درست ثابت ہوتی ہیں تو ایران کے جوہری ذخائر تک رسائی مستقبل میں کسی بھی ممکنہ فوجی یا انٹیلی جنس آپریشن کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتی ہے۔

    ٹرمپ نے بارہا کہا ہے کہ جنگ کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے جاری مذاکرات میں مواد کی حفاظت امریکہ کی ترجیح ہے جسے ایران نے مؤثر طریقے سے بند کر دیا ہے۔

    اور انتظامیہ کے ایک سینئر اہلکار کے مطابق جس نے جمعہ کو صحافیوں کو بریفنگ دی، دونوں فریق ایک معاہدے کے قریب پہنچ رہے ہیں جس کے تحت ایران کو اپنی افزودہ یورینیم امریکہ کے حوالے کرنے کی ضرورت ہوگی اس اہلکار کے مطابق، اسے سائٹ پر تباہ کر دیا جائے گا اور پھر ملک سے باہر لے جایا جائے گا۔

    لیکن امریکی اور ایرانی حکام نے عارضی معاہدے کے متضاد اکاؤنٹس پیش کیے ہیں، اور اس کی صحیح شرائط ابھی تک واضح نہیں ہیں معاہدے کے مسود ے کا متنبہ جمعہ کو نیم سرکاری ایرانی خبر رساں ایجنسی کو لیک کیا گیا، جس سے سوشل میڈیا پر ٹرمپ کی جانب سے غصے کی لہر دوڑ گئی-

  • ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مجوزہ معاہدے سے متعلق سی این این کی رپورٹ فیک قرار دی

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مجوزہ معاہدے سے متعلق امریکی نشریاتی ادارے سی این این کی رپورٹنگ مسترد کردی-

    صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم سوشل ٹروتھ پر جاری بیان میں کہا کہ سی این این نے ایک بار پھر غلط معلومات پھیلانے کی کوشش کی اور یہ تاثر دیا کہ ایران کے ساتھ مجوزہ معاہدے میں جوہری معاملات کا کوئی واضح ذکر موجود نہیں یہ دعویٰ حقیقت کے برعکس ہےمعاہدے میں واضح طور پر درج ہے کہ ایران کو کسی بھی صورت جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

    ٹرمپ نے کہا کہ جوہری پروگرام سے متعلق نکات اس معاہدے کا بنیادی اور مرکزی حصہ ہیں، معاہدہ نہایت جامع اور تفصیلی ہے جس میں ایران کے جوہری پروگرام، افزودہ یورینیم اور دیگر حساس معاملات سے متعلق مختلف پہلوؤں کا احاطہ کیا گیا ہے معاہدے کا بڑا حصہ انہی معاملات پر مشتمل ہے۔

    صدر ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں سی این این پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ادارہ مسلسل گمراہ کن رپورٹنگ کر رہا ہےآیا نئی انتظامیہ کے تحت سی این این اپنی ساکھ بحال کر پائے گا یا نہیں؟

    دوسری جانب ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ معاہدے کے حوالے سے سفارتی رابطے جاری ہیں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایرانی سرکاری میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کے ساتھ پیغامات اور مذاکرات کا تبادلہ جاری ہے، تاہم کسی حتمی نتیجے تک پہنچنے سے قبل کسی قسم کی قیاس آرائی مناسب نہیں ہوگی موجودہ صورتحال میں معاہدے کے بارے میں کوئی حتمی رائے دینا قبل از وقت ہوگا اور تمام فریقوں کو مذاکراتی عمل مکمل ہونے کا انتظار کرنا چاہیے۔

    قبل ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران نے اس بات کی ضمانت دینے پر آمادگی ظاہر کی ہے کہ وہ جوہری ہتھیار تیار نہیں کرے گا فاکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ دونوں ممالک ایک بہت اچھے معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں امریکا کی بنیادی شرط یہ ہے کہ ایران جوہری ہتھیار نہ بنائے اور ان کے بقول تہران اس نکتے سے اتفاق کر چکا ہے۔ تاہم ٹرمپ نے یہ بھی عندیہ دیا کہ اگر مذاکرات مطلوبہ نتائج نہ دے سکے تو واشنگٹن کے پاس دیگر آپشنز بھی موجود ہیں۔

    یاد رہے کہ حالیہ دنوں میں امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ مفاہمت، جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز کی بحالی سے متعلق مختلف رپورٹس سامنے آتی رہی ہیں، تاہم دونوں ممالک کی جانب سے ابھی تک کسی حتمی معاہدے کا باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔

  • سی این این کے بانی ٹیڈ ٹرنر انتقال کر گئے

    سی این این کے بانی ٹیڈ ٹرنر انتقال کر گئے

    امریکا کے معروف میڈیا صنعت کار اور عالمی خبررساں ادارے سی این این کے بانی ٹیڈ ٹرنر 87 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔

    ادارے نے بدھ کے روز ان کے انتقال کی تصدیق کی،ٹیڈ ٹرنر طویل عرصے سے لیوی باڈی ڈیمنشیا نامی بیماری میں مبتلا تھے، جو ایک اعصابی عارضہ ہے۔

    1938 میں امریکی ریاست اوہائیو کے شہر سن سنناٹی میں پیدا ہونے والے ٹرنر نے اپنے والد کے انتقال کے بعد خاندانی کاروبار سنبھالا اور اسے وسعت دی،بعد ازاں انہوں نے ریڈیو اور ٹی وی کے شعبے میں قدم رکھا اور ایک چھوٹے اسٹیشن کو خرید کر میڈیا سلطنت کی بنیاد رکھی، ان کی کامیابی نے دنیا بھر میں 24 گھنٹے نیوز چینلز کے قیام کی راہ ہموار کی، جن میں فاکس نیوز اور دیگر بین الاقوامی نیٹ ورکس شامل ہیں ٹیڈ ٹرنر کو جدید نشریاتی صحافت کا بانی تصور کیا جاتا ہے۔

    ٹیڈ ٹرنر نے 1980 میں سی این این قائم کر کے ٹیلی وژن صحافت میں انقلاب برپا کیا یہ امریکا کا پہلا 24 گھنٹے خبروں کا چینل تھا، جس نے مسلسل براہِ راست نشریات کا تصور متعارف کرایا ان کے اس اقدام نے عالمی میڈیا کا نقشہ بدل دیا اور خبر رسانی کو ہر لمحہ جاری رکھنے کی روایت کو جنم دیا سی این این کو عالمی شہرت 1990-91 کی خلیج جنگ کی کوریج سے ملی، جب اس کے نمائندوں نے میدانِ جنگ سے براہِ راست رپورٹس نشر کیں بعد ازاں سوویت یونین کا انہدام اور تیانانمن اسکوائر احتجاج جیسے اہم واقعات کی کوریج نے بھی ادارے کی ساکھ کو مزید مضبوط کیا۔

  • ٹرمپ نے  ایران کے ساتھ مجوزہ معاہدے سے  متعلق سی این این کی رپورٹ  فیک قرار دی

    ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مجوزہ معاہدے سے متعلق سی این این کی رپورٹ فیک قرار دی

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مجوزہ معاہدے سے متعلق امریکی نشریاتی ادارے سی این این کی رپورٹنگ مسترد کردی-

    صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم سوشل ٹروتھ پر جاری بیان میں کہا کہ سی این این نے ایک بار پھر غلط معلومات پھیلانے کی کوشش کی اور یہ تاثر دیا کہ ایران کے ساتھ مجوزہ معاہدے میں جوہری معاملات کا کوئی واضح ذکر موجود نہیں یہ دعویٰ حقیقت کے برعکس ہےمعاہدے میں واضح طور پر درج ہے کہ ایران کو کسی بھی صورت جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

    ٹرمپ نے کہا کہ جوہری پروگرام سے متعلق نکات اس معاہدے کا بنیادی اور مرکزی حصہ ہیں، معاہدہ نہایت جامع اور تفصیلی ہے جس میں ایران کے جوہری پروگرام، افزودہ یورینیم اور دیگر حساس معاملات سے متعلق مختلف پہلوؤں کا احاطہ کیا گیا ہے معاہدے کا بڑا حصہ انہی معاملات پر مشتمل ہے۔

    صدر ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں سی این این پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ادارہ مسلسل گمراہ کن رپورٹنگ کر رہا ہےآیا نئی انتظامیہ کے تحت سی این این اپنی ساکھ بحال کر پائے گا یا نہیں؟

    دوسری جانب ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ معاہدے کے حوالے سے سفارتی رابطے جاری ہیں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایرانی سرکاری میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کے ساتھ پیغامات اور مذاکرات کا تبادلہ جاری ہے، تاہم کسی حتمی نتیجے تک پہنچنے سے قبل کسی قسم کی قیاس آرائی مناسب نہیں ہوگی موجودہ صورتحال میں معاہدے کے بارے میں کوئی حتمی رائے دینا قبل از وقت ہوگا اور تمام فریقوں کو مذاکراتی عمل مکمل ہونے کا انتظار کرنا چاہیے۔

    قبل ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران نے اس بات کی ضمانت دینے پر آمادگی ظاہر کی ہے کہ وہ جوہری ہتھیار تیار نہیں کرے گا فاکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ دونوں ممالک ایک بہت اچھے معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں امریکا کی بنیادی شرط یہ ہے کہ ایران جوہری ہتھیار نہ بنائے اور ان کے بقول تہران اس نکتے سے اتفاق کر چکا ہے۔ تاہم ٹرمپ نے یہ بھی عندیہ دیا کہ اگر مذاکرات مطلوبہ نتائج نہ دے سکے تو واشنگٹن کے پاس دیگر آپشنز بھی موجود ہیں۔

    یاد رہے کہ حالیہ دنوں میں امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ مفاہمت، جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز کی بحالی سے متعلق مختلف رپورٹس سامنے آتی رہی ہیں، تاہم دونوں ممالک کی جانب سے ابھی تک کسی حتمی معاہدے کا باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔

  • اسلام آباد میں جاری ایران امریکا مذاکرات  اتوار کو بھی جاری رہ سکتے ہیں،امریکی میڈیا

    اسلام آباد میں جاری ایران امریکا مذاکرات اتوار کو بھی جاری رہ سکتے ہیں،امریکی میڈیا

    امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ اسلام آباد میں جاری ایران امریکا مذاکرات اتوار کو بھی جاری رہ سکتے ہیں۔

    امریکہ اور ایران کے درمیان جاری اہم مذاکراتی عمل میں پیش رفت کے اشارے مل رہے ہیں، جہاں متعدد نشستیں خوشگوار اور نسبتاً مثبت ماحول میں منعقد ہو چکی ہیں۔ ذرائع کے مطابق دونوں ممالک کے وفود کے درمیان نہ صرف باضابطہ مذاکرات ہوئے بلکہ غیر رسمی سطح پر بھی روابط جاری رہے، حتیٰ کہ وفود نے ایک ساتھ عشائیہ بھی کیا، جس کے بعد اب باہمی نکات اور تجاویز کے تبادلے کا عمل جاری ہے۔

    سی این این کے مطابق پاکستانی ذرائع نے بتایا ہےکہ ایران امریکا مذاکرات آج یعنی اتوار کو بھی جاری رہ سکتے ہیں مذاکرات میں پاکستان ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔

    دوسری جانب الجزیرہ کے مطابق ایرانی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس وقت وفود کی سطح پر مذاکرات جاری ہیں اور دونوں فریق ممکنہ راستے تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ بات چیت کو آگے بڑھایا جا سکے ان کا مؤقف ہے کہ اگرچہ ابھی کسی حتمی نتیجے تک نہیں پہنچا جا سکا، لیکن رابطوں کا تسلسل برقرار ہے اور مختلف آپشنز پر غور ہو رہا ہے۔

    پاکستان کی جانب سے بھرپور کوشش کی جا رہی ہے کہ مذاکراتی عمل کو مزید وقت دیا جائے پاکستانی حکام چاہتے ہیں کہ کم از کم ایک اور دن، ایک اور مرحلہ یا مزید توسیع دی جائے تاکہ فریقین کسی ٹھوس اور نتیجہ خیز معاہدے تک پہنچ سکیں تاہم اب تک اس حوالے سے کوئی حتمی پیش رفت سامنے نہیں آئی۔

    پاکستانی سفارتی ذرائع اب بھی پرامید دکھائی دیتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ وہ مسلسل دونوں فریقین، یعنی امریکہ اور ایران، کو مزید لچک دکھانے پر آمادہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں مذاکرات کی کامیابی کا دارومدار بالآخر دونوں ممالک کی قیادت پر ہوگا، جو یہ طے کرے گی کہ بات چیت کو کس انداز میں آگے بڑھانا ہے اور آئندہ کا طریقہ کار کیا ہوگامچونکہ دونوں فریق اب آمنے سامنے ملاقاتوں کا آغاز کر چکے ہیں، اس لیے یہ ایک اہم پیش رفت ہے، اور اگر یہ سلسلہ برقرار رہتا ہے تو مستقبل میں مذاکرات کے تسلسل اور ممکنہ کامیابی کے امکانات بھی بڑھ سکتے ہیں۔

    واضح رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان اعلیٰ سطح کے مذاکرات آج اسلام آباد میں جاری ہیں، جنہیں عالمی سطح پر خاصی اہمیت دی جا رہی ہے،اس حوالے سے ایران کے صدر مسعود پزشکیان کا کہنا تھا کہ پاکستان پہنچنے والا اعلیٰ سطح کا ایرانی وفد ایران کے مفادات کا محافظ ہے،ایرانی وفد بہادری کے ساتھ مذاکرات کرے گا،عوام کیلیے ہماری خدمات ایک لمحہ بھی نہیں رکیں گی۔

    دوسری جانب امریکی صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز جلد کھلنے جا رہی ہے،امریکی تیل لینے کیلئے خالی ٹینکرز کی بڑی تعداد آ رہی ہے،امریکی میڈیا پر صرف منفی خبریں دکھائی جا رہی ہیں۔

  • چین خاموشی سے اپنے  نئے ایٹمی ہتھیار تیار کر رہا ہے،سی این این

    چین خاموشی سے اپنے نئے ایٹمی ہتھیار تیار کر رہا ہے،سی این این

    ایک تازہ تحقیقاتی رپورٹ میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ چین خاموشی سے اپنے جوہری ہتھیاروں کے نیٹ ورک میں بڑی توسیع کر رہا ہے۔

    امریکی نشریاتی ادارے ’سی این این‘ کے مطابق، سیٹلائٹ سے حاصل کردہ تصاویر دکھاتی ہیں کہ جہاں کبھی بستیاں آباد تھیں، وہاں اب بلند و بالا عمارتیں اور ایسے گنبد نما ڈھانچے تعمیر ہو چکے ہیں جو ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری میں استعمال ہوتے ہیں۔ اس نئی جوہری فیسیلیٹی کو ’سائٹ 906‘ نام دیا گیا ہے۔

    چین کے صوبہ سیچوان کے ایک دور افتادہ گاؤں کے مکینوں نے جب حکومت سے اپنی زمینوں پر قبضے اور بے دخلی کی وجہ پوچھی تو انہیں صرف یہ جوا ب ملا کہ یہ ایک ریاستی راز ہے۔ اب ایک تازہ تحقیقاتی رپورٹ میں یہ انکشاف ہوا ہےکہ اس راز کا تعلق چین کے ان خفیہ منصوبوں سے ہے جن کے تحت وہ خاموشی سے اپنے جوہری ہتھیاروں کے نیٹ ورک میں بڑی توسیع کر رہا ہے۔

    ایران کی فوجی قیادت کا امریکا اور اسرائیل کو سخت پیغام

    سی این این کی تحقیقات کے مطابق سیچوان کے علاقے میں واقع ایک جوہری اڈے میں ایک بہت بڑا گنبد تعمیر کیا گیا ہے جس کا رقبہ 13 ٹینس کورٹس کے برابر ہے اس مضبوط کنکریٹ اور اسٹیل کے ڈھانچے میں ریڈیشن مانیٹر اور دھماکہ پروف دروازے نصب کیے گئے ہیں تاکہ یورینیم اور پلوٹونیم جیسے تابکار مواد کو محفوظ رکھا جا سکے۔

    مڈل بیری کالج کے ممتاز اسکالر جیفری لیوس نے سی این این سے گفتگو میں ان تبدیلیوں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ عمارت چین کے مستقبل کے عزا ئم کے بارے میں امریکا کے بدترین خدشات کی عکاسی کرتی ہے، اس کمپلیکس کی ازسرنو تشکیل سے ظاہر ہوتا ہے کہ چین کی جوہری ہتھیار بنانے کی صلا حیت میں بہت بڑا اضافہ ہونے والا ہے چین کے اس جوہری پروگرام کا مرکز زیتونگ کاؤنٹی کا علاقہ ہے جہاں کئی خفیہ اڈوں کو نئی سڑکوں کے ذریعے آ پس میں جوڑ دیا گیا ہے۔

    آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے برطانیہ میں آج 30 سے زائد ممالک کا اجلاس

    سیچوان صوبے میں سائٹس کی توسیع، جس کا مشاہدہ سیٹلائٹ کی تصویروں میں کیا گیا ہے اور چینی حکومت کے درجنوں دستاویزات کا جائزہ لیا گیا ہے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے حالیہ دعووں کی تائید کرتا ہے کہ بیجنگ دہائیوں میں اپنی سب سے اہم جوہری ہتھیاروں کو جدید بنانے کی مہم چلا رہا ہے۔

    ٹرمپ اگلے ماہ بیجنگ کا ایک تاریخی دورہ کرنے والے ہیں جہاں وہ چینی رہنما شی جن پنگ کے جوہری عزائم کو روکنے کے لیے ایک معاہدے کے بارے میں بات چیت شروع کرنے کی کوشش کریں گے۔ اس سال کے شروع میں، روس اور امریکہ کے درمیان ہتھیاروں میں کمی کا تازہ ترین معاہدہ – جسے نیو اسٹارٹ کے نام سے جانا جاتا ہے – کی میعاد ختم ہوگئی، ٹرمپ ماسکو کے ساتھ ایک نیا اور بہتر معاہدہ کرنا چاہتے ہیں جس میں چین بھی شامل ہوگا

    شمالی وزیرستان میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی، 8 خوارج ہلاک

    سی این اے کارپوریشن کے نیوکلیئر تجزیہ کار ڈیکر ایویلتھ کا کہنا ہے کہ اس جدید کاری کی وسعت بتاتی ہے کہ پورے نظام کی ٹیکنالوجی میں بنیادی تبدیلیاں کی گئی ہیں، جس کی وجہ سے اب مغرب کے لیے یہ اندازہ لگانا مشکل ہو گیا ہے کہ چین کتنے ایٹمی ہتھیار پیدا کر سکتا ہے۔

    پینٹاگون کے مطابق چین دنیا میں سب سے تیزی سے جوہری ہتھیار تیار کرنے والا ملک بن چکا ہے اور اس کے ذخائر اب فرانس سے بھی تجاوز کر گئے ہیں، حالانکہ وہ ابھی بھی امریکا اور روس کے مقابلے میں کافی پیچھے ہے۔

    دوسری جانب چینی وزارتِ دفاع کے ترجمان جیانگ بن نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ چین صرف اپنے دفاع کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے اور وہ جوہری ہتھیاروں کے پہلے استعمال نہ کرنے کی پالیسی پر سختی سے قائم ہے۔

    ایران کیخلاف جنگ سے انکار،ٹرمپ فرانسیسی صدر کو بیوی سےمار کےطعنےدینے لگے

    تاہم کارنیگی انڈومنٹ فار انٹرنیشنل پیس کے سینئر فیلو ٹونگ ژاؤ کا ماننا ہے کہ چینی قیادت کا خیال ہے کہ ایٹمی صلاحیت کا مظاہرہ مغربی ممالک پر نفسیاتی اثر ڈال سکتا ہے اور انہیں ابھرتے ہوئے چین کی حقیقت کو تسلیم کرنے پر مجبور کر سکتا ہے۔

    ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایران میں جاری حالیہ جنگ نے چین کے اس عزم کو مزید پختہ کر دیا ہے کہ وہ اپنی فوجی طاقت کو کمزور نہ پڑنے دے۔

  • سی این این کی ٹیم پر  حملہ،اسرائیلی فوج کی پوری بٹالین معطل

    سی این این کی ٹیم پر حملہ،اسرائیلی فوج کی پوری بٹالین معطل

    امریکی نیوز چینل سی این این کی ٹیم پر مبینہ حملے کے بعد اسرائیلی فوج نے بڑا اقدام کرتے ہوئے پوری فوجی بٹالین کو معطل کر دیا ہے۔

    اسرائیلی آرمی چیف ایال زمیر نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے مغربی کنارے میں تعینات ایک مکمل فوجی بٹالین کو فوری طور پر معطل کرنے کا حکم دیا، یہ اقدام اس وقت سامنے آیا جب صحافیوں کے ساتھ بدسلوکی اور تشدد کی اطلاعات عالمی سطح پر سامنے آئیں۔

    رپورٹس کے مطابق واقعہ اس وقت پیش آیا جب سی این این کی ٹیم مغربی کنارے میں ایک فلسطینی گاؤں میں اسرائیلی آبادکاروں کی جانب سے مبینہ زمین پر قبضے کی کوریج کر رہی تھی اسی دوران اسرائیلی فوجیوں نے ٹیم کو حراست میں لے لیا،صحافیوں کا مؤقف ہے کہ دورانِ حراست ان کے ساتھ بدسلو کی کی گئی، ایک فوٹو جرنلسٹ کا گلا دبایا گیا اور اس کا کیمرہ بھی توڑ دیا گیا، بعد ازاں تقریباً دو گھنٹے بعد صحافیوں کو رہا کر دیا گیا۔

    واقعے کے بعد عالمی صحافتی تنظیموں نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا، انسانی حقوق کے حلقوں کا کہنا ہے کہ جنگی اور کشیدہ علاقوں میں کام کرنے والے صحافیوں کے تحفظ کو یقینی بنانا ضروری ہے،اسرائیلی فوج کی جانب سے بٹالین کی معطلی کو ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ اصل ذمہ داروں کے خلاف کارروائی اور صحافیوں کے تحفظ کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔

  • پاک بھارت کشیدگی:صورتحال کسی عسکری تصادم کی جانب بڑھ سکتی ہے،امریکی اخبار

    پاک بھارت کشیدگی:صورتحال کسی عسکری تصادم کی جانب بڑھ سکتی ہے،امریکی اخبار

    پہلگام واقعے کے بعد پاکستان اور بھارت میں ایک بار پھر کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے امریکی ٹی وی سی این این کے مطابق تجزیہ کاروں کو خدشہ ہے کہ صورتحال کسی عسکری تصادم کی جانب بڑھ سکتی ہے۔

    اسٹینفورڈ یونیورسٹی کے سینٹر فار انٹرنیشنل سیکیورٹی اینڈ کوآپریشن سے وابستہ ریسرچ سکالر ارزان ترپورے نے کہا کہ مودی پر ایک بہت سخت، بلکہ ناقابلِ مزاحمت سیاسی دباؤ ہوگا کہ وہ طاقت کے ساتھ بدلہ لیں ہم نہیں جانتے کہ وہ بدلہ کس شکل میں ہوگا، اور اس پر قیاس آرائیاں کرنا اس وقت کچھ خاص معنی نہیں رکھتا، لیکن میرا خیال ہے کہ 2019 کے بالاکوٹ بحران سے ہمیں اندازہ ہوسکتا ہے کہ بھارت کس قسم کا ردعمل دے سکتا ہے-

    یہ حوالہ اس وقت کے بھارتی ردعمل کی طرف ہے جب مقبوضہ کشمیر میں پلوامہ حملے میں بھارت کے 40 سے زیادہ نیم فوجی اہلکار مارے گئے تھے اس حملے کے بعد نئی دہلی نے 1971 کی جنگ کے بعد پہلی بار پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سرجیکل سٹرائیک کا دعویٰ کیا لیکن پاکستان نے اگلے ہی روز اس کا بھرپور جواب دیا اور بھارت کے طیارے کو گراکر اس کے پائلٹ کو گرفتار کرلیا تھا۔

    زرمبادلہ کے ذخائر میں مزید کمی ریکارڈ

    ترپورے نے کہا کہ اصل سوال یہ ہوگا کہ کیا بھارت دہشت گرد گروہوں پر حقیقی، ٹھوس دباؤ ڈالنے کی کوشش کرے گا، مثلاً ان کی قیادت یا ہیڈکوارٹرز کو نشانہ بنا کر؟ یا پھر بھارت اس حد سے بھی آگے جائے گا اور پاکستانی فوج کو نشانہ بنائے گا؟بھارت کی عسکری صلاحیتیں 2019 کے بعد سے بہتر ہوئی ہیں، اس لیے وہ بڑے اہداف کے خلاف کارروائی کے لیے خود کو زیادہ پر اعتماد محسوس کر سکتا ہے-

    پی ایس ایل 10،پشاور زلمی کا ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ

    تاہم ٹفٹس یونیورسٹی سے وابستہ پروفیسر ہمایوں نے کہا کہ اگر بھارت کی حکومت نے عسکری کارروائی کا راستہ اختیار کیا تو ہر وجہ موجود ہے کہ پاکستان بھی جواب میں بھرپور ردعمل دے گا اگر اس موقع پر کسی اسٹریٹیجک ضبط یا کسی تیسرے فریق کی مداخلت نہ ہوئی، تو آنے والے دنوں میں غیرمتوقع تصادم کے امکانات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا-

    رینجرز نے پاکستانی حدود میں داخل ہونیوالے بھارتی بارڈر سکیورٹی فورس کے اہلکار کو پکڑلیا

    واضح رہے کہ منگل کے روز مقبوضہ جموں و کشمیر کے سیاحتی مقام پہلگام میں ایک حملے کے نتیجے میں 26 بھارتی شہری مارے گئے تھے بھارتی حکومت نے اپنی سابقہ روش برقرار رکھتے ہوئے اس کا الزام پاکستان پر دھرا اور پاکستان کے خلاف متعدد اقدامات کا اعلان کیا-

  • خواتین سے  بدسلوکی کے الزامات،سی این این کا اینکر برطرف

    خواتین سے بدسلوکی کے الزامات،سی این این کا اینکر برطرف

    خواتین سے بدسلوکی کے الزامات کے بعد سی این این نے اپنے معروف اینکر ڈان لیمن کو برطرف کر دیا-

    باغی ٹی وی : سی این این کے ڈان لیمن نے اعلان کیا ہے کہ انہیں حال ہی میں دوبارہ شروع ہونے والےمارننگ شو میں آنے کے چند گھنٹوں بعد ہی 17 سال بعد ”برطرف“ کردیا گیا ہےخواتین سے بدسلوکی کے الزامات کے بعد سی این این سے برطرف کیے جانے والے اینکر ڈان لیمن نے نیٹ ورک کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ سی این این نے اعلان کیا تھا کہ اس نے مارننگ شو کے شریک میزبان ڈان لیمن سے علیحدگی اختیارکرلی ہے۔

    فاکس نیوزنےاپنے مقبول ترین ٹاپ ریٹیڈ میزبان”ٹککرکارلسن” کو نوکری سے فارغ کر دیا

    57 سالہ لیمن پیر کو معمول کے مطابق اپنے پروگرام میں نظرآئے اور اسی روز ان کی برطرفی کی خبر سامنے آگئی لیمن نے اپنی ٹویٹ میں لکھا کہ سی این این میں 17 سال کام کرنے کے بعد میں نے سوچا تھا انتظامیہ میں سے کسی میں تو اتنی شائستگی ہوگی کہ مجھے براہ راست بتائیں، کسی بھی وقت مجھے کوئی اشارہ نہیں دیا گیا کہ میں نیٹ ورک میں وہ کام جاری نہیں رکھ سکوں گا جسے میں نے پسند کیا۔

    نیٹ ورک نے برطرفی کی وجہ کے بارے میں تفصیل سے نہیں بتایا۔ تاہم پیر کی سہ پہر ایک دوسرے بیان میں لیمن کی وضاحت کو ’غلط‘ قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ انھیں انتظامیہ سے ملاقات کا موقع دیا گیا ۔

    سوڈان میں آج سے تین روزہ جنگ بندی کا اعلان

    یہ برطرفی ایک اور بڑے ٹی وی میزبان کی رخصت کے بعد سامنے آئی ہے، ڈان لیمن کے اعلان سے چند لمحے قبل فاکس نیوز نے اعلان کیا تھا کہ وہ پرائم ٹائم میزبان ٹکر کارلسن سے علیحدگی اختیارکررہے ہیں۔

    طویل عرصے سے نیٹ ورک کا حصہ رہنے والے لیمن سی این این کےمارننگ پروگرام کے شریک میزبان تھے تاہم رواں سال کے اوائل میں اقوام متحدہ کی سابق سفیر اور جنوبی کیرولائنا کی گورنر نکی ہیلی سے متعلق تبصرے کے بعد انہیں شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

    دوران پروازامریکی ائیرلائن کے طیارے سے پرندہ ٹکرا نے کے باعث آگ لگ گئی

    لیمن نے فروری میں کہا تھا کہ نکی ہیلی ’اپنےعروج ’ پرنہیں تھیں، جس پر انہیں شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ کسی خاتون کو 20، 30 اور شاید 40 سال کی عمر میں اس کے عروج پر سمجھا جاتا ہے ڈان لیمن نے اپنی شریک خواتین میزبانوں پوپی ہارلو اور کیٹلان کولنز کے اعتراضات کے جواب میں مزید کہا تھا کہ میں صرف حقائق بیان کررہا ہوں کہہ رہا ہوں –

    سابق امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی سوشل میڈیا سائٹ ٹروتھ سوشل پر پوسٹ میں لیمن کو ”ٹیلی ویژن پر سب سے بیوقوف آدمی“ قرار دیا۔ تاہم انہوں نے فاکس نیوز نے ٹکر کارلسن کی برطرفی پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

    کینیا میں مبینہ طور پر فاقہ کشی سے مرنیوالے فرقہ کے 47 افراد کی لاشیں …

  • امریکی ٹی وی کو انٹرویو،میزبا ن کا باربار سوال ،عمران خان حملے کا الزام لگانیوالوں کیخلاف ثبوت دینےسےقاصر

    امریکی ٹی وی کو انٹرویو،میزبا ن کا باربار سوال ،عمران خان حملے کا الزام لگانیوالوں کیخلاف ثبوت دینےسےقاصر

    مجھے تین گولیاں لگیں، عمران خان چار سے تین گولیوں پر آ گئے

    لاہور: عمران خان قاتلانہ حملے میں مورد الزام ٹھہرانے والوں کیخلاف ثبوت دینے سے قاصر ہیں۔

    باغی ٹی وی : امریکی ٹی وی سی این این کو دیئے گئے انٹرویو میں سابق عمران خان نے کہا کہ گزشتہ ہفتے گولی لگنے سے ان کی دائیں ٹانگ سے تین گولیاں لگیں جس سے وہ زخمی ہو گئے، انہیں معمول کی سرگرمی دوبارہ شروع کرنے میں چار سے چھ ہفتے لگیں گے۔

    حکومت تحفظ فراہم کرے،عمران خان کے حوالے سے جاری تھریٹ الرٹ میں نامزد…


    زمان پارک، لاہور میں اپنی رہائش گاہ سے بات کرتے ہوئے، عمران خان نے انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ انہیں خفیہ ایجنسیوں کے اندر سے اطلاع ملی تھی کہ گزشتہ ہفتے گولی لگنے سے وہ زخمی ہو جائیں گے۔

    صحافی کی جانب سے پوچھے گئے سوال پر کہ انہیں اس واقعے کے بارے میں کیا معلومات اور کس کے ذریعے دی گئی ہیں، جس پر عمران خان نے کہا کہ یاد رکھیں، میں ساڑھے تین سال اقتدار میں تھا۔ میرے انٹیلی جنس ایجنسیوں سے رابطے ہیں، مختلف ایجنسیاں جو کام کرتی ہیں۔ مجھے معلومات کیسے ملی؟ انٹیلی جنس ایجنسیوں کے اندر سے۔ کیوں؟ کیونکہ اس ملک میں جو کچھ ہو رہا ہے اس سے زیادہ تر لوگ پریشان ہیں۔

    سال 2022 کا آخری چاند گرہن کل ہوگا

    امریکی ٹی وی کی میزبان بار بار پوچھتی رہی آپ حملے میں تین افراد کے نام لے کر سنگین الزامات لگا رہے ہیں اس کے شواہد کیا ہیں؟اس پر چیئرمین پی ٹی آئی واقعات کا پس منظر بتاتے رہے اینکر نے کہا کہ پس منظر تو معلوم ہے، بڑے احترام سے آپ سے الزامات کے شواہد کا پوچھا ہے۔


    بار بار اصرار پر بھی عمران خان شواہد پیش نہ کر سکے اور بولے دائیں ٹانگ سے تین گولیاں نکال لی گئی ہیں جب کہ بائیں ٹانگ میں گولی کے ٹکڑے اندر چھوڑ دیے گئے، معمول کی سرگرمیاں بحال ہونے میں 4 سے 6 ہفتے لگیں گے۔

    لانگ مارچ کی تاریخ ایک دن میں دوسری بار تبدیل، جمعرات کو شروع کرنیکا اعلان

    سی این این کو دیئے گئے انٹرویو کے بعد عمران خان کا جھوٹ ایک بار پھر نے نقاب ہو چکا ہے۔ عمران خان نے حملے کے بعد شوکت خانم مین پہلی پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ انہیں چار گولیاں لگیں اب سی این این کو انٹرویو میں کہا کہ تین گولیاں لگیں۔ عمران خان کا سرکاری ہسپتال سے میڈیکل نہیں کروایا گیا تا کہ گولیوں کا سچ سامنے نہ آ جائے تحریک انصاف کے رہنما بھی عمران خان کو گولیاں یا ذرات لگنے کے حوالہ سے متضاد دعوے کرتے ریے کوئی ایک کوئی دو کوئی تین کہتا رہا اب عمران خان بھی چار سے تین گولیوں پر آ گئے ہیں ۔ امید ہے اگلےکسی انٹرویو میں وہ مزید سچائی کے قریب آئیں گے۔

    تحریک انصاف وزیر آباد واقعہ کے بعد احتجاج کر رہی ہے لیکن سچ کو سامنے نہیں لایا جا رہا احتجاج میں بھی توڑ پھوڑ کر کے ملکی املاک کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے اور جو صحافی سچ رپورٹ کرتا ہے اسکو عمران خان لفافہ صحافی کہتے ہیں کیونکہ اسے سچائی برداشت نہیں عمران خان وہ سننا چاہتے ہیں جو اسکی خواہش کے مطابق خبر دے لیکن ایسا ممکن نہیں ۔ سچائی سامنے آ کر ہی رہتی ہے –