Baaghi TV

Tag: سی پیک

  • بی ایل اے کی کارروائیاں  چین پاکستان اکنامک کوریڈور کے لیے خطرہ  بن رہی ہیں،امریکا

    بی ایل اے کی کارروائیاں چین پاکستان اکنامک کوریڈور کے لیے خطرہ بن رہی ہیں،امریکا

    امریکا کے ریٹائرڈ آرمی کرنل اور سابق کمیونیکیشن ڈائریکٹر جو بکینو (Joe Buccino) نے کہا ہے کہ چین پاکستان اکنامک کوریڈور کے لیے خطرہ بن رہی ہیں-

    امریکی کرنل جو بکینو نے کہا کہ بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کی حالیہ کارروائیوں نے ظاہر کیا ہے کہ یہ گروہ اب روایتی علیحدگی پسند تنظیم کے بجائے جدید دہشتگردانہ طریقوں پر عمل پیرا ہے بی ایل اے کے ہدف عام شہری، تعلیمی ادارے، ٹرانسپورٹ اور اہم بنیادی ڈھانچے پر مرکوز ہیں، جبکہ مقامی عوام کے زیادہ تر مطالبات روزگار، بہتر گورننس اور سیکیورٹی سے متعلق ہیں، سروے اور تحقیقی رپورٹس سے پتا چلتا ہے کہ بلوچستان کے لوگ قومی شناخت کے حامی ہیں اور علیحدگی کے خواہاں نہیں،31 جنوری کو بلوچستان میں کیے گئے ہم آہنگ حملوں میں درجنوں شہری اور سیکیورٹی اہلکار ہلاک ہوئے۔

    سی ٹی ڈی، ایلیٹ اور ضلعی پولیس کاشانگلہ میں مشترکہ ٹارگٹڈ آپریشن

    امریکی کرنل نے اپنے تجزیے میں زور دیا کہ بی ایل اے کی کارروائیاں نہ صرف امن اور ترقی کو نقصان پہنچا رہی ہیں بلکہ علاقے میں اقتصادی منصوبوں، خاص طور پر چین پاکستان اکنامک کوریڈور کے لیے خطرہ بھی بن رہی ہیں۔

    نیپرا نے سولر پالیسی 2026 میں ترمیمی مسودے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا

  • پاکستان اور چین کا سی پیک سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کو نئی جہت دینے پر اتفاق

    پاکستان اور چین کا سی پیک سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کو نئی جہت دینے پر اتفاق

    بیجنگ:نائب وزیراعظم اور وزیرخارجہ اسحاق ڈار کے دورہ بیجنگ کے دوران دونوں ممالک نے پاک-چین اقتصادی راہداری(سی پیک) سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کو نئی جہت چینے پر اتفاق کرلیا ہے۔

    ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بیجنگ میں اعلیٰ سطح کی سفارتی سرگرمیوں کے دوران چین کی کمیونسٹ پارٹی کے بین الاقوامی شعبے کے وزیر لیو ہائی شنگ سے ملاقات کی اور اس موقع پر انہوں نے کمیونسٹ پارٹی کی 20ویں مرکزی کمیٹی کے چوتھے پلینری اجلاس کے کامیاب انعقاد پر مبارک باد دی۔

    دونوں فریقین نے پاک-چین دوطرفہ تعلقات کی مستحکم اور مستقبل کے حوالے سے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے پارٹی ٹو پارٹی روابط، علاقائی صورت حال اور سی پیک کے تحت جاری منصوبوں کا جائزہ لیا اور اس کے علاوہ سفارتی تعلقات کے قیام کی 75ویں سالگرہ کو بامقصد اور شایان شان انداز میں منانے پر اتفاق کیا گیا۔

    پیپلز پارٹی کراچی دشمن جماعت ہے ان کو کوئی ووٹ نہیں دیتا،حافظ نعیم الرحمان

    نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ نے چین کے ایگزیکٹو نائب وزیراعظم ڈِنگ شوئے شیانگ سے بھی ملاقات کی، جس میں پاک-چین ہمہ موسمی تزویراتی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔

    چین کے نائب وزیر اعظم ڈنگ نے چین کے بنیادی مفادات پر پاکستان کی مسلسل حمایت کو سراہا اور پاکستان کی قیادت و عوام کے لیے نئے سال کی نیک تمناؤں کا اظہار کیا،دونوں رہنماؤں نے سی پیک سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کو نئی جہت دینے پر اتفاق کیا۔

    ترجمان دفترخارجہ کے مطابق اسحاق ڈار نے ملائیشیا کے وزیر خارجہ محمد بن حاجی حسن، بنگلہ دیش کے خارجہ مشیر توحید حسین اور مصر کے وزیر خارجہ بدر احمد محمد عبدالعاطی سے علیحدہ علیحدہ ٹیلیفونک گفتگو کی۔

    ٹی20 ورلڈ کپ:بنگلا دیش کا کرکٹ ٹیم بھارت نہ بھیجنے کا اعلان

    نائب وزیراعظم نے ان رابطوں میں دوطرفہ تعلقات، ایشیا اور مشرق وسطیٰ کی حالیہ علاقائی صورت حال اور باہمی تعاون کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا اور تمام فریقین نے مسائل کے حل کے لیے مکالمے اور سفارت کاری کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے قریبی رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا۔

    واضح رہے کہ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق چین کے دورے پر ہیں جہاں وہ ساتویں پاک-چین اسٹریٹجک ڈائیلاگ کی مشترکہ صدارت بھی کریں گے۔

  • پاک افغان وزرائے خارجہ ملاقات، سی پیک میں افغان شمولیت کا خیرمقدم

    پاک افغان وزرائے خارجہ ملاقات، سی پیک میں افغان شمولیت کا خیرمقدم

    پاکستان اور افغانستان کے وزرائے خارجہ کے درمیان اہم ملاقات ہوئی ہے جس میں دو طرفہ تعلقات، تجارت اور خطے میں تعاون بڑھانے پر گفتگو کی گئی۔

    ملاقات نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور افغان وزیر خارجہ ملا امیر متقی کے درمیان ہوئی۔اس موقع پر اسحاق ڈار نے کہا کہ اپریل 2023 کے بعد پاک افغان تعلقات اور باہمی تجارت میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ انہوں نے افغانستان کی سی پیک (چین پاکستان اقتصادی راہداری) میں دلچسپی اور شمولیت کو خوش آئند قرار دیا۔

    علاقائی تعاون اور امن پر زور
    دونوں رہنماؤں نے باہمی تعلقات کو مزید بہتر بنانے، تجارتی حجم بڑھانے، اور خطے میں امن و استحکام کے لیے مشترکہ اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔

    ملاقات کا مقصد
    اس ملاقات کا بنیادی مقصد پاکستان اور افغانستان کے درمیان سیاسی، اقتصادی اور تجارتی تعلقات کو مزید مستحکم کرنا اور خطے میں تعاون کو فروغ دینا تھا۔ملاقات کو سفارتی حلقوں میں اہم پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب خطے میں بداعتمادی کو ختم کرنے اور معاشی تعاون کو وسعت دینے کی ضرورت بڑھ گئی ہے۔

    قومی سلامتی کمیٹی کا اہم اجلاس کل طلب کرلیا، بڑے فیصلوں کا امکان

  • گوادر تا نئے ایئرپورٹ تک ایکسپریس وے کی تعمیر کا فیصلہ

    گوادر تا نئے ایئرپورٹ تک ایکسپریس وے کی تعمیر کا فیصلہ

    پاکستان اور چین کے درمیان گوادر سے نئے ایئرپورٹ تک ایکسپریس وے کی تعمیر پر اتفاق ہو گیا ہے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق اس منصوبے کے حوالے سے وفاقی وزیرمنصوبہ بندی احسن اقبال کی چین کے نائب وزیر ٹرانسپورٹ سے ملاقات ہوئی۔احسن اقبال نےمواصلات کےشعبےمیں چین کےتعاون کوسراہا، ملاقات میں گوادر بندرگاہ اور نئے ائرپورٹ کے مابین ایکسپریس وے کی تعمیر پر بھی اتفاق کیا گیا۔وفاقی وزیر کی چین کے ایکسپورٹ امپورٹ بینک کی صدر سے بھی ملاقات ہوئی، ملاقات میں احسن اقبال نے کہا کہ روڈ انفرا اسٹرکچر سے ترقی کے نئے امکانات پیدا ہوئے ہیں۔حکومت توانائی، ٹیکس کے شعبوں میں اصلاحات کے ایجنڈے پر گامزن ہے، احسن اقبال نے خلائی سیٹلائٹ منصوبے کی فنانسنگ پر چینی تعاون کا شکریہ ادا کیا۔وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ مستقبل میں ترقی کیلئے خلائی ٹیکنالوجی کا حصول ناگزیر ہے۔اس موقع پر چین کے ایکسپورٹ امپورٹ بینک کی صدر مس ونگ شوننگ نے پاکستان میں معاشی بحالی پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک مضبوط رشتے میں بندھے ہیں اور پاکستان کی ترقی کے لیے چین ہمیشہ تعاون کرتا رہے گا۔

    بلاول بھٹو سے برطانوی ہائی کمشنر کی ملاقات

    صدر مملکت سے سعودی شوریٰ کونسل کے چیئرمین اور وفد کی ملاقات

    محسن نقوی کی حافظ نعیم الرحمن سے منصورہ میں ملاقات

  • نیو گوادر انٹرنیشنل ائیرپورٹ کو آپریشنل کرنے کی تیاریاں آخری مراحل

    نیو گوادر انٹرنیشنل ائیرپورٹ کو آپریشنل کرنے کی تیاریاں آخری مراحل

    وزیراعظم پاکستان کی ہدایت پر نیو گوادر انٹرنیشنل ائیرپورٹ کو فعال کرنے کے لیے تیاریاں اپنے آخری مراحل میں داخل ہوگئی ہیں۔ ذرائع کے مطابق، وزیراعظم کی ہدایات کے مطابق 30 دسمبر 2024 کو نیو گوادر انٹرنیشنل ائیرپورٹ کو باقاعدہ طور پر آپریشنل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، اور اس کا افتتاحی کمرشل پرواز قومی ائیرلائن پی آئی اے کی طرف سے چلائی جائے گی۔

    نجی ٹی وی کے مطابق ذرائع نے بتایا کہ نیو گوادر انٹرنیشنل ائیرپورٹ کو فعال کرنے کے لیے پی آئی اے کی انتظامیہ اور ائیرپورٹس اتھارٹی کے درمیان ایک پانچ گھنٹے تک طویل اجلاس ہوا۔ اس اجلاس میں ائیرپورٹ کی آپریشنلائزیشن سے متعلق تمام تکنیکی اور انتظامی معاملات کو طے کر لیا گیا۔ اجلاس میں یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ پی آئی اے آئندہ چند دنوں میں نیو گوادر انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر اپنے عملے کو تعینات کرے گا اور ائیرپورٹ پر چیک ان کے لیے کمپیوٹرز سمیت دیگر اہم سامان بھی نصب کرے گا۔ذرائع کے مطابق، اجلاس میں ایک اہم فیصلہ یہ بھی کیا گیا کہ نیو گوادر انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر ایک سال تک قومی ائیرلائن پی آئی اے سے کوئی ائیرپورٹ فیس وصول نہیں کی جائے گی۔ ائیرپورٹس اتھارٹی کے حکام نے اس بات کی یقین دہانی بھی کرائی کہ قومی ائیرلائن کو ائیرپورٹ چارجز کے حوالے سے کوئی پریشانی نہیں ہوگی اور انہیں اس حوالے سے سہولت فراہم کی جائے گی۔

    گوادر میں ڈیپ سی پورٹ کے قریب چین کی 246 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری سے نیو گوادر انٹرنیشنل ائیرپورٹ کی تعمیر کی گئی ہے۔ اس ائیرپورٹ کے فعال ہونے سے نہ صرف بلوچستان بلکہ پورے پاکستان کی معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ گوادر کا یہ جدید ائیرپورٹ نہ صرف عالمی تجارت کے لیے اہم ہے بلکہ سی پیک (CPEC) کے تحت چین، پاکستان اور دیگر ممالک کے درمیان تجارتی روابط کو مزید مستحکم کرے گا۔

    نیو گوادر انٹرنیشنل ائیرپورٹ کی فعالیت سے نہ صرف بلوچستان میں سیاحت اور کاروبار کو فروغ ملے گا بلکہ پاکستان کی مجموعی ترقی کے لیے بھی یہ ایک سنگ میل ثابت ہوگا۔ وزیراعظم کی جانب سے اس ائیرپورٹ کو فعال کرنے کا فیصلہ، اور پی آئی اے کی طرف سے اس میں اہم کردار، پاکستان کے اسٹریٹجک تجارتی مقاصد کو آگے بڑھانے کے لیے ایک مثبت قدم ہے۔

    مل جل کر تلخیوں کا خاتمہ، مسائل کاحل مذاکرات سے ہی ممکن ہے،ایاز صادق

    سوشل میڈیا پر نازیبا تصاویر کے ذریعےخاتون کو بلیک میل کرنیوالا گرفتار

    بیرسٹر سیف کا مذاکرات کا مشورہ،حکومت دلچسپی نہیں دکھا رہی،عمر ایوب

  • پاکستان اور چین کے درمیان مصنوعی ذہانت پر مبنی زرعی آلات کے معاہدے پر دستخط

    پاکستان اور چین کے درمیان مصنوعی ذہانت پر مبنی زرعی آلات کے معاہدے پر دستخط

    پاکستان اور چین کے درمیان زرعی شعبے میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے لیے ایک اہم معاہدہ طے پایا ہے جس میں مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی زرعی آلات کی تیاری اور استعمال کو فروغ دیا جائے گا۔ اس معاہدے پر پنجاب حکومت اور چین کی معروف کمپنی "اے آئی فورس ٹیک” کے درمیان مفاہمتی یادداشت (MoU) پر دستخط ہوئے ہیں۔

    ایس آئی ایف سی کے تعاون سے اس معاہدے کا مقصد پاکستان کی زرعی پیداوار اور برآمدات کو بڑھانا ہے۔ پاکستان چین کی زرعی مہارت سے فائدہ اٹھا کر اپنے زرعی شعبے میں پیداوار میں اضافہ کرنے اور جدید ٹیکنالوجی کو اپنانے کی کوشش کر رہا ہے۔پنجاب حکومت کی جانب سے چین کی "اے آئی فورس ٹیک” کمپنی کے ساتھ کئے جانے والے اس معاہدے کا بنیادی مقصد زرعی شعبے میں مصنوعی ذہانت اور جدید روبوٹک ٹیکنالوجی متعارف کرانا ہے۔ اس اقدام کا مقصد پاکستان کی زرعی ترقی کو ایک نیا رخ دینا ہے اور اقتصادی ترقی کے عمل میں انقلاب لانا ہے۔پنجاب حکومت کا یہ عزم ہے کہ زرعی ٹیکنالوجی کے جدید طریقوں کو متعارف کرا کے کسانوں کی زندگیوں میں بہتری لائی جائے۔ اس کے ذریعے نہ صرف پیداوار میں اضافہ ہوگا، بلکہ کسانوں کی معیشت میں بھی بہتری آئے گی۔

    وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے اس معاہدے کے موقع پر زرعی شعبے میں جدید کاری کے لیے ایک اور اہم اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان چین کے ساتھ زرعی تعاون کو مزید مستحکم کرے گا اور زرعی شعبے کے 1,000 ماہرین کو چین بھیجا جائے گا تاکہ وہ وہاں زرعی ٹیکنالوجی اور جدید طریقوں کی تعلیم حاصل کریں۔

    چین کے شہر ژیآن میں زرعی ٹیکنالوجی کے حوالے سے عالمی معیار کی سہولتوں کا بھی جائزہ لیا جائے گا تاکہ پاکستان کو وہاں کی جدید زرعی ترقی سے استفادہ حاصل ہو سکے۔ یہ تعاون پاکستان کو عالمی سطح پر زرعی ٹیکنالوجی کے بہترین طریقوں سے آشنا کرے گا اور پاکستان کے کسانوں کو جدید آلات اور طریقوں کا استعمال سکھایا جائے گا۔

    اس معاہدے میں ایس آئی ایف سی کی اہمیت بھی نمایاں ہے کیونکہ اس کے تعاون سے پاکستان اور چین کی زرعی شراکت داری میں ترقی کی راہیں ہموار ہوں گی۔ ایس آئی ایف سی کی مدد سے زرعی شعبے میں سرمایہ کاری اور جدید ٹیکنالوجی کا تبادلہ ممکن ہو گا، جس سے پاکستان کے زرعی شعبے میں انقلاب آ سکتا ہے۔پاکستان اور چین کے درمیان اس معاہدے سے نہ صرف زرعی پیداوار میں اضافہ ہوگا بلکہ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون اور تعلقات بھی مضبوط ہوں گے۔

    وزیر اعلیٰ مریم نواز کی ہواوے کو نوازشریف آئی ٹی سٹی میں آفس کی پیشکش

    شام میں پھنسے 318 پاکستانی واپس پہنچ گئے،احسن اقبال نے کیا استقبال

  • چین ایک ملین ڈالر سرمایہ کاری سے کراچی میں میڈیکل سٹی بنا رہا

    چین ایک ملین ڈالر سرمایہ کاری سے کراچی میں میڈیکل سٹی بنا رہا

    چین سے پاکستان کا دورہ کرنے والے 16 رکنی تجارت وفد کے سربراہ Meng Xiaowei نے کہا ہے کہ چینی سرمایہ کار کراچی میں ایک ملین ڈالر کی سرمایہ کاری سے میڈیسن سٹی بنا رہے ہیں جس کیلئے دھابیجی اکنامک زون میں انڈسٹری لگانے کیلئے حکومت سندھ سے کامیاب مذاکرات ہوئے ہیں۔ میڈیکل سٹی پاکستان کا پہلا میڈیسن اور فارما سیوٹیکل کا ایکو سسٹم ہوگا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (کاٹی) کے دورے کے موقع پر کاٹی کے صنعتکاروں اور تاجروں سے خطاب میں انکا کہنا تھا کہ اس کے علاوہ کراچی میں 1000 الیکٹرک بسیں، کراچی تا سکھر ہائی اسپیڈ ٹرین، الیکٹرک ٹیکسیوں کے لئے سندھ حکومت سے مذاکرات حتمی مراحل میں ہیں۔چینی وفد کے سربراہ Meng Xiaowei نے مزید کہا کہ چین میں اعلی سطح کے سرمایہ کاروں کا ایک بزنس الائنس تشکیل دیا گیا ہے جس میں تمام شعبوں سے تعلق رکھنے والے صنعتکار اور سرمایہ کار موجود ہیں جو پاکستان میں فوری طور پر فارماسیوٹیکل، فرٹیلائزر، پولیمر، ٹرانسپورٹ، شمسی توانائی، سمیت دیگر شعبوں میں سرمایہ کاری کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں، اس سلسلے میں وزیر اعلی سندھ، وزیر توانائی، وزیر ٹرانسپورٹ اور دیگر وزرا اور اعلی حکام سے ملاقات ہو چکی ہے۔ تقریب میں کاٹی کے صدر جنید نقی، ڈپٹی پیٹرن ان چیف زبیر چھایا، سینئر نائب صدر اعجاز شیخ، نائب صدر طارق حسین، سابق صدر و چیئرمین مسعود نقی، سلیم الزمان، احتشام الدین، چین وفد کے کوآرڈینیٹر ادریس گیگی، علی اکبر سمیت چینی سرمایہ کاروں اور کاٹی کے ممبران کی بڑی تعداد موجود تھی۔انہوں نے کہا کہ ابتدائی طور پر چین کی 10 سرفہرست کمپنیاں اس وفد میں شاملِ ہیں جبکہ 50 سے زائد کمپنیاں پاکستان آنے اور سرمایہ کاری میں دلچسپی رکھتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چین کے بڑے سرمایہ کار پاکستان خاص طور پر کراچی اور کاٹی سے تجارت کے ذریعے پاکستان کی برآمدات کو فروغ دینا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وفد میں چین کی صف اول کی کمپنیاں شامل ہیں جن میں شینڈونگ نونگڈا فرٹیلائزرٹیکنالوجی کمپنی لمیٹڈ، شینڈونگ ہینگائی ڈٹونگ ایگریکلچر اینڈ اینیمل ہسبنڈری ٹیکنالوجی کمپنی لمیٹڈ، شینڈونگ پینزو ہینچنگ نیو انرجی ٹیکنالوجی کمپنی لمیٹڈ، شینڈونگ انڈسٹریل ایکوپمنٹ انسٹالیشن گروپ کمپنی لمیٹڈ ، شینڈونگ پینزو پلاسٹک انڈسٹری کمپنی لمیٹڈ، شینڈونگ یوہو نیٹ ورک ٹیکنالوجی لمیٹڈ ، شینڈونگ کیونسے بورڈپولیمر مٹیریل کمپنی لمیٹڈ، زونگلوڈنگ شینڈونگ ایگریکلچر ٹیکنالوجی ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ، شیڈونگ جیوشنگ نیو انرجی ٹیکنالوجی کمپنی لمیٹڈ، شینڈونگ لانگوئنگ ٹیانسو سولر انرجی کمپنی لمیٹڈ، لیانگشن فیوکیانگ شنگ فرائٹ سروس کمپنی لمیٹڈ، شیڈونگ زونگ لنگ وہیکل مینوفیکچرنگ کمپنی سرفہرست ہیں۔قبل ازیں کاٹی کے صدر جنید نقی نے وفد کو خوش آمدید کہتے ہوئے زور دیا کہ چین پاکستان کا دیرینہ دوست ہے جس نے ہر مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں براہ راست بیرونی سرمایہ کاری میں بھی چین سرفہرست ہے، جبکہ بین الاقوامی سطح پر بھی چین پاکستان کا سفارتی ساتھ دیتا ہے جو قابل تعریف ہے۔ صدر کاٹی نے کہا کہ کورنگی صنعتی علاقے میں پاکستانی برآمدات کی 10 سرفہرست صنعتیں موجود ہیں جو دو طرفہ تجارت کے فروغ میں بہترین معاونت فراہم کر سکتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ چین کے سرمایہ کاروں کے وفد سے کاٹی کے صنعتکاروں کی ملاقات سے برآمدات کے مزید مواقع پیدا ہوں گے جس کیلئے بی ٹو بی اور جی ٹو جی اشتراک ضروری ہے۔ جنید نقی نے مزید کہا کہ کاٹی چینی کمپنیوں کیساتھ تجارت کے فروغ مین دلچسپی رکھتی ہے اور پاکستان کی برآمدات میں اضافہ کرسکتے ہیں۔ ڈپٹی پیٹرن ان چیف زبیر چھایا نے کہا کہ چین کی پاکستان سے دوستی اور محبت عوامی سطح پر بھی موجود ہے اور جس طرح پاکستان میں چین کو دیرینہ دوست اور برادر ملک سمجھا جاتا ہے اسی طرح چینی عوام بھی پاکستانیوں سے محبت کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور چین کے درمیان سی پیک گیم چینجر پروجیکٹ ہے، تاہم سی پیک کے ذریعے چین اور وسطی ایشیائی ممالک کو تجارت بڑھا کر برآمدات میں اضافہ ممکن ہے۔ اس موقع پر چینی وفد کے کو آرڈینیٹر ادریس گیگی نے خطاب میں کہا کہ سندھ حکومت کی جانب سے چینی وفد کی بہترین مہمان نوازی، فل پروف سیکیورٹی انتظامات پر وزیر اعلی مراد علی شاہ، صوبائی کابینہ خاص طور پر شرجیل انعام میمن، ناصر حسین شاہ، قاسم نوید قمر اور اعلی افسران کے مشکور ہیں۔انہوں نے کہا کہ چین کھاد کی تیاری کیلئے سندھ میں بڑا پروجیکٹ شروع کرنے جا رہا ہے جس کیلئے تھر میں جگہ مختص کی جارہی ہے۔ اس پروجیکٹ سے کوئلہ سے کھاد تیار کی جائے گی جس سے گیس پر انحصار کم ہوگا۔ ادریس گیگی نے مزید کہا کہ چینی وفد کراچی میں جمعرات 12 دسمبر کو مقامی ہوٹل میں بی ٹو بی میٹنگز کا انعقاد کر رہے ہیں جس میں پاکستانی کمپنیوں اور سرمایہ کاروں کو دعوت دی جارہی ہے کہ وہ کاروباری مواقع تلاش کرنے کیلئے شرکت کریں۔انہوں نے کہا کہ مستقبل قریب میں چین پاکستان کا سب سے بڑا شراکت دار بن جائے گا، چین میں زرعی مصنوعات اور گوشت کی بہت مانگ ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ پاکستان میں 9.1 ملین ہیکٹر زرعی زمین موجود ہے جس پر چین کے اشتراک سے کاشتکاری کی جائے تو پاکستان اربوں ڈالر کی برآمدات میں اضافہ کرسکتا ہے۔ ادریس گیگی نے کہا کہ سی پیک سے چین مصنوعات پہنچانے کا وقت چند دنوں کا رہ گیا ہے جس سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے۔ تقریب سے کاٹی کے سابق صدور و چیئرمین مسعود نقی، احتشام الدین، سلیم الزمان و دیگر نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

  • وزیراعلیٰ سندھ  سے چین کے قونصل جنرل کی ملاقات

    وزیراعلیٰ سندھ سے چین کے قونصل جنرل کی ملاقات

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ سے چین کے قونصل جنرل یانگ یونڈونگ (Yang Yundong) نے ملاقات کی ہے.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ترجمان وزیراعلیٰ سندھ نے بتایا کہ ملاقات میں سی پیک کے منصوبوں پر تبادلہ خیال کیا گیا، اس موقع پر سید مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ حیدرآباد تا سکھر موٹروے سی پیک پروجیکٹ میں شامل کروانا چاہتے ہیں، حیدرآباد تا سکھر موٹروے سندھ کا اہم منصوبہ ہے، وزیراعلیٰ سندھ نے کے سی آر منصوبے کو بھی سی پیک پروجیکٹس میں منظوری سے متعلق بات کی.چین کے قونصل جنرل یانگ یونڈونگ کا کہنا تھا کہ چائنیز اتھارٹی ان دونوں منصوبوں پر غور کر رہی ہیں، قونصل جنرل نے وزیراعلیٰ سندھ کو اپنے قومی دن کے پروگرام کی دعوت بھی دی.

    حکومتی یقین دہانی پر احتجاجی دھرنا موخر کر رہے ہیں،عافیہ موومنٹ

  • پاکستانی سیکورٹی اداروں پر چین کو مکمل اعتماد ہے، احسن اقبال

    پاکستانی سیکورٹی اداروں پر چین کو مکمل اعتماد ہے، احسن اقبال

    وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے میڈیا سے غیر رسمی بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ سی پیک کے منصوبوں پر سیکورٹی مزید سخت کی گئی ہے،

    وفاقی وزیر احسن اقبال کا کہنا تھا کہ چائنیز کا تحفظ تمام وفاق اور صوبائی حکومتیں متعلقہ اداروں کے تعاون سے کر رہی ہیں، پاکستانی سیکورٹی اداروں پر چین کو مکمل اعتماد ہے، چین کا اسی ہفتے دورہ کر رہا ہوں، دورہ چین میں گلوبل ڈیویلپمنٹ انیشی ایٹٹو جی ڈی آئی کا اہم سیشن ہوگا، چین نے ہائیڈروپاور کے سکھی کناری پراجیکٹ پر کام مکمل کرلیا ہے، سکھی کناری ہائیڈرو پاور کو نیشنل گرڈ سے منسلک کیا جا رہا ہے، چین کے ساتھ توانائی کے قرضوں کی ادائیگی میں کسی قسم کا دباؤ نہیں، چین ہمیشہ سے پاکستان کی مشکلات سے آگاہ رہا ہے اور تعاون کرتا رہا ہے، دورہ چین میں وزیر اعظم کے چین کے سرکاری دورے کی تفصیلات بھی طے ہوں گی،

    معیشت ڈوب گئی تو اس کا نقصان حکومت کے ساتھ اپوزیشن اور عوام کو ہوگا ،احسن اقبال
    دوسری جانب قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی منصوبہ بند کا اجلاس چیئرمین کمیٹی عبدالقادر جیلانی کی زیرصدارت پارلیمنٹ ہاوس میں ہوا۔اجلاس میں وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال ،سیکرٹری و ارکان کمیٹی نے شرکت کی، وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کمیٹی کو بتایا کہ ملک میں منصوبہ بندی اور ترقی اہم ہوتی ہے ۔ ہم اپنی منزل بھٹک گئے اور دنیا ہم سے آگے نکل گئی ۔ ملک کی معیشیت مضبوط ہوگی تو اس سے عوام کو فائدہ ہوگا معیشت ڈوب گئی تو اس کا نقصان حکومت کے ساتھ اپوزیشن اور عوام کو ہوگا ۔پاکستان کی معیشت کو مضبوط کرنے کے لیے ہم سب کو مل کر کام کرنا ہوگا ۔ ہم سب کی مزل ایک ہے کہ ملک ترقی کرے، راستے مختلف ہوسکتے ہیں قومی پالیسی پر اتفاق رائے پیدا کرنا ہوگا ۔جن ممالک نے ترقی کی ہے ان میں امن،سیاسی استحکام اور پالیسیوں کا تسلسل ہے پالیسیوں کے لیے کم ازکم دس سال کا تسلسل چاہیے ہوتا ہے ۔اس کے ساتھ مسلسل اصلاحات کرنی ہوتی ہیں ہمارے دور میں دو جائنٹ صفہ ہستی سے مٹ گئے ان میں نوکیا اور بلیک بیری کمپنیاں ہیں ۔2047میں اس خطے میں دو ملک آزادی کے سو سال منارہے ہوں گے کیا ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہم کہاں کھڑے ہوں گے ۔ہم 75سال سے دائروں کا سفر کررہے ہیں اگلے 24سالوں میں تیزی کے ساتھ کام کرنا ہوگا ۔ اگر بھارت کے مسلمانوں کی آمدن پاکستان سے زیادہ ہوجائے گی تو ہم پاکستان کے قیام کے مقصد کا بھی کھو دیں گے ۔ہمیں 9 فیصد کی اوسط سے ترقی کرنی ہوگی اور اس کے لیے سخت محنت کرنی ہوگی ۔ گذشتہ مالی سال ہمیں قرض واپس کرنے کے لیے 1ہزار ارب روپے مزید قرض لینا پڑا ہے ۔آمدن اور اخراجات میں توازن پیدا کرنا ہوگا ۔ہم نے فائیو ایز پروگرام بنایا ہے ،پوری پاکستان میں بجلی کی چوری کی قیمت 4 ڈیسکوز کے صارفین ادا کررہے ہیں ان میں آئیسکو،گیپکو،فیسکو اور کسی حد تک لیسکو کے صارفین ہیں باقی سب ڈیسکوز میں بہت زیادہ چوری ہے ،ملک کے 20 اضلاع پسماندہ ہیں یہاں ترقیاتی کاموں کی زیادہ تیز کرنے کی ضرورت ہے ۔ملک کی آبادی تیزی کے ساتھ بڑھ رہی ہے ۔پی ایس ڈی پی پر کٹ کے بعد اب 1 ہزار ارب روپے کا ہوگیا ہے ،18ویں ترمیم کے بعد وفاقی کے پاس پیسے نہیں ہوتے صوبوں کے پاس بہت زیادہ پیسے چلے جاتے ہیں وہ صرف خرچ کرتے ہیں جبکہ وفاق قرض ادا کرتا ہے 18ویں ترمیم کے بعد وسائل اور ذمہ داریاں صوبوں کے پاس چلی گئی ہیں ۔ پاکستان میں ٹی ٹین کا میچ چل رہاہے جبکہ جن ممالک نے ترقی کی ہے وہاں 10 سے 20سال تک سیاسی استحکام رہا ہے اور پالیسیوں کا تسلسل تھا ہمارے ادارے اس لیے خراب ہوئے کہ ہم نے سیاسی بھرتیاں کی ہیں ،کمیشن لے کر پاکستان کے تمام فضائی روٹ گلف کو دے دیئے گئے ہیں پہلے امریکہ روزانہ فلائیٹ جاتی تھی ۔اس سال 29 سو ارب روپے کے پی ایس ڈی پی کے منصوبے منظور ہوئے تھے اب ایک ہزار ارب کی پی ایس ڈی پی ہے ۔

    وفاقی سیکرٹری منصوبہ بندی نے کمیٹی کو بتایا کہ پی ایس ڈی پی میں سب سے زیادہ پرانا منصوبہ 2002کا ہے موجودہ مالی سال 14 سو ارب روپے کی پی ایس ڈی پی منظور ہواتھا اس پر 4سوارب کا کٹ لگا گیا ہے جس کی وجہ سے حتمی پی ایس ڈی پی جاری نہیں ہوا جب بھی فائنل کرتے ہیں مزید کٹ لگ جاتاہے 11سو ارب کا پی ایس ڈی پی ہوگیا ہے مگر دوبارہ 50ارب کا کٹ لگ گیا ہے اگر یہی فائنل ہوگا تو 15سے 20 دن میں پی ایس ڈی پی فائنل کر کے شائع کردیں گے ۔وزارت سے منسلک ڈیپارٹمنٹ سندھ انفرسٹکچر ڈویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈ کا نام تبدیل کرکے پاکستان انفرسٹکچر ڈویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈ رکھنے کی تجویز ہے جبکہ ایک تجویز یہ بھی ہے کہ پی ڈبلیو ڈی کو ختم کرکے اس کے تمام کام اس کے حوالے کردیئے جائیں ۔

    رپورٹ، محمد اویس، اسلام آباد

    موجودہ بجٹ معیشت، عوام ،ملک کے لئے تباہ کن ثابت ہوگا،شاہد خاقان عباسی

    شاہد خاقان عباسی کچھ بڑا کریں گے؟ن لیگ کی آخری حکومت

    پی ٹی آئی کی ڈیجیٹل دہشت گردی کا سیاہ جال،بیرون ملک سے مالی معاونت

    جسٹس ملک شہزاد نے چیف جسٹس سے چھٹیاں مانگ لیں

    اگر کارروائی نہیں ہو رہی تو ایک شخص داد رسی کیلئے کیا کرے؟چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ

    عمران خان کیخلاف درخواست دینے پر جی ٹی وی نے رپورٹر کو معطل کردیا

    سوال کرنا جرم بن گیا، صحافی محسن بلال کو نوکری سے "فارغ” کروا دیا گیا

    صوبائی کابینہ نے بانی پی ٹی آئی کے خلاف شواہد کے تحت کارروائی کی اجازت دی

    توشہ خانہ،نئی پالیسی کے تحت تحائف کون لے سکتا؟قائمہ کمیٹی میں تفصیلات پیش

    باسکن رابنز پاکستان کو اربوں روپے جرمانے اور منی لانڈرنگ کی تحقیقات کا سامنا

    اگلے دو مہینے بہت اہم،کچھ بڑا ہونیوالا؟عمران خان کی پہنچ بہت دور تک

    اڈیالہ جیل میں قید عمران خان نے بالآخر گھٹنے ٹیک دیئے

    جعلی ڈگری،جسٹس طارق جہانگیری کے خلاف ریفرنس دائر

    "بھولے بابا” کا عام آدمی سے خود ساختہ بابا بننے کا سفر ،اربوں کے اثاثے

  • چینی ورکرز پر چھ میں سے 5 حملے پی ٹی آئی دور میں ہوئے، احسن اقبال

    چینی ورکرز پر چھ میں سے 5 حملے پی ٹی آئی دور میں ہوئے، احسن اقبال

    ن لیگی رہنما، وفاقی وزیر احسن اقبال نے پی ٹی آئی رہنما عمر ایوب کو کھری کھری سنا دیں

    قومی اسمبلی اجلاس میں عمر ایوب نے اظہار خیال کیا تھا جس میں انہوں نے چینی باشندوں کے خلاف دہشت گردانہ حملوں کو اداروں کی ناکامی قرار دیا تھا،عمر ایوب کا کہنا تھا کہ چینی رہنما پاکستان آئے اور انہوں نے جو چیز باور کرائی جسے اخبارات نے رپورٹ کیاوہ یہ ہے کہ قومی معاشی ترقی اور سی پیک کیلئے سکیورٹی اور استحکام ضروری ہے، چینی عہدیدار کی جانب سے پاکستان میں آکر یہ پیغام دینا، اس سے یہ بات سمجھ آتی ہے کہ یہ سب سے اہم بات ہے، سی پیک جوکہ ملک کے لئے انتہائی اہم ہے، اس کے حوالے سے کہا جا رہا ہے کہ اپنا گھر درست کریں، ورنہ سی پیک اور مستقبل کی سرمایہ کاری خطرے میں ہے۔ یہاں سے میں سپہ سالار عاصم منیر اور فارمیشن کمانڈرز صاحبان سے مطالبہ کروں گا کہ فوری طور پر کور کمانڈر، فارمیشن کمانڈرز کانفرنس بلائی جائے اور اس انٹیلی جنس ناکامی کی وجوہات کا پتا لگایا جائے کہ یہ کیوں ہوا۔

    عمر ایوب کے خطاب کے بعد وفاقی وزیر احسن اقبال نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کی اور کہا کہ "قومی اسمبلی میں لیڈر آف اپوزیشن عمر ایوب نے چینی باشندوں کیخلاف ہونے والے دہشت گردی کے حالیہ واقعات کو انٹیلیجنس کی ناکامی قرار دیکر تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کی اطلاع کے لئے عرض ہے کہ چینی ورکرز کے خلاف تازہ ترین چھ واقعات میں سے پانچ واقعات پی ٹی آئی کی حکومت کے دوران رونما ہوئے لہذا اپنے گریبان میں جھانکیں”۔
    • نومبر 2018 کو کراچی میں چینی قونصلیٹ پہ حملہ
    • اپریل 2021 کو کوئٹہ میں چینی سفیر کو نشانہ بنانے کے لئے خودکش حملہ
    • جولائی 2021 کو خیبر پختونواہ میں دہشت گردی کا واقعہ جس میں 9 ورکرز ہلاک ہوئے
    • اگست 2021 کو گوادر میں چینی ورکرز پہ حملہ
    • اپریل 2022 میں کراچی یونیورسٹی میں خودکش حملہ