Baaghi TV

Tag: سی پیک

  • بلوچستان کے ضلع گوادر میں ’گوادر کو حق دو‘ تحریک کا احتجاجی دھرنا 27 و یں روز بھی جاری رہا۔

    بلوچستان کے ضلع گوادر میں ’گوادر کو حق دو‘ تحریک کا احتجاجی دھرنا 27 و یں روز بھی جاری رہا۔

    گوادر:بلوچستان کے ضلع گوادر میں ’گوادر کو حق دو‘ تحریک کا احتجاجی دھرنا 27 و یں روز بھی جاری رہا۔تحر یک کی جانب سے آج گوادر میں ریلی بھی نکالی گئی، جس میں گوادر کے علاوہ مکران کے مختلف علاقوں سے لوگوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

    گوادر تحریک کے شرکاء سمندر میں غیر قانونی ٹرالنگ روکنے، مکران میں چیک پوسٹوں کے خاتمے اور گوادر کو پینے کے پانی کی فراہمی سمیت دیگر مطالبات کے حق میں احتجاج کر رہے ہیں۔

    27 روز سے جاری ’حق دو بلوچستان کو‘ تحریک میں گوادر کی خواتین نے بھی دھرنا دیا اور ریلی نکالی جو کہ مقامی افراد کے مطابق اپنی نوعیت کی تیسری بڑی ریلی تھی۔

    گوادر کہ بندرگاہ سے ایک کلو میٹر کے فاصلے پر سجے پنڈال میں 10 دسمبر کے روز دھرنے میں پہلی بار خواتین کو اتنی بڑی تعداد میں اپنے گھروں سے باہر نکلتے دیکھا ہے۔‘

    دھرنے میں شریک خواتین کی بڑی تعداد ’مولانا قدم بڑھاؤ ہم تمہارے ساتھ ہیں‘ کے نعرے لگاتی نظر آئیں۔

    27 روز سے جاری ’حق دو بلوچستان کو‘ تحریک میں گوادر کی خواتین نے بھی دھرنا دیا اور ریلی نکالی جو کہ مقامی افراد کے مطابق اپنی نوعیت کی تیسری بڑی ریلی تھی

     

    گوادر میں ’حق دو‘ تحریک کے زیر اہتمام جو دھرنا اور احتجاج کیا جارہا ہے اس کی جانب سے مجموعی طور پر 19مطالبات پیش کیے گئے ہیں ۔

    ان میں سب سے اہم مطالبات بلوچستان کی سمندری حدود سے ٹرالروں کے ذریعے غیر قانونی ماہی گیری کے خاتمے اور ایران کے ساتھ سرحدی تجارت پر عائد پابندی کے خاتمے کے مطالبات پر مشتمل ہیں ۔

    دھرنے میں شریک لوگوں کا کہنا تھا کہ ’جب تک ہمارے مولانا صاحب بیٹھے ہیں، تب تک ہم یہاں ہیں۔ اگر وہ ہمیں دن یا رات کو بلائیں گے تو ہم آئیں گے۔ مولانا کے لیے ہماری جان حاظر ہے۔ مطالبات پورے ہونے تک ہم یہاں سے نہیں جائیں گے۔‘

  • وزیراعظم عمران خان نے سی پیک منصوبوں کے حوالے سے بڑا حکم دے دیا

    وزیراعظم عمران خان نے سی پیک منصوبوں کے حوالے سے بڑا حکم دے دیا

    اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے سی پیک منصوبوں کے حوالے سے بڑا حکم دے دیا،اطلاعات کے مطابق خطے خوشحالی کے شدید منتظر وزیراعظم عمران خان نے سی پیک منصوبوں پر کام مقررہ مدت میں مکمل کرنے کی ہدایت کرتےہوئے کہا ہے کہ حکومت سی پیک منصوبوں کی بروقت تکمیل کا عظم رکھتی ہے۔

    وزیراعظم کی صدارت میں چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبوں پر پیشرفت کا اجلاس ہوا، وفاقی وزرا اسد عمر، علی زیدی، حماد اظہر، مشیر خزانہ شوکت ترین، مشیر تجارت عبدالرزاق داود، معاون خصوصی خالد منصور اور سینیئر حکام نے شرکت کی۔

    اسلام آباد سے ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ معاون خصوصی برائے سی پیک خالد منصور نے اجلاس کو منصوبوں کی پیشرفت پر بریفنگ دی۔

    اس موقع پر وزیراعظم نے سی پیک منصوبوں پر کام مقررہ مدت میں مکمل کرنے کی ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ ملکی مفاد کے لیے طویل المدت منصوبوں کے لیے پالیسیوں کا تسلسل لازمی عنصر ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ چین اور پاکستان کے مابین وقت کی آزمائی ہوئی دوستی ہے، حکومت سی پیک منصوبوں کی بروقت تکمیل کا عظم رکھتی ہے۔

    یاد رہے کہ اس سے پہلے وزیراعظم کی زیر صدارت اسمگلنگ اور منی لانڈرنگ کی روک تھام کیلئے اجلاس ہوا جس میں ‏بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ایف آئی اے نے ڈالر منی لانڈرنگ اور غیرقانونی ہولڈنگ کی تحقیقات وسیع کی ‏ہیں ایف آئی اے کی بارڈر کراسنگزپرافرادی قوت بڑھائی جا رہی ہے۔

    بریفنگ میں کہا گیا کہ مال کی چیکنگ اور نقل و حرکت کی ٹریکنگ ممکن ہو سکےگی غیرقانونی پیٹرول ‏اسمگلنگ روکنے ،ذخیرہ اندوزی کیخلاف آپریشن میں کامیابی ملی۔

    اجلاس میں وزیراعظم نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسمگلنگ کی وجہ سے ملک کی معیشت کو شدید نقصان ‏پہنچتا ہے اشیاء ضروریہ کی قیمتوں میں فرق اسمگلنگ کی وجہ بنتی ہے اسمگلنگ سےمصنوعی قلت پیدا ہوتی ‏ہے جس سے قیمتیں بڑھتی ہیں۔

    وزیراعظم نے ہدایت کی کہ گندم، یوریا، چینی، آٹا ،پیٹرول اسمگلنگ روکنےکیلئےاقدامات کئےجائیں ان اقدامات ‏کا مقصد عام آدمی کو ریلیف فراہم کرنا ہے۔

  • برطانوی سرمایہ کاروں کو سی پیک میں سرمایہ کاری کی دعوت!

    برطانوی سرمایہ کاروں کو سی پیک میں سرمایہ کاری کی دعوت!

    برطانوی سرمایہ کار سی پیک میں سرمایہ کاری کریں: میاں طارق مصباح

    برٹش ڈپٹی ڈائریکٹر برائے ٹریڈ اولیویا کیمپبل نے کہا ہے کہ برطانیہ پاکستان کے زراعت، قابل تجدید توانائی، گرین انفراسٹرکچر اور تعلیم کے شعبوں میں سرمایہ کاری کرے گا۔ وہ لاہور چیمبر کے صدر میاں طارق مصباح اور نائب صدر طاہر منظور چودھری سے لاہور چیمبر میں ملاقات کے موقع پر اظہار خیال کررہی تھیں۔ سابق ایگزیکٹو کمیٹی رکن رحمن عزیز چن بھی اس موقع پر موجود تھے۔ اولیویا کیمپبل نے کہا کہ پاکستان ایک ابھرتی ہوئی مارکیٹ ہے اور برطانوی تاجر پاکستانی تاجروں کے ساتھ تعلقات مزید مستحکم کرنے کے خواہشمند ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تاریخی اور دوستانہ تعلقات ہیں، پاکستان میں پہلے ہی برطانوی کمپنیوں کی موجودگی بہترین دوطرفہ تعلقات کا ثبوت ہے۔ لاہور چیمبر کے صدرمیاں طارق مصباح نے برطانوی سرمایہ کاروں کو سی پیک اور گوادر میں سرمایہ کاری کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ اس سے وہ وسیع پیمانے پر فائدہ حاصل کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی تاجر برادری برطانیہ سے اچھے تعلقات کو بہت اہمیت دیتی ہے، برطانوی ہائی کمیشن اس سلسلے میں بہت عمدہ کردار ادا کررہا ہے۔ لاہور چیمبر کے صدر نے کہا کہ برطانیہ پاکستان کے بٹے تجارتی حصہ داروں میں سے ہے، گوکہ تجارت میں کچھ کمی کا رحجان ہے مگر توقع ہے کہ بریگزٹ کے ساتھ یہ رحجان بہتر ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے فاریماسیوٹیکل، لیدر، آلات جراحی، زراعت، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ویلیوایڈڈ ٹیکسٹائل کے شعبو ںمیں برطانوی سرمایہ کاروں کے لیے بہت سے مواقع ہیں۔
    شعبہ اطلاعات

  • کراچی سے پشاورتک کیا کریں گے: چینی سفیرنے سب کچھ بتادیا

    پشاور:پاکستان اور چین کے درمیان سی پیک کے حوالے سے ہونے والے معاہدوں میں‌سے کئی تکمیل کے قریب ہیں‌اورکئی منصوبوں پر کام شروع کرنے کے حوالے سے میمورنڈم پر دستخط ہوئے ہیں‌،انہیں‌حالات کے تناظرمیں‌ چینی سفیر برائے پاکستان یاؤ جِنگ نے کہا ہے کہ سی پیک منصوبے میں خیبر پختون خوا کا اہم کردار ہے، صوبے میں رشکئی اکنامک زون شروع کیا گیا ہے، مستقبل میں کراچی سے پشاور کے ریلوے ٹریکس کو اپ ڈیٹ کریں گے۔

    پولیس کےتمام ملازمین کی چھٹیاں منسوخ

    ان خیالات کا اظہار انھوں نے پشاور میں منعقدہ سی پیک سے متعلق تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا، چینی سفیر نے کہا پاکستان اور چین مشترکہ طور پر زراعت کے 10 تحقیقاتی مراکز پر کام شروع کریں گے۔سفیر یاؤ جنگ نے کہا پشاور سینٹرل ایشیا کے لیے گیٹ وے کی مانند ہے، مستقبل میں کراچی سے پشاور کے ریلوے ٹریکس کو اپ ڈیٹ کریں گے، وزیر اعظم نے دورۂ چین میں سی پیک پر بات کر کے ہم سب کو متاثر کیا۔

    27 اکتوبر یوم سیاہ،بھارتی غاصبانہ قبضے کے خلاف احتجاجی ریلی

  • چینی سفیر کے بیان نے اپوزیشن کی حکومت کے خلاف پراکسی ناکام کردی ، سفیر کہتے ہیں کہ سی پیک کی رفتار سے مطمئن ہیں

    چینی سفیر کے بیان نے اپوزیشن کی حکومت کے خلاف پراکسی ناکام کردی ، سفیر کہتے ہیں کہ سی پیک کی رفتار سے مطمئن ہیں

    اسلام آباد :سی پیک کی کامیابی کے چینی سفیر کے بیان نے اپوزیشن کے حکومت کے خلاف پراکسی وار کو بالکل ناکام کردیا . اس سے پہلے سوشل میڈیا پر سی پیک کے حوالے سے مختلف قسم کے پراپیگنڈے ہورہے تھے ، اطلاعات کےمطابق پاکستان میں چین کے سفیر یاؤ جنگ نے کہا ہے کہ ان کا ملک سی پیک پر کام کی رفتار سے مطمئن ہے، پاکستان اور چین کے مابین آزادانہ تجارت کے معاہدے کا دوسرا مرحلہ اگلے ماہ حتمی شکل اختیار کر لے گا۔

    اسلام آباد ویمن چیمبر کی بانی صدرثمینہ فاضل کی قیادت میں آنے والے وفد سے بات چیت کرتے ہوئے چینی سفیر نے کہا کہ اس معاہدے کے بعد پاکستان کی زرعی پیداوار اور سی فوڈ سمیت نوے فیصد اشیاء پر صفر ڈیوٹی عائد ہو گی جس سے تجارت متوازن کرنے میں مدد ملے گی۔

    اسلام آباد سے ذرائع کے مطابق چین کے سفیر یاؤ جنگ کا مزید کہنا تھا کہ ایف ٹی اے ٹو کے آپریشنل ہونے کے بعد پاکستان کی برامدات میں پانچ سو ملین ڈالر تک کا اضافہ ہو جائے گا۔پاکستان کے تعلیم صحت زراعت آبپاشی اور انسانی وسائل کے شعبوں میں ایک ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے جس پر جلد عمل درامد ہو گا۔

  • بھارت اور متحدہ عرب امارات کا گٹھ جوڑ وجہ کیا ہے؟؟؟؟  محمد عبداللہ

    بھارت اور متحدہ عرب امارات کا گٹھ جوڑ وجہ کیا ہے؟؟؟؟ محمد عبداللہ

    سب سے پہلی بات کہ دنیا مفادات پر چلتی ہے وہ اسلامی ممالک ہوں یا اہل کفار کے ممالک سبھی تعلقات قائم کرتے وقت اپنے اپنے قومی مفادات کو ہی مقدم رکھتے ہیں. ایسا نہیں ہے کہ ہم.نے کبھی قومی مفادات کو ملی مفادات پر ترجیح نہ دی ہو. ماضی میں بے شمار مثالیں آپ کو ملیں گی جس سے اندازہ ہوگا کہ پاکستان نے بھی بارہا قومی مفادات کی وجہ سے ملی مفادات کو ٹھیس پہنچائی، اگرچہ پاکستان کا رویہ اور عام پاکستان کے جذبات باقی اسلامی ممالک کی وجہ سے امت کے درد میں زیادہ دلگیر ہوجاتا ہے. جدید نیشن اسٹیٹس میں خارجہ پالیسی کا یہی اصول ہے کہ فقط اپنے ہی قومی مفادات کو ترجیح دو. ایسے میں ہمیں بھی سینہ فراخ کرنا پڑے گا کہ جن اسلامی ممالک کے تجارتی مفادات دوسرے ممالک سے وابستہ ہیں ان سے وہ تعلقات قائم کرسکیں. (گزشتہ بلاگ میں ہی ہم نے ذکر کیا تھا) ہم کوئی بین الاقوامی منڈی نہیں ہیں، ہم بائیس کروڑ ہیں جبکہ بھارت 1.339 بلین آبادی والا ملک ہے جو انڈسٹری اور ٹیکنالوجی میں پاکستان سے بہت آگے ہے. ایسے میں عرب یا دیگر ممالک کا پاکستان کی نسبت بھارت کے ساتھ تجارتی معاہدوں کا حجم بہت زیادہ ہوگا تو وہ خیال بھی اسی کا رکھیں گے جہاں ان کے پیسے زیادہ لگے ہونگے.
    مزید پڑھیں مسئلہ کشمیر فقط زمین کے ٹکڑے کی لڑائی یا کچھ اور؟؟؟ تحریر: محمد عبداللہ

    دوسری بات جو بہت اہم بھی ہے اور جو سمجھ میں آنے والی بھی ہے کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ سی پیک اور بالخصوص پاکستان کی عظیم بندرگاہ گوادر کے آپریشنل ہوجانے سے جہاں بھارتی اور ایرانی بندگاہوں کو خطرات لاحق ہونا شروع ہوگئے تھے وہیں یہ پشین گوئیاں شروع ہوچکی تھیں کہ گوادر کے آپریشنل ہوتے ہی دوبئی کی رونقیں اجڑ جائیں گی اور اگر ایسا ہوجاتا ہے تو متحدہ عرب امارات کی ساری شان و شوکت، رعب و دبدبہ اور شامیں ماند پڑجائیں گی. کیونکہ گوادر تجارتی مرکز بن جائے گا. کیونکہ اسی گوادر اور سے ملحقہ سی پیک سے ہی چین، وسط ایشیائی ریاستوں اور روس تک کی امیدیں وابستہ ہیں اور چین کا تو دارومدار ہی اس سی پیک پر ہے.ساری دنیا جانتی ہے کہ درآمدات و برآمدات کے حوالے سے چین اور روس دنیا میں کیا مقام رکھتے ہیں.اسی طرح وسط ایشیائی ریاستیں بھی کسی سے کم نہیں ہیں مگر کسی طرف کا رستہ نہ ہونے کی وجہ سے وہ ریاستیں ایک عرصہ سے اگنور ہوتی چلی آ رہی تھیں اب اگر ان سب کو گوادر کی شکل میں تجارتی سنٹر ملتا ہے تو باقی تجارتی مراکز کی حیثیت اس کے سامنے بہت کم ہوجائے گی، گزشتہ دنوں ایران اور بھارت کے گٹھ جوڑ کا مقصد بھی یہی تھا کہ چاہ بہار کی رونقیں جاتی نظر آرہی تھیں. کچھ ماہ قبل کی بات ہے کراچی میں آئل وغیرہ سے وابستہ پاکستانی تاجروں کی ایک مجلس میں بیٹھے تھے تو وہاں پر بات چلی تو ان سب کا کہنا تھا کہ دوبئی کی نسبت اگر گوادر سے سلسلہ شروع ہوجاتا ہے تو پھر دوبئی کی ساری دکانداری ختم ہوجاتی ہے. سی پیک اور گوادر کا وہ پلان جس کو پاکستان اور چین نے گیم چینجر پلان کہا تھا کہیں ایسا تو نہیں کہ اس گیم چینجر سے متاثر ہونے والے سبھی ممالک نے گٹھ جوڑ کرلیا ہو اور ان سب کے پیچھے شیاطین کا مائی باپ امریکہ ہو کیونکہ چین و روس کی ترقی سے زیادہ مسئلہ امریکہ کو ہی ہوسکتا ہے. امریکہ افغانستان سے نکلنے کے لیے پاکستان کا محتاج ہے اور کہیں ایسا تو نہیں کہ اس نے بندوق مودی کے کندھے پر رکھی ہو کیونکہ یہی پاکستان کا مشکل ترین وقت تھا جس میں پاکستان کو قابو کرنا آسان تھا وگرنہ پاکستان ان ممالک کی پہنچ سے بہت آگے جانکلتا.

    مزید پڑھیں کیا بھارت کشمیر کو آزاد کرکے پاکستان کی بقاء ممکن بنائے گا؟؟؟ محمد عبداللہ
    اس خدشے کو تقویت کچھ اس طرح بھی ملتی ہے کہ پاکستان کو ایک طرف ایف اے ٹی ایف اور آئی ایم ایف کے چنگل میں ڈال کر، دوسری طرف پاکستان کو کشمیر ایشو اور مشرقی بارڈر پر مسلسل الجھا کر سی پیک اور گوادر کی تکمیل میں رکاوٹیں کھڑی کی گئی ہیں جس کا نتیجہ ہے کہ ان منصوبوں پر کام ایک حساب سے عملاً رک چکا ہے اور فی الوقت جو کچھ ہو رہا ہے وہ فقط کاغذوں کی حد تک ہو رہا ہے. کیونکہ ساری دنیا کو پتا ہے کہ پاکستان کشمیر کو نہیں چھوڑ سکتا کہ کشمیر بھی پاکستان کی بقاء کا مسئلہ ہے. کڑی سے کڑی ملائیں تو مقبوضہ وادی اور لداخ پر بھارتی شکنجے کی مضبوطی سے بھی یہ بات سمجھ آتی ہے کہ بھارت ایک طرف تو پاکستان کو پانی سے محروم کرنا چاہتا ہے اور دوسری سی پیک پر اثر انداز ہونا چاہتا ہے. اس کے لیے وہ متحدہ عرب امارات کی طرف التفات اور دیگر سبھی حربے استعمال کرے گا لہذا اب پاکستان کو اپنی ترجیحات واضح کرنا ہونگی اور اپنے قدم بڑے سوچ سمجھ کر اٹھانا ہونگے کہ کوئی چھوٹی سی غلطی بھی بڑا نقصان پہنچا سکتی ہے.

    Muhammad Abdullah
  • بھارت کا اگلہ ہدف سی پیک ہے،امریکہ کی مرضی سے سب کچھ ہورہا ہے.  نئی رپورٹ نے ہلچل مچادی

    بھارت کا اگلہ ہدف سی پیک ہے،امریکہ کی مرضی سے سب کچھ ہورہا ہے. نئی رپورٹ نے ہلچل مچادی

    اسلام آباد: ایشیا اور دیگر ملکوں کی سیکورٹی ، دفاع، معیشت اور خارجہ پالیسیوں پر نظر رکھنےوالے ادارے انڈو پیسفک نے بھارت کی ایک اور سازش بے نقاب کردی . فورم نے مطابق بھارت کشمیرکو ہتھیانے کےبعد سی پیک کی طرف بڑھ رہا ہے. بھارت یہ اقدام اکیلا نہیں کرسکتا . سی پیک کے معاملے پر بھارت اور امریکہ کا ایک ہی موقف ہے.

    انڈو پیسفک فورم کے ماہرین نے اپنی تازہ ترین تحقیق میں یہ انکشاف کیا ہے کہ بھارت کو امریکہ کی بھر پور مدد حاصل ہے. بھارت کشمیر پر اپنا قبضہ مستحکم کرنے کے بعد کشمیر کے ساتھ سے گزرنے والے سی پیک روٹ کو غیر فعال کرکے چین کی معاشی سرگرمیوں کو مخدوش کرنا چاہتا ہے.

    فورم کے تھنک ٹینک ماہرین نے بھارتی عزائم سے منسلک ایک نقشہ بھی شیئر کیا ہے. جس کے مطابق بھارت اب سی پیک روٹ سے صرف 80 کلو میٹر دور رہ گیا ہے۔ بھارت مستقبل قریب میں اپنے اتحادیوں سے مل کر سی پیک کے اس روٹ پر قبضہ کرکے چین اور پاکستان کے درمیان معاشی راہداری کے سلسلے کو منقطع کرنا چاہتا ہے۔

  • وزیراعظم عمران خان سے چینی وفد کی ملاقات

    وزیراعظم عمران خان سے چینی وفد کی ملاقات

    اسلام آباد:وزیر اعطم عمران خان سے چینی وفد کی ملاقات .پاکستان اور چین کے درمیاں دو طرفہ تعلقات اور باہمی تجارت پر بات چیت کی گئی .ملاقت میں چینی وفد کو پاکستان میں سرمایہ کاری کے لیے تمام تر سہولیات بہم پہنچانے کا اعادہ بھی کیا گیا اس موقع پر وزیر اعطم عمران خان نے وزیر اعظم آفس میں تاجروں کی سہولیات کے لیے ایک سپیشل ڈیسک قائم کرنے کا اعلان کیا .

    اس موقع پر عمران خان نے چینی وفد سے پاک چین دوستی کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان چین لازوال دوستی اقتصادی شراکت داری میں تبدیل ہورہی ہے .چینی وفد کو وزیر اعطم نے سی پیک کے منصوبو‌ں میں سرمایہ کری اور ان کی بر وقت تکمیل کے لیے کوششوں کو مزید تیز کرنے کا کہا اس موقع پر وزیر اعظم نے کہ کہ پاکستان سی پیک منصوبوں کو انتہائی اہمیت دیتا ہے.

    وزیر اعظم نے چینی وفد سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان مختلف شعبوں میں چین کے تجربات سے استفادہ کرنا چاہتا ہےجس کے لیے دونوں ملکوں کے درمیان باہمی شراکت داری ضروری ہے. وزیر اعظم نے وفد کو یہ بھی بتایا کہ پاکستان میں سرمایہ کاری کے بہترین مواقع ہیں.