Baaghi TV

Tag: سی ڈی اے

  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے موسمیاتی تبدیلی کے اجلاس میں  پیپر ملبری کے درختوں کی کٹائی پر بحث

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے موسمیاتی تبدیلی کے اجلاس میں پیپر ملبری کے درختوں کی کٹائی پر بحث

    چیئرمین سی ڈی اے نے بتایا ہے کہ ماضی میں اسلام آباد کو سرسبز بنانے کے لیے بغیر منصوبہ بندی کے پیپر ملبری کے درخت لگائے گئے، جس کے نتیجے میں پولن الرجی میں اضافہ ہوا اور متعدد اموات بھی ہوئیں۔

    سینیٹرشیری رحمان کی زیرصدارت اجلاس میں اسلام آباد میں درختوں کی کٹائی اوراس سے جڑے ماحولیاتی نقصان پر تفصیلی بریفنگ دی گئی، شکرپڑیاں، پارک روڈ، ایف 9 پارک اور ایچ 8 ایکسپریس وے پر درختوں کی کٹائی کے معاملات کا جائزہ لیا گیا، جبکہ اسموگ، گاڑیوں کے اخراج اور ماحولیاتی منصوبوں پر متعلقہ اداروں کی بریفنگ بھی دی گئی-

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے موسمیاتی تبدیلی کے اجلاس میں چیئرمین سی ڈی اے محمد علی رندھاوا نے واضح کیا کہ پیپر ملبری کے علاوہ کوئی بھی درخت نہیں کاٹا گیا، انہوں نے کہا کہ اگر کوئی شکایت یا اعتراض ہے تو کسی بھی ادارے سے تحقیقات کرائی جا سکتی ہیں،’ہم ہر وقت حاضر ہیں، ایک درخت کاٹنے کی صورت میں اس کی جگہ 3 سے زائد درخت لگائے گئے ہیں۔‘

    چیئرمین سی ڈی اے نے بتایا کہ ماضی میں اسلام آباد کو سرسبز بنانے کے لیے بغیر منصوبہ بندی کے پیپر ملبری کے درخت لگائے گئے، جس کے نتیجے میں پولن الرجی میں اضافہ ہوا اور متعدد اموات بھی ہوئیں،امریکا اور آسٹریلیا میں بھی انہی وجوہات کی بنا پر پیپرملبری کے درخت ہٹائے گئے۔

    چیئرپرسن کمیٹی شیری رحمان نے کہا کہ درختوں کی کٹائی سے قبل عوام اور سول سوسائٹی کو اعتماد میں لینا ضروری ہے کیونکہ اسلام آباد کی خوبصورتی اور ماحول کا تحفظ ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری ہےدرختوں کے ساتھ پانی کے تحفظ پر بھی پالیسی بنائی جائے اور اگرڈیم بن سکتا ہے تو موجودہ پانی کو صاف کرنے پر بھی توجہ دی جانی چاہیے۔

    شیری رحمان نے پیپر ملبری کی کٹائی سے متعلق سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ پہلے عوام کے ساتھ شیئر کیا جانا چاہیے تھا،وزیر مملکت صحت ڈاکٹر مختار بھرتھ نے بتایا کہ اسلام آباد گزشتہ 2 دہائیوں سے شدید پولن بحران کا شکار ہے 2022 میں پولن کاؤنٹ 82 ہزار فی کیوبک میٹر تک پہنچ گیا تھا، جس کا 94 فیصد سبب پیپر ملبری کے درخت ہیں، مارچ اور اپریل میں پولن سیزن عروج پر ہوتا ہے پیپر ملبری کی کٹائی سے سانس کی الرجی میں 40 فیصد سے زائد کمی آئے گی۔

    وزیر مملکت برائے صحت نے اجلاس میں پولن مینجمنٹ و ایکولوجیکل ریسٹوریشن انیشی ایٹو 2024 پر بھی بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ یہ منصوبہ وزارت صحت اور سی ڈی اے کی سربراہی میں شروع کیا گیا تھا، پیپر ملبری کے خاتمے کے لیے 3 نکاتی طریقہ کار اپنایا گیا ہے؛ درختوں کی کٹائی، جڑوں کا مکمل خاتمہ، اور مٹی کی دوبارہ بھرائی۔

    مختار بھرتھ کے مطابق اب تک 29,115 پیپر ملبری کے درخت ہٹائے جاچکے ہیں، جن میں ایف 9 پارک سے 12,800 اور شکرپڑیاں سے 8,700 درخت شامل ہیں، اسی طرح مختلف سیکٹرز اور کوریڈورز میں بھی کارروائی کی گئی ہے۔

    کمیٹی اجلاس میں نیلوفر قاضی نے کہا کہ اگر مقصد الرجی کنٹرول تھا تو ماہر ماحولیات سے مشاورت ضروری تھی، ماہر ماحولیات سید رضوان نے کہا کہ پیپر ملبری کے درخت زیادہ خطرناک ہوتے ہیں جبکہ مادہ درخت نہیں، ان کے مطابق تمام درخت کاٹنے کے بجائے صرف زیادہ خطرناک درختوں کو ہٹایا جانا چاہیے تھا، جڑیں اکھاڑنے سے مٹی کے کٹاؤ کا خطرہ بڑھ جاتا ہے اور درخت مرحلہ وار ختم کیے جانے چاہییں تھے۔

    چیئرمین سی ڈی اے محمد علی رندھاوا نے مؤقف اختیار کیا کہ ترقیاتی منصوبوں سے اسلام آباد کے گرین کور کو نقصان پہنچنے کا تاثر درست نہیں، سی ڈی اے نے ڈیزائنز میں تبدیلیاں کر کے درخت بچانے اور پیوندکاری پر توجہ دی ہے، جبکہ کئی جگہوں پر درختوں کا کور دگنا بھی کیا گیاہر ایک درخت کے بدلے 3 درخت لگانے کا عزم ہے، ایف 9 پارک میں نئے کرکٹ گراؤنڈ کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ وہاں پہلے سے گراؤنڈ موجود ہے اور صرف بیٹھنے کی جگہ بنائی جا رہی ہے۔

  • اسلام آباد میں درختوں کی بے دریغ کٹائی انتہائی تشویشناک ہے،شیری رحمان

    اسلام آباد میں درختوں کی بے دریغ کٹائی انتہائی تشویشناک ہے،شیری رحمان

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے ماحولیاتی تبدیلی کی چیئرمین سینیٹر شیری رحمان نے کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کی جانب سے اسلام آباد کے مختلف علاقوں میں درختوں کی کٹائی کا سخت نوٹس لے لیا ہے۔

    شیری رحمان نے اس معاملے پر چیئرمین سی ڈی اے کو 22 جنوری کو ہونے والے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے ماحولیاتی تبدیلی کے اجلاس میں طلب کر لیا ہے تاکہ درختوں کی کٹائی سے متعلق وضاحت لی جا سکے۔

    سینیٹر شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا کہ اسلام آباد میں درختوں کی بے دریغ کٹائی انتہائی تشویشناک ہے، ماحولیاتی تحفظ کو نظرانداز کرنا قومی مفاد کے خلا ف ہے، 50 سال پرانے درختوں کی کٹائی ناقابل قبول ہے، پیپر مل بیری کے نام پر اسلام آباد کو براؤن کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، اسلام آباد کی شجرکاری قومی ذمہ داری ہے، جسے احسن طریقے سے نبھانا ہم سب کا فرض ہےماحولیاتی قوانین کی خلاف ورزی کسی صورت برداشت نہیں کی جا سکتی۔

    سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ سی ڈی اے جو خود درختوں کی کٹائی میں مصروف عمل ہے، اسے شہریوں کو اس عمل کے بارے میں مکمل آگاہی دینا چاہیے ،مستقبل میں اس طرح کی کٹائی روکنے کے لیے سخت قوانین بنائے جائیں گے، لاہور اور ملتان پہلے ہی سموگ کے شدید شکار ہیں، کیا اب اسلام آباد کو بھی اسی نہج تک لے جانا چاہتے ہیں؟

    انہوں نے خبردار کیا کہ درختوں کی کمی سے گرمی اور آلودگی میں اضافہ ہوگا، ماحولیاتی تحفظ آئندہ نسلوں کے لیے ناگزیر ہے سبز علاقوں کی حفاظت صحت مند ماحول کے لیے ناگزیر ہے، شہریوں کی صحت اور فلاح کے لیے ہر اقدام شفاف اور مؤثر ہونا چاہیئے-

  • ایف آئی اے کی بڑی کارروائی، سی ڈی اے کے 4 افسران گرفتار

    ایف آئی اے کی بڑی کارروائی، سی ڈی اے کے 4 افسران گرفتار

    ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل اسلام آباد نے ایک بڑی کارروائی کے دوران سی ڈی اے کے چار افسران کو گرفتار کر لیا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق یہ کارروائی اسلام آباد کے مختلف مواضع میں ایکوائر کی گئی اراضی کی بنیاد پر غیر متعلقہ افراد کو پلاٹ الاٹ کرنے کے معاملے میں کی گئی۔گرفتار ہونے والے ملزمان میں آصف علی خان، امداد علی، علی مصطفی اور ارشد محمود شامل ہیں۔ یہ ملزمان سی ڈی اے میں مختلف اہم عہدوں پر تعینات تھے، جن میں ایڈیشنل ڈائریکٹر، ڈپٹی ڈائریکٹر، اسٹیٹ مینجمنٹ آفیسر اور اسسٹنٹ شامل ہیں۔ایف آئی اے کی تحقیقات کے مطابق، ملزمان نے کرپشن کی بدولت اسلام آباد کے مختلف سیکٹرز میں 43 پلاٹس غیر مستحق افراد کو الاٹ کئے، جس سے اربوں روپے کی بدعنوانی کی گئی۔

    ملزمان نے اپنے دیگر ساتھیوں کی ملی بھگت سے یہ پلاٹس غیر متعلقہ لوگوں کو فراہم کیے۔ایف آئی اے نے اس مقدمے میں مجموعی طور پر 46 ملزمان کو نامزد کیا ہے۔ ملزمان کو گرفتار کر کے تفتیش کا آغاز کر دیا گیا ہے، جبکہ دیگر ملزمان کی گرفتاری کے لئے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ترجمان ایف آئی اے نے اس کارروائی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ادارہ کرپشن کے خلاف اپنی کارروائیاں جاری رکھے گا اور اس معاملے میں مزید گرفتاریوں کی توقع ہے۔

    فرانسیسی صدرکا محمد بن سلمان سے رابطہ، غزہ اور یوکرین جنگ پر بات چیت

    طالبان نے امریکی یرغمالی جارج گلیزمن کورہا کر دیا

    کراچی،سگی بیٹی سے زیادتی اور حاملہ کرنیوالے درندہ صفت باپ کو سزا

    وزیراعلیٰ سندھ سے آسٹریلوی ہائی کمشنر کی ملاقات، دوطرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال

  • اسلام آباد کے فلٹریشن پلانٹس کا پانی آلودہ ہونے کا انکشاف

    اسلام آباد کے فلٹریشن پلانٹس کا پانی آلودہ ہونے کا انکشاف

    اسلام آباد میں شہریوں کو فراہم کیا جانے والا پینے کا پانی آلودہ ہونے کا انکشاف ہوا ہے ، سی ڈی اے کے زیر انتظام فلٹریشن پلانٹس میں سے بیشتر پر جدید فلٹریشن سسٹم نصب نہیں۔

    باغی ٹی وی کے مطابق سی ڈی اے کے مختلف سیکٹرز اور ماڈل ویلیجز میں 98 واٹر فلٹریشن پلانٹس ہیں لیکن ان کا انتظام 5 این جی اوز کے سپرد ہے۔سی ڈی اے نے اپنی حالیہ رپورٹ میں اعتراف کیا ہے کہ 16فیصد فلٹریشن پلانٹس کا پانی غیر محفوظ پایا گیا ۔ پلانٹس پر جدید فلٹریشن سسٹم نصب کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ڈی جی واٹر مینجمنٹ سی ڈی اے سردار خان زمری کا کہنا ہے کہ پولی فارم کی وجہ سے دو سے تین فیصد رزلٹ پازیٹو آ جاتے ہیں ۔ اس کے مستقل حل کے لیے چیئرمین سی ڈی اے نے فنڈز جاری کر دیئے ہیں۔ ہم ایک باقاعدہ کلورینیشن سسٹم کی تنصیب کرنے جا رہے ہیں۔

    سندھ،زرعی آمدن پر ٹیکس لگانے کا قانون، مسودہ سامنے آگیا

    پیپلز پارٹی کی وزیر اعظم کیخلاف تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کی دھمکی

    ایف آئی اے کی کراچی ائیرپورٹ پر کارروائی، 10 افراد گرفتار

    بشریٰ انصاری جھوٹی خبریں پھیلانے والے یوٹیوبرز پر برس پڑیں

  • سی ڈی اے  کی میٹرو بس کے نئے روٹس کی منظوری

    سی ڈی اے کی میٹرو بس کے نئے روٹس کی منظوری

    جڑواں شہروں کے شہریوں کے لئے سی ڈی اے نے میٹرو بس کے پانچ نئے روٹس کی منظوری دے دی ہے۔

    میڈیا رپورٹ کے مطابق نئے روٹس پر آپریشنز دو ہفتوں میں شروع ہو گا، روٹس کی توسیع کا مقصد سفر کو تیز تر، زیادہ سستی اور ماحول دوست سواری فراہم کرنا ہے۔نئے روٹس میں آبپارہ سے ترامڑی براستہ پارک روڈ روٹ بھی منظورکیا گیا ہے، گلبرگ سٹاپ سے جی ٹی روڈ تک بلیو لائن کی توسیع کی بھی منظوری دی گئی ہے۔پولیس لائنز سے آئی نائن، آئی ٹین، آئی الیون فیض آباد تک نیا روٹ منظور کیا گیا ہے، پولیس لائن سے ڈی بارہ شاہ اللہ دتہ براستہ جی ٹین، جی الیون، ایف ٹین، ایف الیون بھی میٹرو بس چلے گی،26نمبر سے بی 17کا روٹ بھی شامل کیا گیا ہے۔

    سندھ میں تیل و گیس کے نئے ذخائر دریافت

    سندھ میں تیل و گیس کے نئے ذخائر دریافت

    ملک میں آج سونے کی قیمتیں کم

    کراچی: پاراچنار واقعے پر احتجاج، شہر میں ٹریفک کی روانی شدیدمتاثر

    ٹیکس جمع نہ کروانے پر شادی ہالز کے خلاف کارروائی کا فیصلہ

  • رہائشی علاقے میں میڈیا دفتر، سی ڈی اے نے نوٹس جاری کر دیا

    رہائشی علاقے میں میڈیا دفتر، سی ڈی اے نے نوٹس جاری کر دیا

    سی ڈی اے نے انٹر نیشنل میڈیا سے وابستہ ادارے وائس آف امریکہ کو رہائشی ایریا میں آفس رکھنے پر نوٹس جاری کر دیا۔

    سی ڈی اے نے اسلام آباد کے سیکٹر جی-6/3 میں واقع ایک رہائشی گھر پر غیر قانونی تجارتی استعمال کی خلاف ورزی پر نوٹس جاری کیا ہے۔ یہ نوٹس اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری بلڈنگ کنٹرول ریگولیشنز 2020 (ترمیم شدہ 2023) کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے جاری کیا گیا ہے۔ڈائریکٹریٹ آف بلڈنگ کنٹرول (سٹی) کی جانب سے جاری کردہ نوٹس میں کہا گیا ہے کہ گھر نمبر 1، گلی نمبر 89، سیکٹر جی-6/3 میں رہائش پذیر شخص، مس شمیم غلام، نے اپنے رہائشی مکان کو غیر قانونی طور پر دفتر یا میڈیا ہاؤس کے طور پر استعمال کیا ہے، جو کہ اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری بلڈنگ کنٹرول ریگولیشنز کی واضح خلاف ورزی ہے۔سی ڈی اے کی طرف سے یہ ہدایت کی گئی ہے کہ اوپر ذکر کردہ غیر متناسب استعمال کو اس نوٹس کی تاریخ سے 15 دن کے اندر ختم کر دیا جائے، ورنہ سی ڈی اے مذکورہ خلاف ورزی کو ختم کرنے کے لئے قانونی کارروائی کرے گی۔

    اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری بلڈنگ کنٹرول ریگولیشنز 2020 (ترمیم شدہ 2023) کے مطابق، رہائشی مقامات پر غیر تجارتی یا غیر متعلقہ استعمال کی اجازت نہیں ہے۔ یہ قوانین اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ رہائشی علاقوں میں صرف رہائشی سرگرمیاں کی جائیں اور تجارتی یا دفاتر کی تعمیرات نہ ہوں، تاکہ شہری سہولتوں اور ماحول کو نقصان نہ پہنچے۔سی ڈی اے نے واضح کیا ہے کہ اگر نوٹس میں درج ہدایات پر عمل نہیں کیا گیا تو اتھارٹی اس کے خلاف مزید سخت اقدامات کرے گی، جن میں عمارت کی سیلنگ اور الاٹمنٹ کی منسوخی شامل ہو سکتی ہے۔

    سی ڈی اے نے اس بات کی وضاحت کی ہے کہ مذکورہ خلاف ورزی کی صورت میں ذمہ داری مکمل طور پر متعلقہ فرد پر ہوگی، اور اس کے اخراجات بھی اسی کے ذمہ ہوں گے۔ اس کے علاوہ، اس طرح کی خلاف ورزیاں مقامی انتظامیہ کے لیے سنگین مسائل پیدا کرتی ہیں، اور اس سے نہ صرف قانونی مسائل پیدا ہوتے ہیں بلکہ شہر کی ترقی اور رہائشی معیار پر بھی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے شہریوں کو متنبہ کیا ہے کہ وہ اپنے مکانات اور جائیدادوں کے استعمال کے حوالے سے تمام قانونی تقاضوں کا احترام کریں تاکہ شہر میں قانون کی حکمرانی قائم رہے اور شہریوں کو بہتر رہائشی سہولتیں فراہم کی جا سکیں۔

    notice

  • منتھلی نہ دینے پر سی ڈی اے نے ہوٹل کی پارکنگ بند کر دی

    منتھلی نہ دینے پر سی ڈی اے نے ہوٹل کی پارکنگ بند کر دی

    اسلام آباد، سی ڈی اے نے پارکنگ کی منتھلی نہ دینے پرہوٹل سروسز فراہم کرنے والی ایک غیر ملکی کمپنی کے ہوٹل رمادہ انٹرنیشنل اسلام آباد کی پارکنگ کو تباہ و برباد کر کے بند کر دیا ہے ،ہوٹل کی انتظامیہ نے بتایا ہے کہ سی ڈی اے کے افسران کی طرف سے کافی روز سے مطالبات کیے جا رہے تھے کہ باقی انٹرنیشنل ہوٹلوں کی طرف سے پارکنگ کے استعمال پر جو ماہانہ رقم فراہم کی جاتی ہے اسی طرح رمادہ انٹرنیشنل ہوٹل بھی اتنی ہی رقم ادا کرے جس کی ادائیگی نہ کرنے پر سی ڈی اے کے چیئرمین کے حکم پر سی ڈی اے کے افسران نے گزشتہ روز پارکنگ پر ٹریکٹر چلا کر تباہ و برباد کر دیا اور پارکنگ ایریا کو سیل کر دیا .

    ہوٹل ذرائع نے بتایا ہے کہ رشوت حاصل کرنے کے لیے افسران مختلف طرح کے حربے استعمال کرتے ہیں جس میں سب سے آسان طریقہ پارکنگ کا استعمال کیا جاتا ہے اور گزشتہ کئی سالوں سے سی ڈی اے کے افسران انٹرنیشنل اور لوکل ہوٹلوں کی پارکنگ سے ہر مہینے کروڑوں روپے رشوت وصول کرتے ہیں اور بغیر کسی قانونی کاروائی کے پارکنگ کا استعمال کرنے دیتے ہیں اور اس کے ذریعے انٹرنیشنل ہوٹلوں اور مالز انتظامیہ سے  رشوت وصول کی جاتی ہے اور جو ہوٹل اور مالز کی انتظامیہ انکاری ہوتی ہے ان کی پارکنگ اور دیگر املاک کو تباہ و برباد یا پھر سیل کیا جاتا ہے ،ہوٹل ذرائع نے بتایا ہے کہ گزشتہ 20 سالوں سے میریٹ انٹرنیشنل ہوٹل اسلام آباد اور دیگر مالز اور بڑے پلازے اس وقت بڑے پیمانے پر سی ڈی اے کی زمین کا پارکنگ کے نام پر استعمال کر رہے تاہم ان کے خلاف کاروائی نہیں عمل میں لا ئی جاتی اور ان سے کروڑوں روپے رشوت سی ڈی اے شعبہ انفورسمنٹ اور دیگر انتظامیہ وصول کرتی ہے اس حوالے سے سی ڈی اے کے افسران سے رابطہ کی گیا اس حوالے سے بات کرنے سے انکار کیا ہے

    رپورٹ، زبیر قصوری، اسلام آباد

    بھارت،سکول کے واش روم میں دوچار سالہ بچیوں کے ساتھ زیادتی

    اجمیر سیکس اسکینڈل،100 سے زائد لڑکیوں سے زیادتی ، 32 سال بعد 6ملزمان کو عمر قید کی سزا

    بھارت میں خاتون ڈاکٹر زیادتی و قتل کیس،سپریم کورٹ نے سوال اٹھا دیئے

    بھارت،موٹرسائیکل پر لفٹ مانگنے والی کالج طالبہ کی عزت لوٹ لی گئی

    بیٹی کی لاش کی کس حال میں تھی،خاتون ڈاکٹر کے والد نے آنکھوں دیکھا منظر بتایا

    ٹرینی خاتون ڈاکٹر کی دل دہلا دینے والی پوسٹ مارٹم رپورٹ،شرمگاہ پر بھی آئی چوٹیں

    مودی کا بھارت”ریپستان” ڈاکٹر کے ریپ کے بعد آج بھارت میں ملک گیر ہڑتال

    بھارت ،ڈاکٹر کی نرس کے ساتھ زیادتی،دوسری نرس ،وارڈ بوائے نے کی مدد

  • پی ٹی آئی مرکزی سیکرٹریٹ کے باہرسی ڈی اے کی آپریشن کی تیاری مکمل

    پی ٹی آئی مرکزی سیکرٹریٹ کے باہرسی ڈی اے کی آپریشن کی تیاری مکمل

    پی ٹی آئی مرکزی سیکرٹریٹ کے باہرسی ڈی اے کی آپریشن کی تیاری مکمل کر لی گئی

    سی ڈی اے کی بھاری مشینری پی ٹی آئی سیکرٹریٹ کے باہرپہنچادی گئی ہے،باخبر ذرائع کے مطابق بلڈنگ بائی لاز کی خلاف ورزیوں ، غیر قانونی تعمیرات اور تجاوزات کے خاتمے کے لئے سی ڈی اے آپریشن کریگا ، سیکٹر G-8/4 میں پی ٹی آئی کی طرف ایک پلاٹ پر قائم کی گئی تجاوزات اور غیرقا نونی تعمیرات کی گئی ہیں۔مذکورہ پلاٹ سے ملحقہ اراضی پر قبضہ کر کے تجاوزات قائم کی گئی ہیں

    بیرسٹر گوہر،رؤف حسن اسلام آباد سے گرفتار

    قبل ازیں چند ماہ قبل بھی وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں تحریک انصاف کے مرکزی سیکرٹریٹ پر سی ڈی اے نے انسداد تجاوزات آپریشن کرتے ہوئے سیکرٹریٹ کا ایک حصہ گرا دیا اور دفتر سیل کردیا،آپریشن سے قبل پولیس نے پی ٹی آئی سیکرٹریٹ جانے والے راستوں کو بند کر دیا تھا، سی ڈی اے نے تحریک انصاف کے دفتر کو سیل کرنے کا حکم نامہ بھی چسپاں کردیا،سی ڈی اے کا مؤقف ہےکہ اسلام آباد کے سیکٹر جی ایٹ فور میں واقع پلاٹ سرتاج علی نامی شخص کو الاٹ ہے، آپریشن بلڈنگ قوانین کی خلاف ورزی، غیر قانونی تعمیرات اور تجاوزات کے خاتمے کیلئےکیا گیا،

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    سوشل میڈیا پر فوج مخالف پروپیگنڈہ کےخلاف سینیٹ میں قراردادمنظور

    سوشل میڈیا پر نفرت انگیز مواد کی تشہیر،یورپی ممالک سے 40 پاکستانی ڈی پورٹ

    حاجرہ خان کی کتاب کا صفحہ سوشل میڈیا پر وائرل،انتہائی شرمناک الزام

  • جولائی کے دوسرے اور تیسرے ہفتے میں بارشوں کی پیشگوئی

    جولائی کے دوسرے اور تیسرے ہفتے میں بارشوں کی پیشگوئی

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی موسمیاتی اور ماحولیاتی تبدیلی کا اجلاس ہوا

    اجلاس کی صدارت سینیٹر شیری رحمان نے کی،وزیراعظم کی کوآرڈینیٹر موسمیاتی تبدیلی رومینہ خورشید عالم بھی اجلاس میں شریک ہوئیں،ڈی جی محکمہ موسمیات اور چیئرمین این ڈی ایم اے بھی اجلاس میں شریک ہوئے، رومینہ خورشید عالم نے کہا کہ قائمہ کمیٹیاں حکومتی سپورٹ کا ایک بہترین ذریعہ ہیں،مون سون سے متعلق تمام اداروں کے ساتھ میٹنگ ہوئی ہے،تمام صوبوں میں مون سون سے متعلق اقدامات کیے جا رہے ہیں،

    ہوا کے دباؤ کے باعث مون سون میں زیادہ بارشوں کا امکان ہے،چیئرمین این ڈی ایم اے
    چیئرمین این ڈی ایم اے نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ جون جولائی میں درجہ حرارت پہلے کی نسبت زیادہ رہا، گلوبل وارمنگ کی وجہ سے ہر سال درجہ حرارت میں اضافہ ہورہا ہے،بحریہ عرب میں ہوا کا شدید دباؤ ہے،ہوا کے دباؤ کے باعث مون سون میں زیادہ بارشوں کا امکان ہے،مون سون کا اسپیل بھارت سے پاکستان میں داخل ہونے کا امکان ہے،جولائی کے پہلے ہفتے میں کچھ مقامات پر ہیوی شاور کے واقعات ہوئے، این ای او سی 6 سے 8 ماہ پہلے ڈیزاسٹرز کی پیشگوئی کرسکتا ہے،جولائی کے دوسرے اور تیسرے ہفتے میں بارشوں کی پیشگوئی ہے،بھارتی دریاوں سے پانی کا بہاؤ بڑھنے کا امکان ہے،جولائی اگست میں چاروں صوبوں میں بارشوں کا امکان ہے،جولائی کے دوسرے ہفتے اور اگست کے تیسرے ہفتے میں پنجاب میں بارش کا امکان ہے،جولائی کے دوسرے ہفتے اور چوتھے ہفتے میں سندھ میں بارش کا امکان ہے،محکمہ موسمیات کے آلات پرانے ہوچکے ہیں، سینیٹر قرت العین مری نے کہا کہ محکمہ موسمیات کی ویب سائٹ دس دس دن اپ ڈیٹ نہیں ہوتی، ڈی جی محکمہ موسمیات نے کہا کہ ہماری ویب سائٹ روزانہ کی بنیاد پر اپ ڈیٹ ہوتی ہے،شیری رحمان نے کہا کہ گرانٹس نہ ہونے کی وجہ سے آلات اپ ڈیٹ نہیں ہیں، محکمہ موسمیات کے آلات اپ ڈیٹ کرنے کیلئے بھاری فنڈز چاہیے تھے،2022 کے سیلاب کے بعد تمام فنڈز سیلاب متاثرہ علاقوں کے لئےمختص کرلیے ،

    مون سون میں سیلاب کا ممکنہ خدشہ،وزارت موسمیاتی تبدیلی نے صوبوں سے ریلیف میٹیریل کی لسٹ مانگ لی،رومینہ خورشید عالم نےکہا کہ صوبائی ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹیز کو سیلاب کی صورت میں کن اشیاء کی ضرورت ہوگی، صوبائی حکومتوں، پی ڈی ایم ایز سے ضروری اشیاء کی لسٹ مانگی ہے، صوبائی حکومتوں اور اتھارٹیز کو الرٹ رہنے کی ہدایت کی گئی ہے، چیئرمین این ڈی ایم اے نے کہا کہ دریاوں میں پانی کے بہاو بڑھنے کا اندازہ لگایا جارہا ہے،2022 کے سیلاب کو مدنظر رکھ کر دریاوں کے پھیلاو کا تخمینہ لگایا گیا ہے،دریاوں کے ممکنہ پھیلاو کا ڈیٹا صوبائی حکومتوں کیساتھ شیئر کردیا گیا، کونسی این جی او کو کیا سامان تقسیم کرنا ہے، طے کرلیا گیا ہے،

    این ڈی ایم اے نے نیشنل انفراسٹرکچر کی آڈٹ کی تجویز دے دی،این ڈی ایم اے نے صوبائی حکومتوں کو مراسلہ لکھ دیا،چیئرمین این ڈی ایم اے نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے موسمیاتی تبدیلی کو بریفنگ دی اور کہا کہ رہائشی عمارتوں ، کمرشل عمارتوں کا آڈٹ کروایا جائے، این ڈی ایم اے نے نیشنل ہائی ویز اور پلوں کے آڈٹ کروانے کی تجویز دی ہے،یہ پتہ لگانا ضروری ہے کہ گزشتہ سیلاب سے انفراسٹرکچر کو کیا نقصان پہنچا،

    مارگلہ ہلز میں 22 آگ لگنے کے واقعات،22 جولائی سے شجرکاری مہم شروع کرینگے،چیئرمین سی ڈی اے
    محمد علی رندھاوا چیئرمین سی ڈی اے نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ مارگلہ ہلز میں 22 آگ لگنے کے واقعات ہیٹ ویو کے دوران ہوئے،کچھ چھوٹی اور کچھ بڑے پیمانے پر آگ تھی،ہمیں مارگلہ ہلز کا تحفظ کرنا ہے، ہم مارگلہ ہلز کے لیے ماہرین کو لا رہے ہیں،ہم نے 11 کے قریب ایف آئی آر بھی کروائیں،شیری رحمان نے کہا کہ آگ لگ کیوں رہی ہے وجہ بتائیں ممبران کو بتائیں، چیئرمین سی ڈی اے نے کہا کہ آگ لگنے کی وجوہات کچھ نیچرل تھی اور کچھ جان بوجھ کر لگائی گئی،ہم تفصیلی انکوائری کی طرف جا رہے ہیں،تین بندے گرفتار کیے ہیں،
    وزارت موسمیاتی تبدیلی سے بھی بات چیت ہے معاملے پر،این ڈی ایم اے سے بھی ماہرین لے رہے ہیں،مارگلہ ہلز پر شجرکاری کی ضرورت ہے اور یہ ہماری اولین ترجیح ہے،پھل دار درخت اور سایہ دار درخت لگے گا،سفیدہ اور میلبری ہم نہیں لگا رہے، شیری رحمان نے کہا کہ پاکستان میں ایک بڑا سب سے پراجیکٹ ہے اور وہ ہے مینگرروز،کاربن ایک الگ سبجیکٹ ہے،چیئرمین سی ڈی اے نے کہا کہ جکرانڈہ، شیشم، نیم کے درخت لگا رہے ہیں،اور بھی متعدد درخت ہیں جلد ہی تمام تفصیلات فراہم کریں گے،ہم اس بار صرف مارگلہ ہلز پر شجرکاری کریں گے،22 جولائی سے شجرکاری مہم مارگلہ ہلز پر شروع کریں گے،

    ممبر کمیٹی ڈاکٹر زرقا نے کہا کہ وزارت موسمیاتی تبدیلی اور محکمہ جنگلات میں کتنے لوگ ہیں جو درختوں کے بارے میں جانتے ہیں، میں نے اپنی جیب سے ڈیڑھ لاکھ درخت مری ہلز میں لگوائے،شیری رحمان نے کہا کہ ہمیں کمیٹی اجلاسوں کے لیے 31 جولائی سے پہلے بکنگ کروانا ہوگی،چیئرپرسن اسلام آباد وائلڈ لائف مینجمنٹ بورڈ رائنا سعید نے کہا کہ ایک ایکو لوجیکل پلان کی ضرورت ہے ہمیں، رائنا سعید نے کمیٹی تشکیل دینے کی سفارش کی،

    موسمیاتی شعبے میں سرمایہ کاری سے ماحولیات کے تحفظ میں مدد ملے گی، صدر مملکت

    مارگلہ ہلز میں آتشزدگی،سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے موسمیاتی تبدیلی کانوٹس

    موسمیاتی تبدیلی،پرواز میں ہچکولے،رخ موڈ دیا گیا، 30 مسافر زخمی

    سپریم کورٹ، موسمیاتی تبدیلی کیلئے اٹھائے گئے اقدامات کی تفصیلات طلب

    سابق سینیٹر جمال خان لغاری کی رومینہ خورشید عالم سے ملاقات

    ہم ماحولیاتی تحفظ کے لیے اپنے عزم پر قائم ہیں،رومینہ خورشید عالم

    امن کی فاختہ میڈیا ، چھوٹی سی خبر کسی کی زندگی تباہ بھی کر سکتی ، بچا بھی سکتی ، رومینہ خورشید عالم

    موسمیاتی ایکشن میں صنفی شمولیت کیلیے پاکستان کا عزم غیر متزلزل ہے۔رومینہ خورشید عالم

    موسمیاتی تبدیلی پردنیا سے امداد نہیں تجارت چاہیے،رومینہ خورشید عالم

    گرمی کی لہر،مون سون کیوجہ سے سیلاب کے خطرات،عوامی آگاہی مہم شروع کرنیکا حکم

  • وفاقی وزیر داخلہ  کےاسلام آباد کو عالمی معیار کا شہر بنانے کے لئے اہم فیصلے

    وفاقی وزیر داخلہ کےاسلام آباد کو عالمی معیار کا شہر بنانے کے لئے اہم فیصلے

    سی ڈی اے میں ایک اہم اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے اسلام آباد کو عالمی معیار کا شہر بنانے کے لئے اہم فیصلے کیے ہیں۔

    وزیر داخلہ کی ہدایت پر ماحولیاتی آلودگی میں کمی لانے کے لئے سی ڈی اے آئندہ سے صرف الیکٹرک بائیکس خریدے گی۔ اسکے علاوہ اسلام آباد کے شہریوں کے لئے ماحول دوست الیکٹرک بسیں چلائی جائیں گی۔ وزیرداخلہ نے پٹرول موٹر سائیکلز خریدنے پر پابندی عائد کردی۔ اسلام آباد کے شہریوں کو انٹرنیشنل سٹینڈرڈ کی ایمرجنسی سروسز فراہم کی جائیں گی۔ ایمرجنسی سروسز کو ایم سی آئی سے سی ڈی اے کو منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ کیپٹل واسا کا قیام بھی جلد عمل میں لایا جائے گا۔ علاوہ ازیں، کیپیٹل ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کے قیام کے لئے متعلقہ امور کو جلد حتمی شکل دی جائے گی۔

    اس موقع پر وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا کہنا تھا اسلام آباد میں ٹریفک کے مسائل کو کم کرنے کے لیے سرینا چوک انڈر پاس اور ایف نائن پارک چوک فلائی اوور منصوبوں پر تعمیراتی کام جلد شروع کر دیا جائے گا۔ طویل مدت سے زیر التوا ایکسپریس وے کے منصوبے کو مکمل کرنے کے لیے کام کی رفتار تیز کی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسلام اباد کے کئی برس سے نان ڈویلپ سکیٹرز میں ترقیاتی کاموں کو مکمل کرکے لوگوں کو قبضہ دیا جائے گا۔ 17 برس سے تعطل کا شکار اسلام آباد ماڈل جیل پر کام تیزی سے جاری ہے، پہلے مرحلہ کو مقررہ مدت میں مکمل کیا جائے گا۔ اسلام آباد میں بزنس فیسلیٹشن سنٹر بنائے جا رہے ہیں جہاں سرمایہ کاروں کو سہولیات ایک چھت تلے فراہم کی جائیں گی۔ سیکٹر ایچ سولہ میں ہیلتھ ٹاور کیلئے زمین کی الاٹمنٹ کر دی گئی ہے۔ وزیر داخلہ نے ریکارڈ ٹیکس وصولی پر چیئرمین سی ڈی اے سمیت پوری ٹیم کو مبارکباد دی۔ لیکن ساتھ یہ بھی تنبیہہ کی کہ صرف پلاٹ اور زمیں بیچ کر کوئی ادارہ نہیں چل سکتا، ضروری ہے کہ ادارے کے اثاثے بڑھائے جائیں۔ اس سلسلے میں وزیر داخلہ نے ہدایت کی کہ انوسمنٹ پلان مرتب کرکے 7 روز میں پیش کیا جائے گا۔

    اجلاس میں جاری ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت کا تفصیلی جائزہ بھی لیا گیا۔ جس میں کری انکلیو ، فیڈرل سیکرٹریٹ کی عمارت کی تزئین و آرائش، ڈپلومیٹک انکلیو اور سمارٹ پارکنگ کے منصوبوں پرپیش رفت پر بھی غور کیا گیا۔ چیئرمین سی ڈی اے محمد علی رندھاوا نے وفاقی وزیر داخلہ کو مختلف منصوبوں پر تفصیلی بریفننگ دی۔ اجلاس میں چیئرمین سی ڈی اے محمد علی رندھاوا، ڈپٹی کمشنر اسلام آباد عرفان میمن اور سی ڈی اے کے تمام ممبران نے شرکت کی۔

    سکیورٹی ذرائع کے مطابق عزم استحکام آپریشن کا غلط تاثر لیا گیا

    معاشی مشکلات کی وجہ سے آپریشن عزم استحکام کا فیصلہ کیا گیا ہے، خواجہ آصف

    وفاقی کابینہ اجلاس میں آپریشن عزم استحکام کی منظوری

    آپریشن عزم استحکام کا مقصد کیا؟ وزیراعظم آفس سے اعلامیہ جاری

    آپریشن عزم استحکام کی مخالفت کر کے کیا پی ٹی آئی ملک دشمن قوتوں کی حمایت کر رہی ہے؟ شیری رحمان

    ماضی کے جتنے آپریشن ہوئےانکے نتائج تو سامنے رکھیں،مولانا فضل الرحمان

    ایپکس کمیٹی میں ایک نام عزم استحکام آیا لیکن آپریشن کا ذکر نہیں تھا،وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ

    آپریشن عزم استحکام،کامیابی کیلئے اتحاد ضروری،تجزیہ: شہزاد قریشی