Baaghi TV

Tag: شارک

  • ارجنٹائن میں لاپتہ ہونےوالے شخص کی باقیات شارک کے اندر سے برآمد

    ارجنٹائن میں لاپتہ ہونےوالے شخص کی باقیات شارک کے اندر سے برآمد

    ارجنٹائناس ماہ کے شروع میں جنوبی ارجنٹائن میں لاپتہ ہونے والے ایک شخص کی باقیات ایک شارک کے اندر سے ملی ہیں جسے مقامی ماہی گیروں نے پکڑ لیا تھا۔

    باغی ٹی وی : قانون نافذ کرنے والے ادارے کی افسر ڈینیلا ملاتروز نے مقامی نیوز میڈیا کو بتایا کہ 32 سالہ ڈیاگو بیریا کے خاندان نے اس کی باقیات کو نظر آنے والے ٹیٹو کی وجہ سے پہچانا، باریا کو آخری بار 18 فروری کو جنوبی صوبہ چوبوت میں ساحل کے قریب اپنی آل ٹیرین گاڑی پر سوار ہوتے دیکھا گیا تھا۔

    اتوار کی صبح، دو ماہی گیر یہ اطلاع دینے کے لیے کوسٹ گارڈ کے پاس گئے کہ انھوں نے تین شارک مچھلیاں پکڑی ہیں جہاں مسٹر باریا کی گاڑی ملی تھی اور جب وہ ان کی صفائی کر رہے تھے تو انھیں ان میں سے ایک میں انسانی باقیات ملیں-

    انہوں نے مزید کہا کہ خاندان کے افراد نے بیریا کو "ایک ٹیٹو کی وجہ سے پہچانا اہلکار اس بات کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں کہ باریا کے ساتھ اصل میں کیا ہوا تھا۔

    انہوں نے کہا کہ ہمارا خیال ہے کہ ڈیاگو کو حادثہ ہوا ہےابھی یہ واضح نہیں ہے کہ کیا ہوا لیکن تحقیقات جاری ہیں مسٹر باریا کی تباہ شدہ گاڑی ان کے لاپتہ ہونے کے دو دن بعد روکاس کولوراڈاس کے قریب ایک ساحل پر پائی گئی۔

    محکمہ پولیس کے سربراہ کرسٹیان انسالڈو نے مقامی میڈیا کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا کہ باقیات کو سرکاری طور پر اس بات کی تصدیق کرنے کے لیے ڈی این اے ٹیسٹ بھی کیا جائے گا شارک جس میں انسانی باقیات پائی گئی ہیں اس کی پیمائش تقریباً 1.5 میٹر (4.9 فٹ) ہے۔

    سب سے زیادہ امکانی مفروضہ جس کے ساتھ تفتیش کار فی الحال کام کر رہے ہیں وہ یہ ہے کہ باریا کو "ایک حادثہ پیش آیا تھا اورشارک کا نوالہ بن گیا، ہفتے کے آخر میں جب وہ لاپتہ ہو گیا تھا تو زبردست سمندری طوفان آیا تھا۔

  • چاند کی چڑھتی تاریخوں میں شارک کے حملے بڑھ جاتے ہیں،تحقیق

    چاند کی چڑھتی تاریخوں میں شارک کے حملے بڑھ جاتے ہیں،تحقیق

    فلوریڈا: امریکی ماہرین کی ایک ٹیم نے دریافت کیا ہے چڑھتے چاند کی تاریخوں میں شارک کے حملے بڑھ جاتے ہیں-

    باغی ٹی وی : ریسرچ جرنل ’فرنٹیئرز اِن میرین سائنس‘ کے تازہ شمارے میں شائع ہونے والی اس رپورٹ میں ماہرین نے لکھا کہ چڑھتی تاریخوں میں جب آسمان پر چاند زیادہ روشن اور بڑا ہوتا ہے، دنیا بھر میں شارک کے حملے بھی بڑھ جاتے ہیں لیکن ایسا کیوں ہوتا ہے؟ اس بارے میں وہ بھی اب تک کچھ نہیں جان سکے ہیں۔

    4,500 سال پہلے گھوڑوں کی بجائے جنگی گدھوں سے کام لیا جاتا تھا

    لیوزیانا اسٹیٹ یونیورسٹی اور فلوریڈا یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے اس مشترکہ تحقیق کےلیے ’انٹرنیشنل شارک اٹیک فائلز‘ (ISAF) نامی عالمی ادارے کے فراہم کردہ اعداد و شمار استعمال کیے جو 1958 سے باقاعدہ طور پر مرتب کیے جارہے ہیں ان اعداد و شمار سے پتا چلتا ہے کہ 1958 سے 2016 کے دوران شارک مچھلیوں نے دنیا بھر میں 2,785 مرتبہ بغیر کسی وجہ کے انسانوں پر حملے کیے ہیں۔

    چاند کی سطح پر پانی کے شواہد دریافت

    ماہرین نے ان حملوں کے مقامات، مقامی وقت اور آسمان میں چاند کی کیفیت جیسی تفصیلات جمع کرنے کے بعد ان کا تجزیہ کیا تو معلوم ہوا کہ چڑھتے چاند کی تاریخوں میں شارک مچھلیوں کے ’بے وجہ‘ حملے واضح طور پر زیادہ تھے اس کے برعکس گھٹتے چاند کی تاریخوں میں ان حملوں کی تعداد بہت دیکھی گئی یعنی یہ نہیں کہا جاسکتا کہ شارک مچھلیاں رات کے وقت چاند کی روشنی سے متاثر ہو کر لوگوں پر بلا وجہ حملے کرتی ہیں۔

    ایک نئی قسم کا طوفان”فضائی جھیل” دریافت

    البتہ جس بات نے سائنسدانوں کو چکرا دیا، وہ یہ تھی کہ چاند کی بڑھتی تاریخوں میں شارک مچھلیوں کے زیادہ حملے دن کی روشنی میں ہوئے تھے کہ جب آسمان پر چاند ضرور موجود تھا لیکن سورج کے مقابلے میں اس کی روشنی نہ ہونے کے برابر تھی۔

    کیا شارک مچھلیوں پر چاند کی کششِ ثقل اثر انداز ہوتی ہے جو انہیں لوگوں پر حملے کرنے کےلیے مجبور کرتی ہے؟ سائنسدانوں کے مطابق، اس بارے میں کچھ بھی کہنا فی الحال قبل از وقت ہوگا فی الحال ان کے پاس اتنے زیادہ اعداد و شمار نہیں کہ وہ شارک کے زیادہ حملوں کو چڑھتے چاند کا نتیجہ قرار دے سکیں۔

    ڈائنو سار سے بھی قدیم اور دیوقامت سمندری جانور کےفوسلز دریافت