Baaghi TV

Tag: شاعرہ

  • معروف پاکستانی شاعرہ اور افسانہ نگار کومل جوئیہ

    معروف پاکستانی شاعرہ اور افسانہ نگار کومل جوئیہ

    تم نے دیکھے نہیں فرصت سے خدوخال مرے
    جب میں تصویر میں ہوتی ہوں بہت بولتی ہوں

    جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والی معروف پاکستانی شاعرہ اور افسانہ نگار کومل جوئیہ صاحبہ 9 نومبر 1983 میں کبیروالہ میں پیدا ہوئیں۔

    کومل جوئیہ کا اصل نام شازیہ علی اور جوئیہ قبیلے سے تعلق ہے ، کومل تخلص اور قلمی نام کومل جوئیہ ہے انہوں نے 15 سال کی عمر میں 1998 میں شاعری شروع کی اس کے علاوہ افسانہ نگاری بھی کرتی ہیں ۔ شادی کے بعد وہ گوجرانوالہ منتقل ہو گئیں پیشے کے لحاظ سے وہ درس و تدریس کے شعبے سے وابستہ ہیں ۔

    کومل جوئیہ کی شاعری میں ہجر و فراق اور معصومیت کم نازو انداز ، شوخی اور بےباکی زیادہ ہے۔ وہ اپنی شاعری میں ملکی اور معاشرتی و سماجی مسائل کو بھی موضوع سخن بناتی ہیں ۔ ان کی شاعری نوجوان نسل میں زیادہ مقبول ہے ۔ کومل صاحبہ کا پہلا شعری مجموعہ ” ایسا لگتا ہے تجھ کو کھو دوں گی” 2013 میں شائع ہو چکا ہے جبکہ ان کا دوسرا شعری مجموعہ ” کاش” طباعت کے مرحلے میں ہے۔

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    سبز موسم کو بھی تحریرِ خزاں بولتے ہیں
    آج کل پیڑ اداسی کی زباں بولتے ہیں

    بعض اوقات مکینوں کی خموشی سے ڈری
    کھڑکیاں شور مچاتی ہیں ، مکاں بولتے ہیں

    کون کرتا ہے ترے بعد ترے جیسا سخن
    ہم ترے بعد کسی سے بھی کہاں بولتے ہیں

    اونچی آواز میں عادت تو نہیں بولنے کی
    ضبط جب توڑ دیا جائے تو ہاں ، بولتے ہیں

    جس جگہ مان رکھا جائے خطابت کا اے دوست
    ہم انا زاد بہت کھل کے وہاں بولتے ہیں

    کیا غلط کرتے ہیں ہم فرطِ عقیدت سے کبھی
    تیری آنکھوں کو اگر سارا جہاں بولتے ہیں

    اس قدر جھوٹ ، ملاوٹ ہے مری بستی میں
    دھول ملبے کی اڑی ہو تو دھواں بولتے ہیں

    حَسْبِیَ الِّلہَ ، نہیں کہتا کوئی مدت سے
    اب بھی ٹھوکر ہمیں لگتی ہے تو "ماں” بولتے ہیں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اشعار

    تم نے دیکھے نہیں فرصت سے خدوخال مرے
    جب میں تصویر میں ہوتی ہوں بہت بولتی ہوں

    لوگ محروم بصارت ہیں تری بستی کے
    اور ہم خواب ہتھیلی پہ لیے پھرتے ہیں

    اپنی مرضی ہوگی ” کومل ” آئے گی
    نیند کسی کے باپ کی تھوڑی ہے

    کومل جوئیہ

  • اسے  مزار مت کہو یہ محل ہے پیار کا

    اسے مزار مت کہو یہ محل ہے پیار کا

    ” اسے مزار مت کہو یہ محل ہے پیار کا”
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اردو کی پہلی خاتون شاعرہ ثبین سیف نے اپنی قبر خود بنوا دی ، اپنی داستان حیات لکھنے کا بھی مصمم ارادہ کر لیا –

    اردو کی ایک خوب صورت پاکستانی شاعرہ سیدہ ثبینہ پروین المعروف سبین سیف نے جیتے جی ہی اپنی ابدی آرام گاہ کیلئے کراچی کے DHA فیز 5 قبرستان میں اپنی نگرانی میں آج سے 26 برس قبل اپنی قبر بنوا دی ہے جسے 2 جولائی 1997 مکمل کر دیا گیا ہے میرے علم کے مطابق ثبین سیف صاحبہ اردو زبان کی پہلی اور واحد خاتون شاعرہ ہیں جنہوں نے اپنی زندگی میں اپنی قبر تیار کرا دی ہے جبکہ ثبین سیف نے اپنی سوانح حیات لکھنے کا بھی ارادہ کر لیا ہے ذرائع کے مطابق وہ جلد ہی اپنی سوانح حیات کسی کہانی نویس اور مصنف سے لکھوانے کا آغاز کرا دیں گی جس کیلئے انہوں نے تحریری مواد کو ترتیب دینے کا سلسلہ شروع کر دیا ہے ۔

    آغا نیاز مگسی

  • معروف ادیبہ، شاعرہ اورمصورہ شائستہ مفتی

    معروف ادیبہ، شاعرہ اورمصورہ شائستہ مفتی

    دل میں طوفاں سے الجھنے کا سمایا سودا
    ڈوب جائے نہ کہیں اپنا ہی گھر پانی میں

    شائستہ مفتی

    معروف ادیبہ، شاعرہ اور مصورہ شائستہ مفتی صاحبہ کے اجداد کا تعلق میرٹھ سے تھا بچپن میں ان کے دادا ڈاکٹر مقرب حسین مفتی نے ان کے ادبی ذوق کے آبیاری کی گھر میں ادبی اور علمی ماحول تھا بچپن سے ہی ان کو لکھنے پڑھنے کا شوق رہا پہلی کہانی 11 برس کی عمر میں بچوں کے ایک رسالے میں چھپی تھی بائیوکیمسٹری میں ماسٹرز کی ڈگری لی شہید حکیم محمد سعید کے ساتھ قریبی تعلق رہا ہے، ان کے قائم کردہ تعلیمی ادراے سے کافی عرصہ وابستہ رہیں ان کی 3 کتابیں چھپ چکی ہیں۔ 2 کتب شاعری کی ہیں: ’ہوا کے ہاتھ‘ اور محبتوں کے شہر میں‘ ’تیسری کتاب‘ ’چاک اور چراغ‘ افسانوں کا مجموعہ ہے۔

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔
    اجنبی شہر میں الفت کی نظر کو ترسے
    شام ڈھل جائے تو رہ گیر بھی گھر کو ترسے

    خالی جھولی لیے پھرتا ہے جو ایوانوں میں
    میرا شفاف ہنر عرض ہنر کو ترسے

    جس جگہ ہم نے جلائے تھے وفاؤں کے دیئے
    پھر اسی گاہ پہ دل دار نظر کو ترسے

    میری بے خواب نگاہیں ہیں سمندر شب ہے
    وقت تھم تھم کے جو گزرے ہے سحر کو ترسے

    جانے ہم کس سے مخاطب ہیں بھری محفل میں
    بات دل میں جو نہ اترے ہے اثر کو ترسے

    کتنے موسم ہیں کہ چپ چاپ گزر جاتے ہیں
    تیرے آنے کا دلاسہ ہے خبر کو ترسے

    شبنمی راکھ بچھی ہے مرے ارمانوں کی
    نقش پا تیرے کسی خاک بسر کو ترسے

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔
    لکھے ہوئے الفاظ میں تاثیر نہیں ہے
    دل پر جو کسی عشق کی تحریر نہیں ہے

    اس زیست کے ہر موڑ پہ لڑنی ہے مجھے جنگ
    قرطاس و قلم ہیں کوئی شمشیر نہیں ہے

    ممکن ہی نہیں تھا تجھے آواز لگاتے
    ہے عشق کی روداد پہ تشہیر نہیں ہے

    دنیا میں وفا ڈھونڈنے نکلے تھے ندارد
    اک بوجھ ہے دل پر مرے شہتیر نہیں ہے

    لمحے میں پلٹ دیں گے زمانے کو تمہارے
    ہے عہد ہنر جان یہ تسخیر نہیں ہے

    پیوست ہیں اس گھر سے بہت آپ کی یادیں
    گزرے ہوئے لمحات ہیں زنجیر نہیں ہے

    چپ چاپ بہت دیر سے پھرتے ہیں گریزاں
    دنیا میں کوئی آپ سا دلگیر نہیں ہے

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔
    ان سے ملنے کا ارادہ ہے قضا سے پہلے
    کیوں نہ دل کھول کے جی لوں میں سزا سے پہلے

    اس حوالے سے ہی شاید اسے پہچان سکوں
    خود کو پہچان لوں گر اپنے خدا سے پہلے

    زرد موسم کی تھی تمثیل مری آنکھوں میں
    رنگ کچھ اور بھی گزرے ہیں خلا سے پہلے

    وقت معدوم ہے اور دہر کے انداز جدا
    کچھ بھی ممکن ہے مقدر میں قضا سے پہلے

    تیری محفل کی طرف لوٹ کے جاؤں کیسے
    پوچھ تو لوں دل آشفتہ ادا سے پہلے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    آنکھ یوں ڈوب کے ابھری ہے تری یادوں سے
    جس طرح کوئی بسایا ہو نگر پانی میں

    دستکیں دے رہا ہے دل پہ کوئی
    کس کا آیا پیام رہنے دے

    تیرے خط جلاتے ہی لکھ رہی ہوں کیا کیا کچھ
    حرف کو مٹانے کا دکھ سبھی کو ہوتا ہے

    روز و شب کی چکی میں پس کے رہ گئے ورنہ
    آ گیا تھا چوکھٹ تک پھر وصال کا موسم

    کیسے اس خواب کو ٹوٹا ہوا دیکھے گی سحر
    شوق کے دیپ بجھا دوں میں جفا سے پہلے

  • پشتو زبان کی اولین خاتون افسانہ نگار زیتون بانو

    پشتو زبان کی اولین خاتون افسانہ نگار زیتون بانو

    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اردو اور پشتو زبان کی ممتاز ادیبہ ، شاعرہ ، ریڈیو براڈ کاسٹر اور پشتو زبان کی اولین خاتون افسانہ نویس و ناول نگار سیدہ زیتون بانو 18 جون 1938 میں پشاور کے ایک نواحی گاؤں "سفید ڈھیری ” میں پیدا ہوئیں ۔ ان کے والد سید سلطان محمود ایک روشن خیال اور ترقی پسند ادیب تھے جبکہ دادا پیر سید عبدالقدوس ٹنڈر ایک مشہور شاعر گزرے ہیں زیتون بانو نے پشاور یونیورسٹی سے اردو اور پشتو میں ماسٹر ڈگری حاصل کی ۔ تعلیم سے فراغت کے بعد وہ ریڈیو پاکستان پشاور اسٹیشن سے منسلک ہو گئیں جس میں وہ پروڈیوسر کے عہدے پر بھی فائز رہیں جبکہ پاکستان ٹیلی ویژن سے بھی وابستہ رہیں۔

    سیدہ زیتون بانو کو بچپن سے ہی شعر وادب سے دلچسپی تھی ۔ انہوں نے دوران طالبعلمی ہی افسانہ نگاری شروع کر دی اور نویں جماعت میں 1958 میں پشتو میں ان کے افسانوں کی پہلی کتاب”ہندارہ” یعنی ” آئینہ” شائع ہو گئی۔ زیتون بانو نے اردو اور ہندکو کے مشہور ادیب تاج سعید سے شادی کی اور مستقل طور پر پشاور شہر منتقل ہو گئیں ۔ زیتون بانو کی 24 کے لگ بھگ کتابیں شائع ہو چکی ہیں جن میں پشتو اور اردو کی کتابیں شامل ہیں پشتو میں ان کا صرف ایک شعری مجموعہ” منجیلا” شائع ہوا ہے ۔

    ان کی چند مشہور کتابوں کے نام، وقت کی دہلیز پر ، خوشحال شناسی، برگ آرزو ” مات بنگڑی” ٹوٹی چوڑیاں ، بنگری، خوبونا، جواندی غمونا، شاگو مزل، و دیگر شامل ہیں ۔ 14 اگست 1996 میں ان کو صدارتی ایوارڈ سے نوازا گیا ۔ برگ آرزو ان کا واحد ناول ہے جسے ” ڈھول” کے عنوان سے ڈرامہ سیریل کے طور پر نشر کیا گیا ۔ 14 ستمبر 2021 میں 83 برس کی عمر میں پشاور میں ان کا انتقال ہوا۔

  • ہندی شاعرہ مجاہد آزادی اورماہر تعلیم مہا دیوی ورما

    ہندی شاعرہ مجاہد آزادی اورماہر تعلیم مہا دیوی ورما

    مہا دیوی ورما

    مہادیوی ورماہندستان سے تعلق رکھنے والی ہندی شاعرہ ، مجاہد آزادی اور ماہر تعلیم تھیں۔ ان کو ”جدید مِیرا“ تصویر کیا جاتا ہے۔ وہ 1914ء-1938ء کی جدید ہندی شاعری کی رومانوی تحریک ”چھایہ واد“ کی علمبردار اور ممتاز شاعرہ تھیں وہ الٰہ آباد کے نسوانی کالج، پریاگ مہیلا ودیاپیٹھ کی پرنسپل تھیں اور پھر وائس چانسل ہوئیں۔

    ابتدائی زندگی اور تعلیم
    ۔۔۔۔۔۔
    26 مارچ 1907ء کو فرخ آباد میں مہا دیوی ورما کا جنم ہوا۔ الٰہ آباد کے کروستھ ویٹ اسکول سے تعلیم حاصل کی۔ اس درس گاہ میں ان کی ملاقات سینئر سبھدرا کماری چوہان سے ہوئی، جو بعد ازاں مہا دیوی کی طرح خود بھی ہندی زبان کی ممتاز لکھاری اور شاعرہ بنیں۔
    مہا دیوی کا اصلاً داخلہ کانوینٹ اسکول میں ہوا تھا لیکن مزاحمت کرنے پر انہیں الہ آباد کروستھ ویٹ گرلز کالج میں ایڈمشن ملا مہا دیوی کے مطابق انہوں نے کروستھ ویٹ کے ہاسٹل میں اتحاد کی طاقت کو سمجھا جہاں مختلف مذاہب کی طالبات رہتی تھیں۔

    مہا دیوی نے خفیہ طور پر نظمیں لکھنا شروع کیں؛ لیکن ان کی ہم کمرہ اور سینئر سبھدرا کماری چوہان (اسکول میں نظمیں لکھنے کے لیے مشہور تھیں) نے مہا دیوی کی نظمیں دیکھ لیں اور ان کے اندر کا چُھپا ہُنر ظاہر ہوا۔ اب مہا دیوی او سبھدرا نھ اکھٹے نظمیں لکھنا شروع کر دیں وہ اور سبھدرا نظمیں چھاپنے کے لیے بھی بھیجتی تھیں جیسے کہ ہفتہ وار رسالوں میں اور وہ کچھ نظموں کو شائع کرنے میں کامیاب ہوتیں۔ دونوں شاعرات کوی سمیلن میں بھی شریک ہوتیں، جہاں ان کہ ملاقات مایہ ناز ہندی شعرا سے ہوتی تھی اور وہ ان کی نظمیں سامعین کو سناتی تھیں یہ ساتھ سبھدرا کے کروستھ ویٹ سے تعلیم مکمل کرنے تک رہا۔

    وہ اپنی بچپن کی سوانح عمری، میرے بچپن کے دن میں لکھتی ہیں کہ وہ بہت خوش قسمت ہیں کہ ان کی پیدائش آزاد خیال خاندان میں ہوئی ورنہ اس وقت لڑکیاں خاندان میں بوجھ سمجھی جاتی تھیں ان کے دادا ان کو عالمہ بنانا چاہتے تھے اور خواہش کی تھی کہ رسم کے مطابق نو برس کی عمر میں بیاہ ہو۔ ان کی والدہ سنسکرت اور ہندی روانی سے بولتی اور بہت مذہبی تھیں مہا دیوی اپنی دلچسپی کا سہرا اپنی ماں کو دیتی ہیں جن سے متاثر ہو کر انہوں نے ظمیں لکھیں اور ادب میں دلچسپی لی۔

    1929ء میں مہا دیوی ورما کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد ان کے شوہر ڈاکٹر سورپ ناراین ورما نے ان کے ساتھ رہنے سے منع کر دیا کیونکہ وہ دکھنے میں اچھی نہیں تھیں۔ وہ ان کو منا بھی نہیں سکیں انہیں بھکشونی سمجھا جاتا تھا مگر ایسا نہیں تھا۔ تاہم انہوں نے بودھ پالی اور پراکرت نصوص کا مطالعہ کیا تھا کیونکہ وہ ان کی ماسٹر ڈگری کا حصہ تھے۔

  • قفس کو کھولو تو اڑ کر تمھیں دکھاؤں گی، میں آسمان سے اونچی اڑان رکھتی ہوں

    قفس کو کھولو تو اڑ کر تمھیں دکھاؤں گی، میں آسمان سے اونچی اڑان رکھتی ہوں

    شباب ، رنگ حنا، حسن، کچھ نہیں باقی
    ہے آج ہجر کا موسم بہار تھوڑی ہے

    فرح کامران

    نیو جرسی، امریکہ سے تعلق رکھنے والی اردو شاعرہ اور نثر نگار فرح کامران کی پیدائش 31 اگست 1978 کو کراچی میں ہوئی مگر ان کی زندگی اسلام آباد میں گزری- 2001 میں وہ اپنے اہلِ خانہ کے ہمراہ امریکہ منتقل ہوگئیں۔ تراجم کے شعبے سے عملی وابستگی جہاں ان کے ادبی ذوق کو ابھارتی رہی وہیں ان کے گھر کے ماحول میں بھی شعر و ادب رچا بسا تھا- ان کے شوہر کامران ندیم اردو کے مقبول شاعر تھے جو کینسر کے مرض کے باعث 2015 میں انتقال کر گئے- اسی موڑ سے فرح کامران کے ادبی سفر کا آغاز ہوا اور وہ امریکہ کی ادبی محفلوں میں شامل ہوئیں اور جلد ہی اپنی پہچان مستحکم کر لی-

    فرح کے والد سید خورشید مصطفیٰ کا تعلق الٰہ آباد سے تھا اور وہ سینٹرل بورڈ آف ریونیو میں جوائنٹ ڈائریکٹر تھے- فرح کامران نے ابتدائی تعلیم اسلام آباد سے حاصل کی اور پھر پنجاب یونیورسٹی سے اکنامکس میں ایم اے کیا- بعد میں انہوں نے نیو جرسی امریکہ سے ایجوکیشن میں بھی ایم اے کی ڈگری حاصل کی-

    فرح کامران نظم اور غزل، دونوں میں یکساں دلچسپی رکھتی ہیں اور دونوں ہی جگہ اپنا منفرد اسلوب بھی رکھتی ہیں- شاعری کے علاوہ وہ نثر سے بھی وابستہ ہیں اور افسانہ، مضمون اور تنقید نگاری ان کے میدان ہیں- فرح کامران کو نظامت کا اختصاص بھی حاصل ہے اور اکثر ادبی تقریبات اور مشاعروں کی میزبانی بھی کرتی ہیں- اپنی ادبی سرگرمیوں کے علاوہ فرح کامران سماجی میدان میں بھی سرگرمِ عمل ہیں اور کامران ندیم فاؤنڈیشن کی روحِ رواں بھی ہیں- وہ “فرح کامران، ارباب ذوق کے ساتھ” کے عنوان سے سب رنگ ٹی وی کے پروگرام کی میزبانی بھی کرتی رہیں- ان کی شعری و نثری تخلیقات امریکہ اور دیگر ممالک کے رسائل و جرائد میں شائع ہوتی رہتی ہیں-

    متفرق اشعار
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    حافظے کا سب ورثہ چھوڑنے پہ راضی ہوں
    یاد کی گلی میں بس اک مکان رہنے دو

    اس اعتماد سے رکھا ہے آسماں پہ قدم
    کہ اب گری تو میں گر کر سنبھل بھی سکتی ہوں

    قفس کو کھولو تو اڑ کر تمھیں دکھاؤں گی
    میں آسمان سے اونچی اڑان رکھتی ہوں

    موجِ خوں ساحلِ مژگاں پہ ٹھہرتی ہی نہیں
    ایسا طوفان اٹھاتی ہے یہ ڈھلتی ہوئی شام

    کہیں بات درد و الم کی ہو، مری داستانِ الم سنا
    کہیں گھر اجڑنے کا ذکر ہو مرے آشیانے کی بات کر

    کشتِ جاں میں رات بھر بوتی رہی تخمِ خیال
    صبح دم نخلِ تخیل پر کھلے غنچے نئے

    شباب، رنگِ حنا، حسن، کچھ نہیں باقی
    ہے آج ہجر کا موسم، بہار تھوڑی ہے

  • شاعرہ،ادیبہ اور سینئر پارلیمنٹرین بشریٰ رحمن

    شاعرہ،ادیبہ اور سینئر پارلیمنٹرین بشریٰ رحمن

    تجھ سے اک راز کی سرگوشی بھی کرنا چاہوں
    پھر وہی راز نگل جانے کو جی چاہتا ہے

    بشری رحمان بلبل پاکستان

    تاریخ پیدائش: 29 اگست
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    نامور پاکستانی ،ادیبہ،مصنفہ، شاعرہ ، ناول نگار،افسانہ نگار،ڈرامہ نویس،کالم نگاراور سینئر پارلیمنٹرین بشریٰ رحمن 29 اگست 1944میں بہاولپور پنجاب میں پیدا ہوئی انہوں نے ابتدائی تعلیم بہاولپور سے اور ایم اے صحافت کی ڈگری پنجاب یونیورسٹی لاہور سے حاصل کی 1960 میں لاہور کے ایک معروف صنعتکار میاں عبدالرحمن سے شادی ہوئی ۔ بشریٰ رحمن کی 14 کتابیں شائع ہو چکی ہیں جن میں ناول،افسانے، شاعری، ڈرامے اور کہانیاں شامل ہیں ۔ ان کو پی ٹی وی پر نشر ہونے والے اپنے لکھے ڈرامہ سیریل” لازوال” سے شہرت حاصل ہوئی ۔ وہ ایک اخبار میں "چادر چار دیواری اور چاندنی” کے عنوان سے کالم نگاری بھی کرتی تھیں سائرہ ہاشمی کے ساتھ مل کر انہوں نے ایک ادبی تنظیم ” بزم ہم نفساں ” کا قیام عمل میں لایا جس کے زیر اہتمام وہ ہر ماہ اپنی رہائش گاہ پر ماہانہ مشاعرے کا انعقاد کرتی تھیں جس میں لاہور کے نامور شعراء اور شاعرات شریک ہو کر اپنا کلام پیش کرتے تھے-

    بشری صاحبہ نے ایک ادبی ماہنامہ ” وطن دوست ” کا بھی اجراء کیا تھا ۔ انہوں نے ادب و سیاست اور صحافت کے شعبے میں بڑا نام کمایا۔ وہ دو بار پنجاب کی صوبائی اسمبلی کی رکن اور دوبارقومی اسمبلی کی رکن منتخب ہوئیں اسمبلی میں ان کی خوش گفتاری اور بہترین فقروں اور الفاظ کے استعمال کی بنا پر انہیں ” بلبل پاکستان” کے خطاب سے نوازا گیا تھا ۔ 7 فروری 2022 کو 78 برس کی عمر میں کرونا وائرس میں مبتلا ہو کر لاہور میں ان کا انتقال ہوا۔ معروف شاعرہ نیلما ناہید درانی نے ان کی وفات پر بڑے دکھ اور کرب کا اظہار کرتے ہوئے ان کو ان الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا” خوب صورت شخصیت، دلفریب مسکراہٹ، غزالی آنکھوں اور رس بھرے لہجے کی مالک بشری رحمان سے جو بھی ایک بار ملتا وہ اس کا گرویدہ ہو جاتا اور میں بھی ان کے عشق میں مبتلا ہو گئی”. ۔

    بشری صاحبہ کی شائع ہونے والی کتابوں میں ،بت شکن، چپ، پشیمان ، پیاسی،چارہ گری ،خوب صورت ، عشق عشق، قلم کہانیاں ، مولانا ابوالکلام آزاد،ایک مطالعہ، چاند سے نہ کھیلو، بہشت،لازوال،دانا رسوائی ، صندل میں سانسیں چلتی ہیں ،بے ساختہ، کس موڑ پر ملے ہو، الله میاں جی اور ، تیرے سنگ در کی تلاش ” شامل ہیں ان کی آخری تصنیف "سیرت طیبہ صلی الله علیہ وسلم” ہے ۔

    ان کی خوش قسمتی ہے کہ انہوں نے سیرت طیبہ کی کتاب مکمل کر کے وفات پائی ہے امید ہے کہ یہ تصنیف ان کی عاقبت سنوارنے کا باعث بنے گی جبکہ انہوں نے آخری افسانہ "_گیسو” دسمبر 2021 میں لکھا جس میں انہوں نے لکھا ہے کہ مرد کو باغی بنانے میں عورت کا کردار زیادہ ہے شادی شدہ خواتین اپنے شوہر کو بلا جواز شک کی نظر سے دیکھتی ہیں اور ان کی ٹوہ میں لگی رہتی ہیں جس کی وجہ سے شوہر تنگ آ کر اپنے گھر سے باہر غیر محرم خواتین سے رابطہ استوار کرنے پر طرف مائل ہو جاتے ہیں ۔ بشریٰ رحمن صاحبہ کو حکومت پاکستان کی جانب سے 2007 میں صدارتی ایوارڈ ستارہ امتیاز سے نوازا گیا۔

    چند منتخب اشعار

    تیرے ہاتھوں میں پگھل جانے کو جی چاہتا ہے
    آتش شوق میں جل جانے کو جی چاہتا ہے

    وحشت آباد مکانوں میں نہیں جی لگتا
    شہر سے دور نکل جانے کو چاہتا ہے

    ہم سے یہ رسم کی زنجیر بھی کب ٹوٹ سکی
    دل کی ضد پر بھی مچل جانے کو جی چاہتا ہے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ہمارے شہر کے ہر موڑ پر اک یاد بیٹھی ہے
    نظاروں کی یہ برساتیں ہمیں واپس عطا کر دو

    مرے سجدوں کی رعنائی محبت میں نہ کام آئی
    معطر باوضو راتیں ہمیں واپس عطا کر دو

  • فاخرہ بتول موجودہ دور کی مقبول ترین شاعرہ

    فاخرہ بتول موجودہ دور کی مقبول ترین شاعرہ

    تم جسے دیکھ کے دل ہار چکے ہو صاحب
    دیکھ لینا کہیں تصویر پرانی ہی نہ ہو

    فاخرہ بتول

    پاکستان کی نامور شاعرہ فاخرہ بتول 14 اگست 1964ء کو راولپنڈی میں پیدا ہوئی۔ میٹرک گورنمنٹ پاک اسلامیہ گرلز ہائی سکول سیٹیلائٹ ٹاؤن راولپنڈی، بی اے گورنمنٹ وقاراَنساء کالج فار وومن ٹیپو روڈ راولپنڈی اور ایم اے کی ڈگری پنجاب یونیورسٹی لاہور سے حاصل کی۔
    فاخرہ بتول موجودہ دور کی مقبول ترین شاعرات کی فہرست میں شامل ہیں جس کی ایک وجہ یہ ہے وہ عام قاری کی نبض شناس ہیں اور عام لوگوں کی ترجمانی کرتے ہوئے ان کے احساسات و جذبات کو شعری پیرہن عطا کرتی ہیں ان کے ادبی اثاثے میں تقریباً ڈیڑھ درجن کے لگ بھگ کتب ہیں جن کے نام
    ۔ (1)۔پلکیں بھیگی بھیگی سی
    ۔ (2)۔چاند نے بادل اوڑھ لیا
    ۔ (3)۔کہو،وہ چاند کیسا تھا؟
    ۔ (4)۔اب بھرے شہر میں مجھے ڈھونڈو
    ۔ (5)-سمندر پوچھتا ھو گا
    ۔ (6)-دور مت نکل جانا
    ۔ (7)-بھُلا دیا ناں ؟
    ۔ (8)-گُلاب خوشبو بنا گیا ھے
    ۔ (9)-محبت کی نہیں تم نے
    ۔ (10)-محبت خاص تحفہ ھے
    ۔ (11)-دشتِ تنہائی میں (انتخاب)
    ۔ (12)-شرعادتیں (طنز و مزاح)
    ۔ (13)-سرگوشی (کالم)
    ۔ (14)۔بچٌےسارے سچٌے
    ۔ (بچوں کے لئے نظمیں)
    ۔ (15)-اُسے روکتے بھی تو کس لئے؟
    ۔ (16)- میراثِ ولایت (حسینی کلام)
    ۔ (17)- the Alien Eyes
    ۔ English Poems

    فاخرہ ان کی ادبی خدمات کے اعتراف میں ورلڈ نیشن رائٹرز یونین کی جانب سے انہیں ” دی بیسٹ پوئٹ آف دی ورلڈ 2017″ قرار دے کر 2017 کی بہترین شاعرہ کا ایوارڈ دیا گیا جبکہ فرینگ برڈی انٹرنشنل لٹریری ایوارڈ 2014 فرام گورنمنٹ آف البانیا اور آئی پی ٹی آر سی انٹرنیشنل ایوارڈ 2013 فرام گورنمنٹ آف چائنہ سے بھی نوازا گیا۔

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    بھول جانے کا تو بس ایک بہانہ ہوگا
    کہ بہر طور اسے یاد تو آنا ہوگا
    کوئی موسم ہو ، مہکتا رہے شاداب رہے
    اپنی آنکھوں کو کنول ایسا بنانا ہوگا
    بند مٹھی سے جو اڑ جاتی ہے قسمت کی پری
    اس ہتھیلی میں کوئی چھید پرانا ہوگا
    آبلے پاؤں کے مہکیں تو مگر درد نہ دیں
    دشت میں ریت کے ذروں کو بتانا ہوگا
    زاویے اس کی نگاہوں کے بڑے قاتل ہیں
    سامنے اس کے بہت سوچ کے جانا ہوگا
    گھاؤ کتنا بھی پرانا ہو ، بہرحال اسے
    کچے موسم کی شرارت سے بچانا ہوگا
    ہاتھ لکھنے پہ مصر ، خوف زمانے کا بتول
    پیڑ پر نام کوئی لکھ کے مٹانا ہوگا

    متفرق اشعار
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    امیر شہر کو احساس تھا غریبوں کا
    سو اس نے بھوک کو تقسیم کر دیا ان میں

    چونک کر نام پوچھنے والے
    بُھول جانے کی انتہا کر دی

    دن،جگہ،وقت بتانے کی بھی زحمت ہو جناب!
    آپ سے شرفِ مُلاقات،کہاں مُمکن ہے ؟ ؟ ؟

    البم کھول کے دیکھا تو احساس ہوا
    کیسے کیسے لوگ بھُلانے پڑتے ہیں

    تُو نے رستہ بدل لیا ورنہ
    ہم ترے ساتھ دور تک جاتے

    تم جسے دیکھ کے دل ہار چُکے ہو صاحب!
    دیکھ لینا کہیں تصویر پُرانی ہی نہ ہو

    اِس کیلنڈر میں کچھ نیا ہے بتول!
    یہ بچھڑے کا سال ہے , کیاہے

    میں نے سمجھا تھا سمندر تُم کو
    ”تھا“ کا مطلب تُمھیں آتا ہو گا؟

    جا رہے ہو تو ساتھ لے جاؤ
    اپنے سامان میں مری انکھیں

    تم نے گُم کر دیا تھا دانستہ
    اب بھرے شہر میں مجھے ڈھونڈو

    فن سے کیسے بھوک مٹائے بچوں کی؟
    سوچ رہا ہے آج کا یہ فنکار ابھی

    خوابوں کو جا کے بیچ دے ، آنسو خرید لے
    اتنا غیور آج کا فنکار بھی نہیں

    بہت مصروف اب رہنے لگا ھے
    گلی سے جو کبھی جاتا نہیں تھا

    اُسے جاتے ہوئے دیکھا ہی کیوں تھا
    وہ منظر آنکھ میں پتھرا گیا نا… ؟

    عشق پھر ہار گیا ، زہر پیالہ جیتا
    یہ عجب موڑ کہانی میں کہاں سے آیا؟

    یہ کسی خواب سے جاگا ھوا منظر ہی نہ ھو
    ترے ہاتھوں میں مرا ہاتھ کہاں مُمکن ہے !

    ہاتھ سے ہاتھ چھوٹ جاتے ہیں
    کوئی آسان ہے وفا کرنا ؟

    ہونی ہے تو اک بار ہی ہو جائے محبت
    یہ بھُول ہے ایسی کہ دوبارہ نہیں کرتے

    یہ شُمارہ ہے زندگی کا اگر
    ہجر اِس میں شمار ہے صاحب!

    تم کو واپس بُلا رہا ہے یہ دل
    کیا کوئی التجا ضروری ہے؟

    یونہی دیکھا ہے بس گھڑی کی طرف
    آپ کا انتظار تھوڑی ہے

    میں نے خوشبو کی حقیقت پوچھی
    پھول خاموش رہا دیر تلک

    گھاؤ دل کا تو بھر گیا لیکن
    ترا احسان بھولتا ہی نہیں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    تلاش ، ترتیب و ترسیل : آغا نیاز مگسی

  • برصغیر کی ایک بے مثال و باکمال اداکارہ اور شاعرہ مینا کماری

    برصغیر کی ایک بے مثال و باکمال اداکارہ اور شاعرہ مینا کماری

    یوں تیری رہگزر سے دیوانہ وار گزرے
    کاندھے پہ اپنے رکھ کے اپنا مزار گزرے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    مینا کماری ناز

    آغا نیاز مگسی

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    برصغیر کی ایک بے مثال و باکمال اداکارہ اور شاعرہ مینا کماری یکم اگست 1933 میں پیدا ہوئیں ۔ان کا اصل نام ماہ جبین، فلمی نام مینا کماری اور تخلص ناز تھا۔ ان کی والدہ کا نام پربھاوتی تھا وہ ایک عیسائی بنگالی خاتون تھیں ۔ مینا کماری کے والد صاحب کا نام علی بخش تھا۔ وہ ایک تھیٹر آرٹسٹ، نغمہ نگار اور موسیقار تھے۔ پربھاوتی ایک رقاصہ تھی جس نے ماسٹر علی بخش سے شادی کی اور اسلام قبول کر کے مسلمان ہو گئی جس کا اسلامی نام اقبال بیگم رکھا گیا۔ مینا کماری اقبال بیگم اور ماسٹر علی بخش کی بیٹی تھیں ۔ مینا کماری نے فلموں میں لازوال کردار ادا کیا اور خوب صورت شاعری کی انہوں نے 14 فروری 1954 میں کمال امروہوی سے شادی کی ۔ مینا کماری کو اولاد نہیں ہوئی۔ 31 مارچ 1972 میں ان کی وفات ہوئی۔

    مینا کماری ناز کی خوب صورت شاعری سے انتخاب
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    تیری عنایتوں کا انداز جداگانہ
    کبھی رو پڑے مقدر ، کبھی ہنس پڑا زمانہ

    تیری آواز میں تارے سے کیوں چمکنے لگے
    کس کی آنکھوں کے ترنم کو چُرا لائی ہے
    کس کی آغوش کی ٹھنڈک پہ ڈاکہ ڈالا ہے
    کس کی بانہوں سے تو شبنم کو اُٹھا لائی ہے

    ہاں کوئی اور ہو گا تو نے جو دیکھا ہو گا
    ہم نہیں آگ سے بچ بچ کے گزرنے والے

    نہ انتظار ، نہ آہٹ ، نہ تمنا ، نہ امید
    زندگی ہے کہ یوں بے حس ہوئی جاتی ہے

    سنبھلتا نہیں دل کسی بھی طرح
    محبت کی ہائے تباہ کاریاں

    شمع ہوں ، پھول ہوں یا ریت پہ قدموں کا نشاں
    آپ کو حق ہے مجھے جو بھی چاہے کہہ لیں

    آبلہ پا کوئی اس دشت میں آیا ہوگا
    ورنہ آندھی میں دیا کس نے جلایا ہوگا

    آغاز تو ہوتا ہے انجام نہیں ہوتا
    جب میری کہانی میں وہ نام نہیں ہوتا

    عیادت ہوتی جاتی ہے عبادت ہوتی جاتی ہے
    مرے مرنے کی دیکھو سب کو عادت ہوتی جاتی ہے

    کہیں کہیں کوئی تارہ کہیں کہیں جگنو
    جو میری رات تھی وہ آپ کا سویرا ہے

    یوں تیری رہ گزر سے دیوانہ وار گزرے
    کاندھے پہ اپنے رکھ کے اپنا مزار گزرے
    بیٹھے ہیں راستے میں دل کا کھنڈر سجا کر
    شاید اسی طرف سے اک دن بہار گزرے
    دار و رسن سے دل تک سب راستے ادھورے
    جو ایک بار گزرے وہ بار بار گزرے
    بہتی ہوئی یہ ندیا گھلتے ہوئے کنارے
    کوئی تو پار اترے کوئی تو پار گزرے
    مسجد کے زیر سایہ بیٹھے تو تھک تھکا کر
    بولا ہر اک منارہ تجھ سے ہزار گزرے
    قربان اس نظر پہ مریم کی سادگی بھی
    سائے سے جس نظر کے سو کردگار گزرے
    تو نے بھی ہم کو دیکھا ہم نے بھی تجھ کو دیکھا
    تو دل ہی ہار گزرا ہم جان ہار گزرے

    جب چاہا اقرار کیا ہے جب چاہا انکار کیا
    دیکھو ہم نے خود ہی سے یہ کیسا انوکھا پیار کیا
    ایسا انوکھا ایسا تیکھا جس کو کوئی سہہ نہ سکے
    ہم سمجھے پتی پتی کو ہم نے ہی سرشار کیا
    روپ انوکھے میرے ہیں اور روپ یہ تو نے دیکھے ہیں
    میں نے چاہا کر بھی دکھایا یا جنگل گلزار کیا
    درد تو ہوتا ہی رہتا ہے درد کے دن ہی پیارے ہیں
    جیسے تیز چھری کو ہم نے رہ رہ کر پھر دھار کیا
    کالے چہرے کالی خوشبو سب کو ہم نے دیکھا ہے
    اپنی آنکھوں سے ان کو شرمندہ ہر اک بار کیا
    روتے دل ہنستے چہروں کو کوئی بھی نہ دیکھ سکا
    آنسو پی لینے کا وعدہ ہاں سب نے ہر بار کیا
    کہنے جیسی بات نہیں ہے بات تو بالکل سادہ ہے
    دل ہی پر قربان ہوئے اور دل ہی کو بیمار کیا
    شیشے ٹوٹے یا دل ٹوٹے خشک لبوں پر موت لئے
    جو کوئی بھی کر نہ سکا وہ ہم نے آخر کار کیا
    نازؔ ترے زخمی ہاتھوں نے جو بھی کیا اچھا ہی کیا
    تو نے سب کی مانگ سجائی ہر اک کا سنگار کیا

    آغاز تو ہوتا ہے انجام نہیں ہوتا
    جب میری کہانی میں وہ نام نہیں ہوتا
    جب زلف کی کالک میں گھل جائے کوئی راہی
    بدنام سہی لیکن گمنام نہیں ہوتا
    ہنس ہنس کے جواں دل کے ہم کیوں نہ چنیں ٹکڑے
    ہر شخص کی قسمت میں انعام نہیں ہوتا
    دل توڑ دیا اس نے یہ کہہ کے نگاہوں سے
    پتھر سے جو ٹکرائے وہ جام نہیں ہوتا
    دن ڈوبے ہے یا ڈوبی بارات لیے کشتی
    ساحل پہ مگر کوئی کہرام نہیں ہوتا

    عیادت ہوتی جاتی ہے عبادت ہوتی جاتی ہے
    میرے مرنے کی دیکھو سب کو عادت ہوتی جاتی ہے
    نمی سی آنکھ میں اور ہونٹ بھی بھیگے ہوئے سے ہیں
    یہ بھیگا پن ہی دیکھو مسکراہٹ ہوتی جاتی ہے
    تیرے قدموں کی آہٹ کو ہے دل یہ ڈھونڈھتا ہر دم
    ہر اک آواز پہ اک تھرتھراہٹ ہوتی جاتی ہے
    یہ کیسی یاس ہے رونے کی بھی اور مسکرانے کی
    یہ کیسا درد ہے کہ جھنجھناہٹ ہوتی جاتی ہے
    کبھی تو خوب صورت اپنی ہی آنکھوں میں ایسے تھے
    کسی غم خانہ سے گویا محبت ہوتی جاتی ہے
    خود ہی کو تیز ناخونوں سے ہائے نوچتے ہیں اب
    ہمیں اللہ خود سے کیسی الفت ہوتی جاتی ہے

    اے میرے اجنبی
    تو چلا جائے گا
    وقت آنسو ہی آنسو میں ڈھل جائے گا
    وقت آہوں میں میری بدل جائے گا
    وقت یادوں سے تیری بہل جائے گا
    جسم لاوے کی صورت پگھل جائے گا
    ذہن پارے کی صورت پھسل جائے گا
    تو چلا جائے گا
    اے میرے اجنبی

  • کسی کا راز تو پھر بھی پرائی بات ہوئی ،خود اپنے دل کو سمجھنا بھی سخت مشکل ہے

    کسی کا راز تو پھر بھی پرائی بات ہوئی ،خود اپنے دل کو سمجھنا بھی سخت مشکل ہے

    حرم ہو دیر ہو ہر جا ہے آدمی ہی خدا
    مجھے کہیں مرا پروردگار مل نہ سکا

    سحاب قزلباش کا نام سلطانہ قزلباش تھا۔وہ 1934ء میں راجستھان کی ایک سکھ ریاست جھالا واڑ میں پیدا ہوئیں ۔ان کا وطن دلی ہے ۔ ابتدائی تعلیم دلّی کوئن میری اسکول میں پائی ۔سحاب نے آنکھیں کھولیں تو گھر میں علمی وادبی فضا دیکھی ۔ بہزاد لکھنوی، حیرت دہلوی ، جگر مرادآبادی اور دوسرے شعرا کا کلام اور ان لوگوں کا ترنم بہت غور سے سنا کرتیں۔ کبھی اپنے والد کو تحت اللفظ پڑھتے سنتیں۔ اسی ماحول میں انھیں خود بھی شعر کہنے کا ذوق پیدا ہوا۔تقسیم ہند کے بعد سحاب قزلباش لاہور آ گئیں۔ وہاں انھوں نے ریڈیو پاکستان ،کراچی میں مشہور ڈراما’’انارکلی‘‘ کا کردار ادا کیا جسے لوگوں نے بہت پسند کیا۔

    کراچی میں مشاعروں کے علاوہ سماجی کاموں میں بھی حصہ لیا ۔ان کے گھر میں فارسی بولی جاتی تھی۔ 1958ء میں وہ لندن چلی گئیں جہاں وہ بی بی سی کی اردو سروس میں بچوں کے پروگرام کرنے لگیں۔ ان کا ترنم بہت اچھا تھا اور وہ مشاعروں کی کامیاب ترین شاعرہ تھیں۔ 27 جولائی 2004ء لندن میں انتقال کرگئیں۔ان کی تصانیف کے نام یہ ہیں: ’لفظوں کے پیرہن‘(شعری مجموعہ)، ’ بدلیاں‘(افسانے)، ’میرا کوئی ماضی نہیں‘(یادوں اور خاکوں کا مجموعہ)، ’ملکوں ملکوں شہروں شہروں‘ (سفرنامہ)۔ بحوالۂ:پیمانۂ غزل(جلد دوم)،محمد شمس الحق،صفحہ:292

    غروب مہر پہ کس نے لہو چڑھایا ہے
    یہ کس نے خون جلایا ہے روشنی کی لیے

    حرم ہو دیر ہو ہر جا ہے آدمی ہی خدا
    مجھے کہیں مرا پروردگار مل نہ سکا
    تمام عمر ہی روتے گزر گئی ہے سحاب
    ہمیں تو بھول کے بھی غم گسار مل نہ سکا

    آدمی اک تضاد باہم ہے
    کبھی جنت کبھی جہنم ہے

    غم ہے اک نعمت خداوندی
    جتنا برتو اسی قدر کم ہے
    بجھ رہے ہیں چراغِ دیر و حرم
    دل جلاؤ کہ روشنی کم ہے

    غزل
    ۔۔۔۔
    ہزار باتیں ہیں دل میں ابھی سنانے کو
    مگر زباں نہیں ملتی ہمیں بتانے کو
    وہ آنکھیں آج ستارے تراشتی دیکھیں
    جنہوں نے رنگ تبسم دیا زمانے کو
    ہم اہل ظرف ابھی تک ہیں ایک جنس لطیف
    جنہیں کچل دیا دنیا نے آزمانے کو
    ہمارے پھول ہمارا چمن ہماری بہار
    ہمیں کو جا نہیں ملتی ہے آشیانے کو
    سحابؔ اتنے تغیر نواز ہیں ہم بھی
    کہ اپنے نغموں نے چونکا دیا زمانے کو

    غزل
    ۔۔۔۔
    آدمی اک تضاد باہم ہے
    کبھی جنت کبھی جہنم ہے
    غم ہے اک نعمت خداوندی
    جتنا برتو اسی قدر کم ہے
    التفات آپ کا بجا لیکن
    کیا خوشی ہے کہ آنکھ پر نم ہے
    بجھ رہے ہیں چراغ دیر و حرم
    دل جلاؤ کہ روشنی کم ہے
    اب کسی سے گلہ نہیں مجھ کو
    اپنی دنیا ہی اپنا عالم ہے

    غزل
    ۔۔۔۔
    بڑھے چلو کہ تھکن تو نشے کی محفل ہے
    ابھی تو دور بہت دور اپنی منزل ہے
    یہ بے قرار تبسم ترے لبوں کا فسوں
    یہی تو چاک گریباں کی پہلی منزل ہے
    کسی کا راز تو پھر بھی پرائی بات ہوئی
    خود اپنے دل کو سمجھنا بھی سخت مشکل ہے
    کسی نے چاند پہ لہرا دیا ہے پرچم وقت
    کوئی ہماری طرح سہل جس کو مشکل ہے
    اک آبشار پہ مانند برگ آوارہ
    کوئی مقام ہے اپنا نہ کوئی منزل ہے