Baaghi TV

Tag: شاعری

  • ایک پوسٹ گریجویٹ شاعرہ کا معصومانہ سوال

    ایک پوسٹ گریجویٹ شاعرہ کا معصومانہ سوال

    کیسے کیسے لوگ / آغا نیاز مگسی

    گزشتہ شب واٹس ایپ پر خیبر پختون خواہ سے تعلق رکھنے والی ایک پوسٹ گریجویٹ شاعرہ صاحبہ کے ساتھ اپنے اپنے علاقوں کے متعلق تعارفی سلسلہ شروع ہوا تو انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ آپ کا تعلق کس شہر سے ہے تو میں نے جواب میں عرض کیا کہ میرا تعلق ڈیرہ مراد جمالی نصیر آباد بلوچستان سے ہے تو انہوں نے کہا کہ یہ بلوچستان پنجاب میں ہے یا سندھ صوبے میں ؟ مجھے ان کے اس غیر متوقع بلکہ معصومانہ سوال پر ایک لمحے کیلئے تھوڑا سا غصہ آیا لیکن جلد ہی میں نے غصے پر قابو پاتے ہوئے وضاحت کی کہ محترمہ بلوچستان نہ تو پنجاب میں ہے اور نہ ہی سندھ میں واقع ہے بلکہ یہ بھی پاکستان کا ایک صوبہ ہے تاہم ، میں ان کو اس وقت یہ بتانا بھول گیا کہ بلوچستان رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے اور معدنیات و دیگر قدرتی وسائل کے لحاظ سے شاید دنیا کا سب سے امیر ترین صوبہ ہے لیکن یہ الگ بات ہے کہ اس کے باوجود غربت اور پسماندگی میں بھی بلوچستان ایک عالمی ریکارڈ رکھتا ہے۔

    کراچی کی ایک سینیئر شاعرہ جو کہ بیرون دنیا کے کئی ممالک کا دورہ کر چکی ہیں وہ گزشتہ 4 ماہ سے مجھ سے پوچھتی رہتی ہیں کہ آغا صاحب آپ کس شہر سے ہیں ؟ اور میرا ہر بار وہی جواب ہوتا ہے کہ ڈیرہ مراد جمالی نصیر آباد بلوچستان سے ہوں ان سے بھی سینیئر ترین شاعرہ جرمنی کی ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ بلکہ مذہبی اسکالر بھی ہیں وہ گزشتہ 5 سال سے سال میں ایک یا دو بار مجھ سے رابطہ کر کے پوچھتی ہیں کہ آغا صاحب وہ جو آپ نے میرا تعارف لکھا تھا اگر آپ کے پاس اس کی کاپی ہے تو پلیز مجھے سینڈ کریں مجھ سے کسی اخبار یا میگزین والے نے مانگا ہے اور دلچسپ بات یہ ہے کہ میں واٹس ایپ پر انہی کی ڈی پی سے کاپی پیسٹ کر کے انہیں دوبارہ ارسال کر کے ان کی ڈھیر ساری دعائیں سمیٹ لیتا ہوں ایسا معاملہ صرف خواتین تک محدود نہیں ہے۔

    نصیر آباد میں ایک ڈپٹی کمشنر صاحب کافی عرصہ پہلے تعینات تھے میں جب بھی ان سے کسی سلسلے میں ملاقات کیلئے جاتا تو مجھے بڑے اخلاق سے کہتے کہ ” جی جناب حکم فرمائیں آپ کس ڈپارٹمنٹ سے ہیں ” ۔؟

  • 31 اکتوبر : یوم پیدائش سارہ شگفتہ

    31 اکتوبر : یوم پیدائش سارہ شگفتہ

    تمہیں جب بھی کوئی دکھ دے
    اس دکھ کا نام بیٹی رکھنا

    سارہ شگفتہ

    31 اکتوبر : یوم پیدائش

    سارہ شگفتہ کا شمار اردو کی جدید شاعرات میں ہوتا ہے۔ وہ 31؍اکتوبر 1954ء کو گوجرانوالہ، پاکستان میں پیدا ہوئیں۔ اردو اور پنجابی میں معتد بہ نظمیں تخلیق کیں۔ نظمیہ شاعری کے لیے انھوں نے نثری نظم کا پیرایہ اختیار کیا۔ غریب اور ان پڑھ خاندانی پس منظر کے باوجود وہ پڑھنا چاہتی تھیں مگر میٹرک بھی مکمل نہ کر سکیں۔ ان کی سوتیلی ماں، کم عمر کی شادی اور پھر مزید تین شادیوں نے انھیں سخت ذہنی اذیت میں مبتلا کر دیا۔ نتیجتاً انھیں دماغی امراض کے اسپتال میں داخل کیا گیا جہاں انھوں نے خودکشی کی ناکام کوشش کی۔ خود کشی کی یہ کوشش مختلف موقعوں پر چار بار دہرائی گئی۔ ان کی اردو شاعری کے مجموعے ’آنکھیں‘ اور’نیند کا رنگ‘ کے نام سے شائع ہوئے۔
    04؍جون 1984ء کو انھوں نے کراچی میں ٹرین کے نیچے آکر جان دے دی۔ ان کی ناگہانی موت نے ان کی زندگی اور شاعری کے مطالعے کو ایک نئی جہت عطا کی۔ وفات کے بعد ان کی شخصیت پر پنجابی کی مشہور شاعرہ اور ناول نگار امرتا پرتیم نے ’ایک تھی سارہ‘ اور انور سن رائے نے ’ذلتوں کے اسیر‘ کے نام سے کتاب تحریر کی اور پاکستان ٹیلی ویژن نے ایک ڈرامہ سیریل پیش کیا جس کا نام ’آسمان تک دیوار‘ تھا۔

    وکیپیڈیا سے ماخوذ

    منتخب شاعری
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ہمارے آنسوؤں کی آنکھیں بنائی گئیں
    ہم نے اپنے اپنے تلاطم سے رسہ کشی کی
    اور اپنا اپنا بین ہوئے
    ستاروں کی پکار آسمان سے زیادہ زمین سنتی ہے
    میں نے موت کے بال کھولے
    اور جھوٹ پہ دراز ہوئی
    نیند آنکھوں کے کنچے کھیلتی رہی
    شام دوغلے رنگ سہتی رہی
    آسمانوں پہ میرا چاند قرض ہے
    میں موت کے ہاتھ میں ایک چراغ ہوں
    جنم کے پہیے پر موت کی رتھ دیکھ رہی ہوں
    زمینوں میں میرا انسان دفن ہے
    سجدوں سے سر اٹھا لو
    موت میری گود میں ایک بچہ چھوڑ گئی ہے

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    بین کرنے والوں نے
    مجھے ادھ کھلے ہاتھ سے قبول کیا
    انسان کے دو جنم ہیں
    پھر شام کا مقصد کیا ہے
    میں اپنی نگرانی میں رہی اور کم ہوتی چلی گئی
    کتوں نے جب چاند دیکھا
    اپنی پوشاک بھول گئے
    میں ثابت قدم ہی ٹوٹی تھی
    اب تیرے بوجھ سے دھنس رہی ہوں
    تنہائی مجھے شکار کر رہی ہے
    اے میرے سر سبز خدا
    خزاں کے موسم میں بھی میں نے تجھے یاد کیا
    قاتل کی سزا مقتول نہیں
    غیب کی جنگلی بیل کو گھر تک کیسے لاؤں
    پھر آنکھوں کے ٹاٹ پہ میں نے لکھا
    میں آنکھوں سے مرتی
    تو قدموں سے زندہ ہو جاتی

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    تجھے جب بھی کوئی دکھ دے
    اس دکھ کا نام بیٹی رکھنا
    جب میرے سفید بال
    تیرے گالوں پہ آن ہنسیں رو لینا
    میرے خواب کے دکھ پہ سو لینا
    جن کھیتوں کو ابھی اگنا ہے
    ان کھیتوں میں
    میں دیکھتی ہوں تیری انگیا بھی
    بس پہلی بار ڈری بیٹی
    میں کتنی بار ڈری بیٹی
    ابھی پیڑوں میں چھپے تیرے کمان ہیں بیٹی
    میرا جنم تو ہے بیٹی
    اور تیرا جنم تیری بیٹی
    تجھے نہلانے کی خواہش میں
    میری پوریں خون تھوکتی ہیں

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    بین کرنے والوں نے
    مجھے ادھ کھلے ہاتھ سے قبول کیا
    انسان کے دو جنم ہیں
    پھر شام کا مقصد کیا ہے
    میں اپنی نگرانی میں رہی اور کم ہوتی چلی گئی
    کتوں نے جب چاند دیکھا
    اپنی پوشاک بھول گئے
    میں ثابت قدم ہی ٹوٹی تھی
    اب تیرے بوجھ سے دھنس رہی ہوں
    تنہائی مجھے شکار کر رہی ہے
    اے میرے سر سبز خدا
    خزاں کے موسم میں بھی میں نے تجھے یاد کیا
    قاتل کی سزا مقتول نہیں
    غیب کی جنگلی بیل کو گھر تک کیسے لاؤں
    پھر آنکھوں کے ٹاٹ پہ میں نے لکھا
    میں آنکھوں سے مرتی
    تو قدموں سے زندہ ہو جاتی

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    خالی آنکھوں کا مکان مہنگا ہے
    مجھے مٹی کی لکیر بن جانے دو
    خدا بہت سے انسان بنانا بھول گیا ہے
    میری سنسان آنکھوں میں آہٹ رہنے دو
    آگ کا ذائقہ چراغ ہے
    اور نیند کا ذائقہ انسان
    مجھے پتھروں جتنا کس دو
    کہ میری بے زبانی مشہور نہ ہو
    میں خدا کی زبان منہ میں رکھے
    کبھی پھول بن جاتی ہوں اور کبھی کانٹا
    زنجیروں کی رہائی دو
    کہ انسان ان سے زیادہ قید ہے
    مجھے تنہا مرنا ہے
    سو یہ آنکھیں یہ دل
    کسی خالی انسان کو دے دینا

  • یہ طرز خاص ہے کوئی کہاں سے لائے گا ،جو ہم کہیں گے کسی سے کہا نہ جائے گا

    یہ طرز خاص ہے کوئی کہاں سے لائے گا ،جو ہم کہیں گے کسی سے کہا نہ جائے گا

    دامن پہ کوئی چھینٹ نہ خنجر پہ کوئی داغ
    تم قتل کرو ہو کہ کرامات کرو ہو

    کلیم عاجز

    کلاسیکی لب و لہجے کے لئے معروف، ممتاز اور مقبول شاعر” کلیم عاجزؔ صاحب “ کا یومِ ولادت…نام کلیم احمد اور تخلص عاجزؔ ہے۔ 11اکتوبر 1924ء میں قصبہ تلہاڑہ، ضلع پٹنہ میں پیدا ہوئے۔کلاس شروع ہوتے ہی والد کا انتقال ہوگیا،چنانچہ پڑھائی کا سلسلہ منقطع ہوگیا۔ ۱۹۴۶ء میں بہارمیں فساد کی آگ بھڑک اٹھی،گھر کے تمام افراد شہید کردیے گئے۔ ان جاں گسل حالات کا ذہن پر بہت برا اثر ہوا اور دنیا ومافیہا کی خبر نہ رہی۔لمبے وقفے کے بعد۱۹۵۶ء بی اے (آنرز)اور۱۹۵۸ء میں ایم اے کا امتحان دیا اور پوری یونیورسٹی میں اول آئے اور طلائی تمغہ حاصل کیا۔’’بہار میں اردو شاعری کے ارتقا‘‘ پر تحقیقی مقالہ لکھ کر ۱۹۶۵ء میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔پٹنہ کالج، پٹنہ یونیورسٹی کے شعبۂ اردو میں ریڈر کے منصب پر فائز ہوئے۔ مسلم ہائی اسکول کے نویں جماعت میں جب زیر تعلیم تھے تو چند غزلیں لکھ کر اسکول کے ہیڈ مولوی ثمر آروی سے اصلاح لی۔پہلی او رآخری اصلاح یہی تھی۔ان کی تصانیف کے نام یہ ہیں:’مجلسِ ادب‘، ’وہ جوشاعری کا سبب ہوا‘، ’جہاں خوش بو ہی خوش بو تھی‘، ’یہا ں سے کعبہ ، کعبے سے مدینہ‘، ’اک دیس ایک بدیسی‘۔بحوالۂ:پیمانۂ غزل(جلد دوم)،محمد شمس الحق،صفحہ:172 14 فروری 2015ء میں وفات پا گئے-

    اشعار
    ۔۔۔۔۔۔۔
    آزمانا ہے تو آ بازو و دل کی قوت
    تو بھی شمشیر اٹھا ہم بھی غزل کہتے ہیں

    اپنا لہو بھر کر لوگوں کو بانٹ گئے پیمانے لوگ
    دنیا بھر کو یاد رہیں گے ہم جیسے دیوانے لوگ

    ہاں کچھ بھی تو دیرینہ محبت کا بھرم رکھ
    دل سے نہ آ دنیا کو دکھانے کے لئے آ

    دامن پہ کوئی چھینٹ نہ خنجر پہ کوئی داغ
    تم قتل کرو ہو کہ کرامات کرو ہو

    مے میں کوئی خامی ہے نہ ساغر میں کوئی کھوٹ
    پینا نہیں آئے ہے تو چھلکائے چلو ہو

    مے کدے کی طرف چلا زاہد
    صبح کا بھولا شام گھر آیا

    اس قدر سوز کہاں اور کسی ساز میں
    کون یہ نغمہ سرا میر کے انداز میں ہے

    مری شاعری میں نہ رقص جام نہ مے کی رنگ فشانیاں
    وہی دکھ بھروں کی حکایتیں وہی دل جلوں کی کہانیاں

    تلخیاں اس میں بہت کچھ ہیں مزا کچھ بھی نہیں
    زندگی دردِ محبت کے سوا کچھ بھی نہیں

    سینے کے زخم پاؤں کے چھالے کہاں گئے
    اے حسن تیرے چاہنے والے کہاں گئے

    تو رئیس شہر ستم گراں میں گدائے کوچۂ عاشقاں
    تو امیر ہے تو بتا مجھے میں غریب ہوں تو برا ہے کیا

    یہ ستم کی محفل ناز ہے کلیمؔ اس کو اور سجائے جا
    وہ دکھائیں رقص ستم گری تو غزل کا ساز بجائے جا

    یہ طرز خاص ہے کوئی کہاں سے لائے گا
    جو ہم کہیں گے کسی سے کہا نہ جائے گا

    یہ وعظ وفاداری عاجزؔ نہ بدل دینا
    وہ زخم تجھے دیں گے تم ان کو غزل دینا

    ہم خاک نشیں تم سخن آرائے سر بام
    پاس آ کے ملو دور سے کیا بات کرو ہو

    یہ ستم کی محفل ناز ہے کلیمؔ اس کو اور سجائے جا
    وہ دکھائیں رقص ستم گری تو غزل کا ساز بجائے جا

    غم دل ہی کے ماروں کو غمِ ایام بھی دے دو
    غم اتنا لینے والے کیا اب اتنا غم نہیں لیں گے

    امتحان شوق میں ثابت قدم ہوتا نہیں
    عشق جب تک واقف آداب غم ہوتا نہیں

    حقیقتوں کا جلال دیں گے صداقتوں کا جمال دیں گے
    تجھے بھی ہم اے غم زمانہ غزل کے سانچے میں ڈھال دیں گے

    کوئے قاتل ہے مگر جانے کو جی چاہے ہے
    اب تو کچھ فیصلہ کر جانے کو جی چاہے ہے

    نظر کو آئنہ دل کو ترا شانہ بنا دیں گے
    تجھے ہم کیا سے کیا اے زُلفِ جانانہ بنا دیں گے

    شکایت ان سے کرنا گو مصیبت مول لینا ہے
    مگر عاجزؔ غزل ہم بے سنائے دم نہیں لیں گے

  • صحافی ، شاعرہ اور افسانہ نگار  ثریا شہاب

    صحافی ، شاعرہ اور افسانہ نگار ثریا شہاب

    جو درد کے صحرا میں کبھی باد صبا تھی
    اب شہر سے تیرے وہ ہوا بھی نہیں آتی

    1945 کو کراچی میں پیدا ہونے والی ثریا شہاب نے ریڈیو ،ٹیلی ویژن کی صحافت، ادب اور شاعری میں عالمی سطح پر شہرت حاصل کی انہوں نے پاکستان، جرمنی، برطانیہ اور ایران سمیت 4 ممالک میں اپنی صحافتی خدمات سر انجام دیں۔ ثریا شہاب نے ریڈیو ایران زاہدان، پاکستان ٹیلی ویژن، بی بی سی لندن اور ریڈیو دوئچے ویلے جرمنی میں براڈ کاسٹنگ کی خدمات سرانجام دیں۔ انھوں نے سب سے پہلے ریڈیو پاکستان کراچی کے ڈراموں میں صداکاری سے اپنا کیریئر شروع کیا جس کے بعد انہوں نے اپنے براڈکاسٹنگ کیریئر کا آغاز ریڈیو تہران کے ایک میگزین پروگرام سے کیا تھا، ان کا یہ پروگرام عوام بالخصوص نوجوانوں میں بہت مقبول تھا۔ نوجوان اس پروگرام کا بے چینی سے انتظار کیا کرتے تھے۔ اس پروگرام کا آغاز کچھ یوں ہوا کرتا تھا، ”آواز کی دنیا کے دوستو یہ ریڈیو ایران، زاہدان ہے“۔ بعدازاں ثریا شہاب نے ریڈیو پاکستان اور پاکستان ٹیلی ویژن میں بطور نیوز ریڈر ملازمت کا آغاز کیا، انہوں نے اس شعبے میں بہت اعلیٰ مقام حاصل کیا اور اپنے عہد کی سلیبریٹی بن گئیں۔

    1984 میں ثریا شہاب نے بی بی سی اردو سروس میں شمولیت اختیار کی وہ ریڈیو پاکستان اور پاکستان ٹیلی وژن سے بی بی سی کی اردو سروس کے لیے منتخب ہونے والی خاتون اینکر تھیں 1985 میں وہ لندن منتقل ہوگئیں ان کے شوہر رضی رضوی بھی اسی سال وائس آف امریکہ کے لیے منتخب ہوئے اور وہ واشنٹگن چلے گئے۔ ثریا شہاب نے شاعری بھی کی ناول اور افسانے بھی لکھے۔ ان کی 5 کتابیں چھپ چکی ہیں جن میں دو ناول، ایک افسانوی مجموعہ ایک شعری مجموعہ’’ خود سے ایک سوال‘‘ اور ” سفر جاری ہے“” کے نام سے ایک سفرنامہ شامل ہے ۔

    ثریا شہاب نے پاکستان میں ریڈیو اور ٹیلی ویژن کے اسٹاف حقوق کے لیئے بھرپور جدوجہد کی جبکہ انہوں نے راولپنڈی میں ” پاکستان یوتھ لیگ“” کے نام سے ایک تنظیم بھی بنائی تھی جس کے تحت انھوں نے پانی کے متعدد کنویں کھدوائے اور کئی اسکول تعمیر کرائے ۔ ثریا شہاب 2000 میں بریسٹ کینسر کے موذی مرض میں مبتلا ہو گئی تھیں جس کی وجہ سے وہ پاکستان واپس آ گئیں اور اپنے وطن میں علاج اور دفن ہونے کو ترجیح دی۔ وہ 13 ستمبر 2019 کو اسلام آباد میں انتقال کر گئیں اور اسلام آباد میں ہی آسودہ خاک ہوئیں ۔ 2 بیٹیاں اور ایک بیٹا انھوں نے اپنے پسماندگان میں سوگوار چھوڑے۔
    ثریا شہاب صاحبہ کی شاعری سے منتخب کلام قارئین کی نذر۔
    ماہیے
    ۔۔۔۔
    اک پیار کی ندی تھی
    جس کے کنارے پر
    آشائوں کی بستی تھی

    پھر بدلیں نہ تقدیریں
    پڑ گئیں ہاتھوں میں
    حالات کی زنجیریں

    جب چاند نکل آیا
    دھان کے کھیتوں میں
    سونا سا پگھل آیا

    اک قوس قزح سی تھی
    بالی عمریا تھی
    اور پینگ تھی جھولے کی

    خوابوں کا زمانہ تھا
    تتلی پکڑنا تو
    بس ایک بہانہ تھا

    غزل
    ۔۔۔۔
    اب دل کے دھڑکنے کی صدا بھی نہیں آتی
    در بند ہیں ایسے کہ ہوا بھی نہیں آتی
    حیراں ہوں دو سہمے ہوئے ہاتھ اٹھائے
    کیا مانگوں خدا سے کہ دعا بھی نہیں آتی
    پر ہول ہے اس طرح سے سناٹے کا عالم
    خود اپنی ہی چیخوں کی صدا بھی نہیں آتی
    جو درد کے صحرا میں کبھی باد صبا تھی
    اب شہر سے تیرے وہ ہوا بھی نہیں آتی
    جس بات پہ ہم تیاگ چکے ہیں تری دنیا
    وہ بات انھیں یاد ذرا بھی نہیں آتی

  • جدید اردو شاعری کی خاتون اول ادا جعفری

    جدید اردو شاعری کی خاتون اول ادا جعفری

    ہونٹوں پہ کبھی ان کے مرا نام ہی آئے
    آئے تو سہی بر سر الزام ہی آئے

    ادا جعفری

    جدید اردو شاعری کی خاتون اول سمجھے جانےوالی ادا جعفری 22 اگست 1924ء کو بدایوں میں پیدا ہوئیں آپ کاخاندانی نام عزیز جہاں ہے آپ تین سال کی تھیں کہ والد مولوی بدرالحسن کا انتقال ہو گیا جس کے بعد پرورش ننھیال میں ہوئی ادا جعفری نے تیرہ برس کی عمر میں ہی شاعری شروع کر دی تھی وہ ادا بدایونی کے نام سے شعر کہتی تھیں اس وقت ادبی رسالوں میں ان کا کلام شائع ہونا شروع ہو گیا تھا ان کی کی شادی 1947ء میں نور الحسن جعفری سے انجام پائی۔

    شادی کے بعد ادا جعفری کے نام سے لکھنے لگیں ادا جعفری عموماً اثر لکھنوی سے اصلاح لیتی رہی ان کے شعری مجموعہ شہر درد کو 1968ء میں آدم جی ادبی انعام ملا شاعری کے بہت سے مجموعہ جات کے علاوہ جو رہی سو بے خبری رہی کے نام سے اپنی خود نوشت سوانح عمری بھی 1995ء میں لکھی 1991ء میں حکومت پاکستان نے ادبی خدمات کے اعتراف میں تمغہ امتیاز سے نوازا وہ کراچی میں رہائش پذیر تھیں۔
    وفات
    ۔۔۔۔۔
    مختصر علالت کے بعد 12 مارچ، 2015ء کو آپ کا انتقال ہو گیا۔
    تصانیف
    ۔۔۔۔۔
    ۔ (1)میں ساز ڈھونڈتی رہی
    ۔ 1950(شاعری)
    ۔ (2)شہر درد 1967 (شاعری)
    ۔ 1968ء میں
    ۔ آدم جی ادبی انعام ملا
    ۔ (3)غزالاں تم توواقف ہو
    ۔ 1974 (شاعری)
    ۔ (4)ساز سخن بہانہ ہے
    ۔ 1982 (شاعری) ہائیکو
    ۔ (5)حرف شناسائی (شاعری)
    ۔ (6)موسم موسم
    ۔ (کلیات2002ء)
    ۔ (7)جو رہی سو بے خبری رہی
    ۔ 1995 ( خود نوشت)

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    ہونٹوں پہ کبھی ان کے مرا نام ہی آئے
    آئے تو سہی بر سر الزام ہی آئے
    حیران ہیں لب بستہ ہیں دلگیر ہیں غنچے
    خوشبو کی زبانی ترا پیغام ہی آئے
    لمحات مسرت ہیں تصور سے گریزاں
    یاد آئے ہیں جب بھی غم و آلام ہی آئے
    تاروں سے سجا لیں گے رہ شہر تمنا
    مقدور نہیں صبح چلو شام ہی آئے
    کیا راہ بدلنے کا گلہ ہم سفروں سے
    جس رہ سے چلے تیرے در و بام ہی آئے
    تھک ہار کے بیٹھے ہیں سر کوئے تمنا
    کام آئے تو پھر جذبۂ ناکام ہی آئے
    باقی نہ رہے ساکھ اداؔ دشت جنوں کی
    دل میں اگر اندیشۂ انجام ہی آئے

    متفرق اشعار
    ۔۔۔۔۔
    میں آندھیوں کے پاس تلاش صبا میں ہوں
    تم مجھ سے پوچھتے ہو مرا حوصلہ ہے کیا

    ہونٹوں پہ کبھی ان کے مرا نام ہی آئے
    آئے تو سہی بر سر الزام ہی آئے

    اگر سچ اتنا ظالم ہے تو ہم سے جھوٹ ہی بولو
    ہمیں آتا ہے پت جھڑ کے دنوں گل بار ہو جانا

    آ دیکھ کہ میرے آنسوؤں میں
    یہ کس کا جمال آ گیا ہے

    جس کی باتوں کے فسانے لکھے
    اس نے تو کچھ نہ کہا تھا شاید

    جو چراغ سارے بجھا چکے انہیں انتظار کہاں رہا
    یہ سکوں کا دور شدید ہے کوئی بے قرار کہاں رہا

    ہمارے شہر کے لوگوں کا اب احوال اتنا ہے
    کبھی اخبار پڑھ لینا کبھی اخبار ہو جانا

    جس کی جانب اداؔ نظر نہ اٹھی
    حال اس کا بھی میرے حال سا تھا

    بڑے تاباں بڑے روشن ستارے ٹوٹ جاتے ہیں
    سحر کی راہ تکنا تا سحر آساں نہیں ہوتا

    ہاتھ کانٹوں سے کر لیے زخمی
    پھول بالوں میں اک سجانے کو

    گل پر کیا کچھ بیت گئی ہے
    البیلا جھونکا کیا جانے

    ایک آئینہ رو بہ رو ہے ابھی
    اس کی خوشبو سے گفتگو ہے ابھی

    دل کے ویرانے میں گھومے تو بھٹک جاؤ گے
    رونق کوچہ و بازار سے آگے نہ بڑھو

    لوگ بے مہر نہ ہوتے ہوں گے
    وہم سا دل کو ہوا تھا شاید

    ورنہ انسان مر گیا ہوتا
    کوئی بے نام جستجو ہے ابھی

    بولتے ہیں دلوں کے سناٹے
    شور سا یہ جو چار سو ہے ابھی

    کوئی طائر ادھر نہیں آتا
    کیسی تقصیر اس مکاں سے ہوئی

    بس ایک بار منایا تھا جشن محرومی
    پھر اس کے بعد کوئی ابتلا نہیں آئی

    خامشی سے ہوئی فغاں سے ہوئی
    ابتدا رنج کی کہاں سے ہوئی

    کٹتا کہاں طویل تھا راتوں کا سلسلہ
    سورج مری نگاہ کی سچائیوں میں تھا

    ابھی صحیفۂ جاں پر رقم بھی کیا ہوگا
    ابھی تو یاد بھی بے ساختہ نہیں آئی

    جو دل میں تھی نگاہ سی نگاہ میں کرن سی تھی
    وہ داستاں الجھ گئی وضاحتوں کے درمیاں

    ریت بھی اپنی رت بھی اپنی
    دل رسم دنیا کیا جانے

    کچھ اتنی روشنی میں تھے چہروں کے آئنہ
    دل اس کو ڈھونڈھتا تھا جسے جانتا نہ تھا

    ہوا یوں کہ پھر مجھے زندگی نے بسر کیا
    کوئی دن تھے جب مجھے ہر نظارہ حسیں ملا

    نہ بہلاوا نہ سمجھوتا جدائی سی جدائی ہے
    اداؔ سوچو تو خوشبو کا سفر آساں نہیں ہوتا

    کانٹا سا جو چبھا تھا وہ لو دے گیا ہے کیا
    گھلتا ہوا لہو میں یہ خورشید سا ہے کیا

    تو نے مژگاں اٹھا کے دیکھا بھی
    شہر خالی نہ تھا مکینوں سے

    کوئی بات خواب و خیال کی جو کرو تو وقت کٹے گا اب
    ہمیں موسموں کے مزاج پر کوئی اعتبار کہاں رہا

    ہزار کوس نگاہوں سے دل کی منزل تک
    کوئی قریب سے دیکھے تو ہم کو پہچانے

    خزینے جاں کے لٹانے والے دلوں میں بسنے کی آس لے کر
    سنا ہے کچھ لوگ ایسے گزرے جو گھر سے آئے نہ گھر گئے ہیں

    کن منزلوں لٹے ہیں محبت کے قافلے
    انساں زمیں پہ آج غریب الوطن سا ہے

    مزاج و مرتبۂ چشم نم کو پہچانے
    جو تجھ کو دیکھ کے آئے وہ ہم کو پہچانے

    متاع درد پرکھنا تو بس کی بات نہیں
    جو تجھ کو دیکھ کے آئے وہ ہم کو پہچانے

    وہ کیسی آس تھی ادا جو کو بہ کو لیے پھری
    وہ کچھ تو تھا جو دل کو آج تک کبھو ملا نہیں

    سب سے بڑا فریب ہے خود زندگی اداؔ
    اس حیلہ جو کے ساتھ ہیں ہم بھی بہانہ ساز

    وہ تشنگی تھی کہ شبنم کو ہونٹ ترسے ہیں
    وہ آب ہوں کہ مقید گہر گہر میں رہوں

    بے نوا ہیں کہ تجھے صوت و نوا بھی دی ہے
    جس نے دل توڑ دیئے اس کی دعا بھی دی ہے

    بجھی ہوئی ہیں نگاہیں غبار ہے کہ دھواں
    وہ راستہ ہے کہ اپنا بھی نقش پا نہ ملے

    خلش تیر بے پناہ گئی
    لیجئے ان سے رسم و راہ گئی

  • شہداء کشمیر کو سلام – عظمیٰ ربانی

    شہداء کشمیر کو سلام – عظمیٰ ربانی

    شہداء کشمیر کو سلام
    از قلم! عظمی ربانی

    کشمیر کے شہیدو! ہوتم پر سلام
    اپنی ملت کا روشن کیا تم نے نام

    تمہاری جر أت،دلیری پہ کیا کیا لکھوں
    تمہاری جانثاری کو میں کیا نام دوں

    تاریخ خود گنوائے گی وہ عظیم کام
    کشمیر کے شہیدو! ہو تم پر سلام

    اپنی ماؤں کی عزت کے نگہباں تھے
    اپنی بہنوں کی حرمت کے پاسباں تھے

    ان رداؤں کی خاطر کی جان اپنی تمام
    کشمیر کے شہیدو! ہو تم پر سلام

    نام سن کر دشمن تھرا ہی تو گئے
    مقابل جو آئے وہ گھبرا ہی تو گئے

    کانپ جاتے تھے دل سن کر تمہارا نام
    کشمیر کے شہیدو!ہو تم پر سلام

    یہ حسین وادی تمھارے خون سے سیراب ہے
    جو راہ دکھلائی تم نے وہ مثلِ ماہتاب ہے

    آزادی کے راہبروں میں ہے تمہارا مقام
    کشمیر کے شہیدو ! ہو تم پر سلام

    قربانی جسم و جاں کی ضائع نہ جاۓ گی
    آنے والی ہر نسل کہانی تمہاری سنائے گی

    فلک تک تمہاری عظمت کا ہو گا چرچا عام
    کشمیر کے شہیدو! ہو تم پر سلام

    مولا تو سن لے مظلوموں کی آہ و بكا
    جگ میں کوئی نہیں ان کا تیرے سوا
    ہر روز جنازے اٹھیں، زندگی ہو گئی جام
    کشمیر کے شہیدو! ہو تم پر سلام

  • یہ تو سفر خون ہے – جویریہ بتول

    یہ تو سفر خون ہے – جویریہ بتول

    یہ تو سفرِ خون ہے…!!!
    ✍🏻:جویریہ بتول
    حقیقت ہے اک کھلی ہوئی یہ تو سفرِ خون ہے…
    ہمت کی یہ بازی ہے… یہ جذبۂ جنون ہے…
    رِستا ہوا ہر اِک زخم مرہم اب مانگے گا…
    طلوعِ صبحِ آزادی اب اِسی کی مرہون ہے…
    گرم جواں لہو سے جو سینچتے ہیں وہ لالہ زار…
    انہی کی جرأتوں کا لکھا ہوا ہر سو مضمون ہے…
    ماؤں نے لعل گنوائے،لُٹا دیے ہیں سہارے سب…
    گُل رنگ گلشن میں کوئی فاختہ نہ مامون ہے…
    کاغذ،قلم اور کتاب پر بھی جہاں پہرے ہیں…
    حقِ رائے آزادی پر لگا طویل لاک ڈاؤن ہے…
    ان نہتے سنگ بازوں کے فلک بوس عزائم سے…
    سہما ہوا انجام اپنے سے وقت کا فرعون ہے…
    اُس قوم کے بچے بچے پر حاوی یہ گہرا عزم ہے…
    ہم لے کر رہیں گے آزادی،یہ نعرہ جن کا سکون ہے…
    بُجھ جائے گا وہ چراغ کیوں کر ظلمتِ شب میں…
    جس کی لُو کو ملا خونِ جگر کا ستون ہے…
    صدیوں کے جاری سفر پر حوصلوں کا سہرا ہے…
    ظلمتوں کی تہہ میں وہ طلوعِ سَحر مدفون ہے…!