Baaghi TV

Tag: شاعر

  • انیسویں صدی کے مقبول ترین شاعر جان کیٹس کا یوم وفات

    انیسویں صدی کے مقبول ترین شاعر جان کیٹس کا یوم وفات

    23 فروری 1821 انیسویں صدی کے مقبول ترین شاعر جان کیٹس کا یوم وفات

    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    جان کیٹس 19 ویں صدی کے مقبول ترین شاعر گزرے ہیں وہ 31 اکتوبر 1795 میں لندن کے ایک نواحی علاقے میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد صاحب کا نام فرانسس کیٹس اور والدہ صاحبہ کا نام تھوماس تھا۔ کیٹس نے ابتدائی تعلیم کی تکمیل کے بعد 1815 سرجن کا امتحان پاس کیا مگر وہ ڈاکٹر کے بجائے شاعر بن گئے۔ ان کو مس فینی محبت ہو گئی جس سے وہ شادی کرنا چاہتے تھے مگر غربت و بے روزگاری اور ٹی بی کے مرض میں مبتلا ہونے کی وجہ سے فینی کی ماں نے کیٹس کو اپنی کا رشتہ دینے سے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ
    ” شاعر ہمیشہ بھوکے مرتے ہیں”
    جان کیٹس کے دو شعری مجموعے ان کی زندگی میں ہی 1817 اور 1818 میں شائع ہوئے۔ جان کیٹس کے Odes دنیا بھر میں مشہور ہیں اور دنیا بھر کے نصابوں میں ان کے Odes شامل ہیں ۔ کیٹس ٹی بی کے مرض میں صرف 25 سال کی عمر میں 23 فروری 1821 کو اٹلی میں انتقال کر گئے۔

    جان کیٹس کے یوم وفات کی مناسبت سے مشہور اوڈ ،ode to a Grecian urn کے پہلے سٹینزا کا اردو ترجمہ پیش ہے جوکہ ظہور منہاس نے ترجمہ کیا ہے۔

    خطاب بہ کوزہ یونان ماخوذ از جان کیٹس (۱۷۹۵-۱۸۲۱)

    تو ہے جیسے خامشی کی ان چھوئی دلہن ابھی
    تھی سکوت دہر کے ہاتھوں میں تیری پروری
    ہیں منقش دلکشا تجھ پر فنون ساحری
    جن کے آگے ماند پڑ جاتی ہے لفظی نغمگی
    پتیاں ہیں تیرے سنجافوں پہ کیسی؟ کون سی؟
    ہیں یہ انسانوں کی تصویریں یا عکس ایزدی
    اجنبی میدان ہے؟ وادی ہے کوئی اجنبی
    یہ گروہ ہے لڑکیوں کا؟ یا خدا یا آدمی
    بدچلن کچھ کر رہے ہیں لڑکیوں کی پیروی؟
    کیا فقط اب بھاگ جانے میں ہے ان کی بہتری
    اس گھنے جنگل میں شاید بج رہی ہے بانسری
    جس کو سن کر مل رہی ہے اک عجب سی سرخوشی؟

    Ode to a Grecian urn by John Keats

    Thou still unravish’d bride of quietness,
    Thou foster-child of silence and slow time,
    Sylvan historian, who canst thus express
    A flowery tale more sweetly than our rhyme:
    What leaf-fring’d legend haunts about thy shape
    Of deities or mortals, or of both,
    In Tempe or the dales of Arcady?
    What men or gods are these? What maidens loth?
    What mad pursuit? What struggle to escape?
    What pipes and timbrels? What wild ecstasy?

    جان کیٹس کی قبر پر ان کا نام لکھا ہوا نہیں ہے بلکہ کیٹس کے کہے گئے یہ الفاظ کندہ ہیں
    Here lies one whose name was writ in water

    ” یہاں پر وہ آسودہ خاک ہے جس کا نام پانی پہ لکھا تھا "

  • برصغیر کے عظیم انقلابی شاعر جوش ملیح آبادی

    برصغیر کے عظیم انقلابی شاعر جوش ملیح آبادی

    برصغیر کے عظیم انقلابی شاعر، شاعر انقلاب کے طور پر معروف

    جوش ملیح آبادی

    اصلی نام :شبیر احمد حسن خاں

    پیدائش : ۵ دسمبر، ۱۸۹۸| ملیح آباد, اتر پردیش

    وفات :۲۲ فروری، ۱۹۸۲ | اسلام آباد, پاکستان

    برصغیر کے عظیم انقلابی شاعر اور مرثیہ گو جوش ملیح آبادی ان کاخاندانی نام شبیر احمد خاں تھا۔ جسے بعد میں بدل کر شبیر حسن خاں کر دیا گیا تھا۔ ان کی پیدائش ۵ دسمبر۱۸۹۸ کو ملیح آباد کے ایک متمول خاندان میں ہوئی تھی۔ ان کے والد بشیر احمد خاں بشیر بھی شاعر تھے اور داد انواب احمد خاں کا بھی شاعری سے تعلق تھا۔ اس کے علاوہ ان کے پر دادا نواب فقیر محمد خاں صاحب دیوان شاعر تھے۔ ان کے خاندان میں خواتین شاعرات بھی موجو د تھیں۔

    جوش کی دادی بیگم نواب محمد احمد خاں مرزا غالب کے خاندان سے تعلق رکھتی تھیں۔ اس طرح جوش کو شاعری ورثے میں ملی تھی جوش نے نو برس کی عمر میں پہلا شعر کہا ابتدا میں عزیز لکھنوی سے اصلاحِ سخن لی پھر یہ سلسلہ منقطع ہوگیا اور خود اپنی طبیعت کو رہنما بنایا عربی کی تعلیم مرزا ہادی رسوا سے اور فارسی اور اردو کی تعلیم مولانا قدرت بیگ ملیح آبادی سے حاصل کی۔انہوں نے ۱۹۱۴ء میں آگرہ سینٹ پیٹرز کالج سے سینئر کیمرج کا امتحان پاس کیا۔

    جوش ملیح آبادی انقلاب اور آزادی کا جذبہ رکھنے والے روایت شکن شاعر تھے انہوں نے ۱۹۲۵ء میں عثمانیہ یونیورسٹی میں مترجم کے طور پر کام شروع کیا اور کلیم کے نام سے ایک رسالے کا آغاز کیا اور اسی دوران شاعر ِانقلاب کے لقب سے مشہور ہوئے تقسیمِ ہند کے چند برسوں بعد ہجرت کرکے کراچی میں مستقل سکونت اختیار کرلی جوش نہ صرف اردو میں ید طولیٰ تھے بلکہ عربی، فارسی، ہندی اورانگریزی پربھی دسترس رکھتے تھے۔

    اپنی انہیں خداداد لسانی صلاحیتوں کے باعث انہوں نے قومی اردو لغت کی ترتیب و تالیف میں بھرپورعلمی معاونت کی جوش ملیح آبادی کثیر التصانیف شاعر و مصنف ہیں۔ ان کی تصانیف میں نثری مجموعہ ’یادوں کی بارات‘،’مقالاتِ جوش‘، ’دیوان جوش‘اور شعری مجموعوں میں جوش کے مرثیے’طلوع فکر‘،’جوش کے سو شعر‘،’نقش و نگار‘ اور’شعلہ و شبنم‘ کو لازوال شہرت ملی ۲۲ فروری ۱۹۸۲ء کو جوش نے اسلام آباد میں وفات پائی اور وہیں آسودہ خاک ہوئے۔ ان کی تاریخ وفات معروف عالم اورشاعر نصیر ترابی نے ان کے اس مصرع سے نکالی تھی۔

    میں شاعرِآخرالزماں ہوں اے جوش

    شاعر آخرالزماں جوش ملیح آبادی کا یوم وفات پر ان کے کچھ منتخب اشعار بطور خراج عقیدت. آپ سے بھی گزراش ہے کہ ان کا ایک شعر کمنٹ کر کے خراج عقیدت پیش کریں۔۔۔

    🌸انتخاب و پیشکش۔۔۔۔لکی آرزو🌸

    *کام ہے میرا تغیر نام ہے میرا شباب
    میرا نعرہ انقلاب و انقلاب و انقلاب*
    ۔۔۔۔۔۔۔
    دل کی چوٹوں نے کبھی چین سے رہنے نہ دیا
    جب چلی سرد ہوا میں نے تجھے یاد کیا
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ایک دن کہہ لیجیے جو کچھ ہے دل میں آپ کے
    ایک دن سن لیجیے جو کچھ ہمارے دل میں ہے
    ۔۔۔۔۔۔۔
    اس دل میں ترے حسن کی وہ جلوہ گری ہے
    جو دیکھے ہے کہتا ہے کہ شیشے میں پری ہے
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ہم گئے تھے اس سے کرنے شکوۂ درد فراق
    مسکرا کر اس نے دیکھا سب گلہ جاتا رہا
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ہاں آسمان اپنی بلندی سے ہوشیار
    اب سر اٹھا رہے ہیں کسی آستاں سے ہم
    ۔۔۔۔۔۔۔
    اب تک نہ خبر تھی مجھے اجڑے ہوئے گھر کی
    وہ آئے تو گھر بے سر و ساماں نظر آیا
    ۔۔۔۔۔۔۔
    صرف اتنے کے لیے آنکھیں ہمیں بخشی گئیں
    دیکھیے دنیا کے منظر اور بہ عبرت دیکھیے
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ایک کانٹے پہ سرخ کرنیں ہر اک کلی میں چراغ روشن
    خیال میں مسکرانے والے ترا تبسم کہاں نہیں ہے
    ۔۔۔۔۔۔۔
    پہچان گیا سیلاب ہے اس کے سینے میں ارمانوں کا
    دیکھا جو سفینے کو میرے جی چھوٹ گیا طوفانوں کا
    ۔۔۔۔۔۔۔
    اک نہ اک ظلمت سے جب وابستہ رہنا ہے تو جوش
    زندگی پر سایۂ زلف پریشاں کیوں نہ ہو
    ۔۔۔۔۔۔۔
    شباب رفتہ کے قدم کی چاپ سن رہا ہوں میں
    ندیم عہد شوق کی سنائے جا کہانیاں.

  • زندگی تو نے مجھے قبر سے کم دی ہے زمیں

    زندگی تو نے مجھے قبر سے کم دی ہے زمیں

    زندگی تو نے مجھے قبر سے کم دی ہے زمیں
    پائوں پھیلائوں تو دیوار میں سر لگتا ہے

    بشیر بدر

    اصل نام سید محمد بشیر،ڈاکٹر 15فروری 1935ء ء کو کان پور میں پیدا ہوئے۔ اعلیٰ تعلیم علی گڑھ یونیورسٹی سے حاصل کی۔ ایم اے کے امتحان میں یونیورسٹی کے تمام شعبوں میں سب سے زیادہ نمبر حاصل کرنے پر ’’رادھا کرشن‘‘ ایوارڈ ملا۔’’آزادی کے بعد اردو غزل کا تنقیدی مطالعہ‘‘لکھ کر پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ پہلے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبۂ اردو میں تقرر ہوا۔ بعد میں میرٹھ یونیورسٹی سے وابستہ ہوگئے۔ ان کی تصانیف کے نام یہ ہیں: ’اکائی‘، ’آسمان‘،’امیج‘، ’آہٹ‘، ’اللہ حافظ‘، ’آمد‘، ’بیسویں صدی میں اردو غزل‘، ’کلیات بشیر بدر‘ بھی شائع ہوگئی ہے۔ آپ کی غزلوں کا انتخاب ہندی میں ’’تمہارے لیے ‘‘ کے نام سے شائع ہوگیا ہے۔ اردواکیڈمی یوپی اور بہار اردو اکادمی نے ان کی کتابوں پر انعام دیا ہے ۔ میراکادمی نے ان کو ’’امتیاز میر‘‘ پیش کیا ہے۔ بحوالۂ:پیمانۂ غزل(جلد دوم)،محمد شمس الحق،صفحہ:170

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔
    وہ چہرا ساتھ ساتھ رہا جو ملا نہیں
    کس کو تلاش کرتے رہے کچھ پتہ نہیں
    شدت کی دھوپ، تیز ہواؤں کے با وجود
    میں شاخ سے گرا ہوں نظر سے گرا نہیں
    آخر غزل کا تاج محل بھی ہے مقبرہ
    ہم زندگی تھے ،ہم کو کسی نے جیا نہیں
    جس کی مخالفت ہوئی مشہور ہو گیا
    ان پتھروں سے کوئی پرندا گرا نہیں
    تاریکیوں میں اور چمکتی ہے دل کی دھوپ
    سورج تمام رات یہاں ڈوبتا نہیں
    کس نے جلائیں بستیاں،بازار کیوں لٹے
    میں چاند پر گیا تھا مجھے کچھ پتہ نہیں

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔
    وہ چاندنی کا بدن خوشبوؤں کا سایہ ہے
    بہت عزیز ہمیں ہے مگر پرایا ہے

    اتر بھی آؤ کبھی آسماں کے زینے سے
    تمہیں خدا نے ہمارے لیے بنایا ہے

    کہاں سے آئی یہ خوشبو، یہ گھر کی خوشبو ہے
    اس اجنبی کے اندھیرے میں کون آیا ہے

    مہک رہی ہے زمیں چاندنی کے پھولوں سے
    خدا کسی کی محبت پہ مسکرایا ہے

    اسے کسی کی محبت کا اعتبار نہیں
    اسے زمانے نے شاید بہت ستایا ہے

    تمام عمر مرا دل اسی دھوئیں میں گھٹا
    وہ اک چراغ تھا میں نے اسے بجھایا ہے

    اشعار
    ۔۔۔۔۔۔
    اجالے اپنی یادوں کے ہمارے ساتھ رہنے دو
    نہ جانے کس گلی میں زندگی کی شام ہو جائے

    زندگی تو نے مجھے قبر سے کم دی ہے زمیں
    پاؤں پھیلاؤں تو دیوار میں سر لگتا ہے

    کچھ تو مجبوریاں رہی ہوں گی
    یوں کوئی بے وفا نہیں ہوتا

    دشمنی جم کر کرو لیکن یہ گنجائش رہے
    جب کبھی ہم دوست ہو جائیں تو شرمندہ نہ ہوں

    نہ جی بھر کے دیکھا نہ کچھ بات کی
    بڑی آرزو تھی ملاقات کی

    ہر دھڑکتے پتھر کو لوگ دل سمجھتے ہیں
    عمریں بیت جاتی ہیں دل کو دل بنانے میں

    یہاں لباس کی قیمت ہے آدمی کی نہیں
    مجھے گلاس بڑے دے شراب کم کر دے

    مسافر ہیں ہم بھی مسافر ہو تم بھی
    کسی موڑ پر پھر ملاقات ہوگی

    بڑے لوگوں سے ملنے میں ہمیشہ فاصلہ رکھنا
    جہاں دریا سمندر سے ملا دریا نہیں رہتا

    تم مجھے چھوڑ کے جاؤ گے تو مر جاؤں گا
    یوں کرو جانے سے پہلے مجھے پاگل کر دو

    محبتوں میں دکھاوے کی دوستی نہ ملا
    اگر گلے نہیں ملتا تو ہاتھ بھی نہ ملا

    کوئی ہاتھ بھی نہ ملائے گا جو گلے ملو گے تپاک سے
    یہ نئے مزاج کا شہر ہے ذرا فاصلے سے ملا کرو

    ہم تو کچھ دیر ہنس بھی لیتے ہیں
    دل ہمیشہ اداس رہتا ہے

    خدا کی اتنی بڑی کائنات میں میں نے
    بس ایک شخص کو مانگا مجھے وہی نہ ملا

    سر جھکاؤ گے تو پتھر دیوتا ہو جائے گا
    اتنا مت چاہو اسے وہ بے وفا ہو جائے گا

    گھروں پہ نام تھے ناموں کے ساتھ عہدے تھے
    بہت تلاش کیا کوئی آدمی نہ ملا

    تم محبت کو کھیل کہتے ہو
    ہم نے برباد زندگی کر لی

    حسیں تو اور ہیں لیکن کوئی کہاں تجھ سا
    جو دل جلائے بہت پھر بھی دل ربا ہی لگے

    اڑنے دو پرندوں کو ابھی شوخ ہوا میں
    پھر لوٹ کے بچپن کے زمانے نہیں آتے

    اگر تلاش کروں کوئی مل ہی جائے گا
    مگر تمہاری طرح کون مجھ کو چاہے گا

    اتنی ملتی ہے مری غزلوں سے صورت تیری
    لوگ تجھ کو مرا محبوب سمجھتے ہوں گے

    گفتگو ان سے روز ہوتی ہے
    مدتوں سامنا نہیں ہوتا

    نہ تم ہوش میں ہو نہ ہم ہوش میں ہیں
    چلو مے کدہ میں وہیں بات ہوگی

    بھلا ہم ملے بھی تو کیا ملے وہی دوریاں وہی فاصلے
    نہ کبھی ہمارے قدم بڑھے نہ کبھی تمہاری جھجک گئی

    ابھی راہ میں کئی موڑ ہیں کوئی آئے گا کوئی جائے گا
    تمہیں جس نے دل سے بھلا دیا اسے بھولنے کی دعا کرو

    اسی شہر میں کئی سال سے مرے کچھ قریبی عزیز ہیں
    انہیں میری کوئی خبر نہیں مجھے ان کا کوئی پتہ نہیں

    شہرت کی بلندی بھی پل بھر کا تماشا ہے
    جس ڈال پہ بیٹھے ہو وہ ٹوٹ بھی سکتی ہے

    عاشقی میں بہت ضروری ہے
    بے وفائی کبھی کبھی کرنا

    آنکھوں میں رہا، دل میں اتر کر نہیں دیکھا
    کشتی کے مسافر نے سمندر نہیں دیکھا

    پتھر مجھے کہتا ہے مرا چاہنے والا
    میں موم ہوں اس نے مجھے چھو کر نہیں دیکھا

    لوگ ٹوٹ جاتے ہیں ایک گھر بنانے میں
    تم ترس نہیں کھاتے بستیاں جلانے میں

    بھول شاید بہت بڑی کر لی
    دل نے دنیا سے دوستی کر لی

    میں جب سو جاؤں ان آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دینا
    یقیں آ جائے گا پلکوں تلے بھی دل دھڑکتا ہے

    وہ چہرہ کتابی رہا سامنے
    بڑی خوب صورت پڑھائی ہوئی

    دشمنی کا سفر اک قدم دو قدم
    تم بھی تھک جاؤ گے ہم بھی تھک جائیں گے

    تمہیں ضرور کوئی چاہتوں سے دیکھے گا
    مگر وہ آنکھیں ہماری کہاں سے لائے گا

    اسی لئے تو یہاں اب بھی اجنبی ہوں میں
    تمام لوگ فرشتے ہیں آدمی ہوں میں

    جی بہت چاہتا ہے سچ بولیں
    کیا کریں حوصلہ نہیں ہوتا

    پتھر کے جگر والو غم میں وہ روانی ہے
    خود راہ بنا لے گا بہتا ہوا پانی ہے

    محبت ایک خوشبو ہے ہمیشہ ساتھ چلتی ہے
    کوئی انسان تنہائی میں بھی تنہا نہیں رہتا

    اچھا تمہارے شہر کا دستور ہو گیا
    جس کو گلے لگا لیا وہ دور ہو گیا

    کبھی کبھی تو چھلک پڑتی ہیں یوں ہی آنکھیں
    اداس ہونے کا کوئی سبب نہیں ہوتا

    عجب چراغ ہوں دن رات جلتا رہتا ہوں
    میں تھک گیا ہوں ہوا سے کہو بجھائے مجھے

    سات صندوقوں میں بھر کر دفن کر دو نفرتیں
    آج انساں کو محبت کی ضرورت ہے بہت

    ایک عورت سے وفا کرنے کا یہ تحفہ ملا
    جانے کتنی عورتوں کی بد دعائیں ساتھ ہیں

    اگر فرصت ملے پانی کی تحریروں کو پڑھ لینا
    ہر اک دریا ہزاروں سال کا افسانہ لکھتا ہے

    بہت دنوں سے مرے ساتھ تھی مگر کل شام
    مجھے پتا چلا وہ کتنی خوب صورت ہے

    خدا ایسے احساس کا نام ہے
    رہے سامنے اور دکھائی نہ دے

    رونے والوں نے اٹھا رکھا تھا گھر سر پر مگر
    عمر بھر کا جاگنے والا پڑا سوتا رہا

    جس دن سے چلا ہوں مری منزل پہ نظر ہے
    آنکھوں نے کبھی میل کا پتھر نہیں دیکھا

    دل کی بستی پرانی دلی ہے
    جو بھی گزرا ہے اس نے لوٹا ہے

    تری آرزو تری جستجو میں بھٹک رہا تھا گلی گلی
    مری داستاں تری زلف ہے جو بکھر بکھر کے سنور گئی

    کبھی تو آسماں سے چاند اترے جام ہو جائے
    تمہارے نام کی اک خوبصورت شام ہو جائے

  • اکبرالہ آبادی کا یوم وفات

    اکبرالہ آبادی کا یوم وفات

    رقیبوں نے رپٹ لکھوائی ہے جاجا کے تھانے میں
    کہ اکبر نام لیتا ہے خدا کا اس زمانے میں

    اکبر الہ آبادی

    اکبر کی شاعری اور ان کی شعری زبان آج بھی سیاسی ڈسکورس کا حصہ بنتی نظر آتی ہے ،تو ہمیں غور کرنا چاہیے کہ ان کی شاعری میں طلوع ہونے والی آنکھ کتنی دور دیکھ رہی تھی ۔

    لسان العصراکبرالہ آبادی(سیداکبرحسین رضوی (1921-1846)الہ آباد کےقصبےبارہ میں پیدا ہوئےطنزیہ اورمزاحیہ شاعری کےلیے مشہور اکبرکی ملازمت عرضی نویسی سےشروع ہوکروکالت،پھرسیشن جج کےعہدےپرختم ہوتی ہے ۔ان کادورنوآبادیاتی دورہے،اورشاید یہ اس دور کا ہی اثر تھا، جس نےداغ اور امیر مینائی کے رنگ میں روایتی غزل کہنے والے اکبر کی شاعری کا اندازہی بدل دیا۔ ان کی شاعری اسی بدلے ہوئے رنگ کی شاعری ہے جس میں اکبر کا عہد سانس لیتا ہے-

    طفل میں بو آئے کیا ماں باپ کے اطوار کی
    دودھ تو ڈبے کا ہے تعلیم ہے سرکار کی
    کوٹ اور پتلون جب پہنا تو مسٹر بن گیا
    جب کوئی تقریر کی جلسے میں لیڈر بن گیا

    شاعری سے قطع نظر اگر اکبر کی زندگی یا شخصیت کی بات کریں تو ایسے کئی سوال اٹھائے جا سکتے ہیں،جن پر مکالمہ قائم کیا جا سکتا ہے ۔ مثلاًاکبر نے دو شادیاں کیں، اپنی پہلی بیوی اور بچوں کے ساتھ ان کا رویہ اچھا نہیں تھا۔ دوسرے 1898میں برطانیہ حکومت سے ’خان بہادر‘کا خطاب لیا،پھر 1903میں اپنی دوسری بیوی کے بیٹے سید عشرت حسین رضوی کو اعلیٰ تعلیم کے لیے انگلستان بھیجا، جہاں ان کے بیٹے نے 3 سال کی پڑھائی کوختم کرنے میں 7سال لگا دیے اور واپس اس وقت آئے جب اکبر نے انھیں خرچ دینےسے منع کر دیا، خود اکبر نے اپنے ایک شعر میں اس کی طرف اشارہ کیاہے-

    عشرتی گھر کی محبت کا مزا بھول گئے
    کھا کے لندن کی ہوا عہد وفا بھول گئے

    ان سوالات کی اہمیت اپنی جگہ،لیکن یہ بات شاید اس سے زیادہ اہم ہے کہ ان کی شاعری ہندوستان میں بہہ رہی لندنی ہوا سے پھیلنے والے امراض کی صرف نشاندہی نہیں کرتی بلکہ اس کے دیر پا اثرات سے بھی خبردار کرتی ہے-

    افسوس ہے گلشن کو خزاں لوٹ رہی ہے
    شاخ گل تر سوکھ کے اب ٹوٹ رہی ہے
    ہند سے آپ کو ہجرت ہو مبارک اکبر
    ہم تو گنگا ہی پہ مار کے آسن بیٹھے
    میں کہتا ہوں ہندو مسلمان سے کہ بھائی
    موجوں کی طرح لڑومگر ایک رہو

    اکبر کی شاعری اس انسان کے احساسات و جذبات کی ترجمانی ہےجو غیرمعمولی ذہن رکھتا ہے۔وہ پرانی قدروں سے محبت بھی کرتا ہے اور زمانے کے مزاج کو بھی دیکھ رہا ہے،لوگوں کے متغیر کردارکودیکھ رہا ہےاوروہ یہ بھی جانتا ہے کہ اس میں اتنی قوت نہیں کہ وہ حکومت کا تختہ پلٹ دے ،لیکن وہ اس کو چپ چاپ قبول کر لینے کو تیار نہیں ہے۔ لہذا وہ انگریزی تہذیب پر ہنستا ہے ،طنز کرتا ہے ،اس کامذاق اڑاتا ہے ۔ وہ یہ بھی جانتا ہے کہ قدیم وجدید کی اس لڑائی میں نقصان صرف ہندوستانیوں کا ہی ہے-

    قدیم و ضع پہ قائم ہوں میں اگر اکبر
    تو صاف کہتے ہیں سید یہ رنگ ہے میلا
    جدید طرز اگر اختیار کرتا ہوں
    تو اپنی قوم مچاتی ہے شور واویلا
    غرض دو گونہ عذاب است جان مجنوں را
    بلائے صحبت ِ لیلیٰ و فرقت لیلیٰ

    اکبر اپنے دور میں اتنے مقبول شاعر تھے کہ ان کے اشعار عوام میں ضرب المثل بن گئے تھے۔عموما ًانھیں رجعت پسند کہا جاتا ہے ، لیکن اکبر اپنی شاعری میں ایسےشخص نظر آتےہیں جوبدلتی ہوئی قدروں پر گہری نظررکھتاہے اوراسی وقت ان تبدیلیوں کی آہٹ کو بھی سن رہا ہے جو آنے والے وقتوں میں ہندوستان کی تصویر بدلنے والا تھا۔اکبرنوآبادیاتی سیاست اوراس کے مضر اثرات کو بھی سمجھ رہے تھے۔ اس کا اظہار ان کی شاعری میں کھل کر ہواہے۔ جب اکبر جوڈیشل سروس میں تھے اس وقت بھی ان کی شاعری میں حکومت کے خلاف شدیداحتجاجی بیانیہ اپنی راہ بنا رہا تھا۔یہ اور بات ہے کہ انھوں نے اس پر طنز و مزاح کا شوخ رنگ چڑھا دیا تھا-

    نیٹو نہیں ہو سکتے جو گورے تو ہے کیا غم
    گورے بھی تو بندے سے خدا ہو نہیں سکتے
    یا الہی یہ کیسے بندر ہیں
    ارتقا پر بھی آدمی نہ ہوئے

    ان کی شاعری کو پڑھ کر لگتا ہے کہ اپنےثقافتی اقدار کا ایسا مرثیہ کوئی ’رجعت پسند‘ہی پڑھ سکتا ہے،جو نوآبادیاتی نظام کے زیر اثر مر رہی تھی-
    اب کہاں ذہن میں باقی ہیں براق و رفرف
    ٹکٹی بندھ گئی ہے قوم کی انجن کی طرف
    اس قوم سے وہ عادت دیرینہ طاعت
    بالکل نہیں چھوٹی ہے مگر چھوٹ رہی ہے

    اکبرکی شاعری میں ریل، انجن،موٹر،ایروپلین ،کمپ (Camp)،پمپ،جیسی دوسری ‘جدید’اشیا کاعلامتی استعمال،ان کی پس نوآبادیاتی (Postcolonial) فکر کا علامیہ ہے۔انھوں نے اپنی شاعری میں ان تمام اشیاکو ایسی علامتوں کے طور پر استعمال کیا ہے جو ہندوستان کی ترقی کے نام پر نوآبادیاتی نظام کے استحکام سے عبارت تھیں۔

    آج ہم سب اس حقیقت سے واقف ہیں کہ انگریزوں نے اگر ہندوستان میں ریل چلائی تو اس کے پیچھے ان کا مقصد ہندوستان کی ترقی نہیں بلکہ ان اندرونی علاقوں تک رسائی حاصل کرنا تھی،جہاں خام مال کا ذخیرہ موجود تھا۔یہی خام مال برطانیہ میں آئے صنعتی انقلاب میں کیا اہمیت رکھتا ہے ، اس کوتاریخ کی کتابوں میں آسانی سے پڑھا جا سکتا ہے ،اس کے علاوہ اس عمل نے ہندوستان کی صنعتی ترقی پر کیا اثر ڈالا یہ بات بھی اب چھپی نہیں۔

    نوآبادیاتی دور میں یہ سمجھنا اتنا آسان نہیں تھا، جبکہ اس وقت ہر کوئی آسانی سے’ نوآبادیاتی چکر‘ کا شکار ہو رہا تھا۔ اس نقطہ نظر کو دھیان میں رکھ کر جب ہم اکبر کی شاعری سے معاملہ کرتے ہیں تو نوآبادیاتی ڈسکورس کے خلاف اکبر کا احتجاج اتنا سطحی نہیں لگتا جتنا باور کرایا جاتا ہے۔اکبر کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ رجعت پسند تھے اورجدید تعلیم کے خلاف تھے۔حالاں کہ اکبر اس وقت بھی نوآبادیاتی نقاب کے پیچھے چھپی سچائی کو جانتے تھے ،جب سر سید حالی اور آزاد مغربی تعلیم حاصل کرنے کو زندگی کا اول و آخر مقصد تسلیم کر چکے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ اکبر پس نوآبادیاتی مطالعات کی ایک اہم آواز ہیں اور ان کی شاعری پس نوآبادیاتی ردعمل کا شدید بیانیہ ہے ؛
    مرعوب ہو گئے ہیں ولایت سے شیخ جی
    اب صرف منع کرتے ہیں دیسی شراب کو

    اکبر جانتے تھے کہ انگریز ہندوستانی ذہن کو ناکارہ بنا رہا ہے۔جدید تعلیم اور تہذیب کے نام پر جو چیزیں ہمیں دکھا رہا ہے ، ان کا تعلق صرف اور صرف اس کا ذاتی مفاد ہےاور کچھ نہیں۔اکبر اوردوسرے لوگ اپنی جو پہچان مذہب میں تلاش رہے تھے وہ بھی نوآبادیات کے’محدودو تشخص’ کی ایک چال کہی جا سکتی ہے۔ یہ اور بات ہے کہ اکبر نوآبادیاتی حکمت عملی کو بخوبی سمجھتے تھے۔نظم ‘برق کلیسا’ میں شامل ان کے ان ا شعار میں چھپے طنز کو آسانی سے سمجھا جا سکتا ہے-

    مجھ پہ کچھ وجہ عتابا آپ کو اے جان نہیں
    نام ہی نام ہے ورنہ میں مسلمان نہیں
    میرے اسلام کو اک قصہ ماضی سمجھو
    ہنس کہ بولی کہ تو پھر مجھ کو بھی راضی سمجھو

    حسن عسکری نے اکبر کو اردو کا ’جدید ترین شاعر‘ کہا ہے تو شمس الرحمن فاروقی انھیں پہلے شخص کے طور پر یاد کرتے ہیں جنھوں نے نوآبادیات کی حقیقت کو بہت پہلے ہی سمجھ لیا تھا-

    اکبر پہلے شخص ہیں جن کو بدلتے ہوئے زمانے ،اس زمانے میں اپنی تہذیبی اقدار کے لئے خطرہ، اور انگریزی تعلیم و ترقی کو انگریزی سامراج کے قوت مند ہتھیارہونے کا احساس شدت سے تھا اور انہوں نے اس کے مضمرات کو بہت پہلے دیکھ لیا تھا ۔ اس معاملے میں مہاتما گاندھی اور اقبال بھی ان کے بعد ہیں۔

    مزید لکھتے ہیں؛’مغربی تہذیب کے لئے اکبر نے بعض الفاظ وضع کئے مثلاًبرگڈ(Brigade)،کمپ (Camp)،توپ ،انجن ،وغیرہ جو علامت کا حکم رکھتے ہیں اور جن کی کارفرمائی ہم آج بھی دیکھ سکتے ہیں ۔برگڈ سے ان کی مراد وہ ہندوستانی تھے جو انگریزوں کے وفادار تھے۔اور کیمپ سے ان کی مراد مغربی معاشرت تھی ۔

    توپ ،استعماری قوت کے اظہار اور انجن اس قوت کو پھیلانے والے ذرائع کا استعارہ ہیں ۔‘عسکری صاحب نے بہت درست کہا ہے کہ’اکبر اس زمانے میں واحد شخص تھے جنہوں نے انگریزوں کی لائی ہوئی چیزوں میں استعارے اور علامتیں دیکھیں اور اکبر کے سوا کوئی ایسا نہ ہوا جو ’نشان‘کو ’علامت ‘کا درجہ دینے میں کامیاب ہوا ہو۔‘علامت کی اپنی اہمیت ہے جو معنوی سیاق کو وسعت عطا کرتی ہے۔ لیکن ہم ان الفاظ کو علامت کے علاوہ یوں بھی دیکھیں تو اس کی معنوی اہمیت کم نہیں ہوتی-

    ازراہ تعلق کوئی جوڑا کرے رشتہ
    انگریز تو نیٹو کے چچا ہو نہیں سکتے
    ہم ہوں جو کلکٹر تو وہ ہو جائیں کمشنر
    ہم ان سے کبھی عہدہ براہو نہیں سکتے

    انگریزوں کا مقصد ظاہر ہے ہندوستان کی ترقی کسی صورت نہ تھا۔ ہاں اگر اس سے تھوڑا بہت فرق پڑبھی گیا ’ترقی‘کے خانے میں تو اسے ترقی قرار دینا نادانی ہے کہ یہ ترقی برسوں کے استحصال اور ہندوستان کی لوٹ پاٹ کے سامنے ’ترقی‘تو کسی بھی طور پر نہیں کہی جا سکتی۔ انگریزوں کی آمد اور ان کے دور حکومت میں ہندوستانیوں کا استحصال کسی بھی ’ترقی‘سے زیادہ بڑا اور افسوس ناک المیہ ہے۔ اکبر ان چیزوں سے باخبر تھے اور نئے ہندوستان میں ہندوستانیوں کی تصویر یوں اتار رہے تھے-

    میری نصیحتوں کو سن کر وہ شوخ بولا
    نیٹو کی کیا سند ہے صاحب کہیں تو مانوں

    ‘نیٹو’اور ‘صاحب’کے درمیان کادوجاپن(otherness)اور اس کی پوری نفسیات کو اس ایک شعر میں اکبر نے بہت خوبصورتی سے پیش کیا ہے۔یہاں Hybridاشخاص کی وہ ذہنیت بھی دیکھی جا سکتی ہے جس کے تحت ان میں حاکم کا ‘دوجا’ رویہ (otherness) بھی شامل ہو جاتا ہے۔ گویا اس کی نظر میں اپنے ہندوستانی بھائی بہن ہی ‘نیٹو ‘(کالے)بن جاتے ہیں۔ایک شعر اورملاحظہ کریں-

    مٹاتے ہیں جو وہ ہم کو تو اپنا کام کرتے ہیں
    مجھے حیرت تو ان پر ہے جو اس مٹنے پہ مٹتے ہیں

    اکبر نہ صرف حاکم کی سیاسی پالیسی، نوآبادیاتی بیانیہ اور اس کے پس پشت کام کر رہے عناصر سے واقف تھے بلکہ محکوم قوم کی نفسیاتی حالت کا بھی انھیں بخوبی اندازہ تھا۔یوں اکبر کا شعری بیانیہ پس نوآبادیات کی مستحکم آواز کہا جا سکتا ہے اور ہم کہہ سکتے ہیں کہ وہ تعلیم یا ترقی کے مخالف نہیں تھے بلکہ نوآبادیاتی نظام اور اس کے متعلقات کے خلاف تھے۔ وہ طنز و مزاح کے بڑے اور غیر معمولی شاعر اسی لیے بھی ہیں کہ انہوں نے پس نوآبادیاتی بیانیہ کی شعری زبان دریافت کی اور اس میں ظلم وجبر کے علائم کو خلق کر دیا ۔یہ وہ شعری بیانیہ ہے جن میں تاریخی صداقتوں کی طرح تعصب نہیں ہے ،اپنوں کا درد ہے اور اس میں زندگی کر نے کا حوصلہ بھی-

    چیز وہ ہے بنے جو یورپ میں
    بات وہ ہے جو پانیر میں چھپے

    ہماری تہذیب و ثقافت کے سارے تذکرے اب صرف کتابوں کی زینت ہو کر رہ گئےہیں۔ ہم نے خود اپنے ہی ہاتھوں ان کا گلا گھونٹا۔ دیکھیے اکبر کیا کہتے ہیں-

    ہماری اصطلاحوں سے زباں نا آشنا ہوگی
    لغات مغربی بازار کی بھاشا سے ضم ہوں گے
    بدل جائے گا معیار شرافت چشم دنیا میں
    زیادہ تھے جو اپنے زعم میں وہ سب سے کم ہوں گے
    گزشتہ عظمتوں کے تذکرے بھی رہ نہ جائیں گے
    کتابوں میں ہی دفن افسانہ جاہ و حشم ہوں گے

    اکبر کایہ شعری بیانیہ ہمارے زمانے کی سچائی ہے اور کئی زمانوں کی ہمعصر تاریخ بھی اس میں گویا ہے۔ نوآبادیات نے ہندوستان کی ہندوستانیت کو بدل دیا ۔ تہذیب و ثقافت کو مسخ کیا اور’کلچر‘کو نئے معنی دیے۔صرف یورپی کلچر’کلچر‘قرار پایا۔ہم آج بھی اس سے نبردآزماہیں اور تاریخی سیاق بدل جانے کے بعد بھی ان کے شعر بامعنی ہیں-

    قوم کے غم میں ڈنر کھاتے ہیں حکام کے ساتھ
    رنج لیڈر کو بہت ہے مگر آرام کے ساتھ

    اس طرح کی شاعری اور ان کی شعری زبان آج بھی سیاسی ڈسکورس کا حصہ بنتی نظر آتی ہے ،تو ہمیں غور کرنا چاہیے کہ اکبر کی شاعری میں طلوع ہونے والی آنکھ کتنی دور دیکھ رہی تھی۔

    منتخب اشعار
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہو جاتے ہیں بد نام
    وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا

    عشق نازک مزاج ہے بے حد
    عقل کا بوجھ اٹھا نہیں سکتا

    دنیا میں ہوں دنیا کا طلب گار نہیں ہوں
    بازار سے گزرا ہوں خریدار نہیں ہوں

    حیا سے سر جھکا لینا ادا سے مسکرا دینا
    حسینوں کو بھی کتنا سہل ہے بجلی گرا دینا

    جو کہا میں نے کہ پیار آتا ہے مجھ کو تم پر
    ہنس کے کہنے لگا اور آپ کو آتا کیا ہے

    مذہبی بحث میں نے کی ہی نہیں
    فالتو عقل مجھ میں تھی ہی نہیں

    پیدا ہوا وکیل تو شیطان نے کہا
    لو آج ہم بھی صاحب اولاد ہو گئے

    آئی ہوگی کسی کو ہجر میں موت
    مجھ کو تو نیند بھی نہیں آتی

    رہتا ہے عبادت میں ہمیں موت کا کھٹکا
    ہم یاد خدا کرتے ہیں کر لے نہ خدا یاد

    لوگ کہتے ہیں بدلتا ہے زمانہ سب کو
    مرد وہ ہیں جو زمانے کو بدل دیتے ہیں

    اکبر دبے نہیں کسی سلطاں کی فوج سے
    لیکن شہید ہو گئے بیوی کی نوج سے

    ہنگامہ ہے کیوں برپا تھوڑی سی جو پی لی ہے
    ڈاکا تو نہیں مارا چوری تو نہیں کی ہے

    الٰہی کیسی کیسی صورتیں تو نے بنائی ہیں
    کہ ہر صورت کلیجے سے لگا لینے کے قابل ہے

    میں بھی گریجویٹ ہوں تم بھی گریجویٹ
    علمی مباحثے ہوں ذرا پاس آ کے لیٹ

    بس جان گیا میں تری پہچان یہی ہے
    تو دل میں تو آتا ہے سمجھ میں نہیں آتا

    بی.اے. بھی پاس ہوں ملے بی بی بھی دل پسند
    محنت کی ہے وہ بات یہ قسمت کی بات ہے

    آہ جو دل سے نکالی جائے گی
    کیا سمجھتے ہو کہ خالی جائے گی

    لپٹ بھی جا نہ رک اکبرؔ غضب کی بیوٹی ہے
    نہیں نہیں پہ نہ جا یہ حیا کی ڈیوٹی ہے

    ہم ایسی کل کتابیں قابل ضبطی سمجھتے ہیں
    کہ جن کو پڑھ کے لڑکے باپ کو خبطی سمجھتے ہیں

    غضب ہے وہ ضدی بڑے ہو گئے
    میں لیٹا تو اٹھ کے کھڑے ہو گئے

    خدا سے مانگ جو کچھ مانگنا ہے اے اکبرؔ
    یہی وہ در ہے کہ ذلت نہیں سوال کے بعد

    کھینچو نہ کمانوں کو نہ تلوار نکالو
    جب توپ مقابل ہو تو اخبار نکالو

    ہم کیا کہیں احباب کیا کار نمایاں کر گئے
    بی اے ہوئے نوکر ہوئے پنشن ملی پھر مر گئے

    عشق کے اظہار میں ہر چند رسوائی تو ہے
    پر کروں کیا اب طبیعت آپ پر آئی تو ہے

    جب میں کہتا ہوں کہ یا اللہ میرا حال دیکھ
    حکم ہوتا ہے کہ اپنا نامۂ اعمال دیکھ

    اس قدر تھا کھٹملوں کا چارپائی میں ہجوم
    وصل کا دل سے مرے ارمان رخصت ہو گیا

    دھمکا کے بوسے لوں گا رخ رشک ماہ کا
    چندا وصول ہوتا ہے صاحب دباؤ سے

    جو وقت ختنہ میں چیخا تو نائی نے کہا ہنس کر
    مسلمانی میں طاقت خون ہی بہنے سے آتی ہے

    طفل میں بو آئے کیا ماں باپ کے اطوار کی
    دودھ تو ڈبے کا ہے تعلیم ہے سرکار کی

    بتاؤں آپ کو مرنے کے بعد کیا ہوگا
    پلاؤ کھائیں گے احباب فاتحہ ہوگا

    مے بھی ہوٹل میں پیو چندہ بھی دو مسجد میں
    شیخ بھی خوش رہیں شیطان بھی بے زار نہ ہو

    محبت کا تم سے اثر کیا کہوں
    نظر مل گئی دل دھڑکنے لگا

    عشوہ بھی ہے شوخی بھی تبسم بھی حیا بھی
    ظالم میں اور اک بات ہے اس سب کے سوا بھی

    کوٹ اور پتلون جب پہنا تو مسٹر بن گیا
    جب کوئی تقریر کی جلسے میں لیڈر بن گیا

    وصل ہو یا فراق ہو اکبرؔ
    جاگنا رات بھر مصیبت ہے

    رقیبوں نے رپٹ لکھوائی ہے جا جا کے تھانے میں
    کہ اکبرؔ نام لیتا ہے خدا کا اس زمانے میں

    قوم کے غم میں ڈنر کھاتے ہیں حکام کے ساتھ
    رنج لیڈر کو بہت ہے مگر آرام کے ساتھ

    لیڈروں کی دھوم ہے اور فالوور کوئی نہیں
    سب تو جنرل ہیں یہاں آخر سپاہی کون ہے

    بوڑھوں کے ساتھ لوگ کہاں تک وفا کریں
    بوڑھوں کو بھی جو موت نہ آئے تو کیا کریں

    سو جان سے ہو جاؤں گا راضی میں سزا پر
    پہلے وہ مجھے اپنا گنہ گار تو کر لے

    جب غم ہوا چڑھا لیں دو بوتلیں اکٹھی
    ملا کی دوڑ مسجد اکبرؔ کی دوڑ بھٹی

    ناز کیا اس پہ جو بدلا ہے زمانے نے تمہیں
    مرد ہیں وہ جو زمانے کو بدل دیتے ہیں

    دل وہ ہے کہ فریاد سے لبریز ہے ہر وقت
    ہم وہ ہیں کہ کچھ منہ سے نکلنے نہیں دیتے

    شیخ اپنی رگ کو کیا کریں ریشے کو کیا کریں
    مذہب کے جھگڑے چھوڑیں تو پیشے کو کیا کریں

  • کہتے ہیں جیتے ہیں امید پہ لوگ ، ہم کو جینے کی بھی امید نہیں

    کہتے ہیں جیتے ہیں امید پہ لوگ ، ہم کو جینے کی بھی امید نہیں

    ہوگا کوئی ایسا بھی کہ غالب کو نہ جانے
    شاعر تو وہ اچھا ہے پہ بدنام بہت ہے

    نجم الدولہ، دبیر الملک، مرزا نوشہ اسد اللہ خان غالب بہادر نظام جنگ (27دسمبر 1797ء – 15 فروری 1869ء) اردو زبان کے سب سے بڑے شاعروں میں ایک ہیں۔ غالب کی عظمت کا راز صرف ان کی شاعری کے حسن اور بیان کی خوبی ہی میں نہیں ہے۔ ان کاا صل کمال یہ ہے کہ وہ ز ندگی کے حقائق اور انسانی نفسیات کو گہرائی میں جاکر سمجھتے تھے اور بڑی سادگی سے عام لوگوں کے لیے بیان کردیتے تھے۔ غالب جس پر آشوب دور میں پیدا ہوئے، اس میں انھوں نے مسلمانوں کی ایک عظیم سلطنت کو برباد ہوتے ہوئے اور باہر سے آئی ہوئی انگریز قوم کو ملک کے اقتدار پر چھاتے ہوئے دیکھا۔ غالباً یہی وہ پس منظر ہے جس نے ان کی نظر میں گہرائی اور فکر میں وسعت پیدا کی۔
    مرزا غالب کا نام اسد اللہ بیگ خاں تھا۔ باپ کا نام عبداللہ بیگ تھا ۔ آپ 27 دسمبر 1797ء میں آگرہ میں پیدا ہوئے۔ غالب بچپن ہی میں یتیم ہو گئے تھے ان کی پرورش ان کے چچا مرزا نصر اللہ بیگ نے کی لیکن آٹھ سال کی عمر میں ان کے چچا بھی فوت ہوگئے۔ نواب احمد بخش خاں نے مرزا کے خاندان کا انگریزوں سے وظیفہ مقرر کرا دیا۔ 1810ء میں تیرہ سال کی عمر میں ان کی شادی نواب احمد بخش کے چھوٹے بھائی مرزا الہٰی بخش خاں معروف کی بیٹی امراءبیگم سے ہو گئی شادی کے بعد انھوں نے اپنے آبائی وطن کو خیر باد کہہ کر دہلی میں مستقل سکونت اختیار کرلی۔
    شادی کے بعد مرزا کے اخراجات بڑھ گئے اور مقروض ہوگئے۔ اس دوران میں انہیں مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ور قرض کا بوجھ مزید بڑھنے لگا۔ آخر مالی پریشانیوں سے مجبور ہو کر غالب نے قلعہ کی ملازمت اختیار کر لی اور 1850ء میں بہادر شاہ ظفر نے مرزا غالب کو نجم الدولہ دبیر الملک نظام جنگ کا خطاب عطا فرمایا اور خاندان تیموری کی تاریخ لکھنے پر مامور کر دیا اور 50 روپے ماہور مرزا کا وظیفہ مقرر ہوا۔
    غدر کے بعد مرزا کی سرکاری پنشن بھی بند ہو گئی ۔ چنانچہ انقلاب 1857ء کے بعد مرزا نے نواب یوسف علی خاں والی رامپور کو امداد کے لیے لکھا انہوں نے سو روپے ماہوار وظیفہ مقرر کر دیا جو مرزا کو تادم حیات ملتا رہا۔ کثرتِ شراب نوشی کی بدولت ان کی صحت بالکل تباہ ہو گئی مرنے سے پہلے بے ہوشی طاری رہی اور اسی حالت میں 15 فروری 1869ء کو ان کی وفات ہوئی۔

    مرزا اسد اللہ خان غالب کی شاعری سے انتخاب

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ہم کو معلوم ہے جنت کی حقیقت لیکن
    دل کے خوش رکھنے کو غالبؔ یہ خیال اچھا ہے

    عشق نے غالبؔ نکما کر دیا
    ورنہ ہم بھی آدمی تھے کام کے

    محبت میں نہیں ہے فرق جینے اور مرنے کا
    اسی کو دیکھ کر جیتے ہیں جس کافر پہ دم نکلے

    اس سادگی پہ کون نہ مر جائے اے خدا
    لڑتے ہیں اور ہاتھ میں تلوار بھی نہیں

    ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے
    بہت نکلے مرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے

    ان کے دیکھے سے جو آ جاتی ہے منہ پر رونق
    وہ سمجھتے ہیں کہ بیمار کا حال اچھا ہے

    یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصال یار ہوتا
    اگر اور جیتے رہتے یہی انتظار ہوتا

    رگوں میں دوڑتے پھرنے کے ہم نہیں قائل
    جب آنکھ ہی سے نہ ٹپکا تو پھر لہو کیا ہے

    عشق پر زور نہیں ہے یہ وہ آتش غالبؔ
    کہ لگائے نہ لگے اور بجھائے نہ بنے

    عشرت قطرہ ہے دریا میں فنا ہو جانا
    درد کا حد سے گزرنا ہے دوا ہو جانا

    وہ آئے گھر میں ہمارے خدا کی قدرت ہے
    کبھی ہم ان کو کبھی اپنے گھر کو دیکھتے ہیں

    نہ تھا کچھ تو خدا تھا کچھ نہ ہوتا تو خدا ہوتا
    ڈبویا مجھ کو ہونے نے نہ ہوتا میں تو کیا ہوتا

    بے خودی بے سبب نہیں غالبؔ
    کچھ تو ہے، جس کی پردہ داری ہے

    ہم کو ان سے وفا کی ہے امید
    جو نہیں جانتے وفا کیا ہے

    رنج سے خوگر ہوا انساں تو مٹ جاتا ہے رنج
    مشکلیں مجھ پر پڑیں اتنی کہ آساں ہو گئیں

    آئینہ کیوں نہ دوں کہ تماشا کہیں جسے
    ایسا کہاں سے لاؤں کہ تجھ سا کہیں جسے

    ریختے کے تمہیں استاد نہیں ہو غالبؔ
    کہتے ہیں اگلے زمانے میں کوئی میرؔ بھی تھا

    ہیں اور بھی دنیا میں سخن ور بہت اچھے
    کہتے ہیں کہ غالبؔ کا ہے انداز بیاں اور

    آہ کو چاہیے اک عمر اثر ہوتے تک
    کون جیتا ہے تری زلف کے سر ہوتے تک

    بسکہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا
    آدمی کو بھی میسر نہیں انساں ہونا

    دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت درد سے بھر نہ آئے کیوں
    روئیں گے ہم ہزار بار کوئی ہمیں ستاے کیوں

    عشق سے طبیعت نے زیست کا مزا پایا
    درد کی دوا پائی درد بے دوا پایا

    موت کا ایک دن معین ہے
    نیند کیوں رات بھر نہیں آتی

    یہ کہاں کی دوستی ہے کہ بنے ہیں دوست ناصح
    کوئی چارہ ساز ہوتا کوئی غم گسار ہوتا

    ہم نے مانا کہ تغافل نہ کرو گے لیکن
    خاک ہو جائیں گے ہم تم کو خبر ہوتے تک

    بازیچۂ اطفال ہے دنیا مرے آگے
    ہوتا ہے شب و روز تماشا مرے آگے

    پوچھتے ہیں وہ کہ غالبؔ کون ہے
    کوئی بتلاؤ کہ ہم بتلائیں کیا

    میری قسمت میں غم گر اتنا تھا
    دل بھی یارب کئی دیے ہوتے

    کعبہ کس منہ سے جاؤگے غالبؔ
    شرم تم کو مگر نہیں آتی

    آگے آتی تھی حال دل پہ ہنسی
    اب کسی بات پر نہیں آتی

    کہوں کس سے میں کہ کیا ہے شب غم بری بلا ہے
    مجھے کیا برا تھا مرنا اگر ایک بار ہوتا

    درد منت کش دوا نہ ہوا
    میں نہ اچھا ہوا برا نہ ہوا

    کب وہ سنتا ہے کہانی میری
    اور پھر وہ بھی زبانی میری

    کرنے گئے تھے اس سے تغافل کا ہم گلہ
    کی ایک ہی نگاہ کہ بس خاک ہو گئے

    جی ڈھونڈتا ہے پھر وہی فرصت کہ رات دن
    بیٹھے رہیں تصور جاناں کیے ہوئے

    مرتے ہیں آرزو میں مرنے کی
    موت آتی ہے پر نہیں آتی

    ہم وہاں ہیں جہاں سے ہم کو بھی
    کچھ ہماری خبر نہیں آتی

    آئینہ دیکھ اپنا سا منہ لے کے رہ گئے
    صاحب کو دل نہ دینے پہ کتنا غرور تھا

    ہر ایک بات پہ کہتے ہو تم کہ تو کیا ہے
    تمہیں کہو کہ یہ انداز گفتگو کیا ہے

    پھر اسی بے وفا پہ مرتے ہیں
    پھر وہی زندگی ہماری ہے

    کوئی میرے دل سے پوچھے ترے تیر نیم کش کو
    یہ خلش کہاں سے ہوتی جو جگر کے پار ہوتا

    کہاں مے خانہ کا دروازہ غالبؔ اور کہاں واعظ
    پر اتنا جانتے ہیں کل وہ جاتا تھا کہ ہم نکلے

    کہتے ہیں جیتے ہیں امید پہ لوگ
    ہم کو جینے کی بھی امید نہیں

    ہوگا کوئی ایسا بھی کہ غالبؔ کو نہ جانے
    شاعر تو وہ اچھا ہے پہ بدنام بہت ہے

    صادق ہوں اپنے قول کا غالبؔ خدا گواہ
    کہتا ہوں سچ کہ جھوٹ کی عادت نہیں مجھے

    غالبؔ برا نہ مان جو واعظ برا کہے
    ایسا بھی کوئی ہے کہ سب اچھا کہیں جسے

    کی مرے قتل کے بعد اس نے جفا سے توبہ
    ہائے اس زود پشیماں کا پشیماں ہونا

    قرض کی پیتے تھے مے لیکن سمجھتے تھے کہ ہاں
    رنگ لاوے گی ہماری فاقہ مستی ایک دن

    کتنے شیریں ہیں تیرے لب کہ رقیب
    گالیاں کھا کے بے مزا نہ ہوا

  • اردو کے ممتاز غزل گو شاعر جمال احسانی

    اردو کے ممتاز غزل گو شاعر جمال احسانی

    چراغ سامنے والے مکان میں بھی نہ تھا
    یہ سانحہ مرے وہم و گمان میں بھی نہ تھا

    اردو کے ممتاز غزل گو شاعر جمال احسانی 21 اپریل 1951ء کو سرگودھا میں پیدا ہوئے تھے۔ 1970ء کی دہائی میں انہوں نے شاعری کا آغاز کیا اور بہت جلد اردو کے اہم غزل گو شعرا میں شمار ہونے لگے۔جمال احسانی کی ابتدائی تربیت احسان امروہوی جیسے روایتی استاد کے ہاتھوں ہوئی۔ انھیں سلیم احمد اور قمر جمیل جیسے جدید شعراء کا قرب بھی حاصل رہا۔

    اس قدیم اور جدید شاعری کے ملاپ سے ان کی شاعری ایک طرف تو روایت کا رنگ لئے ہوئے ہے وہیں اس میں جدیدیت کا تڑکا بھی ہے جو اس شاعری کو دو آتشہ بنا دیتا ہے۔ جمال احسانی بنیادی طور پر غزل کے شاعر تھے ۔ اس صنف میں محاورات کی بر جستگی، زبان کی پختگی اور باہمی ربط ان کی غزل کا شعار ہیں۔

    جمال کے یہاں ہر جذبہ اپنی پوری شدت سے موجود ہوتا ہے۔ ان کی شاعری میں سمندر، صحرا، سفر، آسمان، تنہائی اور وصل اپنے پورے تاثر کے ساتھ محسوس کئے جا سکتے ہیں۔ ایک بہت بڑے کینسوس پر ان کی شاعری کی جو تصویر نظر آتی ہے وہ ان کے خوابوں اور امنگوں کی عکاسی کرتی ہے-

    ان کے شعری مجموعوں میں ستارۂ سفر، رات کے جاگے ہوئے اور تارے کو مہتاب کیا شامل ہیں۔ ان تینوں مجموعوں پر مشتمل ان کی کلیات، کلیات جمال کے نام سے بھی اشاعت پذیر ہوچکی ہے۔

    10 فروری 1998ء کو اردو کے ممتاز غزل گو شاعر جمال احسانی کراچی میں وفات پاگئے۔ وہ کراچی میں گلستان جوہر کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔

    ان کے منتخب اشعار ملاحظہ ہو:

    چراغ سامنے والے مکان میں بھی نہ تھا
    یہ سانحہ مرے وہم و گمان میں بھی نہ تھا
    ………
    سمندروں کا سفر آج تو مزہ دے گا
    ہوا بھی تیز ہے کشتی بھی بادبانی ہے
    ………….
    آنکھوں آنکھوں کی ہریالی کے خواب دکھائی دینے لگے
    ہم ایسے کئی جاگنے والے نیند ہو ئے صحراؤں کی!
    ………….
    مقصود صرف ڈھونڈنا کب تھا تجھے ،سو میں
    جس سمت تو نہیں تھا ادھر بھی نکل گیا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تھکن بہت تھی مگر سایہءِ شجر میں جمال
    میں بیٹھتا تو مرا ہمسفر چلا جاتا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وہ جس منڈیر پہ چھوڑ آیا اپنی آنکھیں میں
    چراغ ہوتا تو لو بھول کر چلا جاتا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آگاہ میں چراغ جلاتے ھی ھو گیا ۔۔۔ !!
    دنیا مرے حساب سے بڑھ کر خراب ھے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    چراغ بجھتے چلے جا رہے ہیں سلسلہ وار
    میں خود کو دیکھ رہا ہوں فسانہ ہوتے ہوئے

  • میرے لیے وہ شخص مصیبت بھی بہت ہے

    میرے لیے وہ شخص مصیبت بھی بہت ہے

    میرے لیے وہ شخص مصیبت بھی بہت ہے
    سچ یہ ہے مجھے اس کی عادت بھی بہت ہے

    روحی کنجاہی

    نام امر الٰہی اور تخلص روحیؔ ہے۔ 04 اگست 1936ء کو کنجاہ، ضلع گجرات(پنجاب) میں پیدا ہوئے۔ ابھی روحی آٹھویں جماعت کے طالب علم تھے کہ باپ کا سایہ سر سے اٹھ گیا۔ ناسازگار حالت کے باوجود روحی کنجاہی نے اپنا تعلیمی سلسلہ جاری رکھا اور بی اے تک تعلیم حاصل کی۔ دوران تعلیم ملازمت بھی کرتے رہے۔ میٹرک کے بعد دس برس کوہ نور ٹیکسٹائل ملز، فیصل آباد میں گزارے۔ بعدازاں لاہور میں زرعی ترقیاتی وسپلائز کارپوریشن میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز رہے۔ 07 فروری 2022ء کو وفات پا گئے-ان کی تصانیف کے نام یہ ہیں: ’’سمتیں‘‘ (مجموعہ کلام)، ’’بے مثال افسانہ‘‘(افسانوی مجموعہ)، ’’منتخب شاہ کار مزاحیہ شاعری‘‘(تالیف)۔
    بحوالۂ:پیمانۂ غزل(جلد دوم)،محمد شمس الحق،صفحہ:319

    اشعار
    ۔۔۔۔۔
    معجزہ کوئی دکھاؤں بھی تو کیا
    چاند میں شہر بساؤں بھی تو کیا

    کس لیے پھرتا ہوں تنہا نہ کسی نے پوچھا
    کیوں کہیں جی نہیں لگتا نہ کسی نے پوچھا

    صورتِ نغمۂ جاں اے روحیؔ
    میں ترے دل میں اترنا چاہوں

    منصفِ وقت سے بیگانہ گزرنا ہوگا
    فیصلہ اپنا ہمیں آپ ہی کرنا ہوگا

    میرے لیے وہ شخص مصیبت بھی بہت ہے
    سچ یہ بھی ہے اس کی مجھے عادت بھی بہت ہے

    تو مل بھی جائے تو پھر بھی تجھے تلاش کروں
    ہر ایک دور میں تخلیقِ ارتعاش کروں

    یوں تو ہوں ایک لفظ ہی میں بھی لغات کا
    مفہوم کے لحاظ سے سب سے جدا ہوں میں

    یہ تیری بزم ہے یاں تیرا سکہ چلتا ہے
    کوئی بھی بات مری معتبر نہیں نہ سہی

    اب تو یوں لب پہ مرے حرفِ صداقت آئے
    ناگہاں شہر پہ جیسے کوئی آفت آئے

    نہ چشم اشارے سے واقف نہ لب کا حرف سے ربط
    کچھ ایسے سلسلے بھی قیل و قال کے دیکھے

    یہ سلسلۂ شام و سحر یوں ہی نہیں ہے
    ہر قافلہ سرگرم سفر یوں ہی نہیں ہے

  • مرزا یاس یگانہ چنگیزی برصغیر کے معروف شاعر

    مرزا یاس یگانہ چنگیزی برصغیر کے معروف شاعر

    گناہ گن کے میں کیوں اپنے دل کو چھوٹا کروں
    سنا ہے تیرے کرم کا کوئی حساب نہیں

    مرزا یاس یگانہ چنگیزی اپنے معاصرین میں اپنی شاعری کے نئے رنگوں اور دکھ درد کی بے شمار صورتوں میں لپٹی ہوئی زندگی کے سبب سب سے الگ نظر آتے ہیں۔ یگانہ کا نام مرزا واجد حسین تھا پہلے یاس تخلص کرتے تھے بعد میں یگانہ تخلص اختیار کیا۔ ان کی پیدائش 17 اکتوبر 1884ء کو محلہ مغلپورہ عظیم آباد میں ہوئی۔

    1903 میں کلکتہ یونیورسٹی سے میٹرک کا امتحان پاس کیا۔ تنگیِ حالات کے سبب تعلیمی سلسلہ جاری نہیں رکھ سکے۔ 1904ء میں واجد علی شاہ کے نواسے شہزادہ میرزا محمد مقمیم بہادر کے انگریزی کے اتالیق مقرر ہوئے۔ مگر یہاں کی آب وہوا یگانہ کو راس نہیں آئی اور وہ عظیم آباد لوٹ آئے۔

    عظیم آباد میں بھی ان کی بیماری کا سلسلہ جاری رہا اس لئے تبدیلی آب وہوا کے لئے 1905ء میں انھوں نے لکھنؤ کا رخ کیا۔ یہاں کی آب وہوا اور اس شہر کی رنگا رنگ دلچسپیوں نے یگانہ کو کچھ ایسا متأثر کیا کہ پھریہیں کے ہورہے، یہیں شادی کی اور یہیں اپنی زندگی کی آخری سانسیں لیں۔ تلاش معاش کیلئے لاہور اور حیدرآباد گئے بھی گئے لیکن لوٹ کر لکھنؤ ہی آئے۔

    ابتدائی کچھ برسوں تک تو یگانہ کے تعلقات لکھنؤ کے شعراء وادباء کے ساتھ خوشگوار رہے، انہیں مشاعروں میں بلایا جاتا اور یگانہ اپنی تہہ دار شاعری اور خوش الحانی کی بنا پر خوب داد وصول کرتے لیکن دھیرے دھیرے یگانہ کی مقبولیت لکھنوی شعراء کو کھلنے لگی۔ وہ یہ کیسے برداشت کر سکتے تھے کہ کوئی غیرلکھنوی لکھنؤ کے ادبی معاشرے میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جانے لگے۔ اس لیے یگانہ کے خلاف سازشیں شروع ہوگئیں۔ ان کے لیے معاشی مشکلیں پیدا کی جانے لگیں۔ اس دشمنی کی انتہا تو اس وقت ہوئی جب یگا نہ نے اپنی زندگی کے آخری برسوں میں کچھ ایسی رباعیاں کہہ دی تھیں جن کی وجہ سے سخت مذہبی خیالات رکھنے والوں کو تکلیف ہوئی۔

    اس موقع کا فائدہ اٹھا کریگانہ کے مخالفین نے ان کے خلاف ایسی فضا تیار کی کہ مذہبی جوش وجنون رکھنے والے یگانہ کو لکھنؤ کی گلیوں میں کھیچ لائے، چہرے پر سیاہی پوت کران کا جلوس نکالا اور طرح طرح کی غیرانسانی حرکتیں کیں۔لکھنؤ کے اس ادبی معاشرے میں یگانہ کیلئے سب سے بڑا مسئلہ اس سوچ کے خلاف لڑنا تھا جس کے تحت کوئی فرد یا گروہ زبان وادب اور علم کو اپنی جاگیر سمجھنے لگتا ہے۔

    یگانہ کی شاعری کی داستان لکھنؤ میں کی جانے والی ایک ایسی شاعری کی داستان ہے جو وہاں کی گھسی پٹی اور روایتی شاعری کو رد کرکے فکر وخیال اور زبان کے نئے ذا ئقوں کو قائم کرنے کی طرف مائل تھی۔ لکھنؤ میں یگانہ کے معاصرین ایک خاص انداز اور ایک خاص روایت کی شاعری کی نقل اڑانے میں لگے ہوئے تھے۔ ان کے یہاں نہ کوئی نیا خیال تھا اور نہ ہی زبان کا کوئی نیا ذائقہ وہ داغ و مصحفی کی بنائی ہوئی لکیروں پر چل رہے تھے۔

    لکھنؤ میں یگانہ کی آمد نے وہاں کے ادبی معاشرے میں ایک ہلچل سی پیدا کردی۔ یہ ہلچل صرف شاعری کی سطح پر ہی نہیں تھی بلکہ یگانہ نے اس وقت میں رائج بہت سے ادبی تصورات ومزعومات پر بھی ضرب لگائی اور ساتھ ہی لکھنو کے اہلِ زبان ہونے کے روایتی تصور کو بھی رد کیا۔ غالب کی شاعری پر یگا نہ کے سخت ترین اعتراضات بھی اس وقت کے ادبی ماحول میں حد سے بڑھی ہوئی غالب پرستی کا نتیجہ تھے۔

    یگانہ کی شاعری آپ پڑھیں گے تو اندازہ ہوگا کہ وہ زبان اور خیالات کی سطح پر شاعری کو کن نئے تجربوں سے گزار رہے تھے۔ یگانہ نے بیسوی صدی کے تمام تر تہذیبی، سماجی اور فرد کے اپنے داخلی مسائل کوجس انداز میں چھوا اور ایک بڑے سیاق میں جس طور پرغزل کا حصہ بنایا، اس طرح ان کے عہد کے کسی اور شاعرکے یہاں نظر نہیں آتا۔ یہی تجربات آگے چل کر جدید اردو غزل کا پیش خیمہ بنے۔

    یگانہ کی کتابیں : شعری مجموعے : نشتر یاس، آیات وجدانی، ترانہ، گنجینہ۔ دیگر : چراغ سخن، غالب شکن۔

    اشعار
    ۔۔۔۔۔
    گناہ گن کے میں کیوں اپنے دل کو چھوٹا کروں
    سنا ہے تیرے کرم کا کوئی حساب نہیں

    مصیبت کا پہاڑ آخر کسی دن کٹ ہی جائے گا
    مجھے سر مار کر تیشے سے مر جانا نہیں آتا

    کشش لکھنؤ ارے توبہ
    پھر وہی ہم وہی امین آباد

    درد ہو تو دوا بھی ممکن ہے
    وہم کی کیا دوا کرے کوئی

    کسی کے ہو رہو اچھی نہیں یہ آزادی
    کسی کی زلف سے لازم ہے سلسلہ دل کا

    موت مانگی تھی خدائی تو نہیں مانگی تھی
    لے دعا کر چکے اب ترک دعا کرتے ہیں

    واعظ کی آنکھیں کھل گئیں پیتے ہی ساقیا
    یہ جام مے تھا یا کوئی دریائے نور تھا

    سب ترے سوا کافر آخر اس کا مطلب کیا
    سر پھرا دے انساں کا ایسا خبط مذہب کیا

    خودی کا نشہ چڑھا آپ میں رہا نہ گیا
    خدا بنے تھے یگانہؔ مگر بنا نہ گیا

    وہی ساقی وہی ساغر وہی شیشہ وہی بادہ
    مگر لازم نہیں ہر ایک پر یکساں اثر ہونا

    خدا جانے اجل کو پہلے کس پر رحم آئے گا
    گرفتار قفس پر یا گرفتار نشیمن پر

    دیوانہ وار دوڑ کے کوئی لپٹ نہ جائے
    آنکھوں میں آنکھیں ڈال کے دیکھا نہ کیجئے

    پہاڑ کاٹنے والے زمیں سے ہار گئے
    اسی زمین میں دریا سمائے ہیں کیا کیا

    شربت کا گھونٹ جان کے پیتا ہوں خون دل
    غم کھاتے کھاتے منہ کا مزہ تک بگڑ گیا
    جیسے دوزخ کی ہوا کھا کے ابھی آیا ہو
    کس قدر واعظ مکار ڈراتا ہے مجھے

    پکارتا رہا کس کس کو ڈوبنے والا
    خدا تھے اتنے مگر کوئی آڑے آ نہ گیا

    بتوں کو دیکھ کے سب نے خدا کو پہچانا
    خدا کے گھر تو کوئی بندۂ خدا نہ گیا

    کیوں کسی سے وفا کرے کوئی
    دل نہ مانے تو کیا کرے کوئی

    پہنچی یہاں بھی شیخ و برہمن کی کشمکش
    اب مے کدہ بھی سیر کے قابل نہیں رہا

    غالب اور میرزا یگانہؔ کا
    آج کیا فیصلہ کرے کوئی

    مفلسی میں مزاج شاہانہ
    کس مرض کی دوا کرے کوئی

    کعبہ نہیں کہ ساری خدائی کو دخل ہو
    دل میں سوائے یار کسی کا گزر نہیں

    نہ دین کے ہوئے محسن ہم اور نہ دنیا کے
    بتوں سے ہم نہ ملے اور ہمیں خدا نہ ملا

    مجھے دل کی خطا پر یاسؔ شرمانا نہیں آتا
    پرایا جرم اپنے نام لکھوانا نہیں آتا

    جھانکنے تاکنے کا وقت گیا
    اب وہ ہم ہیں نہ وہ زمانہ ہے

    پیام زیر لب ایسا کہ کچھ سنا نہ گیا
    اشارہ پاتے ہی انگڑائی لی رہا نہ گیا

    آ رہی ہے یہ صدا کان میں ویرانوں سے
    کل کی ہے بات کہ آباد تھے دیوانوں سے

    خدا ہی جانے یگانہؔ میں کون ہوں کیا ہوں
    خود اپنی ذات پہ شک دل میں آئے ہیں کیا کیا

    صبر کرنا سخت مشکل ہے تڑپنا سہل ہے
    اپنے بس کا کام کر لیتا ہوں آساں دیکھ کر

    دیر و حرم بھی ڈھ گئے جب دل نہیں رہا
    سب دیکھتے ہی دیکھتے ویرانہ ہو گیا

    مجھے اے ناخدا آخر کسی کو منہ دکھانا ہے
    بہانہ کر کے تنہا پار اتر جانا نہیں آتا

    باز آ ساحل پہ غوطے کھانے والے باز آ
    ڈوب مرنے کا مزہ دریائے بے ساحل میں ہے

    دور سے دیکھنے کا یاسؔ گنہ گار ہوں میں
    آشنا تک نہ ہوئے لب کبھی پیمانے سے

    دنیا کے ساتھ دین کی بیگار الاماں
    انسان آدمی نہ ہوا جانور ہوا

    مرتے دم تک تری تلوار کا دم بھرتے رہے
    حق ادا ہو نہ سکا پھر بھی وفاداروں سے

    نہ سنگ میل نہ نقش قدم نہ بانگ جرس
    بھٹک نہ جائیں مسافر عدم کی منزل کے

    دنیا سے یاسؔ جانے کو جی چاہتا نہیں
    اللہ رے حسن گلشن ناپائیدار کا

    رنگ بدلا پھر ہوا کا مے کشوں کے دن پھرے
    پھر چلی باد صبا پھر مے کدے کا در کھلا

    کارگاہ دنیا کی نیستی بھی ہستی ہے
    اک طرف اجڑتی ہے ایک سمت بستی ہے

    حسن ذاتی بھی چھپائے سے کہیں چھپتا ہے
    سات پردوں سے عیاں شاہد معنی ہوگا

    یگانہؔ وہی فاتح لکھنؤ ہیں
    دل سنگ و آہن میں گھر کرنے والے

    پردۂ ہجر وہی ہستئ موہوم تھی یاسؔ
    سچ ہے پہلے نہیں معلوم تھا یہ راز مجھے

    ساقی میں دیکھتا ہوں زمیں آسماں کا فرق
    عرش بریں میں اور ترے آستانے میں

    فردا کو دور ہی سے ہمارا سلام ہے
    دل اپنا شام ہی سے چراغ سحر ہوا

    یاسؔ اس چرخ زمانہ ساز کا کیا اعتبار
    مہرباں ہے آج کل نا مہرباں ہو جائے گا

    ہاتھ الجھا ہے گریباں میں تو گھبراؤ نہ یاسؔ
    بیڑیاں کیونکر کٹیں زنداں کا در کیونکر کھلا

    بے دھڑک پچھلے پہر نالہ و شیون نہ کریں
    کہہ دے اتنا تو کوئی تازہ گرفتاروں سے

    یکساں کبھی کسی کی نہ گزری زمانے میں
    یادش بخیر بیٹھے تھے کل آشیانے میں

    امتیاز صورت و معنی سے بیگانہ ہوا
    آئنے کو آئنہ حیراں کو حیراں دیکھ کر

  • نہ جانے کون سے عالم ميں اس کو ديکھا تھا،جدید اردو غزل کےمعروف شاعر شاذ تمکنت

    نہ جانے کون سے عالم ميں اس کو ديکھا تھا،جدید اردو غزل کےمعروف شاعر شاذ تمکنت

    شاذ تمکنت جدید اردو غزل کا ایک معتبر حوالہ ہیں آپ کا اصل نام ڈاکٹر سید مصلح الدین ہے آپ حیدر آباد ( آندھرا پردیش ) میں 31 جنوری 1933ء کو پیدا ہوئے آپ نے عثمانیہ یونیورسٹی حیدرآباد سے پی ایچ ڈی کیاجدید اردو شاعری میں شاذ تمكنت اپنے وقت کے مشہور شاعروں میں خود کو درج کرواچکے ہیں . دكن کے نامی گرامی شعرائے کرام میں شاذ کا شمار ہوتا ہے روایتی اور جدید شاعری کے درمیان جس پل کی تعمیر شاذ تمكنت نے کی وہ خود میں ایک دور کاآئینہ دار ہےان کی غزلوں اور نظموں میں جہاں ذاتی زندگی کے دکھ درد ظاہر ہیں، وہیں ان کا دکھ زمانہ کاعممومی طور پر تجربہ کرتا ہے آپ کا انتقال حیدر آباد ( آندھرا پردیش ) میں 18 اگست 1985ء کو ہوا –
    …..
    منتخب کلام
    …..
    نہ جانے کون سے عالم ميں اس کو ديکھا تھا
    تمام عمر وہ عالم رہا ہے آنکھوں ميں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    کل اس کے ساتھ ہي سب راستے روانہ ہوئے
    ميں آج گھر سے نکلتا تو کس کے گھر جاتا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ہر صبح سب سے پوچھتے پھرتے ہيں ہم کہ آج
    بندے ہيں کون؟ کس کو خدا مانتے ہيں لوگ
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ميں يہ کہتا ہو کہ مجھ سا نہيں تنہا کوئي
    آپ چاہيں تو ميري بات ميں ترميم کرليں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    کوئي گلہ کوئی شکوہ ذرا رہے تم سے
    يہ آرزو ہے کہ اک سلسلہ رہے تم سے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    کيا قيامت ہے مجھے حوصلہ ضبط ہے شاذ
    کيا غضب ہے کہ ترے درد کا اندازہ ہے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    يہ جہاں ہے مجلس بے اماں کوئي سانس لے تو بھلا کہاں
    ترا حسن آگيا درمياں يہي زندگي کا جواز ہے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ميں جسے ديکھنا چاہوں وہ نظر نہ آسکے
    ہائے ان آنکھوں پہ کيوں تہمتِ بينائي ہے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اے ارض و سما تجھ ميں دل بن کے دھڑکتے ہيں
    کچھ يونہي نہيں ہم کو آداب ِغزل آئے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    يوں بھي کچھ دن کيلئے دور رہا ہوں تجھ سے
    ليکن اس بار سفر کي يہ تھکن اور ہي ہے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    کچھ دير رو بھي لے ، طبعيت بحال ہو
    کيا سوچنے سے فائدہ کيوں سوچتا ہے پھر
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ذرا سي بات تھي بات آگئي جدائي تک
    ہنسي نے چھوڑ ديا لا کے جگ ہنسائي تک
    بھلے سے اب کوئي تيري بھلائي گنوائے
    کہ ميں نے چاہا تھا تجھ کو تری برائی تک
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    پھر کوئي آئے جسے ٹوٹ کے چاہا جائے
    ہميں ايک عمر ہوئي ہے کف افسوس ملے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    خدا نہيں ہے تو کيا ہے ہمارے سينوں ميں
    وہ اک کھٹک سي جسے ہم ضمير کہتے ہيں

  • راج کوی کاخطاب پانے والے پنڈت میلہ رام

    راج کوی کاخطاب پانے والے پنڈت میلہ رام

    اک بار اس نے مجھ کو دیکھا تھا مسکراکر
    اتنی تو حقیقت ہے باقی سب کہانیاں ہیں

    میلا رام وفا

    پنڈت بھگت رام کے بیٹے اور پنڈت جے داس کے پوتے،ناول نویس ،شاعر،صحافی اورحکومت پنجاب سے راج کوی کاخطاب پانے والے پنڈت میلہ رام،میلہ رام وفا کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ 26 جنوری1895کوگاؤں ديپوکےضلع سیالکوٹ میں پیداہوئے۔ بچپن میں گاؤں میں مویشی چرانےجایا کرتے تھے۔ کئی اخباروں کےمدیرہوئے، نیشنل کالج لاہور میں اردو فارسی کےدرس و تدریس کافریضہ انجام دیا۔

    ان کو باغیانہ نظم ”اے فرنگی“ لکھنے کے جرم میں دوسال کی قید بھی ہوئی شعری مجموعے”سوزوطن“ اور”سنگ میل“ کے علاوہ ”چاندسفرکا“ (ناول)ان کی اہم کتابیں ہیں بڑے بھائی سنت رام بھی شاعرتھےاورشوق تخلص کرتے تھے ٹی آر رینا کی کتاب پنڈت میلہ رام وفا حیات وخدمات، انجمن ترقی اردو(ہند) سے2011 میں چھپ چکی ہے فلم پگلی(1943)اورراگنی(1945)کے نغمے انہی کے لکھے ہوئے ہیں۔

    بارہ سال کی عمرمیں شادی ہوئی 17سال کی عمرمیں شعر کہنا شروع کیا پنڈت راج نارائن ارمان دہلوی کے شاگرد ہوئےارمان داغ دہلوی کے شاگرد تھے۔اردوکےمشہورومعروف رسالہ ”مخزن“ کے مدیررہے اور لالہ لاجپت رائے کے اردو اخبار ”وندے ماترم“ کی ادارت بھی کی۔ مدن موہن مالویہ کے اخبارات میں بھی کام کیا ویر بھارت میں جنگ کا رنگ کے عنوان سے کالم لکھتے تھے ان کاانتقال جالندھر پنجاب میں 19 ستمبر 1980 کو ہوا۔

    اشعار
    ۔۔۔۔۔
    اک بار اس نے مجھ کو دیکھا تھا مسکرا کر
    اتنی تو ہے حقیقت باقی کہانیاں ہیں

    گو قیامت سے پیشتر نہ ہوئی
    تم نہ آئے تو کیا سحر نہ ہوئی

    کہنا ہی مرا کیا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا
    یہ بھی تمہیں دھوکا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا

    اتنی توہین نہ کر میری بلا نوشی کی
    ساقیا مجھ کو نہ دے ماپ کے پیمانے سے

    عالم ہے ترے پرتو رخ سے یہ ہمارا
    حیرت سے ہمیں شمس و قمر دیکھ رہے ہیں

    تم بھی کرو گے جبر شب و روز اس قدر
    ہم بھی کریں گے صبر مگر اختیار تک

    راتیں عیش و عشرت کی دن دکھ درد مصیبت کے
    آتی آتی آتی ہیں جاتے جاتے جاتے ہیں

    دن جدائی کا دیا وصل کی شب کے بدلے
    لینے تھے اے فلک پیر یہ کب کے بدلے