Baaghi TV

Tag: شاعر

  • ماہر طبیب اور ممتاز شاعر آسی غازی پور

    ماہر طبیب اور ممتاز شاعر آسی غازی پور

    درد دل کتنا پسند آیا اسے
    میں نے جب کی آہ اس نے واہ کی

    آسی غازی پوری

    آسی غازی پوی کا شمار اردو کے ممتاز ترین شاعروں میں ہوتا ہے ۔ ان کی پیدائش 21 دسمبر 1834ء کو سکندر پور ضلع بلیا (یوپی) میں ہوئی ۔ نام محمد عبدالعلیم تھا۔ پہلے عاصی تخلص اختیار کیا پھر آسی۔ ابتدائی تعلیم اپنے نانا سے حاصل کی اس کے بعد جونپور چلے گئے اور مولانا عبدالحلیم فرنگی محلی سے معقولات کی تعلیم حاصل کی۔

    عاصی ایک ماہر طبیب بھی تھے ۔ انھوں نے طب کی کوئی رسمی تعلیم حاصل نہیں کی تھی بلکہ اپنے ذوق اور ذاتی مطالعے سے اس فن میں مہارت حاصل کی ۔ طالب علمی کے زمانے ہی سے شعر وسخن میں دلچسپی تھی ۔ ناسخ کے شاگرد افضل الہ آبادی سے مشورہ سخن کیا ۔ آسی کا دیوان ’’ عین المعارف ‘‘ کے نام سے شائع ہوا ۔ 24 جنوری 1917ء کو غازی پور میں انتقال ہوا ۔

    آسی کی شاعری متصوفانہ فکر کا تخلیقی بیان ہے ۔ آسی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ میر درد کے بعد تصوف کے موضوعات کو شاعری میں برتنے والے وہ سب سے کامیاب شاعر ہیں۔

    اشعار
    ۔۔۔۔۔
    دل دیا جس نے کسی کو وہ ہوا صاحب دل
    ہاتھ آ جاتی ہے کھو دینے سے دولت دل کی

    درد دل کتنا پسند آیا اسے
    میں نے جب کی آہ اس نے واہ کی

    میری آنکھیں اور دیدار آپ کا
    یا قیامت آ گئی یا خواب ہے

    اے جنوں پھر مرے سر پر وہی شامت آئی
    پھر پھنسا زلفوں میں دل پھر وہی آفت آئی

    وہ کہتے ہیں میں زندگانی ہوں تیری
    یہ سچ ہے تو ان کا بھروسا نہیں ہے

    وہ پھر وعدہ ملنے کا کرتے ہیں یعنی
    ابھی کچھ دنوں ہم کو جینا پڑے گا

    لب نازک کے بوسے لوں تو مسی منہ بناتی ہے
    کف پا کو اگر چوموں تو مہندی رنگ لاتی ہے

    خدا سے ترا چاہنا چاہتا ہوں
    میرا چاہنا دیکھ کیا چاہتا ہوں

    بیمار غم کی چارہ گری کچھ ضرور ہے
    وہ درد دل میں دے کہ مسیحا کہیں جسے

    طبیعت کی مشکل پسندی تو دیکھو
    حسینوں سے ترک وفا چاہتا ہوں

    وہ خط وہ چہرہ وہ زلف سیاہ تو دیکھو
    کہ شام صبح کے بعد آئے صبح شام کے بعد

    کس کو دیکھا ان کی صورت دیکھ کر
    جی میں آتا ہے کہ سجدا کیجیے

    ملنے والے سے راہ پیدا کر
    اس سے ملنے کی اور صورت کیا

  • رضی اختر شوق معروف شاعر اور ڈرامہ نگار

    رضی اختر شوق معروف شاعر اور ڈرامہ نگار

    ہم اتنے پریشاں تھے کہ حال دل سوزاں
    ان کو بھی سنایا کہ جو غمخوار نہیں تھے

    نام خواجہ رضی الحسن انصاری اور تخلص شوق تھا۔ 23 اپریل 1933ء کو سہارن پور میں پید اہوئے۔ جامعہ عثمانیہ سے انھوں نے بی اے کیا۔ تقسیم ہند کے بعد وہ پاکستان آگئے اور کراچی میں مستقل سکونت اختیار کی۔ یہاں آکر انھوں نے کراچی یونیورسٹی سے ایم اے کیا اور ریڈیو پاکستان سے اپنی ملازمت کا آغاز کیا ۔رضی اختر شوق ایک اچھے شاعر ہونے کے ساتھ ایک بہترین ڈراما نگار بھی تھے۔ عمر کے آخری دنوں میں وہ دل کی بیماری میں مبتلا ہوگئے تھے۔ اسی مرض میں 22 جنوری 1999ء کو کراچی میں انتقال کرگئے۔ان کے دوشعری مجموعے’’میرے موسم میرے خواب‘‘ اور ’’جست‘‘ کے نام سے چھپ گئے ہیں۔ 2005ء میں انھیں علامہ اقبال ایوارڈ سے نوازا گیا۔ بحوالۂ:پیمانۂ غزل(جلد دوم)،محمد شمس الحق،صفحہ:276

    اشعار
    ۔۔۔۔۔۔
    ہم روح سفر ہیں ہمیں ناموں سے نہ پہچان
    کل اور کسی نام سے آ جائیں گے ہم لوگ

    دو بادل آپس میں ملے تھے پھر ایسی برسات ہوئی
    جسم نے جسم سے سرگوشی کی روح کی روح سے بات ہوئی

    مجھ کو پانا ہے تو پھر مجھ میں اتر کر دیکھو
    یوں کنارے سے سمندر نہیں دیکھا جاتا

    آپ ہی آپ دیے بجھتے چلے جاتے ہیں
    اور آسیب دکھائی بھی نہیں دیتا ہے

    ہم اتنے پریشاں تھے کہ حال دل سوزاں
    ان کو بھی سنایا کہ جو غم خوار نہیں تھے

    اب کیسے چراغ کیا چراغاں
    جب سارا وجود جل رہا ہے

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    یوں تو لکھنے کے لئے کیا نہیں لکھا میں نے
    پھر بھی جتنا تجھے چاہا نہیں لکھا میں نے
    یہ تو اک لہر میں کچھ رنگ جھلک آئے ہیں
    ابھی مجھ میں ہے جو دریا نہیں لکھا میں نے
    میرے ہر لفظ کی وحشت میں ہے اک عمر کا عشق
    یہ کوئی کھیل تماشا نہیں لکھا میں نے
    لکھنے والا میں عجب ہوں کہ اگر کوئی خیال
    اپنی حیرت سے نہ نکلا نہیں لکھا میں نے
    میری نظروں سے جو اک بار نہ پہنچا تجھ تک
    پھر وہ مکتوب دوبارہ نہیں لکھا میں نے
    میری سچائی ہر اک لفظ سے لو دیتی ہے
    جیسے سب لکھتے ہیں ویسا نہیں لکھا میں نے

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔
    کچھ لوگ سمجھنے ہی کو تیار نہیں تھے
    ہم ورنہ کوئی عقدۂ دشوار نہیں تھے
    صد حیف کہ دیکھا ہے تجھے دھوپ سے بے کل
    افسوس کہ ہم سایۂ دیوار نہیں تھے
    ہم اتنے پریشاں تھے کہ حال دل سوزاں
    ان کو بھی سنایا کہ جو غم خوار نہیں تھے
    سچ یہ ہے کہ اک عمر گزاری سر مقتل
    ہم کون سے لمحے میں سر دار نہیں تھے
    مانا کہ بہت تیز تھی رفتار حوادث
    ہم بھی کوئی گرتی ہوئی دیوار نہیں تھے
    یہ اس کی عنایت ہے کہ اپنا کے تمہیں شوقؔ
    وہ زخم دیے جن کے سزاوار نہیں تھے

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔
    آوارگان شوق سبھی گھر کے ہو گئے
    اک ہم ہی ہیں کہ کوچۂ دلبر کے ہو گئے
    پھر یوں ہوا کہ تجھ سے بچھڑنا پڑا ہمیں
    پھر یوں لگا کہ شہر سمندر کے ہو گئے
    کچھ دائرے تغیر دنیا کے ساتھ ساتھ
    ایسے کھنچے کہ ایک ہی محور کے ہو گئے
    اس شہر کی ہوا میں ہے ایسا بھی اک فسوں
    جس جس کو چھو گئی سبھی پتھر کے ہو گئے
    سورج ڈھلا ہی تھا کہ وہ سائے بڑھے کہ شوقؔ
    کم قامتان شہر برابر کے ہو گئے

  • معروف شاعر محسن بھوپالی کا یوم وفات

    معروف شاعر محسن بھوپالی کا یوم وفات

    ابلاغ کے لیے نہ تم اخبار دیکھنا
    ہو جستجو تو کوچہ و بازار دیکھنا
    محسن بھوپالی

    نام عبدالرحمن، تخلص محسنؔ بھوپالی 29؍ ستمبر 1932ء کو بھوپال (مدھیہ پردیش) میں پیدا ہوئے۔ محسن بھوپالی کی شعر گوئی کا آغاز 1948ءسےہوا اوروہ کم و بیش ساٹھ سال تک ادب کےمیدان میں فعال رہےاس دوران ان کی جو کتابیں اشاعت پذیر ہوئیں ان میں ”میں شکست شب، جستہ جستہ، نظمانے، ماجرا، گرد مسافت، قومی یک جہتی میں ادب کا کردار، حیرتوں کی سرزمین، مجموعہ سخن، موضوعاتی نظمیں، منظر پتلی میں، روشنی تو دیئے کے اندر ہے، جاپان کے چار عظیم شاعر، شہر آشوب کراچی اور نقد سخن“ شامل ہیں۔

    محسن بھوپالی کویہ منفرد اعزاز بھی حاصل تھا کہ1961ء میں ان کے اولین شعری مجموعے کی تقریب رونمائی حیدرآباد سندھ میں منعقد ہوئی ۔ کہا جاتا ہے کہ یہ اردو میں لکھی جانے والی کسی کتاب کی پہلی باقاعدہ تقریب رونمائی تھی جس کے کارڈ بھی تقسیم کئے گئے تھے۔

    محسن بھوپالی اردو کے ایک مقبول شاعر تھے ۔ وہ ایک نئی صنف سخن نظمانے کے بھی موجد تھے۔ ان کی زندگی میں ہی ان کے کئی قطعات اور اشعار ضرب المثل کا درجہ حاصل کرگئے تھے خصوصاً ان کا یہ قطعہ توان کی پہچان بن گیا تھا اور ہر مشاعرے میں ان سے اس کے پڑھے جانے کی فرمائش ہوتی تھی۔

    تلقین اعتماد وہ فرمارہے ہیں آج
    راہ طلب میں خود جو کبھی معتبر نہ تھے
    نیرنگی سیاست دوراں تو دیکھیے
    منزل انہیں ملی جو شریک سفر نہ تھے

    محسنؔ بھوپالی کا انتقال17؍جنوری2007ء کو کراچی میں ہوا۔ وہ پاپوش نگر کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔

    اشعار
    ۔۔۔۔۔۔
    نیرنگیِ سیاست دوراں تو دیکھیے
    منزل انہیں ملی جو شریک سفر نہ تھے

    ایک مدت کی رفاقت کا ہو کچھ تو انعام
    جاتے جاتے کوئی الزام لگاتے جاؤ

    جانے والے سب آ چکے محسنؔ
    آنے والا ابھی نہیں آیا

    ہماری جان پہ دہرا عذاب ہے محسنؔ
    کہ دیکھنا ہی نہیں ہم کو سوچنا بھی ہے

    اس کو چاہا تھا کبھی خود کی طرح
    آج خود اپنے طلب گار ہیں ہم

    جو ملے تھے ہمیں کتابوں میں
    جانے وہ کس نگر میں رہتے ہیں

    کیا خبر تھی ہمیں یہ زخم بھی کھانا ہوگا
    تو نہیں ہوگا تری بزم میں آنا ہوگا

    لفظوں کے احتیاط نے معنی بدل دیئے
    اس اہتمام شوق میں حسن اثر گیا

    زندگی گل ہے نغمہ ہے مہتاب ہے
    زندگی کو فقط امتحاں مت سمجھ

    بدن کو روندنے والو ضمیر زندہ ہے
    جو حق کی پوچھ رہے ہو تو حق ادا نہ ہوا

    لفظوں کو اعتماد کا لہجہ بھی چاہئے
    ذکر سحر بجا ہے یقین سحر بھی ہے

    سورج چڑھا تو پھر بھی وہی لوگ زد میں تھے
    شب بھر جو انتظار سحر دیکھتے رہے

    بات کہنے کی ہمیشہ بھولے
    لاکھ انگشت پہ دھاگا باندھا

    اس لیے سنتا ہوں محسنؔ ہر فسانہ غور سے
    اک حقیقت کے بھی بن جاتے ہیں افسانے بہت

    اس سے مل کر اسی کو پوچھتے ہیں
    بے خیالی سی بے خیالی ہے

    کس قدر نادم ہوا ہوں میں برا کہہ کر اسے
    کیا خبر تھی جاتے جاتے وہ دعا دے جائے گا

    ابلاغ کے لئے نہ تم اخبار دیکھنا
    ہو جستجو تو کوچہ و بازار دیکھنا

    محسنؔ اور بھی نکھرے گا ان شعروں کا مفہوم
    اپنے آپ کو پہچانیں گے جیسے جیسے لوگ

    محسنؔ اپنائیت کی فضا بھی تو ہو
    صرف دیوار و در کو مکاں مت سمجھ

    سوچا تھا کہ اس بزم میں خاموش رہیں گے
    موضوع سخن بن کے رہی کم سخنی بھی

    اب کے موسم میں یہ معیار جنوں ٹھہرا ہے
    سر سلامت رہیں دستار نہ رہنے پائے

    خندۂ لب میں نہاں زخم ہنر دیکھے گا کون
    بزم میں ہیں سب کے سب اہل نظر دیکھے گا کون

    کوئی صورت نہیں خرابی کی
    کس خرابے میں بس رہا ہے جسم

    پہلے جو کہا اب بھی وہی کہتے ہیں محسنؔ
    اتنا ہے بہ انداز دگر کہنے لگے ہیں

    صدائے وقت کی گر باز گشت سن پاؤ
    مرے خیال کو تم شاعرانہ کہہ دینا

    روشنی ہیں سفر میں رہتے ہیں
    وقت کی رہ گزر میں رہتے ہیں

    اے مسیحاؤ اگر چارہ گری ہے دشوار
    ہو سکے تم سے نیا زخم لگاتے جاؤ

  • ابراہیم اشک معروف شاعر اور نغمہ نگار

    ابراہیم اشک معروف شاعر اور نغمہ نگار

    تری زمیں سے اٹھیں گے تو آسماں ہوں گے
    ہم ایسے لوگ زمانے میں پھر کہاں ہوں گے

    ابراہیم اشک کا اصل نام ابراہیم خاں غوری تھا (20 جولائی 1951ء اجین ہندوستان، 16 جنوری 2022ء) ان کا شمار معروف شاعروں اور نغمہ نگاروں میں ہوتا ہے۔ انھوں نے کئی مقبول فلموں اور سیریلوں کے لیے نغمے اور اسکرپٹ لکھیں۔ نغمہ نگاری کا آغاز فلم ”کہو نہ پیار ہے“ سے کیا۔ اس فلم کے نغمے آج بھی اسی دلچسپی کے ساتھ سنے جاتے ہیں۔ نغموں کے علاوہ ان کی غزلوں کے متعدد البم ریلیز ہوئے۔

    اشک کی پیدائش 20 جولائی 1951ء کو اجین، مدھیہ پردیش میں ہوئی۔ ابتدائی تعلیم اجین میں ہی حاصل کی۔ اس کے بعد ہندی ادبیات میں ایم اے کیا۔

    اشک بہت زرخیز تخلیقی طبیعت کے مالک تھے۔ انھوں نے متعدد شعری اصناف میں بہت کثرت سے شاعری کی۔ غزلیں کہیں، نظمیں کہیں، دوہے کہے۔ ان کی شاعری کے کئی مجموعے شائع ہو چکے ہیں جن میں ’الہام‘ اور ’ آگہی‘ خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ اشک نے شاعری کے ساتھ تنقید بھی لکھی ۔ اقبال اور غالب پر ان کی کتابیں ان کی ثروت مند تنقیدی فکر کی اعلامیہ ہیں۔

    متفرق اشعار
    ۔۔۔۔۔۔۔
    تری زمیں سے اٹھیں گے تو آسماں ہوں گے
    ہم ایسے لوگ زمانے میں پھر کہاں ہوں گے

    خود اپنے آپ سے لینا تھا انتقام مجھے
    میں اپنے ہاتھ کے پتھر سے سنگسار ہوا

    زندگی وادی و صحرا کا سفر ہے کیوں ہے
    اتنی ویران مری راہگزر ہے کیوں ہے

    دنیا بہت قریب سے اٹھ کر چلی گئی
    بیٹھا میں اپنے گھر میں اکیلا ہی رہ گیا

    نہ دل میں کوئی غم رہے نہ میری آنکھ نم رہے
    ہر ایک درد کو مٹا شراب لا شراب دے

    کریں سلام اسے تو کوئی جواب نہ دے
    الٰہی اتنا بھی اس شخص کو حجاب نہ دے

    بس ایک بار ہی توڑا جہاں نے عہد وفا
    کسی سے ہم نے پھر عہد وفا کیا ہی نہیں

    چلے گئے تو پکارے گی ہر صدا ہم کو
    نہ جانے کتنی زبانوں سے ہم بیاں ہوں گے

    زندگی اپنی مسلسل چاہتوں کا اک سفر
    اس سفر میں بارہا مل کر بچھڑ جاتا ہے وہ

    کوئی بھروسہ نہیں ابر کے برسنے کا
    بڑھے گی پیاس کی شدت نہ آسماں دیکھو

    کوئی تو ہوگا جس کو مرا انتظار ہے
    کہتا ہے دل کہ شہر تمنا میں لے کے چل

    کس لیے کترا کے جاتا ہے مسافر دم تو لے
    آج سوکھا پیڑ ہوں کل تیرا سایا میں ہی تھا

    نام کو بھی نہ کسی آنکھ سے آنسو نکلا
    شمع محفل میں جلاتی رہی پروانے کو

    مجھے نہ دیکھو مرے جسم کا دھواں دیکھو
    جلا ہے کیسے یہ آباد سا مکاں دیکھو

    تھی حوصلے کی بات زمانے میں زندگی
    قدموں کا فاصلہ بھی یہاں ایک جست تھا

    نہیں ہے تم میں سلیقہ جو گھر بنانے کا
    تو اشکؔ جاؤ پرندوں کے آشیاں دیکھو

    بکھرے ہوئے تھے لوگ خود اپنے وجود میں
    انساں کی زندگی کا عجب بندوبست تھا

    یہ اور بات ہے کہ برہنہ تھی زندگی
    موجود پھر بھی میرے بدن پر لباس تھا

  • پاکستان کے نامور سوز خوان، نوحہ خوان اور شاعر عزت لکھنوی کا یومِ وفات

    پاکستان کے نامور سوز خوان، نوحہ خوان اور شاعر عزت لکھنوی کا یومِ وفات

    کبھی کچھ رسمِ دنیا اور کبھی کچھ مصلحت مانع
    حقیقت میں بڑی مشکل ہے جو سچ ہو وہی کہنا

    پاکستان کے نامور سوز خوان، نوحہ خوان اور شاعر عزت لکھنوی کا یومِ وفات

    مرزاآغامحمدعزتالزماں المعروف عزتؔ_لکھنوی 1932ء میں شہر لکھنؤ کے محلہ اشرف آباد میں پیدا ہوئے۔ والد کا نام آغا محمد بدیع الزماں تھا۔ عزت لکھنوی نے ابتدای تعلیم مدرسہ حسینیہ، اما باڑہ میاں داراب علی خان مرحوم، مولوی گنج لکھنؤ میں حاصل کی۔ اس کے بعد مدرسہ
    سلطان المدارس نزد میڈیکل کالج لکھنؤ میں بھی زیرِ تعلیم رہے اس کے بعد شیعہ ڈگری کالج، ڈالی گنج لکھنؤ، لکھنؤ کے طالب علم رہے۔

    قانون کی ڈگری انہوں نے لکھنؤ سے حاصل کی۔15؍اگست 1958ء کو ترکِ وطن کیا اور کراچی پہنچے۔ کراچی کے عدالتی ماحول سے بد دل ہو کر بینک افسری کا امتحان دیا اور حبیب بنک کراچی سے منسلک ہو گئے۔ ‘کراچی ٹی، وی اسٹیشن جب قائم ہوا تو اس وقت سے لے کر تادمِ مرگ محرم کے شامِ غریباں کی نشریات میں ان کا پڑھا ہوا نوحہ نشر کیا جاتا رہا 16؍جنوری 1981ء کوانتقال کر گئے۔

    عزتؔ لکھنوی کے یومِ وفات پر منتخب اشعار
    ….
    فکر بدلے گی تو پھر لوگ ہمیں پوجیں گے
    بعد مرنے کے کیا جائے گا چرچہ اپنا
    غیر تو وقت پہ کچھ کام بھی آ جاتے ہیں
    کوئی لیکن کبھی اپنوں میں نہ نکلا اپنا
    لوگ تڑپیں گے اگر یاد کبھی آئے گی
    ایسا اسلوب یہ انداز یہ لہجہ اپنا
    ———
    کبھی کچھ رسمِ دنیا اور کبھی کچھ مصلحت مانع
    حقیقت میں بڑی مشکل ہے جو سچ ہو وہی کہنا
    ———
    اک محبت ہے فقط وجہِ بہارِ زندگی
    ورنہ اس دنیا میں کیا رکھا ہے انساں کے لیے
    ———
    آپ خوب واقف ہیں، دل کی جو تمنا ہے
    حُکم کیا ہے اے مولا، چپ رہوں میں یا مانگوں
    ———
    ناقدریِ زمانہ کی تلخی سے بے نیاز
    اچھے ہیں جن کے پاس متاعِ ہنر نہیں

  • اردو کے معروف شاعرسید محسن نقوی کا یوم وفات

    اردو کے معروف شاعرسید محسن نقوی کا یوم وفات

    یہ کس نے ہم سے لہو کا خراج پھر مانگا
    ابھی تو سوئے تھے مقتل کو سرخرو کر کے

    محسن نقوی

    پیدائش:سید غلام عباس نقوی 05 مئی 1947ء ڈیرہ غازی خان، برطانوی ہند، وفات:15 جنوری 1996ءسادات گاؤں، ڈیرہ غازی خان

    سید محسن نقوی اردو کے مشہور شاعر تھے۔ ان کا مکمل نام سید غلام عباس تھا۔ لفظ محسن اُن کا تخلص تھا اور لفظ نقوی کو وہ تخلص کے ساتھ استعمال کرتے تھے۔ لہٰذا بحیثیت ایک شاعر انہوں نے اپنے نام کو محسن نقوی میں تبدیل کر لیا اور اِسی نام سے مشہور ہو گئے۔ محسن نقوی 5، مئی 1947ء کو محلہ سادات، ڈیرہ غازی خان میں پیدا ہوئے- انہوں نے گورنمنٹ کالج بوسن روڈ ملتان سے گریجویشن اور پھر جامعہ پنجاب سے ایم اے اردو کیا تھا۔ گورنمنٹ کالج بوسن روڈ ملتان سے گریجویشن کرنے کے بعد جب یہ نوجوان جامعہ پنجاب کے اردو ڈیپارٹمنت میں داخل ہوا تو دنیا نے اسے محسنؔ نقوی کے نام سے جانا۔ اس دوران ان کا پہلا مجموعۂ کلام چھپا۔ بعد میں وہ لاہور منتقل ہو گئے۔ اور لاہور کی ادبی سرگرمیوں میں حصہ لیتے رہے جہاں انہیں بے پناہ شہرت حاصل ہوئی۔ بعد میں محسن نقوی ایک خطیب کے روپ میں سامنے آئے مجالس میں ذکرِ اہل بیت اور واقعاتِ کربلا کے ساتھ ساتھ اہلبیت پہ لکھی ہوئی شاعری بیان کیا کرتے تھے۔

    شاعری
    ۔۔۔۔۔
    محسن نقوی شاعری کے علاوہ مرثیہ نگاری میں بھی مہارت رکھتے تھے۔ انہوں نے اپنی شاعری میں واقعہ کربلا کے استعارے جابجا استعمال کیے۔ ان کی تصانیف میں بند قبا،عذاب دید، خیمہ جان، برگ صحرا، طلوع اشک، حق ایلیا، رخت شب ،ریزہ حرف ، موج ادراک اور دیگر شامل ہیں۔ محسن نقوی کی شاعری میں رومان اور درد کا عنصر نمایاں تھا۔ ان کی رومانوی شاعری نوجوانوں میں بھی خاصی مقبول تھی۔ ان کی کئی غزلیں اور نظمیں آج بھی زبان زد عام ہیں اور اردو ادب کا سرمایہ سمجھی جاتی ہیں۔ محسن نے بڑے نادر اور نایاب خیالات کو اشعار کا لباس اس طرح پہنایا ہے کہ شاعری کی سمجھ رکھنے والا دنگ رہ جاتا ہے۔

    اِک ”جلوہ“ تھا، سو گُم تھا حجاباتِ عدم میں
    اِک ”عکس“ تھا، سو منتظرِ چشمِ یقیں تھا

    محسن نقوی کے غزل اور نظم کے قادر الکلام شاعر ہونے کے بارے میں دو آراء نہیں ہو سکتیں۔ محسن کی نثر جو اُن کے شعری مجموعوں کے دیباچوں کی شکل میں محفوظ ہو چکی ہے بلا شبہ تخلیق تحریروں کی صفِ اوّل میں شمار کی جا سکتی ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ ایک اور صنفِ سخن یعنی قطعہ نگاری کے بھی بادشاہ ہیں۔ اِن کے قطعا ت کے مجموعے ” ردائے خواب” کو ان کے دیگر شعری مجموعوں کی طرح بے حد پزیرائی حاصل ہوئی۔ نقادانِ فن نے اسے قطعہ نگاری میں ایک نئے باب کا اِضافہ قرار دیا۔ مذہبی نوعیت کے قطعات ” میراثِ محسن ” میں پہلے ہی درج کیے جا چکے ہیں۔ محسن نے اخبارات کے لیے جو قطعات لکھے ان کی زیادہ تر نوعیت سیاسی تھی لیکن ان کا لکھنے والا بہر حال محسن تھا – 1994ء میں حکومت پاکستان نے انہیں صدارتی تمغا برائے حسن کارکردگی عطا کیا تھا۔ محسن نقوی شاعر اہلِ بیت کے طور پر بھی جانے جاتے تھے ۔

    اردو غزل کو ہر دور کے شعرا نے نیا رنگ اور نئے رجحانات عطا کیے۔ محسن نقوی کا شمار بھی انہی شعرا میں ہوتا ہے جنہوں نے غزل کی کلاسیکی اٹھان کا دامن تو نہیں چھوڑا تاہم اسے نئی شگفتگی عطا کی۔ محسن نقوی کے کلام میں صرف موضوعات کا تنوع ہی موجود نہیں بلکہ زندگی کی تمام کیفیتوں کو انہوں نے جدید طرز احساس عطا کیا۔ محسن نقوی کی شاعری کا ایک بڑا حصہ اہل بیت سے منسوب ہے۔ انہوں نے کربلا پر جو شاعری لکھی وہ دنیا بھر میں پڑھی اور پسند کی جاتی ہے۔ ان کے مذہبی کلام کے بھی کئی مجموعے ہیں جن میں بندِ قبا، برگِ صحرا، ریزہ حرف، عذابِ دید، طلوعِ اشک، رختِ شب، خیمہ جاں، موجِ ادراک اور فراتِ فکر زیادہ مقبول ہیں۔

    محسن نقوی نے شاعری کا آغاز زمانہ طالب علمی سے کیا ان کا سب سے اہم حوالہ تو شاعری ہے۔ لیکن ان کی شخصیت کی اور بھی بہت سی جہتیں ہیں۔ انہوں نے اپنی شاعری صرف الف- لیلٰی کے موضوع تک ہی محدود نہ رکھی بلکہ انہوں نے دینا کے حکمرانوں کے بارے میں بھی بہت کچھ لکھا جنہیں اپنے لوگوں کی کوئی فکر نہ تھی۔ ان کی شاعری کا محور معاشرہ، انسانی نفسیات، رویے، واقعۂ کربلا اور دنیا میں ازل سے جاری معرکہ حق و باطل ہے۔ اپنے عروج کی انتہا کو پہنچ کر محسن نقوی نے کالعدم تحریکِ طالبان،سپاہ صحابہ اور اس کی ذیلی شاخوں کو اپنی شاعری کے ذریعے بے نقاب کرناشروع کیا تو پھر وہی ہوا جو اس ملک میں ہر حق گو کا مقدر ہے۔ اردو ادب کا یہ دمکتا چراغ 15 جنوری 1996ء کو مون مارکیٹ لاہور میں اپنے دفتر کے باہر دہشت گردوں کی فائرنگ سے بجھ گیا تھا تاہم اس کی روشنی ان کی شاعری کی صورت میں ہمیشہ زندہ رہے گی۔ پوسٹ مارٹم کی رپورٹ کے مطابق 45 گولیاں محسنؔ کے جسم میں لگیں
    یہ جاں گنوانے کی رُت یونہی رائیگاں نہ جائے –

    سر سناں، کوئی سر سجاؤ ! اُداس لوگو
    شہادت سے چند لمحے قبل محسن نقوی نے ایک لازوال شعر کہا تھا کہ
    سفر تو خیر کٹ گیا
    میں کرچیوں میں بٹ گیا

    محسنؔ نے بے انتہا شاعری کی جس میں حقیقی اور مجازی دونوں پہلو شامل تھے۔ ان کی پہچان اہلبیتِ محمدؐکی شان میں کی گئی شاعری بنی۔

    مجموعۂ کلام
    ۔۔۔۔۔
    ان کے کئی مجموعہ کلام چھپ چکے ہیں جن میں سے کچھ درج ذیل ہیں
    ٭ بندِ قبا۔ 1969ء
    ٭ برگِ صحرا۔ 1978ء
    ٭ ریزہ حرف۔ 1985ء
    ٭ عذابِ دید۔ 1990ء
    ٭ طلوعِ اشک۔ 1992ء
    ٭ رختِ شب۔ 1994ء
    ٭ خیمہ جاں۔ 1996ء
    ٭ موجِ ادراک
    ٭ فراتِ فکر

    اشعار
    ۔۔۔۔۔
    ہر وقت کا ہنسنا تجھے برباد نہ کر دے
    تنہائی کے لمحوں میں کبھی رو بھی لیا کر

    تمہیں جب روبرو دیکھا کریں گے
    یہ سوچا ہے بہت سوچا کریں گے

    اب تک مری یادوں سے مٹائے نہیں مٹتا
    بھیگی ہوئی اک شام کا منظر تری آنکھیں

    وفا کی کون سی منزل پہ اس نے چھوڑا تھا
    کہ وہ تو یاد ہمیں بھول کر بھی آتا ہے

    صرف ہاتھوں کو نہ دیکھو کبھی آنکھیں بھی پڑھو
    کچھ سوالی بڑے خوددار ہوا کرتے ہیں

    ذکر شب فراق سے وحشت اسے بھی تھی
    میری طرح کسی سے محبت اسے بھی تھی

    کل تھکے ہارے پرندوں نے نصیحت کی مجھے
    شام ڈھل جائے تو محسنؔ تم بھی گھر جایا کرو

    یوں دیکھتے رہنا اسے اچھا نہیں محسنؔ
    وہ کانچ کا پیکر ہے تو پتھر تری آنکھیں

    وہ اکثر دن میں بچوں کو سلا دیتی ہے اس ڈر سے
    گلی میں پھر کھلونے بیچنے والا نہ آ جائے

    جب سے اس نے شہر کو چھوڑا ہر رستہ سنسان ہوا
    اپنا کیا ہے سارے شہر کا اک جیسا نقصان ہوا

    کہاں ملے گی مثال میری ستم گری کی
    کہ میں گلابوں کے زخم کانٹوں سے سی رہا ہوں

    کتنے لہجوں کے غلافوں میں چھپاؤں تجھ کو
    شہر والے مرا موضوع سخن جانتے ہیں

    اب کے بارش میں تو یہ کار زیاں ہونا ہی تھا
    اپنی کچی بستیوں کو بے نشاں ہونا ہی تھا

    یہ کس نے ہم سے لہو کا خراج پھر مانگا
    ابھی تو سوئے تھے مقتل کو سرخ رو کر کے

    گہری خموش جھیل کے پانی کو یوں نہ چھیڑ
    چھینٹے اڑے تو تیری قبا پر بھی آئیں گے

    ازل سے قائم ہیں دونوں اپنی ضدوں پہ محسنؔ
    چلے گا پانی مگر کنارہ نہیں چلے گا

    لوگو بھلا اس شہر میں کیسے جئیں گے ہم جہاں
    ہو جرم تنہا سوچنا لیکن سزا آوارگی

    موسم زرد میں ایک دل کو بچاؤں کیسے
    ایسی رت میں تو گھنے پیڑ بھی جھڑ جاتے ہیں

    کیوں ترے درد کو دیں تہمت ویرانیٔ دل
    زلزلوں میں تو بھرے شہر اجڑ جاتے ہیں

    جن اشکوں کی پھیکی لو کو ہم بے کار سمجھتے تھے
    ان اشکوں سے کتنا روشن اک تاریک مکان ہوا

    ہم اپنی دھرتی سے اپنی ہر سمت خود تلاشیں
    ہماری خاطر کوئی ستارہ نہیں چلے گا

    جو دے سکا نہ پہاڑوں کو برف کی چادر
    وہ میری بانجھ زمیں کو کپاس کیا دے گا

    وہ لمحہ بھر کی کہانی کہ عمر بھر میں کہی
    ابھی تو خود سے تقاضے تھے اختصار کے بھی

    شاخ عریاں پر کھلا اک پھول اس انداز سے
    جس طرح تازہ لہو چمکے نئی تلوار پر

    پلٹ کے آ گئی خیمے کی سمت پیاس مری
    پھٹے ہوئے تھے سبھی بادلوں کے مشکیزے

    دشت ہستی میں شب غم کی سحر کرنے کو
    ہجر والوں نے لیا رخت سفر سناٹا

    چنتی ہیں میرے اشک رتوں کی بھکارنیں
    محسنؔ لٹا رہا ہوں سر عام چاندنی

  • معروف شاعر جون ایلیا کا یومِ پیدائش

    معروف شاعر جون ایلیا کا یومِ پیدائش

    ہے وہ جان اب ہر ایک محفل کی
    ہم بھی اب گھر سے کم نکلتے ہیں

    جون ایلیا 14 دسمبر، 1931ء کو امروہہ، اترپردیش کے ایک ‏نامورخاندان میں پیدا ہوئے وہ اپنے بہن بھائیوں میں سب ‏سے چھوٹے تھے۔ ان کے والدعلامہ شفیق حسن ایلیا کوفن ‏اورادب سے گہرا لگاؤ تھا اس کے علاوہ وہ نجومی اور شاعر ‏بھی تھے۔ اس علمی ماحول نے جون کی طبیعت کی تشکیل ‏بھی انہی خطوط پرکی انہوں نے اپنا پہلا اردو شعر محض 8 ‏سال کی عمر میں لکھا۔ جون اپنی کتاب شاید کے پیش لفظ میں ‏قلم طرازہیں۔‏

    ‏میری عمرکا آٹھواں سال میری زندگی کا سب سے زیادہ اہم ‏اورماجرہ پرور سال تھا اس سال میری زندگی کے دو سب ‏سے اہم حادثے، پیش آئے پہلاحادثہ یہ تھا کہ میں اپنی ‏نرگسی انا کی پہلی شکست سے دوچار ہوا، یعنی ایک قتالہ ‏لڑکی کی محبت میں گرفتار ہوا جبکہ دوسرا حادثہ یہ تھا کہ میں ‏نے پہلا شعر کہا‏

    چاہ میں اس کی طمانچے کھائے ہیں
    دیکھ لو سرخی مرے رخسار کی

    ایلیا کے ایک قریبی رفیق، سید ممتاز سعید، بتاتے ہیں کہ ایلیا ‏امروہہ کے سید المدارس کے بھی طالب علم رہے یہ مدرسہ امروہہ میں اہل تشیع حضرات کا ایک معتبر مذہبی مرکز رہا ہے چونکہ جون ایلیا خود شیعہ تھے اسلئے وہ اپنی شاعری میں جابجا شیعی حوالوں کا خوب استعمال کرتے تھے۔

    حضرت علی کی ذات مبارک سےانہیں خصوصی عقیدت تھی اورانہیں اپنی سیادت پربھی نازتھاسعید کہتے ہیں،جون کوزبانوں ‏سے خصوصی لگاؤ تھا۔ وہ انہیں بغیر کوشش کے سیکھ لیتا تھا۔ ‏عربی اور فارسی کے علاوہ، جو انہوں نے مدرسہ میں سیکھی تھیں، ‏انہوں نے انگریزی اور جزوی طور پر عبرانی میں بہت مہارت ‏حاصل کر لی تھی۔

    جون ایلیا نے 1957ء میں پاکستان ‏ہجرت کی اور کراچی کو اپنا مسکن بنایا۔ جلد ہی وہ شہر کے ادبی ‏حلقوں میں مقبول ہو گئے۔ ان کی شاعری ان کے متنوع مطالعہ کی عادات کا واضح ثبوت تھی، جس وجہ سے انہیں وسیع مدح اور ‏پذیرائی نصیب ہوئی۔

    جون کرو گے کب تلک اپنا مثالیہ تلاش
    اب کئی ہجر گزر چکے اب کئی سال ہوگئے

    جون ایک انتھک مصنف تھے، لیکن انھیں اپنا تحریری کام شائع ‏کروانے پر کبھی بھی راضی نہ کیا جا سکا۔ ان کا پہلا شعری مجموعہ ‏شاید اسوقت شائع ہوا جب ان کی عمر 60 سال کی تھی اس قدر تاخیر سے اشاعت کی وجہ وہ اس شرمندگی کو قرار دیتے ہیں جو ان کو اپنے والد کی تصنافات کو نہ شائع کراسکنے کے سبب تھی۔

    میں جو ہوں جون ایلیا ہوں جناب
    اس کا بے حد لحاظ کیجیے گا

    ‏نیازمندانہ کے عنوان سے جون ایلیا کے لکھے ہوئے اس کتاب کے پیش ‏لفظ میں انہوں نے ان حالات اور ثقافت کا بڑی گہرائی سے جائزہ لیا ‏ہے جس میں رہ کر انہیں اپنے خیالات کے اظہار کا موقع ملا۔ ان کی ‏شاعری کا دوسرا مجموعہ یعنی ان کی وفات کے بعد 2003ء میں ‏شائع ہوا اور تیسرا مجموعہ بعنوان گمان 2004ء میں شائع ہوا۔

    جون ایلیا مجموعی طور پر دینی معاشرے میں علی الاعلان نفی ‏پسند اورفوضوی تھےان کے بڑے بھائی، رئیس امروہوی، کو ‏مذہبی انتہا پسندوں نے قتل کر دیا تھا، جس کے بعد وہ عوامی ‏محفلوں میں بات کرتے ہوئے بہت احتیاط کرنے لگے۔

    ایک سایہ میرا مسیحا تھا
    کون جانے، وہ کون تھا کیا تھا

    جون ایلیا تراجم، تدوین اور اس طرح کے دوسری مصروفیات میں بھی ‏مشغول رہے لیکن ان کے تراجم اورنثری تحریریں آسانی سے ‏دستیاب نہيں ہیں۔ انہوں اسماعیلی طریقہ کے شعبۂ تحقیق کے سربراہ کی حیثیت سے دسویں صدی کے شہرۂ آفاق رسائل اخوان الصفا کا اردو میں ترجمہ کیا لیکن افسوس کے وہ شائع نہ ہوسکے۔

    بولتے کیوں نہیں مرے حق میں
    آبلے پڑ گئے زبان میں کیا

    فلسفہ، منطق، اسلامی تاریخ، اسلامی صوفی روایات، اسلامی ‏سائنس، مغربی ادب اور واقعۂ کربلا پر جون کا علم کسی ‏انسائکلوپیڈیا کی طرح وسیع تھا۔ اس علم کا نچوڑ انہوں نے اپنی ‏شاعری میں بھی داخل کیا تا کہ خود کو اپنے ہم عصروں سے نمایاں ‏کر سکيں۔

    میں اپنے شہر کا سب سے گرامی نام لڑکا تھا
    میں بے ہنگام لڑکا تھا ‘ میں صد ہنگام لڑکا تھا
    مرے دم سے غضب ہنگامہ رہتا تھا محلوں میں
    میں حشر آغاز لڑکا تھا ‘ میں حشر انجام لڑکا تھا
    مرمٹا ہوں خیال پر اپنے
    وجد آتا ہے حال پر اپنے

    جون ایک ادبی رسالے انشاء سے بطور مدیر وابستہ رہے جہاں ان کی ‏ملاقات اردو کی ایک اور مصنفہ زاہدہ حنا سے ہوئی جن سے ‏بعد میں انہوں نے شادی کرلی۔ زاہدہ حنااپنے انداز کی ترقی ‏پسند دانشور ہیں اور مختلف اخبارات میں ‏میں حالات حاضرہ اور معاشرتی موضوعات پر لکھتی ہیں۔ جون کے ‏زاہدہ سے 2 بیٹیاں اور ایک بیٹا پیدا ہوا۔ 1980ء کی دہائی کے وسط ‏میں ان کی طلاق ہو گئی۔ اس کے بعد تنہائی کے باعث جون کی ‏حالت ابتر ہو گئی۔ وہ بژمردہ ہو گئے اور شراب نوشی شروع کردی۔

    کبھی جو ہم نے بڑے مان سے بسایا تھا
    وہ گھر اجڑنے ہی والا ہے اب بھی آجاؤ
    جون ہی تو ہے جون کے درپے
    میرکو میر ہی سے خطرہ ہے

    کمال ِ فن کی معراج پرپہنچے جون ایلیا طویل علالت کے بعد 8 نومبر، 2002ء کو کراچی میں انتقال کرگئے۔

    کتنی دلکش ہو تم کتنا دل جو ہوں میں
    کیا ستم ہے کہ ہم لوگ مر جائیں گے

    اب تم کبھی نہ آئوگے یعنی کبھی کبھی
    رخصت کرو مجھے کوئی وعدہ کیے بغیر

    ہے وہ جان اب ہر ایک محفل کی
    ہم بھی اب گھر سے کم نکلتے ہیں

    کیا تکلف کریں یہ کہنے میں
    جو بھی خوش ہے ہم اس سے جلتے ہیں

    ناکامیوں نے اور بھی سرکش بنا دیا
    اتنے ہوئے ذلیل کہ خوددار ہو گئے

  • میگھنا گلزار:معروف ہندوستانی لکھاری مصنفہ اورشاعرہ

    میگھنا گلزار:معروف ہندوستانی لکھاری مصنفہ اورشاعرہ

    میگھنا گلزار
    13 دسمبر 1973 یوم پیدائش
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ہندوستان کی معروف لکھاری، مصنفہ ، اسکرپٹ رائٹر اور فلم ڈائریکٹر و پروڈیوسر میگھنا گلزار 13 دسمبر 1973 میں مہاراشٹر میں پیدا ہوئیں ۔ وہ ہندوستان کے ممتاز شاعر گلزار اور فلمی اداکارہ راکھی کی بیٹی ہیں ۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم کے بعد سوشیالوجی میں ماسٹر کیا جبکہ نیویارک یونیورسٹی امریکہ سے پروڈیوسر کا کورس کیا۔ میگھنا نے اپنے فنی سفر کا آغاز اپنے والد کی رہنمائی میں 1999 سے کیا جبکہ 2002 سے انہوں نے The Times of India اور NDFC Publication Cinema میں لکھنے کی شروعات کی۔

    میگھنا نے 2000 میں ونود سندھو سے شادی کی جس سے ان کو ایک بیٹا سمے سندھو پیدا ہوا ہے۔ میگھنا گلزار کو مختلف اداروں کی جانب سے متعدد ایوارڈ اور اعزازات حاصل ہوئے ہیں جن میں 2018 میں فلم فیئر اعزاز برائے بہترین ہدایتکارہ بھی شامل ہے ۔

  • بارش کو دشمنی تھی فقط میری ذات سے جوں ہی مرا مکان گرا ابر چھٹ گئے:تنویر سپرا کی بولتی شاعری

    بارش کو دشمنی تھی فقط میری ذات سے جوں ہی مرا مکان گرا ابر چھٹ گئے:تنویر سپرا کی بولتی شاعری

    بارش کو دشمنی تھی فقط میری ذات سے
    جوں ہی مرا مکان گرا ابر چھٹ گئے

    تنویر سپرا

    13 دسمبر. 1993 یوم وفات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    تنویر سپرا کا اصل نام محمد حیات تھا۔ وہ 1929ء میں جہلم کے ایک مزدور گھرانے میں پیدا ہوئے ۔ غربت اور تنگ دستی کے باعث تعلیم جاری نہ رکھہ سکے اور لڑکپن ہی میں مزدوری کے لیے کراچی چلے گئے ۔۔ وہاں بحری جہازوں میں رنگ و روغن کا کام کیا ، کچھہ عرصہ درزیوں کا کام کرتے رہے ۔ جہلم واپس آ کر دکانداری کی ، لاہور میں کچھہ عرصہ صحافت سے بھی وابستہ رہے ۔۔ محنت مزدوری کرتے ہوئے لڑکپن سے جوانی میں داخل ہوئے ۔ 1959 میں پاکستان ٹوبیکو کمپنی جہلم میں کام کرتے رہے ۔۔ محنت مشقت کے ساتھہ غیر رسمی تعلیم کا سلسلہ جاری رہا ۔ اور ذاتی مطالعے اور لگن کی بدولت ادیب عالم اور ادیب فاضل کے امتحانات پاس کیے ۔
    شاعری کا آغاز 1963،64 میں کیا ۔ اور 1969 میں فنون میں چھپنے کے بعد ادبی حلقوں میں متعارف ہوئے ۔ ان کا مجموعہ کلام ” لفظ کھردرے ” 1980 میں منظر عام پر آیا ۔ 1988 میں انھیں وزیراعظم بینظیر بھٹو کی طرف سے نیشنل بک کونسل آف پاکستان کا عوامی ادبی جمہوری انعام ملا ۔

    13دسمبر 1993ء کواسلام آباد میں وفات پائی اور جہلم میں مدفون ہیں۔

    تنویر سپرا کے کچھ شعر

    دیہات کے وجود کو قصبہ نکل گیا
    قصبے کا جسم شہر کی بنیاد کھا گئی

    اے رات مجھے ماں کی طرح گود میں لے لے
    دن بھر کی مشقت سے بدن ٹوٹ رہا ہے

    تنویرؔ پڑھو اسم کوئی رد بلا کا
    گھیرے میں لیے بیٹھے ہیں کچھہ سائے مرا جسم

    اٹھا لیتا ہے اپنی ایڑیاں جب ساتھہ چلتا ہے
    وہ بونا کس قدر میرے قد و قامت سے جلتا ہے

    میں اپنے بچپنے میں چھو نہ پایا جن کھلونوں کو
    انہی کے واسطے اب میرا بیٹا بھی مچلتا ہے

    دن بھر تو بچوں کی خاطر میں مزدوری کرتا ہوں
    رات کو اپنی غیر مکمل غزلیں پوری کرتا ہوں

    آج بھی سپرا اسکی خوشبو مل مالک لے جاتا ہے
    میں لوہے کی ناف سے پیدا جو کستوری کرتا ہوں

    شیشے دلوں کے گردِ تعصب سے اَٹ گئے
    روشن دماغ لوگ بھی فرقوں میں بٹ گئے

    اظہار کا دباؤ بڑا ہی شدید تھا
    الفاظ روکتے ہی مرے ہونٹ پھٹ گئے

    بارش کو دشمنی تھی فقط میری ذات سے
    جونہی مرا مکان گرا ، اَبر چَھٹ گئے

    دھرتی پہ اُگ رہی ہیں فلک بوس چمنیاں
    جن سے فضائیں عطر تھیں وہ پیڑ کٹ گئے

    سپرا پڑوس میں نئی تعمیر کیا ہوئی
    میرے بدن کے رابطے سورج سے کٹ گئے

  • نامورادیبہ شاعرہ،اورصحافی ڈاکٹرعارفہ صبح خان:شاندارخدمات پرخراج تحسین

    نامورادیبہ شاعرہ،اورصحافی ڈاکٹرعارفہ صبح خان:شاندارخدمات پرخراج تحسین

    جب سے اتری ہوں آسمان سے میں
    تب سے الجھی ہوں اس جہان سے میں

    عارفہ صبح خان

    تاریخ پیدائش:10 دسمبر 1970

    تحریر و تعارف: آغا نیاز مگسی

    پاکستان کی نامور ادیبہ_شاعرہ، اور صحافی ڈاکٹر عارفہ صبح خان 10 دسمبر 1970 میں لاہور میں پیدا ہوئیں ۔ ان کے والد صاحب کا نام محمد ادریس خان اور یوسفزئی پٹھان قبیلے سے تعلق ہے تحریک پاکستان میں انہوں نے بڑا فعال کردار ادا کیا جس کی وجہ سے قائد اعظم محمد علی جناح کے بہت قریب رہے۔ ۔ عارفہ کے دادا سعید جان جج اور پر دادا ایس ایس پی کے عہدے پر فائز رہ چکے ہیں۔ عارفہ صبح خان نے ابتدائی تعلیم فاطمہ جناح گرلز ہائی اسکول لاہور سے اور اعلی تعلیم یونیورسٹی آف ایجوکیشن لاہور سے ادبیات میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔

    عارفہ نے چوتھی جماعت سے نثر نگاری اور شاعری شروع کی لیکن انہوں نے شاعری میں کسی استاد کی شاگردی اختیار نہیں کی اور نہ ہی کسی اصلاح لی لیکن ان کا یہ بھی ماننا ہے کہ شاعری میں استاد ضروری ہے۔ وہ پاکستان میں اردو کی پہلی مزاحیہ خاتون ادیبہ اور صحافی ہونے کا اعزاز رکھتی ہیں ۔ وہ علمی لحاظ سے ڈاکٹر فراق تحسینی اور ڈاکٹر سلیم اختر کو اپنا استاد مانتی ہیں۔ عارفہ نے روزنامہ جنگ سمیت متعدد اخبارات اور رسائل وغیرہ میں کام کیا ہے۔ وہ کرنل محمد خان، شفیق الرحمن ، احمد ندیم قاسمی اورعطاالحق قاسمی کا بڑے احترام کے ساتھ ذکر کرتی ہیں۔ عارفہ کی شادی بہاولپور سے تعلق رکھنے والے ظفر آفتاب کے ساتھ 1995 میں شادی ہوئی اور 1998 میں انہیں ایک بیٹی پیدا ہوئی۔ وہ بیٹی کے پیداطہونے پر بہت خوش ہیںچلیکن انہیں اس بات کا بہت دکھطہے کہ انہیں بیٹے کی اولاد نہیں ہوئی ہے بلکہ ان کو بھائی بھی والدین سے پیدا نہیں ہوا اور مزید یہ کہ عارفہ کی والدہ کا بھی کوئی بھائی پیدا نہیں ہوا یعنی ان کی تین نسلوں میں کوئی بیٹا پیدا نہیں ہوا۔

    تصنیفات:
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)عکس زن
    ۔ (2)تجاہلِ عارفانہ
    ۔ (3)شٹ اپ
    ۔ (4)مابدولت
    ۔ (5)اماں حوا سے اماں کونسلر تک
    ۔ (6)کُرکُرے کردار
    ۔ (7)اب صبح ہو نے کو ہے
    ۔ (8)اردو تنقید کا اصلی چہرہ
    ۔ (9)صبح ہوگئی جاناں
    ۔ (10)عشقِ بلاخیز
    ۔ (11)ادبی ستارے
    ۔ (12)کافر ادا
    ۔ (13)تنقیدیں گرہیں
    ۔ (14)سیاست دانوں کے سائیڈ ایفیکٹس
    اعزازات
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)پاکستان کی
    ۔ پہلی مزاح نگار خاتون ہونے کا اعزاز
    ۔ (2)پاکستان کی پہلی کرائم رپورٹر ہونے کا اعزاز
    ۔ (3)پاکستان کی پہلی پولیٹیکل لیڈی رپورٹر
    ۔ (4)صحافت کی شیرنی کا لقب
    ۔ (صحافت کے امام مجید نظامی نے دیا)
    ۔ (5)خواتین کی پطرس بخاری کا خطاب
    ۔ (کرنل محمد خان مرحوم نے دیا)
    ۔ (6)خان زادی، خان بی بی
    ۔ اردو ادب کی قلوپطرہ، اعزازات کی ملکہ
    ۔ ادب کا ستارہ (خطابات)
    ۔ (7)10 گولڈ مڈلز اور پچاس ایوارڈز
    ۔ ادبی، صحافتی اور علمی خدمات پر
    ۔ (8)صدر آل پاکستان ویمن جرنلسٹ فورم
    ۔ پریس کلب، لاہور
    ۔ پانچ سال مسلسل صدر رہنے کا اعزاز
    ۔ (9)صحافت اور ادب میں سب سے زیادہ
    ۔ گولڈمڈلز اور ایوارڈز لینے کا ریکارڈ
    ۔ (10)بہترین صحافی ایوارڈ
    ۔ سات بار مسلسل
    ۔ (11)ڈرامے سیریلز لکھے
    ۔ سونے کی چڑیا
    ۔ نئے راستے
    ۔ لیڈی رپورٹر کیوں
    ۔ (12)چار سیاسی پروگراموں کی اینکرنگ
    ۔ ہاٹ ایشوز
    ۔ پولیٹیکلز ٹمپریچر
    ۔ ون ٹو ون
    ۔ ویمن ایشوز
    موبائل:00923008005450

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    پیار کی راہ جب نکالی تھی
    زندگی کس قدر مثالی تھی
    تو نے مجھ کو بھری تھی جب چٹکی
    میرے گالوں پہ کتنی لالی تھی
    گھیر رکھا تھا تیری یادوں نے
    سامنے چائے کی پیالی تھی
    جان دے کر دیارِ فرقت میں
    پیار کی آبرو بچالی تھی
    سارے ارماں سمیٹ کر دل میں
    ہم نے اک بزم سی سجالی تھی
    غمِ دنیا میں خود کو ڈھالا تھا
    عمر بھی اپنی لاابالی تھی

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    تیری یادیں سنبھال لیتی ہوں
    دل کا آنگن اُجال لیتی ہوں
    شعر کہہ کر غبار اندر کا
    میں ہمیشہ نکال لیتی ہوں
    اک تری جستجو میں گرتے ہوئے
    خود کو اکثر سنبھال لیتی ہوں
    کام آتی ہوں بے نواؤں کے
    اور دعائے وصال لیتی ہوں
    ہجر کی دوپہر میں سر پہ صبحؔ
    اس کی یادوں کی شال لیتی ہوں

    نظم
    ۔۔۔۔۔
    چلو اتنا ہی کردو
    ۔۔۔۔۔
    ابھی راتوں کی تاریکی
    ابھی موسم کا سناٹا
    ابھی یہ رینگتے سائے
    درو بامِ تمنا پر
    کہ جیسے کل مسلط تھے
    اسی صورت مسلط ہیں
    ابھی تو کچھ نہیں بدلا
    عجب اک بے کلی سی ہے
    عجب اک ہو کا عالم ہے
    میں کیسے دل کو سمجھاؤں، میں کیسے دل کو بہلاؤں
    اگر تم نے
    نہ آنے کی قسم توڑی نہیں اب تک
    چلو اتنا ہی کردو
    کہ اس میں کیا برائی ہے
    مجھے تم فون پر دل کے
    بہلنے اور سنبھلنے کی
    کی کوئی صورت بتادینا
    تمھارا شکریہ ہوگا