Baaghi TV

Tag: شاعر

  • نہ چھیڑاے نکہت بادبہاری راہ لگ اپنی تجھےاٹکھیلیاں سوجھی ہیں ہم بےزاربیٹھے ہیں:انشااللہ خان انشاء کی زندگی کےروش پہلو

    نہ چھیڑاے نکہت بادبہاری راہ لگ اپنی تجھےاٹکھیلیاں سوجھی ہیں ہم بےزاربیٹھے ہیں:انشااللہ خان انشاء کی زندگی کےروش پہلو

    نہ چھیڑ اے نکہت باد بہاری راہ لگ اپنی
    تجھے اٹکھیلیاں سوجھی ہیں ہم بے زار بیٹھے ہیں

    انشا اللہ خان انشاء
    یکم دسمبر 1257 یوم پیدائش
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    میر تقی میر کے ہم عصر ، مصحفی کے ساتھ چشمک کے لئے مشہور انشا نے نثر میں ’رانی کیتکی کی کہانی‘ بھی لکھی.جس میں عربی فارسی کا ایک بھی لفظ استعمال نہیں ہوا
    وہ کہتے تھے’’ہرلفظ جو اردو میں مشہور ہو گیا، عربی ہو یا فارسی، ترکی ہو یا سریانی، پنجابی ہو یا پوربی ازروئے اصل غلط ہو یا صحیح وہ لفظ اردوکا لفظ ہے۔ اگراصل کے مطابق مستعمل ہے تو بھی صحیح ہے اور خلاف اصل مستعمل ہے تو بھی صحیح ہے ۔‘‘

    محمد حسین آزاد نے انشا کو اردو کا امیر خسرو کہا ۔ انکا سب سے بڑا کارنامہ کسی ہندوستانی کی لکھی ہوئی اردو گرامر کی اولین کتاب "دریائے لطافت” ہے جو قواعد کی عام کتابوں کی طرح خشک اور بے مزا نہیں کسی ناول کی طرح پر لطف ہے جس میں مختلف کردار اپنی اپنی بولیاں بولتے سنائی دیتے ہیں۔

    انھوں نے اردو میں "سلک گوہر” لکھی جس میں ایک بھی نقطہ نہیں ہے۔ انھوں نے ایسا قصیدہ لکھا جس میں پورے کے پورے مصرعے عربی، فارسی، ترکی، پشتو، پنجابی، انگریزی، فرانسیسی، پوربی اور اس زمانہ کی تمام قابل ذکر زبانوں میں ہیں۔ ایسی سنگلاخ زمینوں میں غزلیں لکھیں کہ حریف منہ چھپاتے پھرے۔ ایسے شعر کہے جن کو معنی کے اختلاف کے بغیر، اردو کے علاوہ، محض نقطوں کی تبدیلی کے بعد عربی فارسی اور ہندی میں پڑھا جا سکتا ہے یا ایسے شعر جن کا ایک مصرع غیر منقوط اور دوسرے مصرعے کے تمام الفاظ منقوط ہیں۔ اپنے اشعار میں صنعتوں کے انبار لگا دینا انشاء کے بائیں ہاتھ کا کھیل تھا۔

    انشاء یکم دسمبر 1752ء کو مرشدآباد میں پیدا ہوئے۔ خاندان نجف اشرف سے اور بعض دوسری روایات کے مطابق سمرقند سے ہجرت کرکے دہلی میں آباد ہوا تھا اور طبابت میں اپنی غیرمعمولی صلاحیت کی بنا پر دربار شاہی سے منسلک تھا۔ انشاء کے والد سید ماشاءللہ دہلی کی زبوں حالی کو دیکھتے ہوے مرشدآباد چلے گئے تھے. بنگال کے حالات بھی خراب ہوئے تو انشا فیض آباد جاکر کم عمری کے باوجود شجاع الدولہ کے مصاحب ہوگئے۔ شجاع الدولہ کی وفات کےبعد وہ نجف خان کے لشکر میں شامل ہوکر بندیل کھنڈ میں جاٹوں کے خلاف لڑے بھی۔ اس کے بعد وہ نجف خان کے ساتھ دہلی آ گئے۔

    انشاء کو دربار تک رسائی ملی اور وہ اپنی طراری، اور بھانڈ پن کی حد تک پہنچی ہوئی مسخرگی کی بدولت شاہ عالم کی آنکھ کا تارہ بن گئے ۔ ان کو اپنی بقاء کے لئے ایک مسخرے مصاحب کا کردار ادا کرنا پڑا جس نے بعد میں، ضرورت کی جگہ، عادت کی شکل اختیار کرلی۔ جب انشاء دہلی پہنچے، بڑے بڑے شاعر، سودا، میر، جرات، سوز وغیرہ دہلی کو چھوڑ کر عیش و نشاط کے نو دریافت جزیرے لکھنؤ کا رخ کر چکے تھے اور چھٹ بھیّے بزعم خود خاتم الشعراء بنے ہوئے تھے۔ یہ لوگ انشاء کو خاطر میں نہیں لاتے تھے ایسے میں لازم تھا کہ انشاء ان کو ان کی اوقات بتائیں۔ اور یہیں سے انشاء کی ادبی معرکہ آرائیوں کا وہ سلسلہ شروع ہوا کہ انشاء کو اپنے سامنے سر اٹھانے والے کسی بھی شخص کو دو چار زور دار پٹخنیاں دئیے بغیر چین نہیں آیا۔

    دہلی میں انشاء کا پہلا معرکہ مرزا عظیم بیگ سے ہوا۔ ان کی علمی لیاقت بہت معمولی تھی سودا کے شاگرد ہونے کے مدعی اور خود کو صائب کا ہم مرتبہ سمجھتے تھے۔ انشاء کی روش عام سے ہٹی ہوئی شاعری کے نکتہ چینوں میں یہ پیش پیش تھے اور اپنے مقطعوں میں سودا پر چوٹیں کرتے تھے۔ ایک دن وہ انشاء سے ملنے آئے اور اپنی ایک غزل سنائی جو بحر رجز میں تھی لیکن کم علمی کے سبب اس کے کچھ شعر بحر رمل میں چلے گئے تھے۔ انشاء بھی موجود تھے۔ انھوں نے طے کیا کہ حضرت کو مزا چکھانا چاہئے۔ غزل کی بہت تعریف کی مکرر پڑھوایا اور اصرار کیا کہ اس غزل کو وہ مشاعرہ میں ضرور پڑھیں۔ عظیم بیگ ان کے پھندے میں آ گئے۔ اور جب انھوں نے مشاعرہ میں غزل پڑھی تو انشاء نے بھرے مشاعرہ میں ان سے غزل کی تقطیع کی فرمائش کر دی۔ مشاعرہ میں سب کو سانپ سونگھ گیا۔ انشاء یہیں نہیں رکے بلکہ دوسروں کی عبرت کے لئے اک مخمس بھی سنا دیا۔

    گر تو مشاعرہ میں صبا آج کل چلے
    کہیو عظیم سے کہ ذرا وہ سنبھل چلے
    اتنا بھی اپنی حد سے نہ باہر نکل چلے
    پڑھنے کو شب جو یار غزل در غزل چلے
    بحر رجز میں ڈال کے بحر رمل چلے

    عظیم بیگ اپنے زخم چاٹتے ہوئے مشاعرہ سے رخصت ہوئے اور اپنی جھینپ مٹانے کے لئے جوابی مخمس لکھا جس میں انشاء کو جی بھر کے برا بھلا کہا اور دعویٰ کیا کہ بحر کی تبدیلی نادانستہ نہیں تھی بلکہ شعوری تھی جس کا رمز ان کے مطابق کل کے چھوکرے نہیں سمجھ سکتے۔
    موزونی و معانی میں پایا نہ تم نے فرق
    تبدیل بحر سے ہوئے بحر خوشی میں غرق
    روشن ہے مثل مہر یہ از غرب تا بہ شرق
    شہ زور اپنے زور میں گرتا ہے مثل برق
    وہ طفل کیا گرے گا جو گھٹنوں کے بل چلے
    ( آخری مصرع ماقبل کے مصرع میں تحریف کے ساتھ شعر "گرتے ہیں شہسوار ہی میدان جنگ میں۔ وہ طفل کیا گرے گا جو گھٹنوں کے بل چلے” کی شکل میں مشہور ہو گیا)

    اگلی بار جو مشاعرہ ہوا وہ ایک خطرناک معرکہ تھا ۔ انشاء اپنی فخریہ غزل
    اک طفل دبستاں ہے فلاطوں مرے آگے
    کیا منہ ہے ارسطوجو کرے چوں مرے آگے
    لے کر گئے۔ اس معرکہ میں جیت انشاء کی ضرور ہوئی لیکن ان کی مخالفت بہت بڑھ گئی۔ دہلی کے حالات بد سے بدتر ہوتے جا رہے تھے ۔ دربار سے بھی ان کا دل اچاٹ ہو گیا۔ قسمت آزمائی کےلئے لکھنؤ کی راہ لی۔ آتے ہی وہاں کے مشاعروں میں دھوم مچائی. کچھ دن میں شاہ عالم کے بیٹے سلیمان شکوہ کے ملازم ہو گئے۔ سلیمان شکوہ، انشاء سے اصلاح لینے لگے۔ ان دنوں لکھنؤ میں شاعری کی اک نئی بساط بچھ رہی تھی جسے بعد میں دبستان لکھنؤ کا نام دیا گیا۔ انشاءکے علاوہ، جرات، رنگین، راغب وغیرہ ایک سےبڑھ کر ایک تماشے دکھا رہے تھے۔ سنگلاخ زمینوں میں استادی دکھانے اور چوما چاٹی کے مضامین کو ابتذال کے دہانے تک لے جانے کی اک ہوڑ لگی تھی۔

    آصف الدولہ کے بعد جب سعادت علی خان نے حکومت سنبھالی تو انشاء للہ بہت دنوں بعد کسی طرح ان کے دربار میں پہنچ تو گئے لیکن ان کا رول بس دل بہلانے والے اک مسخرے کا سا تھا۔ نواب کو جب کسی کی پگڑی اچھالنی ہوتی انشاء کو اس کے پیچھے لگا دیتے۔ انشاء کی آخری عمر بڑی بیکسی میں گزری ہنسی ہنسی میں کہی گئی انشاء کی کچھ باتوں سے نواب کے دل میں گرہ پڑ گئی اور وہ معتوب ہو گئے۔ اور زندگی کے باقی دن مفلسی کسمپرسی اور بیچارگی میں گزارے۔
    انشاء کی تمام شاعری میں جو صفت مشترک ہے وہ یہ کہ ان کا کلام متوجہ اور محظوظ کرتا ہے۔

    منتخب اشعار :

    کمر باندھے ہوئے چلنے کو یاں سب یار بیٹھے ہیں
    بہت آگے گئے باقی جو ہیں تیار بیٹھے ہیں

    نہ چھیڑ اے نکہت باد بہاری راہ لگ اپنی
    تجھے اٹکھیلیاں سوجھی ہیں ہم بے زار بیٹھے ہیں

    کہاں گردش فلک کی چین دیتی ہے سنا انشاؔ
    غنیمت ہے کہ ہم صورت یہاں دو چار بیٹھے ہیں
    کہانی ایک سنائی جو ہیر رانجھا کی
    تو اہل درد کو پنجابیوں نے لوٹ لیا
    یہ جو مہنت بیٹھے ہیں رادھا کے کنڈ پر
    اوتار بن کے گرتے ہیں پریوں کے جھنڈ پر
    کیا ہنسی آتی ہے مجھ کو حضرت انسان پر
    فعل بد تو ان سے ہولعنت کریں شیطان پر
    لے کے میں اوڑوں، بچھاؤں یا لپیٹوں کیا کروں
    روکھی پھیکی ایسی سوکھی مہربانی آپ کی

    تب سے عاشق ہیں ہم اے طفل پری وش تیرے
    جب سے مکتب میں تو کہتا تھا الف بے تے ثے
    یاد آتا ہے وہ حرفوں کا اٹھانا اب تک
    جیم کے پیٹ میں ایک نکتہ ہے اور خالی حے
    گالیاں تیری ہی سنتا ہے اب انشاؔ ورنہ
    کس کی طاقت ہے الف سے جو کہے اس کو بے
    میاں چشمِ جادو پہ اتنا گھمنڈ
    خدوخال و گیسو پہ اتنا گھمنڈ
    دیوار پھاندنے میں دیکھوگے کام میرا
    جب دھم سے آکہوں گاصاحب سلام میرا
    ( ریختہ سے استفادہ)

  • افتخار امام صدیقی:ایک شاعر،ایک ادیب جودنیا چھوڑگئےمگریادیں باقی ہیں:

    افتخار امام صدیقی:ایک شاعر،ایک ادیب جودنیا چھوڑگئےمگریادیں باقی ہیں:

    افتخار امام صدیقی

    ہندوستان کے نامور شاعر افتخار امام صدیقی 19؍نومبر 1947ء کو آگرہ میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد اعجاز صدیقی تھے اور دادا سیمابؔ اکبر آبادی۔ سیمابؔ اکبر آبادی تقسیم ہند کے بعد پاکستان چلے گئے لیکن افتخار امام صدیقی کے والد اعجاز صدیقی ہندوستان میں ہی رہے۔ اعجاز خود ایک بلند پایہ شاعر اور نثر نگار تھے۔ انہوں نے اپنے تخلیقی کاموں کےساتھ ساتھ ماہنامہ ’شاعر‘ کو بھی نئی آب وتاب کے ساتھ جاری رکھا۔ شاعری، نثر نگار اورماہنامہ ’شاعر‘ کی ادارت، تینوں چیزیں افتخار امام صدیقی کو بھی ورثے میں ملیں اور انہوں نے ان تینوں خانوں میں اپنی ایک نمایاں شناخت قائم کی۔

    افتخار امام صدیقی نے زیادہ تر غزلیں کہیں۔ ان کی غزلیں اپنے شدید کلاسیکی رچاو کی وجہ سے بہت مقبول ہوئیں۔ کئی اہم گلوکاروں نے ان کی غزلیں گائیں ہیں۔ خود افتخار امام صدیقی خوبصورت ترنم کے مالک ہیں اور ہندوستان و پاکستان کے مشاعروں میں بہت دلچسپی سے سنے جاتے ہیں۔ افتخار امام صدیقی نے کئی تنقیدی کتابیں بھی لکھیں ہیں۔ ان کا ایک یادگار کام ’شاعر‘ کے وہ خاص شمارے میں جو انہوں نے مشہور ومعروف ادبی شخصیات پر ترتیب دئے ہیں۔ حامد اقبال صدیقی ان کے بھائی ہیں۔

    افتخار امام صدیقی 04؍اپریل 2021ء کو ممبئی میں اپنے مالک حقیقی سے جا ملے، ممبئی کے ناریل واڑی قبرستان میں آسودہِ خاک ہیں۔

    افتخار امام صدیقی کی شاعری سے انتخاب
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    وہ خواب تھا بکھر گیا خیال تھا ملا نہیں
    مگر یہ دل کو کیا ہوا کیوں بجھ گیا پتا نہیں

    ہر ایک دن اداس دن تمام شب اداسیاں
    کسی سے کیا بچھڑ گئے کہ جیسے کچھ بچا نہیں

    وہ ساتھ تھا تو منزلیں نظر نظر چراغ تھیں
    قدم قدم سفر میں اب کوئی بھی لبِ دعا نہیں

    ہم اپنے اس مزاج میں کہیں بھی گھر نہ ہو سکے
    کسی سے ہم ملے نہیں کسی سے دل ملا نہیں

    ہے شور سا طرف طرف کہ سرحدوں کی جنگ میں
    زمیں پہ آدمی نہیں فلک پہ کیا خدا نہیں

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    تو نہیں تو زندگی میں اور کیا رہ جائے گا
    دور تک تنہائیوں کا سلسلہ رہ جائے گا

    کیجئے کیا گفتگو کیا ان سے مل کر سوچئے
    دل شکستہ خواہشوں کا ذائقہ رہ جائے گا

    درد کی ساری تہیں اور سارے گزرے حادثے
    سب دھواں ہو جائیں گے اک واقعہ رہ جائے گا

    یہ بھی ہوگا وہ مجھے دل سے بھلا دے گا مگر
    یوں بھی ہوگا خود اسی میں اک خلا رہ جائے گا

    دائرے انکار کے اقرار کی سرگوشیاں
    یہ اگر ٹوٹے کبھی تو فاصلہ رہ جائے گا

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    بکھر ہی جاؤں گا میں بھی ہوا اداسی ہے
    فنا نصیب ہر اک سلسلہ اداسی ہے

    بچھڑ نہ جائے کہیں تو سفر اندھیروں میں
    ترے بغیر ہر اک راستا اداسی ہے

    بتا رہا ہے جو رستہ زمیں دشاؤں کو
    ہمارے گھر کا وہ روشن دیا اداسی ہے

    اداس لمحوں نے کچھ اور کر دیا ہے اداس
    ترے بغیر تو ساری فضا اداسی ہے

    کہیں ضرور خدا کو مری ضرورت ہے
    جو آ رہی ہے فلک سے صدا اداسی ہے

    پاک فوج ملکی سلامتی کی ضامن۔ شہدا کی قربانیوں پر فخر
    پاکستانی طلبا و طالبات نے 14 ممکنہ نئے سیارچے دریافت کرلیے
    ہمت ہے تو کھرا سچ کا جواب دو، پروپیگنڈہ مبشر لقمان کو سچ بولنے سے نہیں روک سکتا

  • ممتازشاعراحمد راہی کو مداحوں سے بچھڑے 20 سال ہو گئے

    ممتازشاعراحمد راہی کو مداحوں سے بچھڑے 20 سال ہو گئے

    اردو اور پنجابی کے ممتاز شاعر احمد راہی کو دنیا سے رخصت ہوئے آج 20 سال ہو گئے۔

    باغی ٹی وی: پنجابی شاعر، فلمی کہانی نویس اور نغمہ نگار، پاکستان کی پنجابی فلموں میں اپنی خدمات دیں، بطور کہانی نویس ان کی یادگار فلموں میں مرزا جٹ، ہیر رانجھا، ناجو، گُڈو، اُچّا شملہ جٹ دا مشہور ہے اس کے علاوہ فلم شہری بابو، ماہی مُنڈا، یکے والی، چھومنتر، الہ دین کا بیٹا، مٹی دیاں مورتاں، باجی، سسی پنوں اور بازارِ حسن نامی فلموں کے گیت لکھے-

    مشکل وقت میں چیزیں مہنگی فروخت کرنے والوں کے حج کیا کہتے ہیں رابی پیرزادہ

    احمد راہی 12 نومبر 1923ء کو پیدا ہوئے احمد راہی کا اصل نام غلام احمد تھا احمد راہی کا تعلق امرتسر کے ایک کشمیری خاندان سے تھا جو آزادی کے بعد ہجرت کر کے لاہور آ گیا ان کے روحانی پیشوا نے خورشید احمد رکھا لیکن ان کو شہرت احمد راہی کے نام سے ملی۔ آپ کے والد کا نام خواجہ عبدالعزیز تھا جو کڑھائی والی اونی شالوں کا کاروبار کرتے تھے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم امرتسر سے حاصل کی۔

    1942 میں انہوں نے شعر کہنا شروع کر دیے تھے۔ 1942 میں میٹرک کرنے کے بعد اعلی تعلیم کے لئے انہوں نے ایم اے او کالج لاہور میں داخلہ لیا۔ سیکنڈ ائر میں طالب علموں کی لاہور میں سیاسی تحریکوں میں حصہ لینے کی وجہ سے ان کو کالج کی انتظامیہ نے کالج سے نکال دیا۔ کالج سے فراغت کے بعد آپ نے اپنے والد محترم کے کڑھائی والی اونی شالوں کے کاروبار میں ان کا ہاتھ بٹانا شروع کر دیا۔ اس تجارت کے لئے انہوں نے کلکتہ کا سفر کیا۔

    امرتسر میں ہی انہوں میں مشہورافسانہ نگار سعادت حسن منٹو، شاعر سیف الدین سیف، کہانی نگار اے حمید کی صحبت میں رہتے ہوئے ادب میں دلچسپی لینا شروع کردی 1946ء میں ان کی ایک اردو نظم آخری ملاقات افکار میں شائع ہوئی جو ان کی پہچان بن گئی لیکن لاہور کے ادبی ماحول میں اس میں مزید نکھار آیا لاہور آمد پر انہیں ترقی پسند ادبی مجلے ’سویرا‘ کا مدیر بنا دیا گیا۔ لیکن جب ترق پسند ادیبوں کے خلاف حکومتی کارروائیوں میں تیزی آئی تو انہوں نے فلمی دنیا کا رخ کیا۔

    7 ملین فالورز، حرامانی نے پسوڑی وڈیو لگا کر مداحوں کا شکریہ ادا کیا

    احمد راہی نے اپنے فلمی کیرئیر کا آغاز پنجابی فلم ’بیلی‘ سے کیا جو تقسیم کے وقت ہونے والے فسادات کے پس منظر میں بنائی گئی تھی۔ اس فلم کی کہانی مشہور افسانہ نگار سعادت حسن منٹو نے لکھی جبکہ ہدایات مسعود پرویز نے دی تھیں انہوں نے مسعود پرویز اور خواجہ خورشید انور کی مشہور پنجابی فلم ’ہیر رانجھا‘ کے لیے بھی نغمات لکھے جن میں ’سن ونجھلی دی مٹھڑی تان‘ اور ’ونجھلی والڑیا توں تے موہ لئی اے مٹیار‘ آج بھی اپنا جادو جگاتے ہیں انہوں نے فلمی حلقوں میں بھی اپنا ایک خاص مقام بنایا اور ان کے لکھے ہوئی گانوں میں بھی لوگوں کو لوک شعری اور ادب کا رنگ دیکھنے کو ملا۔

    پنجابی فلمی شاعری کے لیے ان کی خدمات ویسی ہی ہیں جیسی ساحر لدھیانوی اور قتیل شفائی کی اردو فلموں کے لیے ہیں۔ انہوں نے اردو فلموں کے لیے بھی منظر نامہ، مکالمے اور گانے لکھے۔ ان کی مشہور اردو فلموں میں ’یکے والی‘ خاص طور پر قابل ذکر ہے-

    سیلاب میں امیر کا گھر کیوں نہیں ٹوٹتا غریب کا گھر ہی کیوں ٹوٹتا ہے؟ فضا علی کا…

    ترنجن کی نظموں میں تقسیم ہند کے وقت ہونے والے ہندومسلم فسادات میں عورتوں کے ساتھ جنسی زیادتی کو بڑے شاعرانہ طریقے سے پیش کیا گیا ہے-

    اس شعری مجموعے میں پنجابی ثقافت اور تقسیم ہند میں پیش آنے والے واقعات کو ہیر۔ صاحباں اور سوہنی جیسے لوک کرداروں کی تشبیہات سے پیش کیا گیا ہے۔ اس شعری مجموعے کی بیشتر نظمیں انھوں نے دو آزاد ہونے والی قوموں میں تقسیم کے وقت مسلمانوں، ہندوؤں اور سکھوں کی ہلاکت اور وحشیانہ ظلم پر سوگ کے لکھی تھیں۔

    ان کی پہلی کتاب ترنجن 1952 میں شائع ہوا۔ ترنجن کا پہلا حصہ پنجاب کی الہڑ مٹیاروں کے الہڑ جذبات اور پنجاب کی ثقافت پر مبنی ہے اور دوسرا حصہ انہی الہڑ دوشیزاؤں پر آزادی کے وقت ڈھائے گئے ظلم اور خونریزی کے متعلق ہے۔

    ان کا پنجابی کلام کا ایک اور مجموعہ ً نمی نمی ہوا ً بھی شائع ہوا اور ً رگ جان ً کے نام سے ان کا اردو کلام پر مبنی مجموعہ ان کی موت کے بعد منظر عام میں آیا۔ پرائیڈ آف پرفارمنس پانے، ہیر رانجھا اور مرزا جٹ جیسی شہرہ آفاق کلاسیک فلموں کے مصنف اور ان کے سدا بہار نغموں کے خالق احمد راہی ستمبر 2002 میں اس جان فانی سے رخصت ہو گئے۔

    لندن نہیں جائونگا میں بھٹی کا کردار احمد علی بٹ‌ کے لئے لکھا تھا خلیل الرحمان…

  • احمد ندیم قاسمی کی آج 14 ویں برسی منائی جا رہی ہے

    احمد ندیم قاسمی کی آج 14 ویں برسی منائی جا رہی ہے

    معروف شاعر، افسانہ اور کالم نگار احمد ندیم قاسمی کی آج14ویں برسی منائی جا رہی ہے-

    باغی ٹی وی : احمد ندیم قاسمی 20 نومبر 1916 کو وادی سون سکیسر کے گاؤں انگہ ضلع خوشاب کے ایک اعوان گھرانے میں پیدا ہوئے ان کے والد کا نام پیر غلام نبی تھا۔

    نامورادیب کی ابتدائی تعلیم گاؤں میں ہوئی 1920ء میں انگہ کی مسجد میں قرآن مجید کا درس لیا۔ اس کے بعد اپنے چچا حیدر شاہ کے پاس کیمبل پور چلے گئے جہاں مذہبی، عملی اور شاعرانہ ماحول میسر آیا احمد ندیم قاسمی نے 1921 – 1925میں گورنمنٹ مڈل اینڈ نارمل اسکول کیمبل پور (اٹک) میں تعلیم پائی۔ 1930ء-1931ء میں گورنمنٹ ہائی اسکول شیخو پورہ سے میٹرک کیا اور 1931ء صادق ایجرٹن کالج بہاولپور میں داخل ہوگئے جہاں سے 1935ء میں بی اے کیا۔

    اپنی طرز کے منفرد شاعر احمد ندیم قاسمی بہاولپور سے لاہور پہنچے تو اختر شیرانی سے ملاقات ہوئی۔ وہ انہیں بے حد عزیز رکھنے لگےاو ان کی کافی حوصلہ افزائی کی لاہور میں احمد ندیم قاسمی کی ملاقات امتیاز علی تاج سے ہوئی جنہوں نے انہیں اپنے بچوں کےرسالے پھول کی ادارت سونپ دی ایک سال ادارت کی اوراس دوران بچوں کے لیے بہت سی نظمیں بھی لکھیں ۔ ادب کی دنیا میں قدم رکھا تو جس صنف میں طبع آزمائی کی اسے امر کر دیا۔

    احمد ندیم قاسمی نےافسانہ اور شاعری میں شہرت پائی ترقی پسند تحریک سے وابستہ نمایاں مصنفین میں شمار ہوتا تھا اور اسی وجہ سے دو مرتبہ گرفتار کیے گئے۔ قاسمی صاحب نے طویل عمر پائی اور لگ بھگ نوّے سال کی عمر میں انھوں نے پچاس سے زائد کتابیں تصنیف کیں۔

    احمد ندیم قاسمی کی شاعری کی ابتداء 1931ء میں ہوئی تھی جب مولانا محمد علی جوہر کے انتقال پر ان کی پہلی نظم روزنامہ سیاست لاہور کے سرورق پر شائع ہوئی 1934ء اور 1937ء کے دوران ان کی متعدد نظمیں روزنامہ انقلاب لاہور اور زمیندار لاہور کے سرورق پر شائع ہوتی رہیں 1964ء سےامروز لاہور میں ادبی، علمی اورتہذیبی موضوعات پر ہر ہفتے مضامین لکھتے رہے۔

    احمد ندیم قاسمی نے 1936 میں انجمن ترقی پسند سے وابستگی اختیار کر لی تھی۔ وہ انجمن کے سکریٹری بھی رہے اور انہیں دو بار جیل بھی گئے احمد ندیم قاسمی نے بے شمار ادبی رسائل میں ادارتی فرائض بھی سرانجام دیئے ان کی 17 سے زائد افسانوی اور 6 شعری مجموعوں سمیت متعدد کتابیں شائع ہوئیں۔

    1936ء میں ریفارمز کمشنر لاہور کے دفتر میں بیس روپے ماہوار پر محرر کی حیثیت سے ملازم ہوئے اور 1937ء تک یہیں کام کرتے رہے۔ 1939ء – 41ء کے دوران ایکسائز سب انسپکٹر کے طور پر ملازمت کی۔

    1939ء میں محکمہ آبکاری میں ملازم ہو گئے۔ 1942ء میں مستعفی ہو کر لاہور چلے آئے۔ تہذیب نسواں اور پھول کی ادارت سنبھالی 1943ء میں (ادب لطیف) کے ایڈیٹر مقرر ہوئے 1945ء – 48ء میں ریڈیو پشاور سے بحیثیت اسکرپٹ رائٹر وابستہ رہے تقسیم کے بعد ڈیڑھ سال ریڈیو پشاور میں ملازم رہے۔

    1948ء میں ریڈیو پاکستان کی ملازمت چھوڑ دی اور واپس لاہور چلے آئے یہاں انہوں نے ہاجرہ مسرور کے ساتھ مل کر ایک نئے ادبی رسالے ’’نقوش‘‘ کی بنیاد رکھی۔ یہ ایک کامیاب رسالہ ثابت ہوا۔

    فنی خدمات کے صل میں احمد ندیم قاسمی کو پرائیڈ آف پرفارمنس اور ستارہ امتیاز سمیت متعدد ایوارڈز اور اعزازات سےنوازا گیا احمد ندیم قاسمی 10 جولائی 2006ء کو مختصر علالت کے بعد حرکت قلب بند ہونے سے قریبا 90 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ ہفتہ 8 جولائی 2006ء کو انہیں سانس کی تکلیف کے بعد لاہور کے پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں داخل کروایا گیا جہاں انہیں عارضی تنفس فراہم کیا گیا تھا، لاہور ہی میں ملتان روڈ پر ملت پارک کے نزدیک شیخ المشائخ قبرستان میں آسودہ خاک ہوئے۔

    10جولائی 2009ء کو پاکستان کے محکمہ ڈاک نے احمد ندیم قاسمی کی تیسری برسی کے موقع پر ایک یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کیا جس پراحمد ندیم قاسمی کا ایک خوب صورت پورٹریٹ شائع کیا گیا تھا۔ پانچ روپیہ مالیت کا یہ ڈاک ٹکٹ فیضی امیر صدیقی نے ڈیزائن کیا تھااوراس پر انگریزی میں3RD DEATH ANNIVERSARY OF AHMAD NADEEM QASMI 1916-2006 کے الفاظ تحریر تھے.

  • ریاض الرحمان ساغر کی آج 9 ویں برسی

    ریاض الرحمان ساغر کی آج 9 ویں برسی

    ریاض الرحمان ساغر نہ صرف شاعر تھے بلکہ کالم نگار، سکرپٹ رائٹر اور فلمی گیت نگار بھی تھے انہوں نے کالمز بھی لکھے،وہ پہلے کالم نویس تھے جنہوں نے نظم یا گیت کی شکل میں کالم لکھے۔ 1996ء میں ان کا پہلا کالم’’ عرض کیا ہے‘‘ کے عنوان سے شائع ہوا۔ اس کالم میں سماجی، سیاسی اور ثقافتی مسائل کو اجاگر کیا گیا تھا۔ انہوں نے جس شعبے میں بھی قسمت آزمائی انہیں بے پناہ کامیابی حاصل ہوئی۔ان کے لکھے ہوئے گیت نامور گلوکاروں نے گائے،ان کے گیتوں کو انکی لازوال شاعری کی وجہ سے آج بھی یاد کیا جاتا ہے .ریاض الرحمان ساگر نے جو گیت لکھے اس حوالے سے ایک کتاب ”میں نے گیت لکھے ” کے نام سے شائع ہوئی۔ ریاض الرحمان ساغر نے فلم ”عشق خدا” کے لیے اپنا آخری گیت لکھا تھا. انہوں نے شباب کیرانوی کے ساتھ بہت کام کیا۔ ریاض الرحمان ساغر طویل عرصے تک اردو اخبار ’نوائے وقت‘ کے پہلے شوبز رپورٹر اور پھر شوبز ایڈیٹر بھی رہے۔ وہ پاکستان فلم سنسر بورڈ کے رکن بھی رہے تھے۔وہ اپنے آپ کو قتیل شفائی کا شاگرد کہتے تھے۔امجد اسلام امجد نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ریاض الرحمان ساغر کا شمار ستر کی دہائی کے بعد کے ایسے معروف فلمی شاعروں میں ہوتا ہے جنہوں نے فلمی صنعت کے زوال کے باوجود اچھی شاعری کی تخلیق جاری رکھی۔
    وہ کینسر کے مرض کا شکار ہو کر یکم جون 2013 کو دنیائے فانی سے رخصت ہو گئے۔ریاض الرحمن ساغر کی گراں قدرخدمات پرانہیں نیشنل فلم ایوارڈ، پی ٹی وی ایوارڈ، کلچرل گریجوایٹ ایوارڈ، نگار ایوارڈ اور بولان ایوارڈ سے نوازا گیا۔