Baaghi TV

Tag: شاعر

  • ایک دیوار اٹھائی تھی بڑی عجلت میں، وہی دیوار گرانے میں بہت دیر لگی

    ایک دیوار اٹھائی تھی بڑی عجلت میں، وہی دیوار گرانے میں بہت دیر لگی

    ایک دیوار اٹھائی تھی بڑی عجلت میں
    وہی دیوار گرانے میں بہت دیر لگی

    یاسمین حمید

    نامور پاکستانی ادیبہ،شاعرہ،مصنفہ ،مترجمہ اور ماہر تعلیم یاسمین حمید صاحبہ 18؍مارچ 1951ء کو لاہور میں پیدا ہوئیں۔ وہ اس وقت لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز میں شعبہ سوشل سائنس میں کام کررہی ہیں ، وہ اردو ادبی حلقے کی ایک مشہور شخصیت ہیں۔ انہوں نے ہم عصر اردو شاعروں کے کلام کو انگریزی میں ترجمہ کیا ہے۔ وہ حکومت پاکستان کے زیر اہتمام ثقافتی / فیشن شو کے انگریزی میں اسکرپٹ بھی لکھتی ہیں۔ ان کی 7 کتابیں اب تک شائع ہوچکی ہیں : پاس آ ئینہ (1988)
    حصارِ بے در و دیوار (1991)
    آدھا دن اور آدھی رات (1996)
    فنا بھی ایک سراب (2001) ، اور 2007 میں دوسری زندگی (مجموعہ نظمیں ، 1988 ؍ 2001 )۔

    وارفتگی
    ہم دو زمانوں میں پیدا ہوئے

    یاسمین صاحبہ کو تمغۂ امتیاز برائے ادبیات ، فاطمہ جناح تمغہ ، احمد ندیمؔ قاسمی ایوارڈ ، ڈاکٹر علامہ محمد اقبالؔ ایوارڈ وغیرہ جیسے مختلف ایوارڈز بھی مل چکے ہیں۔

    چند منتخب اشعار

    ہمیں خبر تھی بچانے کا اس میں یارا نہیں
    سو ہم بھی ڈوب گئے اور اسے پکارا نہیں

    خوشی کے دور تو مہماں تھے آتے جاتے رہے
    اداسی تھی کہ ہمیشہ ہمارے گھر میں رہی

    پردہ آنکھوں سے ہٹانے میں بہت دیر لگی
    ہمیں دنیا نظر آنے میں بہت دیر لگی

    جس سمت کی ہوا ہے اسی سمت چل پڑیں
    جب کچھ نہ ہو سکا تو یہی فیصلہ کیا

    سمندر ہو تو اس میں ڈوب جانا بھی روا ہے
    مگر دریاؤں کو تو پار کرنا چاہیئے تھا

    ذرا دھیمی ہو تو خوشبو بھی بھلی لگتی ہے
    آنکھ کو رنگ بھی سارے نہیں اچھے لگتے

    اپنی نگاہ پر بھی کروں اعتبار کیا
    کس مان پر کہوں وہ مرا انتخاب تھا

    مسلسل ایک ہی تصویر چشم تر میں رہی
    چراغ بجھ بھی گیا روشنی سفر میں رہی

    اگر اتنی مقدم تھی ضرورت روشنی کی
    تو پھر سائے سے اپنے پیار کرنا چاہیئے تھا

    جو ڈبوئے گی نہ پہنچائے گی ساحل پہ ہمیں
    اب وہی موج سمندر سے ابھرنے کو ہے

    میں اب اس حرف سے کترا رہی ہوں
    جو میری بات کا حاصل رہا ہے

    اس کے شکستہ وار کا بھی رکھ لیا بھرم
    یہ قرض ہم نے زخم کی صورت ادا کیا

    ایک دیوار اٹھائی تھی بڑی عجلت میں
    وہی دیوار گرانے میں بہت دیر لگی

    رستے سے مری جنگ بھی جاری ہے ابھی تک
    اور پاؤں تلے زخم کی وحشت بھی وہی ہے

    مری ہر بات پس منظر سے کیوں منسوب ہوتی ہے
    مجھے آواز سی آتی ہے کیوں اجڑے دیاروں سے

    دریا کی روانی وہی دہشت بھی وہی ہے
    اور ڈوبتے لمحات کی صورت بھی وہی ہے

    جہاں تا حد بینائی مسافر ہی مسافر ہوں
    نشاں قدموں کے مٹ جاتے ہیں ایسی رہ گزاروں سے

    مثالِ عکس مرے آئنے میں ڈھلتا رہا
    وہ خد و خال بھی اپنے مگر بدلتا رہا

    ایک اک حرف سمیٹو مجھے تحریر کرو
    مری یکسوئی کو آمدۂ زنجیر کرو

  • بلبل ہند  فصیح الملک اردو کے ایک عظیم شاعر    داغ دہلوی

    بلبل ہند فصیح الملک اردو کے ایک عظیم شاعر داغ دہلوی

    تمھارے خط میں نیا اک سلام کس کا تھا
    نہ تھا رقیب تو آخر وہ نام کس کا تھا

    داغ دہلوی

    بلبل ہند فصیح الملک اردو کے ایک عظیم شاعر محمد ابراہیم نواب مرزا خان المعروف داغ دہلوی 25؍مئی 1831ء کو دہلی میں پیدا ہوئے، ان کے والد نواب شمس الدین والیٔ فیروز پور جھرکہ کے تھےجنہوں نے ان کی والدہ مرزا خانم عرف چھوٹی بیگم سے با قائدہ شادی نہیں کی تھی۔ نواب شمس الدیں خان کو اس وقت جب داغؔ تقریباً چار برس کے تھے،دہلی کے ریزیڈنٹ ولیم فریزر کے قتل کی سازش میں ملوث ہونے کے الزام میں پھانسی دے دی گئی تھی۔ اس کے بعد جب ان کی عمر تیرہ سال کی تھی ،ان کی والدہ نےاس وقت کی برائے نام مغلیہ سلطنت کے ولی عہد مرزا فخرو سے شادی کر لی تھی۔اس طرح داغؔ کی ذہنی اور علمی تربیت قلعہ کے ماحول میں ہوئی۔ان کو اپنے وقت کی بہترین تعلیم دی گئی جو شہزادوں اور امراء کے لڑکوں کے لئے مخصوص تھی۔قلعہ کے رنگین اور ادبی ماحول میں داغؔ کو شاعری کا شوق پیدا ہوا اور انہوں نے ذوقؔ کی شاگردی اختیار کرلی ۔نوعمری سی ہی داغؔ کی شاعری میں نیا بانکپں تھا۔ان کے نئے انداز کو امام بخشؔ، صہبائی، غالبؔ اور شیفتہؔ سمیت تمام اہل علم نے سراہا اور ان کی حوصلہ افزائی کی۔ 10 سال کی ہی عمر میں انہوں نے اپنی خالہ عمدہ خانم کی بیٹی فاطمہ بیگم سے شادی کر لی۔ عمدہ خانم نواب رامپور یوسف علی خاں کے تصرف میں تھیں۔

    داغؔ ہی ایسے خوش قسمت شاعر تھے جس کے شاگردوں کی تعداد ہزاروں تک پہنچ گئی۔ان کے شاگردوں میں فقیر سے لے کر بادشاہ تک اور عالم سے لے کر جاہل تک ہر طرح کے لوگ تھے۔پنجاب میں علامہ اقبالؔ، مولانا ظفر علی خان ، مولوی محمد الدین فوقؔ اور یو پی میں سیمابؔ صدیقی، اطہر ہاپوڑی، بیخودؔ دہلوی، نوحؔ ناروی اور آغا شاعرؔ وغیرہ سب ان کےے شاگرد تھے۔ داغ کو جو مقبولت اپنی زندگی میں ملی وہ کسی شاعر کو نہیں ملی۔

    داغؔ کی شاعری ایک محور پر گھومتی ہے اور وہ ہے عشق ! جنسی محبت کے باوجود انوتن نے عاشقانہ جذبات کا بھرم رکھا ہے اور نفسیا تی بصیرت کا اظہار ان کے یہاں جا بجا ملتا ہے داغؔ کی شاعری میں شبابیات ، عیاشی ،ہوسناکی اور کھل کھیلنے کا جو عنصر ہے اس کے اظہار میں داغؔ نے ایک کیفیت پیدا کر دی ہے۔عام طور عشقیہ جذبات ہی داغؔ کی شاعری میں دوڑتے نظر آتے ہیں، جنہیں طرح طرح کے رنگ بدلتے دیکھ کر قاری کبھی اچھل پڑتا ہے ،کبھی آزردہ ہوجاتا ہے،کبھی ان حالات کو اپنے دل کی گہرائیوں میں تلاش کرتا ہے اور کبھی داغؔ کی بے پایاں شہرت اور اس میں تفکر کی کمی اسے مایوس کر دیتی ہے۔ان کی غزلیں مترنم بحروں میں ہیں۔ان کی زبان آسان،شستہ اور سادہ ہے، 17؍مارچ 1905ء کو داغؔ دہلوی، حیدر آباد میں وفات پا گئے۔

    داغ دہلوی کی شاعری سے انتخاب
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    آئنہ دیکھ کے کہتے ہیں سنورنے والے
    آج بے موت مریں گے مرے مرنے والے

    آؤ مل جاؤ کہ یہ وقت نہ پاؤ گے کبھی
    میں بھی ہمراہ زمانہ کے بدل جاؤں گا

    ابھی آئی بھی نہیں کوچۂ دلبر سے صدا
    کھل گئی آج مرے دل کی کلی آپ ہی آپ

    اردو ہے جس کا نام ہمیں جانتے ہیں داغؔ
    ہندوستاں میں دھوم ہماری زباں کی ہے

    الٰہی کیوں نہیں اٹھتی قیامت ماجرا کیا ہے
    ہمارے سامنے پہلو میں وہ دشمن کے بیٹھے ہیں

    اور ہوں گے تری محفل سے ابھرنے والے
    حضرت داغؔ جہاں بیٹھ گئے بیٹھ گئے

    ناصح کہہ دے محبت میں خدا لگتی کچھ
    مدعی لاکھ پہ بھاری ہے گواہی تیری

    مقابلہ ہے رقیبوں سے روزِ محشر بھی
    چھپا ہوا کوئی خنجر مرے کفن میں رہے

    چڑھاؤ پھول مری قبر پر جو آئے ہو
    کہ اب زمانہ گیا تیوری چڑھانے کا

    اِس گوہرِ نایاب کو تھا خاک میں ملنا
    ٹپکا جو زمیں پر تو نہ آنسو نظر آیا

    یاد سب کچھ ہیں مجھے ہجر کے صدمے ظالم
    بھول جاتا ہوں مگر دیکھ کے صورت تیری

    پیتے ہیں زیرِ خاک بھی رندانِ بادہ کش
    گرتی ہے جب شراب چھلک کر ایاغ سے

    خلق کے اعمال نامے چھین لوں گا حشر میں
    گم ہوا ہے ہاتھ سے قاصد کے دلبر کا جواب

    داغؔ مرنے نہیں دیتا مجھے رشکِ اغیار
    ورنہ مر جاؤں ابھی ، جان سے بیزار تو ہوں

    بنے ہیں جب سے وہ لیلیٰ نئی محمل میں رہتے ہیں
    جسے دیوانہ کرتے ہیں اسی کے دل میں رہتے ہیں

    عجب اپنا حال ہوتا جو وصالِ یار ہوتا
    کبھی جان صدقے ہوتی کبھی دل نثار ہوتا

    پھرتا ہے میرے دل میں کوئی حرفِ مدعا
    قاصد سے کہہ دو اور نہ جائے ذرا سی دیر

    سبق ایسا پڑھا دیا تو نے
    دل سے سب کچھ بھلا دیا تو نے

    اس قدر ناز ہے کیوں آپ کو یکتائی کا
    دوسرا نام ہے وہ بھی مری تنہائی کا

    تم کو چاہا تو خطا کیا ہے بتا دو مجھ کو
    دوسرا کوئی تو اپنا سا دکھا دو مجھ کو

    تمہارے خط میں نیا اک سلام کس کا تھا
    نہ تھا رقیب تو آخر وہ نام کس کا تھا

    جو تمہاری طرح تم سے کوئی جھوٹے وعدے کرتا
    تمہیں منصفی سے کہہ دو تمہیں اعتبار ہوتا

    شاباش داغؔ تجھ کو کیا تیغ عشق کھائی
    جی کرتے ہیں وہی جو مردانے آدمی ہیں

    جلوے مری نگاہ میں کون و مکاں کے ہیں
    مجھ سے کہاں چھپیں گے وہ ایسے کہاں کے ہیں

    تماشائے دیر و حرم دیکھتے ہیں
    تجھے ہر بہانے سے ہم دیکھتے ہیں

    سب لوگ جدھر وہ ہیں ادھر دیکھ رہے ہیں
    ہم دیکھنے والوں کی نظر دیکھ رہے ہیں

    تدبیر سے قسمت کی برائی نہیں جاتی
    بگڑی ہوئی تقدیر بنائی نہیں جاتی

    اچھی صورت پہ غضب ٹوٹ کے آنا دل کا
    یاد آتا ہے ہمیں ہائے زمانا دل کا

    ہر چند داغؔ ایک ہی عیار ہے مگر
    دشمن بھی تو چھٹے ہوئے سارے جہاں کے ہیں

  • مرثیہ نگاری کو ایک نئی جدت اور خوبصورتی دینے والے معروف شاعر مرزا سلامت علی دبیر

    مرثیہ نگاری کو ایک نئی جدت اور خوبصورتی دینے والے معروف شاعر مرزا سلامت علی دبیر

    کس شیر کی آمد ہے کہ رن کانپ رہا ہے
    رستم کا جگر زیر کفن کانپ رہا ہے

    مرزا سلامت علی دبیر

    مرزا سلامت علی دبیر اردو کےان نامور شعراء میں سے تھےجنہوں نے مرثیہ نگاری کو ایک نئی جدت اور خوبصورتی سے نوازا۔ آپ کو میر انیس کے ساتھ مرثیہ نگاری کا موجد اور بانی کہا جاتا ہے، مرزا دبیر 29 اگست 1803ء کو دلی میں پیدا ہوئے، انہوں نے بچپن میں ہی محرم کی مجالس میں مرثیے پڑھنے شروع کر دیئے تھے، انہوں نے میر مظفر ضمیر کی شاگردی میں شاعری کا آغاز کیا۔ دبیر اپنے زمانے کے بہت بڑے دانشور بھی تھے۔انہوں نے دہلی سے لکھنؤ کی طرف ہجرت کی جہاں انہیں مرثیہ نگاری پر ذیادہ بہتر کام کرنے کا ماحول دستیاب ہوا، مولانا محمد حسن آزاد اپنی کتاب ’’آب حیات‘‘ میں ’’تذکرۂ سراپا سکون‘‘ کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ مرزا دبیر کے والد صاحب کے نام کے حوالے سے دو نام ملتے ہیں۔ ایک ’’غلام حسین‘‘ دوسرا ’’مرزا ٓغاجان کاغذ فروش‘‘۔ مرزا دبیر کا 06مارچ 1875ء میں انتقال ہوا اور انہیں وہیں پر دفن کیا گیا۔

    ادبی خدمات:
    ۔۔۔۔۔۔
    انہوں نے اپنی زندگی میں تین ہزار (3000) سے زائد مرثیے لکھےجس میں نوحے اور سلام شامل نہیں ہیں۔ انہوں نے بغیر نقطوں کے ایک کلام لکھا جس کا پہلا شعر تھا:

    ’’ہم طالع ہما مراد ہم رسا ہوا‘‘
    اس بے نقطہ نظم میں مرزا دبیر نے اپنے تخلص دبیر کی جگہ اپنا تخلص ’’عطارد‘‘ استعمال کیا اور اس پوری نظم میں شروع سے آخر تک ایک نقطے کا استعمال بھی نہیں کیا۔ ایک انگریز مصنف ، پرو فیسر اور قدیم اردو شاعری کے کے ماہر پروفیسر فرانسس ڈبلیو پرچیٹ نے ایک مقام پر لکھا ہے کہ’’ اس طرح کا مکمل مرثیہ نگار، شاعر اور انسان دوبارہ پیدا نہیں ہو سکتا‘‘
    آپ کے چند مشہور مرثیے:
    1۔ کس شیر کی آمد ہے کہ رن کانپ رہا ہے۔
    2۔ دست ِخدا کا قوتِ بازو حسینؑ ہیں۔
    3۔ جب چلے یثرب سے ثبت مصطفٰےؐؐ سوئے عراق۔
    4۔ بلقیس پاسبان ہے، یہ کس کی جناب ہے۔
    5۔ پیدا شعاع مہر کی مقراض جب ہوئی۔
    اگرچہ مرزا دبیر کی وجہ شہرت مرثیہ نگاری تھی لیکن انہوں نے شاعری کی دوسری اصناف پر بھی بہت کام کیا جس میں سلام، رباعی، قطعات اور غزلیات بھی شامل ہیں آپ کی غزلوں کا اسلوب مرزا غالب سے ملتا جلتا ہے۔
    مرزا دبیر اور میر انیس کا تقابل
    ۔۔۔۔۔۔
    اردو ادب کی تاریخ میں مرزا دبیر اور میر انیس کی مرثیہ نگاری کا بہت زیادہ تقابل کیا جاتا ہے۔ اگرچہ دونوں کی ہی وجہ شہرت مرثیہ نگاری تھی تاہم دونوں کا انداز اور اسلوب ایک دوسرے سے بہت مختلف تھا۔ بعد میں آنے ولےاردو ادب کے بہت سے ماہرین نے اس پر بہت ذیادہ کام کیا۔ اس عظیم ورثہ کو محفوظ رکھنے کی ضرورت ہے۔
    دنیا کے مختلف مصنفین اور محققین نے مرزا دبیر کے کام پر جو کتابیں لکھیں ان میں سے چند مندرجہ ذیل ہیں:
    1۔ موازنہِ انیس و دبیر (مولانا شبلی نعمانی)
    2۔ انیس و دبیر (ڈاکٹر گوپی چند نارنگ)
    3۔ مجتہد نظم مرزا دبیر (ڈاکٹر سیّد تقی عابدی)
    4۔ مرزا سلامت علی دبیر
    (ایلڈر ۔اے۔مینیو)(انگریزی میں)
    اردو ادب کے شعراء کو سلام
    ۔۔۔۔۔۔
    انیس اور دبیر اکیڈمی لندن نے ان دونوں عظیم شعراء کی سالگرہ پر ’’اردو ادب میں انیس اور دبیر کا مقام‘‘ کے عنوان سے ایک عالمی سیمینار کا انعقاد کیاجس میں پاکستان، بھارت، امریکہ، کینیڈا، آسٹریلیااور برطانیہ کے علاوہ دنیا کے بہت سے ممالک کے ادیبو اور دانشوروں نے شرکت کی اور مرزا دبیر و انیس کی شخصیات اور کام پر روشنی ڈالی اسی طرح کا ایک سیمینار 27 اکتوبر 2009ء کو کراچی میں بھی منعقد کیا گیا جس میں کینیڈا کے ڈاکٹر سیّد تقی عابدی نے انکشاف کیا کہ اردو شاعری میں میر انیس اور مرزا دبیر نے دنیا کے کسی بھی اردو شاعر سے ذیادہ الفاظ استعمال کیےہیں۔ انہوں نے بتایا نذیر اکبر آبادی نے 8500 الفاظ استعمال کیے مرزا دبیر نے 120,000 جبکہ میر انیس نے 86000 الفاظ استعمال کیے۔
    نذرانہ عقیدت
    ۔۔۔۔۔۔
    03 جنوری 2014ء کو مفس نوحہ اکیڈمی ممبئی انڈیانے مرزا دبیر کو نذرانہ عقیدت پیش کرتے ہوئےمرزا دبیر کے مرثیوں پر مشتمل 35 وڈیوز کی ایک سیریز جاری کی۔جس کا عنوان تھا ’’مرزا سلامت علی دبیر کے سوز‘‘ جو کہ 8 مرثیوں پر مشتمل ہے (مدینہ تا مدینہ مکمل، 28 رجب سے 8 ربیع الاول) بھارت کے مشہور نوحہ خواں راحیل رضوی نے یہ مرثیے پڑہنے کا شرف حاصل کیا۔
    وفات
    ۔۔۔۔۔۔
    مولانا محمد حسین آذاد کی کتاب ’’آبِ حیات‘‘ کے مطابق مرزا دبیر کا انتقال 29 محرم 1292 ہجری بطابق (1875-76ء) میں ہوا۔ انتقال کے وقت آپ کی عمر 72 سال تھی۔
    ورثہ دبیر
    ۔۔۔۔۔۔
    مرزا دبیر اور میر انیس نے اردو ادب پر، خاص طور پر مرثیہ نگاری کی تاریخ پر انمٹ نقوش چھوڑے ہیں، انہوں نے مرثیہ نگاری میں بہترین اسلوب اور اصنا ف متعارف کرائیںاور الفاظ کا بہترین چناؤ اور استعمال کیا، مرزا دبیر اور میر انیس نے مرثیہ نگاری کو جو پہچان دی وہ صرف انہیں سے منصوب رہے گی ان کی مرثیہ نگاری نے برصغیر پاک و ہند کے معاشرے پر بہت ذیادہ مثبت اثرات مرتب کیے ہیں۔جب بھی مرثیہ نگاری اور اردو ادب میں خدمات کا ذکر کیا جائے گا مرزا دبیر کا نے ہمیشہ سر فہرست لکھا جائے گا۔

    مرثیہ
    ۔۔۔۔۔۔
    کس شیر کی آمد ہے کہ رن کانپ رہا ہے
    رستم کا جگر زیر کفن کانپ رہا ہے
    ہر قصر سلاطین زمن کانپ رہا ہے
    سب ایک طرف چرخ کہن کانپ رہا ہے
    شمشیر بکف دیکھ کے حیدر کے پسر کو
    جبریل لرزتے ہیں سمیٹے ہوئے پر کو
    ہیبت سے ہیں نہ قلعۂ افلاک کے دربند
    جلاد فلک بھی نظر آتا ہے نظر بند
    وا ہے کمر چرخ سے جوزا کا کمر بند
    سیارے ہیں غلطاں صفت طائر پر بند
    انگشت عطارد سے قلم چھوٹ پڑا ہے
    خورشید کے پنجے سے علم چھوٹ پڑا ہے
    خود فتنۂ و شر پڑھ رہے ہیں فاتحۂ خیر
    کہتے ہیں انالعبد لرز کر صنم دیر
    جاں غیر ہے تن غیر مکیں غیر مکاں غیر
    نے چرخ کا ہے دور نہ سیاروں کی ہے سیر
    سکتے میں فلک خوف سے مانند زیں ہے
    جز بخت یزید اب کوئی گردش میں نہیں ہے
    بے ہوش ہے بجلی پہ سمند ان کا ہے ہشیار
    خوابیدہ ہیں سب طالع عباس ہے بیدار
    پوشیدہ ہے خورشید علم ان کا نمودار
    بے نور ہے منہ چاند کا رخ ان کا ضیا بار
    سب جزو ہیں کل رتبہ میں کہلاتے ہیں عباس
    کونین پیادہ ہیں سوار آتے ہیں عباسؑ
    چمکا کے مہ و خور زر و نقرہ کے عصا کو
    سرکاتے ہیں پیر فلک پشت دوتا کو
    عدل آگے بڑھا حکم یہ دیتا ہے قضا کو
    ہاں باندھ لے ظلم و ستم و جور و جفا کو
    گھر لوٹ لے بغض و حسد و کذب و ریا کا
    سرکاٹ لے حرص و طمع و مکر و دغا کا
    راحت کے محلوں کو بلا پوچھ رہی ہے
    ہستی کے مکانوں کو فنا پوچھ رہی ہے
    تقدیر سے عمر اپنی قضا پوچھ رہی ہے
    دونوں کا پتہ فوج جفا پوچھ رہی ہے
    غفلت کا تو دل چونک پڑا خوف سے ہل کر
    فتنے نے کیا خواب گلے کفر سے مل کر
    النشر کا ہنگامہ ہے اس وقت حشر میں
    الصورکا آوازہ ہے اب جن و بشر میں
    الہجر کا ہے تذکرہ باہم تن و سر میں
    الوصل کا غل ہے سقر و اہل سقر میں
    الحشر جو مردے نہ پکاریں تو غضب ہے
    الموت زبان ملک الموت پہ اب ہے
    روکش ہے اس اک تن کا نہ بہمن نہ تہمتن
    سہراب و نریمان و پشن بے سرو بے تن
    قاروں کی طرح تحت زمیں غرق ہے قارن
    ہر عاشق دنیا کو ہے دنیا چہہ بے زن
    سب بھول گئے اپنا حسب اور نسب آج
    آتا ہے جگر گوشۂ قتال عرب آج
    ہر خود نہاں ہوتا ہے خود کاسۂ سر میں
    مانند رگ و ریشہ زرہ چھپتی ہے بر میں
    بے رنگ ہے رنگ اسلحے کا فوج عمر میں
    جوہر ہے نہ تیغوں میں نہ روغن ہے سپر میں
    رنگ اڑ کے بھرا ہے جو رخ فوج لعیں کا
    چہرہ نظر آتا ہے فلک کا نہ زمیں کا
    ہے شور فلک کا کہ یہ خورشید عرب ہے
    انصاف یہ کہتا ہے کہ چپ ترک ادب ہے
    خورشید فلک پرتو عارض کا لقب ہے
    یہ قدرت رب قدرت رب قدرت رب ہے
    ہر ایک کب اس کے شرف و جاہ کو سمجھے
    اس بندے کو وہ سمجھے جو اللہ کو سمجھے
    یوسف ہے یہ کنعاں میں سلیماں ہے سبا میں
    عیسیٰ ہے مسیحائی میں موسیٰ ہے دعا میں
    ایوب ہے یہ صبر میں یحییٰ ہے بکا میں
    شپیر ہے مظلومی میں حیدر ہے وغا میں
    کیا غم جو نہ مادر نہ پدر رکھتے ہیں آدم
    عباس سا دنیا میں پسر رکھتے ہیں آدم
    پنجے میں یداللہ ہے بازو میں ہے جعفر
    طاعت میں ملک خو میں حسنؑ زور میں حیدر
    اقبال میں ہاشم تو تواضع میں پیمبر
    اور طنطنہ و دبدبہ میں حمزۂ صفدر
    جوہر کے دکھانے میں یہ شمشیر خدا ہے
    اور سر کے کٹانے میں یہ شاہ شہدا ہے
    بے ان کے شرف کچھ بھی زمانہ نہیں رکھتا
    ایمان سوا ان کے خزانہ نہیں رکھتا
    قرآں بھی کوئی اور فسانہ نہیں رکھتا
    شپیر بغیر ان کے یگانہ نہیں رکھتا
    یہ روح مقدس ہے فقط جلوہ گری میں
    یہ عقل مجرد ہے جمال بشری میں
    صحرا میں گرا پرتو عارض جو قضارا
    سورج کی کرن نے کیا شرما کے کنارا
    یوں دھوپ اڑی آگ پہ جس طرح سے پارا
    موسیٰ کی طرح غش ہوئے سب کیسا نظارا
    جز مدح نہ دم روشنئ طور نے مارا
    شب خون عجب دھوپ پہ اس نور نے مارا
    قربان ہوائے علم شاہ امم کے
    سب خار ہرے ہو کے بنے سرو ارم کے
    ہیں راز عیاں خالق ذوالفضل و کرم کے
    جبریلؑ نے پر کھولے ہیں دامن میں علم کے
    پرچم کا جہاں عکس گرا صاعقہ چمکا
    پرچم کہیں دیکھا نہ سنا اس چم و خم کا
    قرنا میں نہ دم ہے نہ جلاجل میں صدا میں ہے
    بوق و دہل و کوس کی بھی سانس ہوا ہے
    ہر دل کے دھڑکنے کا مگر شور بپا ہے
    باجا جو سلامی کا اسے کہیے بجا ہے
    سکتے میں جو آواز ہے نقارۂ و دف کی
    نوبت ہے ورود خلف شاہ نجف کی
    آمد کو تو دیکھا رخ پر نور کو دیکھو
    والشمش پڑھو روشنیٔ طور کو دیکھو
    نے روشنیٔ ماہ کو نے ہور کو دیکھو
    اس شمع مراد ملک و حور کو دیکھو
    ہے کون تجلی رخ پر نور کی مانند
    یاں روشنیٔ طور جلی طور کی مانند
    مداح کو اب تازگیٔ نظم میں کد ہے
    یا حضرت عباسؑ علیؑ وقت مدد ہے
    مولا کی مدد سے جو سخن ہو وہ سند ہے
    اس نظم کا جو ہو نہ مقر اس کو حسد ہے
    حاسد سے صلا بھی نہیں درکار ہے مجھ کو
    سرکار حسینیؑ سے سروکار ہے مجھ کو
    گلزار ہے یہ نظم و بیاں بیشہ نہیں ہے
    باغی کو بھی گلگشت میں اندیشہ نہیں ہے
    ہر مصرعۂ پر جستہ ہے پھل تیشہ نہیں ہے
    یاں مغز سخن کا ہے رگ و ریشہ نہیں ہے
    صحت مری تشخیص سے ہے نظم کے فن کی
    مانند قلم ہاتھ میں ہے نبض سخن کی
    گر کاہ ملے فائدہ کیا کوہکنی سے
    میں کاہ کو گل کرتا ہوں رنگیں سخنی سے
    خوش رنگ ہے الفاظ عقیق یمنی سے
    یہ ساز ہے سوز غم شاہ مدنی سے
    آہن کو کروں نرم تو آئینہ بنا لوں
    پتھر کو کروں گرم تو میں عطر نکا لوں
    گو خلعت تحسیں مجھے حاصل ہے سراپا
    پر وصف سراپا کا تو مشکل ہے سراپا
    ہر عضو تن اک قدرت کامل ہے سراپا
    یہ روح ہے سر تا بقدم دل ہے سراپا
    کیا ملتا ہے گر کوئی جھگڑتا ہے کسی سے
    مضمون بھی اپنا نہیں لڑتا ہے کسی سے
    سورج کو چھپاتا ہے گہن آئینہ کو زنگ
    داغی ہے قمر سوختہ و لالۂ خوش رنگ
    کیا اصل در و لعل کی وہ پانی ہے یہ سنگ
    دیکھو گل و غنچہ وہ پریشاں ہے یہ دل تنگ
    اس چہرے کو داور ہی نے لاریب بنایا
    بے عیب تھا خود نقش بھی بے عیب بنایا
    انساں کہے اس چہرے کو کب چشمۂ حیواں
    یہ نور وہ ظلمت یہ نمودار وہ پنہاں
    برسوں سے ہے آزار برص میں مہ تاباں
    کب سے یرقاں مہر کو ہے اور نہیں درماں
    آئینہ ہے گھر زنگ کایہ رنگ نہیں ہے
    اس آئینہ میں رنگ ہے اور زنگ نہیں ہے
    آئینہ کہا رخ کو تو کچھ بھی نہ ثنا کی
    صنعت وہ سکندر کی یہ صنعت ہے خدا کی
    واں خاک نے صیقل یہاں قدرت نے جلا کی
    طالع نے کس آئینہ کو خوبی یہ عطا کی
    ہر آئینہ میں چہرۂ انساں نظر آیا
    اس رخ میں جمال شہ مرداں نظر آیا
    بے مثل حسیں ہے نگہ اہل یقیں میں
    بس ایک یہ خورشید ہے افلاک و زمیں میں
    جلوہ ہے عجب ابروؤں کا قرب جبیں میں
    دو مچھلیاں ہیں چشمۂ خورشید مبیں میں
    مردم کو اشارہ ہے یہ ابرو کا جبیں پر
    ہیں دو مہ نو جلوہ نما چرخ بریں پر
    بینی کے تو مضموں پہ یہ دعوا ہے یقینی
    اس نظم کے چہرے کی وہ ہوجائے گا بینی
    منظور نگہ کو جو ہوئی عرش نشینی
    کی سایۂ بینی نے فقط جلوہ گزینی
    درکار اسی بینی کی محبت کا عصا ہے
    یہ راہ تو ایماں سے بھی باریک سوا ہے
    بینی کو کہوں شمع تو لو اس کی کہاں ہے
    پر نور بھنوؤں پر مجھے شعلہ کا گماں ہے
    دو شعلے اور اک شمع یہ حیرت کا مکاں ہے
    ہاں زلفوں کے کوچوں سے ہوا تند رواں ہے
    سمجھو نہ بھویں بس کہ ہوا کا جو گزر ہے
    یہ شمع کی لو گاہ ادھر گاہ ادھر ہے
    اس درجہ پسند اس رخ روشن کی چمک ہے
    خورشید سے برگشتہ ہر اک ماہ فلک ہے
    ابرو کا یہ غل کعبۂ افلاک تلک ہے
    محراب دعائے بشر و جن و ملک ہے
    دیکھا جو مہ نو نے اس ابرو کے شرف کو
    کعبہ کی طرف پشت کی رخ اس کی طرف کو
    جو معنیٔ تحقیق سے تاویل کا ہے فرق
    پتلی سے وہی کعبہ کی تمثیل کا ہے فرق
    سرمہ سے اور اس آنکھ سے اک میل کا ہے فرق
    میل ایک طرف نور کی تکمیل کا ہے فرق
    اس آنکھ پہ امت کے ذرا خشم کو دیکھو
    ناوک کی سلائی کو اور اس چشم کو دیکھو
    گر آنکھ کو نرگس کہوں ہے عین حقارت
    نرگس میں نہ پلکیں ہیں نہ پتلی نہ بصارت
    چہرے پہ مہ عید کی بے جا ہے اشارت
    وہ عید کا مژدہ ہے یہ حیدرؑ کی بشارت
    ابرو کی مہ نو میں نہ جنبش ہے نہ ضو ہے
    اک شب وہ مہ نو ہے یہ ہر شب مہ نو ہے
    منہ غرق عرق دیکھ کے خورشید ہوا تر
    ابرو سے ٹپکتا ہے نرا تیغ کا جوہر
    آنکھوں کا عرق روغن بادام سے بہتر
    عارض کا پسینہ ہے گلاب گل احمر
    قطرہ رخ پر نور پہ ڈھلتے ہوئے دیکھو
    عطر گل خورشید نکلتے ہوئے دیکھو
    تسبیح کناں منہ میں زبان آٹھ پہر ہے
    گویا دہن غنچہ میں برگ گل تر ہے
    کب غنچہ و گلبرگ میں یہ نور مگر ہے
    اس برج میں خورشید کے ماہی کا گزر ہے
    تعریف میں ہونٹوں کی جو لب تر ہوا میرا
    دنیا ہی میں قابو لب کوثر ہوا میرا
    یہ منہ جو ردیف لب خوش رنگ ہوا ہے
    کیا فاقیہ غنچہ کا یہاں تنگ ہوا ہے
    اب مدح دہن کا مجھے آہنگ ہوا ہے
    پر غنچے کا نام اس کے لیے ننگ ہوا ہے
    غنچہ کہا اس منہ کو حذر اہل سخن سے
    سونگھے کوئی بو آتی ہے غنچے کے دہن سے
    شیریں رقموں میں رقم اس لب کی جدا ہے
    اک نے شکر اور ایک نے یاقوت لکھا ہے
    یاقوت کا لکھنا مگر ان سب سے بجا ہے
    یاقوت سے بڑھ جو لکھوں میں تو مزا ہے
    چوسا ہے یہ لب مثل رطب حق کے ولی نے
    یاقوت کا بوسہ لیا کس روز علیؑ نے
    جان فصحا روح فصاحت ہے تو یہ ہے
    ہر کلمہ ہے موقع پہ بلاغت ہے تو یہ ہے
    اعجاز مسیحا کی کرامت ہے تو یہ ہے
    قائل ہے نزاکت کہ نزاکت ہے تو یہ ہے
    یوں ہونٹوں پہ تصویر سخن وقت بیاں ہے
    یاقوت سے گویا رگ یاقوت عیاں ہے
    اب اصل میں شیریں دہنی کی کروں تحریر
    طفلی میں کھلا جبکہ یہی غنچۂ تقریر
    پہلے یہ خبر دی کہ میں ہوں فدیۂ شپیر
    اس مژدے پہ مادر نے انہیں بخش دیا شیر
    منہ حیدر کرار نے میٹھا کیا ان کا
    شیرینیٔ اعجاز سے منہ بھر دیا ان کا
    اس لب سے دم تازہ ہر اک زندے نے پایا
    جیسے شہ مرداں نے نصیری کو جلایا
    جان بخشئے اموات کا گویا ہے یہ آیا
    ہم دم دم روح القدس ان کا نظر آیا
    دم قالب بے جاں میں جو دم کرتے تھے عیسیٰ
    ان ہونٹوں کے اعجاز کا دم بھرتے تھے عیسیٰ
    دانتوں کی لڑی سے یہ لڑی عقل خدا داد
    وہ بات ٹھکانے کی کہوں اب کہ رہے یاد
    یہ گوہر عباس ہیں پاک ان کی ہے بنیاد
    عباس و نجف ایک ہیں گنئے اگر اعداد
    معدن کے شرف ہیں یہ جواہر کے شرف ہیں
    دنداں در عباس ہیں تو در نجف ہیں
    اثناعشری اب کریں ہاتھوں کا نظارا
    دس انگلیاں ہیں مثل علم ان میں صف آرا
    ہر پنجہ کا ہے پنجتنی کو یہ اشارا
    اے مومنو عشرہ میں علم رکھنا ہمارا
    پہلے مرے آقا مرے سالار کو رونا
    پھر زیر علم ان کے علمدار کو رونا
    تا موئے کمر فکر کا رشتا نہیں جاتا
    فکر ایک طرف وہم بھی حاشا نہیں جاتا
    پر فکر رسا کا مری دعوا نہیں جاتا
    مضمون یہ نازک ہے کہ باندھا نہیں جاتا
    اب زیب کمر تیغ شرر بار جو کی ہے
    عباسؑ نے شعلہ کو گرہ بال سے دی ہے
    عشاق ہوں اب عالم بالا کی مدد کا
    درپیش ہے مضمون علمدار کے قد کا
    یہ ہے قد بالا پسر شیر صمد کا
    یا سایہ مجسم ہوا اللہ احد کا
    اس قد پہ دو ابرو کی کشش کیا کوئی جانے
    کھینچے ہیں دو مد ایک الف پر یہ خدا نے
    نے چرخ کے سو دورے نہ اک رخش کا کاوا
    دیتا ہے سدا عمر رواں کو یہ بھلاوا
    یہ قسم ہے ترکیب عناصر کے علاوا
    اللہ کی قدرت ہے نہ چھل بل نہ چھلاوا
    چلتا ہے غضب چال قدم شل ہے قضا کا
    توسن نہ کہو رنگ اڑا ہے یہ ہوا کا
    گردش میں ہر اک آنکھ ہے فانوس خیالی
    بندش میں ہیں نعل اس کے رباعئ ہلالی
    روشن ہے کہ جوزا نے عناں دوش پہ ڈالی
    بھرتی سے ہے مضمون رکابوں کا بھی خالی
    سرعت ہے اندھیرے اور اجالے میں غضب کی
    اندھیاری اسے چاندنی ہے چودھویں شب کی
    گردوں ہو کبھی ہم قدم اس کا یہ ہے دشوار
    وہ قافلہ کی گرد ہے یہ قافلہ سالار
    وہ ضعف ہے یہ زور وہ مجبور یہ مختار
    یہ نام ہے وہ ننگ ہے یہ فخر ہے وہ عار
    اک جست میں رہ جاتے ہیں یوں ارض و سما دور
    جس طرح مسافر سے دم صبح سرا دور
    جو بوند پسینے کی ہے شوخی سے بھری ہے
    ان قطروں میں پریوں سے سوا تیز پری ہے
    گلشن میں صبا باغ میں یہ کبک دری ہے
    فانوس میں پروانہ ہے شیشے میں پری ہے
    یہ ہے وہ ہما جس کے جلو دار ملک ہیں
    سایہ کی جگہ پر کے تلے ہفت فلک ہیں
    ٹھہرے تو فلک سب کو زمیں پر نظر آئے
    دوڑے تو زمیں چرخ بریں پر نظر آئے
    شہباز ہوا کا نہ کہیں پر نظر آئے
    راکب ہی فقط دامن زیں پر نظر آئے
    اس راکب و مرکب کی برابر جو ثنا کی
    یہ علم خدا کا وہ مشیت ہے خدا کی
    شوخی میں پری حسن میں ہے حور بہشتی
    طوفان میں راکب کے لئے نوح کی کشتی
    کب ابلق دوراں میں ہے یہ نیک سرشتی
    یہ خیر ہے وہ شر ہے یہ خوبی ہے وہ زشتی
    صحرا میں چمن فصل بہاری ہے چمن میں
    رہوار ہے اصطبل میں تلوار ہے رن میں
    اس رخش کو عباسؑ اڑاتے ہوئے آئے
    کوس لمن الملک بجاتے ہوئے آئے
    تکبیر سے سوتوں کو جگاتے ہوئے آئے
    اک تیغ نگہ سب پہ لگاتے ہوئے آئے
    بے چلے کے کھینچے ہوئے ابرو کی کماں کو
    بے ہاتھ کے تانے ہوئے پلکوں کی سناں کو
    لکھا ہے مورخ نے کہ اک گبر دلاور
    ہفتم سے فروکش تھا میان صف لشکر
    روئیں تن و سنگیں دل و بد باطن و بدبر
    سر کرکے مہم نیزوں پہ لایا تھا کئی سر
    ہمراہ شقی فوج تھی ڈنکا تھا نشاں تھا
    جاگیر کے لینے کو سوئے شام رواں تھا
    تقدیر جو رن میں شب ہفتم اسے لائی
    خلوت میں اسے بات عمر نے یہ سنائی
    درپیش ہے سادات سے ہم کو بھی لڑائی
    وان پنچتنی چند ہیں یاں ساری خدائی
    اکبرؑ کا نہ قاسمؑ کا نہ شپیرؑ کا ڈر ہے
    دو لاکھ کو اللہ کی شمشیر کا ڈر ہے
    بولا وہ لرز کر کہ ہوا مجھ کو بھی وسواس
    شمشیر خدا کون عمر بولا کہ عباسؑ
    اس نے کہا پھر فتح کی کیوں کر ہے تجھے آس
    بولا کہ کئی روز سے اس شیر کو ہے پیاس
    ہم بھی ہیں بہادر نہیں ڈرتے ہیں کسی سے
    پر روح نکلتی ہے تو عباسؑ علی سے
    تشریف علمدار جری رن میں جو لایا
    اس گبر کو چپکے سے عمر نے یہ سنایا
    اندیشہ تھا جس شیر کے آنے کا وہ آیا
    سر اس نے پرے سے سوئے عباسؑ اٹھایا
    دیکھا تو کہا کانپ کے یہ فوج وغا سے
    روباہو لڑاتے ہو مجھے شیر خدا سے
    مانا کہ خدا یہ نہیں قدرت ہے خدا کی
    مجھ میں ہے نرا زور یہ قوت ہے خدا کی
    کی خوب ضیافت مری رحمت ہے خدا کی
    سب نے کہا تجھ پر بھی عنایت ہے خدا کی
    جا عذر نہ کر نام ہے مردوں کا اسی سے
    تو دبدبۂ و زور میں کیا کم ہے کسی سے
    بادل کی طرح سے وہ گرجتا ہوا نکلا
    جلدی میں سلح جنگ کے سجتا ہوا نکلا
    ہرگام رہ عمر کو تجتا ہوا نکلا
    اور سامنے نقارہ بھی بجتا ہوا نکلا
    غالب تھا تہمتن کی طرح اہل جہاں پر
    دھنستی تھی زمیں پاؤں وہ رکھتا تھا جہاں پر
    تیار کمر کس کے ہوا جنگ پہ خونخوار
    اور پیک اجل آیا کہ ہے قبر بھی تیار
    خنجر لیا منہ دیکھنے کو اور کبھی تلوار
    مثل ورم مرگ چڑھا گھوڑے پہ اک بار
    وہ رخش پہ یا دیو دنی تخت زری پر
    غل رن میں اٹھا کوہ چڑھا کبک دری پر
    اس ہیئت و ہیبت سے وہ نخوت سیر آیا
    آسیب کو بھی سائے سے اس کے حذر آیا
    میدان قیامت کو بھی محشر نظر آیا
    گرد اپنے لیے نیزوں پہ کشتوں کے سر آیا
    زندہ ہی پئے سیر نہ ہر صف سے بڑھے تھے
    سر مردوں کے نیزوں پہ تماشے کو چڑھے تھے
    سیدھا کبھی نیزہ کو ہلایا کبھی آڑا
    پڑھ پڑھ کے رجز باغ فصاحت کو اجاڑا
    ظالم نے کئی پشت کے مردوں کو اکھاڑا
    بولا میری ہیبت نے جگر شیروں کا پھاڑا
    ہم پنچہ نہ رستم ہے نہ سہراب ہے میرا
    مرحب بن عبدالقمر القاب ہے میرا
    فتراک میں سر باندھتا ہوں پیل دماں کا
    پنجہ میں سدا پھیرتا ہوں شیر ژیاں کا
    نظارا ذرا کیجئے ہر شاخ سناں کا
    اس نیزے پہ وہ سر ہے فلاں ابن فلاں کا
    جو جو تھے یلان کہن اس دورۂ نو میں
    تن ان کے تہ خاک ہیں سر میرے جلو میں
    یاں سیف زباں سیف الٰہی نے علم کی
    فرمایا مرے آگے ہے تقریر ستم کی
    اب منہ سے کہا کچھ تو زباں میں نے قلم کی
    کونین نے گردن مرے دروازے پہ خم کی
    طاقت ہے ہماری اسداللہ کی طاقت
    پنجے میں ہمارے ہے یداللہ کی طاقت
    عبدالقمر نحس کا تو داغ جگر ہے
    میں چاند علیؑ کا ہوں ارے یہ بھی خبر ہے
    خورشید پرستی سے تری کیا مجھے ڈر ہے
    قبضہ میں طناب فلک و شمش و قمر ہے
    مقدور رہا شمس کی رجعت کا پدر کو
    دو ٹکڑے چچا نے کیا انگلی سے قمر کو
    خورشید درخشاں میں بتا نور ہے کس کا
    کلمہ ورق ماہ پہ مسطور ہے کس کا
    اور سورۂ والشمس میں مذکور ہے کس کا
    ذرے کو کرے مہر یہ مقدور ہے کس کا
    یہ صاحب مقدور نبیؐ اور علیؑ ہیں
    یا ہم کہ غلام خلف الصدق نبیؐ ہیں
    توبہ تو خدا جانتا ہے شمش و قمر کو
    وہ شام کو ہوتا ہے غروب اور یہ سحر کو
    ایمان سمجھ مہر شہ جن و بشر کو
    شمع رہ معراج ہیں یہ اہل نظر کو
    خورشید بنی فاطمہ تو شاہ امم ہیں
    اور ماہ بنی ہاشمی آفاق میں ہم ہیں
    دو چاند کو کرتی ہے اک انگشت ہماری
    ہے مہر نبوت سے ملی پشت ہماری
    ہے تیغ ظفر وقت زد و کشت ہماری
    سو گرز قضا ضربت یکمشت ہماری
    قدرت کے نیستان کے ہم شیر ہیں ظالم
    ہم شیر ہیں اور صاحب شمشیر ہیں ظالم
    سب کو ہے فنا دور ہمیشہ ہے ہمارا
    سر پیش خدا رکھنا یہ پیشہ ہے ہمارا
    ہیں شیر خدا جس میں وہ بیشہ ہے ہمارا
    عاری ہے اجل جس سے وہ تیشہ ہے ہمارا
    ہم جزو بدن اس کے ہیں جو کل کا شرف ہے
    رشتے میں ہمارے گہر پاک نجف ہے
    جوشن جو دعاؤں میں ہے وہ اپنی زرہ ہے
    ہر عقدے کا ناخن مرے نیزے کی گرہ ہے
    تلوار سے پانی جگر ہر کہ و مہ ہے
    کاٹا پر جبریل کو جس تیغ سے یہ ہے
    سرخود و کلہ کا نہیں محتاج ہمارا
    شپیر کا ہے نقش قدم تاج ہمارا
    احمد ہے چچا میرا پدر حیدرؑ صفدر
    وہ کل کا پیمبر ہے یہ کونین کا رہبر
    اور مادر زینبؑ کی ہے لونڈی مری مادر
    بھائی مرا اک عون دو عبداللہ و جعفر
    اور شپر و شپیر ہیں سردار ہمارے
    ہم ان کے غلام اور وہ مختار ہمارے
    قاسم کا عزادار ہوں اکبرؑ کا میں غمخوار
    لشکر کا علمدار ہوں سرور کا جلو دار
    میں کرتا ہوں پردا تو حرم ہوتے ہیں اسوار
    تھا شب کو نگہبان خیام شہ ابرار
    اب تازہ یہ بخشش ہے خدائے ازلی کی
    سقا بھی بنا اس کا جو پوتی ہے علیؑ کی
    ہم ہانٹتے ہیں روزئ ہر بندۂ غفار
    رزاق کی سرکار کے ہیں مالک و مختار
    پر حق کی اطاعت ہے جو ہر کار میں درکار
    خود وقت سحر روزے میں کھالتے ہیں تلوار
    ہیں عقدہ کشا وقت کشا قلعہ کشا بھی
    پر صبر سے بندھواتے ہیں رسی میں گلا بھی
    اس کے قدم پاک کا فدیہ ہے سر اپنا
    قربان کیا جس پہ نبیؐ نے پسر اپنا
    نذر سر اکبرؑ ہے دل اپنا جگر اپنا
    بیت الشرف شاہ پہ صدقے ہے گھر اپنا
    مشہور جو عباسؑ زمانے کا شرف ہے
    شپیر کی نعلین اٹھانے کا شرف ہے
    شاہوں کا چراغ آتے ہی گل کردیا ہم نے
    ہر جا عمل ختم رسل کر دیا ہم نے
    خندق پہ در قلعہ کو پل کر دیا ہم نے
    اک جزو تھا کلمہ اسے کل کر دیا ہم نے
    دھوکا نہ ہو یہ سب شرف شیر خدا ہیں
    پھر وہ نہ جدا ہم سے نہ ہم ان سے جدا ہیں
    ناری کو بہشتی کے رجز پر حسد آیا
    یوں چل کے پئے حملہ وہ ملعون بد آیا
    گویا کہ سقر سے عمر عبدود آیا
    اور لرزے میں مرحب بھی میان لحد آیا
    نفریں کی خدا نے اسے تحسیں کی عمر نے
    مجرا کیا عباسؑ کو یاں فتح و ظفر نے
    شپیر کو بڑھ بڑھ کے نقیبوں نے پکارا
    لو ٹوٹتا ہے دست زبردست تمہارا
    ہے مرحب عبدالقمر اب معرکہ آرا
    شپیر یقیں جانو کہ عباسؑ کو مارا
    یہ گرگ وہ یوسف یہ خزاں ہے وہ چمن ہے
    وہ چاند یہ عقرب ہے وہ سورج یہ گہن ہے
    اس شور نے تڑپا دیا حضرت کے جگر کو
    اکبرؑ سے کہا جاؤ تو عمو کی خبر کو
    اکبرؑ بڑھے اور مڑ کے پکارے یہ پدر کو
    گھیرا ہے کئی نحس ستاروں نے قمر کو
    اک فوج نئی گرد علمدار ہے رن میں
    لو ماہ بنی ہاشمی آتا ہے گہن میں
    اک گبر قوی آیا ہے کھینچے ہوئے تلوار
    کہتا ہے کہ اک حملہ میں ہے فیصلۂ کار
    سرکشتوں کے نیزوں پہ ہیں گرد اس کے نمودار
    یاں دست بہ قبضہ متبسم ہیں علمدار
    اللہ کرے خیر کہ ہے قصد شر اس کو
    سب کہتے ہیں مرحب بن عبدالقمر اس کو
    غل ہے کہ دل آل عبا توڑے گا مرحب
    اب بازوئے شاہ شہدا توڑے گا مرحب
    بند کمر شیر خدا توڑے گا مرحب
    گوہر کو تہہ سنگ جفا توڑے گا مرحب
    مرحب کا نہ کچھ اس کی توانائی کا ڈر ہے
    فدوی کو چچا جان کی تنہائی کا ڈر ہے
    شہ نے کہا کیا روح علیؑ آئی نہ ہوگی
    نانا نے مرے کیا یہ خبر پائی نہ ہوگی
    کیا فاطمہؑ فردوس میں گھبرائی نہ ہوگی
    سر ننگے وہ تشریف یہاں لائی نہ ہوگی
    بندوں پہ عیاں زور خدا کرتے ہیں عباسؑ
    پیارے مرے دیکھو تو کہ کیا کرتے ہیں عباسؑ
    سن کر یہ خبر بیبیاں کرنے لگیں نالا
    ڈیوڑھی پہ کمر پکڑے گئے سید والا
    چلائے کہ فضہ علی اصغر کو اٹھا لا
    ہے وقت دعا چھوٹتا ہے گود کا پالا
    سیدانیو! سر کھول دو سجادہ بچھا دو
    دشمن پہ علمدار ہو غالب یہ دعا دو
    خیمے میں قیامت ہوئی فریاد بکا سے
    سہمی ہوئی کہتی تھی سکینہؑ یہ خدا سے
    غارت ہو الٰہی جو لڑے میرے چچا سے
    وہ جیتے پھریں خیر میں مرجاؤں بلا سے
    صدقے کروں قربان کروں اہل جفا کو
    دو لاکھ نے گھیرا ہے مرے ایک چچا کو
    ہے ہے کہیں اس ظلم و ستم کا ہے ٹھکانا
    سقے پہ سنا ہے کہیں تلوار اٹھانا
    کوئی بھی روا رکھتا ہے سید کا ستانا
    جائز ہے کسی پیاسے سے پانی کا چھپانا
    ہفتم سے غذا کھائی ہے نے پانی پیا ہے
    بے رحموں نے کس دکھ میں ہمیں ڈال دیا ہے
    اچھی مری اماں مرے سقے کو بلاؤ
    کہہ دو کہ سکینہؑ ہوئی آخر ادھر آؤ
    اب پانی نہیں چاہیے تابوت منگاؤ
    کاندھے سے رکھو مشک جنازے کو اٹھاؤ
    ملنے مری تربت کے گلے آئیں گے عباسؑ
    یہ سنتے ہی گھبرا کے چلے آئیں گے عباسؑ
    اس عرصہ میں حملے کئے مرحب نے وہاں چار
    پر ایک بھی اس پنچتنی پر نہ چلا وار
    مانند دل و چشم ہر اک عضو تھا ہشیار
    عاری ہوئی تلوار مخالف ہوا ناچار
    جب تیغ کو جھنجلا کے رخ پاک پہ کھینچا
    تلوار نے انگلی سے الف خاک پہ کھینچا
    غازی نے کہا بس اسی فن پر تھا تجھے ناز
    سیکھا نہ یداللٰہیوں سے ضرب کا انداز
    پھر کھینچی اس انداز سے تیغ شرر انداز
    جو میان کے بھی منہ سے ذرا نکلی نہ آواز
    یاں خوف سے قالب کو کیا میان نے خالی
    واں قالب اعدا کو کیا جان نے خالی
    یہ تیغ سراپا جو برہنہ نظر آئی
    پھر جامۂ تن میں نہ کوئی روح سمائی
    ہستی نے کہا توبہ قضا بولی دہائی
    انصاف پکارا کہ ہے قبضہ میں خدائی
    لو فتح مجسم کا وہ سر جیب سے نکلا
    نصرت کے فلک کا مہ نو غیب سے نکلا
    بجلی گری بجلی پہ اجل ڈر کے اجل پر
    اک زلزلہ طاری ہوا گردوں کے محل پر
    سیارے ہٹے کر کے نظر تیغ کے پھل پر
    خورشید تھا مریخ یہ مریخ زحل پر
    یہ ہول دیا تیغ درخشاں کی چمک نے
    جو تاروں کے دانتوں سے زمیں پکڑی فلک نے
    مرحب سے مخاطب ہوئے عباسؑ دلاور
    شمشیر کے مانند سراپا ہوں میں جوہر
    ممکن ہے کہ اک ضرب میں دو ہو تو سراسر
    پر اس میں عیاں ہوں گے نہ جوہر مرے تجھ پر
    لے روک مرے وار ترے پاس سپر ہے
    زخمی نہ کروں گا ابھی اظہار ہنر ہے
    کاندھے سے سپر لے کے مقابل ہوا دشمن
    بتلانے لگے تیغ سے یہ ضرب کا ہرفن
    یہ سینہ یہ بازو یہ کمر اور یہ گردن
    یہ خود یہ چار آئنہ یہ ڈھال یہ جوشن
    کس وار کو وہ روکتا تلوار کہاں تھی
    آنکھوں میں تو پھرتی تھی نگاہوں سے نہاں تھی
    مرحب نے نہ پھر ڈھال نہ تلوار سنبھالی
    اس ہاتھ سے سر ایک سے دستار سنبھالی
    ظالم نے سناں غصے سے اک بار سنبھالی
    اس شیر نے شمشیر شرر ہار سنبھالی
    تانی جو سناں اس نے علمدار کے اوپر
    یہ نیزا اڑا لے گئے تلوار کے اوپر
    جو چال چلا وہ ہوا گمراہ و پریشاں
    پھر زائچہ کھینچا جو کماں کا سر میداں
    تیروں کی لڑائی پہ پڑا قرعۂ پیکاں
    تیروں کو قلم کرنے لگی تیغ درخشاں
    جوہر سے نہ تیروں ہی کے پھل داغ بدل تھے
    گر شست کے تھے ساٹھ تو چلہ کے چہل تھے
    اس تیغ نے سرکش کے جو ترکش میں کیا گھر
    غل تھا کہ نیستاں میں گری برق چمک کر
    پر تیروں کے کٹ کٹ کے اڑے مثل کبوتر
    مرحب ہوا مضطر صفت طائر بے پر
    بڑھ کر کہا غازی نے بتا کس کی ظفر ہے
    اب مرگ ہے اور تو ہے یہ تیغ اور یہ سر ہے
    نامرد نے پوشیدہ کیا رخ کو سپر سے
    اور کھینچ لیا خنجر ہندی کو کمر سے
    خنجر تو ادھر سے چلا اور تیغ ادھر سے
    اس وقت ہوا چل نہ سکی بیچ میں ڈر سے
    اللہ رے شمشیر علمدار کے جوہر
    جوہر کیے اس خنجر خونخوار کے جوہر
    خنجر کا جو کاٹا تو وہ ٹھہری نہ سپر پر
    ٹھہری نہ سپر پر تو وہ سیدھی گئی سر پر
    سیدھی گئی سر پر تو وہ تھی صدر و کمر پر
    تھی صدر و کمر پر تو وہ تھی قلب و جگر پر
    تھی قلب و جگر پر تو وہ تھی دامن زیں پر
    تھی دامن زیں پر تو وہ راکب تھا زمیں پر
    ایماں نے اچھل کر کہا وہ کفر کو مارا
    قدرت نے پکارا کہ یہ ہے زور ہمارا
    حیدر سے نبیؐ بولے یہ ہے فخر تمہارا
    حیدرؑ نے کہا یہ مری پتلی کا ہے تارا
    پروانۂ شمع رخ تاباں ہوئیں زہراؑ
    محسن کو لیے گود میں قرباں ہوئیں زہراؑ
    ہنگامہ ہوا گرم یہ ناری جو ہوا سرد
    واں فوج نے لی باگ بڑھا یاں یہ جواں مرد
    ٹاپوں کی صدا سے سر قاروں میں ہوا درد
    رنگ رخ اعدا کی طرح اڑنے لگی گرد
    قاروں کا زر گنج نہانی نکل آیا
    یہ خاک اڑی رن سے کہ پانی نکل آیا
    جو زندہ تھے العظمۃ للٰلہ پکارے
    سر مردوں کے نیزوں پہ جو تھے واہ پکارے
    ڈرکر عمر سعد کو گمراہ پکارے
    خوش ہو کے علمدار سوئے شاہ پکارے
    یاں تو ہوا یا حضرت شپیر کا نعرہ
    شپیر نے ہنس کر کیا تکبیر کا نعرہ
    پردے کے قریب آ کے بہن شہ کی پکاری
    دشمن پہ ہوئی فتح مبارک ہو میں واری
    اب کہتی ہوں میں دیکھتی تھی جنگ یہ ساری
    عباسؑ کی اک ضرب میں ٹھنڈا ہوا ناری
    مرحب کو تو خیبر میں یداللہ نے مارا
    ہم نام کو ابن اسد اللہ نے مارا
    میداں میں علمدار کے جانے کے میں صدقے
    اس فاقے میں تلوار لگانے کے میں صدقے
    باہم علم و مشک اٹھانے کے میں صدقے
    اس پیاس میں اک بوند نہ پانے کے میں صدقے
    سقا بنا پیاسوں کا مروت کے تصدق
    بے سر کیا شہ زوروں کو قوت کے تصدق
    تم دونوں کا ہر وقت نگہبان خدا ہو
    دیکھے جو بری آنکھ سے غارت ہو فنا ہو
    دونوں کی بلا لے کے یہ ماں جائی فدا ہو
    رو کر کہا حضرت نے بہن دیکھیے کیا ہو
    منہ چاند سا مجھ کو جو دکھائیں تو میں جانوں
    دریا سے سلامت جو پھر آئیں تو میں جانوں
    زینبؑ سے بحسرت یہ بیاں کرتے تھے مولا
    ناگاہ سکینہؑ نے سنا فتح کا مژدا
    چلائی میں صدقے ترے اچھی مری فضا
    جا جلد بلائیں مرے عمود کی تو لے آ
    دکھ پیاس کا کہہ کر انہیں مدہوش نہ کرنا
    پر یاد دلانا کہ فراموش نہ کرنا
    لینے کو بلائیں گئی فضہ سوئے جنگاہ
    عباسؑ نے آتے ہوئے دیکھا اسے ناگاہ
    چلائے کہ پھر جا میں ہوا آنے سے آگاہ
    کہہ دینا سکینہؑ سے ہمیں یاد ہے واللہ
    دل پیاس سے بی بی کا ہوا جاتا ہے پانی
    لے کر ترے بابا کا غلام آتا ہے پانی
    دریا کو چلے ابر صفت ساتھ لیے برق
    مرحب کے شریکوں کا جدا کرتے ہوئے فرق
    سردار میں اور فوج میں باقی نہ رہا فرق
    مرحب کی طرح سب چہ ہب ہب میں ہوئے غرق
    تلوار کی اک موج نے طوفان اٹھایا
    طوفان نے سر پر وہ بیابان اٹھایا
    پانی ہوئی ہر موج زرہ فوج کے تن میں
    ملبوس میں زندے تھے کہ مردے تھے کفن میں
    خنجر کی زبانوں کو قلم کرکے دہن میں
    اک تیغ سے تلواروں کو عاری کیا رن میں
    حیدر کا اسد قلزم لشکر میں در آیا
    امڈے ہوئے بادل کی طرح نہر پر آیا
    دریا کے نگہبان بڑھے ہونے کو چو رنگ
    پہنے ہوئے مچھلی کی طرح بر میں زرہ تنگ
    کھینچے ہوئے موجوں کی طرح خنجر بے زنگ
    سقے نے کہا پانی پہ جائز ہے کہاں جنگ
    دریا کے نگہبان ہو پر غفلت دیں ہے
    مانند حباب آنکھ میں بینائی نہیں ہے
    مذہب ہے یہ کیسا کہ رہ شرع نہ جانی
    مشرب ہے یہ کیسا کہ پلاتے نہیں پانی
    بے شیر کا بچپن علی اکبرؑ کی جوانی
    برباد کیے دیتی ہے اب تشنہ دہانی
    لب خشک ہیں بچوں کی زباں پیاس سے شق ہے
    دریا ہی سے تم پوچھ لو کس پیاسے کا حق ہے
    پانی مجھے اک مشک ہے اس نہر سے درکار
    بھر لینے دو مجھ کو نہ کرو حجت و تکرار
    چلائے ستم گر ہے گزر نہر پہ دشوار
    غازی نے کہا ہاں پہ ارادہ ہے تو ہشیار
    لو سیل کو اور برق شرر بار کو روکو
    رہوار کو روکو مری تلوار کو روکو
    یہ کہہ کے کیا اسپ سبک تاز کو مہمیز
    بجلی کی طرح کوند کے چمکا فرس تیز
    اشرار کے سر پر ہوا نعلوں سے شرر ریز
    سیلاب فنا تھا کہ وہ طوفان بلا خیز
    جھپکی پلک اس رخش کو جب قہر میں دیکھا
    پھر آنکھ کھلی جب تو رواں نہر میں دیکھا
    دریا میں ہوا غل کہ وہ در نجف آیا
    الیاسؑ و خضرؑ بولے ہمارا شرف آیا
    عباسؑ شہنشاہ نجف کا خلف آیا
    پا بوس کو موتی لیے دست صدف آیا
    یاد آ گئی پیاسوں کی جو حیدرؑ کے خلف کو
    دل خون ہوا دیکھ کے دریا کی طرف کو
    سوکھے ہوئے مشکیزہ کا پھر کھولا دہانہ
    بھرنے لگا خم ہو کے وہ سرتاج زمانہ
    اعدا نے کیا دور سے تیروں کا نشانہ
    اور چوم لیا روح یداللہ نے شانہ
    فرمایا کہ کیا کیا مجھے خوش کرتے ہو بیٹا
    پانی مری پوتی کے لیے بھرتے ہو بیٹا
    کچھ فرق تری کوشش و ہمت میں نہیں ہے
    پانی مگر اس پیاسی کی قسمت میں نہیں ہے
    وقفہ مرے پیارے کی شہادت میں نہیں ہے
    جو زخم میں لذت ہے جراحت میں نہیں ہے
    اک خون کی نہر آنکھوں سے زہراؑ کے بہی ہے
    رونے کو تری لاش پہ سر کھول رہی ہے
    دریا سے جو نکلا اسداللہ کا جانی
    تھا شور کہ وہ شیر لیے جاتا ہے پانی
    پھر راہ میں حائل ہوئے سب ظلم کے بانی
    سقائے سکینہؑ کی یہ کی مرتبہ دانی
    قبریں نبیؐ و حیدرؑ و زبیراؑ کی ہلادیں
    برچھوں کی جو نوکیں تھیں کلیجے سے ملا دیں
    وہ کون سا تھا تیر جو دل پر نہ لگایا
    مشکیزے کے پانی سے سوا خون بہایا
    یہ نرغہ تھا جو شمر نے حیلے سے سنایا
    عباسؑ بچو غول کمیں گاہ سے آیا
    مڑ کر جو نظر کی خلف شیر خدا نے
    شانوں کو تہہ تیغ کیا اہل جفا نے
    لکھا ہے کہ ایک نخل رطب تھا سر میداں
    ابن ورقہ زید لعیں اس میں تھا پنہاں
    پہنچا جو وہاں سرو روان شہ مرداں
    جو شانہ تھا مشک و علم و تیغ کے شایاں
    وار اس پہ کیا زید نے شمشیر اجل سے
    یہ پھولی پھلی شاخ کٹی تیغ کے پھل سے
    مشک و علم و تیغ کو بائیں پہ سنبھالا
    اور جلد چلا عاشق روئے شہ والا
    پر ابن طفیل آگے بڑھاتان کے بھالا
    برچھی کی انی سے تو کیا دل تہہ و بالا
    اور تیغ کی ضربت سے جگر شاہ کا کاٹا
    وہ ہاتھ بھی فرزند یداللہ کا کاٹا
    سقے نے کئی بانہوں پہ مشکیزہ کو رکھ کر
    مانند زباں منہ میں لیا تسمہ سراسر
    ناگاہ کئی تیر لگے آگے برابر
    اک مشک پہ اک آنکھ پہ اور ایک دہن پر
    مشکیزے سے پانی بہا اور خوں بہا تن سے
    عباسؑ گرے گھوڑے سے اور مشک دہن سے
    گر کر لب زخمی سے علمدار پکارا
    کہہ دو کوئی پیاسوں سے کہ سقا گیا مارا
    سن لی یہ صدا شاہ شہیداں نے قضارا
    زینبؑ سے کہا لو نہ رہا کوئی ہمارا
    اصغرؑ کا گلا چھد گیا اکبرؑ کا جگر بھی
    بازو بھی مرے ٹوٹ گئے اور کمر بھی
    گویا کہ اسی وقت جلے خیمے ہمارے
    ظالم نے طمانچے بھی مری بیٹی کو مارے
    رسی میں مرے خورد و کلاں بندھ گئے سارے
    عباسؑ کے غم میں ہوئے ہم گور کنارے
    اعدا میں ہے غل مالک شمشیر کو مارا
    یہ کیوں نہیں کہتے ہیں کہ شپیر کو مارا
    زینبؑ نے کہا سچ ہے تمہیں مرگئے بھائی
    سب کنبے کو عباسؑ فنا کر گئے بھائی
    آفاق سے اب حمزہؑ حیدرؑ گئے بھائی
    ہم مجلس حاکم میں کھلے سر گئے بھائی
    میں جان چکی قید مصیبت میں پڑی ہوں
    اب گھر میں نہیں بلوے میں سر ننگے کھڑی ہوں
    ناگاہ صدا آئی کہ اے فاطمہؑ کے لال
    جلد آؤ کہ لاشہ مرا اب ہوتا ہے پامال
    زینبؑ نے کہا زندہ ہیں عباسؑ خوش اقبال
    تم جاؤ میں یاں بہر شفا کھولتی ہوں بال
    شہ بولے لب گور سکینہؑ کا چچا ہے
    اس فوج کا مارا ہوا کوئی بھی بچا ہے
    اکبرؑ کے سہارے سے چلے نہر پہ آقا
    گہ ہوش تھا گہ غش کبھی سکتہ کبھی نوحا
    لکھا ہے کہ ٹکڑے ہوئے یوں سقے کی اعضا
    اک ہاتھ تو مقتل میں ملا اک لب دریا
    زہراؑ کا پسر رن میں جو زیر شجر آیا
    اک ہاتھ تڑپتا ہوا شہ کو نظر آیا
    گر کر شہ والا نے یہ اکبر سے کہی بات
    اے لال اٹھا لو مرے بازو کا ہے یہ ہاتھ
    یہ ہاتھ رکھے سینہ پہ وہ وارث سادات
    پہنچا جو سر لاشۂ عباسؑ خوش اوقات
    ہیہات قلم تیغوں سے شانے نظر آئے
    سر ننگے یداللہ سرہانے نظر آئے
    بے ساختہ ماتھے پہ رکھا شاہ نے ماتھا
    لب رکھ کے لبوں پر کہا وا حسرت و در وا
    یہ تیر یہ آنکھ اور یہ نیزہ یہ کلیجا
    وا قرۃ عینا مرے وا مہجۃ قلبا
    کچھ منہ سے تو بولو مرے غمخوار برادر
    عباسؑ ابوالفضل علمدار برادر
    اس جاں شکنی میں جو سنا شیون مولا
    تعظیم کی نیت میں کٹے شانوں کو ٹیکا
    پھر پاؤں سمیٹے کہ نہ ہوں پائنتی آقا
    شہ بولے نہ تکلیف کرو اے میرے شیدا
    کی عرض میں پھیلائے ہوئے پاؤں پڑا ہوں
    حضرت نے یہ فرمایا سرہانے میں کھڑا ہوں
    یاں تھی یہ قیامت وہاں خیمہ میں یہ محشر
    در پر تھیں نبی زادیاں سب کھولے ہوئے سر
    تشویش تھی کیوں لاش کو لے آئے نہ سرور
    عباسؑ کا فرزند سراسیمہ تھا باہر
    تن رعشے میں خورشید درخشاں کی طرح تھا
    دل ٹکڑے یتیموں کے گریباں کی طرح تھا
    ضد کرتا تھا ماں سے مرے بابا کو بلا دو
    میں نہر پہ جاتا ہوں مرا نیمچہ لادو
    ماں کہتی تھی بابا کو سکینہؑ کے دعا دو
    بابا بھی چچا کو کہو بابا کو بھلا دو
    حیدرؑ سے نویں سال چھڑایا تھا قضا نے
    واری ترے بابا کو بھی پالا تھا چچا نے
    دریا پہ ابھی گھر گئے تھے باپ تمہارے
    پیارے کے چچا جان انہیں لینے کو سدھارے
    تو رہ یہیں اے میرے رنڈاپے کے سہارے
    بابا کو چچا جاں لیے آتے ہیں پیارے
    تھا عشق جو عباسؑ سے اس نیک خلف کو
    بڑھ بڑھ کے نظر کرتا تھا دریا کی طرف کو
    ناگاہ پھرا پیٹتا منہ کو وہ پریشاں
    زینبؑ نے کہا خیر تو ہے میں ترے قرباں
    چلایا کہ خادم کی یتیمی کا ہے ساماں
    بھیا علی اکبر نے ابھی پھاڑا گریباں
    بن باپ کا بچپن میں ہمیں کر گئے بابا
    مردے سے لپٹتے ہیں چچا مر گئے بابا
    یہ غل تھا جو مولا لیے مشک و علم آلے
    خیمہ میں کمر پکڑے امام امم آئے
    اور گرد علم بال بکھیرے حرم آئے
    زینبؑ سے کہا شہ نے بہن لٹ کے ہم آئے
    بھائی کے یتیموں کی پرستار ہو زینبؑ
    تم مہتمم سوگ علمدار ہو زینب
    ہاں سوگ کا حیدرؑ کے سیہ فرش بچھاؤ
    ہیں رخت عزا جس میں وہ صندوق منگاؤ
    دو سب کو سیہ جوڑے عزادار بناؤ
    شپر کی عزا کا ہمیں ملبوس پنہاؤ
    تم پہنو وہ کالی کفنی آل عبا میں
    جو فاطمہؑ نے پہنی تھی نانا کی عزا میں
    عباسؑ کا یہ سوگ نہیں سوگ ہے میرا
    عباسؑ کا ماتم ہو مرے گھر میں جو برپا
    نوحے میں نہ عباسؑ کہے نہ کہے سقا
    جو بین کرے رو کے کہے ہائے حسیناؑ
    سب لونڈیاں یوں روئیں کہ آقا گیا مارا
    چلائے سیکنہؑ بھی کہ بابا گیا مارا
    زینب نے کہا ہیں میری قسمت کے یہی کام
    دینے لگی ماتم کے یہ جوڑے تو وہ ناکام
    فضہ سے کہا سوگ کا کرتی ہوں سر انجام
    ٹھنڈا ہوا ہے ہے علم لشکر اسلام
    زہراؑ کا لباس اپنے لیے چھانٹ رہی ہوں
    عباسؑ کا ملبوس عزا بانٹ رہی ہوں
    پھر زیر علم فرش سیہ لا کے بچھایا
    اور بیوۂ عباسؑ کو خود لا کے بٹھایا
    تھے جتنے سیہ پوش انہیں رو کے سنایا
    قسمت نے جواں بھائی کا بھی داغ دکھایا
    ناسور نہ کس طرح سے ہو دل میں جگر میں
    ماتم ہے علمدار کا سردار کے گھر میں
    باقی کوئی دستور عزا رہنے نہ پائے
    اب خیمہ میں اپنے ہر اک اس خیمہ سے جائے
    ایک ایک یہاں پُرسے کو عباسؑ کے آئے
    سر ننگے لب فرش سے زینبؑ اسے لائے
    یہ جعفر و حمزہ کا یہ حیدرؑ کا ہے ماتم
    شپیر کا اکبرؑ کا اور اصغر کا ہے ماتم
    سب خیموں میں اپنے گئیں کرتی ہوئی زاری
    یاں کرنے لگی بین ید اللہ کی پیاری
    فضہ نے کہا زینب مضطر سے میں واری
    اے بنت علیؑ آتی ہے بانو کی سواری
    منہ زیر علم ڈھانپے علمدار کی بی بی
    پُرسے کے لیے آتی ہے سردار کی بی بی
    بانو نے قدم پیچھے رکھا فرش سیہ پر
    پہلے وہاں بٹھلا دیا اصغر کو کھلے سر
    پھر سوئے علم پیٹتی دوڑی وہ یہ کہہ کر
    قربان وفا پر تری اے بازوئے سرور
    سنتی ہوں تہہ تیغ ستم ہو گئے بازو
    دریا پہ بہشتی کے قلم ہو گئے بازو
    عباسؑ کو تو میں نہ سمجھتی تھی برادر
    میں ان کو پسر کہتی تھی اور وہ مجھے مادر
    اس شیر کے مرجانے سے بیکس ہوئے سرور
    بے جان ہوا حافظ جان علی اکبر
    سب کہتے ہیں حضرت کا برادر گیا مارا
    پوچھو جو مرے دل سے تو اکبرؑ گیا مارا
    اتنے میں سنی بالی سیکنہؑ کی دہائی
    زینب نے کہا روح علمدار کی آئی
    جوڑے ہوئے ہاتھوں کو وہ شپیر کی جائی
    کہتی تھی سزا پانی کے منگوانے کی پائی
    تعذیر دو یا دختر شپیر کو بخشو
    کس طرح کہوں میں مری تقصیر کو بخشو
    میں نے تمہیں بیوہ کیا رنڈ سالہ پنہایا
    ہے ہے مری اک پیاس نے سب گھر کو رلایا
    کوثر پہ سدھارا اسد اللہ کا جایا
    اور کنبے کا الزام مرے حصے میں آیا
    انصاف کرو لوگوں یہ کیا کر گئے عمو
    میں پیاسی کی پیاسی رہی اور مر گئے عمو
    بعد اس کے ہوا شور کہ لو آتی ہے بیوہ
    تشریف نئی بیوہ کے گھر لاتی ہے بیوہ
    گھونگھٹ کو الٹتے ہوئے شرماتی ہے بیوہ
    سر گوندھا ہوا ساس سے کھلواتی ہے بیوہ
    زینبؑ نے کہا بیوۂ فرزند حسنؑ ہے
    یہ کیوں نہیں کہتے مرے قاسمؑ کی دلہن ہے
    کبراؑ کو چچی پاس جو زینبؑ نے بٹھایا
    اس بیوہ نے گھونگھٹ رخ کبرؑیٰ سے ہٹایا
    اور پوچھا کہ دولہا ترا کیوں ساتھ نہ آیا
    افسوس چچی نے تجھے مہماں نہ بلایا
    پرسے کو تو آئی خلف شیر خدا کے
    پہلا ترا چالا یہ ہوا گھر میں چچا کے
    ناگاہ فغاں زیر علم یہ ہوئی پیدا
    سیدانیو دو مادر عباسؑ کو پرسا
    تعظیم کو سب اٹھے کہ ہے نالۂ زہراؑ
    زینبؑ نے کہا اماں وطن میں ہے وہ دکھیا
    آئی یہ ندا پاس ہوں میں دور کہاں ہوں
    عباسؑ مرا بیٹا میں عباسؑ کی ماں ہوں
    رنڈ سالہ بہو کو میں پہنانے کو ہوں آئی
    اک حُلۂ پر نور ہوں فردوس سے لائی
    عباسؑ کے ماتم کی تو صف تم نے بچھائی
    سامان سوئم ہوگا نہ کچھ اے مری جائی
    تم روز سوئم ہائے رواں شام کو ہوگی
    چہلم کو کفن لاش علمدار کو دوگی
    لو حیدریو وارد مجلس ہوئیں زہراؑ
    دو فاطمہؑ کی روح کو عباسؑ کا پرسا
    اب تک نہیں کفنائے گئے ہیں شہ والا
    بے گور ہے سردار و علمدار کا لاشا
    رونے نہیں دیتے ہیں عدو آل نبی کو
    تم سب کے عوض روؤ حسینؑ ابن علی کو
    خاموش دبیرؔ اب کہ نہیں نظم کا یارا
    مداح کا دل خنجر غم سے ہے دو پارا
    کافی پئے بخشش یہ وسیلہ ہے ہمارا
    اک ہفتے میں تصنیف کیا مرثیہ سارا
    تجھ پر کرم خاص ہے یہ حق کے ولی کا
    یہ فیض ہے سب مدح جگر بند علیؑ کا

  • بلوچ فلسفی، شاعر، مورخ، سید ظہور شاہ ہاشمی

    بلوچ فلسفی، شاعر، مورخ، سید ظہور شاہ ہاشمی

    سید ظہور شاہ ہاشمی

    بلوچ فلسفی، شاعر، مورخ

    4 مارچ 1978 یوم وفات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    بلوچی زبان و ادب کے محسن سید ظہور شاہ ہاشمی 21 اپریل 1926 میں گوادر بلوچستان میں علم و ادب دوست شخصیت سید محمد شاہ ہاشمی کے گھر میں پیدا ہوئے ۔ انہوں نے عربی، فارسی اور انگریزی تعلیم حاصل کی ۔ وہ بلوچی کے صف اول کے شعراء ، ادبا ، محققین اور مورخین کی فہرست میں شامل ہیں ۔ وہ 1956 میں گوادر سے کراچی منتقل ہوئے یہاں ادبی و تخلیقی سرگرمیوں کے علاوہ ریڈیو پاکستان سے بھی وابستگی اختیار کی جس میں وہ بلوچی پروگرامز پیش کرتے رہے ۔ وہ علمی و ادبی تحقیق کے سلسلے میں ہندوستان اور خلیجی ممالک بھی گئے۔ سید ظہور شاہ ہاشمی کی علمی و ادبی خدمات کا دائرہ بہت وسیع ہے ان کی ایک درجن کے قریب کتابیں شائع ہو چکی ہیں جن میں ان کا سب سے بڑا کارنامہ بلوچی زبان کی ڈکشنری ” سید گنج” اور اردو میں ” بلوچی زبان و ادب کی تاریخ ” ہے۔ سید ظہور شاہ ہاشمی نے 1970 میں شادی کی، اولاد میں انہیں 3 بچے پیدا ہوئے۔ ان کی تصانیف میں 6 شعری مجموعے ، برتکگیں بیر، انگرء ترونگل، تراپکیں ترمپ، سسچکانی سسا، گسدوار، شکلیں شہجو جبکہ نثر میں ان کی تصانیف، سیرگند، ستکیں دستونک، بلوچی بنگیجی، بلوچی ساہگ ء راست نبسنگ، سید نمدی ، بلوچی ڈکشنری ” سید گنج” و دیگر شامل ہیں ۔

    نمونے کے طور پر سید ظہور شاہ ہاشمی کا ایک بلوچی شعر

    منا دلپروش نے اگاں ، دلپروش بناں
    چو اگاں دل منی پرشتیں صد برء پرشتگ ات

    اردو ترجمہ

    مجھ سے مایوس ہو اگر میں مایوس نہیں ہوں گا
    یوں اگر میں دل شکستہ ہوتا سو بار ہوتا

  • وہ دور قریب آ رہا ہے،  جب داد ہنر نہ مل سکے گی

    وہ دور قریب آ رہا ہے، جب داد ہنر نہ مل سکے گی

    وہ عشق جو ہم سےروٹھ گیا اب اس کا حال بتائیں کیا
    کوئی مہر نہیں کوئی قہر نہیں پھر سچا شعر سنائیں کیا

    اطہر نفیس

    اردو کے نامور شاعر کنور اطہر علی خان المعروف اطہر نفیس 22 فروری 1933ء کو جگنیر،ضلع آگرہ، برطانوی ہندستان میں پیدا ہوئے۔ انھوں نے ابتدائی تعلیم مسلم یونیورسٹی اسکول علی گڑھ سے حاصل کی۔ 1949ء میں اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ پاکستان منتقل ہوگئے اور کراچی میں سکو نت اختیار کی۔ 1953ء میں روزنامہ جنگ سے وابستہ ہوگئے۔

    ادبی خدمات
    ۔۔۔۔۔۔۔
    اطہر نفیس نے غزل گوئی کو اپنے اظہار سخن کا ذریعہ بنایا اور اسے ایک اعتبار عطا کیا۔ وہ میر کے مکتبِ فکر سے تعلق رکھتے تھے۔ انھوں نے غزل کو ایک دھیما اور نرم لہجہ عطا کیا جو ان کی پہچان بن گئی۔ اردو غزل میں شیریں بیانی اور جدید طرزِ اسلوب ان کا طرئہ امتیازتھا۔ ان کی شاعری زندگی کی سچی کیفیتوں سے عبارت ہے۔ ان کی شاعری میں تضاد نہیں ملتا۔ ان کی شاعری حقیقی زندگی کا آئینہ دار ہے۔ اطہر نفیس کا پہلا شعری مجموعہ کلام کے عنوان سے احمد ندیم قاسمی نے لاہور سے شائع کیا اور دوسرا مجموعۂ کلام وہ صورت گر کچھ خوابوں کے ابھی تشنۂ طباعت ہے۔

    وفات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اطہر نفیس 21 نومبر 1980ء کو کراچی، پاکستان میں وفات پاگئے اور وہ کراچی میں سخی حسن کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔ ان کی لوح مزار پر انھی کا شعر تحریر ہے:
    وہ عشق جو ہم سے روٹھ گیا، اب اس کا حال بتائیں کیا
    کوئی مہر نہیں، کوئی قہر نہیں، پھر سچا شعر سنائیں کیا

    متفرق اشعار
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ہمارے عشق میں رسوا ہوئے تم
    مگر ہم تو تماشا ہو گئے ہیں

    دروازہ کھلا ہے کہ کوئی لوٹ نہ جائے
    اور اس کے لیے جو کبھی آیا نہ گیا ہو

    اے مجھ کو فریب دینے والے
    میں تجھ پہ یقین کر چکا ہوں

    بہت چھوٹے ہیں مجھ سے میرے دشمن
    جو میرا دوست ہے مجھ سے بڑا ہے

    کبھی سایہ ہے کبھی دھوپ مقدر میرا
    ہوتا رہتا ہے یوں ہی قرض برابر میرا

    یہ دھوپ تو ہر رخ سے پریشاں کرے گی
    کیوں ڈھونڈ رہے ہو کسی دیوار کا سایہ

    اک شکل ہمیں پھر بھائی ہے اک صورت دل میں سمائی ہے
    ہم آج بہت سرشار سہی پر اگلا موڑ جدائی ہے

    اطہرؔ تم نے عشق کیا کچھ تم بھی کہو کیا حال ہوا
    کوئی نیا احساس ملا یا سب جیسا احوال ہوا

    اتنے دن کے بعد تو آیا ہے آج
    سوچتا ہوں کس طرح تجھ سے ملوں

    لمحوں کے عذاب سہ رہا ہوں
    میں اپنے وجود کی سزا ہوں

    خوابوں کے افق پر ترا چہرہ ہو ہمیشہ
    اور میں اسی چہرے سے نئے خواب سجاؤں

    جی نہ سکوں میں جس کے بغیر
    اکثر یاد نہ آیا وہ

    اک آگ غم تنہائی کی جو سارے بدن میں پھیل گئی
    جب جسم ہی سارا جلتا ہو پھر دامن دل کو بچائیں کیا

    با وفا تھا تو مجھے پوچھنے والے بھی نہ تھے
    بے وفا ہوں تو ہوا نام بھی گھر گھر میرا

    کسی نا خواندہ بوڑھے کی طرح خط اس کا پڑھتا ہوں
    کہ سو سو بار اک اک لفظ سے انگلی گزرتی ہے

    اس نے مری نگاہ کے سارے سخن سمجھ لیے
    پھر بھی مری نگاہ میں ایک سوال ہے نیا

    میں تیرے قریب آتے آتے
    کچھ اور بھی دور ہو گیا ہوں

    وہ دور قریب آ رہا ہے
    جب داد ہنر نہ مل سکے گی

  • ہر بچہ آنکھیں کھولتے ہی کرتا ہے سوال محبت کا

    ہر بچہ آنکھیں کھولتے ہی کرتا ہے سوال محبت کا

    کروں گا کیا جو محبت میں ہو گیا ناکام
    مجھے تو اور کوئی کام بھی نہیں آتا

    آج اس شعر کے خالق غلام محمد قاصر کی پچیسویں برسی ہےغلام محمد قاصر 1944 میں ڈیرہ اسماعیل خان سے 40 کلومیٹر شمال میں واقع ایک چھوٹے سے قصبے پہاڑ پور میں پیدا ہوئے۔ ان کے تین شعری مجموعے تسلسل ، آٹھواں آسماں بھی نیلا ہے اور دریائے گماں شائع ہوئے. کلیاتِ قاصر ’’ اک شعر ابھی تک رہتا ہے ‘‘ کے عنوان سے 2009ء میں شائع ہو چکا ہے۔ انہوں نے پی ٹی وی اور ریڈیو پاکستان کے لیے متعدد ڈرامے بھی لکھے ڈراما سیریل تلاش اور بچوں کے لیے کھیل بھوت بنگلہ نے بہت مقبولیت حاصل کی۔

    غلام محمد قاصر نےگورنمنٹ ہائی اسکول پہاڑپور سے میٹرک کیا ۔ بعد میں اسی اسکول میں بطور ٹیچر تقرری ہوئی ۔ ملازمت کے دوران اردو میں ایم اے کیا۔ 1975ء میں بطور لیکچرار پہلا تقرر گورنمنٹ کالج مردان میں ہوا۔ اس کے بعد پشاور ، درہ آدم خیل، طورو اور پبی کے کالجوں میں رہے۔

    ساٹھ کی دہائی کے اواخر میں ڈیرہ اسماعیل خان میں ایک بڑا مشاعرہ ہوا جس میں اس دور کے اکثر نامی گرامی شعرا نے حصہ لیا، جن میں ناصر کاظمی، منیر نیازی، احمد ندیم قاسمی، قتیل شفائی، محبوب خزاں وغیرہ شامل تھے۔ مشاعرے کے آغاز ہی میں ایک نوجوان شاعر کو کلام سنانے کی دعوت دی گئی چوبیس پچیس سالہ دبلے پتلے اسکول ٹیچر نے ہاتھوں میں لرزتے ہوئے کاغذ کو بڑی مشکل سے سنبھال کر غزل سنانا شروع کی، اس شعر پر آئے تو گاؤ تکیوں سے ٹیک لگائے شعرا بھی یک لخت اُٹھ بیٹھے اور تمام سامعین کی آواز میں آواز ملا کر داد دی ۔

    تم یوں ہی ناراض ہوئے ہو ورنہ میخانے کا پتہ
    ہم نے ہر اس شخص سے پوچھا جس کے نین نشیلے تھے

    سب ایک دوسرے سے پوچھنے لگے کہ یہ کون ہے.

    1977ء میں جب ان کا پہلا شعری مجموعہ ’ تسلسل‘ شائع ہوا تو ظفر اقبال جیسے لگی لپٹی نہ رکھنے والے شاعر نے لکھا کہ میری شاعری جہاں سے ختم ہوتی ہے قاصر کی شاعری وہاں سے شروع ہوتی ہے۔آج ہی محمودالحسن نے بتایا کہ ظفر اقبال نے ان سے گفتگو کرتے ہوئے مصحفی کو شاعر ماننے سے انکار کیا.

    غلام محمد قاصر کا 20 فروری 1999 کو انتقال ہوا 2006 میں صدر پاکستان نے ان کیلئے پرائڈ آف پرفارمنس کا اعزاز دیا.

    غلام محمد قاصر کے کچھ شعر…

    بارود کے بدلے ہاتھوں میں آ جائے کتاب تو اچھا ہو
    اے کاش ہماری آنکھوں کا اکیسواں خواب تو اچھا ہو

    بغیر اس کے اب آرام بھی نہیں آتا
    وہ شخص جس کا مجھے نام بھی نہیں آتا

    بیاباں دور تک میں نے سجایا تھا
    مگر وہ شہر کے رستے سے آیا تھا

    گلابوں کے نشیمن سے مرے محبوب کے سر تک
    سفر لمبا تھا خوشبو کا مگر آ ہی گئی گھر تک

    ہم نے تمہارے غم کو حقیقت بنا دیا
    تم نے ہمارے غم کے فسانے بنائے ہیں

    ہم تو وہاں پہنچ نہیں سکتے تمام عمر
    آنکھوں نے اتنی دور ٹھکانے بنائے ہیں

    ہر بچہ آنکھیں کھولتے ہی کرتا ہے سوال محبت کا
    دنیا کے کسی گوشے سے اسے مل جائے جواب تو اچھا ہو

    ہر سال بہار سے پہلے میں پانی پر پھول بناتا ہوں
    پھر چاروں موسم لکھ جاتے ہیں نام تمہارا آنکھوں میں

    ہر سال کی آخری شاموں میں دو چار ورق اڑ جاتے ہیں
    اب اور نہ بکھرے رشتوں کی بوسیدہ کتاب تو اچھا ہو

    ہزاروں اس میں رہنے کے لیے آئے
    مکاں میں نے تصور میں بنایا تھا

    جن کی درد بھری باتوں سے ایک زمانہ رام ہوا
    قاصرؔ ایسے فن کاروں کی قسمت میں بن باس رہا

    کہتے ہیں ان شاخوں پر پھل پھول بھی آتے تھے
    اب تو پتے جھڑتے ہیں یا پتھر گرتے ہیں

    کروں گا کیا جو محبت میں ہو گیا ناکام
    مجھے تو اور کوئی کام بھی نہیں آتا

    کشتی بھی نہیں بدلی دریا بھی نہیں بدلا
    اور ڈوبنے والوں کا جذبہ بھی نہیں بدلا

    کتاب آرزو کے گم شدہ کچھ باب رکھے ہیں
    ترے تکیے کے نیچے بھی ہمارے خواب رکھے ہیں

    کوئی منہ پھیر لیتا ہے تو قاصرؔ اب شکایت کیا
    تجھے کس نے کہا تھا آئنے کو توڑ کر لے جا

    محبت کی گواہی اپنے ہونے کی خبر لے جا
    جدھر وہ شخص رہتا ہے مجھے اے دل! ادھر لے جا

    پہلے اک شخص میری ذات بنا
    اور پھر پوری کائنات بنا

    سایوں کی زد میں آ گئیں ساری غلام گردشیں
    اب تو کنیز کے لیے راہ فرار بھی نہیں

    سب سے اچھا کہہ کے اس نے مجھ کو رخصت کر دیا
    جب یہاں آیا تو پھر سب سے برا بھی میں ہی تھا

    سوچا ہے تمہاری آنکھوں سے اب میں ان کو ملوا ہی دوں
    کچھہ خواب جو ڈھونڈتے پھرتے ہیں جینے کا سہارا آنکھوں میں

    امید کی سوکھتی شاخوں سے سارے پتے جھڑ جائیں گے
    اس خوف سے اپنی تصویریں ہم سال بہ سال بناتے ہیں

    وہ لوگ مطمئن ہیں کہ پتھر ہیں ان کے پاس
    ہم خوش کہ ہم نے آئینہ خانے بنائے ہیں

    زمانوں کو اڑانیں برق کو رفتار دیتا تھا
    مگر مجھ سے کہا ٹھہرے ہوئے شام و سحر لے جا

    میں بدن کو درد کے ملبوس پہناتا رہا
    روح تک پھیلی ہوئی ملتی ہے عریانی مجھے

    گلیوں کی اداسی پوچھتی ہے، گھر کا سناٹا کہتا ہے
    اس شہر کا ہر رہنے والا کیوں دوسرے شہر میں رہتا ہے

    نظر نظر میں ادائے جمال رکھتے تھے
    ہم ایک شخص کا کتنا خیال رکھتے تھے
    جبیں پہ آنے نہ دیتے تھے اک شکن بھی کبھی
    اگرچہ دل میں ہزاروں ملال رکھتے تھے

    کشتی بھی نہیں بدلی، دریا بھی نہیں بدلا
    ہم ڈوبنے والوں کا جذبہ بھی نہیں بدلا

    پہلے اِک شخص میری ذات بنا
    اور پھر پوری کائنات بنا

    کیا کروں میں یقیں نہیں آتا
    تم تو سچے ہو بات جھوٹی ہے

    بیکار گیا بن میں سونا میرا صدیوں کا
    اس شہر میں تو اب تک سِکہ بھی نہیں بدلا

    آگ درکار تھی اور نور اٹھا لائے ہیں
    ہم عبث طور اٹھا لائے ہیں

    پیاس کی سلطنت نہیں مٹتی
    لاکھہ دجلے بنا فرات بنا

    نظر نظر میں اداۓ جمال رکھتے ہیں
    ہم ایک شخص کا کتنا خیال رکھتے ہیں

    تری پسند کی چیزیں خریدنے والے
    تری پسند کے چیزوں کے نام بھول گئے

    یزید نقشہ جورو جفا بناتا ہے
    حسین اس میں خط کربلا بناتا ہے

    یزید لکھتا ہے تاریکیوں کو خط دن بھر
    حسین شام سے پہلے دیا بناتا ہے

    یزید تیز ہواؤں سے جوڑ توڑ میں گم
    حسین سر پہ بہن کے ردا بناتا ہے

    خوشبو گرفت عکس میں لایا اور اس کے بعد
    میں دیکھتا رہا تیری تصویر تھک گئی

    میں نے پڑھا تھا چاند کو انجیل کی طرح
    اور روشنی صلیب پہ آکر لٹک گئی

    روتی رہی لپٹ کے ہر اک سنگ میل سے
    مجبور ہو کے شہر کے اندر سڑک گئی

  • کلاسیکی لب و لہجے کے معروف، ممتاز اور مقبول شاعر” کلیم عاجزؔ  “

    کلاسیکی لب و لہجے کے معروف، ممتاز اور مقبول شاعر” کلیم عاجزؔ “

    دامن پہ کوئی چھینٹ نہ خنجر پہ کوئی داغ
    تم قتل کرو ہو کہ کرامات کرو ہو

    کلیم عاجز

    14 فروری 2015ء : تاریخ وفات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    کلاسیکی لب و لہجے کے لئے معروف، ممتاز اور مقبول شاعر” کلیم عاجزؔ “ کا یومِ ولادت…نام کلیم احمد اور تخلص عاجزؔ ہے۔ ١١ اکتوبر ۱۹۲٠ء میں قصبہ تلہاڑہ، ضلع پٹنہ میں پیدا ہوئے۔کلاس شروع ہوتے ہی والد کا انتقال ہوگیا،چنانچہ پڑھائی کا سلسلہ منقطع ہوگیا۔ ۱۹۴۶ء میں بہارمیں فساد کی آگ بھڑک اٹھی،گھر کے تمام افراد شہید کردیے گئے۔ ان جاں گسل حالات کا ذہن پر بہت برا اثر ہوا اور دنیا ومافیہا کی خبر نہ رہی۔لمبے وقفے کے بعد۱۹۵۶ء بی اے (آنرز)اور۱۹۵۸ء میں ایم اے کا امتحان دیا اور پوری یونیورسٹی میں اول آئے اور طلائی تمغہ حاصل کیا۔’’بہار میں اردو شاعری کے ارتقا‘‘ پر تحقیقی مقالہ لکھ کر ۱۹۶۵ء میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔پٹنہ کالج، پٹنہ یونیورسٹی کے شعبۂ اردو میں ریڈر کے منصب پر فائز ہوئے۔ مسلم ہائی اسکول کے نویں جماعت میں جب زیر تعلیم تھے تو چند غزلیں لکھ کر اسکول کے ہیڈ مولوی ثمر آروی سے اصلاح لی۔پہلی او رآخری اصلاح یہی تھی۔ان کی تصانیف کے نام یہ ہیں:’مجلسِ ادب‘، ’وہ جوشاعری کا سبب ہوا‘، ’جہاں خوش بو ہی خوش بو تھی‘، ’یہا ں سے کعبہ ، کعبے سے مدینہ‘، ’اک دیس ایک بدیسی‘۔بحوالۂ:پیمانۂ غزل(جلد دوم)،محمد شمس الحق،صفحہ:172

    اشعار
    ۔۔۔۔۔۔۔
    آزمانا ہے تو آ بازو و دل کی قوت
    تو بھی شمشیر اٹھا ہم بھی غزل کہتے ہیں

    اپنا لہو بھر کر لوگوں کو بانٹ گئے پیمانے لوگ
    دنیا بھر کو یاد رہیں گے ہم جیسے دیوانے لوگ

    ہاں کچھ بھی تو دیرینہ محبت کا بھرم رکھ
    دل سے نہ آ دنیا کو دکھانے کے لئے آ

    دامن پہ کوئی چھینٹ نہ خنجر پہ کوئی داغ
    تم قتل کرو ہو کہ کرامات کرو ہو

    مے میں کوئی خامی ہے نہ ساغر میں کوئی کھوٹ
    پینا نہیں آئے ہے تو چھلکائے چلو ہو

    مے کدے کی طرف چلا زاہد
    صبح کا بھولا شام گھر آیا

    اس قدر سوز کہاں اور کسی ساز میں
    کون یہ نغمہ سرا میر کے انداز میں ہے

    مری شاعری میں نہ رقص جام نہ مے کی رنگ فشانیاں
    وہی دکھ بھروں کی حکایتیں وہی دل جلوں کی کہانیاں

    تلخیاں اس میں بہت کچھ ہیں مزا کچھ بھی نہیں
    زندگی دردِ محبت کے سوا کچھ بھی نہیں

    سینے کے زخم پاؤں کے چھالے کہاں گئے
    اے حسن تیرے چاہنے والے کہاں گئے

    تو رئیس شہر ستم گراں میں گدائے کوچۂ عاشقاں
    تو امیر ہے تو بتا مجھے میں غریب ہوں تو برا ہے کیا

    یہ ستم کی محفل ناز ہے کلیمؔ اس کو اور سجائے جا
    وہ دکھائیں رقص ستم گری تو غزل کا ساز بجائے جا

    یہ طرز خاص ہے کوئی کہاں سے لائے گا
    جو ہم کہیں گے کسی سے کہا نہ جائے گا

    یہ وعظ وفاداری عاجزؔ نہ بدل دینا
    وہ زخم تجھے دیں گے تم ان کو غزل دینا

    ہم خاک نشیں تم سخن آرائے سر بام
    پاس آ کے ملو دور سے کیا بات کرو ہو

    یہ ستم کی محفل ناز ہے کلیمؔ اس کو اور سجائے جا
    وہ دکھائیں رقص ستم گری تو غزل کا ساز بجائے جا

    غم دل ہی کے ماروں کو غمِ ایام بھی دے دو
    غم اتنا لینے والے کیا اب اتنا غم نہیں لیں گے

    امتحان شوق میں ثابت قدم ہوتا نہیں
    عشق جب تک واقف آداب غم ہوتا نہیں

    حقیقتوں کا جلال دیں گے صداقتوں کا جمال دیں گے
    تجھے بھی ہم اے غم زمانہ غزل کے سانچے میں ڈھال دیں گے

    کوئے قاتل ہے مگر جانے کو جی چاہے ہے
    اب تو کچھ فیصلہ کر جانے کو جی چاہے ہے

    نظر کو آئنہ دل کو ترا شانہ بنا دیں گے
    تجھے ہم کیا سے کیا اے زُلفِ جانانہ بنا دیں گے

    شکایت ان سے کرنا گو مصیبت مول لینا ہے
    مگر عاجزؔ غزل ہم بے سنائے دم نہیں لیں گے

  • جس کو بھی دیکھیے ہے وہی دشمن سکوں،  کیا دور ہے کہ جنگ و جدل چاہتے ہیں لوگ

    جس کو بھی دیکھیے ہے وہی دشمن سکوں، کیا دور ہے کہ جنگ و جدل چاہتے ہیں لوگ

    کبھی نصیب ہو فرصت تو اس کو پڑھ لینا
    وہ ایک خط جو تیرے نام چھوڑ آیا ہوں

    اعجاز رحمانی

    12؍فروری 1940: تاریخ پیدائش

    اردو کے ممتاز شاعر سید اعجاز علی المعروف اعجاز رحمانی 12 فروری 1940ء کو علی گڑھ ہندوستان میں پید اہوئے۔ ان کے والدین کا کم عمری میں انتقال ہوگیا، اس وجہ سے پرائمری اور دینی تعلیم ہی علی گڑھ میں حاصل کرسکے۔ 1954ء میں ہندوستان سے ہجرت کر کے پاکستان آگئے۔کراچی آنے کے بعد ادیب اور ادیب فاضل کے امتحانات پاس کیے اور ابراہیم انڈسٹری ، عثمان آباد کراچی میں ملازم ہوگئے۔ اپنے ایک عزیز فضا جلالوی کے ایما پر قمرؔ جلالوی کے شاگرد ہوگئے ایک مقامی روزنامے میں روزانہ قطعات لکھتے رہے۔ تاریخ اسلام کو منظوم کرتے رہے ۔ایک نعت گو کی حیثیت سے انھیں نمایاں مقام حاصل ہے۔

    ان کی تصانیف کے نام یہ ہیں:’’اعجاز مصطفی‘‘، ’’پہلی کرن آخری روشنی‘‘ (نعتیہ مجموعے)، ’’کاغذ کے سفینے‘‘، ’’افکار کی خوشبو‘‘، ’’غبار انا‘‘، ’’لہو کا آبشار‘‘، ’’لمحوں کی زنجیر‘‘ (غزلوں کے مجموعے)، ’’چراغ مدحت‘‘، ’’جذبوں کی زبان‘‘، ’’خوشبو کا سفر‘‘۔
    26؍اکتوبر 2019ء کو اعجازؔ رحمانی کا انتقال ہوا۔

    👈 بحوالۂ:پیمانۂ غزل(جلد دوم)،محمد شمس الحق،صفحہ:311

    اعجازؔ رحمانی کی شاعری سے چند منتخب کلام
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اب کرب کے طوفاں سے گزرنا ہی پڑے گا
    سورج کو سمندر میں اترنا ہی پڑے گا

    فطرت کے تقاضے کبھی بدلے نہیں جاتے
    خوشبو ہے اگر وہ تو بکھرنا ہی پڑے گا

    پڑتی ہے تو پڑ جائے شکن اس کی جبیں پر
    سچائی کا اظہار تو کرنا ہی پڑے گا

    ہر شخص کو آئیں گے نظر رنگ سحر کے
    خورشید کی کرنوں کو بکھرنا ہی پڑے گا

    میں سوچ رہا ہوں یہ سر شہرِ نگاراں
    یہ اس کی گلی ہے تو ٹھہرنا ہی پڑے گا

    اب شانۂ تدبیر ہے ہاتھوں میں ہمارے
    حالات کی زلفوں کو سنورنا ہی پڑے گا

    اک عمر سے بے نور ہے یہ محفلِ ہستی
    اعجازؔ کوئی رنگ تو بھرنا ہی پڑے گا

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ظالم سے مصطفیٰؐ کا عمل چاہتے ہیں لوگ
    سوکھے ہوئے درخت سے پھل چاہتے ہیں لوگ

    کافی ہے جن کے واسطے چھوٹا سا اک مکاں
    پوچھے کوئی تو شیش محل چاہتے ہیں لوگ

    سائے کی مانگتے ہیں ردا آفتاب سے
    پتھر سے آئنے کا بدل چاہتے ہیں لوگ

    کب تک کسی کی زلف پریشاں کا تذکرہ
    کچھ اپنی الجھنوں کا بھی حل چاہتے ہیں لوگ

    بار غم حیات سے شانے ہوئے ہیں شل
    اکتا کے زندگی سے اجل چاہتے ہیں لوگ

    رکھتے نہیں نگاہ تقاضوں پہ وقت کے
    تالاب کے بغیر کنول چاہتے ہیں لوگ

    جس کو بھی دیکھیے ہے وہی دشمن سکوں
    کیا دور ہے کہ جنگ و جدل چاہتے ہیں لوگ

    درکار ہے نجات غم روزگار سے
    مریخ چاہتے ہیں نہ زحل چاہتے ہیں لوگ

    اعجازؔ اپنے عہد کا میں ترجمان ہوں
    میں جانتا ہوں جیسی غزل چاہتے ہیں لوگ

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ہوا کے واسطے اک کام چھوڑ آیا ہوں
    دیا جلا کے سر شام چھوڑ آیا ہوں

    کبھی نصیب ہو فرصت تو اس کو پڑھ لینا
    وہ ایک خط جو ترے نام چھوڑ آیا ہوں

    ہوائے دشت و بیاباں بھی مجھ سے برہم ہے
    میں اپنے گھر کے در و بام چھوڑ آیا ہوں

    کوئی چراغ سر رہ گزر نہیں نہ سہی
    میں نقش پا کو بہر گام چھوڑ آیا ہوں

    ابھی تو اور بہت اس پہ تبصرے ہوں گے
    میں گفتگو میں جو ابہام چھوڑ آیا ہوں

    یہ کم نہیں ہے وضاحت مری اسیری کی
    پروں کے رنگ تہہ دام چھوڑ آیا ہوں

    وہاں سے ایک قدم بھی نہ جا سکی آگے
    جہاں پہ گردشِ ایام چھوڑ آیا ہوں

    مجھے جو ڈھونڈھنا چاہے وہ ڈھونڈھ لے اعجازؔ
    کہ اب میں کوچۂ گمنام چھوڑ آیا ہوں

  • اردو کے ممتاز شاعر، فلم ساز اور ہدایت کار سرور بارہ بنکوی

    اردو کے ممتاز شاعر، فلم ساز اور ہدایت کار سرور بارہ بنکوی

    جن سے مل کر زندگی سے عشق ہو جائے وہ لوگ
    آپ نے شاید نہ دیکھے ہوں مگر ایسے بھی ہیں

    اردو کے ممتاز شاعر، فلم ساز اور ہدایت کار سعید الرحمان المعروف سرور بارہ بنکوی 30 جنوری 1919ء کو بارہ بنکی (یو پی۔بھارت) میں پیدا ہوئے قیام پاکستان کے بعد پہلے کراچی اور پھر ڈھاکا میں سکونت اختیار کی، جہاں انہوں نے فلم تنہا کے مکالمے لکھ کر اپنے فلمی سفر کا آغاز کیا اور پھرچندا، تلاش، ناچ گھر، کاجل ، بہانہ، ملن، نواب سراج الدولہ، تم میرے ہو، آخری اسٹیشن،چاند اور چاندنی، احساس، سونے ندیا جاگے پانی اور کئی دیگر فلموں کے نغمات لکھے جو بہت مقبول ہوئے اسی دوران انہوں نے تین فلمیں آخری اسٹیشن، تم میرے ہو اور آشنا پروڈیوس اور ڈائریکٹ بھی کیں۔

    آخری دنوں میں وہ بنگلہ دیش کے اشتراک سے ایک فلم ’’کیمپ 333‘‘ بنانا چاہتے تھے، وہ اسی سلسلے میں ڈھاکا گئے ہوئے تھے کہ دل کا دورہ پڑنے کے باعث 3 اپریل 1980ء کو ڈھاکا میں وفات پاگئے ان کا جسد خاکی کراچی لایا گیا جہاں وہ سوسائٹی کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہوئے،سروربارہ بنکوی کے دو شعری مجموعے سنگ آفتاب اور سوزگیتی کے نام سے اشاعت پذیر ہوچکے ہیں۔

    منتخب کلام

    اور کوئی دم کی مہماں ہے گزر جائے گی رات
    ڈھلتے ڈھلتے آپ اپنی موت مر جائے گی رات

    زندگی میں اور بھی کچھ زہر بھر جائے گی رات
    اب اگر ٹھہری رگ و پے میں اتر جائے گی رات

    جو بھی ہیں پروردۂ شب جو بھی ہیں ظلمت پرست
    وہ تو جائیں گے اسی جانب جدھر جائے گی رات

    اہل طوفاں بے حسی کا گر یہی عالم رہا
    موج خوں بن کر ہر اک سر سے گزر جائے گی رات

    ہے افق سے ایک سنگ آفتاب آنے کی دیر
    ٹوٹ کر مانند آئینہ بکھر جائے گی رات

    ہم تو جانے کب سے ہیں آوارۂ ظلمت مگر
    تم ٹھہر جاؤ تو پل بھر میں گزر جائے گی رات

    رات کا انجام بھی معلوم ہے مجھ کو سرورؔ
    _______

    تو عروس شام خیال بھی تو جمال روئے سحر بھی ہے
    یہ ضرور ہے کہ بہ ایں ہمہ مرا اہتمام نظر بھی ہے

    یہ مرا نصیب ہے ہم نشیں سر راہ بھی نہ ملے کہیں
    وہی مرا جادۂ جستجو وہی ان کی راہ گزر بھی ہے۔

    بہ ہزار دانش و آگہی مری مصلحت ہے ابھی یہی
    میں سرورؔ رہرو شب سہی مری دسترس میں سحر بھی ہے

    _______
    ہم لوگ نہ الجھے ہیں نہ الجھیں گے کسی سے
    ہم کو تو ہمارا ہی گریبان بہت ہے
    _______

    فصلِ گُل کیا کر گئی آشفتہ سامانوں کے ساتھ
    ہاتھ ہیں الجھے ہوئے اب تک گریبانوں کے ساتھ

    ان حسیں آنکھوں سے اب للہ آنسو پوچھ لو
    تم بھی دیوانے ہوئے جاتے ہو دیوانوں کے ساتھ

    زندگی نذر حرم تو ہو چکی لیکن سرورؔ
    ہر عقیدت قازۂ عالم صنم خانے کے ساتھ

    منقول

  • تم ہمارے کسی طرح نہ ہوئے،  ورنہ دنیا میں کیا نہیں ہوتا

    تم ہمارے کسی طرح نہ ہوئے، ورنہ دنیا میں کیا نہیں ہوتا

    چل دیئے سوئے حرم ، کوئے بتاں سے
    جب دیا رنج بتوں نے تو خدا یاد آیا

    مومن خان مومن

    پیدائش:18جنوری 1801
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اردو غزل کے عظیم شاعر محمد مومن المعروف حکیم مومن خان مومن 18 جنوری 1801میں دہلی کے کوچہ چیلان کے ایک کشمری خاندان میں پیدا ہوئے۔ ان کے دادا مدار خان کو بادشاہ کی طرف سے اک جاگیر ملی تھی جو نواب فیض خان نے ضبط کرکے ایک ہزار روپے سالانہ پنشن مقرر کر دی تھی ۔یہ پنشن ان کے خاندان میں جاری رہی۔ مومن خان کا گھرانا بہت مذہبی تھا۔انہوں نے عربی تعلیم شاہ عبدالقادر دہلوی سے حاصل کی۔فارسی میں بھی ان کو مہارت تھی۔دنیوی علوم کی تعلیم انہوں نے مکتب میں حاصل کی۔علوم متداولہ کے علاوہ ان کو طب،رمل،نجوم ریاضی،شطرنج اور موسیقی سے بھی دلچسپی تھی، جوا نی میں قدم رکھتے ہی انہوں نے شاعری شروع کردی اور شاہ نصیر سے اصلاح لینے لگے لیکن جلد ہی انہوں نے مشق اور جذبات کے راست بیاں کے طفیل دہلی کے شاعروں میں اپنی خاص جگہ بنا لی۔

    مالی لحاظ سے وہ متوسط طبقہ سے تعلق رکھتے تھے۔خاندانی پنشن ایک ہزار روپے سالانہ ضرور تھی لیکن وہ پوری نہیں ملتی تھی جس کا شکوہ ان کے فارسی خطوط میں ملتا ہے۔مومن خاں کی زندگی اور شاعری پر دو چیزوں نے بہت گہرا اثر ڈالا ۔ایک ان کی رنگین مزاجی تھی اور دوسری ان کی مذہبیت۔لیکن ان کی زندگی کا سب سے دلچسپ حصہ ان کے معاشقے ہی ہیں۔محبت زندگی کا تقاضہ بن کر بار بار ان کے دل و دماغ پر چھاتی رہی۔ان کی شاعری پڑھ کر محسوس ہوتا ہے کہ شاعر کسی خیالی نہیں بلکہ ایک جیتی جاگتی محبوبہ کے عشق میں گرفتار ہے۔دہلی کا حسن پرور شہر اس پر مومن کی رنگین مزاجی،خود خوبصورت اور خوش لباس،نتیجہ یہ تھا انہوں نے بہت سے شکار پکڑےاور خود کم شکار ہوئے۔

    ” اے غزال چشم سدا میرے دام میں
    *صیاد ہی رہا میں،گرفتار کم ہوا“

    ان کے کلیات میں چھ مثنویاں شامل ہیں اور ہر مثنوی کسی معاشقہ کا بیان ہے۔نہ جانے اور کتنے معاشقے ہوں گے جن کو مثنوی کی شکل دینے کا موقع نہ ملا ہو گا۔مومن کی محبوباؤں میں سے صرف ایک کا نام معلوم ہو سکا۔یہ تھیں امتہ الفاطمہ جن کا تخلص "صاحب جی” تھا۔موصوفہ پورب کی پیشہ ور طوائف تھیں جو علاج کے لئے دہلی آئی تھیں۔مومن حکیم تھے لیکن ان کی نبض دیکھتے ہی خود ان کے بیمار ہو گئے۔متعدد معاشقے مومن کے مزاج کے تلون کا بھی پتہ دیتے ہیں۔اس تلوّن کی جھلک ان کی شاعری میں بھی ہےکبھی تو وہ کہتے ہیں۔

    اس نقش پا کے سجدے نے کیا کیا کیا ذلیل
    میں کوچۂ رقیب میں بھی سر کے بل گیا

    اور پھر یہ بھی کہتے ہیں۔

    معشوق سے بھی ہم نے نبھائی برابری
    واں لطف کم ہوا تو یہاں پیار کم ہوا

    مومن کے یہاں اک خاص قسم کی شانِ استغناء تھی۔ مال و زر کی طلب میں انہوں نے کسی کا قصیدہ نہیں لکھا۔ ان کے نو قصیدوں میں سے سات مذہبی نوعیت کے ہیں۔ایک قصیدہ انہوں نے راجہ پٹیالہ کی شان میں لکھا ۔اس کا قصہ یوں ہے کہ راجہ صاحب کو ان سے ملنے کا اشتیاق تھا۔ ایک روز جب مومن ان کی رہائش گاہ کے سامنے سے گزر رہے تھے تو ،انہوں نے آدمی بھیج کر انہیں بلا لیا،بڑی عزت سے بٹھایا اور باتیں کیں اور چلتے وقت ان کو ایک ہتھنی پر سوار کر کے رخصت کیا اور وہ ہتھنی انہیں کو دے دی ۔مومن نے قصیدے کے ذریعہ ان کا شکریہ ادا کیا۔دوسرا قصیدہ نواب ٹونک کی خدمت میں نہ پہنچ پانے کا معذرت نامہ ہے۔ کئی ریاستوں کے نوابین ان کو اپنے یہاں بلانا چاہتے تھے لیکن وہ کہیں نہیں گئے۔دہلی کالج کی پروفیسری بھی نہیں قبول کی۔
    یہ استغناء شاید اس مذہبی ماحول کا اثر ہو جس میں ان کی پرورش ہوئی تھی۔شاہ عبدالعزیز کے خاندان سے ان کے خاندان کے گہرے مراسم تھے۔مومن عقیدتاً کٹّر مسلمان تھے۔ 1818ء میں انہوں نے سید احمد بریلوی کے ہاتھ پر بیعت کی لیکن ان کی جہاد کی تحریک میں خود شریک نہیں ہوئے۔البتہ جہاد کی حمایت میں ان کے کچھ شعر ملتے ہیں۔ مومن نے دو شادیاں کیں، پہلی بیوی سے ان کی نہیں بنی پھر دوسری شادی خواجہ میر درد کے خاندان میں خواجہ محمد نصیر کی بیٹی سے ہوئی۔موت سے کچھ عرصہ پہلے وہ عشق بازی سے کنارہ کش ہو گئے تھے۔1851ء میں وہ کوٹھے سے گر کر بری طرح زخمی ہوگئے تھے اور پانچ ماہ بعد 14 مٸی 1852 میں ان کا انتقال ہوا ۔

    مومن کے شاعرانہ مرتبہ کے متعلّق اکثر نقّاد متفق ہیں کہ انہیں قصیدہ ،مثنوی اور غزل پر یکساں قدرت حاصل تھی۔قصیدے میں وہ سودا اور ذوق کے مرتبہ کو نہیں پہنچتے تاہم اس میں شک نہیں کہ وہ اردو کے چند اچھے قصیدہ گو شعراء میں شامل ضرور ہیں۔مثنوی میں وہ دیا شنکر نسیم اور مرزا شوق کے ہم پلہ ہیں لیکن مومن کی شاعرانہ عظمت کا انحصار ان کی غزل پر ہے۔ایک غزل گو کی حیثیت سے مومن نے اردو غزل کو ان خصوصیات کا حامل بنایا جو غزل اور دوسری اصناف میں امتیاز پیدا کرتی ہیں۔ مومن کی غزل تغزّل کی شوخی،شگفتگی ،طنز اور رمزیت کی بہتریں ترجمان کہی جا سکتی ہے۔ان کی محبت جنسی محبت ہے جس پر وہ پردہ نہیں ڈالتے۔پردہ نشین تو ان کی محبوبہ ہے۔عشق کی وادی میں مومن جن جن حالات و کیفیات سے گزرے ان کو خلوص و صداقت کے ساتھ شعروں میں بیان کر دیا۔حسن و عشق کے خدّوخال میں انہوں نے تخیل کے جو رنگ بھرے وہ ان کی اپنی ذہنی اپچ ہے۔ان کے اچھوتے تخیل اور نرالے انداز بیان نےپرانے اور فرسودہ مضامین کو از سر نو زندہ اور شگفتہ بنایا۔مومن اپنے عشق کے بیاں میں ابتذال نہیں پیدا ہونے دیتے۔انہوں نے لکھنوی شاعری کا رنگ اختیار کرتے ہوئے دکھا دیا کہ خارجی مضامین بھی تہذیب و متانت کے ساتھ بیان کئے جا سکتے ہیں اور یہی وہ طرۂ امتیاز ہے جو ان کو دوسرے غزل گو شعراء سے ممتاز کرتا ہے۔

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    رویا کریں گے آپ بھی پہروں اسی طرح
    اٹکا کہیں جو آپ کا دل بھی مری طرح
    آتا نہیں ہے وہ تو کسی ڈھب سے داؤ میں
    بنتی نہیں ہے ملنے کی اس کے کوئی طرح
    تشبیہ کس سے دوں کہ طرح دار کی مرے
    سب سے نرالی وضع ہے سب سے نئی طرح
    مر چک کہیں کہ تو غم ہجراں سے چھوٹ جائے
    کہتے تو ہیں بھلے کی ولیکن بری طرح
    نے تاب ہجر میں ہے نہ آرام وصل میں
    کم بخت دل کو چین نہیں ہے کسی طرح
    لگتی ہیں گالیاں بھی ترے منہ سے کیا بھلی
    قربان تیرے پھر مجھے کہہ لے اسی طرح
    پامال ہم نہ ہوتے فقط جور چرخ سے
    آئی ہماری جان پہ آفت کئی طرح
    نے جائے واں بنے ہے نہ بن جائے چین ہے
    کیا کیجیے ہمیں تو ہے مشکل سبھی طرح
    معشوق اور بھی ہیں بتا دے جہان میں
    کرتا ہے کون ظلم کسی پر تری طرح
    ہوں جاں بہ لب بتان ستم گر کے ہاتھ سے
    کیا سب جہاں میں جیتے ہیں مومنؔ اسی طرح

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    اثر اس کو ذرا نہیں ہوتا
    رنج راحت فزا نہیں ہوتا
    بے وفا کہنے کی شکایت ہے
    تو بھی وعدہ وفا نہیں ہوتا
    ذکر اغیار سے ہوا معلوم
    حرف ناصح برا نہیں ہوتا
    کس کو ہے ذوق تلخ کامی لیک
    جنگ بن کچھ مزا نہیں ہوتا
    تم ہمارے کسی طرح نہ ہوئے
    ورنہ دنیا میں کیا نہیں ہوتا
    اس نے کیا جانے کیا کیا لے کر
    دل کسی کام کا نہیں ہوتا
    امتحاں کیجیے مرا جب تک
    شوق زور آزما نہیں ہوتا
    ایک دشمن کہ چرخ ہے نہ رہے
    تجھ سے یہ اے دعا نہیں ہوتا
    آہ طول امل ہے روز فزوں
    گرچہ اک مدعا نہیں ہوتا
    تم مرے پاس ہوتے ہو گویا
    جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا
    حال دل یار کو لکھوں کیوں کر
    ہاتھ دل سے جدا نہیں ہوتا
    رحم کر خصم جان غیر نہ ہو
    سب کا دل ایک سا نہیں ہوتا
    دامن اس کا جو ہے دراز تو ہو
    دست عاشق رسا نہیں ہوتا
    چارۂ دل سوائے صبر نہیں
    سو تمہارے سوا نہیں ہوتا
    کیوں سنے عرض مضطر مومنؔ
    صنم آخر خدا نہیں ہوتا

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    دفن جب خاک میں ہم سوختہ ساماں ہوں گے
    فلس ماہی کے گل شمع شبستاں ہوں گے
    ناوک انداز جدھر دیدۂ جاناں ہوں گے
    نیم بسمل کئی ہوں گے کئی بے جاں ہوں گے
    تاب نظارہ نہیں آئنہ کیا دیکھنے دوں
    اور بن جائیں گے تصویر جو حیراں ہوں گے
    تو کہاں جائے گی کچھ اپنا ٹھکانا کر لے
    ہم تو کل خواب عدم میں شب ہجراں ہوں گے
    ناصحا دل میں تو اتنا تو سمجھ اپنے کہ ہم
    لاکھ ناداں ہوئے کیا تجھ سے بھی ناداں ہوں گے
    کر کے زخمی مجھے نادم ہوں یہ ممکن ہی نہیں
    گر وہ ہوں گے بھی تو بے وقت پشیماں ہوں گے
    ایک ہم ہیں کہ ہوئے ایسے پشیمان کہ بس
    ایک وہ ہیں کہ جنہیں چاہ کے ارماں ہوں گے
    ہم نکالیں گے سن اے موج ہوا بل تیرا
    اس کی زلفوں کے اگر بال پریشاں ہوں گے
    صبر یا رب مری وحشت کا پڑے گا کہ نہیں
    چارہ فرما بھی کبھی قیدئ زنداں ہوں گے
    منت حضرت عیسیٰ نہ اٹھائیں گے کبھی
    زندگی کے لیے شرمندۂ احساں ہوں گے
    تیرے دل تفتہ کی تربت پہ عدو جھوٹا ہے
    گل نہ ہوں گے شرر آتش سوزاں ہوں گے
    غور سے دیکھتے ہیں طوف کو آہوئے حرم
    کیا کہیں اس کے سگ کوچہ کے قرباں ہوں گے
    داغ دل نکلیں گے تربت سے مری جوں لالہ
    یہ وہ اخگر نہیں جو خاک میں پنہاں ہوں گے
    چاک پردے سے یہ غمزے ہیں تو اے پردہ نشیں
    ایک میں کیا کہ سبھی چاک گریباں ہوں گے
    پھر بہار آئی وہی دشت نوردی ہوگی
    پھر وہی پاؤں وہی خار مغیلاں ہوں گے
    سنگ اور ہاتھ وہی وہ ہی سر و داغ جنون
    وہ ہی ہم ہوں گے وہی دشت و بیاباں ہوں گے
    عمر ساری تو کٹی عشق بتاں میں مومنؔ
    آخری وقت میں کیا خاک مسلماں ہوں گے

    متفرق اشعار
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    عمر تو ساری کٹی عشق بتاں میں مومنؔ
    آخری وقت میں کیا خاک مسلماں ہوں گے

    تم مرے پاس ہوتے ہو گویا
    جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا

    وہ جو ہم میں تم میں قرار تھا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
    وہی یعنی وعدہ نباہ کا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

    تم ہمارے کسی طرح نہ ہوئے
    ورنہ دنیا میں کیا نہیں ہوتا

    کیا جانے کیا لکھا تھا اسے اضطراب میں
    قاصد کی لاش آئی ہے خط کے جواب میں

    میں بھی کچھ خوش نہیں وفا کر کے
    تم نے اچھا کیا نباہ نہ کی

    کسی کا ہوا آج کل تھا کسی کا
    نہ ہے تو کسی کا نہ ہوگا کسی کا

    آپ کی کون سی بڑھی عزت
    میں اگر بزم میں ذلیل ہوا

    تھی وصل میں بھی فکر جدائی تمام شب
    وہ آئے تو بھی نیند نہ آئی تمام شب

    شب جو مسجد میں جا پھنسے مومنؔ
    رات کاٹی خدا خدا کر کے

    رویا کریں گے آپ بھی پہروں اسی طرح
    اٹکا کہیں جو آپ کا دل بھی مری طرح

    چل دئیے سوئے حرم کوئے بتاں سے مومنؔ
    جب دیا رنج بتوں نے تو خدا یاد آیا

    ہاتھ ٹوٹیں میں نے گر چھیڑی ہوں زلفیں آپ کی
    آپ کے سر کی قسم باد صبا تھی میں نہ تھا

    ہے کچھ تو بات مومنؔ جو چھا گئی خموشی
    کس بت کو دے دیا دل کیوں بت سے بن گئے ہو

    مانگا کریں گے اب سے دعا ہجر یار کی
    آخر تو دشمنی ہے اثر کو دعا کے ساتھ

    ٹھانی تھی دل میں اب نہ ملیں گے کسی سے ہم
    پر کیا کریں کہ ہو گئے ناچار جی سے ہم

    وہ آئے ہیں پشیماں لاش پر اب
    تجھے اے زندگی لاؤں کہاں سے

    کس پہ مرتے ہو آپ پوچھتے ہیں
    مجھ کو فکر جواب نے مارا

    اس نقش پا کے سجدے نے کیا کیا کیا ذلیل
    میں کوچۂ رقیب میں بھی سر کے بل گیا

    نہ کرو اب نباہ کی باتیں
    تم کو اے مہربان دیکھ لیا

    حال دل یار کو لکھوں کیوں کر
    ہاتھ دل سے جدا نہیں ہوتا

    ہنس ہنس کے وہ مجھ سے ہی مرے قتل کی باتیں
    اس طرح سے کرتے ہیں کہ گویا نہ کریں گے

    اس غیرت ناہید کی ہر تان ہے دیپک
    شعلہ سا لپک جائے ہے آواز تو دیکھو

    الجھا ہے پانوں یار کا زلف دراز میں
    لو آپ اپنے دام میں صیاد آ گیا

    مجلس میں مرے ذکر کے آتے ہی اٹھے وہ
    بدنامی عشاق کا اعزاز تو دیکھو

    بہر عیادت آئے وہ لیکن قضا کے ساتھ
    دم ہی نکل گیا مرا آواز پا کے ساتھ

    مومنؔ خدا کے واسطے ایسا مکاں نہ چھوڑ
    دوزخ میں ڈال خلد کو کوئے بتاں نہ چھوڑ

    اتنی کدورت اشک میں حیراں ہوں کیا کہوں
    دریا میں ہے سراب کہ دریا سراب میں

    چارۂ دل سوائے صبر نہیں
    سو تمہارے سوا نہیں ہوتا

    غیروں پہ کھل نہ جائے کہیں راز دیکھنا
    میری طرف بھی غمزۂ غماز دیکھنا

    معشوق سے بھی ہم نے نبھائی برابری
    واں لطف کم ہوا تو یہاں پیار کم ہوا

    ہو گیا راز عشق بے پردہ
    اس نے پردہ سے جو نکالا منہ

    ہے کس کا انتظار کہ خواب عدم سے بھی
    ہر بار چونک پڑتے ہیں آواز پا کے ساتھ

    کچھ قفس میں ان دنوں لگتا ہے جی
    آشیاں اپنا ہوا برباد کیا

    راز نہاں زبان اغیار تک نہ پہنچا
    کیا ایک بھی ہمارا خط یار تک نہ پہنچا

    رہ کے مسجد میں کیا ہی گھبرایا
    رات کاٹی خدا خدا کر کے

    ہم سمجھتے ہیں آزمانے کو
    عذر کچھ چاہیے ستانے کو

    تو کہاں جائے گی کچھ اپنا ٹھکانہ کر لے
    ہم تو کل خواب عدم میں شب ہجراں ہوں گے

    لے شب وصل غیر بھی کاٹی
    تو مجھے آزمائے گا کب تک

    ڈرتا ہوں آسمان سے بجلی نہ گر پڑے
    صیاد کی نگاہ سوئے آشیاں نہیں

    گو آپ نے جواب برا ہی دیا ولے
    مجھ سے بیاں نہ کیجے عدو کے پیام کو

    بے خود تھے غش تھے محو تھے دنیا کا غم نہ تھا
    جینا وصال میں بھی تو ہجراں سے کم نہ تھا

    محشر میں پاس کیوں دم فریاد آ گیا
    رحم اس نے کب کیا تھا کہ اب یاد آ گیا

    تاب نظارہ نہیں آئنہ کیا دیکھنے دوں
    اور بن جائیں گے تصویر جو حیراں ہوں گے

    نہ مانوں گا نصیحت پر نہ سنتا میں تو کیا کرتا
    کہ ہر ہر بات میں ناصح تمہارا نام لیتا تھا

    ہو گئے نام بتاں سنتے ہی مومنؔ بے قرار
    ہم نہ کہتے تھے کہ حضرت پارسا کہنے کو ہیں

    صاحب نے اس غلام کو آزاد کر دیا
    لو بندگی کہ چھوٹ گئے بندگی سے ہم

    کل تم جو بزم غیر میں آنکھیں چرا گئے
    کھوئے گئے ہم ایسے کہ اغیار پا گئے

    اعجاز جاں دہی ہے ہمارے کلام کو
    زندہ کیا ہے ہم نے مسیحا کے نام کو

    دیدۂ حیراں نے تماشا کیا
    دیر تلک وہ مجھے دیکھا کیا

    نے جائے واں بنے ہے نے بن جائے چین ہے
    کیا کیجئے ہمیں تو ہے مشکل سبھی طرح

    دھو دیا اشک ندامت نے گناہوں کو مرے
    تر ہوا دامن تو بارے پاک دامن ہو گیا

    سوز غم سے اشک کا ایک ایک قطرہ جل گیا
    آگ پانی میں لگی ایسی کہ دریا جل گیا

    مومن میں اپنے نالوں کے صدقے کہ کہتے ہیں
    اس کو بھی آج نیند نہ آئی تمام شب

    ناصحا دل میں تو اتنا تو سمجھ اپنے کہ ہم
    لاکھ ناداں ہوئے کیا تجھ سے بھی ناداں ہوں گے

    میرے تغییر رنگ کو مت دیکھ
    تجھ کو اپنی نظر نہ ہو جائے

    پیہم سجود پائے صنم پر دم وداع
    مومنؔ خدا کو بھول گئے اضطراب میں

    گو کہ ہم صفحۂ ہستی پہ تھے ایک حرف غلط
    لیکن اٹھے بھی تو اک نقش بٹھا کر اٹھے

    اب شور ہے مثال جودی اس خرام کو
    یوں کون جانتا تھا قیامت کے نام کو

    دشنام یار طبع حزیں پر گراں نہیں
    اے ہم نشیں نزاکت آواز دیکھنا

    ناوک انداز جدھر دیدۂ جاناں ہوں گے
    نیم بسمل کئی ہوں گے کئی بے جاں ہوں گے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تلاش ، ترتیب و ترسیل : آغا نیاز مگسی