Baaghi TV

Tag: شاعر

  • ناروے میں اردو زبان و ادب کے سب سے بڑے خادم اور عالمی اردو مشاعروں  کے بانی  جمشید مسرور

    ناروے میں اردو زبان و ادب کے سب سے بڑے خادم اور عالمی اردو مشاعروں کے بانی جمشید مسرور

    ہر جلوہ جمال سے تنگ آ چکا ہے جی
    اک روز زندگی سے بھی بھر جانا چاہیے

    صدارتی ایوارڈ یافتہ شاعر ابن شاعر ابن شاعر ناروے میں اردو زبان و ادب کے سب سے بڑے خادم اور عالمی اردو مشاعروں کے بانی جمشید مسرور

    تحریر و تعارف آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ناروے میں مقیم اردو، پنجابی اور نارویجن زبان کے نامور ادیب ، مصنف ،مترجم اور شاعر جناب جمشید مسروراس لحاظ سے بہت ہی انفرادیت کے حامل شاعر ہیں کہ وہ خود بھی شاعر ان کے والد صاحب بھی شاعر اور ان کے دادا بھی شاعر تھے اور پھر یہ بات بھی خوشگوار حیرت کا باعث ہے کہ جمشید مسرور نے صرف 8 سال کی عمر میں پہلا شعر کہا اور وہ بھی وزن کے لحاظ سے درست تھا ۔ جمشید مسرور 4 اکتوبر 1946 کو لاہور پاکستان میں پیدا ہوئے جبکہ ان کا خاندان قیام پاکستان کے بعد ہندوستان سے ہجرت کر کے پاکستان منتقل ہو گیا تھا۔ ان کا اصل نام جمشید اقبال رانا ہے اور ادبی نام جمشید مسرور ہے ۔ ان کے والد صاحب کا نام ڈاکٹر بشیر احمد مسرور کپور تھلوی اور دادا محترم کا نام استاد مولوی احمد بخش رنجور کپور تھلوی ہے ۔ جمشید صاحب کے والد صاحب اور دادا محترم دونوں اردو کے شاعر اور صاحب کتاب تھے ۔ اس طرح دیکھا جائے تو ایک طرح سے شاعری انہیں ” وراثت ” میں ملی ہے ۔ جمشید صاحب لاہور میں تعلیم کے حصول کے بعد اسٹیٹ بینک آف پاکستان سے وابستہ ہو گئے ۔ وہ شاعری اور نثر دونوں میں طبع آزمائی کرتے رہے ہیں ۔
    1975 میں وہ اپنے قریبی دوستوں سے گہرے تعلقات کے باعث ناروے کے شہر اوسلو منتقل ہو گئے ۔ انہوں نے 1975 میں ہی روبینہ قریشی صاحبہ سے شادی کی ۔ روبینہ قریشی صاحبہ جمشید مسرور صاحب کے ساتھ ازدواجی رشتے میں منسلک ہونے کے بعد خود کو ” روبینہ رانا ” کہلانے لگیں اور 1978 میں وہ بھی اپنے خاوند محترم کے ہاں مستقل طور پر ناروے منتقل ہو گئیں ۔ اور ناروے میں وہ روبینہ رانا کے نام سے ہی مشہور ہوئیں انہوں نے ناروے کی سیاست میں بڑا فعال کردار ادا کیا اور بڑا نام پیدا کیا یہی وجہ ہے کہ 2003 میں ان کی وفات کے بعد حکومت کی جانب سے اوسلو میں ایک گلی کو ” روبینہ رانا اسٹریٹ ” کے نام سے منسوب کر دیا گیا ۔ جمشید صاحب کے ہاں روبینہ صاحبہ سے اولاد میں 3 بچے ہیں ۔

    جمشید مسرور ناروے میں ادبی حوالے سے بہت فعال رہے ہیں انہوں نے وہاں ” بازگشت ” کے نام سے ایک ماہانہ ادبی رسالہ بھی جاری کیا جو کہ 20 سال تک اوسلو سے شائع ہوتا رہا ۔ ناروے میں ان کا ایک بہت بڑا ادبی کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے اوسلو میں اب تک 35 سالانہ عالمی مشاعرے منعقد کیے ہیں اس کے علاوہ انہوں نے مصنف اور ہدایت کار کی حیثیت سے اوسلو میں 2 ڈرامے بھی اسٹیج کیے جن میں اردو، انگریزی، نارویجن اور پنجابی زبان کا خوب صورت امتزاج کیا گیا ۔

    ووڈ بری یونیورسٹی لاس اینجلس کی ایما پر وہیں کی سکالر محترمہ پروفیسر ڈاکٹر ایلیزابیتھ سینڈبرگ نے جمشید مسرور کی شاعری کی ا نگریزی زبان میں تخلیق نو کی اور اسے Elusive shadows کے نام سے شائع کروایا۔ اس کتاب کے اجرا کی خوشی میں جمشید مسرور کو یونیورسٹی کے مہمان کے طور پر مدعو کیا گیا اور کولمبیا یونیورسٹی سمیت جمشید مسرور کو چھ مختلف امریکی شہروں میں مدعو کیا گیا اور تقریبات منعقد کی گئیں۔

    جمشید مسرور صاحب کی اب تک 5 کتابیں لاہور اور اوسلو سے شائع ہو چکی ہیں جن میں 1 شاخ منظر، میری خوشبو میرے پھول، لمحوں کے سمندر( ذو لسانی اردو اور نارویجن ) ، دیوار ہوا پر آئینہ ، پچھلے برس کی دھوپ( ذو لسانی اردو اور نارویجن ) شامل ہیں ۔ جمشید مسرور صاحب کو پاکستان، ناروے اور ہندوستان سمیت بہت سے ادبی اعزازات سے نوازا گیا ہے جن میں پاکستان سے تمغہ امتیاز صدارتی ایوارڈ جوکہ صدر مملکت ممنون حسین صاحب کی جانب سے عطا گیا گیا ۔ پنجاب پاکستان کے وزیر اعلی چوہدری غلام حیدر وائن اتر پردیش بھارت کے گورنر رمیش سپی، ناروے اور ووڈ بری یونیورسٹی لاس اینجلس امریکہ کی جانب سے بھی اعلی ادبی خدمات کے اعتراف میں انہیں ایوارڈز سے نوازا گیا ہے ۔

    جمشید مسرور نے اپنے دوست اور 25 کتابوں کے مصنف اور شاعر” ارلنگ کٹلسن ” کے ایما پر ان کی ایک کتاب کا” راکا۔ داستان گو ” کے نام سے اردو میں ترجمہ کیا ۔ اس کے علاوہ سولم پبلشرز اوسلو کی فرمائش پر” امراؤ جان ادا ” کا نارویجئن زبان میں ترجمہ کیا جس میں جمشید مسرور کو ان کےاپنے شاگرد اسکالر اردو ایم فل آئی وند یوہان سٹین برگ کی مشاورت اور معاونت حاصل رہی۔

    جمشید مسرور کا پنجابی نظموں اور غزلوں کا مجموعہ زیر طباعت ہے ۔ انگلینڈ کی ایک فلم کمپنی نے ناروے کے مایہ ناز شاعر و ڈرامہ نگار ہنرک ابسن کی مشہور طویل نظم Terje Vigen کا دنیا کے نو مشہور شعرا سے ترجمہ کروایا جن میں جمشید مسرور بھی شامل ہیں اور اس نظم کی فلم بھی بنائی گئی۔ اردو ورشن فلمانے کے لئے جمشید مسرور کی سفارش پر بھارتی اداکار عرفان خان کو جمشید مسرور سمیت لنڈن مدعو کیا گیا جہاں دونوں نے پکچرائزیشن کی تکمیل کروائی یہ فلم اسلام آباد میں نمائش کے لئے پیش کئے جانے کا پروگرام تھا لیکن ان دنوں شدید دہشت گردی کی وجہ سے پروگرام منسوخ کر دیا گیا تاہم فلسطین میں عربی ورشن اور جاپان میں جاپانی ورشن کی نمائش پروگرام کے مطابق کی گئی جمشید مسرور نے بارہ نمائندہ نارویجئن شعرا کے کلام کو اردو میں ڈھالا ہے جو کہ کتابی شکل میں طباعت کا منتظر ہے۔

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تنہا ہر ایک رہ گزر سے گزر جانا چاہیے
    جیسے جیے ہیں ویسے ہی مر جانا چاہیے

    جانے یہ دل کا درد کہاں تک ستائے گا
    دریا چڑھے تو اس کو اتر جانا چاہیے

    بجھ کر وجود شعلہ سلگتا ہے کس لیے
    میں راکھ ہوں تو مجھ کو بکھر جانا چاہیے

    آوارگی میں کب سے گزرتی ہے رات بھی
    آخر کبھی تو شام کو گھر جانا چاہیے

    اے دوستو کھڑے ہو مرے گرد کس لیے
    کوئی بتائو مجھ کو کدھر جانا چاہیے

    ہر جلوہ جمال سے تنگ آ چکا ہے جی
    اک روز زندگی سے بھی بھر جانا چاہیے

    جمشید سن رہے ہو سفر کی پکار کیا
    طوفان کو یوں نہ رہ میں ٹھہر جانا چاہیے

  • وقت کرتا ہے پرورش برسوں  حادثہ  ایک  دم  نہیں   ہوتا

    وقت کرتا ہے پرورش برسوں حادثہ ایک دم نہیں ہوتا

    وقت کرتا ہے پرورش برسوں
    حادثہ ایک دم نہیں ہوتا

    قابل اجمیری

    اردو کے ممتاز شاعر قابل اجمیری 27 اگست، 1931ء کو چرولی، اجمیر شریف میں پیدا ہوئے اور صرف 31 برس کی عمر میں 3 اکتوبر 1962 کو حیدر آباد میں ان کی وفات ہوئی قابل اجمیری کا اصل نام عبد الرحیم تھا۔ وہ سات سال کے تھے کہ ان کے والد تپ دق (ٹی بی) میں مبتلا ہو کر انتقال کرگئے۔ کچھ وقت یتیم خانے میں بسر ہوا۔ کچھ ہی دنوں بعد ان کی والدہ کا انتقال ہو گیا. پھر ان کی چھوٹی بہن فاطمہ بھی دنیا سے چلی گئی۔ 1948 میں اپنے بھائی شریف کے ساتھ پاکستان آ گئے اور حیدر آباد، سندھ میں رہائش پزیر ہوئے۔

    قابل نے چودہ سال کی عمر میں شاعری کی ابتدا کی۔ ان کی شاعری کو نکھارنے اور سنوارنے میں مولانا مانی اجمیری کا بڑا ہاتھ ہے۔ ان کو حیدرآباد میں دوستوں کا ایک بڑا حلقہ ملا۔ وہ ادبی جریدے "نئی قدریں” کے مدیر اختر انصاری اکبر آبادی کے خاصے قریب رہے۔ قابل حیدرآباد کے روزنامے "جاوید” اور ہفت روزے ” آفتاب” میں قطعات بھی لکھتے رہے۔

    والدین کی طرح تپ دق سے وہ بھی نہ بچ سکے. 1960ء میں کوئٹہ (بلوچستان) کے سینیٹوریم میں داخل ہوئے۔ وہاں ان کی ملاقات ایک مسیحی نرس نرگس سوزن سے ہوئی. کچھ ہی دنوں بعد نرگس سوزن نے اسلام قبول کرکے قابل سے شادی کرلی، جن سے ان کے صاحبزادے ظفر اجمیری نے جنم لیا۔ نرگس سوزن 2 اگست 2001 تک زندہ رہیں.

    ’’کلیات قابل اجمیری‘‘ میں شہزاد احمد نے لکھا "قابل اجمیری کی ذاتی زندگی ایک طویل المیہ تھی لوگ تو یہاں تک کہتے ہیں کہ جب ڈاکٹر نے انہیں سیب کھانے کے لیے مشورہ دیا تھا تو ان کے پاس سیب خریدنے کے لیے پیسے نہیں تھے۔ مگر اس کے باوجود اس ظالم دنیا میں ایک خاتون ایسی ضرور موجود تھی جس نے کوئٹہ کے سینی ٹوریم میں قابل کی شریک حیات بننے کا فیصلہ اس وقت کیا جب اسے معلوم تھا کہ ان کے پاس زیادہ وقت نہیں ہے۔ پھر اس خاتون نے قابل اجمیری کے لیے ترک مذہب کر کے اسلام بھی قبول کیا تھا۔”

    اس خاتون کے سبب ہی قابل اجمیری کے دو شعری مجموعے ’’رگ جاں‘‘ اور’’ دیدہ بیدار‘‘ شائع ہو سکے۔ ورنہ شاید قابل کا نام کہیں اوراق میں گم ہو چکا ہو تا۔ کیونکہ وہ اپنے مجموعہ کلام شائع کرانے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتے تھے۔ بعد میں سلیم جعفری نے 1992 میں”کلیات قابل‘‘شائع کی۔

    ایک صحافی توصیف چغتائی نے بیگم قابل اجمیری کا انٹرویو لیا تھا۔ جس میں انہوں نے لکھا: ’میں نے جگہ جگہ انہیں تلاش کیا اور آخر کار میں نے انہیں ملٹری ہسپتال میں پا ہی لیا۔ اس لمحہ میرا جی چاہا کہ میں ان سے کہوں، مادام آپ بہت عظیم ہیں آپ نے سب کچھ جانتے ہوئے بھی اپنے ہاتھ لہو میں بھر لیے ایک شاعر اور وہ بھی اردو ادب کا پھر ٹی بی کا مریض اور اس کے لیے اتنی عظیم قربانی! سب کچھ جانتے ہوئے بھی آپ نے اسے کیوں اپنا لیا ؟ لیکن میں ان سے کچھ نہ کہہ سکا دراصل وہ قابل کے ذکر میں ایسی کھوئی ہوئی تھیں کہ میں سنتا رہا اور وہ کہتی رہیں۔‘

    قابل صاحب سے ان کی ملاقات ریلوے کے سینی ٹوریم میں سنہ 1960 میں ہوئی تھی جب انہوں نے محسوس کیا کہ شاعر یاس و آس کا شکار ہے اور اس کے حالات نازک ترین ہیں تب انہوں نے شاعر کو موت کے منہ سے بچانے کا پورا عزم کیا اور دن رات اس کی صحت یابی کی کوشش کرتی رہیں یہاں تک کہ شاعر نے کروٹ لی اور محسوس کیا کہ اس کا کھویا ہوا اعتماد پھر واپس آگیا ہے اور یہ کہ زندگی بہت حسین ہے اور اسے جینا چاہیئے۔

    ’میں نے محسوس کیا کہ قابل بے حد دکھی انسان ہیں۔ ایسے دکھی جن کے پاس غم اور فکر دوراں کے علاوہ اور کچھ نہیں۔ اسی لیے میں نے سوچا کہ شاید میرا سہارا ان کی معذور زندگی میں نیا خواب بکھیر دے چنانچہ میں نے ان سے شادی کر لی. ہم لوگ کوئٹہ سے حیدرآباد چلے آئے قابل صاحب کو میں نے گھر ہی پر رکھا اور علاج برابر جاری رہا۔‘

    ایک ایسا شاعر جس کی پوری زندگی المیہ رہی ہو اس سے درد و کرب کے علاوہ اور کسی چیز کی کیا توقع کی جا سکتی ہے لیکن ان سب کے باوجود قابل زمانہ میں رونما ہونے والے تغیرات سے بے خبر نہیں تھے۔ جن کی باز گشت ان کے اشعار میں سنائی دیتی ہے۔ قابل نے درد و کرب کی کہانیاں تو بیان کی ہی ہیں، اس کے ساتھ ساتھ دنیا کے تغیرات کو بھی اپنی گرفت میں لیا ہے۔ اسی لیے قابل کی شاعری آج بھی زندہ ہے اور شاید وقت گزرنے کے ساتھ اس کی معنویت میں اضافہ ہوتا جائے گا۔

    قابل اجمیری کی وفات کے 58 برس بعد حیدر آباد کی بلدیہ اعلیٰ نے شہر کا ایک اہم چوک ان سے منسوب کردیا.

    قابل کے چند اشعار

    جی رہا ہوں اس اعتماد کے ساتھ
    زندگی کو مری ضرورت ہے

    تم نہ مانو مگر حقیقت ہے
    عشق انسان کی ضرورت ہے

    رنگِ محفل چاہتا ہے اک مکمل انقلاب
    چند شمعوں کے بھڑکنے سے سحر ہوتی نہیں

    راستہ ہے کہ کٹتا جاتا ہے
    فاصلہ ہے کہ کم نہیں ہوتا

    ہم بدلتے ہیں رخ ہواؤں کا
    آئے دنیا ہمارے ساتھ چلے

    اب یہ عالم ہے کہ غم کی بھی خبر نہیں ہوتی
    اشک بہہ جاتے ہیں لیکن آنکھ تر نہیں ہوتی

    زمانہ دوست ہے کس کس کو یاد رکھو گے
    خدا کرے تمہیں مجھ سے دشمنی ہوجائے

    رکا رکا سا تبسم، جھکی جھکی سی نظر
    تمہیں سلیقہ بے گانگی کہاں ہے ابھی

    سکونِ دل کی تمنا سے فائدہ قابل
    نفس نفس غمِ جاناں کی داستاں ہے

    تضادِ جذبات میں یہ نازک مقام آیا تو کیا کرو گے
    میں رو رہا ہوں تو ہنس رہے ہو میں مسکرایا تو کیا کرو گے

    مجھے تو اس درجہ وقتِ رخصت سکوں کی تلقین کر رہے ہو

    مگر کچھ اپنے لیے بھی سوچا، میں یاد آیا تو کیا کرو گے

    کچھ اپنے دل پر بھی زخم کھاؤ مرے لہو کی بہار کب تک
    مجھے سہارا بنانے والو، میں لڑکھڑایا تو کیا کرو گے

    ابھی تو تنقید ہو رہی ہے مرے مذاقِ جنوں پہ لیکن
    تمہاری زلفوں کی برہمی کا سوال آیا تو کیا کرو گے

    ابھی تو دامن چھڑا رہے ہو، بگڑ کے قابل سے جا رہے ہو
    مگر کبھی دل کی دھڑکنوں میں شریک پایا تو کیا کرو گے

    تم نے مسرتوں کے خزانے لٹا دیے
    لیکن علاجِ تنگیِ داماں نہ کر سکے

    حیرتوں کے سلسلے سوزِ نہاں تک آ گئے
    ہم نظر تک چاہتے تھے تم تو جاں تک آ گئے

    نامرادی اپنی قسمت، گمرہی اپنا نصیب
    کارواں کی خیر ہو، ہم کارواں تک آ گئے

    انکی پلکوں پر ستارے اپنے ہونٹوں پر ہنسی
    قصہٴ غم کہتے کہتے ہم کہاں تک آ گئے

    اپنی اپنی جستجو ہے اپنا اپنا شوق ہے
    تم ہنسی تک بھی نہ پہنچے ہم فغاں تک آگئے

    زلف میں خوشبو نہ تھی یا رنگ عارض میں نہ تھا
    آپ کس کی آرزو میں گلستاں تک آ گئے

    خود تمھیں چاکِ گریباں کا شعور آ جائے گا
    تم وہاں تک آ تو جاؤ، ہم جہاں تک آ گئے

    آج قابل میکدے میں انقلاب آنے کو ہے
    اہلِ دل اندیشہٴ سود و زیاں تک آ گئے

    کچھ غم زیست کا شکار ہوئے
    کچھ مسیحا نے مار ڈالے ہیں

    رہ گزار حیات میں ہم نے
    خود نئے راستے نکالے ہیں

    مجھی پہ ختم ہیں سارے ترانے
    شکست ساز کی آواز ہوں میں

    کوئے قاتل میں ہمی بڑھ کے صدا دیتے ہیں
    زندگی، آج ترا قرض چکا دیتے ہیں

  • جن کے آنگن میں امیری کا شجر لگتا ہے،ان کا ہرعیب زمانے کو ہنر لگتا ہے

    جن کے آنگن میں امیری کا شجر لگتا ہے،ان کا ہرعیب زمانے کو ہنر لگتا ہے

    جن کے آنگن میں امیری کا شجر لگتا ہے
    ان کا ہر عیب زمانے کو ہنر لگتا ہے

    انجم رہبر 17ستمبر 1962ء میں گنا، مدھیہ پردیش پیدا ہوئیں انجم رہبر صاحبہ راحت اندوری صاحب کی پہلی اہلیہ تھیں 6 سال کی ازدواجی زندگی کے بعد راحت اندوری صاحب اور انجم رہبر صاحبہ کے درمیان علیحدگی ہو گئی-

    ایوارڈز
    ۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)اندرا گاندھی ایوارڈ
    ۔ (2)چترنش فراق گورکھپوری ایوارڈ
    ۔ (3)ساہتیہ بھارتی ایوارڈ

    غزلیں
    ۔۔۔۔۔۔
    ملنا تھا اتفاق بچھڑنا نصیب تھا
    وہ اتنی دور ہو گیا جتنا قریب تھا

    میں اس کو دیکھنے کو ترستی ہی رہ گئی
    جس شخص کی ہتھیلی پہ میرا نصیب تھا

    بستی کے سارے لوگ ہی آتش پرست تھے
    گھر جل رہا تھا اور سمندر قریب تھا

    مریم کہاں تلاش کرے اپنے خون کو
    ہر شخص کے گلے میں نشان صلیب تھا

    دفنا دیا گیا مجھے چاندی کی قبر میں
    میں جس کو چاہتی تھی وہ لڑکا غریب تھا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    کچھ دن سے زندگی مجھے پہچانتی نہیں
    یوں دیکھتی ہے جیسے مجھے جانتی نہیں

    وہ بے وفا جو راہ میں ٹکرا گیا کہیں
    کہہ دوں گی میں بھی صاف کہ پہچانتی نہیں

    سمجھایا بارہا کہ بچو پیار ویار سے
    لیکن کوئی سہیلی کہا مانتی نہیں

    میں نے تجھے معاف کیا جا کہیں بھی جا
    میں بزدلوں پہ اپنی کماں تانتی نہیں

    انجمؔ پہ ہنس رہا ہے تو ہنستا رہے جہاں
    میں بےوقوفیوں کا برا مانتی نہیں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    جن کے آنگن میں امیری کا شجر لگتا ہے
    ان کا ہر عیب زمانے کو ہنر لگتا ہے

    چاند تارے مرے قدموں میں بچھے جاتے ہیں
    یہ بزرگوں کی دعاؤں کا اثر لگتا ہے

    ماں مجھے دیکھ کے ناراض نہ ہو جائے کہیں
    سر پہ آنچل نہیں ہوتا ہے تو ڈر لگتا ہے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    رنگ اس موسم میں بھرنا چاہئے
    سوچتی ہوں پیار کرنا چاہئے

    زندگی کو زندگی کے واسطے
    روز جینا روز مرنا چاہئے

    دوستی سے تجربہ یہ ہو گیا
    دشمنوں سے پیار کرنا چاہئے

    پیار کا اقرار دل میں ہو مگر
    کوئی پوچھے تو مکرنا چاہئے

  • بلوچی زبان کے ممتاز شاعر مبارک قاضی

    بلوچی زبان کے ممتاز شاعر مبارک قاضی

    قدردانی کی یہاں پر شرط بس اک موت ہے
    آپ کی بھی قدر ہوگی پہلے مر تو جائیے

    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    بلوچی زبان کے ممتاز شاعر مبارک قاضی 16 ستمبر 2023 کی شب تربت کے قریب سنگانی سر میں اپنے ایک دوست بابو عالم کے ہاں انتقال کر گئے۔ قاضی مبارک پسنی ضلع گوادر کے قصبہ پیدارک میں پیدا ہوئے گوادر سے بی اے اور بلوچستان یونیورسٹی کوئٹہ سے ایم اے کیا۔ 1983 میں انہوں نے بلوچی کے نامور ادیب عابد آسکانی کے ساتھ مل کر ” پاک بلوچ ایسوسی ایشن ” کے نام سے ایک ادبی تنظیم قائم کی جس کے پلیٹ فارم سے وہ بلوچی زبان و ادب کی ترقی اور فروغ کیلئے ادبی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے تھے ۔ قاضی مبارک کی نصف درجن کے لگ بھگ کتابیں شائع ہو چکی ہیں جن میں ” زرنوشت” اور ” شاگ ماں سبزیں ساوڑ ” بھی شامل ہیں ۔ قاضی مبارک کے جسد خاکی کو زیرو پوائنٹ گوادر کے قریب سیکڑوں مداحوں اور سوگواروں کی موجودگی میں مقامی قبرستان میں سپرد خاک کر دیا گیا ہے ۔

    مبارک قاضی کی شاعری سے انتخاب
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ایسا قاضی جو ” مبارک ” بھی ہے
    پھر کبھی مشکل ہے کہ پیدا ہو

    ملک موت ء چہ قاضی تو چنجو تچ اے
    کیت یک روچے کور ء چگل یہ ترا

    من وہدے مرتاں بلوچ آں پہ من کس پرس مہ داریت
    تیاں من یکیں مبارک چہ من پہ باز ودی بیت

    من یکبرئے گارباں امروزء رنگانی تہا
    رندا کجا دنیا منا ارزانی ء شوہاز کنت

    ہماں توے ہماں مناں ہماں زمانگ انت
    ولے من قاضی راز تئی جس ء نہ گوشتگاں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    قوم دربدر ہے، مجھے جب سے ہوش ہے
    بے خبر راہبر ہے، مجھے جب سے ہوش ہے
    دھوپ کی صورت کبھی دیکھی نہیں مَیں نے
    اَبر میں اَمبر ہے، مجھے جب سے ہوش ہے
    مَیں نے کب کیا ہے بھلا وقت کا حساب
    وہ مِری دلبر ہے، مجھے جب سے ہوش ہے
    جانے کون دیس پہ چھائے ہیں اَبر و باد
    گھر آگ کی نذر ہے، مجھے جب سے ہوش ہے
    ہم نے شجاعت سے لیے ہیں یہ کوہسار
    یہ ہمارا گھر ہے، مجھے جب سے ہوش ہے
    چل دیا ہے قاضیؔ مکاں سے، پہ جانے کب
    مجھ سے پیشتر ہے، مجھے جب سے ہوش ہے

  • کچھ نہ کچھ تو ہوتا ہے اک ترے نہ ہونے سے

    کچھ نہ کچھ تو ہوتا ہے اک ترے نہ ہونے سے

    کچھ عجب بوئے نفس آتی ہے دیواروں سے
    ہائے زنداں میں بھی کیا لوگ تھے ہم سے پہلے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    حسن عابدی

    اردو کے نامور شاعر حسن عابدی 7جولائی 1929ء کو ظفرآباد ضلع جونپور میں پیدا ہوئے ان کا اصل نام سید حسن عسکری عابدی تھا۔ انہوں نے اعظم گڑھ اور الہ آباد میں تعلیم حاصل کی تقسیم ہند کے بعد وہ 1948ء میں ہجرت کرکے پاکستان آگئے جہاں انہوں نے پہلے لاہور اور پھر کراچی میں اقامت اختیار کی۔

    لاہور کے قیام کے دوران 1955ء میں انہوں نے روزنامہ آفاق سے اپنے صحافتی کیریئر کا آغاز کیا بعدازاں وہ فیض احمد فیض کی ادارت میں نکلنے والے مشہور جریدے ’’ لیل و نہار‘‘ سے وابستہ ہوگئے۔ لیل و نہار کے بند ہونے کے بعد وہ کراچی چلےگئے جہاں انہوں نے روزنامہ مشرق اور اخبار خواتین میں خدمات انجام دیں۔ بعدازاں انہوں نے روزنامہ ڈان میں ادبی اور ثقافتی کالم لکھنے کا سلسلہ شروع کیا جو ان کی وفات تک جاری رہا۔

    حسن عابدی کی تصانیف میں ’’کاغذ کی کشتی اور دوسری نظمیں‘‘،’’ نوشت نے‘‘، ’’جریدہ اور فرار ہونا حروف کا‘‘ شامل ہیں۔ ان کی وفات سے کچھہ عرصہ قبل ان کی یادداشتیں ’’جنوں میں جتنی بھی گزری‘‘ کے نام سے اشاعت پذیر ہوئی تھیں۔

    حسن عابدی ایک اچھے مترجم بھی تھے۔ انہوں نے مشہور دانشور ڈاکٹر اقبال احمد کے 62 مضامین کا اردو ترجمہ ’’اقبال احمد کے منتخب مضامین‘‘ کے نام سے کیا تھا۔ اس کے علاوہ ان کی ترجمہ شدہ ایک کتاب ’’بھارت کا بحران ‘‘ کے نام سے اشاعت پذیر ہوئی تھی۔

    حسن عابدی نے بچوں کے لئے بھی بہت سی کہانیاں اور نظمیں تحریر کیں۔ وہ کراچی پریس کلب کے صدر بھی رہے۔ وہ ایک کٹر ترقی پسند ادیب تھے اور اپنی اس کمٹمنٹ کی وجہ سے انہیں قید و بند کی صعوبتیں بھی برداشت کرنی پڑی تھیں۔ اسی دور میں ان کا کہا ہوا یہ شعر ضرب المثل کی حیثیت اختیار کرگیا،حسن عابدی کا 6 ستمبر 2005ء کو کراچی میں انتقال ہوا۔

    کچھ عجب بوئے نفس آتی ہے دیواروں سے
    ہائے زنداں میں بھی کیا لوگ تھے ہم سے پہلے

    حسن عابدی کی شاعری سے کچھ انتخاب قارئین کی نذر

    اے خدا انسان کی تقسیم در تقسیم دیکھ
    پارساؤں دیوتاؤں قاتلوں کے درمیاں

    اشکوں میں پرو کے اس کی یادیں
    پانی پہ کتاب لکھ رہا ہوں

    دل کی دہلیز پہ جب شام کا سایہ اترا
    افق درد سے سینے میں اجالا اترا

    دنیا کہاں تھی پاس وراثت کے ضمن میں
    اک دین تھا سو اس پہ لٹائے ہوئے تو ہیں

    کچھ نہ کچھ تو ہوتا ہے اک ترے نہ ہونے سے
    ورنہ ایسی باتوں پر کون ہاتھ ملتا ہے

    سب امیدیں مرے آشوب تمنا تک تھیں
    بستیاں ہو گئیں غرقاب تو دریا اترا

    شہر نا پرساں میں کچھہ اپنا پتہ ملتا نہیں
    بام و در روشن ہیں لیکن راستہ ملتا نہیں

    تشنہ کاموں کو یہاں کون سبو دیتا ہے
    گل کو بھی ہاتھہ لگاؤ تو لہو دیتا ہے

    یاد یاراں دل میں آئی ہوک بن کر رہ گئی
    جیسے اک زخمی پرندہ جس کے پر ٹوٹے ہوئے

  • پاکستان کے معروف مرثیہ نگار اور قصیدہ گو شاعر ساحر لکھنوی

    پاکستان کے معروف مرثیہ نگار اور قصیدہ گو شاعر ساحر لکھنوی

    کیوں میری طرح راتوں کو رہتا ہے پریشاں
    اے چاند بتا کس سے تیری آنکھ لڑی ہے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ساحر لکھنوی

    ساحر لکھنوی جن کا اصل نام سید قائم مہدی نقوی تھا، پاکستان کے معروف مرثیہ نگار اور قصیدہ گو شاعر تھے۔

    پیدائش
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ساحر 5 ستمبر 1931ء کو کراچی میں پیدا ہوئے جہاں ان کا خاندان عارضی طور پر مقیم تھا۔
    تعلیم
    ۔۔۔۔۔۔۔
    وہ ایم اے، ایل ایل بی اور ڈی آئی ایل ایل کی ڈگریوں کے حامل تھے۔
    کام
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ساحرؔ لکھنوی ایک بین الاقوامی صنعتی ادارے میں پرسنل اینڈ ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ کی حیثیت سے 1993 تک مصروف کار رہے۔
    خاندان
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ان کے چار بیٹیاں اور ایک بیٹا تھا۔

    نگارشات
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ساحر کی 20 کتابیں لکھی جا چکی ہیں جن میں مرثیوں کے تین مجموعے تھے: آیات درد، احساس غم، متاع غم۔ ان کا ایک قصیدوں کا مجموعہ بھی ہے۔
    انتقال
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ساحر 25 نومبر 2019ء کو انتقال کر گئے تھے۔

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔۔
    فصل ایسی ہے الفت کے دامن تلے
    ہم جلیں تم جلو ساری دنیا جلے
    تپ کے کندن کی مانند نکھرا جنوں
    جس قدر غم بڑھا بڑھ گئے حوصلے
    دل میں پھیلی ہے یوں روشنی یاد کی
    جیسے ویران مندر میں دیپک جلے
    جشن سے میری بربادیوں کا چلو
    دوستو آؤ شیشے میں شعلہ ڈھلے
    ہر نفس جیسے جینے کی تعزیر ہے
    کتنے دشوار ہیں عمر کے مرحلے
    ہم الجھتے رہے فلسفی کی طرح
    اور بڑھتے گئے وقت کے مسئلے
    موڑ سکتے ہیں دنیا کا رخ آج ہی
    آپ سے کچھ حسیں ہم سے کچھ منچلے
    وقت مجھ سے مرا حافظہ چھین لے
    آگ میں کوئی یادوں کی کب تک چلے
    خندۂ گل سے ساحرؔ نہ بہلیں گے ہم
    تازہ دم میں جنوں کے ابھی ولولے

    اشعار
    ۔۔۔۔۔۔۔
    کیوں میری طرح راتوں کو رہتا ہے پریشاں
    اے چاند بتا کس سے تری آنکھ لڑی ہے

    منزلیں پاؤں پکڑتی ہیں ٹھہرنے کے لیے
    شوق کہتا ہے کہ دو چار قدم اور سہی

    کل تو اس عالم ہستی سے گزر جانا ہے
    آج کی رات تری بزم میں ہم اور سہی

  • غریب بچے اچانک خوشی سے جھوم اٹھے، جب ایک ٹوٹا کھلونا کباڑ سے نکلا

    غریب بچے اچانک خوشی سے جھوم اٹھے، جب ایک ٹوٹا کھلونا کباڑ سے نکلا

    غریب بچے اچانک خوشی سے جھوم اٹھے
    جب ایک ٹوٹا کھلونا کباڑ سے نکلا

    شاہد نور کو 24 اگست 1980ء کو سیوان (بہار) میں پیدا ہوئے ان کی والدہ کا نام آسیہ خاتون،والد کا نام مشتاق احمد ہے بی کام (آنرس) کیا اور چیرمین نور آٹوپروفائل گروپ، مینیجنگ ڈائرکٹر ایم جی کنسٹرکشن اورسٹی ڈیولپر گروپ کے نام سے کاروبار شروع کیا تصانیف:میٹھا نیم-2012ء (شعری مجموعہ)

    ایواردڈ و اعزازات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)توفیق فاروقی ایوارڈ
    ۔ منجانب ادارہ خاتونِ مشرق، دہلی
    ۔ (2)کامنا کلا سنگم ایوارڈ

    غزل
    ۔۔۔۔
    مجھے آنکھوں نے جل تھل کردیا ہے
    مری مٹی کو دلدل کردیا ہے
    مرے خوابوں کو آنکھوں میں سجاکر
    کسی لڑکی نے کاجل کردیا ہے
    میں اپنی ذات میں اک گلستاں تھا
    تری فرقت نے جنگل کردیا ہے
    کئی دریائوں نے آپس میں مل کر
    سمندر کو مکمل کردیا ہے
    مری بچی کی ننھی سے ہنسی نے
    مرے آنسو کو صندل کردیا ہے
    وہ جب گمنام تھا اچھا بھلا تھا
    اُسے شہرت نے پاگل کردیا ہے
    فرائض کے تقاضوں نے ہی شاہد
    مرے چھالوں کو مخمل کردیا ہے

    غزل
    ۔۔۔۔
    لہولہان جب اک شیر جھاڑ سے نکلا
    ہرن کا درد بھی اُس کی دہاڑ سے نکلا
    سنا تھا جھیل کے اُس پار بھوت رہتے ہیں
    مگر ڈکیت کا کنبہ پہاڑ سے نکلا
    اندھیری رات میں اک اجنبی نے دستک دی
    تو چاند اوڑھ کے آنچل ، کواڑ سے نکلا
    سکھا گیا ہے زمانے کا دائو پیچ مجھے
    وہ ایک سانپ جو ہاتھوں کی آڑ سے نکلا
    مرا حسین سا بچپن وہ گائوں کا البم
    کٹورے میں رکھا چاول کے ماڑ سے نکلا
    غریب بچے اچانک خوشی سے جھوم اٹھے
    جب ایک ٹوٹا کھلونا کباڑ سے نکلا
    زمین پھٹ گئی خود اپنے کرب سے شاہد
    پھر اُس کی آہ کا شعلہ دراڑ سے نکلا

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    تو جو ہر بات پہ کہتا ہے ترا سب کچھ ہے
    تجھ کو معلوم نہیں ہے کہ خدا سب کچھ ہے
    اس کی آنکھوں کی یہ تعریف مکمل ہوگی
    اس کی آنکھوں میں محبت کے سوا سب کچھ ہے
    اس کے بارے میں غلط بات نہیں سن سکتا
    تم کو معلوم ہے وہ شخص مرا سب کچھ ہے
    کچھ بھی کہنے کی ضرورت نہیں پڑتی اس کی
    میرے محبوب کے چہرے پہ لکھا سب کچھ ہے

    غزل
    ۔۔۔۔
    ہمارے دل سے یہی اک کسک نہیں جاتی
    تم اتنا کام جو کرتی ہو تھک نہیں جاتی
    تم ہی بتاؤ کہ اب کیا بتاؤں دنیا کو
    مرے بدن سے تمھاری مہک نہیں جاتی
    میں حادثے میں کسی طور بچ گیا ہوں مگر
    مرے دماغ سے اس کی دھمک نہیں جاتی
    جسے وہ دیکھ لے وہ پھول کھلنے لگتا ہے
    جسے وہ چوم لے اس کی چمک نہیں جاتی
    عجیب آپ کی بھی قوتِ سماعت ہے
    ہماری بات کبھی آپ تک نہیں جاتی

  • اردو کے ممتاز ہندوستانی شاعر ارتضی نشاط

    اردو کے ممتاز ہندوستانی شاعر ارتضی نشاط

    کرسی ہے، تمھارا یہ جنازہ تو نہیں ہے
    کچھ کر نہیں سکتے تو اتر کیوں نہیں جاتے

    اردو کے ممتاز ہندوستانی شاعر ارتضی نشاط 6 ماہ کی طویل علالت کے بعد 84 سال کی عمر میں ممبئی میں انتقال کر گئے ۔ ارتضی نشاط 15 اکتوبر 1938 میں اردو کے نامور شاعر رضا حسین شاہد کے گھر بدایوں میں پیدا ہوئے ۔ نشاط صاحب کے والد بھی شاعر، دادا مسکین حسین مسکین بدایونی بھی شاعر اور پر دادا خادم حسین خادم بدایونی بھی معروف شاعر تھے۔ نشاط کے والد رضا حسین شاہد آل انڈیا ریڈیو میں بحیثیت پروڈیوسر ملازم تھے انہوں نے 1950 کی دہائی میں بدایوں سے نقل مکانی کر کے ممبئی میں مستقل بنیادوں پر رہائش اختیار کی ۔ نشاط نے ابتدائی تعلیم بدایوں میں حاصل کی اور مزید تعلیم ممبئی میں حاصل کی ۔

    تعلیم سے فراغت کے بعد نومبر 1957 میں ممبئی میونسپل کارپوریشن کے ماتحت الیکٹرک پاور سپلائی اینڈ ٹرانسپورٹ کے شعبے میں بطور کلرک ملازمت حاصل کی ۔ 1987 میں ملازمت سے سبکدوش ہونے کے بعد روزنامہ انقلاب ممبئی میں بطور فیچر ایڈیٹر اور قطع نگار ملازمت اختیار کی ۔ پاکستان میں رئیس امروہوی کی طرح ہندوستان میں نشاط نے روزنامہ انقلاب میں روزانہ کی بنیاد پر حالات حاضرہ کے مطابق قطع نگاری کی بنیاد ڈالی۔ ارتضی نشاط گزشتہ نصف صدی سے ہندوستانی شعر و ادب کے میدان میں نہایت فعال اور مقبول ترین شعراء کی فہرست کے صف اول میں شامل رہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    دہشتگرد، سہولتکار اُن کے ساتھیوں کا پیچھا کریں گے،آرمی چیف
    شاہد خاقان عباسی کیخلاف ایل این جی ریفرنس، اسپیشل جج سینٹرل کو منتقل
    نوعمرسگریٹ نوشی کرنے والوں کی دماغی ساخت تبدیل ہوتی ہے،تحقیق
    ارتضی نشاط صاحب کے اب تک 4 شعری مجموعے شائع ہو چکے ہیں جن میں "ریت کی رسی” ، ” کہرام” ، "تکذبان” اور ، ” واقعی” شامل ہیں جبکہ ان کا پانچواں شعری مجموعہ "غزل دل ربا ہے مری” زیر طباعت ہے ۔ نشاط کو کئی کتابوں پر سرکاری ایوارڈ مل چکے ہیں ۔ غیر سرکاری سطح پر بھی ان کی ادبی خدمات کو سراہا گیا ہے ۔ روزنامہ انقلاب (ممبئی) میں ان کے قطعات الف ۔ نون کے نام سے بلا ناغہ 48 سالوں تک شائع ہوتے رہے ہیں ۔

    ارتضی نشاط کی شاعری سے انتخاب
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    فسادی شرپسندوں میں کتابیں بانٹ دی جائیں
    کہ ملبے سے کسی بچے کا اک بستہ نکلتا ہے

    ہر طرف تھا سمندر مگر
    ہر زمیں کربلا سی رہی

  • محمد حسين ہيكل   کا جنم دن

    محمد حسين ہيكل کا جنم دن

    محمد حسين ہيكل مصری شاعر، ادیب اور سیاست دان ہیں۔ ایک اعلی پائے کے سیرت نگار؛ جن کی سب سے بہترین تالیف "حیات ِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم” ہے۔ محمد حسین ہیکل کی پیدائش 20 اگست 1888ء بمطابق 12 ذو الحج 1305ھ میں حنين الخضراء مصر میں ہوئی۔ انہوں نے قاہرہ میں لا اسکول الخدویہ سے قانون کی تعلیم حاصل کی اور 1909ء میں گریجویشن مکمل کی 1912ء میں فرانس میں سوربون یونی ورسٹی سے قانون میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی، 10 سال تک ایک وکیل کے طور پر کام کیا۔ صحافت میں بھی رہے۔ احمد لطفی کے خیالات سے متاثر تھے۔

    1923 ء میں اس قانون ساز اسمبلی کے وزیرِ تعلیم رہے۔ جس نے صدارتی نظام کا قانون تیار کیا جو مصر کا پہلا آئین شمار کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد 1940 ء سے 1942ء تک دوبارہ وزیر رہے اور 1945ء میں سماجی امور کی وزارت دی گئی۔ لبرل پارٹی کے ڈپٹی اور صدر کے عہدوں پر کام کرتے رہے۔ سعودی عرب میں جب عرب ریاستوں کی لیگ کے چارٹر پر دستخط کیے گئے تو اقوام متحدہ میں مصری وفد کے سربراہ کے طور پر شامل تھے۔
    محمد حسین ہیکل کی وفات سوموار 5 جمادى الاول 1376ھ بمطابق 08 دسمبر 1956ء میں ہوئی۔
    تالیفات

    روايۃ زينب۔
    روايۃ سہيلہ فی الظلمۃ – 1914.
    سير حياة شخصيات مصريۃ وغربيۃ – 1929.

    حياتِ محمد – 1933.
    فی منزل الوحى – 1939.
    مذكرات فی السياسۃ المصريہ – 1951 / 1953.
    الصديق ابو بكر۔
    الفاروق عمر – 1944 / 1945.
    عثمان بن عفان – 1968.
    ولدی۔
    يوميات باريس۔
    الامبراطوريہ الإسلاميہ والأماكن المقدسہ – 1964.
    قصص سعوديہ قصيرہ – 1967.
    فی اوقات الفراغ،
    الشرق الجديد

    محمد حسین ہیکل کا نام تاریخ میں سیرت طیبہ کے مولف کی حیثیت سے زندہ و جاوید رہے گا۔ یہ ذکرِ محمد کا اعجاز ہے۔۔ انہوں نے عربی میں شاہکار کتابیں لکھیں۔انہوں نے حیات محمدﷺ کتاب1933ء میں لکھی اور اسی نہج پر حضرت عمر فاروق ؓ کی سیرت مبارکہ1944میں لکھی۔ حیات محمد ﷺ کا اردو ترجمہ ابویحیٰ امام خان نے کیا۔ اور اردو میں اس کتاب کو مقبولیت دوام حاصل ہوا۔

    ”حیات محمد ﷺ‘‘ کا اردو ترجمہ ہندوستان میں تاج کمپنی دہلی نے شائع کیا۔ اس کتاب کے تعارف میں یوں لکھا گیا۔’’ انیسویں صدی اور بیسویں صدی میں جب دنیا کی مختلف اقوام نے سیرت پاک ﷺ کا مطالعہ شروع کیا تو تہذیب عالم کی اس عظیم شخصیت کے مختلف پہلوئوں کو سمجھنے میں انہیں کافی الجھنوں کا سامنا کرنا پڑا۔ اس سے مسلمانوں کے ہاں سیرت نگاری کا ایک خاص اسلوب پیدا ہوا۔ جس پر کلامی انداز غالب تھا۔ عہد جدید میں سیرت مبارکہ پر جن تحریروں کو سند کا درجہ دیا جاتا ہے ان میں محمد حسین ہیکل کی ”حیات محمد ﷺ‘‘ صف اول کی کتاب سمجھی جاتی ہے۔عربی زبان میں یہ کتاب کلاسیک کا درجہ اختیار کرچکی ہے۔ اور دنیا کی مختلف زبانوں میں اس کے تراجم شائع ہوئے ہیں۔ عہد جدید میں سیرت نبوی ﷺ پر حوالے کی اس بنیادی کتاب کا ترجمہ مولانا ابویحی امام خاں نوشہروی نے اس خاص اسلوب میں کیا جس کی پختگی فن ترجمہ میں انہیں ایک بلند حیثیت دیتی ہے۔ عربی اسالیب کی بلاغت پوری صحت کے ساتھ ترجمے میں منتقل کی گئی ہے۔ اور اس اعتبار سے اردو میں سیرت نبوی ﷺ کے ذخیرہ ادب میں ایک اہم اور قابل قدر اضافہ ہے۔(ناشر ”حیات محمد ﷺ‘‘ دہلی)
    کتاب ”حیات محمد ﷺ‘‘ جس عقیدت و احترام سے لکھی گئی اس کا اندازہ کتاب کے آغاز میں لکھے گئے مولف کے مقدمہ اول کے ابتدائی جملوں سے ہوتا ہے جب وہ کہتے ہیں:
    ’’ حضرت محمد علیہ الصلوۃ السلام یہ ہے وہ مبارک نام جو ہر روز کروڑوں لبوں پر آتا اور کروڑوں دلوں کو سرور و تازگی سے مالا مال کرتا ہے۔ ہمارے لب اور ہمارے یہ دل اسی نام سے ساڑھے تیرہ سو برس سے لطف اندوز ہورہے ہیں۔ یہی نہیں لبوں اور دلوں کی بہرہ مندی قیامت تک جاری رہنے والی ہے۔اذان پنچگانہ میں:ادھر صبح صادق نے رات کی سیاہی پر نور چھڑکا موذن نے الصلوۃ خیر من النوم پکار کر بنی آدم کو اللہ تعالی کے سامنے سجدے میں سر رکھنے کی تلقین کی اور اس کے ساتھ ہی کرہ ارض کے چپے چپے پر کروڑوں انسانوں نے درود و سلامتی کے تحفے پیش کئے۔۔ آں حضرت سے مسلمانوں کی محبت و عقیدت کا یہ حال ہے کہ نمازوں میں جب بھی آں حضرت کا ذکر آیا دل فرط مسرت سے پہلو میں اچھل پڑا۔ آں حضرت کی ذات کے ساتھ احترام و محبت کے یہ جذبات ہمیشہ وابستہ رہے ہیں۔ اور آئیندہ بھی اسی طرح وابستہ رہیں گے۔ یہاں تک کہ اسلام دنیا کے ذرے ذرے پر غالب آجائے‘‘۔ ( ”حیات محمد ﷺ‘‘ محمد ہیکل۔ ص۔ 3 دہلی۔ پہلا ایڈیشن 1988)
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    آج کتاب بینی میرا مشغلہ ہے ریما خان
    دعا ہے پاکستان کو مخلص لیڈر شپ نصیب ہوجائے بشری انصاری
    الیکشن کمیشن پر ضلعی حدود کی پابندی کرنا لازم نہیں ہوگا. فافن
    سونے کی قیمتوں میں کمی
    کتاب کے مقدمے میں محمد ہیکل نے ابتدائے آدم سے زمانہ جاہلیت کے مختلف ادوار کا ذکر کیا۔ اور پس منظر کے طور پر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وصلم کے اس دنیا سے پردہ فرما جانے کے بعد مستشرقین کی جانب سے اسلام اور آپ ﷺ سے متعلق پیدا کیے جانے والے شکوک و شبہات اور ان کے ازالے کے لیے مستند کتب سیرت کی ضرورت اجاگر کی۔ اس تصنیف کی وجہ تالیف بیان کرتے ہوئے محمد ہیکل لکھتے ہیں:
    ’’علمی زندگی طے کرنے کے بعد میں نے عملی دور میں قدم رکھا ہی تھا کہ دنیا کے ہر گوشے میں بسنے والے مسلمانوں کو ان مسائل سے متاثر دیکھا جو اسلام اور اس کے بانی کے متعلق پیدا کیے جاچکے تھے۔ کیا اسلامی ممالک اور کیا ان ملکوں کے اندر جہاں مسلمان رعایا کی حیثیت سے زیر نگیں تھے میں ان مسائل کی تحقیق میں ڈوب گیا۔ جن کی غلط بیانی اور فریب دہی کے چکر میں آکر مسلمان اور مشرق دونوں پریشان تھے۔ مغرب کے عیار اہل قلم اور اسلام کے جامد علماء کی اس کج روی سے صرف دین ہی کو خطرہ نہ تھا بلکہ یہ علمی حادثہ تمام عالم کے لیے مصائب کا پیش خیمہ تھا۔ کیوں کہ مسلمان جو صدیوں تک دنیا کے ہر خطے میں علم و تمدن کے نقیب رہے اگر انہی کے عقائد اور ان کے بانی کے اطوار و کردار میں ظلم و جہالت کی تیرگی ثابت ہوجائے تو جن قوموں نے ان کی برکت سے علم و دانش کے خزانے حاصل کیے وہ تہذیب و فنون میں کس حد تک کامیاب ہوئیں۔ تو میں اپنا فرض سمجھ کر ان مسائل کی تحقیق و مطالعے میں منہمک ہوگیا۔حتی کہ کتاب ”حیات محمد ﷺ‘‘ کی تدوین پر میری توجہ مرکوز ہوگئی۔( ”حیات محمد ﷺ‘‘ ص۔ 23)

    مولف کتاب محمد ہیکل نے اس کتاب کو ترتیب دینے کے دوران قرآان و احادیث کتب اور دیگر حوالوں کو جس انداز میں مطالعہ کیا اور اسے اختیار کیا اس کی تفصیلات اس مقدمے میں دی ہیں۔ مقدمہ ثانی میں انہوں نے کچھ اضافے بھی کیے ہیں۔ وحی سے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے محمد حسین ہیکل لکھتے ہیں:
    وحی کا تجزیہ موجودہ آلات سے نہیں ہوسکتا:حضرت محمد مصطفی ﷺ پر نزول وحی کے زمانے میں جو مسلمان موجود تھے جب کوئی آیت قرآن کے منزل من اللہ ہونے پر نازل ہوتی تو ان کے ایمان میں اضافہ ہوتا۔ اس دور کے مسلمانوں میں بعض افراد نہایت دیدہ ور اور صاحب فراست بھی تھے۔یہود و نصاری میں سے بھی کچھ ایسے علماء مسلمان ہوچکے تھے جو ایمان لانے سے قبل پیغمبر اسلام کے ساتھ مناظرہ کرتے رہتے۔مگر مسلمان ہونے کے بعد انہوں نے بھی قرآن کے وحی ہونے سے انکار کا دامن نہیں چھوڑا۔۔ان تمام صورتوں کی موجودگی میں علم گوارا نہیں کرسکتا کہ وحی کو اس کی اصلیت سے ہٹا کر کسی اور نام سے پکارا جائے( ”حیات محمد ﷺ‘‘ ص۔45)
    مقدمے کے آخر میں محمد حسین ہیکل نے سیرت نبوی ﷺ کی جانچ کا حتمی پیمانہ بیان کرتے ہوئے لکھا کہ:’’قرآن مجید کی تعلیم اس امر کا واضح ثبوت ہے کہ وہ معجزہ ہے۔ جو حضرت محمد ﷺ کو دیا گیا۔ اس کے انداز اور ہمہ گیری سے ثابت ہوتاہے کہ وہ اپنے زمانہ نزول سے لے اس وقت تک دنیا میں جلوہ آرا رہے گا۔ جب تک یہ نظام مربوط ہے۔ اس لیے مسلمانوں پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ رسو ل اللہ ﷺ کی سیرت کو قرآن مجید پر عرض(پیش) کریں اور آپ ﷺ کے متعلقہ روایات میں جو چیز قرآن مجید کے موافق ہو اسے قبول کرنے میں تامل نہ کریں۔ مگر قرآن کے سوا دوسرے ذرائع سے جو ایسے امور آنخصرت ﷺ کی سیرت کے متعلق منقول ہوں کہ وہ قرآن کے معیار پر پورتے نہ اتر سکیں ان سے انکار میں انہیں تردد نہ کرنا چاہئے( ص۔68)

    کتاب حیات محمد کے آخر میں اسلامی تمدن اور اسلامی تمدن اور مستشرقین کے عنوان سے آپ ﷺ کے دنیا سے پردہ فرما جانے کے بعددنیا کے حالات پیش کئے۔مجموعی طور پر محمد حسین ہیکل کی کتاب’’ حیات محمد ﷺ‘‘ سیرت النبی ﷺ پر عربی میں لکھی ہوئی شاہکار کتاب ہے۔ اور دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کا اردو ترجمہ بھی اسی قدر شاہکار ہے۔ اس کتاب کا اسلوب رواں سلیس اور دل کو چھو لینے والاہے ۔ ذکر رسول ﷺ کو انہوں نے ادب و احترام اور واقعات کی سچائی کے ساتھ پیش کیا ہے۔

  • صدارتی ایوارڈ یافتہ شاعر، 30 سے زائد کتابوں کےمصنف،ڈاکٹر ذوالفقار سیال

    صدارتی ایوارڈ یافتہ شاعر، 30 سے زائد کتابوں کےمصنف،ڈاکٹر ذوالفقار سیال

    ڈاکٹر ذوالفقار سیال

    صدارتی ایوارڈ یافتہ سہ زبان شاعر، 30 سے زائد کتابوں کے مصنف
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تحریر و تعارف : آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    سندھی ، اردو اور سرائیکی زبان کے ممتاز ادیب، شاعر ، مصنف ، میزبان و کمپیئر اور ایم بی بی ایس و پی ایچ ڈی ڈاکٹر ذوالفقار سیال صاحب 28 مئی 1957 میں لاڑکانہ کے محمد خان سیال صاحب کے گھر میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم لاڑکانہ میں حاصل کرنے کے بعد بی ایس سی، ایم اے سندھی ، سندھ یونیورسٹی جام شورو ، ایم بی بی ایس لیاقت میڈیکل کالج جام شورو، پی ایچ ڈی کراچی یونیورسٹی سے کی ان کو سندھی ادبی سنگت سندھ کے جنرل سیکرٹری و مرکزی فنانس سیکرٹری ، دوران ملازمت سندھ کے تمام میڈیکل کالجوں کے ہسپتالوں کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ رہنے ، S A N A امریکہ کی جانب سے لائف اچیومنٹ ایوارڈ اور حکومت پاکستان کی جانب سے صدارتی ایوارڈ حاصل کرنے کا کا قابل فخر اور تاریخی اعزاز حاصل ہوا ہے۔

    ان کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ ان کی شاعری کو 50 سے زائد ملک کے نامور گلوکاروں اور گلوکارائوں نے گایا ہے جن میں شہنشاہ غزل مہدی حسن ، استاد گلزار علی خان ، محمد یوسف ، زرینہ بلوچ ، حمیرا چنا، وحید علی ، گل بہار بانو، مہناز ، خلیل حیدر، محمد علی شہکی، عالمگیر، برکت علی، رجب علی ، سجاد یوسف، شہناز علی، ٹرپل ایس سسٹرز، بینجمن سسٹرز، ثمینہ کنول، کنول ابڑو، شہلا گل ، فرح خانم، ریشما، غلام علی سندیلو،غلام شبیر سمو ، عاشق نظامانی، شاہدہ پروین، استاد فیروز گل، منظور سخیرانی، شمن علی میرالی، دیبا سحر، ماسٹر منظور، قمر سومرو، غلام قادر لنجار، و دیگر شامل ہیں ۔ ڈاکٹر صاحب آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی ، انجمن ترقی پسند مصنفین پاکستان ، انجمن ترقی اردو پاکستان اور پاکستانی زبانیں فورم اسلام آباد کے رکن بھی ہیں ۔ عالمی ادبی کانفرسز اور مشاعروں میں شرکت کے حوالے سے وہ امریکہ ، جرمنی، جاپان ، برطانیہ اور متحدہ عرب امارات میں منعقد ہونے والے مشاعروں اور ادبی کانفرنسوں میں شرکت کر چکے ہیں ۔

    ڈاکٹر ذوالفقار سیال نے نظم اور نثر لکھنے کا آغاز 1972 سے کیا ان کی اب تک 30 سے زائد کتابیں شائع ہو چکی ہیں اور 2 کتب طباعت کے آخری مراحل میں ہیں ۔ ان کی شائع ہونے والی کتب کی تفصیل اس طرح ہے۔ بچوں کے ادب کے حوالے سے کتابیں ، 1 مکھڑین مالھا 1979 ایوارڈ یافتہ 2 . منھنجی دیس جا بار 1982 ایوارڈ یافتہ 3 گیت کھیڈونا (اردو شاعری کا منظوم ترجمہ ) 4. گلن جہڑا گیت۔ 1986, ایوارڈ یافتہ 5 لفظن جا راندیکا 1989. ایوارڈ یافتہ 6 اکھر اکھر سرہان 2002 . 7_ گل ایں مکھڑیوں ۔ 2006 . 8_ دعائون ۔ 2010 . 9_ پنھنجی بولی پیاری بولی 10 _ ننڈھڑا فرشتا پیاریوں پریوں ۔ 2019 , 11 چنڈ بہ منھنجو راندیکو 2020 . 12 _ منھجو گڈڑو منھجو گڈڑی ۔ 13 _ پنھنجی دنیا دھار ۔ 14 اماں مونکھی کھیڈن ڈے ۔

    شعری مجموعے : 1. رن سجو رت پھڑا 2 _ گاڑھا ہتھ پیلا چہرا 3 ۔ چہرا چنڈ گلابن جہڑا . 4 ۔ بارش کھاں پوء 5 . ماٹھو اجرا رستا میرا . 6. لفظ لفظ خوشبو . 7 . الانگڑا ٹانڈا . 8. سرد ہوا جمیل گوڑھا –

    تحقیق: 1. سندھی شاعری کا سفر 2. میر علی نواز ناز کی شاعری کا تنقیدی ابھیاس (پی ایچ ڈی تھیسز) کالمز اور مضامین پر مشتمل کتاب”آئینہ ایں عکس ” ڈاکٹر ذوالفقار کے متعلق لکھی گئی کتب: ڈاکٹر ذوالفقار سیال، سوچ ایں ویچار، ڈاکٹر ذوالفقار سیال سہ زبان شاعر، ڈاکٹر ذوالفقار سیال ، ادب ایں شخصیت ، وادھو _ کٹ _ ضرب –

    ڈاکٹر ذوالفقار سیال پچھلے 30 سال سے مختلف اخبارات میں کالم اور قطعات لکھتے رہے ہیں جن میں روزنامہ عبرت، ہلال پاکستان، خادم وطن، سندھ نیوز، عوامی آواز. و دیگر شامل ہیں ۔ وہ پی ٹی وی کے اسکرپٹ رائٹر بھی رہے ہیں جن میں پروگرامز ، روشن تارا، مہکار، سوال ھی آھی، میڈیکل فورم ، واء سواء، ادبی سنگت، مہران میگ شامل ہیں ۔ ڈاکٹر ذوالفقار سیال کے ریلیز شدہ آڈیو کیسٹس کی تعداد 12 ہے۔
    اسٹیج ڈرامے : سور کان سکون تائین، گر تو برا نہ مانے-

    ڈاکٹر صاحب میڈیکل آفیسر سے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ، ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر اور آر ایم او وغیر کے اعلیٰ عہدوں پر فائز رہنے کے بعد 2017 میں رٹائر ہوئے اولاد کے حوالے سے ماشاء اللہ وہ 5 بچوں کے باپ ہیں اور وہ اس وقت کراچی میں رہائش پذیر ہیں ۔